Baaghi TV

Category: متفرق

  • دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    دہشت گردی کے خلاف عزمِ راسخ ، تحریر:جان محمد رمضان

    پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس بار قوم پہلے سے زیادہ متحد، پُرعزم اور ہوشیار ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا جو غیر متزلزل عزم سامنے آیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کی ضمانت بھی ہے۔ پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردوں کو اُن کے انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    بلوچستان کے علاقے خضدار میں ایک افسوسناک واقعے میں اسکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حملے میں‌ترجمان پاک فوج واضح کر چکے ہیں کہ بھارت ملوث ہے یہ حملہ صرف ایک سکول پر نہیں بلکہ انسانی اقدار، معصومیت اور تعلیم پر حملہ تھا۔ ایسے سفاک درندے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ ان عناصر کو نشانِ عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی دہشت گرد اس قسم کی شرانگیزی یا بربریت کی جرأت نہ کر سکے۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربریت اور جارحیت کو چھپانے کے لیے پاکستان میں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کو ہوا دینا ایک کھلی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ بھارت نہ صرف پاکستان میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ بین الاقوامی توجہ کو مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے ہٹانے کی کوشش میں مصروف ہے۔لیکن بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج کی پاکستانی سکیورٹی فورسز جدید تربیت، اعلیٰ جذبے اور عوام کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ دشمن کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑے گی۔آپریشن بنیان مرصوص 10 مئی کو افواج پاکستان نے بھارت کومنہ توڑ جواب دیا

    پاکستانی فوج، رینجرز، پولیس اور انٹیلیجنس ادارے دن رات ملک کی حفاظت میں مصروفِ عمل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی جا چکی ہے۔ ان شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ہر حملہ ہمارے عزم کو مزید پختہ کرتا ہے اور یہ قوم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک آخری دہشت گرد اپنے انجام کو نہ پہنچ جائے۔یہ لمحہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اگر عالمی برادری نے بھارت کی ان گھناؤنی سازشوں کا نوٹس نہ لیا اور خاموش تماشائی بنی رہی تو خطے میں بدامنی کا دائرہ مزید پھیل سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بڑے ممالک کو پاکستان کے شواہد کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ اپنی ریاستی دہشت گردی بند کرے۔پاکستانی قوم کو اس وقت اتحاد، یکجہتی اور قومی جذبے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں ایک آواز ہو کر اپنی قیادت، افواج اور اداروں کا ساتھ دینا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف حکومت یا فوج کی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کی ہے۔ ہم سب کو ایک سپاہی بن کر، قلم سے، زبان سے، اور عمل سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔پاکستان ایک زندہ قوم ہے، اور ان شاءاللہ، یہ جنگ ہم جیتیں گے۔

  • ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    ورک فرام ہوم .تحریر:عائشہ ندیم

    کرونا وبا کے بعد پوری دنیا کے کام کرنے میں تبدیلی آئی ہے ۔ جس کی سب سے بڑی مثال ورک فرام ہوم یعنی گھر سے کام ہے ۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹر نیٹ کی بدولت ممکن ہوا۔ ورک فرام ہوم کئی لحاظ سے مفید ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں ،پہلے ہم ا س کے فوائد پر نظر ڈالتے ہیں

    روزانہ دفتر آنے جانے میں کئی گھنٹے ضائع ہوتے ہیں، جو گھر سے کام کرنے کی صورت میں بچ جاتے ہیں۔
    ایندھن، پبلک ٹرانسپورٹ، دفتر کے کھانے اور لباس کے اخراجات میں واضح کمی آتی ہے۔یہ بچت سالانہ ہزاروں روپے تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔بچوں کی دیکھ بھال، گھریلو کام یا والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ کام کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔یہ سب ذہنی سکون میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جو کام کی کارکردگی پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔بغیر رکاوٹ کام کرنے سے بعض افراد کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔دفتر کے غیر ضروری شور، غیر متعلقہ ملاقاتوں یا داخلی سیاست سے بچاؤ ملتا ہے۔کئی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کی پیداواری صلاحیت میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ ہوتا ہے۔

    ملازمین دنیا کے کسی بھی مقام سے کام کر سکتے ہیں۔ادارے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد تک پہنچ سکتے ہیں، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔افراد اپنے آبائی علاقوں یا چھوٹے شہروں میں رہتے ہوئے بھی بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔کم سفر کی وجہ سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے۔دفاتر میں توانائی کی بچت ہوتی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے فائدہ مند ہے۔یہ ایک "گرین ورک کلچر” کی طرف مثبت قدم ہے۔

    ورک فرام ہوم کے چیلنجز
    1. پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی کمی:

    ہر فرد کے لیے خود کو منظم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔گھر کے ماحول میں کام اور آرام کے درمیان فرق ختم ہو سکتا ہے، جس سے توجہ متاثر ہوتی ہے۔غیر منظم معمولات، دیر سے سونا یا بروقت کام نہ کرنا عام مسائل بن جاتے ہیں۔

    2. تنہائی اور ذہنی دباؤ:

    دفتر کا سماجی ماحول نہ ہونے کے باعث انسان خود کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ٹیم ورک، ساتھیوں سے مشورے، اور غیر رسمی گفتگو جیسے عوامل کی کمی ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔

    3. رابطے اور تعاون میں کمی:

    ورچوئل میٹنگز ذاتی تعامل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔غلط فہمیاں اور موثر رابطے کی کمی ٹیم کے کام کو متاثر کرتی ہے۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو آمنے سامنے زیادہ مؤثر انداز میں مکمل ہوتے ہیں۔

    4. ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار:

    مستحکم انٹرنیٹ اور جدید آلات کی عدم دستیابی کام میں خلل ڈال سکتی ہے۔
    سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔
    ٹیکنالوجی سے ناآشنا افراد کے لیے یہ نظام ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

    5. کارکردگی کی نگرانی کا مسئلہ:
    گھر سے کام کرتے ہوئے آجر کے لیے ملازم کی کارکردگی اور وقت کی نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔اس سے مائیکرو مینجمنٹ اور اعتماد کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو ملازمین کے حوصلے کو متاثر کرتے ہیں۔

    6. کام کی زیادتی اور وقت کی حد بندی کا فقدان:
    گھر اور دفتر کی حدود واضح نہ ہونے کے باعث "آف ڈیوٹی” وقت بھی کام میں لگ سکتا ہے۔یہ بات ذہنی تھکن (Burnout) اور جسمانی صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

  • ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ٹریفک پولیس ،مسائل وہیں، ذمہ دار کون، تحریر:ملک سلمان

    ایسا لگتا ہے ٹریفک پولیس نے سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔ ٹریفک پولیس افسران اپنی کمائی کے اڈے بند کرنے کی بجائے ٹک ٹاک ویڈیوز اور میڈیا والوں کے ترلے منتیں کرکے فرمائشی انٹرویوز کے زریعے عوام، حکمرانوں اور احتساب کے اداروں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں۔ فرمائشی انٹرویوز میں بلند وبانگ دعوے اور بھڑکیں مارنے کا مقصد اپنی کمائی کے اڈوں سے توجہ ہٹانا ہے۔

    ایکسپریس ٹربیون کی ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ساڑھے چھے لاکھ رکشے ہیں جن میں سے تین لاکھ کے قریب لاہور میں ہیں۔میں نے چند ماہ قبل بنا نمبر پلیٹ، مبہم اور غیرنمونہ نمبر پلیٹ رکشوں والوں کاسروے کیا تو ہر دوسرے رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ وہ سیف سٹی اٹھارٹی کے آن لائن چالان سے بچنے کیلئے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے مبہم اور بنا نمبر رکشہ چلاتے ہیں اور اس کے عوض مختلف علاقوں کے حساب سے 500سے لیکر 2000روپے تک روزانہ دیتے ہیں۔ اگر تین لاکھ رکشہ ڈرائیور میں سے محض ایک لاکھ رکشہ والے 1000 روپیہ بھی دیں تو یہ رقم لگ بھگ دس کروڑ روپے روزانہ بنتی ہے۔ اگر رکشہ والوں کے الزامات جھوٹ ہیں تو پھر ان بنا نمبر پلیٹ رکشہ اور دیگر کمرشل گاڑیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ آپ لاہور کی کسی بھی شاہراہ پر کھڑے ہوجائیں سو رکشوں کا جائزہ لیں، لوڈر 100میں سے 100بنا نمبر پلیٹ۔چنگ چی 100میں سے کم ازکم 90 کی بیک سائڈ پر نمبر پلیٹ نہیں ہوگی۔ رکشہ، ٹویٹا ہائی ایس، منی مزدہ, بس سمیت پبلک ٹرانسپورٹ میں سے شائد کسی ایک کی نمبر پلیٹ نمونہ کے مطابق ہو۔ موٹرسائیکل اور رکشہ سمیت بے شمار ٹرانسپورٹ والے فلیشر اور تیز لائٹ کا استعمال کررہے ہیں لیکن کسی کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جارہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والی سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟

    اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے؟ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔

    لاہور میں ہر طرح کی ٹریفک شامل کرکے کم وبیش روزانہ آٹھ لاکھ گاڑیاں ان اور آؤٹ ہوتی ہیں جبکہ میٹروپولیٹن ایریا میں 5لاکھ گاڑیاں سفر کرتی ہیں۔ ان13لاکھ میں سے کم از کم ایک تہائی موٹرسائیکل اور گاڑیاں کم از کم 5سے 7دفعہ مختلف جگہوں پر پارکنگ استعمال کرتی ہیں۔ اگر محض 100روپیہ پارکنگ فیس بھی رکھی جائے تو حکومت کو صرف لاہور سے چالیس کروڑ روزانہ، 12ارب ماہانہ 144ارب سالانہ صرف پارکنگ فیس کی مد میں آمدن ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے 5446ارب کے سالانہ بجٹ کے برابر رقم 41اضلاع کی پارکنگ فیس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

    ٹریفک پولیس کی مبینہ سرپرستی کی بدولت پرائیویٹ پارکنگ مافیا صرف لاہور سے اربوں روپے ماہانہ بطور پارکنگ فیس اکٹھی کررہا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں تو سرکاری پارکنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ساری رقم ہی ٹریفک پولیس اور پرائیویٹ پارکنگ مالکان کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ اس سے بڑی لاقانونیت کیا ہوگی کہ موجودہ سی ٹی او کے دور میں ٹریفک پولیس لاہور پارکنگ کمپنی کے ملازمین کو سرکاری پارکنگ فیس وصول کرنے پر زدوکوب کرتی ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آرز کرواتی رہی ہے جبکہ غیر قانونی پرائیویٹ پارکنگ فیس وصول کرنے والے آزاد ہیں۔ پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔

    مریم نواز حکومت کو چاہئے کہ سختی اور آہنی ہاتھوں سے ہر طرح کی غیرقانونی پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کروائیں۔ تمام چھوٹے بڑے شاپنگ مال اور پارکنگ سٹینڈ بغیر رجسٹریشن سو روپے سے لیکر پانچ سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہورہی۔خطرناک پہلو یہ ہے کہ پرائیویٹ مافیا سرکاری جگہوں پر غیر قانونی پارکنگ فیس صول کررہا ہے۔ مین شاہراؤں اور رہائشی علاقوں میں قائم پرائیویٹ دفاتر نے غیر قانونی پارکنگ سے سڑکیں اور گلیاں بند کی ہوتی ہیں لیکن ان کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔ مبینہ طور پر ان تمام غیر قانونی پارکنگ سے بھی منتھلی لی جاتی ہے اگر منتھلی نہیں لیتے تو پھر کاروائی کیوں نہیں ہوتی۔

    ٹریفک پولیس کی کرم نوازی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں پارکنگ کے لیے جگہ نہیں ملتی لیکن والٹ پارکنگ والے اسی جگہ گاڑی پارک کر لیتے ہیں اور ٹریفک پولیس کوئی کاروائی نہیں کرتی اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ٹریفک پولیس ناجائز پارکنگ مافیا کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ سڑک اور بازار کے دونوں اطراف روڈ پر موجود غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے سو فٹ چوڑی سڑک بامشکل 15فٹ باقی رہ جاتی ہے۔تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔حکومت کو اپنی رٹ بحال کرنا ہوگی دکانداروں کو بتانا ہوگا کہ صرف دکان تمہاری ہے نہ کہ سامنے والا فٹ پاتھ اورسڑک۔ کسی کو بھی سرکاری پارکنگ فیس کے بغیر گاڑی پارک کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

  • اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

    گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاک بھارت تعلقات میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب بھارت نے پہلگام ڈرامے کا سارا الزام حسب روایت پاکستان پر لگا کر خطے میں ایک اور جنگی جنون کی لہر دوڑا دی۔ بھارت کی اس بے بنیاد الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کا جواب پاکستان نے نہایت دانشمندی اور سفارتی سوجھ بوجھ سے دیا۔ عالمی برادری کو باور کروایا گیا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، تاہم اگر بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔پھر وہ دن بھی آیا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی، دس مئی کا دن، جب پاکستان نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں "آپریشن بنیان مرصوص” کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن نہ صرف عسکری تاریخ میں ایک مثال بن گیا بلکہ دشمن کے تین ہفتوں پر محیط جنگی منصوبوں کو صرف تین گھنٹوں میں خاک میں ملا دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ بھارتی حکومت، جس نے جنگ کا شعلہ بھڑکانے کی کوشش کی، وہی حکومت چند گھنٹوں بعد امریکہ کے سامنے جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی۔

    آپریشن بنیان مرصوص کی بے مثال کامیابی پر پاکستان بھر میں یوم تشکر منایا گیا۔ ہر طرف جذبہ حب الوطنی کی فضا قائم ہوئی اور افواج پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اسی مناسبت سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی جانب سے ایک پُروقار تقریب منعقد کی گئی ،اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے پر بلا تامل لاہور کا رخ کیا۔ میرے ہمراہ صحافی دوست عباس علی بھٹی تھے۔ ہم پریس کلب لاہور کے قریب واقع ہوٹل پاک ہیری ٹیج پہنچے جہاں ممتاز اعوان نے پرتپاک استقبال کیا۔

    تقریب کا آغاز پرتکلف ناشتے سے ہوا، جس کے بعد قلم کے سپاہیوں نے ایک زبان ہو کر افواج پاکستان سے یکجہتی کا اعلان کیا۔ تقریب میں شریک نمایاں شخصیات میں ناصر بشیر،اشفاق احمد،چوہدری غلام غوث،نوید شیخ،سید امجد حسین بخاری،ندیم انجم،عبدالصمد مظفر،حاجی لطیف کھوکھر،محمد نادر کھوکھر،امجد نذیر،محمد سعید،محمد دانش رانا،امان اللہ نیر شوکت،مہر اشتیاق احمد،ملک فیصل رمضان،سجاد علی بھنڈر،فہد نفیس،خرم شہزاد،محمد ابرار شریک ہوئے،اس کے علاوہ اپووا کے قائدین بانی و صدر ایم ایم علی،سینئر نائب صدر،حافظ محمد زاہد،نائب صدور: سفیان فاروقی، محمد اسلم سیال،جوائنٹ سیکرٹری، محمد بلال،ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن، نادر فہیمی بھی شریک ہوئے،مدیحہ کنول، نیلوفر سمیع، آصفہ مریم، نرگس نور، ثوبیہ خان نیازی، نادیہ وسیم، نیئر سلطانہ، یاسمین محمود،شاعرہ ثوبیہ راجپوت،قرۃ العین خالد،سونیا معراج، ماہ نور، سدرہ رحمت، عائزہ بتول بھی تقریب میں شریک ہوئیں.

    اپووا کی تقریب میں پرتکلف ناشتے کے بعد اس خوشی میں کیک کاٹا گیا کہ پاکستان نے نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ امن و استحکام کا پیغام بھی دیا۔ اس موقع پر ملک یعقوب اعوان کو اپووا کا سینئر وائس چیئرمین منتخب کیا گیا۔ وہ ماضی میں ڈی ایس پی قصور بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں مبارکباد دی گئی اور اُن کے ادبی و انتظامی کردار کو سراہا گیا۔اپووا کی اس تقریب نے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے اہلِ قلم صرف تخیل کی دنیا میں ہی نہیں جیتے، بلکہ جب وقت آئے تو وہ قلم چھوڑ کر بندوق اٹھانے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ اپووا نے ایک نئی مثال قائم کی کہ لکھنے والے بھی دفاع وطن کے محاذ پر پیچھے نہیں رہیں گے۔ پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک خواب ہے جسے لاکھوں قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ جب بھی دشمن نے میلی آنکھ سے دیکھا، افواج پاکستان اور پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ آج کے دن ہم اپنے محافظوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی، بقا اور خودمختاری کے لیے ہم سب ایک ہیں۔

    بانی صدر ایم ایم علی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کا موقع دیا۔ تقریب کے اختتام پر ایک گروپ فوٹو لیا گیا اور اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوئے کہ جلد ہی اپووا کا وفد قصور کا دورہ کرے گا۔

  • ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎صنعتی میدان اور یونیورسٹی تعلیم میں باہمی تعاون بہت ضروری ،ڈاکٹر عتیق الرحمان

    ‎پاکستانی معاشرے کے لیے اہم وہ یونیورسٹیاں ہیں جو ملک کو دانشورانہ سرمایہ فراہم کر سکتی ہیں ، نیز اعلی تعلیم کو قومی ترجیحات کے ساتھ زیادہ قریب سے جوڑنے ، اساتذہ کے علم کو بڑھانے ، اداروں کے درمیان صحت مند موابلے کو فروغ دینے اور علم سے جڑی معیشت کی راہ ہموار کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ۔ صنعت کاری کو فروغ دینے ، تکنیکی پارکس بنانے اور یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت کی پہل اقتصادی اور سماجی ترقی میں مدد کرے گی ۔ پیداوار میں اضافہ ، مسابقت اور معاشی ترقی معاشرے اور کاروبار کے تمام شعبوں میں ہنر مند مزدوروں کو تخلیقی صلاحیتوں اور توانائی کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد میں دو روزہ ٹیلنٹ ہنٹ گالا کے دوران ، ملک کی بڑی کاروباری کمپنیوں کے طلباء اور عہدیداروں کی شاندار بات چیت دیکھی گئی ۔ ملک کی تقریبا 80 معروف ترین کاروباری کمپنیوں نے نئی صلاحیتوں کو راغب کرنے اور اپنے اداروں کی تشہیر کے لیے اپنے بوتھ لگائے ۔ اوپن ہاؤس میں کارپوریٹ سیکٹر کی اتنی بڑی تعداد کی شرکت ادارے میں دی جانے والی تعلیم پر ان کے اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے ۔

    فاؤنڈیشن یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلباۂ کی مارکیٹ میں روزگار کی شرح بہت بہتر ہے ۔ 2024 کی بی بی اے کلاس کے آن لائن بزنس مالک اجواد عرفان نے اس رپورٹر کو بتایا کہ ان کے تقریبا 11 ساتھی کل وقتی کام کر رہے ہیں اور 5 یا 6 اپنے کاروبار چلا رہے ہیں ۔ 2022 کے کمیونیکیشن سائنس گریجویٹ ، سید انیس ، جنہوں نے خود اپنی رائے شیئر کرتے ہوئے ایک ویگر اور انفلوئنسر کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے ، نے نوٹ کیا کہ ان کی کلاس کا 70% مناسب ملازمت حاصل کر سکے لیکن اس شعبے میں نہیں جس میں وہ تعلیم یافتہ تھے بلکہ دوسرے شعبوں میں۔ یونیورسٹی کے دیگر گریجویٹس نے بھی اسی طرح کے تبصرے کئے ۔ اس لیے اگر کوئی معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو فروغ دینا چاہتا ہے تو تعلیم ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، مہارت اور پیداواری محنت میں سرمایہ کاری کرنا بہت ضروری ہے ۔ معاشی ترقی کئی عوامل سے نمایاں طور پر متاثر ہوتی ہے جن میں حکومتی پالیسی ، بیرون ملک تجارت ، سرمایہ کاری اور تکنیکی پیش رفت شامل ہیں ۔ حالیہ گریجویٹس تب ہی کام کر سکیں گے اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں گے جب ہائر ایجوکیشن کمیشن ، کالج اور وزارت صنعت تعاون کریں گے ۔ منافع پر مبنی کاروباروں کا اثر تحقیق میں یونیورسٹیوں کے روایتی کام پر سوال اٹھا رہا ہے ، اس لیے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان مزید تعاون کی ضرورت ہے ۔ چونکہ یونیورسٹیوں نے انڈرگریجویٹ تعلیم سے آگے اپنی ذمہ داریاں بڑھا دی ہیں ، اس لیے طلباء کو روزگار کے بازار کے لیے بہتر طور پر لیس کرنے کے لیے یونیورسٹیوں اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہو گیا ہے ۔ اقتصادی تعاون اور معیار زندگی میں اضافہ کرکے ، یونیورسٹیوں کو اعلی تعلیم کے بدلتے ہوئے نمونے میں متعلقہ رہنا ہوگا ؛ یہ یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کے درمیان تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے ۔ سمجھدار پالیسیاں جامع اور طویل مدتی ترقی کے لیے مواقع پیدا کر سکتی ہیں اگر وہ لوگوں کو مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تربیت دیں ، اس لیے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ 30 سال سے کم عمر کا ہے ۔ پاکستانی صنعت انتہائی مسابقتی نہیں ہے ، اور کئی مطالعات نے اس کی بنیادی وجہ پرتیبھا کی عدم مطابقت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کی اکثریت اس سطح سے مطمئن نہیں ہے جس پر حالیہ کالج گریجویٹس کی مہارت کے سیٹ موجودہ ملازمت کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔

    عالمی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کمپنیاں قابلیت سے زیادہ صلاحیتوں کو ترجیح دیتی ہیں ۔ ان حالات میں ، ایک یونیورسٹی کے لیے شاندار صلاحیتوں کے ساتھ گریجویٹس تیار کرنا قابل ستائش ہے ۔ اس مسئلے کو تین اہم شعبوں کو حل کر کے حل کیا جا سکتا ہے ۔ گریجویٹس کے درمیان مہارت کے فرق کو دور کرنے کے لیے پہلے انٹرن شپ پروگراموں کو نافذ کرنا ، مارکیٹ پر مبنی کورسز بنانا اور کبھی کبھار اپ ڈیٹ کرنا ، اور صنعتی کلسٹرز کے لیے مہارت میں بہتری کے تربیتی منصوبے قائم کرنا ضروری ہے ۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارتیں وہ شعبہ ہے جس میں لوگوں میں اپنی مہارتوں کی سب سے زیادہ کمی ہوتی ہے ۔ یونیورسٹی کے طلباء کو کئی شعبوں میں انٹرن شپ تک رسائی حاصل ہونی چاہیے اور اس خلا کو پر کرنے میں ان کی مدد کے لیے مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری میں ہنر مندی پیدا کرنے کے لیے مختصر سیمینار چلائے جانے چاہئیں ۔ ممکنہ کمپنیوں کا فی الحال کورسز کے ارتقاء پر کوئی اثر نہیں ہے ۔ اس کے مقابلے میں ، معاشیات ، کاروبار اور کامرس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء موجودہ دستیاب کورسز سے کم مطمئن ہیں ۔ پاکستان کا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) وہاں کی یونیورسٹیوں کو سال میں ایک بار ہنر مندی کی ترقی ، بازار کی ضروریات کے ساتھ نصاب کی صف بندی ، اور جدت طرازی پر رپورٹ کرنے کا حکم دے سکتا ہے ۔ ایچ ای سی اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ یونیورسٹیاں صنعت کے ساتھ کافی بات چیت کریں اور ضرورت کے مطابق اپنے پروگراموں میں ترمیم کریں ۔ دوسرا ، اگر یونیورسٹیوں کا مقصد روزگار کے فرق کو کم کرنا ہے ، تو تعلیمی تربیت کو مہارت کی تشخیص پر بنایا جانا چاہیے ۔ اس مقصد تک پہنچنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ مہارت پر مبنی تعلیم پر بہت زیادہ وزن کا اندازہ لگانا ۔ موجودہ درجہ بندی کا نظام تخلیقی اور مہارت پر مبنی سیکھنے کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔ عملی مثالوں کے ذریعے اپنے علم کو ظاہر کرنے والے طلباء کے بجائے حفظ اور بازگشت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے ۔ اس لیے وہ کام کے کافی تجربے اور قابل فروخت صلاحیتوں کی کمی کے باعث گریجویٹ ہوتے ہیں ۔ طلباء کی تحقیق اور حتمی منصوبوں میں حاصل کردہ چیزوں کو استعمال کرنے کی صلاحیت کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کرنے کے لیے درجہ بندی اور تشخیصی نظام کو بتدریج تبدیل کرنے سے روزگار کے فرق کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔

    یونیورسٹیوں کو طلباء کی خدمت کے مراکز اور معیار میں بہتری کے خلیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا تعین کرنے کے لیے طلباء کو باقاعدگی سے رائے شماری کرنی چاہیے اگر وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ طلباء یونیورسٹی کے نصاب کے ذریعے پیش کردہ ہنر مندی کے فروغ کے امکانات سے کتنے خوش ہیں ۔ تیسرا مسئلہ صنعت کے سلسلے میں تمام مہارتوں پر طلباء کی اوسط حد سے زیادہ زور دینے کے نتیجے میں منفی ادراک کا فرق ہے ۔ نوجوانوں کی ملازمت کی اہلیت ، پیداواری صلاحیت اور مہارت کی ترقی کو بہتر بنانے کے لیے تمام فریقوں کو مل کر مؤثر طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پالیسی سازوں ، اسکالرز اور کاروباری اداروں سب کو رابطے کی کھلی لائن برقرار رکھنی چاہیے اور جان بوجھ کر تعاون کرنا چاہیے ۔ مطالعے کی تمام سطحوں پر طلباء کو کمپنیوں کی طرف سے قابل قدر مختلف قسم کی صلاحیتوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ، کیریئر کے مشورے کو یونیورسٹی کے کورسز میں شامل کیا جانا چاہیے ۔ طلباء کے باقاعدہ پروگراموں بشمول کانفرنسوں ، سیمینارز ، ورکشاپس ، واقفیت ، اور مطالعاتی دوروں سے طلباء کو اپنے شعبے کے پیشہ ور افراد کے ساتھ نیٹ ورک کرنے کے مواقع فراہم ہونے چاہئیں ۔

  • "پاک بھارت جنگ بندی ایک سازش” تحریر :  عائشہ اسحاق

    "پاک بھارت جنگ بندی ایک سازش” تحریر : عائشہ اسحاق

    کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان سیز فائر کے نام پر ایک سازش کا شکار ہوا۔ وہ مقاصد آج بھی ادھورے رہ گئے جن کے لیے کئی دہائیوں سے بارہا کوششیں کی گئیں۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ پاکستان اس سازش کا کس طرح سے شکار ہوا۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ 6 مئی 2025 کو بھارت پاکستان کے کئی شہروں میں حملہ آور ہو کر کھلی جارحیت دکھانے کے ساتھ ساتھ تمام تر جنگی قوانین اور بین الااقوامی حدود کی بھی خلاف ورزیاں کرتا رہا۔ بھارت نے پاکستان کی مساجد عام شہری بے گناہ مرد و خواتین اور معصوم بچے شہید کیے۔ پاکستان نہ صرف صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا رہا بلکہ تمام عالمی برادری اور سلامتی کونسل کی توجہ بھی اس طرف دلانے کی کوشش کرتا رہا کہ بھارت کس طرح سے انسانی حقوق کی پامالی اور جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سمیت تمام امن کمیٹیاں مکمل طور پر خاموش رہیں ۔ بھارت کو کھلی جارحیت سے روکنا تو دور کی بات رہی کسی نے بھارت کے اس جارحانہ رویے پر مذمت تک نہ کی۔ سب سے بڑھ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر لا تعلقی دکھاتے ہوئےبیان دیا ہے کہ یہ معاملہ بھارت اور پاکستان کا آپسی معاملہ ہے اور وہ دونوں ممالک کے اس معاملے سے دور رہیں گے۔ مگر جب 10 مئی 2025 کو پاکستان نے ریٹیلییٹ کرتے ہوئے آپریشن "بنیان مرصوس” کا آغاز کیا اور بھارت کے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ عظیم آپریشن محض چند گھنٹے جاری رہا جس کے نتیجے میں بھارتی فوجی تنصیبات اور جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔بلا شبہ بھارت پاکستانی شاہینوں کے پنجوں میں جکڑا گیا اور اپنے حواس کھو بیٹھا۔ بھارتی مکروہ عزائم خاک میں مل چکے تھے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا غرور چکنا چور ہو چکا تھا۔ پاکستانی جانباز مجاہدین غازی بن کر لوٹے اور اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ پاکستانی قوم اپنے شاہینوں اور غازیوں کو تہ دل سے سلام پیش کرتی ہے۔ اللہ عزوجل نے آپریشن "بنیان مرصوص” کو نصرت فرمائی اور یہ آپریشن اپنے نام کی طرح عظیم طاقت بن کر پوری دنیا کے دل و دماغ پر اپنا روعب و ہیبت طاری کرنے میں کامیاب رہا۔ بھارت پسپا ہو چکا تھا اور پاکستان اپنی طاقت ہمت ,شجاعت, زہانت اور دلیری کا لوہا پوری دنیا میں منوا چکا تھا۔

    یہی وہ وقت تھا جب ایک نئی سازش کی گئی۔ بھارت اپنی پسپائی اور مزید ہونے والی تباہی کو اپنی انکھوں سے دیکھ رہا تھا اسی وجہ سے مکار اور ہوشیار دشمن نے فورا جنگ بندی کی اپیل کرنا شروع کر دی اور بھارت کا ساتھی امریکہ فوری طور پر حرکت میں آگیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کل تک جو لا تعلقی کا بیان آرہا تھا وہ فورا تعلق میں بدل گیا اور دونوں ممالک کو مسئلح کاروائیوں سے روکنا شروع کر دیا۔ یہیں سے امریکہ کا منافقانہ طرز عمل واضح ہوتا ہے۔ جب تک بھارت پاکستان پر حملے کر رہا تھا اور جارحیت پھیلا رہا تھا ہمارے جوانوں اور معصوم سویلینز کو شہید کر رہا تھا تب تک امریکہ اس معاملے سے لا تعلق رہا اور جیسے ہی پاکستان نے ریٹیلییٹ کرنا شروع کیا اور بھارت پسپائی کی طرف گیا تو امریکہ فورا اس معاملے میں کود پڑا۔ یہ منافقانہ عمل واضح کرتا ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے بھارت کا حمایتی رہا۔ پاکستان نے سیز فائر کی پیشکش کو فورا قبول کرتے ہوئے ایک سنہری موقع ہاتھ سے گنوایا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان باسانی کشمیر کو بھارت کے چنگل سے آزاد کروا سکتا تھا۔ وہ کشمیری مسلمان بہن بھائی جو کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم تشدد اور بربریت کا شکار ہوتے رہے ہیں انہیں ان سے چھٹکارا دلایا جا سکتا تھا۔ سیز فائر کا سراسر فائدہ بھارت کو ہوا بھارت شروع سے ایک مکار دشمن رہا اس طرح سے بھارت کو دم سادھانے کا موقع ملا جو اوسان خطا ہو گئے تھے دوبارہ سے اپنا آپ سنبھالتے ہوئے بھارت ماضی کی طرح پھر سے کسی روز کوئی نئی چال چلے گا نیا وار کرے گا۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدہ بھی ابھی تک معطل ہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت کشمیر کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اسی لیے بھارت نے سیز فائر میں اپنی عافیت جانی۔ جب کہ پاکستان سیز فائر کی پیشکش کو جلد قبول کر کے بھارتی اور امریکی سازش کا شکار ہوا۔ بطور پاکستانی آج ہم سب خوشی منا رہے ہیں لیکن بطور مسلمان ہم بھارت اور امریکہ کی سازشی وار کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ ہمارے مسلمان کشمیری مظلوم بہن بھائی جو اس آپریشن سے آزادی کی امید جگا کر انتظار کر رہے تھے کہ وہ بھارتی ظلم و ستم سے نجات حاصل کر جائیں گے ۔نہایت دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شکست خوردہ بھارت ان مظلوموں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ یہ وہ سنہرا موقع تھا جب پاکستان اپنے زور بازو پر کشمیر کو بھارت کے چنگل سے چھڑوا سکتا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیز فائر کی پیشکش پر یہ مطالبہ کیا جانا چاہیے تھا کہ کشمیر کو ایک آزادانہ ریاست قرار دیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات نہایت قابل غور ہے کہ اگر امریکہ کے کہنے پر پاک بھارت جنگ بندی ہو سکتی ہے تو اسرائیل کی فلسطین میں جنگ بندی کیوں نہیں ہو سکتی۔؟ آج جب پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر کے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوا چکا ہے تو بطور مسلمان گزارش ہے کہ پاکستان فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کو تنبیہ کرے کہ وہ فلسطین میں کیے جانے والے مظالم بند کرے۔ یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان امت محمدی اور پھر پاکستانی ہیں لہذا مسلمان ہونے کے ناطے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ اپنے دیگر مظلوم مسلمان بہن بھائیوں کے لیے بھی اسی طرح سے اپنی جرات اور طاقت کا مظاہرہ کریں جس دلیری اور شان کے ساتھ ہم نے اپنے وطن کے لیے کیا۔ یہ ان مظلوموں کا ہم پر حق ہے اور ہمارا فرض ہے۔ لہذا کشمیر اور فلسطین کے معاملے پر پیش رفت ہونا بہت ضروری ہے۔ تعجب ہے کہ پاکستانی میمز بنا کر لطف اندوز ہونے میں مصروف ہیں اپنے کشمیری اور فلسطینی مسلمان بہن بھائیوں پر کیے جانے والے مظالم اور غم کو کس طرح سے فراموش کر سکتے ہیں۔ فلسطینی معصوم بچوں کی ہوا میں اڑتی لاشیں کس طرح سے بھول گئے ہیں وہ کشمیری بچے جو بھارتی ظلم و جبر کے وجہ سے اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں انہیں کیسے فراموش کر دیا گیا ہے۔؟ جب کہ وہ مظلوم ہم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ۔ غزہ انتہائی غذائی قلت کا شکار ہے اور ہزاروں بچے بھوک پیاس کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں یاد رہے ان مظلوموں کے حوالے سے روز محشر جب ہم سے باز پرسی کی گئی تو ہم کیا جواب دیں گے کہ ہم نے اتنی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے کیوں کچھ نہ کیا۔ لہذا مسلمان ہونے کے ناطے پاکستانی حکومت اور افواج پاکستان سے کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر بہترین حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کریں۔

  • وسیم جتوئی: ترقی اور خدمت کا روشن نام

    وسیم جتوئی: ترقی اور خدمت کا روشن نام

    وسیم جتوئی: ترقی اور خدمت کا روشن نام
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    جنوبی پنجاب کا ڈیرہ غازی خان ڈویژن تاریخی طور پر ترقیاتی پسماندگی کی تصویر پیش کرتا رہا ہے۔ لیکن چند ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے اس خطے کے لیے امید کی شمع روشن کی ہے۔ انہی میں ایک نمایاں نام ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ وسیم جتوئی کا ہے، جنہوں نے سرکاری ملازمت کو خدمتِ خلق کا زینہ بنایا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت اور عوامی رابطے نے انہیں نہ صرف ایک مثالی افسر بلکہ ایک سچا خدمت گزار ثابت کیا ہے۔

    وسیم جتوئی کی قیادت میں ڈیرہ غازی خان ڈویژن نے ترقیاتی منصوبوں میں نئی روح پائی ہے۔ انہوں نے متعدد فلاحی اسکیموں کی منظوری، فنڈز کی شفاف تقسیم اور پراجیکٹس کی کڑی نگرانی کو یقینی بنایا۔ ان کی نگرانی میں مکمل ہونے والے منصوبے چاہے وہ دیہی سڑکوں کی تعمیر ہو یا واٹر سپلائی اسکیمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت صاف ہو تو سرکاری ڈھانچہ عوام کے لیے رحمت بن سکتا ہے۔ ان کی باریک بینی اور فرض شناسی نے نہ صرف وسائل کے ضیاع کو روکا بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو بھی ممکن بنایا۔

    ان کی شخصیت کا سب سے دلکش پہلو اُن کی خوش اخلاق اور عاجزی ہے۔ وہ ہر ملاقاتی کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔ چاہے کوئی عام شہری ہو یا مقامی عہدیدار، وہ سب کے مسائل توجہ سے سنتے ہیں اور حل کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ انہیں ایک رسمی افسر سے بڑھ کر ایک عوامی خدمت گزار بناتا ہے۔ مقامی عمائدین اور سماجی کارکنوں سے ان کا گہرا رابطہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ دفتر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔

    وسیم جتوئی کا وژن محض وقتی اقدامات تک محدود نہیں۔ وہ تعلیم، صحت، صاف پانی اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں دیرپا بہتری کے خواہاں ہیں۔ مثال کے طور پران کی کاوشوں سے دیہی علاقوں میں سکولوں کی حالت بہتر ہوئی اور صحت کے مراکز کو جدید سہولیات میسر ہوئیں۔ ان کی یہ سوچ کہ ترقی صرف موجودہ مسائل کا حل نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کا ادراک بھی ہے، ان کی یہی سوچ انہیں دیگر افسران سے ممتاز کرتی ہے۔

    ایک ایسے دور میں جب سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ رہا ہے، وسیم جتوئی جیسے افسران امید کی کرن ہیں۔ نہ صرف انتظامیہ بلکہ سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی ان کی خدمات کی قدر کی جاتی ہے۔ وسیب کے عوام انہیں اپنا فخر سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ نیک نیتی اور جذبہ خدمت سے ترقی اور خوشحالی ممکن ہے۔

    وسیم جتوئی صرف ایک افسر نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہیں جو ثابت کرتی ہے کہ سرکاری ڈھانچہ عوام کی فلاح کے لیے کتنا موثر ہو سکتا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، انسانی ہمدردی اور دوراندیشی نے ڈیرہ غازی خان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ وہ ایک ایسی مثال ہیں جو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آئیے، ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کریں اور امید رکھیں کہ ان جیسے مزید خدمت گزار اس خطے کی تقدیر بدلیں گے۔

  • مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    مال کی حوس فتنہ اور اسی فتنے کانام دنیا ہے،تحریر:ظفر اقبال ظفر

    دنیا کی بناوٹ کو اس کے وجود کے اعتبار سے دیکھتا ہوں تو زمین پر ہوئی ساری کی ساری تخلیق قدرت کی مصوری کا پتا دیتی ہے اور خدا کو جاننے کے تناظر میں یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ خدا کاسب سے پسندیدہ مشغلہ تخلیق ہی رہا ہے اور ہر تخلیق اپنی ابتدا سے ہی اپنے حسن پر برقرار کھڑی ہے اور زمین کا سارا انتظام انسانی ضرورت کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے تو یہ جو پانی پہ زمین کا تخت انسان کے لیے سجایا گیا ہے اس پہ دنیا نام کی کیا حقیقت ہے جس کو اس کے بنانے والے نے بھی برائیوں فتنوں خرابیوں حقیر اور ناجانے کیا کیا ناپسندیدہ القاب سے پکارا بتایا سمجھایا ہے تبھی تو خدا کے محبوب بندوں نے دنیا کبھی دنیا بنانے والے سے بھی نہیں مانگی۔ میں بہت غور و فکر اور ذاتی زندگی کے تجربے سے جس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا نام کی ساری خرابیوں کو جمع کرکے اسے کوئی نام دیا جائے تو وہ مال و دولت ہی ہوگا جس سے دنیا کے سارے فتنے رونما ہوتے ہیں ویسے تو ایمان والوں کے لیے دولت کے علاوہ بھی کئی صورتوں کو فتنے کا نام دیا گیا ہے مگر جس نے سب سے زیادہ سکون انسانی برباد کیا وہ مال ہی ہے جسکی غیرموجودگی نے اچھوں کو برا کر دیکھایا اورموجودگی نے بروں کو اچھا بنا کر پیش کیا۔ اصل میں دنیا ہی ہے مال کا نام جس کی حوس ایمان ہی کیا پورے کے پورے انسان کو ہی کھا جاتی ہے تبھی یہ انسان نگلنے والی بلا سے نفرت کے تناظر میں خدا اور خدا کے بندوں کے سخت اقوال خوب وضاحت کرتے ہیں حدیث مبارکہ ہے کہ دنیا مردار ہے اور اس کا طالب کتا ہے قول علی ؓہے کہ دنیا میرے نزدیک ایسے ہے جیسے سور کی انتڑیاں جو کوڑھے کے ہاتھوں میں ہو۔

    جس انسان کی جائز ضرورتوں کو اس کے لیے آسان رکھ کر اسے مال کی حوس سے آزاد کردیا گیا اُس کی غربت بھی بادشاہی کا اک روپ ہے اور جیسے ضرورتوں سے زیادہ ما ل دے کرمزید مال کی حوس میں جکڑ دیا گیا اس شخض کی اپنی قیمت بھی ختم ہو جاتی ہے میں نے لاکھوں کرڑوں کے ایسے کئی مالک دیکھے ہیں جن کے پاس مال تو ہے مگر خود دوکوڑی کے بھی نہیں ہوتے ان بے قیمت لوگوں کو پا کر میں سوچتا تھا دنیا جتنی خود گری ہوئی ہے اس کا انتخاب خود سے زیادہ گرے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں یعنی دنیا اُنہی کے پاس جاتی ہے جو دنیا کے مزاج کے ہوتے ہیں خوش قسمت ہیں وہ روحیں جنہیں دنیا راس ہی نہیں آتی اور وہ دنیاوی نظام کو ٹھکرا کر آسمانی دنیا کے دھیان میں رہتے ہیں جنہیں لوگوں نے غربت کی نفرت میں ددھکار دیا وہی لوگ آسمان والے کے لاڈلے ٹھہرے ہیں۔ دنیا کی مشکلیں صبر کرنے والوں کے لیے اگلے جہان کی آسانیاں ہیں مگر میں ایمان و انسان کے سارے رشتے کھا جانے والی دولت نامی بلا کی اتنی اہمیت کیوں بنائی پر مبنی سوال بارگاہ خداوندی میں کرتا تو جواب آتاکہ ایمان صورت حسینی میں جتنی نایاب و پاکیزہ دولت ہے اسے آزمانے کے لیے یزیدی دنیا ہی درکار تھی اپنے اردگرد کی دنیا دیکھئے مال کے چکر میں ایمان کی بدصورتی کی نمائش لگا کر بیٹھی ہے دولت دنیا نے انسان کے ہاتھوں ہی انسان کو بے قیمت بنا کر رکھا دیا انسانیت کی جگہ کثرت مال دیکھ کر عزت و اہمیت دی جاتی ہے جبکہ یہ عزت و اہمیت دولت کی طرح جھوٹ کی وہ تصویر ہے جیسے مفاد کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔

    کثرت زر کی حوس میں ڈوبی بدبودار رُوحیں حقوق کی زمین پہ فساد کی جڑ ہیں ان کی زندگی کا واحد اصول۔ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔ یہ قدرت کی طرف سے رکھا گیا حلال بھی اپنی حوس زدہ سوچ سے حرام بنا کر برکت کی توہین کے گنگار لوگ ہیں اسلامی معاشرے کا سب سے بھیانک چہرہ اُن لوگوں کا ہے جواسلامی حیلے میں دنیا جمع کرنے کے لیے اخلاقی شرعی قانون کی حرمت پامال کرتے ہیں مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر شرافت کا ڈھونگ کرتے ہیں جبکہ ان کی شرافت شر اور آفت کا مجموعہ ہوتی ہے میں نے پانچ وقت کے حرام خور نمازی بھی دیکھے ہیں جو نہ نماز چھوڑتے ہیں نہ حرام چھوڑتے ہیں ان کی عبادت عبادت نہیں عادت ہے جو ان کی اندر کی حرام حوس کو مارنے پربے اثر رہتی ہے ان پر بات کی جائے تو یہ اپنے بدکردار کی نشاندہی کوتوہین مذہب سے جوڑ کر اللہ کے بدمعاش بن جاتے ہیں دنیا کے عاشق دنیا کے حیلے میں ہی کماؤ دین کا لبادہ اُوڑھنا ہے تو دین کوکردار میں اپناؤ خریدا ہوا مال واپس اور تبدیل کرنے کے ساتھ شرعی منافع رکھوکیا یہ غرض مال دنیا کی منافقت نہیں کہ خریدتے وقت عیب نکالیں جائیں اور وہی چیز فروخت کرتے ہوئے تعریفیں بیان کی جائیں

    اپنی دکانوں کے باہر لوگوں کا راستہ کرایے پر دینے والوں کو اس حدیث پر ایمان کیوں نہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے راستے کی جگہ پہ تو نمازتک نہیں ہوتی جب سب سے افضل عبادت جائز نہیں ہوتی تو روزی کیسے جائز ہو سکتی ہے اس عمل سے منسلک دونوں افراد حرام کا شکار ہیں طالب دنیا کے پھیلائے فتنوں پہ جتنی بھی بات کرو یہ پھیلتی ہی چلی جائے گئی آپ کے اپنے زہن میں بھی بے شمار حوالے آ رہے ہوں گے جو روزمرہ کی زندگی میں اپنے معاشرے کے طرزعمل سے سب کو نظر آتے ہیں ان ساری خرابیوں پر بات کرنے کی سمجھداری تو سبھی رکھتے ہیں مگراصل ضرورت اس بات کی ہے جس سے اصلاح کا ایسا نظام کیسے بنایا جاسکے جس سے انسان انسان کو حوس دنیا میں ڈسنا بند کر دیں اس کے لیے پہلے تو دنیا کی اُس نفرت کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو خدا اور خدا کے محبوب بندوں میں پائی جاتی ہے۔یہ کیامسلمانیت کی بدقسمتی ہے کہ آسمانی معیار کی سوچ کو چھوڑ کر زمینی خرابیوں کو اصول زندگی بنا لیا جائے مصنوعی مہنگائی اور زمینی بے روزگاری کے طوفان کے آگے پل باندھنے کی بجائے اس کے نئے راستے اُس جانب کھولے جائیں جہاں مجبور بے بس انسان بستے ہیں اخلاقی قدروں کو تباہ کرنے والے حالاتوں سے سمجھوتہ کرکے اوپر کے ظلم نیچے والوں پہ تقسیم کرنے کی بجائے ظالم کو اصلاح پہ مجبور کیا جائے ریاست کی ترقی کے لیے انسانیت کے اخلاقی کردار کو مسخ کرنے والے صاحب اختیار لوگوں کی جگہ صاحب ضمیر لوگوں کو بیٹھایا جائے غربت اگر اتنی ہی بری ہوتی تو خدا اپنے ہرمحبوب بندے کو یہ تحفے میں نہ دیتا بدکردار دولت مندی کی بجائے باکردار غربت پہ فخر کرنا شیوہ پیغمبری ہے حلال و جائز زرائع سے روزی کمانا عین عبادت ہے اور اس عبادت کو قضا کرنے والے کی خدائی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی دین کے نام پر لوگوں کی آخرت کی فکر کرنے کی بجائے لوگوں کی دنیا دین کے مطابق بنانا دین سے سب سے بڑی خدمت ہے دنیاوی نظام کو دینی نظام میں ڈھالنا ہی آخرت کی تیاری ہے دنیاوی زندگی میں آسانی ہے۔ بندہ کسی بندے کا گنہگار نہ نکلا تو بخش دیا جائے گا مگرکسی بندے کا گنہگار نکلاتوہمیشہ ہمیشہ کی زلتوں میں جکڑ دیا جائے گا

  • بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    بنیان مرصوص،الفتح،پاکستان کی دفاعی طاقت دنیا مان گئی.تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان کی دفاعی تاریخ میں جب بھی ذکر ہوتا ہے، وہ کچھ نہ کچھ خاص لمحے ہوتے ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔ ان لمحوں میں سے ایک وہ وقت،دس مئی، بعد نماز فجر،جب پاکستان نے اپنے دشمن بھارت کو ایک زبردست فوجی جواب دیا۔ اس آپریشن کا نام تھا "بنیان مرصوص”، اور اس میں استعمال ہونے والے میزائل کا نام تھا "الفتح”۔

    "الفتح” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "فتح” یا "کامیابی”۔ یہ نام اس میزائل کو دیا گیا کیونکہ اس کا مقصد دشمن کو شکست دینے اور کامیابی حاصل کرنے کا تھا۔ "الفتح” ایک جدید اور انتہائی طاقتور میزائل تھا، جو کسی بھی دشمن کی دفاعی لائن کو توڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس میزائل کا مقصد نہ صرف فوجی طاقت کو ظاہر کرنا تھا بلکہ دشمن کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان ہر صورت میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔پاکستان کے اس فوجی آپریشن کا نام "بنیان مرصوص” رکھا گیا، جو کہ قرآن مجید کی ایک آیت سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کے اتحاد اور مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ "بنیان مرصوص” کا لغوی معنی ہے "ایک مضبوط دیوار” یا "ایک مضبوط قلعہ”۔ اس آپریشن کا مقصد دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنا اور اپنی سرحدوں کی مکمل حفاظت کرنا تھا۔ آپریشن کی کامیابی کی وجہ سے اس کا نام "بنیان مرصوص” بہت مناسب ثابت ہوا۔

    آپریشن کا وقت بھی ایک خاص روحانیت اور تاریخ سے جڑا ہوا تھا۔ اس آپریشن کا آغاز ایک حدیث سے متاثر ہو کر کیا گیا۔ حدیث میں آتا ہے،”جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہو، تو تمہاری کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔”یہ حدیث مسلمانوں کے عزم و حوصلے کو بڑھاتی ہے، اور اس آپریشن کی کامیابی میں اس کا بڑا عمل دخل تھا۔ آپریشن کی کامیابی اور طاقت کے پیچھے ایک عظیم ایمان اور عزم کا راز تھا۔

    پاکستانی فوج کے ہر آپریشن کی طرح اس آپریشن کی ابتداء بھی "بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم” سے کی گئی۔ یہ نہ صرف ایک روحانی آغاز تھا بلکہ اس سے یہ پیغام بھی دیا گیا کہ اس آپریشن میں اللہ کی مدد شامل ہے۔ فوجی افسران اور جوانوں نے اس کلمے کے ذریعے اپنے دلوں میں عزم پیدا کیا اور دشمن کے خلاف جنگ میں کامیابی کی دعائیں کیں۔جب آپریشن "بنیان مرصوص” کی کامیابی کو حاصل کیا گیا، تو اس کا اختتام بھی ایک روحانی انداز میں کیا گیا۔ اس کا اختتام "الحمدللہ رب العالمین” سے کیا گیا، یعنی "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔” یہ اس بات کا اظہار تھا کہ اس عظیم کامیابی کا سارا کریڈٹ اللہ کی ذات کو جاتا ہے۔ اس اختتام سے یہ پیغام دیا گیا کہ جب انسان اپنی محنت اور ایمانداری کے ساتھ کام کرتا ہے تو کامیابی خود بخود ملتی ہے۔

    آپریشن "بنیان مرصوص” نے بھارت کو ایک ایسا جواب دیا جس نے اس کی فوج کو ہلا کر رکھ دیا۔ بھارت کی دفاعی حکمت عملی اور طاقت کے باوجود، پاکستان نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جس سے بھارت کو شدید دھچکا لگا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں بھارت کی تباہی کا منظر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پاکستان کی فوج کی طاقت اور حکمت عملی نے عالمی سطح پر بھارت کی چالاکیوں کو بے نقاب کر دیا۔پاکستان کے اس کامیاب آپریشن کے بعد، بھارت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی اور جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مدد مانگی۔ اس میں بھارت کی شکست اور پاکستان کی کامیابی کا واضح پیغام تھا۔یہ تمام واقعات نہ صرف پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنے، بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ پاکستان ہر حال میں اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔ "الفتح” میزائل اور "بنیان مرصوص” آپریشن کی کامیابی نے دنیا بھر میں پاکستان کی فوجی طاقت اور عزم کا لوہا منوایا۔

  • "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    "بھارتی جارحیت اور پاکستانی رد عمل” .تحریر :عائشہ اسحاق

    6 مئی 2025 کو بھارت کی جانب سے بزدلانہ وار کیا گیا اور رات کی تاریکی میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں بیک وقت مزائل حملے کیے گئے جن میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا گیا بقول ڈی جی آئی ایس پی ار احمد شریف کے بھارت نے مریدکے ، بہاولپور، مظفرباد، کوٹلی، شکرگڑھ اور دیگر مقامات پر میزائل حملے کیے۔ جن کی وجہ سے مساجد اور نہتے بے گناہ عام پاکستانی شہید ہوئے۔یہ خالصتا سویلین آبادی پر حملہ ہے اور بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ۔بھارت نے نہ صرف بین الا قوامی قوانین کی سرحد پار کی بلکہ پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خود مختاری کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔ ہماری مسجدیں، مدرسے، بچے ،خواتین اور نہتے شہری شہید ہوئے بھارتی میزائل ہمارے گھروں تک آگئے ہیں۔ یہ بھارت کی ننگی جارحیت کا واضح ثبوت ہے۔

    حملے کے تمام اہداف خفیہ نہیں تھے بھارتی سوشل میڈیا صارفین پہلے ہی بتا چکے تھے کہ وہ کن جگہوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ اس کے باوجود ہم اتنے غیر تیار کیوں رہے؟ بہرحال افواج پاکستان کا دفاعی رد عمل بلا شعبہ قابل تعریف رہا ۔ پاکستانی ایئر فورسز کی جانب سے گرایا جانے والا بھاری رقم کے عوض فرانس سے خریدا گیا زبردست جنگی طیارہ رافیل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے باعثِ ندا مت بنا۔بھارتی کھلی جارحیت کے بعد 7 مئی 2025 کو رانا ثنا اللہ کی جانب سے بیان دیا جاتا ہے کہ "افواج نے کاروائی کی ہے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا جا چکا ہے اگر بھارت مزید کوئی کاروائی نہیں کرے گا تو ہم بھی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کاروائی نہیں کریں گے” دشمن پہلے ہی گھر میں گھس کر ہمارے لوگوں کو شہید کر چکا ہے اس پر ایسا غیر سنجیدہ اور احمقانہ بیان پاکستان کو ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے بھی نہایت کمزور دکھا رہا ہے اور پھر ہوتا کیا ہے کہ بھارت اپنی مزید جارحیت کو جاری رکھتے ہوئے ایک ہی روز میں پاکستان کے مختلف شہروں لاہور، کراچی، پنڈی، گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں میں تقریبا 77 ڈرون اٹیکز کرتا ہے۔ یہ انتہا ہے کہاں کہاں سے ڈرونز گر رہے ہیں، بھارت مسلسل جارحیت کا رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ بھارت نے ڈرونز کے ذریعے جاسوسی کر کے جو معلومات حاصل کرنا تھی وہ کر چکا ہے یہ ڈرونز فرا دینا محض دفاعی رد عمل ہے،

    قابل غور بات ہے کہ اگر بھارت واقعی اس معاملے کو بڑھانا چاہے تو اس کے پاس تمام معلومات دستیاب ہیں جن کی بنا پر وہ پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ دفاع کرنے اور جواب دینے میں کافی فرق ہے۔ جیسا کہ بھارت نے پاکستان پر جارحانہ حملہ کیا اور پاکستان کے 35 لوگ جن میں بچے بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں شہید کر دیے اور پھر پاکستان اسی حملے کے دفاع میں بھارتی طیارے اور ڈرونز گراتا ہے بھارت کو نقصان پہنچاتا ہے تو یہ صرف دفاع ہے جواب نہیں۔ دفاع کا مطلب ہوتا ہے اپنے نقصان کو روکنا، اپنی حفاظت کرنا، دشمن کی طرف سے کیے گئے وار کو ناکام بنانا، انہیں روکنا جبکہ جواب کا مطلب ہوتا ہے دشمن کو یہ احساس دلانا کہ جو نقصان تم نے ہمیں پہنچایا ہے اس کی قیمت تمہیں چکانی پڑے گی تاکہ آئندہ دشمن ایسا حملہ اور ایسی حماقت کرنے کی جرات نہ کر سکے .

    بھارت جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے پاکستان کے شہروں کے اندر اآکر نہتے پاکستانیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت کے وزیر دفاع خواجہ اصف کی طرف سے بیان آتا ہے کہ” ہم بھارتی شہریوں کو کبھی نشانہ نہیں بنائیں گے” بطور پاکستانی ہمارا مطالبہ ہے کہ جو جرات بھارت نے دکھائی ہے اس کا جواب دندان شکن ہونا چاہیے۔ اگر بھارتیوں کو نشانہ نہیں بھی بنانا تو مقبوضہ کشمیر سے پاکستان کی طرف آے والے دریاؤں پر بنائے گئے تمام چھوٹے بڑے ڈیمز آپریشن تجاوزات کی طرح گرانا بے حد ضروری ہیں ۔موجودہ حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کی بھارتی جارحیت پر خاموشی قابل افسوس ہے اس پر عطا تاڑ کا بزدلانا بیان” بھارت نے پاکستانی سرزمین پر جارحیت کی عالمی برادری نوٹس لے” نہایت شرمناک ہے۔

    ایک آزاد ملک کے آزاد شہریوں کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ دشمن کی طرف سے کی جانے والی ہر جارحیت کے بعد ہم صرف جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، کیا ہم یہ کہنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں کہ بھارت ہمارے گھر تک آگیا اور ہم نے ان کے جہاز گرا دیے یا سلامتی کونسل کے ذریعے بھارت کے اس عمل کی مذمت کی جائے۔ پاکستانی عوام کو یہ کہہ کر مطمئن نہ کیا جائے بلکہ بھارت کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ بھارت کو آئندہ ایسی ننگی جارحیت کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑے۔ قوم پاکستان، افواج پاکستان کی طرف سے دفاعی رد عمل کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھرپور منہ توڑ جواب دینے کی منتظر ہے ایسا جواب جب پوری دنیا میں پاکستان کی طاقت کا لوہا منوا سکے۔ پاکستان زندہ باد