Baaghi TV

Category: مسلم دنیا

  • اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    اسلامی تعلیمات کی اہمیت: تحریر اسماء طارق

    تعلیم کے دائرہ کار میں اسکول کے طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم بہت ضروری ہے، یہاں تک کہ اسکول کی دنیا میں داخل ہونے سے قبل چھوٹے بچوں کو بھی اسلامی تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ جب بچے تعلیم کی دنیا میں داخل ہوں گے تو ان کو اس کی عادت پڑ جائے گی اور انہیں روزمرہ زندگی میں اس کا اضافہ اور نفاذ ضروری ہے۔ موجودہ دور میں طلبہ کے لیے اسلامی تعلیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے، کیوں کہ اس جدید دور کے ساتھ ساتھ طلبہ میں بہت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، مثلاً ایلیمنٹری اسکول کے وہ بچے جنہوں نے تمباکو نوشی کی ہے، ڈیٹنگ کی ہے اور دیگر، طلبہ میں اسلام کو ابھارنے سے اور اچھی سمت کی طرف راغب کرنے سے پھر طلبہ جدید دور کے منفی اثرات سے بچ جائیں گے۔

     اسلام ایک طرز زندگی ہے، اگر ہم میں اور ہماری زندگی میں کوئی مذہب نہیں تو پھر زندگی غیر منظم ہو جائے گی، اور ہم پریشانی محسوس کریں گے کیونکہ کوئی رہنما اصول نہیں ہیں، مذہب میں ہر چیز کا قرآن و احادیث میں اہتمام کیا گیا ہے، دل کی نیت سے شروع، عبادت، رویہ، تعلیم، خرید و فروخت یا معیشت، سماجی جیسا کہ آیت 255 میں بیان کیا گیا ہے، سورہ بقرہ۔

    طالب علموں کے لئے اسلامی تعلیم کے فوائد میں کئی چیزیں شامل ہیں:

     اول، بچوں کے روحانی معاملات میں اگر بچوں نے مدارس سے اسلامی تعلیم حاصل کی ہے تو وہ اپنی روزمرہ زندگی میں اسلام کا اطلاق کرسکیں گے، مثلاً باجماعت نماز ادا کرنا، والدین یا اساتذہ سے ہاتھ ملانا، یقیناً درخواست دینے میں طلبہ کو واقعی ماحول سے مدد کی ضرورت ہوتی ہے، خاندانی ماحول وہ اہم چیز ہے جو والدین کی زمہ داری ہوتی ہے، والدین کو روزمرہ زندگی میں نفاذ کے لئے بچوں کو ہدایت اور معاونت کرنا ضروری ہے، طلبہ کو اسلامی دینی تعلیم کے بارے میں اسکول میں جو کچھ ملتا ہے اس کے بعد والدین کو اپنے بچوں کے رشتوں کی نگرانی بھی کرنی پڑتی ہے کیونکہ یہ بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے مستقبل کا تعین کیا جائے، جدید دور میں اس کی جتنی زیادہ روحانی گہرائی ہوگی وہ نقصان سے بچ سکے گا، کیونکہ وہ پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے یا برا ہے۔

    دوسرا یہ کہ طرز عمل یا اخلاق کے اعتبار سے اسلامی دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کے اخلاق بہتر ہوں گے، مثلاً والدین اور اساتذہ کا فرمانبردار، ہر ایک کے ساتھ، شائستہ، ہر ایک کی مدد کرنے میں آگے، ایک دوسرے کی مدد کرنا، اس مقام پر طالب علموں کو والدین اور اساتذہ کے رویے یا اخلاق سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، اسلامی مذہب کے علم اور اچھے اخلاقی رویے کے ساتھ طالب علموں کو اپنی روزمرہ زندگی میں اس کا اطلاق کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

     

     طلباء کو اسلامی تعلیم فراہم کرنے اور خاندانی ماحول، والدین، تعلقات، اساتذہ کے تعاون سے، جو اس کے بعد زندگی میں لگائے گئے ان منفی اثرات اور اخلاقی نقصان سے مسلم نوجوانوں کی نسلوں کو مدد ملے گی جو جدید دور میں طلباء کو دوچار کر چکے ہیں۔

     اسلامی تعلیم کا استعمال:

     1) مسلم طالب علموں کے لئے موجود صلاحیتوں کو تیار کرنے کے لئے جو مخلوق کے طور پر تعلیم حاصل کر سکتی ہے

    2) آئندہ نسلوں یا لوگوں کے ممکنہ رہنماؤں کی حیثیت سے طلباء کو اسلامی مذہب کی ثقافتی اقدار کو ختم کرنا۔

     3) چوں کہ اسلامی تعلیم سائنس قرآن و حدیث پر مبنی ہے، جس میں سے دونوں عربی زبان استعمال کرتے ہیں، اس لیے مسلمان طلبہ زبان کی تربیت اور اس پر عمل کر سکتے ہیں۔

     4) طلباء کو یہ سمجھ بوجھ دینا کہ وہ صرف ایک مسلمان کی حیثیت سے ہے جو قرآن و حدیث کی رہنمائی کرتا ہے، بلکہ وہ انڈونیشیا کا شہری بھی ہے جس کے پاس قوم کا فلسفہ حیات یعنی پنکسیلا اور 1945 کا آئین ہے۔

     آئیے ایک اچھے پائلٹ کی شکل میں طلباء کو زمانے کے نقصان سے بچانے میں مدد کریں یا کسی عظیم مذہب (اسلام) کی شان و شوکت کے لئے، آنے والی نسلوں کے بچوں کو اسلامی تعلیم دیں۔

    Twitter Account: @Asma_smt

  • حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    حضور اکرم ﷺ  نے کیسے تجارت کیا؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    کائنات میں بسنے والے ہر ہر فرد کی کامل رہبری کیلئے اللہ رب العزت کی طرف سے رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا۔

    سب سے آخر میں بھیج کر قیامت تک کے لئے آنجناب ﷺ کے سر پر تمام جہانوں کی سرداری ونبوت کا تاج رکھ کر اعلان کر دیا گیاکہ: اے دنیا بھر میں بسنے والے انسانو! اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر اور پْرسکون بنانا چاہتے ہو تو تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہستی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔

    جب آنجناب کی ذات عالی کے اندر نمونہ موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں اپنے کسی بھی کام کو سرانجام دینے کے لئے غیروں کے طریقے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے تو اسی لیے اپنے آج کے موضوع کی طرف آتے ہوئے میں آپ حضرات کی خدمت میں آنجناب کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو تجارت کے بارے میں کچھ تحریر کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

      نبوت سے قبل کی معاشی کیفیت

        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے والا دور مالی اور معاشی اعتبار سے کوئی خوش الحال دور نہیں تھا لیکن اس کے برعکس یہ کہنا بھی درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ہی زیادہ مفلوک الحال زندگی بسرکر رہے تھے البتہ یہ ضرور تھا کہ آنجناب بچپن سے ہی محنت ومشقت کر کے اپنی مدد آپ ضروریاتِ زندگی پورا کرنے کا ذہن رکھتے تھے۔

    مکہ مکرمہ میں حصولِ معاش کے لیے عام طور پر گلہ بانی اور تجارت عام تھی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کی ابتداء میں ہی اپنے معاش کے بارے میں از خود فکر کی۔ ابتدا ء ً  اہلِ مکہ کی بکریاں اجرت پر چراتے تھے، بعد میں تجارت کا پیشہ بھی اختیار کیا۔

    آپ کی خدمت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی اسفار میں سے کچھ سفروں کی کارگزاری پیش کرنا چاہتا ہوں۔

     ملکِ شام کی طرف پہلا  سفر 

          نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف 2 سفر کیے۔ پہلا سفر اپنے چچا کے ہمراہ،لیکن اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ تاجر شریک نہ تھے بلکہ محض تجارتی تجربات حاصل کرنے کے لیے آپ کے چچا نے آپ کو ساتھ لیا تھا۔ اسی سفر میں بحیرا راہب والا مشہور قصہ پیش آیاجس کے کہنے پر آپ کے چچا نے آپ کو حفاظت کی خاطر مکہ واپس بھیج دیا (الطبقات الکبریٰ، ذکر ابی طالب وضمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیہ، وخروجہ معہ الی الشام فی المرۃ الاولی)۔

        ملکِ شام کی طرف دوسرا سفر:

        اور دوسرا سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تاجر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر اجرت پر کیا۔قصہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم 25برس کے ہوگئے تو آپ کے چچا ابو طالب نے کہا کہ اے بھتیجے! میں ایسا شخص ہوں کہ میرے پاس مال نہیں ، زمانہ کی سختیاں ہم پر بڑھتی جا رہی ہیں، تمہاری قوم کا شام کی طرف سفر کرنے کا وقت قریب ہے۔ خدیجہ بنت خویلد اپنا تجارتی سامان دوسروں کو دے کر بھیجا کرتی ہے، تم بھی اجرت پر اس کا سامان لے جاؤ، اس سے تمہیں معقول معاوضہ مل جائے گا۔ 

    یہ گفتگو حضرت خدیجہؓ  کو معلوم ہوئی تو انہوں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیج کر بلوایا کہ جتنا معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں، آپ کو اس سے دوگنا دوں گی۔اس پر ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہاری جانب کھینچ کر بھیجا ہے۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ حضرت خدیجہؓ  کا غلام ”میسرہ ”بھی تھا۔

     جب قافلہ شام کے شہر بصریٰ میں پہنچا تو وہاں نسطورا راہب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نبوت کی علامات پہچان کر آپ کے نبی آخر الزمان ہونے کی پیشین گوئی کی۔

        دوسرا اہم واقعہ یہ پیش آیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی سامان فروخت کر لیا تو ایک شخص سے کچھ بات چیت بڑھ گئی۔ اس نے کہا کہ لات وعزیٰ کی قسم اٹھاؤ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

         ”مَا حَلَفْتُ بِھِمَا قَطُّ، وَاِنّی الَأمُرُّفَأعْرِضُ عَنْھُمَا” ۔

        "میں نے کبھی ان دونوں کی قسم نہیں کھائی، میں تو ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے منہ موڑلیتا ہوں۔”

        اس شخص نے یہ بات سن کر کہا: حق بات تو وہی ہے جو تم نے کہی۔ پھر اس شخص نے میسرہ سے مخاطب ہو کر کہا: خدا کی قسم، یہ تو وہی نبی ہے جس کی صفات ہمارے علماء کتابوں میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔

    آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

    کے تجارتی سفر کے بارے میں پڑھا کہ آپ کتنے امین اور صادق تھے کہ دشمن  بھی ان صفات کی گواہی دیتے تھے۔اس تحریر کا یہی پیغام ہے کہ ہم سب اس عمل کرنے والے بن جائیں۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • اللہ سبحانہ وتعالی کا شکر ادا کریں تحریر: خالد عمران خان

    عام زندگی میں جب ہمیں کوئی چیز ملتی ہے یہ کوئی شخص ہم کچھ دیتا ہے تو ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ، اور ان چیزوں کو ہم چیزوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ہم جس مالک نے ہمیں اتنے نعمتیں عطا کی اس کا شکر ادا نہں کرتے جب کے یہ سب سے اہم ہمیں ہمیشہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والی روزانہ کی نعمتوں کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ بحیثیت مسلمان ، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہماری زندگی میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ پاک کی طرف سے ایک تحفہ ہے اور اس کے بدلے میں ہم اس کے شکر گزار رہیں۔ ہزاروں نعمتوں میں سے سات یہ ہیں کہ ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

    1. ہر چیز کا خالق۔

    ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں بطور انسان اور اس وسیع کائنات کی دیگر تمام چیزوں کو انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا کیا ، کیونکہ اللہ پاک نے جو کچھ بنایا ہے وہ اچھا اور منصفانہ ہے اور کسی بھی چیز کو رد نہیں کیا جا سکتا.اور اس کی دی گئی ہر نعمت کو ہمیں شکریہ کے ساتھ وصول کرنا چاہیے۔

    2. ہمیں معاف کرنا۔

    زندگی میں ہم سے اتنے گناہ ہوتے ہیں اگر اللہ پاک نے ہمارے گناہوں کو معاف نہیں کیا تو وہ ہماری زندگی کے بہت سے پہلوؤں کو متاثر کریں گے اور ہماری خوشیاں چھین لیں گے۔ ہمیں معافی کے تحفے کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے کہ اللہ پاک ہمیں عطا کرتا ہے جب ہم جرم محسوس کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔

    3. ہمیں آفت سے نجات دلانا۔

    مایوسی ہر کسی کی زندگی میں ہوتی ہے۔ لیکن ہم مطمئن ہو سکتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ پاک ہے جو ہمیں آفات ، آزمائشوں اور خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ اللہ پاک کے لیے کوئی بڑی آفت ایسی نہیں جو اسے حل نہ کر سکے۔ کوئی پہاڑ بہت اونچا نہیں ہے وہ اسے حرکت نہیں دے سکتا۔ کوئی طوفان بہت طاقتور نہیں ہے اللہ پاک اسے پرسکون نہ کر سکے.

    4. وفادار ، یہاں تک کہ جب ہم منہ پھیر لیں۔

    وفاداری اللہ پاک کی ذات ہے۔ کوئی دن ، منٹ یا سیکنڈ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ پاک وفادار نہ ہو۔ وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم بے وفا ہیں وہ وفادار ہے یہاں تک کہ جب ہم اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ اس پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

    5. وعدے نہیں توڑتا۔

    اللہ پاک اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑے گا۔ انسان اپنے ذہن بدلتے ہیں ، اور اپنے الفاظ کو توڑ دیتے ہیں۔ لیکن اللہ کبھی اپنا ارادہ نہیں بدلتا ، اور اسی لیے وہ اپنے وعدوں کو کبھی نہیں توڑتا۔

    6. نافرمان کے ساتھ صبر کرنا۔

    اللہ پاک کسی نافرمان انسان کو غلطی کرتے ہی سزا نہیں دیتا۔ وہ وقت دیتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ ہم توبہ کریں اور اسی کی طرف رجوع کریں۔ اگر اللہ پاک ہر کسی کو اس کی نافرمانی کی سزا دیتا ہے تو اس زمین پر ایک بھی جان باقی نہیں رہے پائی گی تو ہمیں اس مالک کا شکر گزار ہونا چائیے۔

    7. محمد پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لیے بھیجا۔

    اللہ پاک نے اپنے پیارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ہماری رہنمائی کے لیے بھیج کر ہم پر رحم کرنے کا وعدہ پورا کیا۔ یہ ایک بہترین چیز ہے جس کے لیے ہمیں اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
    شکر ادا کریں اللہ پاک کی دی ہوئی سینکڑوں نعمتوں کا.

    Twitter handle
    ‎@KhalidImranK

  • یوم دفاع  اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں   تحریر: احسان الحق

    یوم دفاع اسلام بمقابلہ ہندومت، تاریخ کے آئینے میں تحریر: احسان الحق

    پاکستانی قوم حسب روایت بڑے جوش وجذبے اور حب الوطنی کے ساتھ 6 ستمبر کو یوم دفاع منا رہی ہے. پاکستان کی تاریخ کے چند اہم ترین دنوں میں سے 6 ستمبر 1965 کا ایک دن "یوم دفاع” کا ہے جب قوت ایمانی سے سرشار اور شہادت کی تمنا لئے پاکستان کے جانباز سپاہیوں نے ہمت و شجاعت کی ناقابل فراموش داستانیں رقم کرتے ہوئے اور ناقابل یقین جوانمردی کا مظاہر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دشمن کو تاریخی عبرت ناک شکست دی.

    ہندوؤں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دشمنی نئی بات نہیں، اس تعصب اور دشمنی کی ساڑھے چودہ سو سالہ تاریخ ہے. تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ہندو روز اول سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صف آراء رہے ہیں. قیام پاکستان کے بعد تعصب اور دشمنی میں اضافہ ہوا، بھارت نے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی، ثقافتی، دفاعی اور سیاسی الغرض ہر لحاظ سے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے اور کرتا آ رہا ہے. اس کی بہت ساری وجوہات ہیں. قیام پاکستان کے بعد ہندوستان اور ہندوؤں کی پاکستان اور اسلام دشمنی سب پر عیاں ہو چکی ہے. آج ہم اسلام اور ہندو مت کے درمیان چیدہ چیدہ تاریخی معرکوں کے بارے میں جانتے ہیں.

    تاریخ میں پہلی بار مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان معرکہ خلیفہ ثانی امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں پیش آیا. ہندو معاشرہ رنگ نسل، ذات پات میں بٹا ہوا تھا. امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون تھا. ہندو معاشرے میں برہمنوں اور دلتوں کے لئے الگ الگ نظام زندگی تھا. سن 14 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے فارس کو فتح کرکے اسلامی ریاست میں شامل کر لیا. اس وقت برصغیر کے متعصب ہندو حکمرانوں کو یہ بات قطعی پسند نہ آئی کہ ہمارے پڑوس میں ایک ایسا نظام رائج ہو جس میں عدل و انصاف ہو، جہاں مالک اور نوکر، آقا و غلام اور امیر غریب کے لئے ایک جیسا انصاف ہو، جہاں کسی امیر کو غریب پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی سبقت نہ ہو، جہاں ذات پات کی کوئی قید نہ ہو.

    چنانچہ سن 28 ہجری میں ہندوؤں نے اسلامی ریاست پر حملہ کرتے ہوئے ہرات پر قبضہ کر لیا. موجودہ ہرات اس وقت ایران میں شامل تھا. اس وقت خلیفہ ثالث امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مہلب بن صفرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی قیادت میں لشکر بھیجا. اسلامی لشکر نے برہمنوں کو شرمناک اور ذلت آمیز شکست دیکر ہرات کو واپس اسلامی ریاست میں شامل کر دیا. مگر ہندوؤں کو چین نہ آیا، وہ موقع کی تلاش میں رہتے اور وقتاً فوقتاً حملہ آور ہوتے رہتے تھے. حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی خَلافت میں مکران فتح ہوا. مکران کی سرحد سندھ سے ملتی تھی جہاں ہندو راجہ داہر کی حکومت تھی.

    امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے ایک عرب سردار کو سندھ کے ساحلی علاقوں کی دیکھ بھال اور نگرانی کے لئے مقرر فرمایا. خلافت راشدہ کے بعد اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کی خلافت میں عراقی گورنر حجاج بن یوسف نے سندھ کی طرف خصوصی توجہ دی. سندھ کا ہندو حکمراں راجہ داہر مسلمانوں کے لئے بہت ظالم اور جابر حکمران تھا. سری لنکا سے جانے والے مسلمان قافلے کو سندھ کے نزدیک سندھ کے بحری قزاقوں نے لوٹ کر مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا جن کو راجہ داہر کی سرپرستی حاصل تھی. حجاج بن یوسف کے خبردار کرنے کے باوجود راجہ داہر مغویوں اور سامان کو بازیاب کرانے میں عدم دلچسپی سے کام لیتا رہا اور عذر پیش کرتا رہا کہ بحری قزاق میرے دائرہ اختیار میں نہیں. حجاج بن یوسف نے نوعمر سپاہ سالار محمد بن قاسم کی سرپرستی میں لشکر بھیج کر راجہ داہر کو شکست فاش دیتے ہوئے سندھ فتح کر لیا.

    عہد سبکتگین میں پنجاب کے ہندو حکمراں جے پال غزنی پر حملہ آور ہوا مگر ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا. تاوان کے بدلے سبکتگین نے امن معاہدہ کر لیا، بعد میں جے پال تاوان دینے سے مکر گیا. اگلے سال پشاور کے نزدیک سبکتگین نے جے پال کو شکست دی.

    سبکتگین کی وفات کے بعد محمود غزنوی نے پشاور کے نزدیک نہ صرف جے پال کو شکست دی بلکہ گرفتار کر لیا.

    جے پال کی موت کے بعد اس کا بیٹا انند پال تخت حکمرانی پر بیٹھا تو اس نے گردونواح کی ریاستوں بالخصوص دہلی، قنوج، کالنجر اور گوالیار کے حکمرانوں سے ملکر محمود غزنوی کے خلاف مشترکہ اور متحدہ حملہ کیا مگر حسب روایت اس بار بھی ہندوؤں کو شکست ہوئی.

    1021 میں انند پال کے بعد ترلوجن پال نے بھی محمود غزنوی کے خلاف جنگ کی مگر پنجاب پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا. 1025 میں محمود غزنوی نے ہندوؤں کے متبرک مندر سومنات پر حملہ کرتے ہوئے تمام بتوں کو توڑ ڈالا. بہت سارا مال غنیمت لیکر محمود غزنوی واپس غزنی روانہ ہو گئے.

    سن 1186 میں محمود غزنوی کے بعد محمد غوری نے پشاور اور لاہور فتح کر لئے. سن 1191 میں محمد غوری کو شمالی ہندوستان کے پرتھوی راج سے شکست ہوئی. بہت جلد ہی اگلے سال 1192 میں محمد غوری نے تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوج اکٹھی کرکے ترائن کے مقام پر پرتھوی راج کو شکست دی اور اسی جنگ میں پرتھوی راج مارا گیا. 1194 میں محمد غوری نے قنوج اور بنارس کے ہندو حکمرانوں کو شکست دی.

    علاء الدین خلجی نے 1297 میں کاٹھیاواڑ بغیر لڑے فتح کیا. جب ہندو فوج کو علاء الدین کی پیش قدمی کا پتہ چلا تو وہ بھاگ گئی. 1527 میں مغل بادشاہ بابر نے میواڑ کے راجے رانا سنگرام سنگھ کو شکست دی. رانا سانگا یا سنگرام سنگھ کو بابر نے گرفتار کر کے قتل کر دیا. پھر کبھی بھی ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابلے میں آنے کی ہمت نہیں ہوئی.

    1542 میں شیر شاہ سوری نے مالوہ فتح کیا اور 1544 میں رائے سیس کے قلعہ پر حملہ کیا. کالنجر کے قلعے کا محاصرہ کرتے ہوئے. اسکو بھی فتح کیا گیا. یہاں شیر شاہ سوری زخمی ہو گئے اور بعد میں 22 مئی 1545 کو خالق حقیقی سے جا ملے. 1576 میں بادشاہ اکبر نے ہلدی گھاٹ کے مقام پر رانا پرتاب کو شکست دی اور رانا پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا. 1614 میں شہزاد خرم نے میواڑ پر حملہ کر کے امر سنگھ کو شکست دی. 1676 میں اورنگ زیب کے خلاف ہندوؤں کے ایک سادھوؤں کے فرقے نے بغاوت کر دی جس کو کچل دیا گیا.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک :  تحریر محمد جاوید

    (حسینی شعور) دیتی رہے گی درس شہادت حسین قیامت تک : تحریر محمد جاوید

    یہاں مراد وہ حق ہے جیس کو نقصان پہنچنے سے تمام افراد معاشرہ کے حقوق کو نقصان پہنچتا ہے اور جیس کے محفوظ رہنے سے تمام حقوق کے محفوظ رہنے کا راستہ نکلتا ہے ۔ یہ حق ملت اسلامیہ کی سر براہی کا حق حکمرانی کا قیادت کی legitimacy کا پرابلم ہے ۔ حکمرانی اور قیادت کے پرابلم پر امت مسلمہ آج سے چودہ سو سال پہلے جیس انتشار کا شکار ہوئی اس کو آج تک سمیٹ نہیں سکی ۔ امام حسین کے بعد ملوكيت، بادشاہت اور بعد ازآں غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوۓ حلانکہ امام حسین کی قربانیوں کا مقصد امت کی اصلاح اور انسانوں کے حقوق کی حفاظت تھا۔
    امام امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے اپنے اباؤ اجداد کی پیروی ہے۔”
    جیسا کہ crisis of legitimacy کا مسلہ ابھی بھی پاکستان کے علاوہ کافی مسلم ممالک میں پایا جاتا ہے یعنی عوام کے مرضی کے بنا کسی بھی بہانے یا حربے سے اقتدار پہ قبضہ کرنا اور اسی بحران کا سامنا امام حسین کو بھی کرنا پڑاتھا ۔
    شہادت حسين اثبات حق اور باطل کی داستان ہے اور یہ سادہ و رنگین داستان صرف اہل اسلام کی نہیں پوری انسانیت کی جنگ بن چکی ہے اور حق و باطل کی کشمکش میں ایک بین الااقوامی علامت بن چکی ہے۔
    اس علامت کو کہیں شاعری میں استعمال کیا گیا اور کہیں ڈرامہ اور دوسرے ثقافتی و تہذیبی مظاہروں میں ۔آپ نے عزاداروں کے محفلوں میں اور ماتم گساروں کے جلوسوں میں خطیبوں کے وعظوں اور شاعروں کے مرثیوں میں اس علامت کو بڑے موثر طور پر استعمال ہوتے دیکھا اور سنا ہوگا۔
    امام حسین کا نام ہر مسلمان کے لئے قابل احترام ہے لیکن طاقت اور جبر کے اشتراک واتحاد کی بنیاد پر حکومت کرنے والے مسلمان ہونے کے باوجود حسینی شعور سے وابستہ علامتوں کو گوارہ نہیں کر سکتے اور تاریخ شاہد ہے کہ حسینی شعور یعنی انقلابی شعور بیدار ہو جائے تو پھر اسے اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے ۔ کسی سہارے یا سہارے کے وعدے کے بغیر۔ حسینی شعور کسی مادی وسيلے یا اعانت کا منتظر نہیں رہتا۔ وہ خود ہی بھڑکتا اور ارد گرد کے سارے ماحول کو اپنی روشنی اور تپش سے زندگی اور حرارت بخشتا ہے۔ وہ اپنی بشارت آپ ہے اور یقین کیجے پاکستان کے مسلمانوں کی رگ وپے میں خون کی طرح گردش کرنے والے حسینی شعور کو اب ہمہ وقت بیدار اور نگران رہنے کی ضرورت ہے۔
    بے خبری میں ان کے حقوق پر کئی شب خون مارے جا چکے ہیں اور مزید کا بھی خطرہ ہے استعماری طاقتوں کے گدھ ہمارے منڈیروں پر بیٹھے اپنے پر پھڑپھڑاتے رہتے ہیں ۔ امام حسین حرمت ضمیر کے محافظ اور انسانی حقوق کے چمپین تھا اور یہ چمپین انسانیت کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ضمیر ہو کر امر ہو گئے۔
    یزید دولت شہرت اور ٹھاٹھ باٹھ کا خواہش مند تھا اور اپنی اس خواہش تکمیل کے لئے اسے ظالموں کی ہوائے نفسانی کے بند مزاروں میں محبوس ہو جانا پڑا۔
    امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید ہوئے جب وہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ تھا جس نے ایک لازوال اثر چھوڑا۔
    شہادت حسین تو انسان کو یہ سیکھاتی ہے کہ ماضی کے گہوارے، حال کے دائرے اور وقت کے جالے کو توڑ کر نئی منزلوں اور نئے جہانوں کی طرف کیونکر بڑھا جاسکتا ہے ۔ آج امام حسین واقعتا” وقت کے پیمانوں یعنی ماضی وحال کے تمام جال توڑ کر دائمی اور لازوال عظمتوں سے ہمکنار ہو چکا ہے اور ہر عہد کے اجتمائی ضمیر اور شعور کا امین اور رفیق بن چکا ہے۔
    امام حسین خون میں دوڑنے والی ایک غیرت ہے۔ ایک ادارہ ہے۔ امام حسین جانتے تھے کہ مجھے شہید ہونا ہے۔ امام اس لئے گئے تاکہ حق کا علم بلند ہو۔ حسینؓ وہ مینار ہے جو اتنی بلندی پر قائم ہے کہ قیامت تک امت کے لئے روشنی دیتا رہے گا۔ حق و باطل کی جنگ ہمیشہ جاری رہی ہے اور آج بھی جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی۔ غدار ہر جگہ ہیں، شام اور کوفہ ہر جگہ ہیں۔
     حضرت امام حسینؓ نے کربلا کے میدان میں حق و صداقت کی جہاں ایک تاریخ رقم کی وہاں انہوں نے اسلام کی بقا کی ضمانت بھی اپنے لہو سے دی۔ ہم نے جس نظریے کے تحت پاکستان بنایا ، اس نظریے کو زندہ کرنا ہے اور نوجوان نسل کو اس نظریے سے اچھی طرح آگاہ کرنا ہے اور اس کی اصلیت کا یقین دلانا بھی ہماری ذمداری ہے اگر اسا کرتے ہیں تو تو یقیناً ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان اشعار پر بات ختم کرتا ہوں  

    دیتی رہے گی درس شہادت حسینؓ کی  ۔۔۔ آزادیِ حیات کا یہ سرمدی اصول 

    کٹ جائے چڑھ کے سر ترا نیزے کی نوک پر ۔۔۔ لیکن یزیدیوں کی اطاعت نہ کر قبول
    امام حسین کی شہادت تاقیامت تک یاد رکھاجائے گا اور بحثیت مسلمان ہماری کمیابی کی ضمانت بھی فلسفہ حسینیت میں ہمارے اندر حسینی شعور کا ہونا بہت ضروری ہے پھر ہم عدل وانصاف حق وہ باطل کو پرکھنے کے قابل ہو جائینگے۔
    امام کو پتا تھا اسے شہید کر دیا جائے گا مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے کیوں کہ عدل وانصاف اور اسلام کی سر بلندی بہت ضروری تھی تبھی امام حسین نے اپنی جان کی پروا نہیں کیا اور اتنی بڑی قربانی دے دی جو قیامت تک یاد رکھا جاے گا۔ 
    آسان نہیں ہے معرفت راز کربلا
    دل حق شناس دیدہ بیدار چائے
    @I_MJawed

  • پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟  تحریر : محسنؔ خان

    پاکستان میں شرعی نظام کیوں نہیں ؟؟ تحریر : محسنؔ خان

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں گزشتہ دِنوں میں طالبان نے افغانستان پہ مکمل قبضہ کر لیا ہے جہاں پہ وہ اسلامی قوانین لانا چاہتے ہیں اور ہم پاکستانی عوام اسلامی قانون کی مکمل حمایت کر رہی ہے کیونکہ وہ افغانستان میں جو نافذ کیا جا رہا ہے
    شریعت کا نفاذ افغانستان میں ہی کیوں کیا جائے وہاں بھی جمہوری نظام ہی رہے تو ٹھیک ہے ہم پاکستان خود کیوں شریعت کے نفاذ سے ڈر رہے ہیں ؟؟
    اس سوال کا جواب ہر ایک پاکستان کا خود کا ضمیر دے گا کہ ہم جمہوری نظام کے حق میں کیوں ہیں کیونکہ یہاں سب کچھ اپنی مرضی سے کیا جا سکتا ہے اگر یہاں پر اسلامی شرعی اصول نافذ ہو گئے تو تمام ہیرا پھیریاں اور بے ایمانیاں ختم ہو جائیں گی ہر پاکستانی خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی بے ایمانی میں ملوث ہے.
    ہماری عدلیہ کا نظام سب سے گندا ہے جہاں ایک فیصلہ کیلیے سالوں سال تھانے اور کچہری کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں پولیس تھانوں میں بیٹھی الگ سے لُوٹ رہی ہے اور وکلاء اور جج الگ سے غریب طبقہ اپنے حق کے حصول کیلیے قبر تک پہنچ جاتا ہے اور اسے حق نہیں ملتا.

    اگر کوئی ہسپتال ہے تو اس میں ڈاکٹروں کو ہوش نہیں یے کہ کوئی مریض مر رہا ہے وہ صرف پیسے کیلیے کام کر رہے ہوتے ہیں

    یہی حال ہمارے سکولوں اور کالجوں کا ہے ہمارے تعلیمی اداروں میں رشوت اور بے حیائی عام ہے
    مخلوط تعلیم کے زیر تربیت طالبعلم تعلیمی اداروں میں بے حیائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں عورت کو پردے کی فکر نہیں نیم برہنہ کپڑے تعلیمی اداروں میں پہنے اور بازاروں میں بیچے جا رہے ہیں
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ یہاں پہ پیسے اور سفارش سے جان چھوٹ جاتی یے لیکن شریعت میں ایسا نہیں ہے حقدار کو حق ملتا ہے خواہ وہ جزا ہو یا پھر سزا
    ہم جمہوریت کے اس لیے حامی ہیں کہ ہم رشوت اور لوٹ مار کے خاتمے کی وجہ سے ڈرتے ہیں اگر رشوت ستانی اور لوٹ مار ختم ہو گئی تو مالی نقصان ہوگا لیکن ہمیں دینی و روحانی نقصان کی زرا پرواہ نہیں ہے.
    طالبان حکومت کے خلاف بہت سے گروہ مہم جوئی میں مصروف ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام کو (نعوزباللّہ) بدترین دین قرار دینا ہے اور اس مہم میں ہمارے کچھ اپنے ایمان فروش لوگ بھی شامل ہیں یہ لوگ طالبانوں کو ظالم اور مسلمانوں کے مذہب اسلام کو ظالم و بربریت کا دین قرار دینے پر تُلے ہوئے ہیں.

    شریعت نافذ ہونے سے یہ فائدہ ہوگا کہ کوئی شخص چوری نہیں کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن ہم چوری نہیں چھوڑنا چاہتے اسی لیے جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی شخص کسی کے مال پہ غاصبانہ قبضہ نہیں کرے گا کیونکہ اسلام میں دو ٹوک فیصلے کا حُکم ہے اس لیے مافیہ کا گروہ شریعت کے خلاف ہے اگر جمہوریت رہی تو جیبیں بھری رہیں گی

    سب لوگ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہوں گے جیسے جنرل ضیاء کے دور میں صلوٰۃ کمیٹی نے کافی کامیابی سمیٹی لیکن ہم یہاں بھی ایمان کے کچے ہیں حالانکہ نماز کا حکم دیا گیا ہے مگر ہم لوگ نماز نہیں پڑھنا چاہتے ہمارا نظریہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ ہم قرآن سے زیادہ تعویز دھاگوں کو ترجیح دیتے ہیں

    کوئی عورت باپردہ نہیں ہوگی عورت کو اسلامی قوانین کے مطابق عزت اور آزادی حاصل ہوگی اور اسی بات پہ لبرل طبقہ اسلام کو عورت کیلیے غیر محفوظ قرار دیتا ہے اور اس کی تشہیر کیلیے عورت مارچ جیسے شیطانی مارچ کرتا یے

    اگر شریعت نافذ ہوتی ہے تو جرائم کی کمی ہو گی چھوٹی بچیوں سے زیادتی کو لگام پڑے گی کیونکہ ہمارے لوگ اس کی عبرتناک موت سے ڈرتے ہیں.

    جہاں اسلام ایک مکمل دین ہے وہیں اسلام میں قوانین کے خلاف ورزی پہ سخت سزائیں ہیں ہم جمہوری نظام کو ہی رکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم معاشرے سے گناہ کی گندگی ختم نہیں کرنا چاہتے رشوت, چور بازاری, زنا, جھوٹ, دھوکہ, فریب اور متعدد گندی بیماریوں میں اُلجھا ہوا یہ معاشرہ صرف افغانستان میں ہی شریعت کا نفاذ چاہتا ہے نا کہ پاکستان میں کیونکہ ہم اسلام سے ڈرتے ہیں اسلامی قوانین سے ڈرتے ہیں ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم منافقت کے کس درجے پہ کھڑے ہیں.

    ہم سب کو اپنے ضمیر میں جھانکنا چاہیے کہ کیا ہم مسلمان ہیں؟ اگر ہیں تو اسلام سے کیوں ڈرتے ہیں عمران خان صاحب نے ریاستِ مدینہ کی بات کی تھی لیکن اس پہ عمل طالبان کر کے بازی کے گئے.

    اللّہ عالم اسلام کو تمام عالم پہ غالب کرے اور ہم مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بننے کی توفیق دے آمین ثم آمین

  • نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول  حصہ اول تحریر  محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ اول تحریر محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجینبی رحمت ﷺ پر وحی کے نزول کے حوالے سے ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے
    حضرت عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے، جو بحالت نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھتے تھے، چنانچہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محبت ہونے لگی اور غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس واپس آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا، چنانچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں کہ مجھے فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا، یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دہرایا اس حال میں کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چنانچہ آپ حضرت خدیجؓہ بنت خویلد کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، تو لوگوں نے کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھےچنانچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے، ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ا نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو؟ تو جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا تھا، بیان کر دیا، ورقہ نے آپﷺ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں! جو چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا، اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث میں بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا ، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ Ǻ۝ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ Ą۝۽ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ Ǽ۝۽ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ Ć۝۽ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ Ĉ۝۽) اے (محمد ﷺ) اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے ، اٹھیے اور خبردار کیجئے ۔ (لوگوں کو ڈرائیے) ، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو ،پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا اور لگاتار آنے لگی۔ عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے اس کے متابع حدیث بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔ صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 3

    @mmasief

  • اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے.   تحریر: احسان الحق

    اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے. تحریر: احسان الحق

    جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے، اور انسان ہمیشہ اسی کام میں رہے گا اور روز قیامت اسی کام کو سرانجام دیتے ہوئے زندہ کیا جائے گا. اعمال کی مقبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور ان مقبول اعمال کا فائدہ بندے کے خاتمے پر منحصر ہے. اگر کوئی بندہ ساری زندگی اعمال صالحہ کرتا رہے اور خدانخواستہ اس کا خاتمہ اچھا نہ ہو تو ان اعمال کا فائدہ نہیں ہوگا. اگر کوئی بندہ نیک اعمال نہیں کرتا مگر اس کا خاتمہ باالخیر ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے فلاح پا جاتا ہے.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
    بعض اوقات تم جس بندے کو اعمال صالحہ اور تقویٰ کی بنیاد پر جنتی سمجھ رہے ہوتے ہو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوتا ہے اور معصیتوں اور برے کاموں کی بنیاد پر جس بندے کو تم جہنمی سمجھ رہے ہوتے ہو بعض اوقات اس کا ٹھکانہ جنت میں ہوتا ہے.
    مندرجہ بالا ارشاد عالیشان سے مراد یہی ہے کہ خاتمہ ہر حال میں خیر پر اور بہتر ہونا چاہئے.

    شریعت نے ایسے امور کی راہنمائی فرمائی ہے جو اچھے خاتمے کا سبب بنتے ہیں. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ.
    "اللہ اہل ایمان کو ثابت قدمی عطا فرماتا ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور قیامت کے دن بھی” یہاں قول ثابت سے مراد لا اله الا الله مطلب توحید ہے. بندہ صحیح معنوں میں توحید پر ڈٹا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت کے متعلق ثابت قدمی عطا فرماتے ہیں.
    دوسرے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان دونوں چیزوں کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے اس وقت تم گمراہ نہیں ہونگے، ایک قرآن اور دوسری حدیث.

    خاتمے کی بنیاد پر جنتی یا جہنمی کا فیصلہ ہو جاتا ہے. اس حوالے سے متعدد صحیح واقعات احادیث مبارکہ میں موجود ہیں.
    ایک غزوہ میں ایک آدمی بڑی شجاعت اور جوانمردی سے کفار کا قتال کر رہا تھا. کفار کی جس صف میں گھستا سب کو موت کے گھاٹ اتار کر واپس نکلتا. صحابہ کرامؓ فرماتے کہ قتال، شجاعت اور بہادری میں اس دن اس سے کوئی بڑا نہیں تھا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب سے فرمایا کہ اگر تم لوگوں میں سے کسی نے جہنمی کو دیکھنا ہو تو اس شخص کو دیکھ لو.
    صحابہ کرامؓ یہ سن کر پریشان ہو گئے کہ اتنی بہادری سے کفار کا قتل عام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے تو پھر ہمارا کیا بنے گا. ایک صحابی اس آدمی کے تعاقب میں رہتے ہیں. وہ بندہ اسی شجاعت اور جوانمردی سے قتل پہ قتل کرتا جا رہا ہے. آخرکار وہ شدید زخمی ہو گیا اور زخموں کی تکلیف کو برداشت نہ کر پایا. اپنی تلوار کا دستہ زمین پر لگا کر اپنا سینہ تلوار پر رکھ کر جھول گیا اور تلوار دو کندھوں کے درمیان پشت سے آرپار ہو گئی اور وہ حرام موت مر گیا. ساری زندگی اچھے کام کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آخری جنگ میں شریک ہو کر کفار کا قتل عام بھی کیا مگر خاتمہ اچھا نہیں ہوا.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت کے دن شہید کو لایا جائے گا، اس کی شہہ رگ کٹی ہوئی ہوگی، خون بہہ رہا ہوگا. خون کا رنگ تو لال ہوگا مگر اس سے جنت کی کستوری والی خوشبو آ رہی ہو گی. جس کام پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے وہ کام کرتے ہوئے اس کو زندہ کیا جاتا ہے.
    ایک محدث رحمتہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ سلف صالحین کی آنکھوں کو جس بات نے سب سے زیادہ رلایا وہ خاتمے کے متعلق ہے. وہ اس بات پر روتے رہتے تھے کہ خاتمہ کس صورت اور کس حال میں ہوگا.

    صحیح بخاری میں ایک شخص کا قصہ مزکور بے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج ادا کر رہا تھا. طواف کرتے ہوئے تلبیہ پڑھ رہا تھا. کہیں اس کی سواری کا پاؤں کسی ناہموار جگہ یا کسی بل میں چلا گیا، جس سے اونٹنی اپنا توازن کھو بیٹھی اور آدمی گردن کے بل گر گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے احرام کی چادروں کو نہ بدلو، اسی احرام کی چادروں میں دفن کرو. اس کا سر نہ ڈھانپو، دوران حج احرام میں سر ننگا ہوتا ہے. اس کو خوشبو بھی مت لگاؤ کیوں کہ احرام کی صورت میں خوشبو لگانا منع ہے. یہ بندہ حالت حج کی ادائیگی میں فوت ہوا اور قیامت کے دن اسی طرح حج کرتے ہوئے اٹھے گا.

    بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے کہ 100 بندوں کے قاتل کو اللہ تعالیٰ نے جہنم سے نکال کر جنت میں بھیج دیتے ہیں. کیوں اس بندے کا خاتمہ خوف الٰہی کی وجہ سے توبہ کی تلاش پر ہوا. وہ بندہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو کر توبہ کی غرض سے دوسری بستی جا رہا ہوتا ہے کہ راستے میں موت واقع ہو جاتی ہے.
    کفل کا واقعہ بھی ہم سب جانتے ہیں، آخری درجے کا زانی اور شرابی تھا. ایک رات برائی کرتے وقت دل میں خیال آیا اور عورت کو مقررہ رقم دے کر واپس بھیج دیا. خوف خدا دل میں آیا اور توبہ کی اور اسی لمحے فوت ہو گیا. اللہ تعالیٰ نے اس کے دروازے پر لکھوا دیا کہ کفل کو معاف کر دیا گیا ہے.

    صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت محمد رسولﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی موت کے وقت اسکو لا اله الا الله کا علم ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا. موت کے وقت خالی کلمہ کے ورد کا فائدہ نہیں، لا اله الا الله میں توحید ہے. اس میں ایک اثبات اور نفی ہے. اس کلمے کی بنیاد پر مرنے والے شخص کا خاتمہ ہونا چاہیے. اللہ کے رسولﷺ نے تبلیغ کے ذریعے تمام لوگوں تک توحید کا پیغام پہنچا کر حجت قائم کر دی. بندے کے خاتمے اور ٹھکانے والا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے.
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق دیں اور خاتمہ باالایمان عطا فرمائیں.

    @mian_ihsaan

  • تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    تنقید کریں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف نہیں!!

    دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا ،اس ملک کی بنیاد ہی کلمہ پر رکھی گئ ،یہی وجہ ہے کہ آج عالمی دنیا پاکستان پر تنقید کا کوئ بھی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اور پاکستان پر تنقید کے ساتھ ساتھ پھر اسلام کو بھی لازمی حدف تنقید بنایا جاتا ہے
    کبھی انڈیا میں کوئ واقعہ رونما ہوتو کوئ یہ نہیں کہتا کہ یہ کیسا ہندو مذہب ہے یا کسی دوسرے ملک میں کوئ واقعہ ہو تو اس واقعے کی بنیاد پر اس ملک کے مذہب کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا
    لیکن منافقت دیکھیں پاکستان میں کوئ چھوٹا سا بھی واقعہ پیش آجائے اس کا تعلق ہمیشہ پاکستان اور اسلام سے ملانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کام میں ہمارے کئ پاکستانی بھی عالمی دنیا کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں
    اب حال ہی میں مینار پاکستان پر ہونے والے واقعہ پر وہ طوفان برپا کیا گیا جس سے پوری دنیا میں پاکستان کا منفی چہرہ سامنے آیا وطن کی بدنامی ہوئ اور دنیا نے خاص طور پر سیاحت کے لئے آنے والوں کے نزدیک پاکستان غیر محفوظ ملک بن گیا ہوگا
    مینار پاکستان جیسے واقعات کی کوئ عقل شعور رکھنے والا بندہ حمایت نہیں کرسکتا اور اس واقعے کے بعد پوری پاکستانی قوم نے احتجاج بھی کیا حکومت نے بھی فوری طور ایکشن لیا سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اس واقعے میں ملوث تمام افرار کو سخت سے سخت سزا دی جائے
    لیکن کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جس سے دنیا میں ہماری بہت حد تک رسوائ ہوئ ،ہونا تو اس طرح چاہیے تھا کہ جب تک اس واقعے کی مکمل تحقیقات نا ہوجاتی حقیقت کیا تھی وہ سامنے نا آجاتی تب تک اس واقعے کو اتنا ذیادہ اچھالا نا جاتا کہ دنیا میں ہماری جگ ہنسائ ہوتی
    حکومت اچھی طرح اس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے اس میں جتنے لوگ ملوث نکلیں گے یقینن ان کو سزا بھی ہوگی لیکن خدانخواستہ اگر یہ واقعہ کوئ مشہوری کے لئے ڈرامے کے طور پر رچایا گیا ہو تو کیا پاکستان کی جتنی بدنامی ہوئ وہ عزت واپس آسکے گی؟ہم کس طرح دنیا کو سمجھائیں گے کہ یہ واقعہ کوئ ڈرامہ تھا اور اس واقعہ کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کا کتنا مذاق اڑایا گیا ،دنیا میں اسلام کو کس حد تک تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے
    حالانکہ اگر مکمل اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد ہوتا تو شائد وہ لڑکی اس طرح لوگوں کے ہجوم میں کبھی نا جاتی اور اگر چلی جاتی تو شائد وہ مرد اس کی طرف کسی گندی نگاہ سے دیکھنے کی ہمت تک نہیں کرتے ،اسلام نے جتنی عزت اور مقام عورت کی دی ہے اتنی کسی اور مذہب میں نہیں
    جس طرح کسی بھی دھشتگرد کا تعلق کسی مذہب یا رنگ نسل سے نہیں اسی طرح ایسے کسی انفرادی عمل کا بھی ذمہ دار نا اسلام کو ٹھہرایا جاسکتا ہے اور نا ہی اس ملک پاکستان کو
    اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں ہوتے ہیں ہمیں چاہیے ہم مثبت تنقید کریں اور معاشرے کی بہتری کے لئے خود سے شروعات کریں تو یقینن ہر طرف بہتری آجانی ہے
    اور خاص طور پر وہ افراد جن کی آواز دنیا بھر میں سنی جاتی ہے وہ ایسے چند واقعات پر مکمل تحقیقات کے بغیر کسی ایسی بات کرنے سے لازمی گریز کریں جس سے پاکستان اور اسلام پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقعہ ملے
    اور بڑھ چڑھ کر ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جس سے معاشرے کی اصلاح ہو اسلام کے حقیقی احکامات سے عوام کو آگاہ رکھیں کسی بھی برائ کو پاکستان یا اسلام سے جوڑنے کی بجائے اس برائ کے خلاف جو اسلامی احکامات ہیں وہ قوم کو بتائے جائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بھی ایسی کسی گندگی سے پاک ہو اسلام کی سربلندی ہو اور پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہو
    اللہ پاک ہمیں مکمل اسلامی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے ملک پاکستان کو مزید پرسکون اور محفوظ بناسکیں آمین

  • قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ

    قرآن کے ساتھ ہمارا سلوک تحریر: محمد معوّذ

    برادرانِ اسلام ! دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام بالکل محفوظ ، تمام تحریفات سے پاک ، ٹھیک ٹھیک انہی الفاظ میں موجود ہے جن الفاظ میں وہ اللّٰه کے رسولِ برحق پر اترا تھا ، اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللّٰه تعالیٰ کا کلام رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حدوحساب نعمتوں سے محروم ہیں ۔ قرآن ان کے پاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں ، اس کے مطابق عمل کریں ، اور اس کو لے کر اللّٰه تعالیٰ کی زمین پر اللّٰه کے قانون کی حکومت قائم کر دیں ۔ وہ ان کو عزت اور طاقت بخشنے آیا تھا ۔ وہ انھیں زمین پر اللّٰه کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا ، اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انھوں نے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیا تو اس نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوا بنا کر بھی دکھا دیا ، مگر اب ان کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اس کو رکھ کر جن بھوت بھگائیں ، اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں باندھیں اور گول کر پئیں اور ثواب کے لیے بے سمجھے بوجھے پڑھ لیا کریں ۔
    اب یہ اس سے اپنی زندگی کے معاملات میں ہدایت نہیں مانگتے ۔ اس سے نہیں پوچھے کہ ہمارے عقائد کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اعمال کیا ہونے چاہیں ؟ ہمارے اخلاق کیسے ہونے چاہیں ؟ ہم لین دین کس طرح کریں ؟ دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں ؟ اللّٰه کے بندوں کے اورخوداپنےنفس کے حقوق پر ہم کیا ہیں اور انھیں ہم کس طرح ادا کریں ؟ ہمارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ اطاعت میں کس کی کرنی چاہیے اور نافرمانی کس کی ؟ تعلق کس سے رکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے ؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون ؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کسی چیز میں؟ یہ ساری باتیں اب مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں ۔ اب یہ کافروں اور مشرکوں سے گمراہ اور خود غرض لوگوں سے اور نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں خود اپنےاور انھی کے کہے پر چلتے ہیں ۔ اس لیے خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ان کا ہوا اور اسی کو آج ہندستان میں چین اور جاوا میں فلسطین اور شام میں ، الجزائر اور مراکش میں ، ہر جگہ بری طرح بھگت رہے ہیں ۔ قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے۔ جتنی اور جیسی خیر تم اس سے مانگو گے یہ تمھیں دے گا۔ تم اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور مقدمے کی کامیابی اور نوکری کا حصول اور ایسی ہی چھوٹی ، ذلیل و بے حقیقت چیز میں مانگتے ہو تو ہی تمھیں ملیں گی ۔ اگر دنیا کی بادشاہی اور روئے زمین کی حکومت مانگو گے تو وہ بھی ملے گی اور اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو گے تو تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا ۔ یہ تمھارے اپنے ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دو بوندیں مانگتے ہو ، ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کے لیے بھی تیار ہے ۔
    حضرات ! جو تم ظریفیاں ہمارے بھائی مسلمان اللّٰہ کی اس کتابِ پاک کے ساتھ کرتے ہیں وہ اس قدر مضحکه انگیز ہیں کہ اگر یہ خود کسی دوسرے معاملے میں کسی شخص کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھیں تو اس کی ہنسی اڑائیں ، بلکہ اس کو پاگل قرار دیں ۔ بتایئے ! اگر کوئی شخص حکیم سے نسخہ لکھوا کر لائے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گلے میں باندھ لے ، یا اسے پانی میں گھول کر پی جائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ کیا آپ کو اس پر ہنسی نہ آئے گی ؟ اور آپ اسے بے وقوف نہ سمجھیں گے ؟ مگر سب سے بڑے حکیم نے آپ کے امراض کے لیے شفا اور رحمت کا جو بےنظیر نسخہ لکھ کر دیا ہے اس کے ساتھ آپ کی آنکھوں کے سامنے رات دن یہی سلوک ہورہا ہے اورکسی کو اس پر ہنسی نہیں آتی ۔ کوئی نہیں سوچتا کہ نخسہ گلے میں لٹکانے اور گھول کر پینے کی چیز نہیں ، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی ہدایت کے مطابق دوا استعمال کی جائے ۔

    @muhammadmoawaz_