Baaghi TV

Category: متفرق

  • پہلگام  ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    پہلگام ڈرامہ،پانی کیلئے جنگ پاکستان کو لڑنی ہو گی، تحریر : عائشہ اسحاق

    چند روز قبل 22 اپریل 2025 کو بھارت مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پہلگام میں ہونے والا واقعہ انسانیت کے لحاظ سے قابل افسوس ہے مگر بھارت نے اپنے فوج کی غفلت اور نا اہلی کو چھپایا اور پہلگام واقعہ کے فورا بعد بھارتی میڈیا کی بے لگام زبانیں بنا کسی ثبوت اور انکوائری کے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے لگیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ پہلگام وہ جگہ ہے جو امرناتھ یاترا کے بہت قریب ہے اور ہمیشہ سے ہی پرخطر رہی ہے ہر سال تقریبا پورے بھارت سے انے والے ہندو یاتریوں پر حملہ ہونا عام سی بات ہے۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ بھارتی فوج نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا ۔ تقریبا 15 سال پہلے مقبوضہ جموں کشمیر کے ڈسٹرکٹ اناتھ ناگ میں واقع ایک بستی جس کا نام چٹی سنگھ پورہ ہے اس میں کچھ افراد کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بے قصور 35 سکھ اپنی جان کی بازی ہار گئے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ حملہ اور ساؤتھ انڈین زبان بول رہے تھے اور بھارت ماتا کی جے ہو کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ حملہ بھی بھارت کے اندرونی عناصر کی طرف سے ہی کیا گیا ہو بہرحال بغیر کسی شفاف ازادانہ انکوائری اور بغیر کسی ثبوت کے بھارت کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا اور فوری طور پر جنگی کشیدگی اختیار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا ایک بڑے مقصد کو واضح کرتا ہے۔ اس بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلگام حملہ کے پیچھے بھارت کے اپنے مفاداتی عزائم پوشیدہ ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا وہ اپنا مقصد بغیر جنگ کے پورا کرنا چاہتا ہے جو کہ کسی حد تک کر چکا ہے۔ فضائی حدود بند کرنا, تجارت بند کرنا, سفارت خانے سے پاکستانی سفارت کار وں کو نکالنا , واہگہ بارڈر بند کرنا وغیرہ وغیرہ یہ سب محض دکھاوا ہے بھارت اصل وار سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں کر چکا ہے۔ جو کہ انتہائی خطرناک ہے،اس کے بعد بھارت کو کوئی حملہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ پانی بند ہونے کی صورت میں پاکستان بنجر ہو جائے گا ہر طرف بھوک پیاس اور غذائی قلت چھا جائے گی یہی وہ تباہی ہے جو بھارت کی درینہ خواہش اور سب سے اہم خواب رہی ہے۔ اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے ۔لائن اف کنٹرول پر بھارت کی اوچھی حرکتیں محض ڈرامے بازی کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقتا بھارت اپنا اصل ہدف پانی روک کر پورا کر چکا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کے معدنیات تک رسائی چاہتا ہے اور اسرائیل گریٹر اسرائیل اسٹیٹ بنانے کا خواہاں ہے، بھارت پاکستان کا پرانا دشمن ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ دوستانہ تعلقات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اس لیے پہلگام حملہ کی آڑمیں بھارت اسرائیل اور امریکہ کو بھی بھرپور موقع فراہم کر رہا ہے اور پاکستانی عوام کا دھیان فلسطین اور معدنیات کی طرف سے ہٹانے کے لیے جنگی ماحول قائم کر رہا ہے اور اسی کی آڑ میں پانی بند کر کے اپنی درینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتا ہے۔ بھارت جنگ کا خواہاں نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں وہ نہایت ہوشیاری اور مکاری کے ساتھ ہماری سوچ کو بھٹکاتے ہوئےاپنے ہدف پورے کرنا چاہتا ہے۔

    پاک بھارت موجودہ صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھارت معاشی جمہوری سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے پاکستان کی نسبت کافی حد تک مضبوط ہو چکا ہے۔ بھارت پوری دنیا میں اپنے اپ کو سافٹ سٹیٹ اور ایک مضبوط جمہوری ریاست کے طور پر منوا چکا ہے اس کے علاوہ پوری دنیا میں تجارتی تعلقات قائم کر چکا ہے۔ بھارت چھوٹے بڑے سینکڑوں ڈیم بنا کر ہمارے دریاؤں خاص طور پر دریائے راوی , ستلج اور بیاس کو پہلے ہی خشک کر چکا ہے ان تینوں دریاؤں کے علاقے جا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خشک سالی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ یہ دریا محض نالے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم اور چناب کا پانی روکنے میں بھی کامیاب ہو چکا ہے۔ اب دریائے سندھ کا پانی روکنے کے لیے کابل افغانستان میں بھی ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے اصل لمحہ فکر ہے ۔اس وقت دشمن کے وار پر جوابی کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندرونی مسائل پر قابو پانا نہایت ضروری ہے قابل غور بات یہ ہے کہ اس امر میں پاکستان کیا کر رہا ہے نہ تو یہاں ڈیم بنائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیئر پگھلنے پر جو پانی اتا ہے وہ سیلاب کی صورت میں عذاب بن جاتا ہے اور محفوظ نہ کیے جانے کی وجہ سے سارا پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔ بھارت کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ہم نے تمہارا پانی بند کر دیا ہے اس وقت پاکستانی حکمرانوں کو کوئی دوسری تیسری بات کیے بغیر بہترین حکمت عملی اپناتے ہوئے وضاحت دینی چاہیے کہ ہم اپنا پانی کس طرح سے حاصل کریں گے۔ کیونکہ انڈیا اپنا ہدف مکمل کر چکا ہے اب ہم پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ ہم نے پانی کس طرح سے حاصل کرنا ہے اس سلسلے میں اقوام متحدہ یا امریکہ کی مدد کی طرف دیکھنا بیکار ہے ۔

    تاریخ میں جا کر دیکھیں 1984 میں انڈیا نے سیاہ چین گلیشیئر پر قبضہ کیا اس وقت پاکستان روس کے خلاف جہاد میں امریکہ کا اتحادی تھا اس کے باوجود امریکہ نے پاکستان کی اس معاملے میں کوئی مدد نہ کی اور سیاہ چین اج بھی بھارت کے قبضہ میں ہے۔ یہی معاملہ 1999 ہوا جب پاکستان نے کارگل پر قبضہ کیا تو امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کی حمایت کی اور پاکستان کو اس کے نتیجے میں اپنے 600 فوجی افسران قربان کر کے کارگل چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان کیا تو امریکہ نے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی دی جبکہ وہی دھماکے جب بھارت نے کیے تو امریکہ نے زبانی مذمت تک نہ کی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کو شروع سے امریکہ کی حمایت حاصل ہے ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ نے بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر دوستانہ اور سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کو امریکہ اپنے غلام کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنے زور بازو پر ہی پانی حاصل کرنا ہوگا لہذا بھارت جنگ چاہے یا نہ چاہے مگر پاکستان کو پانی حاصل کرنے کے لیے بھارت کو آڑے ہاتھوں لینا ہوگا، کیونکہ یہ 25 کروڑ عوام کی بقا کا مسئلہ ہے یاد رہے پانی ہی زندگی ہے اس لیے اپنی زندگیاں بچانے کے لیے یہ جنگ لڑنا ہوگی۔ بھارت کو اس کے اس وار کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا اس سلسلے میں حکمرانوں کو اپنا بیانیہ، وضاحت کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

    دوسری طرف دیکھیں تو بھارت کا سیاسی اور جمہوری نظام بھی بے حد مضبوط ہے ان کے تمام تر فیصلے عوامی منتخب نمائندے ہی کرتے ہیں اور اس بات سے ہم انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی عوام نہایت غم و غصہ میں مبتلا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات میں چوری ہونے والا مینڈیٹ ہے۔ غلطیاں انسان سے ہو جایا کرتی ہیں،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ہی ملک کے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی بجائے انہیں جیلوں سے رہا کیا جائے،عمران خان سابق وزیراعظم رہ چکے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں پسند کیے جانے والی باصلاحیت شخصیت ھے۔ اس کے برعکس موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا غیر ملکی میڈیا کو دیا گیا بیان پاکستان کا اعتراف جرم ثابت ہو رہا ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پاکستان 30 سالوں سے دہشت گرد پالنے جیسے گندے کام امریکہ اور برطانیہ کے کہنے پر کرتا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اعلی مریم نواز کا نریندر مودی کے پاگل پن اور بھارتی جنگی جنون کے خلاف کوئی بیان نہ دینا اور چپ سادھنا نہایت قابل افسوس ہے لہذا جمہوری نظام کو مضبوط بنایں اور باصلاحیت لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں۔ ہم سب جانتے ہیں پاکستان مرکزی مسلم لیگ وہ محب وطن جماعت ہے جو پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر دم کوشاں ہے مگر بد قسمتی سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان اس جماعت کے محب وطن سربراہان کے ہاتھ باندھنے میں مصروف ہے۔ بلا شبہ یہ وہ جماعت ہے جو پاکستان کا مضبوط ستون ہے مگر پاکستان خود ہی اس کی مضبوطی زائل کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔اگر پاکستان نے مودی کو جواب دینا ہے تو صرف اعلان کر دیں ہم حافظ محمد سعید کو رہا کر رہے ہیں، پھر دیکھیے گا مودی کو بنتا کیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ان ذہین، بہادر، باصلاحیت شخصیات کو وطن عزیز کے لیے اہم خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کریں۔ دشمن اپنی چالیں چلنے میں کامیاب ہیں اور ہم یہاں اپسی اندرونی مسئلے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں

  • ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ٹیکسوں کے معیشت پہ اثرات .تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرالجیلانی

    ہر مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی حکومت کو اپنے ملکی فرائض کی ادائیگی کے لئیے آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت کی آمدنی کے تین اہم ذرائع ہیں۔ ٹیکس ،ملکی افراد کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی وہ قانونی ادائیگی جو کہ وہ اپنی سالانہ آمدنی و منافع جات اور اشیا و خدمات کی خریداری پہ ادا کرتے ہیں۔سرچارجز،حکومت کی جانب سے اشیاء و خدمات کے بنیادی اخراجات میں شامل کردہ وہ اضافی فیس جو کہ ان اشیاء و خدمات کی قیمت میں شامل ہوتی ہے۔ نان ٹیکس ذرائع ،ٹیکسوں کے علاؤہ بھی حکومت کی آمدنی کے ذرائع ہوتے ہیں ۔ جو بوقت ضرورت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ جیسے بیرونی تحائف ، اندرونی و بیرونی قرضہ جات ،بیرونی قرضہ جات پہ منافع جات، جرمانے و فیسیں اور سرکاری املاک کی نجکاری و فروخت کاری وغیرہ

    ٹیکس ،ٹیکس لاطینی زبان کے لفظ”Taxare”سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی قدر یا اندازہ کے ہیں۔ٹیکس حکومت کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ٹیکس عوام کی جانب سے حکومت کو کی جانے والی ایسی ادائیگی ہے۔ کہ جس کے بدلے انہیں براہء راست تو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ تاہم ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی حکومت اجتماعی طور پہ عوام کی بھلائی و ملکی ترقی کے لئیے خرچ کرتی ہے۔ٹیکسوں کو صارفین/ ٹیکس ادا کنندگان پہ ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں امریکی ماہر معاشیات میںسگریو نے اسے تین بوجھوں میں تقسیم کیا ہے۔ مخصوص بوجھ ،اس ٹیکس بوجھ میں عوام پہ تو ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومتی اخراجات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ تفرقی بوجھ ،یہ بوجھ ایک ٹیکس کی جگہ دوسرا ٹیکس لاگو کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس بوجھ کا تعلق سرکاری اخراجات کے برقرار رہتے ہوئے ایک ٹیکس کی جگہ دوسرے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات کے تجزیے سے ہے۔متوازن بجٹ بوجھ،جب حکومت اپنے اخراجات بڑھانے کے لئیے کوئی نیا ٹیکس عائد کرتی ہے۔ تو اس ٹیکس بوجھ کو متوازن ٹیکس بوجھ کہا جاتا ہے۔ اس کا تعلق نئے ٹیکس کے نفاذ کے تقسیمی اثرات اور سرکاری اخراجات میں تبدیلی کے تجزیے سے ہے۔مگر درحقیقت یہ متوازن بوجھ اسی وقت ہو گا ۔ کہ جب یہ حکومتی اضافی اخراجات عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی معاشی ترقی کے لئیے ہوں۔

    ایک سروے کے مطابق ترقی پزیر ممالک جن کی فی کس آمدنی کم تھی۔ وہاں بالواسطہ ٹیکس یا صرفی ٹیکس، کل ٹیکس ریونیو کا 2 تہائی، جبکہ ترقی یافتہ و بلند فی کس آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 1/2 رہی۔ کیونکہ کم ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی فی کس آمدنی کم ہونے کی بنا پہ ان پہ انکم ٹیکس کم اور بالواسطہ ٹیکس/صرفی ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہونے کی بنا پہ انکم ٹیکس و منافع ٹیکس کی شرح زیادہ ہوتی ہے ۔

    کلاسیکل ماہرین معاشیات کے نظریات میں ٹیکس محض حکومت کی آمدنی کا اہم ذریعہ تھے۔ مگر جدید معاشیات میں ٹیکس حکومتی آمدنی کے ذریعے کے ساتھ ساتھ معیشت کے اور بھی اہم معاشی متغیرات پہ ضاربی اثرات کے حامل ہیں ۔ اور انہیں ، ان معاشی و حقیقی متغیرات کے کنٹرول کے لئیے بھی بطور ٹولز استعمال کیا جاتا ہے۔

    ٹیکس اور نظامِ ٹیکس معیشت کے مختلف اہم شعبوں پہ درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔جب افراد کی آمدنی پہ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ تو اس سے ان کی قابل تصرف شخصی آمدنی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس سے ان کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اور وہ اپنے صرف یعنی اخراجات میں کمی کر دیتے ہیں۔اسی طرح بالواسطہ ٹیکسوں میں اضافہ کی بنا پہ بھی صارفین کی قوتِ خرید گر جاتی ہے۔ جس سے صرف میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ٹیکس خواہ براہِ راست ہوں یا کہ بالواسطہ یہ صرف میں کمی کا موجب بنتے ہیں۔ اس لئیے جب کبھی حکومت کسی شے کے صرف کو کم کرنا چاہے ۔ تو بھی اس پہ ٹیکس عائد کر دیتی ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی آمدنیاں کم ہو جاتی ہیں۔ جس میں وہ اپنی ضروریاتِ زندگی ہی بمشکل پوری کر پاتے ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ بچتوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ اور ضاربی اثرات کا حامل ہے۔ کیونکہ ٹیکسوں میں اضافے سے لوگوں کی بچتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ بچتوں میں کمی سرمایہ اندوزی میں کمی کا موجب بنتی ہے۔ جو آگے سرمایہ کاری میں کمی پھر ملکی پیداراوار میں کمی اور ملکی پیداوار میں کمی لوگوں کی آمدنیوں میں کمی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوبارہ آمدنیوں میں کمی دوبارہ بچتوں میں مزید کمی کی وجہ بنتی ہے۔ اس طرح یہ منفی اثرات جب تک کہ گورنمنٹ اعانوں اور ملکی فلاح و ترقی کی صورت میں اپنے اخراجات میں اضافہ نہ کر دے، بڑھتے رہتے ہیں۔

    ماہر معاشیات جے_ایم_کنیز نے ٹیکسوں کو ‘لیک ایج’ کا نام دیا ہے۔ کیونکہ یہ آمدنی کا غیر پیداواری استعمال ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافے سے بچتوں اور سرمایہ اندوزی میں کمی، سرمایہ کاری میں کمی کا موجب بن جاتی ہے۔ منافعوں پہ ٹیکسوں کے نفاذ سے سرمایہ کار ایک طرف تو بددل ہو جاتے ہیں۔ کہ ان کی آمدنی گورنمنٹ لے گئی تو دوسری طرف وہ ٹیکسوں کے اضافے کے منفی اثرِ آمدنی و اثرِ دولت کے تحت سرمایہ کاری میں کمی کر دیتے ہیں۔ جس سے ملکی پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جو مزید منفی ضاربی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ تاہم اگر حکومت ملکی انفراسٹرکچر کی بہتری اور صنعتوں کے لئیے اعانوں کی فراہمی کے لئیے اپنے اخراجات میں بھی اضافہ کر دے ۔ تو سرمایہ کاری و معاشی ترقی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ٹیکسوں میں اضافے سے جب سرمایہ کاری میں کمی ہوتی ہے ۔ تو روزگار و معیارِ زندگی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے نفاذ کا ایک اہم مقصد ملکی فلاح و ترقی کے لئیے وسائل کا حصول ہے۔ اور اگر حکومت ٹیکسوں سے حاصل کردہ آمدنی ملکی فلاح و ترقی کے لئیے خرچ کرے ۔ تو ملکی روزگار و معیار زندگی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

    ٹیکس معیشت میں مساویانہ تقسیمِ دولت کے حصول کا بہترین ذریعہ ییں۔ اگر ان کا نفاذ مساویانہ ہو۔ یعنی امیروں پہ زیادہ شرح سے ٹیکس عائد ہو اور متوسط آمدنی والے افراد پہ کم شرح سے، مزید غریب افراد کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔بابائے معاشیات ایڈم سمتھ نے اس سلسلہ میں چار اہم اصول وضع کیئے ہیں۔ٹیکس جہاں منفی اثرات کے حامل ہیں۔ تو ان کے مثبت اثرات بھی ہیں۔ اگر ان سے حاصل کردہ آمدنی عوام کے فلاح و بہبود اور معاشی ترقی پہ خرچ کی جائے۔ تو ٹیکس "فائدہ مند بوجھ” بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ عوام پہ محض ایک "تکلیف دہ بوجھ” ہیں

  • تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں

    تمباکو نوشی چھوڑیں، زندگی جئیں
    تحریر: ریاض جاذب
    تمباکو نوشی ترک کرنے کا فیصلہ زندگی بدل دینے والا قدم ہے، جو آپ کو ایک صحت مند مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ بلاشبہ اس عادت سے چھٹکارا پانا آسان نہیں ہے۔
    تمباکو نوشی چھوڑنے کے سفر میں نکوٹین کی طلب، اس کی کمی کی علامات اور رویے میں تبدیلی جیسے کئی چیلنجز حائل ہیں۔ اگرچہ یہ مشکلات ترکِ تمباکو کو کٹھن بناتی ہیں، لیکن صحیح حکمت عملی اور مستقل مزاجی سے ان پر قابو پانا ممکن ہے۔ ایک پختہ ارادے والا شخص ان ابتدائی رکاوٹوں کو عبور کر کے تمباکو سے پاک زندگی گزار سکتا ہے۔

    سب سے پہلا اور اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک تمباکو نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کرتا ہے۔ یہ فیصلہ صحت کی بہتری، مالی بچت یا اپنے عزیز و اقارب کو سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے ہو سکتا ہے۔ اس وجہ کو یاد رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ جب ترکِ تمباکو کا عزم کمزور پڑنے لگے، تو یہ یاد دہانی ایک مضبوط سہارا ثابت ہو۔ تمباکو نوشی چھوڑنے کو اپنی اولین ترجیح بنانے سے ایک سگریٹ نوش کا مقصد واضح رہتا ہے، ورنہ ایک معمولی سا کش بھی اسے دوبارہ اس عادت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

    جب ایک تمباکو نوش اس عادت کو چھوڑنے یا یوں کہیے کہ نکوٹین سے چھٹکارا پانے کا عزم کرتا ہے تو اس کے جسم پر تین طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جسمانی اثرات، رویے میں تبدیلیاں اور نکوٹین کی طلب۔ نکوٹین کی عدم موجودگی کے باعث سگریٹ نوش کو بنیادی طور پر سر درد، تھکاوٹ اور متلی جیسے جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چڑچڑاپن اور اضطراب جیسے رویے میں بدلاؤ جذباتی اثرات ہیں۔ یہ عارضی ضرور ہیں لیکن ان پر مناسب طریقے سے قابو پانا ضروری ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ ایک تمباکو نوش کے دوبارہ تمباکو نوشی شروع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    ان علامات کا سامنا کرنے پر روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی لیکن اہم تبدیلیاں لانا ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے، زیادہ پانی اور مشروبات کا استعمال کریں۔ زیادہ مقدار میں پانی پینا جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ سر درد اور تھکاوٹ کو بھی کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، صحت بخش غذا کا استعمال ضروری ہے، کیونکہ پھلوں، سبزیوں اور پروٹین سے بھرپور متوازن غذا خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنے کے ساتھ ساتھ چڑچڑاپن اور طلب میں بھی کمی لاتی ہے۔روزمرہ کے معمولات میں ایک اور مثبت تبدیلی باقاعدگی سے ورزش کرنا ہے۔ جسمانی سرگرمی اینڈورفنز (Endorphins) نامی کیمیکل خارج کرتی ہے جو موڈ کو بہتر بناتی ہے اور بے چینی کو دور کرتی ہے۔

    کامیابی کے ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے کے لیے محتاط، ہوشیار اور پرسکون رہنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ گہری سانسیں لینا، توجہ مرکوز کرنا، یا یوگا کرنا تناؤ اور اضطراب سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ، دوستوں اور خاندان کی مدد بھی تمباکو نوشی چھوڑنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ متعدد تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس طرح دوست تمباکو نوشی شروع کرنے کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں، اسی طرح وہ اس عادت کو دوبارہ شروع کرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ لہٰذا، دوست، خاندان اور معاون گروپس ترکِ تمباکو کی اس جدوجہد میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ تمباکو نوشی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان پر نظر رکھتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ تمباکو کا استعمال نہ کریں۔

    ایک تمباکو نوش کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خود کو اپنی پسندیدہ سرگرمیوں میں مصروف رکھے۔ مطالعہ کرے، نئی چیزوں یا مشاغل میں دلچسپی لے اور خود کو ان میں مشغول رکھے۔ جب تمباکو کی طلب محسوس ہو گی، تو نئی دلچسپیوں کی تلاش اس کی توجہ کو تمباکو کے استعمال سے ہٹانے میں معاون ثابت ہو گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمباکو نوشی کے بغیر گزارے گئے ہر دن یا ہفتے کو یاد رکھیں، کیونکہ یہ آپ کی کامیابی ہے۔ اپنی ان چھوٹی بڑی کامیابیوں کا جشن منائیں اور اپنے آپ کو کسی بامعنی چیز سے نوازیں۔

    اگر ان اقدامات کے باوجود بھی ترکِ تمباکو کے اثرات پر قابو پانا مشکل ہو جائے تو کسی ماہر ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔ مشاورت، تھراپی اور ویرینکلن (Varenicline) جیسی ادویات اضافی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔یہ ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تمباکو نوشی ترک کرنے کے حیران کن فوائد ہیں۔ تمباکو کا استعمال چھوڑنے کے بعد ہفتوں میں سانس لینے میں بہتری آتی ہے، مہینوں میں دل کی بیماری کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور سالوں میں زندگی کی متوقع مدت میں اضافہ ہوتا ہے۔بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی چھوڑنے کا مطلب صرف تمباکو کا استعمال ترک کرنا نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور خوشگوار زندگی کا آغاز کرنا بھی ہے۔

  • منشیات کا باپ، آئس کا نشہ

    منشیات کا باپ، آئس کا نشہ

    منشیات کا باپ، آئس کا نشہ
    تحریر: محمد سعید گندی
    پاکستانی معاشرہ منشیات کے زہر کے ہاتھوں سسک سسک کر دم توڑ رہا ہے۔ خاص طور پر دو نمبر سستی آئس غریب سے امیر تک بے دریغ استعمال کی جا رہی ہے۔ پنجاب، یعنی جنوبی پنجاب کا آخری ضلع ڈیرہ غازی خان ہے، جس کے مغرب میں صوبہ بلوچستان شروع ہو جاتا ہے۔ شہر ڈیرہ غازی خان کے مغربی علاقے میں کوہ سلیمان کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ ویسے تو صوبہ بلوچستان کے تمام علاقوں سے منشیات پنجاب بآسانی پہنچ جاتی ہے، جن میں گلستان، نورک، چمن، پشین، کوئٹہ، خضدار، نوشکی، دالبندین اور میختر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان کے ملحقہ علاقوں سے بھی منشیات بلوچستان آرام سے پہنچ جاتی ہے، پھر بلوچستان کے علاقے رکنی سے بواٹہ، فورٹ منرو، راکھی تاج اور سخی سرور تک تو آرام سے پہنچ جاتی ہے، اور یہاں سے مختلف علاقوں سے منشیات ڈیرہ غازی خان شہر میں بآسانی پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دو اور راستے بھی ہیں جہاں سے ان کو آسانی ہوتی ہے۔

    سیکورٹی فورسز امن بحال کرنے والے مختلف ادارے کارروائی کرتے ہیں، بڑی بڑی کھیپ پکڑی جاتی ہے، مگر پھر بھی شہر اور گرد و نواح میں منشیات بآسانی دستیاب ہوتی ہے۔ گلیوں، محلوں، روڈ کنارے منشیات کے عادی افراد کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے، آخر ان کو نشہ پہنچ کیسے رہا ہے؟ اگر پہنچ رہا ہے تو کون مہیا کرتا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ یہ منشیات اتنی وافر ملتی ہے جیسے کریانہ کی دکان پر چائے کی پتی اور چینی۔ ڈیرہ غازی خان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جن کی بڑی تعداد نوجوان نسل ہے۔

    آئس کا نشہ مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اب تو وہ موٹر سائیکل اور کاروں کے بلب نکال کر اس کو توڑ کر اس کے ذریعے استعمال کرتے ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ اگر آپ کے گرد و نواح میں کوئی ایسی واردات نظر آئے تو سمجھ لیں آپ کے قریب ہی کوئی آئس کا نشہ کرنے والا موجود ہے جو کہ آپ کے لیے اور آپ خاندان کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    آئس نشہ کیا ہے؟ اس میں مبتلا افراد کیا محسوس کرتے ہیں؟ آئس نشہ کرتے کیوں ہیں؟ اس نشے پر بات کرنے سے پہلے آپ سب کو ایک پرانی کہاوت گوش گزار کرنا چاہتا ہوں گو کہ کہاوت کا اس تحریر سے کوئی ربط تو نہیں بنتا مگر بہت کچھ سمجھنے میں مدد ملے گی۔ کہتے ہیں پرانے وقتوں کی بات ہے سچ اور جھوٹ اکٹھے بیٹھے تھے تو جھوٹ نے کہا یہ سامنے کنواں ہے اس کا پانی بھی صاف شفاف ہے ہم دونوں اس میں ننگا ہو کر نہاتے ہیں۔ سچ نے پہلے سوچا پھر کنویں کے پانی کو چیک کیا تو وہ واقعی صاف شفاف تھا۔ پھر دونوں سچ اور جھوٹ اپنے کپڑے اتار کر ننگے ہو کر کنویں میں نہانے لگے، جھوٹ نے موقع پاتے ہی کنویں سے باہر نکل کر سچ کے کپڑے پہن کر بھاگ گیا۔ سچ بے چارہ ننگا کنویں میں رہ گیا۔ اب سچ بے چارہ جہاں بھی جاتا ہے ننگا ہونے کی وجہ سے شرمسار ہوتا ہے، آخر وہ تنگ آ کر کنویں میں بے نامی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ جھوٹ کیوں کہ سچ کے کپڑوں میں ملبوس ہے لہذا وہ اب بھی اپنی زندگی دیدہ دلیری سے گزار رہا ہے۔ دو نمبر لوگ اپنا دھندہ دھڑلے سے کر رہے ہیں، نشان دہی کرنے والوں کو اکثر پولیس اور مافیا کے ہاتھوں پریشانی میں مبتلاء ہونا پڑتا ہے ۔ بہرحال چلتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔۔۔

    ماہرین کے مطابق بعض اوقات ڈپریشن میں مبتلا لوگ نشے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ مزید ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ آئس کا نشہ کرنے کے بعد بھوک و پیاس سے مبرا انسان 24 سے 48 گھنٹے بآسانی جاگ سکتا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان نسل بالخصوص لڑکیوں میں منشیات کا استعمال وبا کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ منشیات فروشوں کی ہٹ لسٹ پر کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ ہیں کیونکہ امیر اور خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں سے رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ آئس ایک ایسا نشہ ہے جس کو پہلی بار استعمال کرنے سے انسان کے اندر خوشی کے ہارمونز انتہائی ایکٹیو ہو جاتے ہیں، جاگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے انسان انتہائی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ آئس کا نشہ 36 سے 72 گھنٹے تک ہوتا ہے اور وہ انسان 72 گھنٹوں تک جاگتا رہتا ہے۔ پہلی دفعہ انسان کو آئس استعمال کرنے سے جو لذت اور خوشی ملتی ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ انسان آئس کی ڈوز بڑھا دیتے ہیں تاکہ وہ پہلی والی خوشی محسوس کر سکیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آئس انسان کی ہڈیوں کو پکڑ لیتا ہے اور پھر وہ انسان اس قبیح عمل کا عادی بن جاتا ہے۔ آئس استعمال کرنے والے انسان پر بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے۔ آئس استعمال کرنے والے انسان کے ہاتھوں سے کسی بھی وقت ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے جب وہ نشے کی حالت میں ہو۔ آئس نشہ نہ استعمال کرنے کی علامت یہ ہے کہ بندہ 24 گھنٹے سویا رہتا ہے۔ اس میں کوکین، چرس، ہیروئن کی طرح بدبو بھی نہیں ہوتی، شفاف شکل اور بے بو خاصیت نے اس نشے کو دنیا بھر میں مقبولیت بخشی ہے۔

    جب اس نشے سے پیدا ہونے والے احساسات ختم ہوتے ہیں تو اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے نشے کا عادی شخص دماغی خلل، چڑچڑے پن، گھبراہٹ، تھکاوٹ، ڈپریشن اور ہیجانی کیفیت کا شکار ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ مایوس کن کیسز وہ ہیں جن میں کم عمر افراد سمجھتے ہیں کہ آئس سے ڈپریشن میں کمی لائی جا سکتی ہے اور امتحانات میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ آئس کے مسلسل استعمال سے گھبراہٹ، غصہ اور شک کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔ طبیعت میں اتار چڑھاؤ رہتا ہے اور فیصلے کی قوت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسا شخص اپنی نظر میں انتہائی خود اعتماد بن جاتا ہے اور اسی لیے کچھ بھی کر گزرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ یہی نہیں یہ نشہ پرتشدد طبیعت کو جنم دیتا ہے۔ ویسے تو منشیات کی ساری اقسام ہی انسان کو اندر سے کھوکھلا کرکے اس کو موت کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں لیکن ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق آئس نشہ دیگر تمام منشیات کی اقسام سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے۔

    حال ہی میں ایک نوجوان نے علی الصبح اپنے ہی گھر میں فائرنگ کر کے اپنے والد سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کی ایف آئی آر ملزم کے بھائی کی مدعیت میں درج کروائی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملزم بھائی آئس کے نشے کا عادی تھا جس کے باعث اس کی ذہنی حالت ناکارہ ہو چکی تھی۔ نشے کا عادی ایک ایسا نوجوان بھی لایا گیا جس کی ذہنی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اسے لگتا تھا کہ اس پر جنوں کا سایہ ہے۔ آئس کے نشے سے انسان کئی گنا زیادہ متحرک اور چست ہو جاتا ہے اور اس کے حواس اتنے متحرک ہوتے ہیں کہ جو چیز اور بات وجود نہیں بھی رکھتی، وہ انھیں نظر آنے لگتی ہے اور وہ اس پر بضد ہوتے ہیں اور بعض اوقات قتل تک کرنے سے نہیں کتراتے۔ آئس کے نشے میں مبتلا افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں اور بڑی عمر کے تمام لوگ شامل ہیں۔

    اگر آپ یہ نشہ شروع کرتے ہیں تو اس کے بعد آپ کو اور کچھ نہیں چاہیے ہوتا۔ بس یہی آئس آپ کی ساتھی ہوتی ہے، محبت کو چھوڑیے باقی تمام تر احساسات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ نشہ چھٹنے کے بعد اس نشے کی طلب پھر بڑھ سکتی ہے کم نہیں۔ پنجاب میں سے خیبرپختونخوا میں نشے کی لت میں مبتلا افراد کی تعداد اس لیے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بڑی تعداد میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے نشے کے عادی افراد بھی وہاں جاتے ہیں اور اس کی وجہ خیبرپختونخوا میں نشے کی آسانی اور سستے میں دستیابی ہے۔ خیبرپختونخوا کے افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کی وجہ سے نشہ پاکستان پہنچ جاتا ہے۔ وہ پہلے پاکستانی ہیروئن کا نشہ کرتے تھے جو اب بہت مہنگی ہو چکی ہے جبکہ ایک گرام تک آئس پشاور میں صرف 400 روپے میں مل جاتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات کی 2023ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت نشے کے شکار افراد کی مجموعی طور پر لگ بھگ 67 لاکھ کے قریب ہے جن میں 78 فیصد مرد جبکہ 22 فیصد خواتین ہیں۔ بعض دیگر اداروں کی رپورٹس میں یہ تعداد 76 لاکھ تک بتائی گئی ہے۔ آئس نشے کا عادی ماں، بہن، بیٹی، بیوی، دوست میں تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر وہ جرم کی جانب مائل ہونا شروع ہو جاتا ہے، اس کے اندر سماج کے خلاف نفرت بیدار ہوتی ہے جو اسے جرم کے دوران سامنے آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ کئی سال تک آئس کا نشہ کرنے والے اکثر افراد پاگل پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ ہر نشے کا انجام دردناک موت ہی ہوتا ہے لیکن آئس کے نشے کا عادی پاگل پن کا شکار ہو کر اپنے خاندان و معاشرے کے لیے کسی پاگل کتے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    ڈیرہ غازی خان جو جنوبی پنجاب کا آخری ضلع ہے، منشیات کی ترسیل کے حوالے سے ایک اہم گزرگاہ بن چکا ہے۔ اس کے مغرب میں بلوچستان شروع ہوتا ہے، جبکہ مغربی سرحد پر کوہِ سلیمان کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں جیسے لورالائی ،موسی خیل ،گلستان، نورک، چمن، پشین، کوئٹہ، خضدار، نوشکی، دالبندین، اور میختر سے منشیات کی بڑی مقدار آسانی سے پنجاب پہنچتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے راستے منشیات کی ترسیل کا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم ہے۔ رکنی، بواٹہ، فورٹ منرو، راکھی تاج، اور سخی سرور جیسے علاقے منشیات کی نقل و حمل کے لیے معروف گزرگاہیں ہیں۔ تاہم ذرائع کے مطابق ان راستوں پر چیکنگ اور کارروائیوں کے باعث اب منشیات کے سمگلروں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ بلوچستان کے ضلع موسی خیل سے تونسہ کے علاقے تک کئی متبادل خفیہ راستے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں بارتھی روڈ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مزید یہ کہ اطلاعات ہیں کہ بارتھی روڈ اور دیگر راستوں پر بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) کے بعض اہلکار منشیات فروشوں کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایم پی کے کچھ افسران، جو اہم چیک پوسٹوں کے انچارج ہیں، خود بھی اس مکروہ دھندے میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک واقعہ میں بی ایم پی کے ایک نائب دفعدار جو اب دفعدار ہے اور ایک اہم تھانہ کا ایس ایچ او بھی ہے ،کے بیٹے کو پنجاب پولیس نے منشیات سمیت گرفتار کیا تھا، جس کے بعد یہ معاملہ مزید منظرِ عام پر آیا۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے منشیات صرف ڈیرہ غازی خان شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے جنوبی پنجاب اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں تک آسانی سے پہنچائی جا رہی ہے۔جوکہ ارباب اقتدار اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

  • رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں بے شمار لوگ آتے ہیں، کچھ لمحوں کے لیے، کچھ سکھ ،تکلیف،دینے کے لیے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے۔ مگر اُن سب میں سے "کسی کو چُننا” یہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک چہرے، ایک آواز، یا کسی مسکراہٹ کو چُننا نہیں ہوتا۔یہ دراصل ایک مکمل انسان کو، اُس کی مکمل ذات کے ساتھ اپنانے کا عمل ہے۔ اور یہی بات تعلقات کی اصل روح ہے۔جب ہم کسی کو چُنتے ہیں تو ہم اُس کی پسندیدہ عادتوں، اُس کی مسکراہٹ، اُس کے اندازِ گفتگو، اور اُس کی موجودگی سے ملنے والی خوشی کو اپناتے ہیں۔مگر اصل چناؤ تب ہوتا ہے جب ہم اُس کی ناپسندیدہ باتوں، اُس کی چپ، اُس کے ماضی کے زخموں، اور اُس کی کمزوریوں کو بھی اُسی اپنائیت سے قبول کرتے ہیں۔قبولیت صرف خوبصورت پہلوؤں کی نہیں ہوتی، بلکہ ہر اُس ٹوٹ پھوٹ، ہر اُس تلخی، ہر اُس کمزوری کی ہوتی ہے جو ایک انسان کو مکمل بناتی ہے۔

    اکثر رشتے اِس غلط فہمی میں قائم ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان ہمیشہ خوش رہے گا، ہمیشہ محبت دے گا، اور کبھی نہیں بدلے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اندرونی جنگ چل رہی ہوتی ہے، وہ کبھی ہار رہا ہوتا ہے، کبھی تھک جاتا ہے، کبھی خود سے بھی بات نہیں کر پاتا۔وہ لمحے جب وہ چپ ہو جاتا ہے، جب اُس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوتی ہے، جب وہ خود سے دور ہو جاتا ہے ، یہی اصل وقت ہوتا ہے اُسے اپنانے کا، اُسے سمجھنے کا، اور اُس کا ساتھ دینے کا۔

    ہم اکثر رشتوں کو خوشیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن سچا رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں آنسو بھی قبول کیے جاتے ہیں۔
    جہاں صرف "میں تمہارے ساتھ ہوں” کہنا کافی نہیں، بلکہ ساتھ بیٹھ کر، خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام کر، اُس کے دُکھ میں شریک ہونا ضروری ہوتا ہے۔کسی کی تکلیف میں اُس کے قریب ہونا، صرف لفظوں سے نہیں، احساسات سے اُسے تھپکی دینا یہی” محبت "ہے۔جب ہم کسی کو اپناتے ہیں، تو اُس کے ماضی کو بھی اپناتے ہیں۔ اُس کے پرانے زخم، اُس کی تلخیاں، اُس کی کہانیاں ، یہ سب اُس کی موجودہ ذات کو تشکیل دیتے ہیں۔
    اگر ہم کسی کے ماضی کو رد کر دیتے ہیں، تو ہم اُس کی مکمل شناخت کو مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔رشتے میں اعتماد تب قائم ہوتا ہے جب ہم ماضی کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ کہ اُس پر طعنہ دیتے ہیں۔

    محبت اور تعلق صرف ایک جذباتی بندھن نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے۔جب دو لوگ ایک دوسرے کی تکلیفیں، کمزوریاں، خوشیاں، اداسیاں سب کچھ بانٹتے ہیں تو وہ ایک ایسا رشتہ بناتے ہیں جسے وقت، فاصلہ، یا حالات بھی کمزور نہیں کر سکتے۔ایسے رشتے میں "میں” اور "تم” ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف "ہم” باقی رہ جاتا ہے۔کسی کو چننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ایک کامل شخص چُنا ہے۔بلکہ آپ نے ایک ایسا شخص چُنا ہے جس کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ، اور آپ نے اُسے ہر صورت میں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔محبت صرف یہ نہیں کہ آپ اُس کے ساتھ اچھے وقت گزاریں، بلکہ یہ کہ آپ اُس کے برے وقت میں بھی اُسی شدت سے اُس کے ساتھ رہیں۔اسی میں اصل انسانیت، اصل رشتہ، اور اصل محبت چھپی ہے۔

    noor fatima

  • ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں

    ریاستیں اپنے شہریوں ہی کی بدولت قائم رہتی ہیں
    افغانستان میں اماراتِ اسلامی کی حکومت افغان مہاجرین کی دوبارہ آباد کاری کر کے ہی دنیا میں نام کما سکتی ہے

    نصیب شاہ شینواری
    افغانستان کی پچھلی چار دہائیوں کی تاریخ جنگ و جدل اور امن و امان کی مخدوش صورتِ حال سے دوچار رہی ہے۔ سال 1979 میں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی ٹھان لی تو افغانستان سے لاکھوں کی تعداد میں افغان شہری مہاجرین بن کر ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

    1980 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین کی تعداد تقریباً 30 لاکھ تھی جبکہ 1980 کے آخر تک یہ تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ 1990 کی دہائی میں کچھ افغان مہاجرین روس کے انخلا کے بعد واپس افغانستان چلے گئے لیکن 1995 کے دوران طالبان کی حکومت آنے کے بعد ایک دفعہ پھر افغانستان سے بڑی تعداد میں ہجرت ہوئی۔ اسی طرح سال 2001 میں افغانستان پر امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کے حملے کے بعد افغان مہاجرین کی ایک اور بڑی ہجرت واقع ہوئی اور لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے۔ پاکستان نے مہاجرین کو پناہ گزین کیمپوں میں جگہ دی جبکہ کئی شہروں میں بھی افغان برادریاں آباد ہو گئیں خاص طور پر خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں۔

    تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالیں تو پاکستان وہ واحد مسلم ہمسایہ ملک تھا جس نے افغان شہریوں کے لیے پاک افغان بارڈر کھلا رکھا اور افغان مہاجرین بغیر کسی رکاوٹ کے پاکستان ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ پاکستان نے ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے افغان مہاجرین کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کیمپوں میں پناہ دی۔ پاکستان وہ واحد اسلامی ملک تھا جہاں افغان مہاجرین کو کیمپوں سے باہر کاروبار کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کی آزادی تھی۔ اسی کاروباری اور تعلیمی آزادی کی وجہ سے آج افغان مہاجرین بڑی بڑی کمپنیوں اور کاروباروں کے مالک ہیں اور وہ اب بھی پاکستان میں آزادانہ طور پر کاروبار کر رہے ہیں۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے ہی ملک کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان کی تقریباً ہر وزارت اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اب بھی وہ افغانستان کی حکومت اور عوام کی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب کبھی پاکستان کی حکومت کسی ناگزیر وجوہات کی بنا پر افغان مہاجرین کو عزت کے ساتھ واپس اپنے ملک بھیجنا چاہتی ہے تو یہی افغان مہاجرین جنہوں نے یہاں پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور کاروبار کیا اسی پاکستان کے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جن سے نفرت اور تعصب کی بو آتی ہے۔

    اگر دنیا کے دیگر ممالک جیسے امریکا اور یورپی ممالک کی مہاجرین کے حوالے سے پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو آئے روز امریکا جیسا ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بھی مہاجرین اور تارکینِ وطن کے حوالے سے سخت پالیسیاں نافذ کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک افغان مہاجرین کے حوالے سے وطن واپسی کی پالیسی کا اعلان کرتا ہے تو پھر انگلی صرف پاکستان کی طرف اٹھائی جاتی ہے حالانکہ ہر ملک کی داخلہ و خارجہ پالیسی آزاد ہوتی ہے اور ہر ریاست اپنے ملک و عوام کی بقا کے لیے پالیسیاں وضع کرتا اور ان پالیسیوں کو نافذ بھی کیاجاتا ہے۔

    یہاں ایک اہم نقطہ کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ کسی بھی ریاست کے لیے آبادی یعنی شہری ایک لازمی جزو ہیں اور ریاستوں کا شہریوں کے بغیر وجود ناممکن ہے۔ ایسے میں جب افغان شہری پاکستان سے واپس اپنے ملک جاتے ہیں تو ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرے۔ افغانستان کی حکومت کو چاہیے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرے اور اس کی تعریف کرے کیونکہ انہی افغان شہریوں کی وجہ سے افغانستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ جس ملک میں شہری آباد نہ ہوں وہاں حکومت اور ریاست کا نام بے معنی رہ جاتا ہے۔

    افغانستان کے لیے ایک اہم قدم یہ بھی اٹھانا ہوگا کہ وہ امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کر کے افغان شہریوں کو اپنے ہی ملک میں دوبارہ آباد کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

  • زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک مسلسل امتحان ہے، جہاں خوشیاں اور غم، کامیابیاں اور ناکامیاں، دونوں کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو ہر انسان کو مختلف مراحل سے گزار کر ایک خاص مقصد تک پہنچاتا ہے۔ زندگی کے بارے میں ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ دو دنوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک آپ کے حق میں ہوتا ہے اور دوسرا آپ کے خلاف۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا ہے۔ آپ کی دعائیں قبول ہو رہی ہوتی ہیں، ہر کام آسان لگ رہا ہوتا ہے اور دنیا کی تمام خوشیاں آپ کے قدم چوم رہی ہوتی ہیں۔ ایسے دنوں میں انسان کو خوشی ملتی ہے اور وہ ہر لمحہ کا لطف اٹھاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت ضروری بات یہ ہے کہ انسان کو کبھی بھی اپنے کامیاب دنوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔جب آپ کے حق میں سب کچھ ہو رہا ہو، تو آپ کو اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔ غرور انسان کو زمین پر لا کر اس کی حقیقت دکھا دیتا ہے۔ کامیاب دنوں میں بھی انسان کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کی رضا اور رحمت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب آپ کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی محنت ضائع ہو جاتی ہے، حالات آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں اور آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے دنوں میں انسان کو غم، مایوسی اور افسوس کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ جب آپ کے خلاف حالات ہوں، تو ان پر صبر کرو۔ یہ دن بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہم جو بھی حالات میں ہوں، اس پر صبر کریں کیونکہ یہ ہمارے ایمان اور قوت کا امتحان ہوتا ہے۔ جو دن آپ کے خلاف ہوں، وہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں، اور ان سے نکل کر ہی انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔

    شیطان انسان کو ہر لمحہ گمراہی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا پہلا حملہ انسان کی زبان پر ہوتا ہے۔ وہ انسان کو اللہ کے ذکر سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو اس کی روح سکون پاتی ہے اور وہ دنیا کی پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھے، تو شیطان اسے اپنے جال میں نہیں پھانس سکتا۔جب انسان اللہ کے ذکر سے دور ہو جاتا ہے، تو اس کا دل اور دماغ پریشان ہو جاتے ہیں، اور پھر جسمانی طور پر بھی انسان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی ہمارے دل کی سکونت اور شیطان کی شکست کا ذریعہ ہے۔

    زندگی کے دونوں دنوں میں ہمیں توازن قائم رکھنا چاہیے۔ جب ہم خوش ہوں تو غرور سے بچنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور جب حالات ہمارے خلاف ہوں تو صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ شیطان کی کوششوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں، کیونکہ ذکر اللہ کے ذریعے انسان کا دل سکون پاتا ہے اور شیطان کی تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔یاد رکھیں کہ زندگی کا مقصد صرف کامیابی یا خوشی حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس میں انسان کی شخصیت اور ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ ہر دن ایک نیا امتحان ہوتا ہے، اور ہمیں ان امتحانوں کا صبر اور شکر کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے۔

  • دریائے سندھ سب کا ہے.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دریائے سندھ سب کا ہے.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    یہ عجیب سا المیہ ہے کہ جب کراچی کی سڑکوں پر جرم، لاقانونیت، اور بے یقینی کا راج ہوتا ہے، پانی کی قلت اور کوٹہ سسٹم پر احتجاج ہوتا ہے تو کچھ لوگ بے حس نظر آتے ہیں۔ اور جب ہمارے دیہات ڈوبتے ہیں، کارونجھر پہاڑ خطرے میں ہوتا ہے یا دریائے سندھ کی سانسیں گھٹتی ہیں، تو کچھ دوسرے لوگ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔

    تقریباً اٹہتر سال ساتھ رہنے کے باوجود ہم ایک دوسرے کے دکھوں میں شریک کیوں نہیں ہو پاتے؟
    اس کا سبب یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنی نہیں، سیاست دانوں کی عطا کردہ عینک سے دیکھتے ہیں۔ وہ عینک جو برسوں سے ہمیں پہنائی ہوئی ہے اور ہم اب اس عینک کو ہی اپنی آنکھیں سمجھنے لگے ہیں۔ یہ عینک ہمیں دکھاتی ہے کہ "ہمارے سب مسائل اور استحصال کی جڑ وہ ہیں!” لیکن خود سوچیے کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم میں سے کوئی تو خوش حال ہوتا، چین کی بانسری بجاتا۔ خوش حال تو مقتدر طبقہ ہوا جاتا ہے، چین کی بانسری تو وہ بجاتا ہے۔ مگر مل کر اس کا گریبان پکڑنے کے بجائے ہم برسوں سے آپس میں دست و گریباں ہیں۔

    یاد رکھیے، غریب چاہے اردو بولتا ہو یا سندھی، سب ایک جیسے مسائل کا شکار ہیں۔

    نہ کوٹہ سسٹم نے انصاف دیا، نہ روزگار نے برابر مواقع۔ کوٹہ سسٹم ہو یا روزگار کا بحران، کسی غریب کو اس کا حقیقی فائدہ کبھی نہیں ہوا۔ نہ کشمور کے غریب نوجوان کو، نہ ناظم آباد کے غریب طالب علم کو۔ اس حقیقت کو اب سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس تقسیم سے دراصل فائدہ کسے ہو رہا ہے۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ اس تقسیم کا ہتھیار زبان ہے۔ حالاں کہ ایک دوسرے کی زبان سیکھنے سے اپنی زبان، تہذیب اور ثقافت مر نہیں جاتی۔ ہم دوسرے ملکوں جا کر تو فوراً ان کی زبان سیکھ لیتے ہیں اور منہ ٹیڑھا کر کر کے درست زبان بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور اس وقت نہ سندھی زبان و ثقافت کو کوئی خطرہ ہوتا ہے اور نہ اردو زبان و ثقافت کو۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس تقسیم کی سازش کو سمجھیے، ایک دوسرے کی زبان کو دشمن نہ مانیے۔ ایک دوسرے کی زبان سیکھیے تاکہ ایک دوسرے سے مکالمہ کر سکیں، ایک دوسرے کو جان سکیں اور دلوں کے بند دروازے کھل سکیں۔
    ہم لوگوں کو اس سچ کو سمجھنا چاہیے کہ کسی بھی زبان کی حفاظت دوسروں کو خاموش کر کے نہیں ہوتی، بلکہ مکالمے، محبت، اور ایک دوسرے کو سمجھنے سے ہوتی ہے۔
    کوئی دریائے سندھ کہے یا سندھو دریا مگر زندگی سب کی اسی سے جڑی ہوئی ہے۔
    یہ دریا جب بہتا ہے تو نہ ذات دیکھتا ہے، نہ زبان، نہ مذہب، نہ شہر، اور نہ دیہات، بس سب کو سیراب کرتا ہے تو پھر اس کی حفاظت بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ وہ دریا جو اپنے آپ میں کوئی تعصب نہیں رکھتا اسے بچانے میں تعصب کیوں؟
    یاد رکھیے سندھ دریا زبانوں کا نہیں انسانوں کا ہے اور اس کی بقا ہم سب کی بقا ہے۔

  • متنازع ترین "پرموشن بورڈ”   تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ” تحریر:ملک محمد سلمان

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ”

    جناب شہباز شریف میں جب کبھی بھی آپ کے حوالے سے کالم لکھتا تھا تو سب سے زیادہ فیڈبیک بیوروکریسی کی طرف سے آتا تھا اگر کوئی پہلو ڈسکس نہیں ہوتا تھا تو یہی افسران تفصیل سے اگاہ کرتے کہ شہباز صاحب یہ اصلاحات اور کام بھی کررہے ہیں اگلی دفعہ ان اقدامات کو لازمی مینشن کریے گا۔ جب سے ہائی پاور اور سینٹرل سلیکشن بورڈ ہوا ہے ہر طرف خاموشی ہے، جواب میں اداس ایموجیز کا ہی ریپلائی ملتا ہے۔ مایوسی اور نا امیدی کی یہ لہر صرف ترقی سے محروم افسران تک محدود نہیں رہی بلکہ بیوروکریسی کی اکثریت شدید پریشان ہے اور ایسی بے توقیر اور بے یقینی والی نوکری سے رخصت لیکر بیرون ملک جانے کا سوچ رہے ہیں۔ ہائی پاور بورڈ سے لیکر سینٹرل سلیکشن بورڈتک “پک اینڈ چوز“ نے اہم ترین بورڈز کو ”سلاٹر ہاؤس“ میں بدل دیا۔

    جن افسران کو ناحق ترقی سے محروم کیا گیا ہے وہ سخت اذیت اور صدمے میں ہیں۔ بیوروکریسی کی اکثریت چہہ مگوئیاں کرتی پھر رہی ہے کہ شہباز شریف نے بیوروکریسی کو فلاں سابق افسر کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ جناب شہباز شریف آپ جیسا باخبر، ذہین اور میرٹ پسند حاکم پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی حامل بیوروکریسی کے معاملات کو چند افراد کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ جناب وزیراعظم آپ کے بارے تو بیوروکریسی کا پختہ یقین رہا ہے کہ شہباز شریف کے ہوتے ہوئے ہمیشہ میرٹ کا بول بالا ہوتا ہے۔

    جناب شہباز شریف جب آپ ناحق قید تھے تو افسران کو آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے اور ثبوت فراہم کرنے کے بدلے اچھی پوسٹنگ آفر ہوتی تھیں تو یہ وہی افسران ہیں جو اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے تھے کہ جب شہباز شریف نے انہیں کبھی خلاف میرٹ کوئی کام کہا ہی نہیں تو وہ صرف اچھی پوسٹنگ کے حصول کیلئے پنجاب کی تعمیروترقی کے ریکارڈ قائم کرنے والے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف کیونکر بیان دیں، اگر حکومت کو پوسٹنگ دینی ہے تو قابلیت کی بنیاد پر دیں، وہ میرٹ پر بہترین کام کرکے دکھائیں گے۔

    آج ان تمام افسران کو اس اصول پسندی کا یہ صلہ ملنا تھا؟
    جناب وزیراعظم آپ کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بننے والے افسران کی پی ٹی آئی حکومت میں رپورٹس خراب کیں گئیں۔ اس وقت کی رپورٹ کی بنیاد پر آج ان افسران کا پرموشن لسٹ میں نہ ہونا وفاداری کرنے والوں کیلئے بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے. کچھ افسران کی ”ٹارگٹ کلنگ“ کیلئے نئی رپورٹس کی بجائے پرانی رپورٹس پیش کی گئیں جو اس گریڈ میں ترقی کیلئے ریلیوینٹ ہی نہیں تھیں جبکہ کچھ افسران کو ترقی سے محروم کرنے کیلئے خود سے”فرمائشی رپورٹیں“ تیار کروائی گئیں۔ بیوروکریسی کا یہ مطالبہ ہے کہ فرضی اور جعلی رپورٹس کی بجائے سب کو قابل قبول سپیشل ویٹنگ ایجنسی کے طور پر آئی ایس آئی کی رپورٹ پر فیصلہ کریں۔

    ڈی جی آئی بی فواد اسد اللہ کے حوالے سے بیوروکریسی کے گروپس میں شدید بحث اور تنقید کی جارہی ہے بیوروکریسی نے وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ہائی پاور سلیکشن بورڈ اور سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلوں پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے متنازع ترین ڈی جی آئی بی اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی برطرفی کا مطالبہ کیا ایسے حالات میں جب وطن عزیز کو معاشی اور ملکی سلامتی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے اور ان مسائل سے نمٹنے کیلئے یہی بیوروکریسی ہراول دستہ ہیں۔

    جناب وزیراعظم اگر افسران خود ترقی سے محروم ہوں گے تو عام عوام کیلئے خلوص نیت سے کیسے کام کر سکیں گے؟ جناب وزیراعظم، پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین پرموشن بورڈ کا ”ریویو“ کیے بنا یہ بورڈ سیاست اور سول سروس کے نام پر کلنک کا داغ بن کر رہ جائے گا۔

    وزیر اعظم کو مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے سول سروس اور پاکستان کو تباہی سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
    ملکی باگ ڈور چند افراد کے حوالے کرنے کی بجائے ہر کسی کے اختیارات کا تعین کیا جائے۔ پختہ شواہد کے بغیر کسی کو بھی ترقی سے محروم نہ کیا جائے۔ صوبائی سروس کے افسران کی بیچارگی بھی ختم کرنا ہوگی جو ٹریننگ مکمل کرنے کے باوجود پرموشن بورڈ کی راہ تک رہے ہیں۔

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم پاکستان کو ترقی و کامیابی کی منزلوں پر لے جانے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں خدارا! چیف آف آرمی سٹاف کی کوششوں کو رائیگاں نہ کریں۔

    پی ٹی آئی کا قریبی ہونے جیسے بیہودہ الزامات لگا کر پرموشن اور پوسٹنگ سے محروم رکھنا، ارباب حکومت کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ اس وقت بھی فیصلہ سازی سے لیکر کمائی والی تمام سیٹوں پر تو بزدار حکومت میں اہم سیٹوں پر رہنے والے براجمان ہیں پھر پرموٹ نہ ہونے والے، او ایس ڈی اور کھڈے لائن کیے افسران کا کیا قصور ہے؟

    حالیہ تعیناتیوں میں ٹریفک پولیس سمیت جو افسران فرائض سے غفلت برت رہے ہیں اور کرپشن کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں انکو عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا جارہا۔ جو کرپٹ ہے اس کی سزا صرف ترقی نہ دینا کیوں؟ کرپٹ افراد کو نہ صرف نوکری سے نکالا جائے بلکہ لوٹی ہوئی رقم جرمانہ سمیت واپس لی جائے۔

    ملک محمد سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    جیل کا لفظ سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے بہت بڑی اور اونچی چار دیواری کے پیچھے بند انسانوں کا تصور آتا ہے جنہیں کسی نا کسی جرم کرنے پر سزا کے طور پر قید کیا جاتا ہے اور ان پر مسلح لوگ نگران بنے ان کی رکھوالی کرتے ہیں اور ان سے جبری مشقت کے طور پر کام بھی لیا جاتا ہے،تاہم اس وقت کرہ ارض پر دو اوپن ائر جیلیں بھی ہیں جن کا نام فلسطین اور کشمیر ہے اور دونوں مسلمان ریاستیں ہیں،عام طور پر جرم کرنے والے شحض کو سزا دی جاتی ہے تاہم یہ جیلیں اس لئے معرض وجود میں آئیں کہ ان کے باشندے مسلمان ہیں اور اپنی آزادی کی آواز بلند کرنے پر بطور سزا بغیر بڑی بڑی دیواروں کے کھلے آسمان تلے بنی جیلوں میں قید ہیں

    ان کو اوپن ائر جیل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ان مملکتوں کے باشندوں کو انہی کی ریاستوں میں قید کرکے رکھا گیا ہے جس کی کوئی چار دیواری تو نہیں مگر چار دیواری کی جگہ سرحدیں ہیں اور یہ لوگ آسمان تلے ہوا کے دوش پر قائم جیلوں میں قیدیوں کی سی زندگیاں بسر کر رہے ہیں جہاں قابض ریاستوں کی فوجیں ان پر نگران بن کر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں
    ان دونوں ریاستوں کی غلامی کا عرصہ تقریباً ایک جتنا ہی ہے
    ان ریاستوں میں سے ایک پر یہود کا قبضہ ہے تو دوسرے پر ہنود یعنی ہندو کا
    پہلے بات کرتے ہیں کشمیر کی
    تقسیم ہند کے فارمولے کے خلاف انگریز نے الکفر ملت واحدہ کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقہ کشمیر کو ہندوستان کو سونپ دیا جس میں بہت بڑا کردار اس وقت کے راجہ نے بھی ادا کیا،غیور کشمیری قوم نے اس پر احتجاج کیا اور الحاق پاکستان کیلئے صدائیں بلند کیں تاہم ظلم و جبر سے اسے کچل دیا گیا اور بھارتی فوجوں نے کشمیریوں کی آواز کو دبانا شروع کر دیا

    اپنی شہہ رگ کو چھڑوانے اپنے بھائیوں کو اس جیل سے چھڑوانے کی خاطر نومولود پاکستان کے غیور قبائلیوں اور پاکستان کی نومولود فوج نے کشمیر پر یلغار کی اور طاقت کے زور سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا کی واحد ہندو ریاست سے مقبوضہ کشمیر کا بہت بڑا علاقہ چھین لیا اور اسے ایک الگ مملکت آزاد جموں و کشمیر کے نام سے دنیا کے سامنے رکھا جہاں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا الگ صدر و وزیراعظم اور سپریم کورٹ ہے جبکہ اس کے برعکس ہندو نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا جبری قبضہ رکھنے کی غرض سے اسے ہندوستان کا ایک صوبہ قرار دیا اور بجائے کشمیری پرچم کے وہاں ہندوستانی پرچم لہرایا اور کشمیری پرچم کو ختم کر دیا گیا ،اگر آپ آزاد کشمیر میں جائیں تو آپکو سب سے پہلے آزاد کشمیر کا پرچم نظر آئے گا اور ساتھ پاکستان کا بھی نظر آئے گا جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں محض ہندوستانی پرچم ہی نظر آئے گا،کشمیر کا پرچم مقبوضہ وادی کشمیر میں لہرانے نہیں دیا جاتا

    پاکستان نے وادی کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی خصوصی حیثیت یعنی آرٹیکل 370 اے اور 35 اے کو بحال رکھا جس کے تحت کشمیر کے باشندوں کو خودمختاری کی خاص حیثیت حاصل ہے جبکہ بھارت نے اس حیثیت کو ختم کیا اور ہندوستان بھر سے ہزاروں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ ظاہر کرکے اس پر جبری قبضے کو قانونی حیثیت دی جائے اور اس کام میں ہندو سرکار کے ایجنڈے کیلئے مقبوضہ وادی کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے

    دوسری طرف بات کرتے ہیں دنیا کی دوسری اوپن ائر جیل فلسطین کی جس پر دنیا کی واحد ناجائز یہودی ریاست نے قبضہ کیا ہوا ہے اور دنیا کی 15 ویں بڑی اسرائیلی 1 لاکھ 70 ہزار ریگولر اور 4 لاکھ 65 ہزار ریزرو فوج نہتے مظلوم فلسطینی عوام کو قید کئے ہوئے ہیں اور اسے امریکہ،برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر کئی ممالک کی سرپرستی حاصل ہے
    امریکہ کی سرکاری خارجہ امور کے متلعق دستاویزات میں ایک بات آج بھی لکھی ہوئی ہے جس کا بطور پروف میں آپکو یہ لنک دیتا ہوں

    https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1945v08/d660

    اس پر کلک کرکے آپ پڑھیں گے کہ 1945 میں امریکی صدر روز ویلٹ نے سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز سے ملاقات کی اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ اگر یہودی سٹیٹ اسرائیل بنتی ہے تو سعودی عرب اس پر حملہ نہیں کرے گا تاہم شاہ عبدالعزیز نے اس مطالبے پر ٹھوکر ماری اور سرعام کہا کہ میں فلسطین کیلئے میدان جہاد میں لڑ کر شہید ہونا پسند کرونگا مگر تمہاری یہ بات نہیں مانوں گا،اور پھر 1948 کو جب فلسطین کے اندر اسرائیل نامی ناجائز ریاست دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے آشیر باد سے قائم ہو گئی تو شاہ عبدالعزیز نے عرب فوج کو اسرائیل پر حملے کا حکم دیا اور سعودی عرب کے حملے بعد امریکی،فرانسیسی اور برطانوی فوجوں نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دنیا اور سعودیہ کی فوج کی فلسطین میں اینٹ سے اینٹ بجا دی

    اس وقت پاکستان اپنی نومولود اور کشمیر جنگ کے باعث پھنسا ہوا تھا تاہم دنیا کے کسی ملک نے سعودی عرب کی خاص مدد نا کی جس کی وجہ سے سعودیہ یہ جنگ ہار گیا اور اس کے سینکڑوں فوجی شہید ہوئے جن کی قبریں آج بھی فلسطین میں موجود ہیں،پہلی سعودی اسرائیل جنگ 1948 میں ہوئی پھر اس کے بعد دوسری جنگ 1956 اور تیسری جنگ 1967 میں لڑی گئی جس میں سعودی عرب کیساتھ شام،اردن،لبنان،عراق،کویت اور سوڈان و پاکستان نے بھی فلسطینی قوم کی آزادی کیلئے سعودیہ کا ساتھ دیا جبکہ دوسری جانب ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کیلئے تعاون کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی اور آج دن تک یہ صورتحال برقرار ہے

    اللہ رب العزت نے تمام انسانوں،جماعتوں اور ملکوں کو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا
    انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ”
    نکل کھڑے ہو، خواہ ہلکے ہو یا بھاری، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہـاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ۔۔سورہ توبہ

    کاش جسطرح کافر ممالک ایسے دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ناجائز ریاستوں کے قیام کیلئے بلکل اسی طرح تمام جماعتیں اور تمام ممالک بھی درج بالا حکم ربی کے تحت جہاد کی تیاری کرتے اور مظلوم ریاستوں کیلئے ایک جماعت بن کر یلغار کرکے کفار کے تسلط سے غلام ریاستوں کو آزاد کرواتے،جہاں جہاد ملکوں اور جماعتوں پر فرض ہے وہیں عام و خاص انسانوں پر بھی فرض ہے ،کاش آج کا مسلمان ایک دوسرے کو طعنے مارنے کی بجائے افرادی طور پر تیاری کرکے اجتماعی قوت بن کر کافروں پر جھپٹ پڑے