Baaghi TV

Category: متفرق

  • ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    زمینی جنگ شروع ہونے سے پہلے، ایک جنگ اندر شروع ہو جاتی ہے۔دل اور دماغ کی جنگ۔ دلیل اور جذبات کی جنگ۔ قلم اور تلوار کی جنگ۔ اور جب بیرونی سرحدوں پر توپوں کا شور گونجتا ہے، تب یہ اندرونی جنگ انجام تک پہنچتی ہے۔ ایک طرف حب الوطنی کے جذبات کا طوفان ہوتا ہے، اور دوسری طرف روشن خیالی کے نام پر شکوک و شبہات کی طغیانی۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب دشمن کی توپوں کا منہ ہماری دھرتی کی طرف ہوجائے ، جب وطن کی مٹی کی مہک بارود میں گم ہونے لگے، جب گھر سے دور، بیمار پڑی ماں کے دکھ، ہسپتال میں زندگی اور موت کی آخری جنگ لڑتی بیوی کو چھوڑ کر سپاہی سرحد پر کھڑا ہو۔ تو اُس وقت ریاستی بیانیے پر تنقید کر کے کیا ہم سچ بول رہے ہوتے ہیں، یا دشمن کے جھوٹ کا ترجمہ کر رہے ہوتے ہیں؟
    یہ وقت نہیں کہ ہم اپنی فوج کی کارکردگی پر سوالات اٹھائیں، یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مکار دشمن کی حقیقت کو پہچانیں اور اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائے۔ گزشتہ رات ہونے والے حملوں کا مجھ سمیت 90 فی صد پاکستانیوں کو صبح جاگ کر پتہ چلا۔ اگر فوج نہ ہوتی تو ابھی تک ہمارا بھی شاید پتہ نہ ہوتا۔

    بھارت نے اس بار بھی اپنے روایتی چالاک اور بزدل طریقوں کو دوبارہ آزمایاہے۔ اور اس بار وہ ہماری سول سوسائٹی پر حملہ آور ہوا۔ رات کی تاریکی ہمارے مقدس مقامات، مساجد اور مدارس کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔کم ظرف دشمن نے ہمارے شہریوں، عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا، اور ان معصوم جانوں کا خون ہماری سرزمین پر بہایا۔یاد رکھیں، ان حملوں کا مقصد سرحدی علاقوں کو متاثر کرنا نہیں تھا، بلکہ پوری قوم کی روح پر ضرب لگانا تھا۔ جب دشمن ہمارے ثقافتی ورثے، ہماری مساجد اور مدارس پر حملہ کرتا ہے، تو وہ صرف ہماری فوجی طاقت کو نہیں، ہماری روایات، ایمان اور تاریخ کو چیلنج کرتا ہے۔ہم اس وقت صرف بھارت سے نہیں لڑ رہے، اس لڑائی کے پیچھے وہی پرانا منصوبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر بیرونی حملے کو صرف ’ردعمل‘ کے طور پر پیش کرنا۔ اس بار بھی وہی پرانا منظرنامہ ہے، اداکار بھی وہی ہیں پرانے ہیں،مگر سکرپٹ رائٹر زیادہ چالاک ہے۔ اب میز پر بھارت کے ساتھ اسرائیل بھی بیٹھا ہے، اور ان کے سامنے صرف ایک ہدف ہے،پاکستان کو غیر مستحکم کرنا۔

    ایسے میں، اگر کوئی اندر سے اپنے ہی محافظ پر شک کرے، تو وہ شک نہیں، شراکت داری کہلائے گی۔ اس وقت میرا وہی بیانہ ہے، جو میری ریاست کا بیانیہ ہے۔
    ریاست کی بقا کسی ایک ادارے کی نہیں، پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اختلاف کا وقت امن ہوتا ہے، جنگ میں صرف اتحاد ہوتا ہے۔ جیسے محاذ پر ایک سپاہی اپنی جان کی پروا کیے بغیر مورچے میں بیٹھا ہے، ویسے ہی ہمیں اپنی رائے کی آزادی کو تھوڑی دیر کے لیے ملک کے وقار کے تابع کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب توپ کا منہ کھلتا ہے، تب بڑی سے بڑی دلیلوں کا منہ بند ہوجاتا ہے۔

  • صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    صحافت واقعی آزاد ہے؟ تحریر:نور فاطمہ

    آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں صحافیوں کے حقوق کی حفاظت اور صحافت کی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوامی معلومات تک رسائی کی اہمیت کو سمجھانا اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، تاکہ وہ بلا خوف و خطر سچائی کا پتہ چلا سکیں اور آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

    آزادی صحافت کی اہمیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ صحافت، جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف حکومتوں کی نگرانی کرتا ہے بلکہ عوام کو معلومات فراہم کرتا ہے اور معاشرتی تبدیلیوں کو سامنے لاتا ہے۔ آزادی صحافت کا عالمی دن ہر سال اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا میں مختلف جگہوں پر صحافیوں کو خطرات، ہراسانی اور تشویش کا سامنا ہے۔یہ دن اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد صحافت کے لئے ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دینا ہے تاکہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو آزادانہ طور پر پورا کر سکیں۔

    پاکستان میں صحافت کی آزادی ایک پیچیدہ اور مشکل سفر رہا ہے۔ پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگرچہ آئین میں صحافت کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، مگر حقیقت میں صحافیوں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستان میں صحافیوں کو سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات، اور بعض اوقات تشویش یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ صحافی جو سچائی بیان کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں، تشدد، یاپھر جان بھی لے لی جاتی ہے،

    صحافیوں نے ہمیشہ عوامی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا ہے۔ پاکستان کے اندر ہونے والی سیاسی کشمکش، اور دیگر مسائل پر صحافیوں کا کردار اہم رہا ہے۔ تاہم، انہیں مسلسل خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، جس میں خود مختاری کی کمی، معلومات کی آزادی پر قدغن، اور میڈیا کی آزادی کو دبانے کی کوششیں شامل ہیں،صحافیوں کو پاکستان میں تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے، اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ صحافیوں کو بروقت تنخواہیں بھی دیں، سب کی خبر دینے والے صحافی اپنی تنخواہ نہ ملنے کی خبر کسی کو نہیں دے سکتے، صحافیوں کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کا معاشی استحصال نہ کیا جائے،

    دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک اہم موقع ہے۔ کئی ممالک میں صحافیوں کے لئے حالات بہتر ہو رہے ہیں، لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ عالمی سطح پر حکومتوں کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہیے کہ وہ صحافیوں کی آزادی کی حفاظت کریں اور صحافتی اداروں کو اپنا کام آزادانہ طور پر کرنے کی اجازت دیں۔دنیا کے مختلف حصوں میں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں آزادی صحافت محدود ہے، صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیاں کسی نہ کسی طریقے سے جمہوریت کے استحکام کی طرف ایک قدم ہیں۔ صحافیوں کو حقائق کی تلاش اور معلومات کی ترسیل میں آزاد ہونے کا حق حاصل ہونا چاہئے تاکہ وہ عوام کو صحیح اور غیر متنازعہ معلومات فراہم کر سکیں۔

    آزادی صحافت کا عالمی دن ایک یاد دہانی ہے کہ صحافت ایک طاقتور ہتھیار ہے جس کا مقصد معاشرتی تبدیلی، انصاف اور سچائی کی تلاش ہے۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ صحافی بغیر کسی خوف کے اپنے فرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ صحافت کی آزادی نہ صرف صحافیوں کے حقوق کا مسئلہ ہے بلکہ یہ جمہوریت کی مضبوطی اور عوام کی بنیادی حقوق کی ضمانت ہے۔

  • ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ” غلامی سے غلامی تک ". تحریر :عائشہ اسحاق

    ہمارے آباؤ اجداد نے گوروں سے آزادی کی خاطر کون سی ایسی قربانی ہے جو نہ دی ہو اس داستان کو اگر تفصیل میں بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو نہ جانے کتنے صفحات لکھنے کے بعد بھی مکمل بیان کرنا مشکل ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ سینکڑوں قربانیاں دینے ،اذیتیں اور درد اٹھانے کے بعد حاصل ہونے والی آزادی میں کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ پاکستان کی موجودہ صورتحال دیکھنے کے بعد تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا سفر محض غلامی سے غلامی تک کا ہی ہے۔ 1947 میں جو آزادی انگریز راج سے حاصل کی گئی تھی وہ اب ان کے پیروکاروں کی غلامی میں بدل چکی ہے۔ تاریخ کس طرح سے اپنا دہرا رہی ہے اس کا اندازہ قیام پاکستان سے پہلے جلیانوالہ باغ امرتسر پنجاب میں ہونے والے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہوا کچھ اس طرح سے تھا کہ اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ امرتسر میں سکھوں کا مذہبی تہوار بیساکھی منانے اور حصول آزادی کی خاطر جلسہ منعقد کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس وقت برٹش آرمی کے موجودہ جنرل ڈائر نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولیاں برسانے کا حکم دیا۔ جنرل ڈائر کے حکم پر پر تا بڑ توڑ گولیاں برسائی گئیں اور ایک ہجوم کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہر وہ آواز دبا دی گئی جو اس ظلم کے خلاف اٹھی لوگوں کی عزتیں اتارنا شروع کر دی گئیں ایسا خوف و ہراس پھیلایا گیا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ایسی سفا کانہ سزائیں دی گئیں جن کا الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

    انگریز بھی بات تو برابری کی ہی کرتا تھا مگر جب بھی کوئی حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھاتا تو جوابی رد عمل انتہائی سنگین ہوتا پاکستان میں بھی اس وقت کوئی انسانی حقوق کسی کو حاصل نہیں ہے ذرا سی تنقید برداشت نہیں ہوتی، اسلامی جمہوریہ پاکستان جہاں عوام کی رائے کا احترام کرنا تو دور کی بات ہے بولنے پر بھی پابندی ہے۔ آوازیں دبا دی جاتی ہیں،
    ہمارا عروج یہ تھا کہ خلیفہ وقت سے بھی سوال ہوا تھا کہ اضافی چادر کہاں سے آئی؟
    زوال یہ ہے کہ سوال اٹھاؤ گے تو اٹھا لیے جاؤ گے۔
    اس ظلم و جبر کے تانے بانے آج بھی انگریز راج سے جڑے ہوئے ہیں۔ نظام تعلیم پر اگر نظر ڈالیں تو پاکستانی نظام تعلیم آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 کو فالو کر رہی ہے۔ جہاں نمبرز کو اہمیت دی جاتی تھی اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اپ اپنی قابلیت سے ٹاپ کر رہے ہیں یا رٹا لگا کر کرتے ہیں۔ یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے یونیورسٹیز اور کالجز کے سٹوڈنٹس کو کنسپٹ سمجھنے کے لیے گھر جا کر یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنا پڑتی ہیں جہاں یہ سٹوڈنٹس اپنا کنسپٹ کلیئر کر رہے ہوتے ہیں وہ تمام تر ویڈیوز 90 فیصد انڈین کی ہوتی ہیں۔ ہمارا نظام تعلیم بزنس اورینٹ تو دور جاب اورینٹ بھی نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹیز اور کالجز میں کوئی ٹیکنیکل یا پریکٹیکل نالج نہیں دی جاتی ہے ۔ ٹیکنیکل نالج کے لیے سٹوڈنٹس کو یا تو کوئی تین چار مہینے کا کورس کرنا پڑتا ہے یا ان پیڈ انٹر ن شپ کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس تمام کامیاب ممالک میں جدید طرز سے سٹوڈنٹس کو پریکٹیکل اور ٹیکنیکل طریقہ کار سے تعلیم دی جا رہی ہے۔ مگر ہمارے نوجوان اسٹوڈنٹس آج بھی برٹش ایجوکیشن ایکٹ 1835 میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سب کے علاوہ وہی پرانا ڈبل سٹینڈرڈ طرز زندگی جس طرح انگریز پر آسائش زندگی گزارا کرتے اور باقی عام عوام نہایت پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے آج بھی پوش علاقوں میں جا کر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی یورپی ملک میں آگئے ہوں،دوسری طرف عام عوام کے علاقے دیکھ لیں جہاں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، جگہ جگہ کھڈ ے، تنگ گلیاں ان میں ابلتے ہوئے گٹر چھوٹے چھوٹے گھر بنیادی سہولیات سے محروم غریب عوام کی پسماندگی کو چیخ چیخ کر ظاہر کرتے ہیں۔ پوش علاقوں میں اور پسماندہ علاقوں میں زمین آسمان کا فرق ایک غیر منصفانہ نظام کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں مخصوص طبقہ عوام کے تمام تر حقوق اور وسائل پر قابض ہے۔ جن کی نظر میں انگریزوں کی طرح پاکستانی محض غلاموں سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ 1947 میں حاصل کی گئی آزادی کے بعد بھی عام عوام آزادی کا اصل مزہ لینے سے محروم ہے اور آزادی کس چڑیا کا نام ہے اس بات سے مکمل طور پر لا علم ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہ تو جمہوریت ہے نہ اسلامی قوانین کی کوئی پاسداری ہے۔ ایک غیر منصفانہ جبری نظام رائج ہے۔ اس تحریر کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ ایک بار پھر عوام کو متحد ہو کر اپنے حقوق چھیننا ہوں گے اور اصل آزادی حاصل کرنا پڑے گی جس کے لیے عوام کا ایک ہونا بہت ضروری ہے۔ یاد رکھیں قران پاک میں اللہ تعالی نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ انسان کو وہی حاصل ہوتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے اگر اپ عوام اپنی آزادی کے لیے اپنے حقوق کے لیے کوشش نہیں کریں گے تو کوئی آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔ جو کرنا ہے آپ نے خود کرنا ہے یہی سبق ایک معروف شاعر کے اس شعر سے بھی ملتا ہے۔
    جینے کا حق سامراج نے چھین لیا
    اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو
    ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے
    مٹ جاؤ یا قصر پامال کرو
    ( حبیب جالب)۔

  • درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں

    درخت لگائیں، پاکستان بچائیں
    تحریر : جلیل احمد رند
    موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے اور پاکستان سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، سیلاب اور خشک سالی پہلے ہی لاکھوں پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان خطرات سے لڑنے کے لیے ایک طاقتور حل ہماری زمین میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہے۔

    درخت ماحولیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، تازہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں، ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں، اور مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ جنگلات سیلابوں اور طوفانوں کے خلاف قدرتی رکاوٹوں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کثرت سے ہوتے جا رہے ہیں۔

    بدقسمتی سے، پاکستان خطے میں جنگلات کی سب سے کم شرحوں میں سے ایک رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے کل رقبے کا صرف 5 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہ عالمی اوسط سے بہت کم ہے اور ملک کو موسمیاتی تبدیلی کے نقصان دہ اثرات سے زیادہ بے نقاب کرتا ہے۔

    اس پر قابو پانے کے لیے ہمیں پورے پاکستان میں درخت لگانے کی ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر دور دراز کے دیہات تک، سب کو اس میں حصہ لینا چاہیے۔ اسکولوں، برادریوں، کاروباروں اور سرکاری تنظیموں کو سبز جگہوں کو بڑھانے اور جنگلات کی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ "بلین ٹری سونامی” اور "دس بلین ٹری سونامی” پروگرام جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر شجرکاری ممکن ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم اور عوامی شرکت موجود ہو۔

    درخت لگانا صرف ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری بھی ہے۔ ایک سرسبز پاکستان کا مطلب ہے آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند، محفوظ اور زیادہ خوشحال ملک۔

    آئیے، اپنے آنے والے کل کو بچانے کے لیے آج درخت لگائیں!

  • پہلگام ڈرامہ،  ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    پہلگام ڈرامہ، ” کھرا سچ”مبشر لقمان کا واضح پیغام.تحریر:نور فاطمہ

    بھارت میں مودی سرکار اپنی ناکامیوں، ظلم و جبر، کرپشن اور انتہاپسندانہ پالیسیاں چھپانے کی کوشش کرتی ہے تو ایک نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، کبھی پلوامہ، کبھی اوڑی، اور اب "پہلگام”لیکن اس بار بھارت کو منہ کی کھانا پڑی، کیونکہ پاکستان نے نہ صرف ہر الزام کا دنداں شکن جواب دیا بلکہ اتحاد، جرأت اور حب الوطنی کی ایک ایسی مثال قائم کی کہ دشمن کے ایوانوں میں لرزہ طاری ہو گیا۔ بھارت نے حسبِ عادت انگلی پاکستان کی طرف اٹھائی، تو پاکستانی قوم نے جواب دیا "اگر جنگ مسلط کی گئی تو تمہیں وہ سبق سکھائیں گے جو تمہاری آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی!”افواجِ پاکستان نے کمر کس لی، سیاستدانوں نے اختلافات بھلا کر ایک آواز میں بات کی، میڈیا نے دلیرانہ انداز اپنایا، اور عوام پاکستان نے سوشل میڈیا کو مورچہ بنا کر دشمن کے پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا۔

    اس جنگ میں سچائی کے سپاہیوں کی صفِ اول میں ایک نام نمایاں ہے،مبشر لقمان ، وہ اینکر، وہ صحافی، جسے نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے،پہلگام واقعے کے فوراً بعد مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل "مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل” پر مسلسل پروگرامز کر کے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا۔ مودی سرکار کے جھوٹ، بھارتی میڈیا کے جھانسے، آر ایس ایس کے ایجنڈے، اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔ ان کے پروگرام "کھرا سچ” نے وہ سچ دکھایا جو بھارتی عوام سے چھپایا جا رہا تھا۔بھارت، جسے خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہنے کا زعم ہے، سچ برداشت نہیں کر سکا۔ مودی سرکار نے مبشر لقمان سمیت کئی پاکستانی صحافیوں کے یوٹیوب چینلز بھارت میں بند کر دیے۔یہ صرف ایک یوٹیوب چینل کی بندش نہیں، یہ آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کی شرمناک کوشش ہے.ایک طرف بھارت دنیا کو آزادی کا سبق دیتا ہے، دوسری طرف سچ سننے کی سکت نہیں رکھتا۔ جو سوال کرتا ہے، جو آئینہ دکھاتا ہے، جو حق بولتا ہے ، اس کی آواز بند کر دی جاتی ہے۔لیکن یاد رکھو مودی،سچ کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا

    کھرا سچ کبھی نہیں جھکتا،پاکستان کے دلیر صحافی، عوام اور افواج ایک پیج پر ہیں۔ ہمارا پیغام صاف ہے "اگر تم جنگ چاہتے ہو، تو ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں! لیکن سچ سے مت بھاگو، سچ کو سنو”مبشر لقمان جیسے صحافی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی کی علامت ہیں۔ اور جب تک ایسے چراغ روشن ہیں، پاکستان کا موقف دنیا تک پہنچتا رہے گا، چاہے تم کتنے ہی چینل بند کرو، کتنے ہی پراپیگنڈے کرو ..”کھرا سچ” ہمیشہ بولے گا، گونجے گا، اور تمہاری نیندیں حرام کرتا رہے گا

    مودی کا سچ پر وار،مبشر لقمان کا چینل بھارت میں بند،پاکستانی صحافیوں کا شدید ردعمل

    بھارت کو "کھرا سچ”ہضم نہ ہوا، مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بند کر دیا

    پہلگام حملہ، اینکر پرسن مبشر لقمان نے انڈین میڈیا او رحکومت کا جھو ٹ بے نقاب کر دیا

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس میں بہتری کیلئے وزیراعلیٰ کا کردار،تحریر:ملک محمد سلمان

    پنجاب پولیس کے رویوں میں بہتری اور رشوت کے خاتمے کیلئے مختلف تجربے کیے جاتے رہے کبھی وردی کا رنگ تبدیل کیا گیا تو کبھی چار، چھے ماہ بعد آئی جی کی تبدیلی لیکن نہ تو پولیس کے رویے بہتر ہوسکے اور نہ ہی رشوت کلچر کا خاتمہ۔ پی ٹی آئی کی بزدار حکومت اور بعد ازاں نگران دور حکومت میں پولیس نے اختیارات کا جس بے دردی سے استعمال کیا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پولیس احتساب سے بالا تر مخلوق بن چکی ہے۔ ناکوں پر تعینات پولیس والوں کو دیکھ کر تحفظ سے زیادہ لٹنے کا احساس ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ خطرناک اور شرمناک پہلو یہ تھا کہ پولیس افسران عوامی تحفظ کے اصل کام کی بجائے سیلف پروجیکشن کی جعل سازیوں میں پڑ کر ٹک ٹاک سٹار بننے پر لگے ہوئے تھے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس سمیت تمام سرکاری ملازمین کی غیر قانونی سیلف پروجیکشن پر پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریٹک مارشل لاء کا خاتمہ کرتے ہوئے عوامی طرز حکومت کی طرف پیش قدمی کی۔
    مریم نواز شریف نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے ہی محکمہ پولیس میں جامع اصلاحات متعارف کروانے پر توجہ مبذول کی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سابق وزراء اعلیٰ کے روائتی انداز کو اپنانے کی بجائے پولیس کی کارگردگی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے حوالے سے باقاعدگی سے بیسوں اجلاس کی صدارت کی اور ہر دفعہ پولیس میں اصلاحات، کارگردگی میں بہتری، عوامی تحفظ اور کرپٹ پولیس افسران و اہلکاروں کے احتساب پر زور دیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوام کی جان و مال کے تحفظ، قیام امن اور بہترین سروس ڈیلیوری کیلئے محکمہ پولیس کیلئے ”کی پرفارمنس انڈیکیٹرز“ (KPIs)متعارف کروائے۔ مریم نواز نے اس بنیادی مرض کو بھی سمجھ لیا کہ نمبر گیم اور سب اچھا دکھانے کیلئے پولیس مقدمات کا اندراج ہی نہیں کرتی اس لیے وزیراعلیٰ نے سختی سے ہدایات کیں کہ جعلی نمبر گیم کیلئے عوام کو مقدمے کے اندراج کے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے۔ مریم نواز کے عوامی طرز عمل کے باعث عوام میں اعتماد پیدا ہوا کہ اگر پولیس کی کسی بھی زیادتی کی شکایت وزیراعلیٰ آفس تک پہنچ جائے تو اس پر فوری کاروائی ہوتی ہے۔ اس اعتماد سازی کو پختہ اور فیصلہ کن بنانے میں اہم کردار ایڈیشنل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر سیف انور جپہ کا ہے جو وزیراعلیٰ آفس میں آنے والی ہر شکایت کو ذاتی حیثیت میں ”فالو“ کرتے ہیں اور گھنٹوں اور دنوں میں دادرسی کو ممکن بناتے رہے ہیں، اسی بے مثال کرگردگی کی وجہ سے سیف انور جپہ کو سپیشل سیکرٹری لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس تعینات کردیا گیا ہے تاکہ اور موئثر انداز میں عوامی شکایات کا ازالہ اور پولیس کو عوام دوست پولیس بنایا جاسکے۔ ماضی میں لاء اینڈ آرڈر وزیراعلیٰ آفس کی سیٹ پر جونئیر پولیس افسران کی تعیناتی سے پولیس کے جرائم فائلوں میں دب جاتے تھے اور حکمرانوں تک سب اچھا کی جعلی رپورٹس جاتی تھیں جس وجہ سے پولیس میں بہتری کی تمام امیدیں دم توڑ چکیں تھیں۔
    لاہور پولیس میں کڑے احتساب، ڈی آئی جی آپریشن لاہور فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا کی عوام کیلئے بنا سفارش اوپن ڈور پایسی کی وجہ سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کامران خان، آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل اور آرپی او گوجرانوالہ طیب حفیط چیمہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کو عملی جامعہ پہناتے ہوئے امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔
    پنجاب میں مجموعی امن عامہ کے قیام، کریمینل گینگز کے خلاف آپریشن کلین اپ اور قانون شکن عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر فیصلہ کن کارروائیوں کیلئے کرائم کنڑول ڈیپارٹمنٹ کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت اور بہترین فیصلہ ہے۔ پنجاب کو کرپشن فری کرنے کیلئے تمام سفارشوں کو رد کرکے میرٹ پر کرپٹ افراد کے خلاف قابل زکر کاروائیاں کرنے اور انٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو فعال بنانے والے سہیل ظفر چٹھہ اور وقاص حسن کی قیادت میں بننے والی سی سی ڈی پنجاب کو جرائم فری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر آئی جی پنجاب عثمان انور نے عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کے تحت تھانوں کے روایتی کلچر کو عوامی خدمت مراکز میں تبدیل کیا۔ عالمی معیار کے سٹیٹ آف دی آرٹ پولیس اسٹیشنز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو ضروری خدمات برق رفتاری سے مہیا کی جا رہی ہیں۔ پولیس کو جدید اسلحہ، گاڑیاں، نائٹ ویژن ڈرون سمیت جدید تقاضوں کے عین مطابق ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا۔ خدمت مراکز پر ایک چھت تلے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس ویری فکیشن، وہیکل ویری فکیشن، گمشدگی رپورٹ، کرائم رپورٹ، خواتین کی قانونی راہنمائی، ایف آئی آر کی نقول، کرایہ داری اور گھریلو ملازمین کے اندراج، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کی خدمات فراہم کی گئیں۔

    پنجاب کو جرائم اور کرپشن فری صوبہ، پولیس کو کرپشن اورجرائم پیشہ عناصر کے مددگاروں سے پاک کرنے کیلئے مجرموں سے ساز باز کرنیوالے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کوسزائیں دے کر مثال بنایا جارہا ہے، سیکرٹری پراسیکیوشن پنجاب احمد عزیز تارڑ پراسیکیوشن محکمہ کی مکمل اوورہالنگ اور مضبوطی پر کام کررہے ہیں تاکہ ہر طرح کے عدالتی مقدمات میں حکومت پنجاب کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ٹریفک پولیس کی کارگردگی ابھی تک زیرو ہے خاص طور پر لاہور میں تیز فلیشر لائٹ، بنا نمبر پلیٹ رکشوں، گاڑیوں اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کاروائی نہیں کی جارہی۔

  • پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہلگام فالس فلیگ،مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    سری نگر, پہلگام حملے کے بارے میں ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی ایف آئی آر نے بھارتی حکومت کے واقعات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں، جس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیکورٹی ذرائع مودی انتظامیہ کی طرف سے ترتیب دیے گئے "جھوٹے فلیگ آپریشن” کا نام دے رہے ہیں۔ سیکورٹی حکام کے مطابق، ایف آئی آر – پہلگام پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی – ان تضادات کو ظاہر کرتی ہے جس سے حملے کی صداقت پر شک پیدا ہوتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن مبینہ واقعہ کی جگہ سے تقریباً 6 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حملہ دوپہر 1:50 سے 2:20 کے درمیان ہوا، لیکن حیران کن طور پر، ایف آئی آر سرکاری طور پر صرف 10 منٹ بعد 2:30 بجے درج کی گئی۔ سیکورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ غیر معمولی طور پر تیزی سے ایف آئی آر کا اندراج پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مزید برآں، ایف آئی آر میں نامعلوم "سرحد پار دہشت گردوں” کو مجرم قرار دیا گیا ہے – ایک بیانیہ جو ہندوستانی حکومت اکثر بیرونی عناصر سے حملوں کو منسوب کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایف آئی آر میں اس حملے کو اندھا دھند فائرنگ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جب کہ بھارتی حکام اور میڈیا نے اسے مسلسل "ٹارگٹ کلنگ” کے کیس کے طور پر بنایا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں استعمال کی گئی اصطلاحات، بشمول "غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر” کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے مشتبہ طور پر پہلے سے تیار کیا گیا تھا۔ عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی آر کی رہائی نے مبینہ طور پر پہلگام کے جھوٹے فلیگ آپریشن کو سیاسی جوڑ توڑ کی ایک ناقص کوشش کے طور پر بے نقاب کردیا ہے، جس کا مقصد ایک اسٹریٹجک بیانیہ کے طور پر تھا جسے مودی حکومت کے لیے قومی شرمندگی میں بدل دیاہے۔بھارتی حکومت کی جھوٹ پر مبنی پالیسیوں کی قلعی ایک بار پھر کھل گئی۔ اس بار مقام ہے مقبوضہ کشمیر کا خوبصورت مگر زخم خوردہ علاقہ "پہلگام” اور وقت ہے 22 اپریل 2025۔ کہنے کو یہ ایک عام دن تھا لیکن چند گھنٹوں بعد بھارتی میڈیا، سیکیورٹی ادارے اور سیاسی پنڈت ایک طوفان برپا کر چکے تھے۔ دعویٰ کیا گیا کہ پہلگام میں "سرحد پار سے آئے دہشت گردوں” نے 26 سیاحوں کو نشانہ بنایا۔ لیکن اگلے ہی دن وہ ایف آئی آر سامنے آئی جو اس سارے ڈرامے کی حقیقت کو نہ صرف بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ ایک منظم، منصوبہ بند فالس فلیگ آپریشن تھا جس کا مقصد سیاسی مفادات سمیٹنا اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔کشمیر میں دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم اور جھوٹے دعوے نئی بات نہیں۔ لیکن اس بار ایف آئی آر ہی نے مودی سرکار کا پردہ چاک کر دیا۔ پہلگام واقعے کے حوالے سے جو ایف آئی آر درج کی گئی، اس میں وقت، ردعمل، اور الفاظ کے انتخاب نے سیکیورٹی ماہرین کو چونکا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق حملہ 13:50 پر شروع ہوا اور 14:20 پر ختم ہوا۔ حیرت انگیز طور پر صرف دس منٹ بعد یعنی 14:30 پر ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی 6 کلومیٹر دور پولیس اسٹیشن تک اطلاع پہنچی، وہاں سے ٹیم آئی، جائے وقوعہ کا جائزہ لیا، رپورٹ تیار کی گئی اور صرف دس منٹ میں مکمل ایف آئی آر درج کر لی گئی؟ یا پھر یہ سب کچھ پہلے سے ہی تیار شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھا؟ یہ پہلے سے لکھی کہانی تھی؟ایف آئی آر کے متن میں جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ایک "ریہرسل شدہ” اسکرپٹ تھی۔ ’’نامعلوم سرحد پار دہشت گرد‘‘، ’’بیرونی آقاؤں کی ایماء‘‘، ’’اندھا دھند فائرنگ‘‘ جیسے الفاظ چند منٹ میں کسی سپاہی یا محرر کے ذہن میں نہیں آتے جب تک انہیں پہلے سے لکھا نہ گیا ہو۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی تاریخ ایسے فالس فلیگ آپریشنز سے بھری پڑی ہے جنہیں یا تو الیکشن جیتنے کے لیے استعمال کیا گیا یا پھر کسی سفارتی دباؤ سے بچنے کے لیے۔یہ صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل ہے،اب سوال یہ ہے کہ مودی حکومت کو اس فالس فلیگ سے کیا حاصل ہوا؟ اس کا جواب بھی ایف آئی آر کے فوراً بعد سامنے آ گیا۔ بھارت نے اگلے ہی روز سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ یعنی ایک دن پہلے پہلگام میں "حملہ”، اگلے دن "معاہدہ معطل”۔ یہ واضح ہے کہ فالس فلیگ حملے کو بنیاد بنا کر ایک بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔بھارتی میڈیا ہمیشہ سے مودی سرکار کا ترجمان رہا ہے۔ پہلگام واقعے کے بعد بھی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے بغیر تحقیق کے دہشت گردی کا لیبل پاکستان پر ڈال دیا۔ حالانکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ بلکہ الٹا ایف آئی آر کی زبان اور جلدبازی نے پورے واقعے کو مشکوک بنا دیا۔ ایک طرف ایف آئی آر میں "اندھا دھند فائرنگ” کا ذکر ہے، تو دوسری طرف بھارتی میڈیا اسے "ٹارگٹڈ کلنگ” کہہ رہا ہے۔ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ کہیں چھپ کر رہ گیا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید دباؤ کا شکار تھا۔ یورپی یونین کی ایک رپورٹ میں کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اسی دوران بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ کا ناٹک رچا کر عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی کا شکار ہے، مظلوم ہے، اور پاکستان اس کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ایف آئی آر کی قبل از وقت تیاری اور اس میں شامل الفاظ نے ان کا بیانیہ زمین بوس کر دیا۔تاریخی جھوٹ اور فالس فلیگز ،یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کا سہارا لیا ہو۔ ماضی میں پٹھان کوٹ، اوڑی، اور پلوامہ جیسے واقعات میں بھی یہی انداز اپنایا گیا۔ پلوامہ حملے کے بعد تو باقاعدہ الیکشن جیتنے کے لیے فضائی حملہ کیا گیا، جس میں نہ کوئی ہلاکت ہوئی، نہ نقصان۔ بس ایک درخت گرا۔ آج تک دنیا بھارت سے سوال کرتی ہے کہ پلوامہ میں آخر کیا ہوا تھا؟ اور اب پہلگام اس جھوٹ کی تازہ ترین قسط ہے۔پاکستان نے پہلگام واقعے کے بعد اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر زور دیا ہے کہ اس کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کا یہ نیا ڈرامہ دراصل اصل مسئلے یعنی کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اگر بھارت کے پاس واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ عالمی برادری کے سامنے لائے، صرف الزامات کافی نہیں۔کشمیری عوام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ان پر مسلط حکمران جھوٹ کے کتنے ماہر ہیں۔ پہلگام واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کشمیری نوجوانوں نے جس انداز میں بھارتی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، وہ قابل ذکر ہے۔ ’’یہ حملہ ہم پر نہیں، ہماری سچائی پر ہے‘‘ جیسے جملے وائرل ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں کو معلوم ہے کہ ان کا اصل مجرم کون ہے اور اصل نجات کہاں سے آئے گی۔

    پہلگام واقعہ نہ صرف بھارت کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی۔ اگر دنیا واقعی انسانی حقوق، شفاف تحقیقات، اور امن کی دعوے دار ہے تو اسے اس واقعے کی آزادانہ تحقیق کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ اگر دنیا خاموش رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ فالس فلیگ آپریشنز جیسے ہتھکنڈے جائز تصور کیے جا سکتے ہیں، جو ایک خطرناک مثال بنے گی۔

    پہلگام فالس فلیگ واقعہ مودی حکومت کے لیے ایک نیا ہتھیار ضرور تھا، مگر ایف آئی آر کی جلد بازی نے اس ہتھیار کو خود انہی کے خلاف استعمال کر دیا۔ اب نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر کے باشعور انسان جان چکے ہیں کہ بھارت ایک بار پھر جھوٹ کے پہاڑ پر چڑھ کر خود ہی پھسل گیا ہے۔ ایسے جھوٹ زیادہ دیر نہیں چلتے۔ آج اگر ایف آئی آر ہی نے ان کا چہرہ بے نقاب کیا ہے، تو کل کوئی عالمی فورم ان کے خلاف فیصلہ بھی دے سکتا ہے۔ فالس فلیگ کا سورج اب غروب ہونے کو ہے، اور سچائی کی کرنیں آہستہ آہستہ منظر عام پر آ رہی ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں نقل کیلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • پہلگام  ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    پہلگام ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    چند روز قبل 22 اپریل 2025 کو بھارت مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں ہونے والا واقعہ انسانیت کے لحاظ سے قابل افسوس ہے مگر بھارت نے اپنے فوج کی غفلت اور نا اہلی کو چھپایا اور پہلگام واقعہ کے فورا بعد بھارتی میڈیا کی بے لگام زبانیں بنا کسی ثبوت اور انکوائری کے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے لگیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ پہلگام وہ جگہ ہے جو امرناتھ یاترا کے بہت قریب ہے اور ہمیشہ سے ہی پرخطر رہی ہے ہر سال تقریبا پورے بھارت سے انے والے ہندو یاتریوں پر حملہ ہونا عام سی بات ہے۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ بھارتی فوج نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ۔ تقریبا 15 سال پہلے مقبوضہ جموں کشمیر کے ڈسٹرکٹ اناتھ ناگ میں واقع ایک بستی جس کا نام چٹی سنگھ پورہ ہے اس میں کچھ افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بے قصور 35 سکھ اپنی جان کی بازی ہار گئے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ اور ساؤتھ انڈین زبان بول رہے تھے اور بھارت ماتا کی جے ہو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ حملہ بھی بھارت کے اندرونی عناصر کی طرف سے ہی کیا گیا ہو بہرحال بغیر کسی شفاف ازادانہ انکوائری اور بغیر کسی ثبوت کے بھارت کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور فوری طور پر جنگی کشیدگی اختیار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا ایک بڑے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلگام حملہ کے پیچھے بھارت کے اپنے مفاداتی عزائم پوشیدہ ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا وہ اپنا مقصد بغیر جنگ کے پورا کرنا چاہتا ہے جو کہ کسی حد تک کر چکا ہے۔ فضائی حدود بند کرنا, تجارت بند کرنا, سفارت خانے سے پاکستانی سفارت کار وں کو نکالنا , واہگہ بارڈر بند کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب محض دکھاوا ہے بھارت اصل وار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں کر چکا ہے۔ جو کہ انتہائی خطرناک ہے،اس کے بعد بھارت کو کوئی حملہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پانی بند ہونے کی صورت میں پاکستان بنجر ہو جائے گا ہر طرف بھوک پیاس اور غذائی قلت چھا جائے گی یہی وہ تباہی ہے جو بھارت کی درینہ خواہش اور سب سے اہم خواب رہی ہے۔ اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے ۔لائن اف کنٹرول پر بھارت کی اوچھی حرکتیں محض ڈرامے بازی کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقتا بھارت اپنا اصل ہدف پانی روک کر پورا کر چکا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے معدنیات تک رسائی چاہتا ہے اور اسرائیل گریٹر اسرائیل اسٹیٹ بنانے کا خواہاں ہے، بھارت پاکستان کا پرانا دشمن ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ دوستانہ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس لیے پہلگام حملہ کی آڑمیں بھارت اسرائیل اور امریکہ کو بھی بھرپور موقع فراہم کر رہا ہے اور پاکستانی عوام کا دھیان فلسطین اور معدنیات کی طرف سے ہٹانے کے لیے جنگی ماحول قائم کر رہا ہے اور اسی کی آڑ میں پانی بند کر کے اپنی درینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔ بھارت جنگ کا خواہاں نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں وہ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ ہماری سوچ کو بھٹکاتے ہوئےاپنے ہدف پورے کرنا چاہتا ہے۔

    پاک بھارت موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت معاشی جمہوری سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے پاکستان کی نسبت کافی حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ بھارت پوری دنیا میں اپنے اپ کو سافٹ سٹیٹ اور ایک مضبوط جمہوری ریاست کے طور پر منوا چکا ہے اس کے علاوہ پوری دنیا میں تجارتی تعلقات قائم کر چکا ہے۔ بھارت چھوٹے بڑے سینکڑوں ڈیم بنا کر ہمارے دریاؤں خاص طور پر دریائے راوی , ستلج اور بیاس کو پہلے ہی خشک کر چکا ہے ان تینوں دریاؤں کے علاقے جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خشک سالی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ دریا محض نالے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم اور چناب کا پانی روکنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔ اب دریائے سندھ کا پانی روکنے کے لیے کابل افغانستان میں بھی ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے اصل لمحہ فکر ہے ۔اس وقت دشمن کے وار پر جوابی کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندرونی مسائل پر قابو پانا نہایت ضروری ہے قابل غور بات یہ ہے کہ اس امر میں پاکستان کیا کر رہا ہے نہ تو یہاں ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے پر جو پانی اتا ہے وہ سیلاب کی صورت میں عذاب بن جاتا ہے اور محفوظ نہ کیے جانے کی وجہ سے سارا پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ بھارت کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ہم نے تمہارا پانی بند کر دیا ہے اس وقت پاکستانی حکمرانوں کو کوئی دوسری تیسری بات کیے بغیر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے وضاحت دینی چاہیے کہ ہم اپنا پانی کس طرح سے حاصل کریں گے۔ کیونکہ انڈیا اپنا ہدف مکمل کر چکا ہے اب ہم پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ ہم نے پانی کس طرح سے حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں اقوام متحدہ یا امریکہ کی مدد کی طرف دیکھنا بیکار ہے ۔

    تاریخ میں جا کر دیکھیں 1984 میں انڈیا نے سیاہ چین گلیشیئر پر قبضہ کیا اس وقت پاکستان روس کے خلاف جہاد میں امریکہ کا اتحادی تھا اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی اس معاملے میں کوئی مدد نہ کی اور سیاہ چین اج بھی بھارت کے قبضہ میں ہے۔ یہی معاملہ 1999 ہوا جب پاکستان نے کارگل پر قبضہ کیا تو امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کی حمایت کی اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں اپنے 600 فوجی افسران قربان کر کے کارگل چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی جبکہ وہی دھماکے جب بھارت نے کیے تو امریکہ نے زبانی مذمت تک نہ کی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کو شروع سے امریکہ کی حمایت حاصل ہے ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ اور سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کو امریکہ اپنے غلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنے زور بازو پر ہی پانی حاصل کرنا ہوگا لہذا بھارت جنگ چاہے یا نہ چاہے مگر پاکستان کو پانی حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آڑے ہاتھوں لینا ہوگا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی بقا کا مسئلہ ہے یاد رہے پانی ہی زندگی ہے اس لیے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ بھارت کو اس کے اس وار کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا اس سلسلے میں حکمرانوں کو اپنا بیانیہ، وضاحت کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

    دوسری طرف دیکھیں تو بھارت کا سیاسی اور جمہوری نظام بھی بے حد مضبوط ہے ان کے تمام تر فیصلے عوامی منتخب نمائندے ہی کرتے ہیں اور اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی عوام نہایت غم و غصہ میں مبتلا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں چوری ہونے والا مینڈیٹ ہے۔ غلطیاں انسان سے ہو جایا کرتی ہیں،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ہی ملک کے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی بجائے انہیں جیلوں سے رہا کیا جائے،عمران خان سابق وزیراعظم رہ چکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پسند کیے جانے والی باصلاحیت شخصیت ھے۔ اس کے برعکس موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی میڈیا کو دیا گیا بیان پاکستان کا اعتراف جرم ثابت ہو رہا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان 30 سالوں سے دہشت گرد پالنے جیسے گندے کام امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کا نریندر مودی کے پاگل پن اور بھارتی جنگی جنون کے خلاف کوئی بیان نہ دینا اور چپ سادھنا نہایت قابل افسوس ہے لہذا جمہوری نظام کو مضبوط بنایں اور باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں۔ ہم سب جانتے ہیں پاکستان مرکزی مسلم لیگ وہ محب وطن جماعت ہے جو پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر دم کوشاں ہے مگر بد قسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان اس جماعت کے محب وطن سربراہان کے ہاتھ باندھنے میں مصروف ہے۔ بلا شبہ یہ وہ جماعت ہے جو پاکستان کا مضبوط ستون ہے مگر پاکستان خود ہی اس کی مضبوطی زائل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔اگر پاکستان نے مودی کو جواب دینا ہے تو صرف اعلان کر دیں ہم حافظ محمد سعید کو رہا کر رہے ہیں، پھر دیکھیے گا مودی کو بنتا کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ان ذہین، بہادر، باصلاحیت شخصیات کو وطن عزیز کے لیے اہم خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کریں۔ دشمن اپنی چالیں چلنے میں کامیاب ہیں اور ہم یہاں اپسی اندرونی مسئلے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں

  • ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ہر مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے ملکی فرائض کی ادائیگی کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کی آمدنی کے تین اہم ذرائع ہیں۔ ٹیکس ،ملکی افراد کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی وہ قانونی ادائیگی جو کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی و منافع جات اور اشیا و خدمات کی خریداری پہ ادا کرتے ہیں۔سرچارجز،حکومت کی جانب سے اشیاء و خدمات کے بنیادی اخراجات میں شامل کردہ وہ اضافی فیس جو کہ ان اشیاء و خدمات کی قیمت میں شامل ہوتی ہے۔ نان ٹیکس ذرائع ،ٹیکسوں کے علاؤہ بھی حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ جیسے بیرونی تحائف ، اندرونی و بیرونی قرضہ جات ،بیرونی قرضہ جات پہ منافع جات، جرمانے و فیسیں اور سرکاری املاک کی نجکاری و فروخت کاری وغیرہ

    ٹیکس ،ٹیکس لاطینی زبان کے لفظ”Taxare”سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی قدر یا اندازہ کے ہیں۔ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیکس عوام کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی ایسی ادائیگی ہے۔ کہ جس کے بدلے انہیں براہء راست تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی حکومت اجتماعی طور پہ عوام کی بھلائی و ملکی ترقی کے لئیے خرچ کرتی ہے۔ٹیکسوں کو صارفین/ ٹیکس ادا کنندگان پہ ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی ماہر معاشیات میںسگریو نے اسے تین بوجھوں میں تقسیم کیا ہے۔ مخصوص بوجھ ،اس ٹیکس بوجھ میں عوام پہ تو ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومتی اخراجات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ تفرقی بوجھ ،یہ بوجھ ایک ٹیکس کی جگہ دوسرا ٹیکس لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بوجھ کا تعلق سرکاری اخراجات کے برقرار رہتے ہوئے ایک ٹیکس کی جگہ دوسرے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات کے تجزیے سے ہے۔متوازن بجٹ بوجھ،جب حکومت اپنے اخراجات بڑھانے کے لئیے کوئی نیا ٹیکس عائد کرتی ہے۔ تو اس ٹیکس بوجھ کو متوازن ٹیکس بوجھ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نئے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات اور سرکاری اخراجات میں تبدیلی کے تجزیے سے ہے۔مگر درحقیقت یہ متوازن بوجھ اسی وقت ہو گا ۔ کہ جب یہ حکومتی اضافی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی معاشی ترقی کے لئیے ہوں۔

    ایک سروے کے مطابق ترقی پزیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم تھی۔ وہاں بالواسطہ ٹیکس یا صرفی ٹیکس، کل ٹیکس ریونیو کا 2 تہائی، جبکہ ترقی یافتہ و بلند فی کس آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 1/2 رہی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی فی کس آمدنی کم ہونے کی بنا پہ ان پہ انکم ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس/صرفی ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہونے کی بنا پہ انکم ٹیکس و منافع ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔

    کلاسیکل ماہرین معاشیات کے نظریات میں ٹیکس محض حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھے۔ مگر جدید معاشیات میں ٹیکس حکومتی آمدنی کے ذریعے کے ساتھ ساتھ معیشت کے اور بھی اہم معاشی متغیرات پہ ضاربی اثرات کے حامل ہیں ۔ اور انہیں ، ان معاشی و حقیقی متغیرات کے کنٹرول کے لئیے بھی بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے۔

    ٹیکس اور نظامِ ٹیکس معیشت کے مختلف اہم شعبوں پہ درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔جب افراد کی آمدنی پہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس سے ان کی قابل تصرف شخصی آمدنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے صرف یعنی اخراجات میں کمی کر دیتے ہیں۔اسی طرح بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بنا پہ بھی صارفین کی قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ جس سے صرف میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ٹیکس خواہ براہِ راست ہوں یا کہ بالواسطہ یہ صرف میں کمی کا موجب بنتے ہیں۔ اس لئیے جب کبھی حکومت کسی شے کے صرف کو کم کرنا چاہے ۔ تو بھی اس پہ ٹیکس عائد کر دیتی ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہو جاتی ہیں۔ جس میں وہ اپنی ضروریاتِ زندگی ہی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ بچتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور ضاربی اثرات کا حامل ہے۔ کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی بچتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بچتوں میں کمی سرمایہ اندوزی میں کمی کا موجب بنتی ہے۔ جو آگے سرمایہ کاری میں کمی پھر ملکی پیداراوار میں کمی اور ملکی پیداوار میں کمی لوگوں کی آمدنیوں میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوبارہ آمدنیوں میں کمی دوبارہ بچتوں میں مزید کمی کی وجہ بنتی ہے۔ اس طرح یہ منفی اثرات جب تک کہ گورنمنٹ اعانوں اور ملکی فلاح و ترقی کی صورت میں اپنے اخراجات میں اضافہ نہ کر دے، بڑھتے رہتے ہیں۔

    ماہر معاشیات جے_ایم_کنیز نے ٹیکسوں کو ‘لیک ایج’ کا نام دیا ہے۔ کیونکہ یہ آمدنی کا غیر پیداواری استعمال ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے سے بچتوں اور سرمایہ اندوزی میں کمی، سرمایہ کاری میں کمی کا موجب بن جاتی ہے۔ منافعوں پہ ٹیکسوں کے نفاذ سے سرمایہ کار ایک طرف تو بددل ہو جاتے ہیں۔ کہ ان کی آمدنی گورنمنٹ لے گئی تو دوسری طرف وہ ٹیکسوں کے اضافے کے منفی اثرِ آمدنی و اثرِ دولت کے تحت سرمایہ کاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ جس سے ملکی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو مزید منفی ضاربی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتوں کے لئیے اعانوں کی فراہمی کے لئیے اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کر دے ۔ تو سرمایہ کاری و معاشی ترقی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے جب سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے ۔ تو روزگار و معیارِ زندگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے نفاذ کا ایک اہم مقصد ملکی فلاح و ترقی کے لئیے وسائل کا حصول ہے۔ اور اگر حکومت ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی ملکی فلاح و ترقی کے لئیے خرچ کرے ۔ تو ملکی روزگار و معیار زندگی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

    ٹیکس معیشت میں مساویانہ تقسیمِ دولت کے حصول کا بہترین ذریعہ ییں۔ اگر ان کا نفاذ مساویانہ ہو۔ یعنی امیروں پہ زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہو اور متوسط آمدنی والے افراد پہ کم شرح سے، مزید غریب افراد کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔بابائے معاشیات ایڈم سمتھ نے اس سلسلہ میں چار اہم اصول وضع کیئے ہیں۔ٹیکس جہاں منفی اثرات کے حامل ہیں۔ تو ان کے مثبت اثرات بھی ہیں۔ اگر ان سے حاصل کردہ آمدنی عوام کے فلاح و بہبود اور معاشی ترقی پہ خرچ کی جائے۔ تو ٹیکس "فائدہ مند بوجھ” بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ عوام پہ محض ایک "تکلیف دہ بوجھ” ہیں

  • تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں
    تحریر: ریاض جاذب
    تمباکو نوشی ترک کرنے کا فیصلہ زندگی بدل دینے والا قدم ہے، جو آپ کو ایک صحت مند مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ بلاشبہ اس عادت سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہے۔
    تمباکو نوشی چھوڑنے کے سفر میں نکوٹین کی طلب، اس کی کمی کی علامات اور رویے میں تبدیلی جیسے کئی چیلنجز حائل ہیں۔ اگرچہ یہ مشکلات ترکِ تمباکو کو کٹھن بناتی ہیں، لیکن صحیح حکمت عملی اور مستقل مزاجی سے ان پر قابو پانا ممکن ہے۔ ایک پختہ ارادے والا شخص ان ابتدائی رکاوٹوں کو عبور کر کے تمباکو سے پاک زندگی گزار سکتا ہے۔

    سب سے پہلا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک تمباکو نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کرتا ہے۔ یہ فیصلہ صحت کی بہتری، مالی بچت یا اپنے عزیز و اقارب کو سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ہو سکتا ہے۔ اس وجہ کو یاد رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جب ترکِ تمباکو کا عزم کمزور پڑنے لگے، تو یہ یاد دہانی ایک مضبوط سہارا ثابت ہو۔ تمباکو نوشی چھوڑنے کو اپنی اولین ترجیح بنانے سے ایک سگریٹ نوش کا مقصد واضح رہتا ہے، ورنہ ایک معمولی سا کش بھی اسے دوبارہ اس عادت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

    جب ایک تمباکو نوش اس عادت کو چھوڑنے یا یوں کہیے کہ نکوٹین سے چھٹکارا پانے کا عزم کرتا ہے تو اس کے جسم پر تین طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جسمانی اثرات، رویے میں تبدیلیاں اور نکوٹین کی طلب۔ نکوٹین کی عدم موجودگی کے باعث سگریٹ نوش کو بنیادی طور پر سر درد، تھکاوٹ اور متلی جیسے جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چڑچڑاپن اور اضطراب جیسے رویے میں بدلاؤ جذباتی اثرات ہیں۔ یہ عارضی ضرور ہیں لیکن ان پر مناسب طریقے سے قابو پانا ضروری ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ ایک تمباکو نوش کے دوبارہ تمباکو نوشی شروع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    ان علامات کا سامنا کرنے پر روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی لیکن اہم تبدیلیاں لانا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے، زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں۔ زیادہ مقدار میں پانی پینا جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ سر درد اور تھکاوٹ کو بھی کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، صحت بخش غذا کا استعمال ضروری ہے، کیونکہ پھلوں، سبزیوں اور پروٹین سے بھرپور متوازن غذا خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑاپن اور طلب میں بھی کمی لاتی ہے۔روزمرہ کے معمولات میں ایک اور مثبت تبدیلی باقاعدگی سے ورزش کرنا ہے۔ جسمانی سرگرمی اینڈورفنز (Endorphins) نامی کیمیکل خارج کرتی ہے جو موڈ کو بہتر بناتی ہے اور بے چینی کو دور کرتی ہے۔

    کامیابی کے ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے کے لیے محتاط، ہوشیار اور پرسکون رہنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ گہری سانسیں لینا، توجہ مرکوز کرنا، یا یوگا کرنا تناؤ اور اضطراب سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ، دوستوں اور خاندان کی مدد بھی تمباکو نوشی چھوڑنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس طرح دوست تمباکو نوشی شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں، اسی طرح وہ اس عادت کو دوبارہ شروع کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ لہٰذا، دوست، خاندان اور معاون گروپس ترکِ تمباکو کی اس جدوجہد میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان پر نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ تمباکو کا استعمال نہ کریں۔

    ایک تمباکو نوش کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود کو اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف رکھے۔ مطالعہ کرے، نئی چیزوں یا مشاغل میں دلچسپی لے اور خود کو ان میں مشغول رکھے۔ جب تمباکو کی طلب محسوس ہو گی، تو نئی دلچسپیوں کی تلاش اس کی توجہ کو تمباکو کے استعمال سے ہٹانے میں معاون ثابت ہو گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی کے بغیر گزارے گئے ہر دن یا ہفتے کو یاد رکھیں، کیونکہ یہ آپ کی کامیابی ہے۔ اپنی ان چھوٹی بڑی کامیابیوں کا جشن منائیں اور اپنے آپ کو کسی بامعنی چیز سے نوازیں۔

    اگر ان اقدامات کے باوجود بھی ترکِ تمباکو کے اثرات پر قابو پانا مشکل ہو جائے تو کسی ماہر ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔ مشاورت، تھراپی اور ویرینکلن (Varenicline) جیسی ادویات اضافی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کے حیران کن فوائد ہیں۔ تمباکو کا استعمال چھوڑنے کے بعد ہفتوں میں سانس لینے میں بہتری آتی ہے، مہینوں میں دل کی بیماری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور سالوں میں زندگی کی متوقع مدت میں اضافہ ہوتا ہے۔بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کا مطلب صرف تمباکو کا استعمال ترک کرنا نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرنا بھی ہے۔