حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیھماالسلام نے جب کعبة اللہ کی تعمیر فرمائی اور حکم ربی سے حج بیت اللہ کااعلان کیاتو اس کے بعد ایک عرصہ تک یقیناانسانوں کےلئے بیت اللہ کاسفر محفوظ اور پرسکون رہا ہوگاتاہم جیسے جیسے انسانی آبادی میں اضافہ ہوتا چلاگیا لوگ آسمانی مذاہب سے دور اور خواہشات کے اسیر ہوتے چلے گئے تو حج کے راستے بھی پرخطر ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک جب اسلام کوہ فاران کی چوٹیوں سے ضیا فگن ہوا تواسلام نے حجاز اور سرزمین حرمین کو امن وامان کامثالی گہوارہ بنا دیا ۔ امن وامان کی یہ مقدس رداکئی صدیوں تک سرزمین حجاز پر سایہ فگن رہی اور لوگ مکمل اطمینان کے ساتھ حج وعمرہ کے مناسک بجالاتے رہے درمیان میں اگر چہ حجاج کرام کےلئے بہت مشکل وقت بھی آتے رہے ہیں ۔
حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور بھی مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے اغواہونے اور قتل کئے جانے لگے ۔راستے اس قدر پرخطر تھے کہ جو سفر حج کا ارادہ کرتے وہ اپنے تمام معاملات زندگی سمیٹ کر دوست احباب رشتہ داروں سے معافی تلافی کر کے کفن باندھ کر سفر حج پر نکلا کرتے تھے اس دور میں یہ تصور عام تھا کہ سفر حج سے واپسی کی امید نہیں رکھنی چاہیے ۔جو حجاج کرام ڈاکوﺅں کے ہاتھوں لٹنے سے بچ کر بیت اللہ پہنچ جاتے وہاں بیشمارو لاتعداد مشکلات ان کا استقبال کرتیں۔حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھاکیونکہ مکہ مکرمہ ا ور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوﺅں اور لٹیروں کا راج تھا۔
پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شاہ عبدالعزیز آل سعود نے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور مضافات کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے کتنے ہی ڈاکوﺅں ، لیٹروں ، رہزنوں اور قاتلوں کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔
شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج تک ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سہولیات فراہم کرنے کےلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ءکے تحت روڈ ٹو مکہ جیسا عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کیا گیاہے ۔جس سے سعودی عرب پہنچنے پر طویل امیگریشن اور کسٹم کی چیکنگ کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور عازمین کے ہوائی اڈوں پر انتظار کے وقت میں بھی نمایاں طور پر کمی ہوتی ہے۔
روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن اور کسٹم کلئیرنس کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے جارہے ہیں۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں جاری ہیں ۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی عازمین کو رخصت کو رخصت کیا۔جبکہ امسال اسلام آباد اور کراچی سے پچاس ہزار سے زائد عازمین حج روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت حج کےلئے جائیں گے ۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کا کہنا ہے ہم کوشش کررہے ہیں جلد ہی پاکستان کے تمام بڑے شہروں سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں شروع کی جائیں ۔
اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ کاآغاز کردیا گیا ہے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہوگاکہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جائے گی تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کےلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولت دستیاب ہوگی ۔
حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کے لئے وقف کیا، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولےا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔
البتہ کچھ عناصر کو سعودی حکومت کے حج انتظامات پسند نہیں آتے ۔ وہ حج انتظامات کے خلاف پروپگنڈہ شروع کردیتے ہیں اورحج انتظامات عالمی کمیٹی کے سپرد کرنے کے راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ عناصر پہلے بھی ناکام تھے اور آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ۔امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیںکے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیر حج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔
Category: متفرق

پرامن حج انتظامات، خادم الحرمین کاامت مسلمہ کےلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

"سگریٹ پر ٹیکس لگے گا تو غریب کی پہنچ سے دور ہوگا”تحریر:اعجازالحق عثمانی
بچپن کی ایک دھندلی یاد آج بھی میرے حافظے میں دھوئیں کی طرح اڑ رہی ہے۔ لاری اڈے کے باہر ایک بوڑھا فقیر اکثر دکھائی دیتا تھا۔مٹی سے اٹے کپڑے، جھریوں سے بھرا چہرہ، آنکھوں میں تھکن کی نمی، اور ہونٹوں میں دبی ہوئی ادھ جلی ایک سگریٹ۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا،”بابا جی، پیسے ملنے کے بعد سب سے پہلے کیا لیتے ہیں؟”۔ اس نے لمحہ بھر کو میری طرف دیکھا، پھر دھواں چھوڑتے ہوئے کہا،”سگریٹ۔۔۔۔کیونکہ ایک کش لگ جائے تو بھوکے پیٹ بھی نیند آسان ہو جاتی ہے”۔ یہ لمحہ میرے ذہن پر نقش ہو گیا۔ اور آج جب میں ریاست کی انسدادِ تمباکو پالیسیوں کا جائزہ لیتا ہوں، تو وہی فقیر یاد آتا ہے۔کیونکہ ہمارا ریاستی رویہ بھی اسی بھکاری جیسا ہے۔ہاتھ میں کشکول، اور ہونٹوں پر سگریٹ کا دھواں۔
ہر سال 31 مئی کو "یوم انسداد تمباکو” منا کر حکومت خود کو بری الذمہ سمجھ لیتی ہے۔ اشتہارات چلتے ہیں، نعرے لگتے ہیں، اور تمباکو کے خلاف ایک دن کی جنگ لڑی جاتی ہے۔مگر اگلے دن سب کچھ ویسا ہی ہو جاتا ہے۔مگر اس حکومتی آگاہی مہم سے زیادہ موثر تو "کرومیٹک” کی آگاہی مہم ہے، کرومیٹک وہ واحد غیر سرکاری تنظیم ہے جو ہر وقت آپ کو تمباکو نوشی کے خلاف جہاد کرتی نظر آئے گی۔ حکومت ایک دن جبکہ کرومیٹک کے سی ای او شارق خان پورا سال اس لعنت کے خلاف جنگ کرتے نظر آتے ہیں۔
معزز قارئین! تمباکو نوشی کوئی انفرادی مرض نہیں، یہ ایک اجتماعی لعنت ہے۔ یہ صرف پھیپھڑوں کو نہیں کھاتا، یہ پورے معاشرے کا جگر چاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ یہ نوجوانوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کرتا ہے، اور بڑوں کو قبل از وقت قبر کی دہلیز پر پہنچا دیتا ہے۔ یہ وہ دھواں ہے، جو صرف پھپھڑوں کو کالا نہیں کرتا، بلکہ نسلوں کو برباد کردیتا ہے۔
پاکستان میں تمباکو نوشی کی صورت حال خاصی الم ناک ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہاں ہر سال ایک لاکھ سے زائد اموات تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت نے ان اموات کو روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟کیا سگریٹ کمپنیوں کی بے لگام تشہیر پر قدغن لگائی؟
کیا نوجوانوں کو اس زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی؟۔حکومتیں بس اتنا کرتی ہیں کہ کچھ اشتہارات، چند تقریبات، اور چند دکھاوے کی مہمات چلا دیتی ہیں۔ جیسے کسی مریض سرطان کو پیناڈول کی گولی دے کر تسلی دی جاتی ہے۔ اس لعنت سے چھٹکارے کا واحد اور آخری حل یہی ہے کہ اس پر بھاری بھرکم ٹیکس لگایا جائے، اور اسے روٹی کو ترستی نوجوان نسل کی پہنچ سے دور کر دیا جائے۔یہ کہنا کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس لگے گا تو غریب متاثر ہوگا، دراصل ایک خودساختہ مفروضہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سگریٹ نوشی کی شرح نچلے طبقے میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی روزی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے تو ترستا ہے، مگر روزانہ اوسطاً پچاس سے دو سو روپے تک سگریٹ پھونک ڈالتا ہے۔ اگر سگریٹ کی قیمت بڑھا دی جائے، اگر اس پر بھاری ٹیکس لگا دیا جائے، تو سب سے پہلے، فائدہ اسی غریب کو ہی ہوگا۔کیونکہ جب چیز مہنگی ہوتی ہے تو خواہشیں ماند پڑنے لگتی ہیں، لت کمزور پڑ جاتی ہے، اور آدمی اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ بھی واضح رہے کہ دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جب وہاں سگریٹ پر بھاری ٹیکس عائد کیا گیا تو تمباکو نوشی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔ فلپائن، برطانیہ، جنوبی افریقہ، جیسے کئی ممالک اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ مگر ہمارے ہاں سگریٹ پر ٹیکس کی بات آتے ہی سیاسی و معاشی مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں۔
ریاست کی یہ مجرمانہ خاموشی قاتل پولیسی دراصل ان قوتوں کے سامنے شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہے،جو تمباکو کو ایک منافع بخش صنعت سمجھتی ہیں۔ چند کمپنیاں، چند لابی گروپس، اور چند کرسیوں کے غلام جب مل کر پالیسی بناتے ہیں تو اس میں عوام کے حق کی بجائے سرمایہ دار کی تجوریاں ہی محفوظ کی جاتی ہیں۔سگریٹ بنانے والی کمپنیاں دن رات سوشل میڈیا اور روایتی اشتہارات کے ذریعے نئی نسل کو اپنی زنجیر میں جکڑنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔جبکہ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو اس قدر فنٹاسائز کیا جاتا ہے کہ نوجوان نسل اسے فیشن سمجھنے لگتی ہے۔ جبکہ حکومت ایسی سرگرمیوں کے خلاف کمر کسنے کی بجائے ان کے پر "18+، صحت کے لیے مضر” کی چھاپ لگا کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلیتی ہے۔
سگریٹ پر ٹیکس محض مالیاتی پالیسی کا حصہ نہیں، بلکی یہ ایک اصلاحی اقدام ثابت ہوگا ہے۔ اس سے نہ صرف تمباکو نوشی میں کمی آئے گی بلکہ حکومت کو صحت عامہ کے شعبے میں ٹیکس کولیکشن کی مد میں بھاری سرمایہ بھی میسر آئے گا۔ اور اس سرمائے کو مختلف طریقوں سے خرچ کیا جاسکتا ہے،جیساکہ؛
* سگریٹ نوشی ترک کرنے والوں کےلیے مفت کونسلنگ سنٹرز
* نوجوانوں کے لیے انسداد تمباکو نصاب
* سرکاری اسپتالوں میں تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کے مفت علاج کی سہولت
* اور تمباکو ساز اداروں کے اشتہارات پر سخت پابندی۔اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو محض چند سالوں میں ہی تبدیلی ممکن ہے، مگر اس تبدیلی کےلیے اقدامات خان صاحب کی طرح جذبات سے نہیں، بلکہ عقل سے کرنے ہونگے۔

تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔تحریر:نورفاطمہ
تمباکو نوشی…. صرف ایک انفرادی عادت نہیں بلکہ ایک المیہ بن چکی ہے، جو نہ صرف انسانی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ملکی معیشت، ماحول اور نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی تاریک کر رہی ہے۔ اس تناظر میں غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تمباکو نوشی کے خلاف شروع کی جانے والی مہم قابل تحسین اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔تمباکو نوشی کے نقصانات پر اگر غور کیا جائے تو فہرست بہت طویل ہے۔ یہ عادت پھیپھڑوں کے سرطان، دل کی بیماریوں، اور سانس کی تکالیف کا باعث بنتی ہے۔بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی بالواسطہ متاثر کرتی ہے۔معاشی بوجھ میں اضافے کا سبب بنتی ہے، کیونکہ علاج مہنگا اور دیر پا ہوتا ہے۔
اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر تمباکو پر ٹیکس بڑھایا گیا تو غریب آدمی سگریٹ نہیں خرید سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی مقصد ہونا چاہیے، اگر سگریٹ اتنی مہنگی ہو جائے کہ غریب کی پہنچ سے دور ہو جائے تو وہ شخص شاید انہی پیسوں سے بچوں کے لیے پھل لے آئے، جو ان کی صحت کے لیے مفید ہوں گے۔ یہ نہ صرف مالی فائدہ ہوگا بلکہ ایک نسل کو تباہی سے بچانے کی کوشش بھی ہوگی۔آج کا نوجوان تمباکو نوشی کو "فیشن” اور "سٹائل” سمجھتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ایک زہر کو اپنے جسم میں اتار رہا ہوتا ہے۔ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھایا تو آنے والے وقت میں نشے کی دوسری اقسام، جیسے چرس، آئس، اور ہیروئن تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی۔
اگرچہ حکومت نے تمباکو نوشی پر مختلف پابندیاں لگا رکھی ہیں، مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانہ، اشتہارات پر پابندی، اور سگریٹ پیک پر وارننگ، لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔کیا آپ نے کبھی دیکھا کہ کسی تعلیمی ادارے، مسجد یا ہسپتال کے باہر کھڑے افراد کو تمباکو نوشی سے روکا گیا ہو؟یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے معاشرے کو متحرک ہونا پڑے گا۔ہمیں اپنی مہم کا آغاز ان اداروں سے کرنا ہوگا جہاں سے اصلاح ممکن ہو،تعلیمی ادارے جہاں بچوں کو بچپن سے ہی تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہی دی جائے۔مساجد جہاں علما خطبوں میں اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔میڈیا، تمباکو مخالف اشتہارات اور کہانیاں عام کی جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ تمباکو مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کرے تاکہ ان کی دستیابی کم ہو،تمباکو سے حاصل ہونے والی آمدن کو صحت و تعلیم کے شعبوں میں استعمال کرے،ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم بنائے تاکہ قوانین پر سختی سے عمل کروایا جا سکے۔
صحت مند پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک خواب ہے، جس کی تعبیر تب ہی ممکن ہے جب ہم اجتماعی سطح پر تمباکو نوشی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں، بچوں، بزرگوں اور آنے والی نسلوں کو تمباکو کی لعنت سے بچانا ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک بیمار، آلودہ اور نشہ زدہ قوم بننا چاہتے ہیں یا ایک باہمت، صحت مند اور روشن خیال قوم، جو آنے والے وقت میں دنیا کے سامنے ایک مثال بن سکے۔آئیں، تمباکو کے خلاف آواز اٹھائیں، اور اپنے کل کو بچائیں۔

پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا،تجزیہ :شہزاد قریشی
پانی کی کمی بڑا مسئلہ،مستقبل کیلئے سٹوریج کا انتظام کرنا ہوگا
قحط کے سائے منڈالارہے ہیں ،کالاباغ ڈیم جیسے منصوبے ملک کی ضرورت
معیشت بچانے کیلئے قرض لے لیا ،پانی کیلئے کس کے پاس جائیں گے،ذرا نہیں پورا سوچیں
بھارت سفارتی سطح پر تنہا ہوچکا،اسحاق ڈار کی ڈپلومیسی نے پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنادیا
تجزیہ، شہزاد قریشیامریکی صدر کی روزانہ کی بنیاد پر پالیسیوں کی تبدیلیاں ایک سوالیہ نشان ہے ، اگر ٹرمپ یہ سوچتے ہیں کہ وہ امریکی اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتے ہوئے سامراجی خواہشات پر زور دیتے ہوئے یو ایس ایڈ کو تباہ کرتے ہوئے ، وائس آف امریکہ کو خاموش کراتے ہوئے امریکہ کے اندر قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے اور اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے دستبردار ہو کر چین کا مقابلہ کر سکتے ہیں تو ان پالیسیوں سے ناکامی امریکہ کے مقدر میں ہے، امریکی مارکیٹیں ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اشارہ دے رہی ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی شاید اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقاوامی معاہدہ ہے جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی ہے اس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت بھارت اس معاہدہ پر عمل کرنے سے دستبردار ہوسکتا ہے ، مودی بھارت کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی کے راستوں پر لے کر جا رہا ہے اگر بھارت ایس حرکت کرے گا تو دنیا بھارت پر دبائو ڈالے گی اس سلسلے میں وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار عالمی دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں مودی خواب تو دیکھ سکتا ہے مگر خواب حقیقت میں تبدیل نہیں کر سکتا،تاہم صاحب اختیارات، ذمہ داران ریاست بیورو کریٹس، ملکی سیاسی گلیاروں میں جدید دور کے مسیحا، ہیروز سوچیں ارض وطن کی ملکیت خدا پاک کی ہے ،
صاحب اختیارات سے التجاہی کی جا سکتی ہے کہ پاکستان پانی کی کمی کی طرف جا رہا ہے امریکہ سمیت دنیا کے ممالک میں پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات موجود ہیں پانی ایک سنگین مسئلہ ہے کالا ڈیم کی تعمیر اس سرزمین کی زندگی بچانے اور آنے والی نسلوں کے لئے ضروری ہے،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں پاکستان کے لئے فیصلہ کریں پانی کی کمی سے قحط جیسے حالات کے خطرات منڈلاتے کیوں نہیں دکھاتی دیتے ذرا سوچئے آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لیا جا سکتا ہے مگر پانی کی قلت اور زراعت کو فروغ دینے کے لئے پانی کس سے ادھار لیا جائے گا؟ خدارا سیاسی لڑائیاں اقتدار اور اختیارات کے لئے تو لڑی جا رہی ہیں کبھی ریاست کے اس سنگین مسئلہ پانی پر بھی توجہ دیں کالا باغ ڈیم کے لئے بھی کبھی ایک کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کریں یہ پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہے خدارا ہوش کیجئے

بجٹ ، بجٹنگ اور اس کی اقسام، ایک تحقیقاتی جائزہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی
بجٹ تعارف و تعریف؛ (Concept of Budget)
تاریخی طور پہ دیکھا جائے۔ تو بجٹ ایک لاطینی زبان کے لفظ "بلگا” اور فرانسیسی لفظ "بوجٹ(Bougette)” سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی چمڑے کے کسی تھیلے یا بیگ یا پرس کے ہیں۔
اٹھارویں صدی میں برطانیہ کے وزیر خزانہ اور پہلے وزیراعظم مسٹر رابرٹ پول جب پارلیمنٹ میں مالی امور کی منظوری کے لئیے جاتے۔ تو ان کے پاس ایک چمڑے کا تھیلا ہوتا تھا۔ جس میں ملک کے مالی امور سے متعلقہ اہم دستاویزات ہوتیں۔ بعد میں یہ تھیلا "بجٹ” کے نام سے مشہور ہوا۔ یوں تاریخی اعتبار سے بجٹ کا آغاز 1745ء میں برطانیہ سے ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ اصطلاح آمدنی و اخراجات سے بڑھ کر مالیاتی منصوبہ بندی، مالی امور کے نظم و نسق اور ملکی وسائل کی تفویض کاری کے پورے عمل تک وسعت اختیار کر گئی۔
علم معاشیات کی رو سے اگر ہم بجٹ کی اصطلاح کی تعریف کریں۔ تو ” بجٹ ایک مالیاتی یا زری منصوبہ نما دستاویز ہے۔ جس میں کسی حکومت کو اسے ایک مالی سال کے دوران حاصل ہونے والی وصولیوں جو وہ مختلف ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ اور ایک مالی سال کے دوران کئے جانے والے وہ اخراجات جو وہ مختلف مدوں پر کرتی ہے۔ کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس میں نئے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے لئیے تخمینہ سازی بھی کی جاتی ہے ۔ اور پچھلے مالی سال کے ریونیو و اخراجات کے اعدادوشمار بھی ظاہر کئیے جاتے ہیں ۔”
حکومت کے معاشی فرائض ؛ (Economic Functions of Govt)
کسی بھی ملک کی حکومت کو تین بنیادی مالی فرائض سر انجام دینے پڑتے ہیں۔
1_ معاشی استحکام ؛ (Economic Stability)
جس میں ملکی معیشت سے افراط ِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کرنا نیز بیروزگاری کی سطح کو کم کرنا ہے۔2_ معاشی ترقی ؛ (Economic Growth)
جس میں ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر جن میں ذرائع نقل و حمل ، انفرمیشن ، ٹیکنالوجی کی ترقی اور توانائی کی بہتر و سستی فراہمی ہے۔ مزید مخصوص صنعتوں کو اعانوں کی فراہمی تاکہ ملکی معاشی افزائش یا معاشی گروتھ یعنی ملکی پیداوار خواہ وہ صنعتی ہو یا زرعی (GDP) میں اضافہ ممکن ہو سکے ۔3_ معاشی فلاح و بہبود ؛ (Economic Welfare)
جس میں ملکی عوام کو صحت و تعلیم ، امن و دفاع، رہائش و نقل و حمل کی سہولیات کی بہتری و اضافہ کرنا شامل ہے۔
کسی بھی حکومت کو اپنے سرکاری معاملات چلانے نیز یہ تمام فرائض ادا کرنے کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاکہ وہ اپنے ان اخراجات کو بخوبی پورا کر سکے۔سرکاری بجٹ کا ڈھانچہ ؛ (Structure of Govt Budget)
حکومت ٹیکسوں ، بیرونی سرمایہ کاری، قرضوں اور امداد وغیرہ سے یہ آمدنی حاصل کرتی ہے۔ اور ان اخراجات کی مدوں میں خرچ کرتی ہے ۔
سرکاری بجٹ کی تین ممکنہ صورتحال ہو سکتی ہیں۔1_ متوازن بجٹ ؛ ( Balanced Budget)
اگر تو حکومت کی آمدنی اور اس کے اخراجات آپس میں برابر ہوں۔ تو ایسے بجٹ کو متوازن بجٹ (Balanced Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاں ،
Govt Revenue = Govt Expenditures
2_ فاضل بجٹ ؛ (Surplus Budget)
اگر کسی بجٹ میں حکومت کا ریونیو ، اس کے اخراجات سے بڑھ جائے۔ تو اسے فاضل بجٹ (Surplus Budget) کہا جاتا ہے۔ جو کہ معاشیات دانوں کی نظر میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا ۔ کہ اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ حکومت عوام سے ٹیکس تو وافر وصول کر رہی ہے۔ مگر ان کی سہولیات اور معاشی ترقی پہ خرچ نہیں کر رہی۔ جس سے بجٹ فاضل بن رہا ہے۔ مگر آج کل کے حالات کے پیش نظر یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی ملک کا بجٹ فاضل بن پائے ۔ جیسے,Govt Revenue > Govt Expenditures
3_ خسارے کا بجٹ ؛ (Deficit Budget)
اسی طرح اگر کسی ملک کے اخراجات اس کے ریونیو سے بڑھ جائیں ۔ تو اسے خاسر بجٹ یا خسارے کا بجٹ(Deficit Budget) کہا جاتا ہے۔ جہاںGovt Revenue < Govt Expendituresترقی پزیر ممالک کا زیادہ تر خاسر بجٹ ہی ہوتا ہے۔ بجٹ میں اس خسارے کے پورا کرنے کے لیئے حکومتوں کو سرکاری و بیرونی قرضہ جات اور امداد کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی فراہمی کے لئیے آئی ۔ ایم۔ ایف ، ورلڈ بنک اور ایسے کئی ادارے و ممالک وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ قرض لینے والے ممالک کو بھاری سود اور کئی پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔بجٹنگ یا بجٹ سازی؛
بجٹ سازی کے عمل کو "بجٹنگ” کہا جاتا ہے ۔ کسی ملک کی وزارات خزانہ پچھلے مالی سال کے اعداد و شمار اور نئے مالی سال کے اہداف و تخمینوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگلی مالی مدت کے لئیے بجٹ سازی کا عمل سر انجام دیتی ہے۔ اس کے لئیے وزارتِ خزانہ ملک کے تمام اہم شعبوں سے ڈیٹا حاصل کرتی ہے ۔
بجٹ سازی کی اقسام ؛
معاشیات میں بجٹ سازی کے تناظر میں بجٹ کی 9 ممکنہ اقسام ہیں ۔ یا بجٹ 9 طرح کے ہو سکتے ہیں۔
1_ جامد بجٹ(Static Budget)
ایک بار بجٹ بننے کے بعد ایسے بجٹ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ یعنی یہ پورے مالی سال میں جامد رہتا ہے۔2 لچکدار بجٹ (Flexible Budget)
ایسے بجٹ کی ایک بار بجٹ سازی کے بعد مالی مدت کے دوران بوقت ضرورت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ یعنی شبعوں میں تفویض کردہ وسائل میں بوقت ء ضرورت تبدیلی ممکن ہے۔3_ فنکشنل بجٹ (Functional Budget)
ملکی معیشت یا کسی آرگنائزیشن کے ہر شعبے کا اس کی ضرورت کے مطابق الگ الگ بجٹ بنانا فنکشنل بجٹ کے زمرے میں آتا ہے۔4_ ماسٹر بجٹ (Master Budget)
فنکشنل بجٹ کا مجموعہ ماسٹر بجٹ ہوتا ہے۔ جس میں معشیت کے تمام شبعہ جات کے الگ الگ بجٹ کو یکجا کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً ،
Master Budget =Production Budget + Marketing Budget +Development Budget + Administration Budget….etc.5_ زیرو بیسڈ بجٹ (Zero- Baised Budget)
ماضی کے اعداد و شمار سے صرف نظر کرتے ہوئے حالیہ آمدنی و ضرورت کے مطابق جو نیاء بجٹ بنایا جاتا ہے ۔ جس میں پچھلی مالی مدت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اسے زیرو۔ بیسڈ بجٹنگ کہا جاتا ہے۔ سمجھ لیں کہ یہ پہلی بار حالیہ ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔6_ شراکتی بجٹنگ (Participative Budgeting)
شراکتی بجٹ، بجٹ سازی کا ایک طریقہ ہے۔ جس میں بجٹ سازی کے عمل میں مختلف اسٹیک ہولڈرز، جیسے شہری، رہائشی، یا کسی تنظیم کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ اس نقطہء نظر کا مقصد بجٹ سازی کے فیصلوں میں شفافیت، جوابدہی، اور کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھانا ہوتا ہے۔
سادہ الفاظ میں بجٹ سازی کے اس طریقہ ء کار میں کسی معیشت یا آرگنائزیشن کی تمام اپر اور لوئر دونوں درجوں کی منجمنٹ تخمینہ سازی میں اپنی رائے دیتی ہے ۔7_نافذ کردہ بجٹنگ ( Imposed Budget)
نافذ کردہ بجٹنگ میں بجٹ سازی میں کسی ملک یا آرگنائزیشن کی صرف اپر لیول منیجمنٹ ہی حصہ لیتی ہے۔ اور اسے نافذ کر دیا جاتا ہے ۔ نافذ کردہ بجٹنگ ، شراکتی بجٹنگ کے بلکل منافی بجٹ سازی کا طریقہ ء کار ہے۔8_ رولنگ بجٹ
(Rolling Budget Or Budget Rollover)
ماضی کے اعداد و شمار کو پیش ِ نظر رکھ کر مستقبل کے تخمینوں سے مطابقت رکھتا ہوا جو نئی مالی مدت کے لیئے نیا بجٹ بنایا جاتا ہے۔ اسے رولنگ بجٹ کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک یا آرگنائزیشنز میں رولنگ بجٹ سازی ہی کی جاتی ہے۔9_ سالانہ بجٹ (Annual Budget)
ایک نئے مالی سال کے لئیے کوئی ملک یا آرگنائزیشن اپنے معاشی تخمینوں و اہداف اور اپنی آمدنی و اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو بجٹ تیار کرتی ہے۔ اسے سالانہ بجٹ کہا جاتا ہے۔حاصل ء بحث ؛ ( Conclusion )
بجٹ کسی بھی ملک یا آرگنائزیشن کے لیئے ایک دو طرفہ بک کیپنگ کی طرح ہے۔ جس میں ایک طرف اس کی آمدنی ہے۔ تو دوسری طرف اس کی حالیہ و مستقبل کے ترقیاتی اخراجات ہیں۔ جن کی مطابقت کا ایک مخصوص مالی مدت(ایک سال) کے لئیے پلان بجٹ ہے۔
یوم تکبیر۔۔۔ تجدید عہد کا دن ،تحریرڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید اظہر
28 مئی 1998ءایک ایسا دن تھاجب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی واحد نظریاتی ریاست نے اپنے دفاع کو فولادی حصار فراہم کرتے ہوئے دنیا کفر کو یہ پیغام دیا کہ وہ نہ صرف اپنے جغرافیے کی حفاظت کرنا جانتی ہے بلکہ اپنی نظریاتی سرحدوں پر بھی کسی قسم کی سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔ یہی دن ”یومِ تکبیر“ کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ دن جب پاکستان نے خود کو دنیا کی ساتویں اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت کے طور پر منوایاجس کی وجہ سے پورے عالم اسلام بلکہ دنیا میں موجود ہر مسلمان کا سر فخر سے بلند اور پیشانی اپنے رب کے حضور سر بسجود ہوگئی۔
جب پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا تو یہ سفر آسان نہ تھا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، ماہرین، وسائل اور وقت، سب کچھ محدود تھا۔ لیکن پاکستانی قوم کا جذبہ ایمانی اور رب العزت پر توکل یقین اور بھروسہ لامحدود تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مخلص اور باصلاحیت سائنسدانوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز اور دیگر اداروں میں شب و روز تحقیق جاری رہی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے کے لیے دباﺅ ، دھمکیاں اور معاشی پابندیوں کی باتیں کی گئیں۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ سب رکاوٹیں اس وقت غیر موثر ہو گئیں جب پاکستان کے جذبے نے ان سب کے سامنے ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا۔ ابتداہی سے جن مسلم ممالک نے پاکستان کے ساتھ مالی تعاون کیا ان میں سعودی عرب سرفہرست ہے ۔ یہ وہ دور تھا جب مملکت سعودی عرب کے فرمانروا جلالة الملک شاہ فیصل بن عبدالعزیز تھے ۔ وہ اسلام کے سچے خادم اور بہت ہی دور اندیش حکمران تھے ۔ وہ پاکستان سے بھی بے حد محبت کرتے تھے ۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان عسکری اعتبار سے مضبوط تر ہو ۔ یہی وجہ تھی کہ ملک فیصل بن عبدالعزیزنے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کےلئے مملکت کے خزانوں کے منہ کھول دیے ۔ اس طرح سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام تکمیل کو پہنچا ۔ پاکستان میں مختلف اوقات میں مختلف حکومتیں برسر اقتدار آتی رہیں ان میں باہم شدید قسم کے اختلافات بھی رہے لیکن تمام تر باہمی مخالفت کے باوجود ایک بات پر سب متفق رہیں کہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت اور طاقت سے لیس کرنا ہے ۔ بہر حال وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ 11مئی 1998ءکو بھارت نے ایک بار پھر پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکے کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو شدید متاثر کیا۔ بھارتی قیادت نے کھلے عام پاکستان کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کو جنوبی ایشیا میں ”نیا سورج“ طلوع ہونے کے مترادف قرار دیا۔بھارت خود کو علاقے کا چوہدری اور پاکستان کو اپنی طفیلی ریاست سمجھنے لگ گیا۔ہندو بنیا اپنے تئیں اس زعم کا شکار ہوگیا کہ اب پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کی تقدیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔ جب بھارت ایٹمی دھماکے کرچکا تو اس کے بعد دنیا کی نگاہیں پاکستان پر مرکوز ہو گئیں۔ عالمی طاقتیں متحرک ہو گئیں کہ پاکستان کو دھماکہ نہ کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ معاشی پابندیوں، قرضوں کی بندش اور سفارتی دباو جیسے تمام حربے آزمائے گئے۔ امریکہ، جاپان، اور یورپی ممالک نے وطن عزیز پاکستان کی قیادت بالخصوص میاں نواز شریف کو یہ باور کرایا کہ اگر اس نے دھماکہ کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوں گے اور پاکستان کو بدترین قسم کی معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
ان حالات میں پاکستان کے لیے فیصلہ آسان نہ تھا۔ ایک طرف شدید عالمی دباو تھا تو دوسری طرف پوری قوم کا مطالبہ تھا کہ بھارت کو اس کے ایٹمی غرور کا جواب دیا جائے۔ عوام، افواج، اور دانشور طبقہ ایک آواز ہو چکا تھا۔ آخرکار غیرت مند، محب وطن، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مسلم ممالک بالخصوص مملکت سعودیہ عربیہ کی مشاورت سے مسلم امہ کے وسیع تر مفاد، قومی غیرت اور دفاعِ وطن کو فوقیت دیتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جس پر آج بھی قوم فخر کرتی ہے۔ 28 مئی 1998 ءکو بلوچستان کے ضلع چاغی میں دھات کے پہاڑوں نے لرز کر گواہی دی کہ پاکستان نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا۔ پانچ ایٹمی دھماکوں نے نہ صرف بھارت کو مو¿ثر جواب دیا اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا بلکہ اسلامی دنیا میں ایک نئی امید پیدا کی۔اس مشکل ترین وقت میں مملکت سعودی عربیہ نے پاکستان کا بھر پور ساتھ دیا۔ مالی تعاون کیساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی شانہ بشانہ کھڑا ہوا ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ۔ ایک طرف بھارت کی جارحیت تھی، دوسری طرف اندیشہ ہائے دور دراز تھے معاشی اور سفارتی پابندیوں کے خدشات تھے ۔ تب اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کا دورہ کیا ۔اگرچہ اس وقت ملک فہد بن عبدالعزیز سعودی عرب کے فرمانروا تھے تاہم ان کی علالت کی وجہ سے امور مملکت ولیعہد ملک عبداللہ بن عبدالعزیز چلارہے تھے ۔ نواز شریف نے ملک فہد اور ولیعہدملک عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ۔سعودی فرمانروا ملک عبداللہ نے نواز شریف کو ہر قسم کے مالی اخلاقی اور سفارتی تعاون کا یقین دلایا
یہ وہ وقت تھا جب ایٹمی دھماکے کرنے پر امریکہ نے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے نتیجے میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر پر اتنا شدید دباو¿ تھا کہ حکومت نے نجی بنکوں سے ڈالر نکلوانے پر پابندی لگا دی تھی۔ان حالات میں جب کوئی دوسرا ملک یا قرض دینے والا آئی ایم ایف جیسا ادارہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی مالی مدد نہیں کر سکتا تھا، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آیا ۔ سعودی عرب نے اس وقت پاکستان کو تین ارب ڈالر سالانہ تیل دینا شروع کیا تھا۔تیل کی فراہمی کا یہ سلسلہ 1998 ءکے بعد بھی کئی برس تک جاری رہا ۔ ایٹمی دھماکوں کے نتیجے میں کئی قسم کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیاں لگائی جاچکی تھیں اس وجہ سے سعودی عرب نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان کو تیل ’ادھار‘ دیا جارہا ہے لیکن دراصل یہ مفت تیل تھا جس کے پیسے کبھی بھی سعودی عرب نے پاکستان سے نہیں لئے۔ ایٹمی دھماکوں کے چند ہفتوں بعد ولیعہد ملک عبداللہ آٹھ ملکوں کے دورے پر روانہ ہوئے ۔آغاز واشنگٹن سے ہوا عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود پاکستان کو تیل کی فراہمی کے متعلق امریکی اخبار نیوسوں کے سوال پر سعودی رہنما کا جواب تھا پاکستان کےلئے زندگی اور موت کے اس مرحلے پر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ ہم اسے تنہا چھوڑ دیں گے ۔واشنگٹن سے شروع ہونے والے اس عالمی دورے کا اختتام پاکستان پر ہوا تھا ۔ دورے کی اس ترتیب میں دنیا کےلئے پیغام تھا کہ ملک عبداللہ کے نزدیک پاکستان ایسے ہے جیسے اپنا گھر ہو ۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو انھیں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا دورہ بھی کروایا گیا ۔ یہ بات معلوم ہے کہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ وہ حساس ترین جگہ ہے جہاں کوئی غیر متعلقہ شخص خصوصاََ غیر ملک پر بھی نہیں مارسکتا ۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب گئے تو ایوان شاہی میں ان کےلئے بیمثال استقبالیہ کا اہتمام تھا تب ولی عہد ملک عبداللہ نے ان کا ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے انھیں اپنا فل بردار قرار دیا شاہ فہد اور دیگر بھائی ان کے ہاف برادر تھے ۔ یہ تھا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں سعودی عرب کا کردار جس پر آج ہر پاکستان کو فخر ہے ۔ حقیقت یہ کہ اگر سعودی عرب کا تعاون شامل حال نہ ہوتا تو پاکستان میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب ہوتی نہ ہی پاکستان کےلئے ایٹمی دھماکے کرنا ممکن ہوتا اور نہ آج پاکستان کےلئے اپنا دفاع کرنا ممکن ہوتا ۔
وزیراعلیٰ پنجاب،اک نظر ٹریفک وارڈن کو بھی دیکھ لیں،تحریر:ملک سلمان
گذشتہ روز جب وزیراعلیٰ آفس سے اس بات کی خبر ملی کی ٹریفک پولیس کی بدمعاشیوں کے خلاف اسٹوڈنٹس کی پکار پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری طور پر منگل کی صبح ٹریفک مسائل کے حوالے سے خصوصی اجلاس رکھا ہے تو طلبہ و طالبات کیلئے یہ بہت بڑی بریکنگ نیوز، خوشی اور ایکسائٹمنٹ والی بات تھی کہ ان کی وزیراعلیٰ ان کیلئے کس قدر باخبر اور فکر مند ہیں۔ مریم نواز کا مقبولیت کا گراف 67فیصد سے 95فیصد پر آگیا لیکن اگلے ہی دن یعنی آج دوپہر میڈم وزیراعلیٰ آپ کے دفتر سے جاری کردہ پریس ریلیز سے سخت مایوسی ہوئی ناصرف طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقے بلکہ ہر قانون پسند شہری خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ سی ٹی او اور ٹریفک وارڈن کو حکم دیا جاتا کہ سات دن میں چار لاکھ پبلک ٹرانسپورٹرز کی اوریجنل نمبر پلیٹ نہ لگی اور کروڑوں روپے کی کرپشن بند نہ ہوئی تو سی ٹی او سمیت سب کو جیل بھیج دیا جائے گا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ٹریفک پولیس کو وارننگ دی جاتی کہ معزز شہریوں کے ساتھ اپنا رویہ درست کرو خاص طور پر طلبہ و طالبات اور نوجوان طبقہ جو ہمارا مستقبل ہے۔
پہلے پہل تو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایس پیز کی گاڑیاں بنا نمبر پلیٹ تھی اب تو تھانوں اور دیگر سرکاری ملازمین نے بھی سیف سٹی کیمرہ کے آن لائن چالان اور دیگر غیرقانونی حرکات کیلئے بنا نمبر پلیٹ گاڑیاں بھگانا شروع کردی ہیں۔ کیا قانون کا اطلاق صرف ٹیکس دینے والے معزز شہریوں کیلئے رہ گیا ہے؟
اس پریس ریلیز میں کہیں بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کہ بنا نمبر پلیٹ گاڑی چلانا کتنا بڑا جرم ہے، میڈم وزیر اعلیٰ بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا کام کررہے ہیں۔ میڈم جن رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹرز کو آپ کے سامنے غریب بنا کر پیش کیا جاتا ہے یہی غربت کارڈ صرف لاہور شہر میں 1200کروڑ ماہانہ کی غیر قانونی کمائی کا زریعہ ہیں۔ ایک ہزار سے دو ہزار فی رکشہ و پبلک ٹرانسپورٹ وصولی کی بجائے ان پبلک ٹرانسپورٹرز کو قانون کے دائرے میں لایا جائے تو نہ صرف پانچ ہزار کروڑ ماہانہ سرکاری خزانے میں آئیں بلکہ محفوظ اور پرامن لاہور و پنجاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔ پریس ریلیز میں ٹریفک پولیس کو غیرقانونی پارکنگ کی سرپرستی سے روکنے اور غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے کا کوئی ذکر نہیں۔ ٹریفک پولیس جس غیر قانونی پارکنگ سے مبینہ طور پر پرسنل پاکٹ کرپشن کیلئے پانچ سے دس کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے اگر وہی پارکنگ منظم طریقے سے لاہور پارکنگ کمپنی کو کرنے دے تو پانچ سو کروڑ ماہانہ سرکار کیلئے اکٹھا کرسکتی ہے اسی طرح پورے پنجاب میں پانچ ہزار ارب صرف پارکنگ سے اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ٹریفک پولیس جتنی رقم بطور رشوت اکٹھا کرتی ہے سرکار کو اس رقم کا 900فیصد نقصان کرتی ہے۔ کیونکہ اگر سرکار کو 1000ملنا چاہیے تو رشوت میں 100اکٹھا کیا جاتا ہے۔ یہ900فیصد صرف ٹیکسوں کی مد میں اکٹھی ہونے والے رقم کا نقصان ہے جبکہ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہی رکشے اور پبلک ٹرانسپورٹرز روڈ ایکسیڈنٹس کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ حکومت پنجاب کے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں ہر ایک منٹ میں 1500روڈ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ 80فیصد موٹرسائیکل اور رکشے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بنا نمبر پلیٹ ہونے کی وجہ سے یہ ون وے اور فاسٹ لین کا غیر قانونی استعمال کرتے ہیں اشارے پر بھی رکنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اغوا، قتل اور دہشت گردی میں پچانوے فیصد یہی بنا نمبر پلیٹ ٹرانسپورٹ استعمال ہوتی ہے۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں لیکن ٹریفک پولیس کمائی کے ان اڈوں پر کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں۔
آج سپہر تین بجے کے قریب گارڈن ٹاؤن سے نکلا تو سپیکر پنجاب اسمبلی کے گھر سے حمید لطیف ہسپتال تک پرائیویٹ دفاتر، مارکیٹ اور کار شوروم کی گاڑیوں، کھانے کی اشیاء کی ریڑھیوں اور رکشوں سے ہاف سڑک پر قبضہ تھا، لمحہ فکریہ اور بے شرمی کی انتہا دیکھیں کہ سینٹر آف دی لاہور کلمہ چوک ناصرف رکشہ سٹینڈ کا منظر پیش کررہا تھا بلکہ رکشہ والے اسے ہوم سٹیشن سمجھ کر کھلے عام رانگ وے کا استعمال کر رہے تھے۔ گذشتہ روز شاہ عالم مارکیٹ جانا تھا تو بانساں والا بازار ون وے کی وجہ سے کلوز تھا اور متبادل راستے کی طور پر میوہاسپتال کی بیک سائڈ سے گیا جبکہ میرے سامنے ہی وارڈن بنا نمبرپلیٹ رکشوں کو ون وے پر جانے دے رہا تھا (ویڈیو ثبوت موجود ہے) میو ہسپتال اور لیڈی ولنگٹن ہسپتال کی بیرونی دیوار کے ساتھ ایک سو سے زائد غیر قانونی دکانیں قائم کی گئی ہیں لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کی رقم بڑھانے کا فیصلہ خوش آئند لیکن قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے، پولیس سمیت سرکاری گاڑیوں کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اگر وارڈن شہری کی ویڈیو بنا سکتا ہے تو شہری کو بھی حق دیا جائے کہ وہ بھی وارڈن کی بدتمیزی، پارکنگ مافیا اور پبلک ٹرانسپورٹرز کی سرپرستی کی ویڈیو بنا کر بطور ثبوت وزیراعلیٰ آفس کو بھیج سکیں۔ اگر ویڈیو بنانے پر معزز شہریوں پر پیکا لگ سکتا ہے تو اسی پیکا ایکٹ کا نفاذ وارڈن اور دیگر سرکاری ملازمین پر بھی ہونا چاہئے۔ جو نوجوان مستقبل میں مریم نواز کو بطور وزیراعظم اس لیے دیکھنا چاہتے تھے کہ مریم رول آف لاء کی بات کرتی ہے وہ آج سخت مایوس ہیں اور کسی نئے راہنما کی تلاش میں ہیں، اس سے قبل کی اس ملک کی اکثریتی آباد یعنی نوجوانوں کی آپ سے ساری امیدیں دم توڑ دیں آپ واضح الفاظ میں ”رول آف لاء“ کا اعلان کریں ٹریفک پولیس سمیت دیگر کرپٹ اور بدتمیز اہلکاروں کو جیل بھیجیں۔
ملک سلمان
maliksalman2008@gmail.com
"فریاد بلوچاں” . تحریر :عائشہ اسحاق
یوں تو بلوچستان ازل سے کئی طرح کی سازشوں کی وجہ سے بد امنی کا شکار رہا مگر 2013 میں جب سی پیک کا آغاز ہوا تب سے لے کرآج تک مسلسل بدترین دہشت گردی کی آگ بلوچستان کو اپنی خوفناک لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی افراد سب سے زیادہ اذیت میں مبتلا ہیں۔ بلوچستان کے موجودہ حالات نہایت گھمبیر صورتحال اختیار کر چکے ہیں ،بلوچستان میں بھارت دہشت گردی پھیلا رہا، اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں، کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری سب سے بڑا ثبوت ہے، غیر ملکی عناصر کی فنڈنگ کیوجہ سے بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے،بلا شبہ یہ بات درست ہے مگر ہم اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتے کہ بلوچستان کے موجودہ انتہائی خراب حالات کہ ذمہ دار پاکستان کے مخالفین کے علاوہ خود ریاست پاکستان کی کوتاہیاں اور ناقص حکمت عملی بھی ہے۔ جن میں سے سب سے بڑی وجہ بلوچوں کے مطالبات اور ان کی فریاد کو رد کرنا اور دھتکارنا ہے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد بھی ایک اہم ایشو ہے، ابھی تک بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں لاپتہ افراد ہی ملوث نکلتے ہیں، تاہم لا پتہ افراد کے معاملے میں ریاست پاکستان کو بہترین حکمت عملی اپنانی چاہیے اور ان افراد کا ٹرائل کورٹ میں چلانا چاہیے انہیں عدالتوں میں پیش کرنا چاہیے ان میں سے جو کوئی دھشت گردی میں ملوث پایا جائے اسے آئین اور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ جو کوئی ایسی کسی کاروائی میں ملوث نہیں پایا جاتا اس کو رہا کیا جائے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ وہ باشعور اور جمہوریت پسند لوگ ہیں جو جنوری 1965 میں فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جس وقت فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف لڑ رہی تھیں تو خیر بخش مری فاطمہ جناح کے چیف سیکیورٹی گارڈ تھے۔ اسی طرح غوث بخش بز نجو خضدار کے علاقے میں پولنگ کے عمل کے انچارج تھے۔ لہذا اس بات کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں نازک صورتحال کو سنبھالنے اور دہشت گردی جیسے معاملے سے نپٹنے کے لیے مضبوط جمہوری نظام کا قائم ہونا ضروری ہے جس میں شفاف انتخابات کے ذریعے ایسے عوامی نمائندے کو لایا جائے جو عوام کے مسائل سنے اور انہیں حل کرے۔ بلوچوں کی فریاد سنی جائے ان کے درد کا مداوا کریں۔ قدرتی ذخائر اور معدنیات کے حوالے سے شروع کیے جانے والے پروجیکٹس ،اس حوالے سے پاس کیے جانے والے بلز اور بنائی جانے والی پالیسیاں پبلک کی جائیں تاکہ مقامی افراد کو معلوم ہو سکے ۔ معدنیات سے مستفید ہونا مقامی افراد کا پہلا حق ہے انہیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ لہذا ہماری گزارش ہے کہ بلوچستان کے معاملے کو سنجیدگی ،عقل و تفہیم سے لیں ان کے مطالبات سنیں ان پر غور کریں۔ وہ وعدہ نبھائیں جو حکومت پاکستان نے الحاق کے وقت بلوچیوں سے کیا تھا اور بڑھتی ہوئی نفرتیں کم کریں ایسے حالات نہ پیدا کیے جائیں جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھائیں اور ہمارے اپنوں کو ہی ہمارے خلاف کھڑا کریں۔ یاد رکھیں پاکستان کی ترقی بلوچستان کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔

ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟
ملتانی مٹی یا سلیمانی مٹی، حقیقت کیا ہے؟
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
ملتانی مٹی , ایک ایسا نام جو برصغیر کی دیسی جمالیات، روایتی طب، اور گھریلو بیوٹی ٹوٹکوں میں برسوں سے گونجتا آ رہا ہے۔ اس مٹی کی شہرت صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر اسے Fuller’s Earth کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور پاکستانی ملتانی مٹی کو خالص اور مؤثر قدرتی علاج تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ جس مٹی کو ہم برسوں سے ملتانی مٹی کہتے آ رہے ہیں، وہ دراصل ملتان کی زمین سے ہے بھی یا نہیں؟ کیا یہ نام اس مٹی کی جغرافیائی اور ارضیاتی حقیقت سے میل کھاتا ہے؟ ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ مٹی کہاں سے نکلتی ہے، اس کی اصل کیا ہے اور اسے ملتانی کہنے کی بنیاد کس تجارتی روایت میں پیوست ہے۔ اس تحقیق کا حاصل صرف ایک نام کی درستگی نہیں بلکہ اپنے وسائل، زمین اور ثقافتی ورثے سے تعلق کا شعوری احیاء ہے۔ملتانی مٹی حسن و زیبائش کے شوقین افراد کے لیے ایک مانوس نام ہے جو صدیوں سےنہ صرف خوبصورتی کا راز رہی بلکہ ایک جذباتی ورثہ بھی ہے۔ یہ مٹی جو چہرے کی صفائی، جلدی بیماریوں کے علاج اور خوبصورتی بڑھانے کے لیے نسل در نسل استعمال ہوتی آ رہی ہے، ایک دلچسپ تضاد رکھتی ہے۔ اسے "ملتانی” کہا جاتا ہے .جیولوجیکل سروے آف پاکستان، 2017–2020کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ یہ ملتان کی زمین سے کبھی نکالی ہی نہیں گئی۔ اس کا اصل گھر کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے اور سندھ کے معدنی ذخائر ہیں جو معدنیات سے مالامال ہیں . یہ ایک تاریخی غلط فہمی یا یوں کہیں کہ ایک تجارتی لیبل کا نتیجہ ہے جو آج تک عوامی شعور میں رچ بس گیا ہے۔
یہ مٹی بنیادی طور پر ڈیرہ غازی خان کے مغرب میں واقع کوہِ سلیمان سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ Sindh Mineral Resources Department, 2020 کے مطابق سندھ کے علاقوں جیسے جامشورو، دادو، خیرپور اور تھرپارکر میں بھی اسی قسم کی مٹی کے ذخائر موجود ہیں.کاسمیٹک سائنس جرنل یوکے 2021کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مٹی میں کیلشیم بینٹونائٹ، سلکا، میگنیشیم، آئرن آکسائیڈز اور ایلومینا جیسے عناصر پائے جاتے ہیں جو جلد کے مردہ خلیوں کو صاف کرنے، مہاسوں کو ختم کرنے اور سوزش کم کرنے میں موثر ہیں . اس کی خاکی، زرد یا ہلکی سرخی مائل ساخت، ٹھنڈک اور جاذبیت کی صلاحیت اسے منفرد بناتی ہے۔پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن 2019 کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ مٹی چھوٹے پیمانے پر کان کنی کے ذریعے نکالی جاتی ہے اور پھر صاف کر کے ملک بھر کے شہروں، بیوٹی سیلونز، حکیموں اور طب یونانی کے ماہرین کو فراہم کی جاتی ہے ، اسے چہرے کے ماسک، بال دھونے، روایتی ابٹن، اور جلد کو ٹھنڈک دینے والی کریموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مٹی ملتان سے نہیں آتی تو اسے "ملتانی” کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کا جواب برطانوی دور کی تجارت میں ملتا ہے۔پنجاب آرکائیوز1902 کی رپورٹ کے مطابق ملتان اس وقت جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ کا اہم تجارتی مرکز تھا۔ کوہِ سلیمان اور سندھ سے نکالی گئی مٹی اونٹوں، بیل گاڑیوں اور بعد میں ریل گاڑیوں کے ذریعے ملتان کی منڈیوں تک لائی جاتی تھی۔ وہاں سے یہ پیک ہو کر دہلی، بمبئی، کلکتہ، لکھنؤ اور مدراس جیسے شہروں کو برآمد کی جاتی تھی، چونکہ ملتان اس تجارت کا مرکز تھا، اس مٹی کو "ملتانی مٹی” کا نام مل گیا حالانکہ اس کا ارضیاتی تعلق ملتان سے کبھی نہیں رہا۔کیمبرج ساؤتھ ایشین ہسٹوریکل جرنل 2016 میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایک ایسی تاریخی غلط فہمی ہے جو آج بھی زندہ ہے لیکن یہ ہمیں تجارت اور انسانی رابطوں کی طاقت کو بھی دکھاتی ہے کہ کس طرح ایک نام جغرافیائی حقیقت پر حاوی ہو جاتا ہے .
پنجاب یونیورسٹی 2021 کے مطابق ملتانی مٹی صرف ایک کاسمیٹک پروڈکٹ نہیں بلکہ یہ ایک جذباتی رشتہ ہے جو نسلوں سے چلا آ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا کی خواتین اسے نہ صرف خوبصورتی بڑھانے بلکہ خود سے محبت اور اپنی دیکھ بھال کے عمل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ماں اپنی بیٹی کو اس مٹی کا استعمال سکھاتی ہے اور یہ عمل ایک روایت بن جاتا ہے جو گھر کی خواتین کو آپس میں جوڑتا ہے۔ جب یہ مٹی چہرے پر لگائی جاتی ہے تو اس کی ٹھنڈک اور نرمی ایک سکون کا احساس دیتی ہے، جو صرف جلدی فوائد سے کہیں بڑھ کر ہے. نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ 2022 کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مٹی روایتی طب یونانی، آیورویدک علاج اور حتیٰ کہ دینی تعلیم میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ برصغیر میں دینی مدارس اور سکولوں میں تختیوں پر لکھنے کے لیے اس مٹی کا لیپ لگایا جاتا تھا، جو تختی کو ہموار اور دوبارہ استعمال کے قابل بناتی تھی۔ یہ روایت آج بھی سندھ اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں موجود ہے جو اس مٹی کو علمی اور ثقافتی ورثے کا حصہ بناتی ہے
جدید سائنس نے بھی ملتانی مٹی کی افادیت کو تسلیم کیا ہے۔انٹرنیشنل جرنل آف کلے سائنس 2020 بتایا کی اس میں موجود ایلومینا اور سلکا جلد سے زہریلے مادوں کو نکالنے، اضافی چکنائی جذب کرنے اور جلد کو ٹھنڈک دینے میں مدد دیتے ہیں. اسے عرق گلاب، شہد، ایلوویرا، یا لیموں کے رس کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کی افادیت بڑھے۔ مثال کے طور پر خشک جلد کے لیے اسے کچے دودھ اور زیتون کے تیل کے ساتھ ملا کر لگایا جا سکتا ہے جبکہ چکنی جلد کے لیے ایلوویرا اور لیموں کا رس شامل کیا جا سکتا ہے۔ جھریوں والی جلد کے لیے انڈے کی سفیدی اور پھٹکری کا پاؤڈر ملا کر ماسک بنایا جا سکتا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بھی پاکستانی ملتانی مٹی کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق 2023 میں اس کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا جو اس کی بین الاقوامی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے . تاہم مارکیٹ میں کیمیکل ملاوٹ والی مٹی کی موجودگی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، جس سے صارفین کو نقصان کا خطرہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت اس کی اصل کانوں کی حفاظت اور تصدیق شدہ لیبلنگ کو یقینی بنائے۔
ملتانی مٹی کی کہانی صرف اس کی معدنی ساخت یا خوبصورتی کے فوائد تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جو ہمیں ہماری زمین، تاریخ اور ثقافت سے جوڑتی ہے۔ اس کا نام "ملتانی” ہونا ایک تاریخی مفروضہ ہے لیکن یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کس طرح تجارت اور انسانی رابطوں نے ہماری شناخت کو تشکیل دیا۔ یہ مٹی ہر اس عورت کے لیے ایک جذباتی تحفہ ہے جو اسے اپنے چہرے پر لگاتی ہے، ہر اس ماں کے لیے جو اپنی بیٹی کو یہ روایت سکھاتی ہے اور ہر اس شخص کے لیے جو اپنی زمین سے لگاؤ محسوس کرتا ہے۔ یہ صرف ایک قدرتی عنصر نہیں بلکہ ہماری ارضیاتی، ثقافتی، تجارتی اور علمی تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی اصل جغرافیائی شناخت کو بحال کرنا ایک علمی فریضہ ہے اور اس کے لیے ہمیں اسے ایک نیا نام دینا چاہیے۔ "سلیمانی مٹی” اس کا بہترین متبادل ہے جو اس کی اصلیت ڈیرہ غازی خان کے کوہِ سلیمان اور سندھ کے معدنی ذخائر کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
یہ مٹی صرف جلد صاف کرنے والی خاک نہیں بلکہ ہماری زمین کی وہ معدنی گواہی ہے جو پہاڑوں کے دامن سے اُٹھ کر بازاروں کے جھمیلوں میں اپنی اصل کھو بیٹھی تھی۔ ملتانی مٹی کو سلیمانی مٹی کہنا صرف ایک جغرافیائی اصلاح نہیں بلکہ ایک تہذیبی فخر کی بازیابی ہے۔ اس نام کی درستی ایک تاریخی غلط فہمی کو ختم کر کے ہمیں اپنے اصل ورثے سے جوڑتی ہے، اس سچ سے جو کوہِ سلیمان کے دل میں پوشیدہ ہے اور سندھ کے پہاڑوں کی گواہی دیتا ہے۔ ملتان کا کردار اس میں محض ایک تجارتی مرکز کا تھا اور وقت آ چکا ہے کہ ہم مٹی کو اس کی اصل شناخت لوٹائیں۔ سلیمانی مٹی کا نام اپنانا نہ صرف اس خطے کے وسائل کا اعتراف ہے بلکہ ان پہاڑی باسیوں کی محنت اور شناخت کا احترام بھی ہے جنہوں نے صدیوں سے اس معدنی خزانے کو دنیا تک پہنچایا۔ یہ مٹی ہماری زمین کی خاموش صدا ہے، جو کہتی ہے کہ میرا نام وہی ہو جو کوہِ سلیمان کی چھاتی سے نکلے، نہ کہ وہ جو کسی منڈی کی تجارتی چالاکی نے گھڑ لیا ہو۔


دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان
پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس بار قوم پہلے سے زیادہ متحد، پُرعزم اور ہوشیار ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا جو غیر متزلزل عزم سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔ پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں کو اُن کے انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
بلوچستان کے علاقے خضدار میں ایک افسوسناک واقعے میں اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حملے میںترجمان پاک فوج واضح کر چکے ہیں کہ بھارت ملوث ہے یہ حملہ صرف ایک سکول پر نہیں بلکہ انسانی اقدار، معصومیت اور تعلیم پر حملہ تھا۔ ایسے سفاک درندے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ ان عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی دہشت گرد اس قسم کی شرانگیزی یا بربریت کی جرأت نہ کر سکے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربریت اور جارحیت کو چھپانے کے لیے پاکستان میں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کو ہوا دینا ایک کھلی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی توجہ کو مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہے۔لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی پاکستانی سکیورٹی فورسز جدید تربیت، اعلیٰ جذبے اور عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ دشمن کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑے گی۔آپریشن بنیان مرصوص 10 مئی کو افواج پاکستان نے بھارت کومنہ توڑ جواب دیا
پاکستانی فوج، رینجرز، پولیس اور انٹیلیجنس ادارے دن رات ملک کی حفاظت میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہر حملہ ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتا ہے اور یہ قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک آخری دہشت گرد اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔یہ لمحہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر عالمی برادری نے بھارت کی ان گھناؤنی سازشوں کا نوٹس نہ لیا اور خاموش تماشائی بنی رہی تو خطے میں بدامنی کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بڑے ممالک کو پاکستان کے شواہد کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی ریاستی دہشت گردی بند کرے۔پاکستانی قوم کو اس وقت اتحاد، یکجہتی اور قومی جذبے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں ایک آواز ہو کر اپنی قیادت، افواج اور اداروں کا ساتھ دینا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف حکومت یا فوج کی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کی ہے۔ ہم سب کو ایک سپاہی بن کر، قلم سے، زبان سے، اور عمل سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔پاکستان ایک زندہ قوم ہے، اور ان شاءاللہ، یہ جنگ ہم جیتیں گے۔










