Baaghi TV

Category: متفرق

  • خادم حسین رضوی  کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفر ۔از،محمد ناصر اقبال خان،سیکرٹری جنرل ورلڈ کالمسٹ کلب

    خادم حسین رضوی کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفر ۔از،محمد ناصر اقبال خان،سیکرٹری جنرل ورلڈ کالمسٹ کلب

    مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفر ۔از،محمد ناصر اقبال خان،سیکرٹری جنرل ورلڈ کالمسٹ کلب

    جوانسان اپنے محبوب کے” قرب” کیلئے قدم قدم پر” کرب” کاسامناکرے جبکہ محبوب کی آن اور شان کیلئے اپنے ہاتھوں سے اپنی اناکوفنا اورجان قربان کردے اسے اسیر عشق کہاجاسکتا ہے۔سچے” عشق” پرہرکسی کو” رشک” آتا ہے جبکہ راہِ عشق میں” اشک”زمین پرگرتے ہیں لیکن اِن کی آواز” عرش” پرسنی جاتی ہے ۔سیّدنا بلال رضی اللہ عنہ اورحضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ سمیت ہر عہدکے سچے عاشق آج بھی قابل رشک ہیں۔راہِ حق میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں لیکن راہِ عشق میں کامرانی یقینی ہے۔معبود برحق اپنی پاک بارگاہ میں اپنے بندوں کے رکوع وسجوداوران کی دعا قبول کرے نہ کرے لیکن اپنے محبوب سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کی بارگاہ میں ان کے درود وسلام کو ضرور مستجاب فرماتا ہے۔بیشک اللہ رب العزت کی منتخب شخصیات کے سواکوئی دین حق کی اشاعت کیلئے کام نہیں کرسکتا ۔کلا م اِقبال ؒکی تاثیر کاکوئی اسیر کسی میدان میں زیرنہیں ہوتا ۔حضرت محمد اقبال ؒ نے اپنے کلام سے سچائی تک رسائی آسان بنادی ۔ کلامِ الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت محمداقبال ؒ اپنے کلام میں ایک بیش قیمت راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
    کی محمد سے وفاتونے توہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

    مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کوکلام الٰہی اورکلام اقبالؒ دونوں ازبر تھے،بابا جی کی طبیعت میں جوسرشاری کی کیفیت تھی اُس میں محمداقبال ؒ کی شاعری کابہت دخل تھا۔عشق ِمصطفی کے اسیر اورتحریک لبیک کے امیر مولاناخادم حسین رضوی شہید ؒ نے انتہائی خلوص ،صادق جذبوں اورمضبوطی کے ساتھ تحریک ختم نبوت اورناموس رسالت کاپرچم اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اوران کی پرجوش قیادت میں شمع رسالت کے پروانے متحداورمستعد ہوتے چلے گئے۔ تحریک ختم نبوت اورناموس رسالت کے پرچم اب کروڑوں ہاتھوں میں ہیںجواب قیامت تک سرنگوں نہیںہوں گے۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ نے مسلمانوں کو ناموس رسالت کا پہرہ دیتے ہوئے سردھڑ کی بازی لگانے اورسودوزیاں سے بے نیاز عشق مصطفی کامفہوم سمجھادیاہے،خادم حسین رضوی شہیدؒ بظاہر "عالم دین” لیکن اندر سے "علم دین” تھے۔جومحبوب کی شان پرجان قربان کرنے سے ہچکچاتا یا ڈرتا ہووہ عشق کادعویٰ نہیں کرسکتا ۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ پاکستانیوںکیلئے عشق مصطفی کااِستعارہ تھے،ان کی شہادت سے قوم یتیم ہوگئی۔ باباجی کے جذبوں کی شدت اورحدت نے بتادیاانہیںشہرت کی بھوک نہیں تھی مگردنیا میں ان کے نام کاڈنکا بجتا تھااوربجتا رہے گا۔محمدعلی جناح ؒ نے اِسلام کی آبیاری کیلئے پاکستان بنایا جبکہ خادم حسین رضوی شہید ؒ ناموس رسالت پرہونیوالے حملے روکنے کیلئے پاکستانیوں کو بیدار کرتے ہوئے خود ابدی نیند سوگئے لیکن ان کے فرض شناس جانشین مولانا سعدرضوی اور کروڑوں پیروکاراب بھی جاگ رہے ہیں ۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ کادل عشاق مصطفی کے ساتھ دھڑکتاتھا۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کے وجود کی برکت سے ہمارامعاشرہ زندہ لگتا تھا ،ان کے بعدمعاشرے کوزندہ رکھنا ایک چیلنج ہوگا۔ مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ سے اظہارمحبت اور ان کے پیروکاروں سے اظہار یکجہتی کیلئے اگرہرکوئی مرحوم کے مشن کواپنامشن بنالے تویقینا بابا جی کی روح کو مزیدراحت نصیب ہو گی اوران کے درجات مزید بلندہوں گے۔ پاکستان میں ہر حکمران اورسیاستدان کانعم البدل ہے مگر خادم حسین رضوی شہیدؒ کاکوئی متبادل نہیں۔سرورکونین حضرت سیّدنامحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کے باوفااورباصفا "خادم "کی کفار کیخلاف حالت جنگ میں شہادت،ایمان افروز نمازہ جنازہ اورقابل رشک تجہیزو تدفین بیشک ناموس رسالت کے ساتھ کمٹمنٹ اورجہدمسلسل کا ثمر ہے ورنہ عہدحاضر کے بڑے بڑے "مخدوم” خاموشی سے دنیا چھوڑ گئے۔جس طرح ناموس رسالت کا پہرہ دیتے ہوئے ملعون رام پال کوجہنم واصل کرنیوالے غازی "علم دین "شہیدؒسے اُس دور کے ہزاروں” عالم دین” پیچھے رہ گئے تھے،اِس طرح "خادم” حسین رضوی شہیدؒ نے اپنی نیت کی برکت سے عشق مصطفی کاامتحان نمایاں پوزیشن کے ساتھ پاس کرلیا جبکہ عہدحاضر کے کئی "مخدوم ” ابھی تک عشق مصطفی کانصاب یادکررہے ہیں ۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کانام ،مقام اوراحترام اِسلامیت ،عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت کیلئے ان کی بے پایاں خدمات کا انعام ہے ۔خادم حسین رضوی شہیدؒ اِسلامیت کے علمبرداراور عشاق مصطفی کاسرمایہ اِفتخار تھے۔ اجل نے خادم حسین رضوی شہیدؒ سے ان کی زندگی چھین کرپاکستان بلکہ عالم اسلام کو ناموس رسالت کے حق میں بلندہونیوالی ایک تواناآواز سے محروم کردیا۔خادم حسین رضوی شہیدؒ نے مرقد میں اترتے اترتے بھی اندرون ملک اوربیرون ملک باطل قوتوں کودوٹوک پیغام دے دیاجس سے یقینا آئندہ کوئی عاقبت نااندیش عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت کے نصاب میں نقب لگانے کی ناپاک جسارت نہیں کرے گا۔جس اقدام سے کوئی انسان بیزارہواسے آزادی اظہارکہناجہالت ہے۔ موت نے مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی زبان اورآنکھوں کوتوبندکردیا مگران کی دنیا سے رخصتی کے بعدبھی ان کاکام بولتا جبکہ "لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم "کانعرہ پاکستان کی فضاﺅں میںگونجتا رہے گا۔باباجی کی زندگی میں لوگ سوشل میڈیا پران کے پرجوش خطابات کو اس قدرعقیدت ومحبت ،دلچسپی اورسنجیدگی کے ساتھ نہیں سنتے تھے جس قدر اب سن رہے ہیں۔ باباجی کی شہادت سے تحریک لبیک کے” کاز” اورناموس رسالت کے حق میں بلندہونیوالی ©”آواز”میں مزیدشدت پیداہوگی ۔سراپارحمت ،سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی صحابی نے پوچھا ،”مومن جب قبر میں داخل ہوتا ہے تواس کوسب سے پہلا تحفہ کیا دیاجاتا ہے ،آپ نے ارشاد فرمایا اس کی نمازجنازہ پڑھنے والوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے”،میں باباجی کی نمازجنازہ کے خوش نصیب شرکاءکومبارکباد پیش کرتاہوں۔

    پاکستان کے اندراورباہرجومٹھی بھر لوگ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے زبان وبیان سے ناخوش تھے ان کی خدمت میں عرض ہے گستاخانہ خاکے بنانیوالے شرپسندعناصر کے ساتھ شیریں لہجے میں بات چیت منافقت کے زمرے میں آئے گی جبکہ ان کی گستاخیاں مذمت نہیں بلکہ مزاحمت کی متقاضی ہیں۔سرورکونین حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم خوراک اورپوشاک کے معاملے میں سادگی پسند تھے لیکن آپ ہتھیاروں کے معیار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔آپ نے ظہوراِسلام کے ابتدائی ایام میں دین فطرت کی تقویت کیلئے کسی صاحب علم ، سردار یاسرمایہ دار نہیں بلکہ اُس دور کے ایک زورآور” عمر ؓ”کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی دعا فرمائی جومستجاب ہوئی اوراِسلام کے فیضان سے حضرت عمر ؓ کو”فاروق اعظم "کالقب دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روسے دورِنبوت کے دوران صحابی کفار کومرعوب کرنے کیلئے سینہ تان کر خانہ کعبہ کاطواف کیا کرتے تھے اورآج بھی طواف کے دوران صحابی ؓ کی سنت اداکی جاتی ہے ۔ باب العلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک قول ہے،”شہدکے سواہر میٹھی چیزمیں زہر جبکہ زہر کے سواہر کڑوی شے میں شفاءہے۔جس طرح بیمار کوشفاءکیلئے دعا کے ساتھ ساتھ کڑوی دوا دی جاتی ہے اس طرح مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ گستاخ کافروں اورپاکستان کے اندرمنافقوں کوکڑوی زبان میں مخاطب کیا کرتے تھے۔

    مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کا آبرومندانہ اورجراتمندانہ سفرجہاں ختم ہواوہاں سے ان کے فرزندمولاناسعد رضوی نے پراعتماد انداز سے اپنے سفر کاآغازکردیا ہے۔ خادم حسین رضوی شہیدؒ کے بعد تحریک لبیک کی قیادت ان کے فرزند ارجمندمولاناسعدرضوی کے سواکوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔تحریک لبیک کی قیادت پرسیاست کرنیوالے عناصر بری طرح ناکام ہوں گے ۔خادم حسین رضوی شہیدؒ کے دوٹوک اعلانات ،ٹھوس اقدامات اور چھوڑے ہوئے نشانات بہت واضح ہیں لہٰذاءاس کارواں کو دنیا کی کوئی طاقت گمراہ نہیں کرسکتی۔ کامیابی وکامرانی مولاناسعد رضوی کامقدربنے گی ۔ مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی ولادت اور شہادت والے دنوں کوقومی دن قراردیا جائے۔ہراسلامی ریاست خادم حسین رضوی شہیدؒ کی عقیدہ ختم نبوت اورناموس رسالت کی حفاظت کیلئے گرانقدر خدمات کی پذیرائی کیلئے مختلف مقامات کو ان کے نام سے منسوب جبکہ ہرسال ان کی خدمات کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کرے۔میں احمدفراز کی شہرہ آفاق غزل مولاناخادم حسین رضوی شہیدؒ کی روح کو نذرکرتا ہوں

    ستم کاآشنا تھا وہ سبھی کے دل دکھا گیا
    کہ شام غم توکاٹ لی سحر ہوئی چلا گیا
    ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آگئی
    وہ اک دیا بجھا توسینکڑوں دیے جلا گیا
    سکوت میں بھی اس کے اک ادائے دلنواز تھی
    وہ یارِ کم سخن کئی حکایتیں سنا گیا
    اب اک ہجوم ِعاشقاں ہے ہرطرف رواں دواں
    وہ ایک رہ نورد خودکہ قافلہ بناگیا
    دلوں سے وہ گزرگیا شعاع ِ مہر کی طرح
    گھنے اداس جنگلوں میں راستہ بناگیا
    کبھی کبھی تویوں ہو اہے اس ریاض ِدہر میں
    کہ ایک پھول گلستاں کی آبرو بچاگیا
    شریک بزم دل بھی ہیں چراغ بھی ہیں پھول بھی
    مگر جوجان ِانجمن تھا وہ کہاں چلا گیا
    اٹھو ستم زدو! چلیں ،یہ دکھ کڑا سہی ، مگر
    وہ خوش نصیب ہے یہ زخم جس کوراس آگیا
    یہ آنسوﺅں کے ہار ،خوں بہا نہیں ہیں دوستو
    کہ وہ توجان دے کے قرض ِ دوستاں چکا گیا

  • ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری و موجودہ معاشرتی حالات مثل قوم نوح از قلم: غنی محمود قصوری

    ذخیرہ اندوزی،رشوت خوری و موجودہ معاشرتی حالات مثل قوم نوح از قلم: غنی محمود قصوری

    موجودہ دور میں مذہب سے دوری کی بنا پر ہم میں ہر وہ برائی آ گئی ہے جس سے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ اور کتاب الٰہی نے منع کیا ہے خاص کر کاروباری حضرات میں ذخیرہ اندوزی اور سرکاری ملازمین میں رشوت خوری جبکہ عام عوام میں دیگر سینکڑوں معاشرتی برائیاں جنم لے چکی ہیں جن سے ہر کوئی فکر مند ہے کسی بھی کاروباری سے حکومتی مقرر کردہ نرخوں پر چیز حاصل کرنا اور سرکاری کام بغیر رشوت کے سر انجام پا جانا ایک عجوبہ ہی لگتا ہے جبکہ مہنگائی بےروزگاری اور امن و امان کی مخدوش صورتحال بھی ایک لمحہ فکر ہے
    یوں تو یہ جرائم بہت پرانے ہیں مگر موجودہ دور میں ان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دن بدن بڑی تیزی سے ہو بھی رہا ہے جس سے ہر خاص و عام سخت پریشان ہے اور مارے مایوسی کے ہر کسی کی زبان پر یہی بات ورد کرتی ہے کہ یہ حالات نہیں سدھر سکتے بلکہ مذید خراب ہونگے جن کا سوچ کر ہی دل خوف زدہ ہو جاتا ہے
    مگر نا امیدی کفر ہے کیونکہ اللہ کے ہاں دیر تو ہوسکتی ہے مگر اندھیر ہرگز نہیں
    فی زمانہ اللہ تعالی نے اقوام کی اصلاح و تربیت کیلئے پیغمبر و رسول بیجھے جو اپنی قوموں کی معاملات دین و دنیا میں اصلاح فرمایا کرتے تھے تاکہ امن و سکون قائم ہو پیغمبروں کی باتیں ماننے والی قومیں کامیاب و کامران ہوئیں اخروی و دنیاوی صورتوں میں
    ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور ہماری زندگی اسوہ رسول اور اللہ رب العزت کی طرف سے ہمارے لئے اپنے نبی پر بیجھی گئی کتاب یعنی قرآن مجید کی محتاج ہے چونکہ نبی ذیشان جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا اس لئے موجودہ حالات کا جائزہ بھی ہمیں قرآن و حدیث سے ہی ملے گا
    اللہ تعالی قرآن مجید میں ایک سرکش قوم کہ جس نے اپنے پیغمبر کی بات کو جھٹلایا اور تکبر و سرکشی،معاشرتی برائیوں میں لتھر کر اور نافذ کردہ حدیں پار کرکے عذاب کی مستحق ٹھہری،قوم نوح کی مثال ہمیں پیش کرتے ہوئے ہم سے یوں مخاطب ہیں
    کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں ، قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات ( الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے ) کی ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا ۔۔ سورہ التوبہ آیت 70
    اللہ تعالی ہمیں پہلی سرکش و معاشرتی برائیوں سے عذاب کی مستحق قوموں کی مثالیں پیش کر رہے ہیں یہ قومیں چاہے تباہ ہو چکیں مگر اللہ وہی ہے اور وہ پہلی سی طاقت رکھتا ہے اس لئے اللہ نے قوم نوح کی کارستانی ہم سے بیان کی تاکہ ہم عبرت حاصل کرسکیں اور نافذ کردہ اسلامی حدوں پرعمل پیرا ہو کر اخروی و دنیاوی فلاح پائیں
    نوح علیہ السلام کو اللہ تعالی نے ان کی قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بیجھا یہ قوم انتہائی سرکش اور معاشرتی برائیوں کی عادی تھی نوح علیہ السلام نے ان کو اللہ کی نافذ کردہ حدیں بتلائیں اور عذاب الہی سے ڈرایا جس کا قوم نوح نے رد کیا ان کی باتوں سے نوح علیہ السلام پریشان ہو گئے کیونکہ ان کے مخالفین میں ان کا حقیقی بیٹا بھی شامل تھا
    اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے نوح آپ غمگین نا ہو بلکہ میرے حکم سے ایک بہت بڑی کشتی بنا اور ان کو میری طرف سے ایک بڑے عذاب کی خبر سنا جب عذاب آنے لگے گا تم اور تمہارے پیروکار اس میں سوار ہو جانا اور ان سرکشوں پر عذاب کا نظارہ کرنا
    حکم ربی کے پابند نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو آسمانی پیغام سنایا اور حکم ربی سے ایک بہت بڑی کشتی تیار کی
    حکم ربی سن کر اور کشتی تیار ہوتی دیکھ کر اس قوم کے سرداروں نے نوح علیہ السلام کا مذاق اڑایا
    نوح علیہ السلام نے کشتی تیار کرلی اور پھر ان لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا مگر ان سرکشوں نے کشتی میں مارے حقارت کے رفائے حاجت کر کر کے اس کشتی کو بول و براز سے بھر دیا اور کہنے لگے کہ اے نوح اپنے رب سے کہہ کہ بیجھے ہم پر عذاب
    کشتی میں بول و براز بھرا دیکھ کر نوح علیہ السلام سخت پریشان ہو گئے اللہ نے اپنے پیغمبر کی پریشانی بھانپی اور اس کشتی کو اسی قوم سے صاف کروانے کی خاطر ان میں ایک خاص وبائی مرض پھیلا دی جو بول و براز میں لیٹنے سے رفع ہوتی تھی
    سو چند ہی دنوں میں اسی متکبر اور معاشرتی برائیوں میں لتھری قوم نے اپنی شفا حاصل کرنے کی خاطر کشتی نوح کو لیٹ لیٹ کر اس طرح صاف کر دیا کہ گویا اس میں کبھی گندگی تھی ہی نہیں باقی قوم نوح پر عذاب آیا اس اور وہ تباہ ہو گئے جو ایمان والے اور پیغمبر کے جانثار تھے وہ کشتی نوح میں سوار ہو کر بچ گئے
    آج ہم میں سابقہ قوموں والی برائیاں سرعت کرچکی ہیں جن کی بدولت ہمارے معاشرے کا امن و سکون برباد ہو چکا ہے اور ہم سمجھتے ہیں شاید سدا حالات ایسے ہی رہنے ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں
    سابقہ قوموں کو دیکھتے ہوئے آج ہمیں یقین کرنا چاہئیے کہ ہماری معاشرتی برائیوں کی عادت کو ختم کرنے کیلئے اللہ تعالی ہم میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اس گندگی سے بھرے نظام کو صاف کر دینگے اور احکام الہٰی پر عمل کراوائینگے کیونکہ میرا رب نہایت مہربان اور بہتر چال چلنے والا ہے ہمیں بس خود کو درست کرنا ہے باقی ان شاءاللہ جلد اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا جو سمجھ گئے وہ بچ جائینگے اور جو سر کشی پر ڈٹے رہے وہ عذاب الہی کا شکار ہونگے

  • لڑکی کے 18 سال کے ہونے کے لیے 4 سال تک انتظار کرنے والا عاشق

    لڑکی کے 18 سال کے ہونے کے لیے 4 سال تک انتظار کرنے والا عاشق

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بُک پر ایک صارف کی 3 سالہ پُرنی چیٹ کی تصویر گردش کر رہی ہے جس میں صارف نے لڑکی سے دوستی کرنے کے لئے 4 سال تک انتظار کیا-

    باغی ٹی وی : یوں تو سوشل میڈیا ویب سائٹس پر آئے دن نت نئی پوسٹس گردش کرتی رہتی ہیں جن کو دیکھ کر صارفین حیران ہوئے بغیر نہیں رہتے اور دیکھنے والے دنگ رہ جاتے ہیں کچھ پوسٹس لوگوں کے لئے تفریح و دلچسپی کا باعث بن جاتی ہیں یہاں تک کہ کچھ پوسٹس تو گمنام لوگوں کو راتوں رات لوگوں شہرت کی بلدیوں پر پہنچا دیتی ہیں-

    تاہم اب بھی سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر گردش کر رہی ہے جسے دیکھ کر کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا موجودہ کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو ہراسمنٹ اور بلیک میل کرنے کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں اور آئے دن ان گنت خواتین سوشل میڈیا ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی ہیں-

    لیکن سوشل میڈیا پر ایک ایسی پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں فیس بُک صارف نے فیس بُک پر اپنی دوست کے 18 سال ہونے تک کا انتظار کیا اور ایک نئی تاریخ رقم کی-

    تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صارف 14 دسمبر 2103 کو رات 9 بجکر 53 منٹ پر اپنی فیس بُک فرینڈ کو فرینڈ ریکوئسٹ قبول کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سے دوستی کرنے کو کہتا ہے لیکن اس کے جواب میں لڑکی بتاتی ہے کہ وہ ابھی صرف 14 سال کی ہے –

    جس پر وہ صارف افسردگی کا اظہار کرتا ہے تاہم ٹھیک 4 سال بعد 14 دسمبر 2017 کو 9 بجکر 58 منٹ پر لڑکی کے 18 سال کی ہونے پر میسج کرتا ہے کہ اب آپ 18 سال کی ہوگئی ہیں؟

  • حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    حفیظ سینٹر لاہور میں لگنے والی آگ، اربوں کے نقصان اور آگ جلدی نہ بجھنے کے ذمہ دار

    کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کے حوالے سے پنجاب کی سب سے بڑی مارکیٹ حفیظ سینٹر کا جہاں بیشتر حصہ جل گیا اور اربوں کا نقصان ہوا وہیں ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کی کمزوریاں اور کوتاہیاں بھی کھل کر سامنےآئیں صبح پونے پانچ لگنے والی آگ رات میں کہیں جاکر بجھائی جاسکی.
    فائر برگیڈ کی اکثر گاڑیوں میں پانی ہی نہیں تھا ، اگر پانی تھا تو پائپ پھٹے ہوئے جس سے پانی کا پریشر ہی نہیں بن پا رہا تھا بیشتر گاڑیاں بےکار میں کھڑی تھیں اور ایک دو گاڑیاں آگے بجھانے میں مصروف تھیں.
    سب سے اہم چیز جو ٹیکنیکل غلطی تھی جو فائر فائٹنگ کے بنیادی اصولوں میں ہے کہ الیکٹرانک کی اشیا اور مارکیٹ کو لگی آگ کو پانی سے بجھایا جا رہا تھا. پہلی بات تو یہ کہ الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو پانی سے بجھانا ہی بےوقوفی ہے کیونکہ اس سے آگ بجھتی نہیں اور بڑھک اٹھتی ہے چیز مکمل بےکار ہوجاتی ہے.دوسری بات جو چیزیں آگے کی حد سے باہر ہیں پانی کی بوچھاڑ میں وہ سب بھی بےکار ہوگئیں.
    ہماری سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چیزوں اور اداروں کو اپڈیٹ کرنا ناممکن ہے یہاں پر البتہ کریڈٹ لینا سب کا من پسند مشغلہ ہے. گزشتہ دنوں میں موٹروے حادثہ میں بھی بجائے اس کے جائے وقوعہ پر پیٹرولنگ پولیس، ٹریفک پولیس کی عدم دستیابی پر بات ہوتی کریڈٹ لیا گیا کہ موٹروے ہم نے بنائی یہ وہ.
    ایسے ہی حفیظ سینٹر کے تقریباً مکمل جل جانے کے بعد بجھنے والی آگ پر مبارکبادیں دی جارہی ہیں کہا جا رہا ہے کہ یہ ادارہ ہم نے بنایا …حالانکہ بات اس پر ہونی چاہیے کہ فائر برگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے دیگر ذرائع کیوں نہیں ہیں، گاڑیوں میں پانی کیوں نہیں ہے، گاڑیوں کے پائپ کیوں پھٹے ہوئے ہیں. الیکٹرانکس کی اشیاء کو لگنے والی آگ کو بجھانے کے متبادل ذرائع اور آلات کیوں نہیں ہیں.
    ہم نے وہاں کے دوکانداروں کو حفیظ سینٹر میں لگی آگ پر روتے دیکھا اور رونا بنتا بھی تھا کہ سالوں کی محنت آگ میں جل رہی تھی اور وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے لیکن اگر یہ یہ رونا حادثے سے قبل رو لیا جاتا تو نقصان اتنا نہ ہوتا. جن لوگوں نے حفیظ سینٹر کو وزٹ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں پر تاروں کے بچھے جال کس کیفیت میں، بجلی چوری کی داستانیں بھی زبان زد عام ہیں اور اس کے لیے لگائی گئی "کنڈیاں” بھی نظر آتی ہیں.
    سب سے بڑھ کر اتنے بڑے پلازے میں، فائر الارمنگ سسٹم، فائر اسٹنگشورز اور فائر فائٹنگ کے آلات بھی نصب نہیں ہیں اور اگر فائر اسٹنگشورز ہیں تو ان کی ری فلنگ کیے ہوئے برس ہا برس بیت چکے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ آپ کھیل تو سکتے مگر آگ پر قابو نہیں پاسکتے. یہ انجمن تاجران حفیظ سینٹرز اور مالکان حفیظ سینٹرز کے کرنے کے کام تھے.
    یہاں پر محکمہ تعمیرات اور بلڈنگز کی کاردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کیا کر رہے ہیں.اتنے بڑے بڑے پلازوں میں حفاظتی اقدامات پر کیوں توجہ نہیں دی جاتی.

  • بطخ کی ڈھولکی بجانے کی ویڈیو وائرل

    بطخ کی ڈھولکی بجانے کی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر بطخ کی ایک عجیب و غریب اور دلچسپ ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جسے دیکھ کر صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں-

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا پر آئے دن عجیب و غریب اور دلچسپ ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کردیتی ہیں اور دیکھتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں جبکہ لوگ بھی ایسی دلچوپ ویڈیوز کو دیکھ کر خوب محفوظ ہوتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے ہیں-

    تاہم اب ایسی ہی سوشل میڈیا پر ایک بطخ کی دلچسپ ویڈیو وائل ہو رہی ہے جس میں بطخ ڈھولکی بجا ہی ہے-

    مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے ویڈیو شئیر کی ہے جس میں بطخ کو اپنے دونوں پاؤں کے ساتھ تیزی سے ڈھولکی بجاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے-


    ویڈیو میں ایک شخص نے بطخ کو ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے جبکہ نیچے ڈھولکی رکھی ہے بطخ اپنے دونوں پاؤں تیزی سے چلاتی ہے جو کہ ڈھولکی پر پڑتے ہیں جس کی وجہ سے ڈھولکی کی موسیقی کی آواز پیدا ہوتی ہے-

    جبکہ دیکھنے میں یہ ویڈیو کافی دلچسپ اور حیرت انگیز دکھائی دیتی ہے سوشل میڈیا پر اس دلچسپ ویڈیو کو صارفین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے-

  • حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    حب الوطنی کیا ہے ؟ یہ میں نے فتح سے سیکھا ،سابق قیدی عبدالرحیم

    سینٹرل جیل مچھ میں کچھ عرصہ وقت گزارنے والے سابقہ قیدی عبد الرحیم کا پیغام

    جیل کے گزرے ایام میں لوگوں کو شکایت کرتا پایا ، بہت سے شاید وہ لوگ ہونگے جو واقعی مظلوم اور بے قصور تھے لیکن میرے لیے حیرت کی بات تھی شکوے شکایتیں کرتے ہوئے اور پاکستان کو برا بھلا کہتے ہوتے ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے واقعی جرم کیا تھا۔ ایسے ہی ایک شخص سے جو چوری کے کیس میں آیا تھا سلام دعا ہوگئی اسکے شکوے شکایتوں کی وجہ یہ تھی کہ چوری اس نے ایک کی تھی جبکہ پولیس نے اس پر کئی اور کیسز بھی ڈال دئیے تھے۔ جب میں اسکے شکوے شکایتوں سے تنگ ہونے لگا تو پھر ذہن میں ایک ترکیب آئی میں اسے اپنے احاطے کے ایک سیل میں موجود قیدی فتح کے پاس لے گیا۔ کچھ دیر اسکے پاس بیٹھے ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں اس دوران اسکے منہ سے ایک لفظ بھی پاکستان کے خلاف نہیں نکلا ۔

    جب میں نے اس چور کو بتایا کہ اسے تیس سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے بے گناہ قید ہے تو اس چور کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ اس ملاقات کے بعد اس چور میں میں نے واضح تبدیلی دیکھی ۔ فتح کو معلوم نہیں تھا لیکن میں اس کامیاب تجربے پر بہت خوش تھا۔ آج بھی جب فتح کے متعلق سوچتا ہوں تو یہ خیال ذہن میں آتا ہے کہ کیسا پہاڑ جیسا صبر ہے اس شخص کا ، جو اتنا عرصہ جیل میں گزارنے کے باوجود پاکستان کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتا ۔۔۔ حب الوطنی کیا ہے یہ میں نے فتح سے ہی سیکھا ۔۔۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے جلد ازجلد رہائی نصیب فرمائیں آمین

  • جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    جنوبی پنجاب میں درخت پر بنا چائے کا انوکھا ہوٹل

    یوں تو دنیا بھر میں لوگوں کی منفرد ،دلچسپ اور عجیب و غریب سرگرمیوں کے بارے میں اکثر وبیشتر سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھنے والوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ حیران و پریشان کر دیتی ہیں اور دلچسپی کا باعث بنتی ہیں-

    باغی ٹی وی : اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر حیران کن اور دلچسپ ویڈیو ز اور تصاویر وائرل ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے اسی طرح سماجی فابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جو سوشل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے اور ہر کوئی اس ویڈیو سے لطف اندوز ہو رہا ہے-
    https://twitter.com/Habibsu16092600/status/1292696204258750464
    حبیب سلطان اعوان نامی صارف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر چائے کے شوقین لوگوں کیلئے ایک ایسی ہی دلچسپ ویڈیو شئیر کی ہے جس میں ایک ایسا چائے کا ہوٹل دیکھا جا سکتا ہے جو کہ درخت پر بنایا گیا ہے-

    اس انوکھی طرز کے بنے عجیب و غریب ہوٹل کی چائے پینے کے لئے چائے کے شوقین لوگوں کو درخت پر چڑھنا پڑتا ہے جہاں چائے پینے والوں کے بیٹھنے کے لئے چارپائی بھی رکھی گئی ہے-

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس ہوٹل کو دیکھنے اور چائے پینے کے لئے لوگوں کی ایک خاصی تعداد جمع ہے اور وہ اس انوکھے ہوٹل کو دیکھ کر حیرانی اور دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں –

    حبیب سلطان نامی صارف نے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے چائے کے شوقین لوگوں جو اس ہوٹل سے چائے پینے کی دعوت دیتے ہوئے لکھا کہ چاۓ کے شوقین تو بہت لوگ ہوں گے لیکن ایسی چاۓ کسی نے نہیں پی ہوگی جو شوقین ہیں چاۓ کہ وہ یہ چاۓ ضرور پیئں –

    چائے کے نئی طرز کے انوکھے ہوٹل کی ویڈیو سو شل میڈیا صارفین کی دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے اور وہ ہوٹل کے مالک کے اس آئیڈیا کی تعریف کرتے ہوئے دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں-


    ایک صارف نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میں بہت۔چائے پیتی ھوں پر درخت پر چڑھ کر چائے آم کا درخت امرود کا درخت سیب کا درخت پھر پیش ہے چائے کا درخت-


    ایک صارف نے کہا کہ وہ دودھ والی چائے کی بالجکل بھی شوقین نہیں ہیں لیکن انہیں ایک دفعہ اس چارپائی پر ضرور بیٹھنا ہے جو درخت پر بنے ہوٹل پر چائے پینے والوں کے لئے رکھی گئی ہے-


    ایک صارف نے تو اسے پاگل پاگل پن قرار دیا-
    https://twitter.com/waqashussain777/status/1292700381349380098?s=20


    ایک صارف نے لکھا کہ ان کو کوئی جگہ نہیں ملی تھی چائے کے چکر میں ہڈی پسلی تڑوا لو-

    دونوں بازوؤں سے محروم کرکٹ آل راؤنڈر کشمیری نوجوان کے عزم و ہمت کی کہانی

    صبا قمر کی مسجد میں گانے کی شوٹنگ نے کس طرح میری زندگی کی سب سے اہم خوشی چھین لی

    زندگی ایک بار ملتی ہیں اسے بھر پور طریقے سے جینا چاہیئے مایا علی

    ارطغرل ڈرامے کے معروف کردار دو تلواریں لیا ننھا بمسی سامنے آ گیا

    مہوش حیات کی مداحوں سے جعلی ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی رپورٹ کرنے کی اپیل

    یوٹیوب پر قرآنی سورتوں اور آیتوں کو مونیٹائز نہیں ہونا چاہیئے بلال مقصود

  • میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں تھا، ازقلم: سالار عبداللہ

    میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں تھا، ازقلم: سالار عبداللہ

    ہوا نہیں تھی پر گرد اٹھ رہی تھی دھول کے بادل چھائے ہوے تھے میرے ہر قدم پہ دھول اٹھتی اور گردوپیش گردوغبار چھا جاتا، پر میرے سفید کپڑے ویسے ہی صاف تھے، جیسے چودھویں کا چاند ہوتا ہے، ان پہ کچھ اثر نہیں ہوا، اماں مجھے کبھی سفید سوٹ نہیں لیکر دیتی تھیں ، وہ مسکراتے ہوے کہتی تھیں کہ توں اس قابل ای نئیں، اور واقعی میں اس قابل ای نئیں تھا، مجھے گرد پیاری لگتی تھی، مجھے بھیڑ سے نفرت تھی نام و نمود سے ہچکچاتا تھا، بڑے بڑے عزت داروں کو منہ نہیں لگاتا ، اپنے جیسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش ہوتا ، دھڑام سے کچی زمین پہ بیٹھ جاتا تھا، صبح فجر کے فوری بعد جب سڑکیں ویران ہوتی تھیں تو میں سڑک کی بند دکانوں کے تھڑے پہ بیٹھا مسواک کرتا ہوتا تھا ، کوئی فکر نہیں کہ تھڑا گندا ہے یا ڈسٹ جمی ہے، بس وہیں بیٹھا مسواک کرتا رہتا اور سامنے موجود ڈسٹرکٹ جیل کو تکتا رہتا، وہ جیل جس میں ہزاروں کہانیاں چھپی تھیں، عجیب داستانیں وہ جو یونیورسٹی تھی جرائم کی، جہاں مجرم پیدا ہوتے تھے، اعلی تعلیم حاصل کرتے تھے، جیل کی چھوٹی چھوٹی دیواریں ہوتی تھی جن کے ساتھ گونگلو مولیوں کے کھیت تھے، اسکے بعد عملے کے کوارٹر اور پھر سنٹرل جیل، وہیں بیٹھ کر میں مسواک کرتا جاتا اور اس ریڑھی والے کا انتظار کرتا رہتا تھا جس کے چاول چھولے مجھے پسند تھے، مجھے کبھی بڑے بڑے ریستوران پسند نہیں آئے، برگر کنگز ، ھارڈیز ، میکڈونلڈ سے زیادہ پسند رفیق چھولوں والے کے چاول چھولوں کا پیالہ تھا، آج بھی، مجھے ڈنکی ڈونلڈ اور گلوریا جینز کی کافی سے زیادہ پسند چاچا کھوچے کی چائے تھی، کھوچا اسے ہم پیار سے کہتے تھے ورنہ نام اسکا فیض خان تھا اور تعلق ڈمہ ڈولا سے تھا، اس بندے نے یہاں چائے کا کام شروع کیا اور چھا گیا، یہ میں کدھروں کدھر پہنچ گیا، اڑتی دھول میں چلتے ہوے حد نگاہ بہت کم تھی دھول میں سائے لہرا رہے تھے، بھنبھاہٹیں سنائی دے رہی تھیں، جیسے مکھیاں بھنبھناتی ہیں، چلتے چلتے ٹھوکر لگی تو پتہ چلا وہ بھنبھناہٹیں مکھیوں کی ہی تھیں، مگر وہ مکھیاں ایک سوختہ لاش پہ بھنبھنا رہی تھیں ، دھول کم ہونا شروع ہوئی، اور لاش کے آگے پھر لاش پڑی نظر آئی اور پھر لاشیں ہی لاشیں ، تہبند اور کریزوں والے قمیص پہنے یہ لوگ پتہ نہیں کون مار کر گرا گیا، لاشوں سے بچتا آگے جاتا رہا ، اور لاشوں کے مزید انبار نظر آتے گئے، ایک جگہ ایک آدمی ایک بدنصیب عورت کی سوختہ لاش کی کٹی ہوئی کلائی سے سونے کی باریک سی چوڑی نکال رہا تھا، میں اسکے قریب گیا، وہ سہم گیا، اسکے کرتوت نظر انداز کرتے ہوے اسکے قریب گیا اور حیرت سے پوچھا ۔۔ کون تھے یہ لوگ، اس نے تھوک نگلا اور بولا ۔۔ امرتسر سے جو قافلہ نکلا تھا ۔۔۔ میں ہڑبڑا کر اٹھا اور بے ساختہ قدم پیچھے کی جانب جانے لگے، دل کر رہا تھا بھاگ جاؤں، پیچھے منہ کیا اور سرپٹ بھاگنے لگا یکدم ایک بچے کی باسی لاش سے رپٹ کر گرا اور ناک پہ چوٹ سے کچھ لمحوں کے لئے ہواس معلق ہوگئے، گھٹنوں کے بل اٹھ کر دیکھا میرا سارا سفید سوٹ سیاہی مائل سرخ خون سے رنگ چکا تھا، چکراتے سر کے ساتھ میں نے اپنے کپڑے دیکھے اور اٹھ کھڑا ہوا، سامنے قصور کا سٹیشن تھا، سٹیشن کے ساتھ تاحد نگاہ محاجر کیمپ لگے تھے جن میں شاید ہی کوئی خاندان مکمل پہنچا ہوگا، ورنہ خاندانوں کے نام پہ چند خوشقسمت افراد بچے تھے باقی سب مارے گئے، سگنل اٹھ چکے تھے، گاڑی آنے والی تھی، لمبے ھارن کی آواز آئی اور بھاپ والا انجن بھاپ اڑاتا سٹیشن میں داخل ہوا، ہجوم اکٹھا ہوگیا، لوگ ٹرین کے گرد پھیلنے لگے اور کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس آنے لگے، بھاپ چھٹ رہی تھی، میرے قدم ٹرین کی طرف اٹھ رہے تھے، پھر وہی خون کی باس آنے لگی، ٹرین میں مسافروں کی جگہ اعضاء تھے، یکدم کسی ٹرین سے ایک بکسا کھینچ کر نیچے اتارا اور بکسے پہ جما سارا خون اُڑ کر میرے کپڑوں پہ گر گیا، لوتھڑوں اور خون سے میرے سفید کپڑے پھر سرخ ہوگئے ، بکسے کے اوپر پڑا ایک مرتبان اُڑتا میرے سر پہ لگا، میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگیا، ہوش آئی تو میں پھر وہیں جیل کے دروازے کے سامنے بنے گرد آلود تھڑے پہ بیٹھا مسواک کر رہا تھا، اور سوچ رہا تھا، اماں ٹھیک کہتی ہیں ۔
    میں سفید کپڑوں کے قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔
    سالار عبداللہ
    #سالاریات

  • کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم:  فہیم شاکر

    کونسا قانون ہے جو پولیس کو نہتی عوام پر تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے!!! از قلم: فہیم شاکر

    فیصل آباد میں لاک ڈاون کی خلاف ورزی کرنے والے تُجّار پر پولیس کا تشدد، تھپڑ مارے، دھکے دیے
    میرا سوال مگر یہ ہے کہ وہ کون سا اختیار ہے جو پولیس کو وردی پہننے سے مل جاتا ہے؟؟؟
    وہ کون سا قانون ہے جو پولیس کو عوام پر تھپڑ برسانے کا اختیار دیتا ہے؟؟؟
    وہ کون ہے جو پولیس کے جوانوں کو عام آدمی کو دھکے دینے پر اُکساتا ہے؟؟؟

    ایک عام شہری قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر سزا دینا بنتی ہے یا تشدد کرنا؟؟؟

    آج جمعۃ المبارک 31 جولائی کا دن ہے شیخوپورہ کی معروف تجارتی جگہ گلی ککےزئیاں کے صدر انجمن تاجران رانا محمد عمران کے مطابق لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر پولیس نے تحریک انصاف کے معذور کارکن یاسر اکرم پر چیخوں کے باوجود شدید تشدد کیا جس پر تاجر سراپا احتجاج بنے رہے اس موقع پر ڈی ایس پی سٹی خالد محمود بھی موجود تھے
    لیکن جنگل کے قانون کے حامل اس معاشرے میں کوئی نہیں ہے جو پولیس سے اس کی محکمانہ خلاف ورزی پر سوال کرے
    ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ تشدد کے شکار یا سراپا احتجاج بنے تُجّار کے پاس جا کر اشک شوئی کرنے والا بھی کوئی نہیں

    میں پھر دہرانا چاہوں گا کہ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی پر شہری کو سزا یا جرمانہ کرنا چاہیے نہ کہ اس کی تضحیک وتذلیل.
    میں چند دن قبل صبح 7 بجے شاہدرہ چوک میں کھڑا تھا
    بچوں کے ماموں انہیں شاہدرہ چھوڑنے اور میں انہیں وصول کرنے وہاں پہنچا تھا
    اسی اثناء میں ٹریفک پولیس والے ڈیوٹی پر پہنچنا شروع ہو گئے
    کاغذات واپسی سنٹر شاہدرہ میں موجود پولیس کے ایک نوعمر جوان نے مجھے تضحیک آمیز رویے کے ساتھ یوں بلایا
    *اوئے مولوی! ادھر آ، جا وہاں سے پانی بھر کے لا*
    میں ایک نظر اسے دیکھوں، ایک نظر اس کی وردی کو، اس کی جرآت پر مجھے حیرت سے زیادہ افسوس ہو رہا تھا کہ وردی پہننے کے بعد عوام انہیں کالانعام دکھائی دیتی ہے.
    *یہ رہی عوام کی اوقات*
    آپ میری بات سے ہزار بار اختلاف کیجیے لیکن یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ پولیس کے جوان اپنی وردی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس سے عوام کے اندر سارے محکمے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے
    اعلی حُکام کو اس طرف توجہ دے کر اس مسئلے کو حل کرانا ہوگا ورنہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو سزا سے پہلے تھپڑ اور دھکے دے کر اسے جرم کی راہ پر ڈالنے کی ساری ذمہ داری پولیس کے جوانوں پر ہی عائد ہوتی رہے گی

  • کیا دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟  از قلم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    کیا دہشت گرد کلبوشن کو رہا کرنے کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں؟ از قلم ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    گورنمنٹ آف پاکستان نے کلبوشن یادیو ہندوستانی دہشت گرد کا کیس خود ہائیکورٹ میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا
    یہ فیصلہ جذبہ خیر سگالی کے تحت کیا گیا ہے واضع رہے رواں سال 29 مئی کو صدر پاکستان عارف علوی نے غیر ملکی قیدیوں کو ملٹری کورٹس سے ہوئی سزا پر اپیل کرنے کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا بل پاس کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی غیر ملکی دہشت گرد،جاسوس جو کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ہے اسے حق مل گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے اندر اپنی سزا کیخلاف درخواست دائر کر سکے واضع رہے کہ اس سے قبل ایسا نا تھا ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ قیدی کسی بھی سول کورٹ میں اپنی سزا کو چیلنج نہیں کر سکتے تھے
    سوچنے کی بات ہے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صدر کو غیر ملکی سزا یافتہ دہشت گردوں کی اتنی زیادہ فکر کیوں لاحق ہوئی؟
    آخر اتنی خاموشی سے بل کیوں پاس کروا لیا گیا؟
    جبکہ عوام کی سہولت کیلئے اور اسلام کے دفاع کیلئے پیش کئے جانے والے درجنوں بل ابھی بھی زیر التواء ہے جبکہ دوسری جانب اپنے ہی ملک کے لوگوں کو کہ جن پر اس ریاست پاکستان کے خلاف کام کرنے کا کوئی گواہ نہیں اور پاکستان کی عوام ان کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو جاتی ہے جس سے ان کے محب وطن ہونے کا ثبوت ملتا ہے ان افراد کو غیر ملکی دباؤ پر جیلوں میں رکھا گیا ہے اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور الزام یہ لگایا گیا کہ بیرون ملک ان افراد نے آزادی کی تحریک لڑنے والے افراد کی مالی معاونت کی تھی
    پچھلے سال بڑے فخر سے خود میڈیا پر وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ آسیہ ملعونہ کو پاکستان سے باہر بھجوانے کیلئے ہم نے مولویوں کو گرفتار کیا جو کہ آسیہ کی رہائی میں رکاوٹ تھے
    اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ صدر پاکستان سے منظور شد بل صرف کلبوشن یادیو کی رہائی کی نوید ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو گیا تو ملک میں کوئی بھی محفوظ نا رہے گا خاص کر انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاران مذید غیر محفوظ ہو جائینگے
    پاک فوج کا کیپٹین قدیر جس اللہ کے شیر نے کلبوشن یادیو کو پکڑا تھا اسے اسی جرم میں بیرونی ایجنسیوں نے شہید کیا کلبوشن کے ہاتھوں پر ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے جس کا اقرار وہ خود اپنے ویڈیو بیان میں کر چکا ہے تو پھر گورنمنٹ کو اس سے اتنی ہمدردی کیوں؟ کیا سابقہ گورنمنٹس کی طرح پی ٹی آئی بھی دباؤ کا شکار ہے؟
    کیا خان صاحب کے سارے کے سارے دعوے محض دکھلاوا تھے ؟
    سیکیورٹی و انٹیلیجنس ادارے دن رات محنت کرکے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک دشمنوں کو پکڑتے ہیں انہیں ملٹری کورٹس سے سزا دلواتے ہیں تاکہ ملک میں امن و امان ہو سکے کسی کا سہاگ،کسی کا لخت جگر پھر کسی کلبوشن جیسے دہشت گرد کی تخریب کاری کا نشانہ نا بن سکے مگر افسوس کہ ریاست مدینہ اور تبدیلی کے دعوے دار ایک دہشت گرد کی رہائی کیلئے خود بل پاس کروا کر خود ہی ہائیکورٹ میں کیس بھی لڑینگے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ دہشت گردوں تم اپنا کام کرو ہم اپنے بل پاس کروا کر تمہیں رہا کرواتے رہینگے
    شاید کہ اگر یہی حالات رہے تو آپریشن فیئر پلے کی ضرورت سخت سے سخت تر ہو جائے گی کیونکہ سب سے پہلے اسلام و پاکستان
    کلبوشن نے اسلامی ملک کے اسلامی باشندوں کو شہید کیا ہے
    جہاں اپنے لوگوں کو جیلوں میں اور بیرون ملک سے آئے ہزاروں پاکستانی مسلمانوں کے قاتل دہشت گردوں کی رہائی کیلئے حکمران بے تاب ہوں وہاں عوام بھی مایوس ہو جاتی ہے پھر وہاں بیرونی ایجنسیوں کے آلہ کار اپنے ہی لوگ اس لئے بن جاتے ہیں کہ انہیں انصاف نہیں مل سکا لہذہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں