Baaghi TV

Category: متفرق

  • دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    جیل کا لفظ سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے بہت بڑی اور اونچی چار دیواری کے پیچھے بند انسانوں کا تصور آتا ہے جنہیں کسی نا کسی جرم کرنے پر سزا کے طور پر قید کیا جاتا ہے اور ان پر مسلح لوگ نگران بنے ان کی رکھوالی کرتے ہیں اور ان سے جبری مشقت کے طور پر کام بھی لیا جاتا ہے،تاہم اس وقت کرہ ارض پر دو اوپن ائر جیلیں بھی ہیں جن کا نام فلسطین اور کشمیر ہے اور دونوں مسلمان ریاستیں ہیں،عام طور پر جرم کرنے والے شحض کو سزا دی جاتی ہے تاہم یہ جیلیں اس لئے معرض وجود میں آئیں کہ ان کے باشندے مسلمان ہیں اور اپنی آزادی کی آواز بلند کرنے پر بطور سزا بغیر بڑی بڑی دیواروں کے کھلے آسمان تلے بنی جیلوں میں قید ہیں

    ان کو اوپن ائر جیل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ان مملکتوں کے باشندوں کو انہی کی ریاستوں میں قید کرکے رکھا گیا ہے جس کی کوئی چار دیواری تو نہیں مگر چار دیواری کی جگہ سرحدیں ہیں اور یہ لوگ آسمان تلے ہوا کے دوش پر قائم جیلوں میں قیدیوں کی سی زندگیاں بسر کر رہے ہیں جہاں قابض ریاستوں کی فوجیں ان پر نگران بن کر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں
    ان دونوں ریاستوں کی غلامی کا عرصہ تقریباً ایک جتنا ہی ہے
    ان ریاستوں میں سے ایک پر یہود کا قبضہ ہے تو دوسرے پر ہنود یعنی ہندو کا
    پہلے بات کرتے ہیں کشمیر کی
    تقسیم ہند کے فارمولے کے خلاف انگریز نے الکفر ملت واحدہ کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقہ کشمیر کو ہندوستان کو سونپ دیا جس میں بہت بڑا کردار اس وقت کے راجہ نے بھی ادا کیا،غیور کشمیری قوم نے اس پر احتجاج کیا اور الحاق پاکستان کیلئے صدائیں بلند کیں تاہم ظلم و جبر سے اسے کچل دیا گیا اور بھارتی فوجوں نے کشمیریوں کی آواز کو دبانا شروع کر دیا

    اپنی شہہ رگ کو چھڑوانے اپنے بھائیوں کو اس جیل سے چھڑوانے کی خاطر نومولود پاکستان کے غیور قبائلیوں اور پاکستان کی نومولود فوج نے کشمیر پر یلغار کی اور طاقت کے زور سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا کی واحد ہندو ریاست سے مقبوضہ کشمیر کا بہت بڑا علاقہ چھین لیا اور اسے ایک الگ مملکت آزاد جموں و کشمیر کے نام سے دنیا کے سامنے رکھا جہاں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا الگ صدر و وزیراعظم اور سپریم کورٹ ہے جبکہ اس کے برعکس ہندو نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا جبری قبضہ رکھنے کی غرض سے اسے ہندوستان کا ایک صوبہ قرار دیا اور بجائے کشمیری پرچم کے وہاں ہندوستانی پرچم لہرایا اور کشمیری پرچم کو ختم کر دیا گیا ،اگر آپ آزاد کشمیر میں جائیں تو آپکو سب سے پہلے آزاد کشمیر کا پرچم نظر آئے گا اور ساتھ پاکستان کا بھی نظر آئے گا جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں محض ہندوستانی پرچم ہی نظر آئے گا،کشمیر کا پرچم مقبوضہ وادی کشمیر میں لہرانے نہیں دیا جاتا

    پاکستان نے وادی کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی خصوصی حیثیت یعنی آرٹیکل 370 اے اور 35 اے کو بحال رکھا جس کے تحت کشمیر کے باشندوں کو خودمختاری کی خاص حیثیت حاصل ہے جبکہ بھارت نے اس حیثیت کو ختم کیا اور ہندوستان بھر سے ہزاروں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ ظاہر کرکے اس پر جبری قبضے کو قانونی حیثیت دی جائے اور اس کام میں ہندو سرکار کے ایجنڈے کیلئے مقبوضہ وادی کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے

    دوسری طرف بات کرتے ہیں دنیا کی دوسری اوپن ائر جیل فلسطین کی جس پر دنیا کی واحد ناجائز یہودی ریاست نے قبضہ کیا ہوا ہے اور دنیا کی 15 ویں بڑی اسرائیلی 1 لاکھ 70 ہزار ریگولر اور 4 لاکھ 65 ہزار ریزرو فوج نہتے مظلوم فلسطینی عوام کو قید کئے ہوئے ہیں اور اسے امریکہ،برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر کئی ممالک کی سرپرستی حاصل ہے
    امریکہ کی سرکاری خارجہ امور کے متلعق دستاویزات میں ایک بات آج بھی لکھی ہوئی ہے جس کا بطور پروف میں آپکو یہ لنک دیتا ہوں

    https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1945v08/d660

    اس پر کلک کرکے آپ پڑھیں گے کہ 1945 میں امریکی صدر روز ویلٹ نے سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز سے ملاقات کی اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ اگر یہودی سٹیٹ اسرائیل بنتی ہے تو سعودی عرب اس پر حملہ نہیں کرے گا تاہم شاہ عبدالعزیز نے اس مطالبے پر ٹھوکر ماری اور سرعام کہا کہ میں فلسطین کیلئے میدان جہاد میں لڑ کر شہید ہونا پسند کرونگا مگر تمہاری یہ بات نہیں مانوں گا،اور پھر 1948 کو جب فلسطین کے اندر اسرائیل نامی ناجائز ریاست دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے آشیر باد سے قائم ہو گئی تو شاہ عبدالعزیز نے عرب فوج کو اسرائیل پر حملے کا حکم دیا اور سعودی عرب کے حملے بعد امریکی،فرانسیسی اور برطانوی فوجوں نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دنیا اور سعودیہ کی فوج کی فلسطین میں اینٹ سے اینٹ بجا دی

    اس وقت پاکستان اپنی نومولود اور کشمیر جنگ کے باعث پھنسا ہوا تھا تاہم دنیا کے کسی ملک نے سعودی عرب کی خاص مدد نا کی جس کی وجہ سے سعودیہ یہ جنگ ہار گیا اور اس کے سینکڑوں فوجی شہید ہوئے جن کی قبریں آج بھی فلسطین میں موجود ہیں،پہلی سعودی اسرائیل جنگ 1948 میں ہوئی پھر اس کے بعد دوسری جنگ 1956 اور تیسری جنگ 1967 میں لڑی گئی جس میں سعودی عرب کیساتھ شام،اردن،لبنان،عراق،کویت اور سوڈان و پاکستان نے بھی فلسطینی قوم کی آزادی کیلئے سعودیہ کا ساتھ دیا جبکہ دوسری جانب ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کیلئے تعاون کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی اور آج دن تک یہ صورتحال برقرار ہے

    اللہ رب العزت نے تمام انسانوں،جماعتوں اور ملکوں کو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا
    انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ”
    نکل کھڑے ہو، خواہ ہلکے ہو یا بھاری، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہـاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ۔۔سورہ توبہ

    کاش جسطرح کافر ممالک ایسے دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ناجائز ریاستوں کے قیام کیلئے بلکل اسی طرح تمام جماعتیں اور تمام ممالک بھی درج بالا حکم ربی کے تحت جہاد کی تیاری کرتے اور مظلوم ریاستوں کیلئے ایک جماعت بن کر یلغار کرکے کفار کے تسلط سے غلام ریاستوں کو آزاد کرواتے،جہاں جہاد ملکوں اور جماعتوں پر فرض ہے وہیں عام و خاص انسانوں پر بھی فرض ہے ،کاش آج کا مسلمان ایک دوسرے کو طعنے مارنے کی بجائے افرادی طور پر تیاری کرکے اجتماعی قوت بن کر کافروں پر جھپٹ پڑے

  • عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    عزت کریئے اور عزت کروائیے۔ تحریر:ملک سلمان

    ایک ایڈیشنل سیکرٹری مجھ سے ملنے آئے اور کہا کہ بھائی آپ سے ایک درخواست کرنی ہے کہ بیوروکریسی میں سنئیر افسران کی اخلاقی تربیت پر بھی آرٹیکل لکھیں۔ آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ ایک بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے صرف عزت کیلئے سول سروس جوائن کی تھی لیکن وہ سنئیر افسران کے رویے سے شدید مایوس ہے کیونکہ دو تین بیج سنئیر افسر بھی اپنے سے جونئیر کو تحقیر امیز انداز میں بائی نام بلاتا ہے۔ زیادہ برا اس وقت لگتا ہے جب کسی عوامی جگہ یا ماتحتوں کے سامنے بھی سنئیر افیسر صرف نام لیکر بلاتا اور آرڈر کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کم از کم بیوروکریسی کے افسران کو باہم اتنی تمیز اور شرم تو ہونی چاہئے کہ اپنے افسر کو بائی نام بلانے کی بجائے تھوڑی عزت دیتے ہوئے نام کے ساتھ صاحب لگا لیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے جونئیر افسر نہیں سیکرٹری کا ذاتی ملازم ہوں۔ ہم تحصیل اور ضلع کمانڈ کرچکے ہیں اتنے بھی جونئیر نہیں کہ "فار گرانٹڈ” لیا جائے۔
    میں نے اسے کہا کہ میں اس پر ایک دفعہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔

    مذکورہ آفیسر نے کہا کہ اسی لیے آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ نے اس ٹاپک پر لکھا تھا میں چاہتا ہوں کہ آپ دوبارہ سے لکھیں سوکالڈ سنئیرز کو تھوڑی شرم دلائیں کہ ”ایس او پی“ ہونی چاہئے کہ کم از کم پی ایم ایس اور سی ایس ایس افسران اپنی کمیونٹی کے جونئیرز کو صرف نام لیکر بلانے کی بجائے صاحب لگا لیں اس سے ان کی شان اور سنیارٹی میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

    میں نے اسے کہا کہ آپ جس کا ذکر کررہے ہیں اسے تو خود اپنے سنئیر افسران کا بچہ کہلانے پر فخر ہے۔ ایسے بہت سارے نمونے ہیں جو سیاسی شخصیات، اہم ادارے کے عہدیداران اور سنئیر افسران کا ناصرف بچہ کہلانا پسند کرتے ہیں بلکہ خود مشہور کرتے ہیں کہ وہ فلاں کا تعلق دار ہے اور دوسری طرف باقی افسران کے ساتھ ”تم“ کہہ کر بات کرتے ہیں۔

    میں نے اسے بتایا کہ بھائی افسران کی تو مجبوری ہے کہ وہ تم اور بائی نام بلانے والوں کو منہ پر جواب نہیں دے سکتے پیچھے ضرور گالیاں دیتے ہیں کہ گھٹیا انسان کو بولنے کی تمیز نہیں۔
    میں تو زیروٹالرینس کا عادی ہوں جو جس لہجے میں بات کرے اسی لہجے میں جواب دیتا ہوں۔
    احترام سے بلائے تو ڈبل احترام، چکڑ چوہدری بنے تو اسی کے لہجے میں ”اوئے توئے“
    میں نے پہلے بھی ایک دفعہ ٹیلیفونک کال کے حوالے سے ذکر کیا تھا
    ایک سنئیر آفیسر کی کال آئی کیا حال ہے۔
    میں نے کہا کہ الحمد اللہ۔
    وہ دوبارہ مخاطب ہوا۔۔کہاں گم ہو تم آج کل؟
    میں نے کہا جی۔۔۔
    اس نے دوبارہ رپیٹ کرتے ہوئے بھائی کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ بھائی تم کہاں لاپتہ ہو
    میں نے کہا کہ یہیں، کہاں جانا، تم سناؤ
    اس دفعہ سرپرائز ہونے کی باری اس کی تھی
    ذرا شرمندہ ہوتے ہوئے دوبارہ مخاطب ہوا۔۔۔ تو چھوٹا بھائی ہے
    میں نے پھر ریپلائی کیا۔۔۔۔ تیری مہربانی ہے اگر تو سمجھتا ہے تو۔اگر تم بھائی سمجھتے ہو تو میں بھی تمہیں بالکل ویسے ہی سمجھتا ہوں۔
    وہ سمجھ گیا اور فوری تم سے آپ پر آگیا۔
    ایسے ہی ایک دفعہ ایک اور خودساختہ سنئیر کو ”شٹ اپ“ کال دے کر بلاک کیا۔

    ہمارے ہاں روٹین میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ اپنا چھوٹا بھائی ہے، تابعدار ہے اپنا، برخوردار ہے، بچہ ہے اپنا۔
    اگر کوئی آپ کی عزت کرتا ہے تو اس کو ڈائجسٹ کرنا سیکھیں نا کہ اس طرح کی فضولیات بکنا شروع کردیں۔
    ایم پی اے، ایم این اے، منسٹر، بیوروکریٹ، جج، اینکر، کالم نویس، آرمی آفیسر یا بزنس ٹائیکون غرض اگر آپ کسی بھی اچھی جگہ ہیں تو ہر کوئی آپ کا رشتہ دار ہے۔ضروت طے کرتی ہے کہ اس نے کس کو، کونسا رشتہ دینا ہے اور مشہور کرنا ہے کہ فلاں تو میرا چاچا، ماما، پھوپھا ہے حتٰی کہ بوقت ضرورت اسے بہنوئی اور تایا ابو بھی بنا لیتے ہیں تایا مجبوری کی وجہ سے لگاتے ہیں ورنہ وہ ابو کہنے کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں۔

    ہمیں اس منافقت اور احساس کمتری سے باہر نکلنا ہو گا خود کو اہم ثابت کرنے کیلئے دوسروں کو ان کو غیر موجودگی میں نیچا دکھانا چھوڑ دیں۔جیسی عزت آپ منہ پر کرتے ہیں ویسی ہی عزت انکی غیر موجودگی میں کریں۔ اہم کا وہم پالے ہم اس قدر احسان فراموش اور بے شرم ہوجاتے ہیں کہ اپنے ہی دوستوں اور رشتہ داروں کو پہچاننے سے انکاری ہوتے ہیں۔جس سے آپکی متعدد ملاقاتیں اور تعلق ہو لیکن اس کی غیر موجودگی میں اس طرح ڈرامے کریں گے کہ جیسے اسے جانتے ہی نہیں۔
    آج کے دور میں کوئی بھی برخوردار اور تابعدار کہلانا تو دور، بھائی یا صاحب جیسے تکریمی القابات کے بغیر ڈائریکٹ بائی نام بلانا بھی توہین اور گستاخی سمجھتا ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کی طرف آئیے عزت کریئے اور عزت کروائیے۔

    ملک سلمان

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، ایک قربانی کی کہانی،تحریر: شہزادی ثمرین

    پاکستان کی تاریخ میں بہت سی اہم ہستیاں گزری ہیں جن کے نام آج بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ ہیں، لیکن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام ایک الگ ہی نوعیت کی کہانی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عافیہ صدیقی ایک ایسی شخصیت ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کی بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا قصہ ایک ایسی المیہ کہانی ہے جس میں ظلم، بربریت اور بے گناہی کے تمام پہلو سامنے آتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق کراچی کے ایک تعلیم یافتہ اور معتبر گھرانے سے تھا۔ 1972 میں کراچی میں پیدا ہونے والی عافیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور محنت نے انہیں تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ 1992 میں عافیہ نے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں ٹیکساس میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔عافیہ نے امریکہ میں رہ کر ایک ایسی اہم تحقیق کی جس کے بعد وہ عالمی سطح پر شناحت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کی تحقیق میں ایک ایسا فارمولا دریافت کیا گیا جو کہ مہلک ہتھیار تیار کرنے کی بنیاد بن سکتا تھا۔ عافیہ کی اس تحقیق کو امریکہ کے لیے اہمیت حاصل تھی، لیکن عافیہ نے اس فارمولا کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر یہ فارمولا امریکہ کے ہاتھ لگ گیا تو یہ اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔عافیہ کی ذاتی زندگی بھی اتنی آسان نہیں تھی۔ 1995 میں ان کی شادی ایک پاکستانی سائنسدان امجد محمد خان سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ 2002 میں ان کے درمیان اختلافات شدید ہو گئے اور بالآخر طلاق ہو گئی۔ ان اختلافات کے دوران امجد خان نے عافیہ پر مختلف الزامات عائد کیے۔

    عافیہ کا سفر ایک سنگین موڑ پر 2003 میں آیا جب امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد عافیہ کو پاکستان سے گرفتار کر کے افغانستان پھر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔عافیہ کی گرفتاری کے پانچ سال بعد، اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ امریکی جیل میں قید ہیں، لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس دوران امریکہ نے عافیہ پر شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کیا تاکہ وہ اپنے فارمولا کے بارے میں بتائے۔ عافیہ نے اپنے عزم کو قائم رکھا اور امریکہ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔عافیہ کو اتنے سخت سزاؤں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کی ذہنی حالت مفلوج ہو گئی۔ امریکہ نے بار بار کوشش کی کہ وہ عافیہ سے اس تحقیق کا فارمولا حاصل کرے، مگر عافیہ کا جواب ہمیشہ یہی رہا کہ وہ یہ فارمولا کسی قیمت پر نہیں دے گی۔

    دوران قید، امریکہ نے پاکستان سے عافیہ کی رہائی کے لیے بات کی، اور 2012 میں امریکہ کے صدر بارک اوباما نے پاکستان سے کہا کہ وہ عافیہ کی واپسی کے لیے تیار ہیں، مگر پاکستانی حکومت نے اس مسئلے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ اس طرح عافیہ آج بھی امریکہ کی قید میں ہیں، اور ان کے خاندان والے ان کی واپسی کے منتظر ہیں۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی زندگی نہ صرف ظلم اور جبر کی کہانی ہے، بلکہ اس میں ایک ایسی عورت کی قربانی کی داستان بھی چھپی ہوئی ہے جس نے اپنے وطن، اپنے نظریات اور اپنی قوم کے لیے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ قربان کر دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں اور عالمی سطح پر اس کی آزادی کے لیے کوششیں کریں۔عافیہ کے خاندان کی جدو جہد اور ان کے صبر و استقلال نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ ظلم کے باوجود سچ اور اصول کی جیت ہوتی ہے۔ ہمیں ان کی رہائی کے لیے آواز اٹھانی چاہیے تاکہ ان کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔

  • جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    جاتی عمرہ چوک بھی محفوظ نہیں .تحریر:ملک سلمان

    دنیا بھر میں سرکاری ملازم قانون کا پاسدار اور آئین کا پابند ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں سرکاری ملازم آئین شکنی اور لاقانونیت کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔

    انتظامی افسران کہتے پھر رہے ہیں کہ روزے اور عید ہے اس لیے تجاوزات کے خلاف ہم سختی نہیں کر رہے جبکہ جہاں جہاں نرمی کی جا رہی ان تمام تجاوزات مافیا کا کہنا ہے کہ یہ نرمی اللہ واسطے نہیں بلکہ انتظامیہ کو "ایڈوانس عیدی” دے کر ہی بازاروں اور سڑکوں پر دکانداری کی اجازت دی جاتی ہے۔ سرکاری ریڑی بازار کی ریڑھیاں فٹ پاتھ سے سڑک پر آچکی ہیں جبکہ دیگر رکشہ ریڑی والے تو بیچ سڑک دکان چلا رہے ہیں۔ افطاری کے نام پر ویڈیوشوٹ اور دکھاوا کرنے والے گلیوں اور سڑک کی ایک سائیڈ بند کردیتے ہیں کہ افطاری ہورہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اور ٹریفک پولیس ان جعل سازوں کو کس کپیسٹی میں چار سے سات تین گھنٹے کیلئے مین شاہراہ بند کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

    تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بیس منٹ کا فاصلہ پچاس منٹ میں طے ہورہا ہے۔انہی وجوہات سے رمضان میں ٹریفک حادثات کے ریکارڈ بن رہے ہیں۔ ایک دوست کی طرف افطاری پر گیا تو دیکھا کہ پنجاب پولیس کے تھانوں میں دی گئی گاڑی بغیر نمبر پلیٹ کھڑی تھی۔ گاڑی کے چاروں اطراف پنجاب پولیس کا لوگو اور نام لکھا تھا لیکن گاڑی نمبر یا کوئی شناخت نہیں تھی میزبان سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ آئی جی آفس کی ایک برانچ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہے۔ اس وقت لگ بھگ پچاس اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک سو کے قریب سپرنٹنڈنٹ ہیں جن میں سے بہت ساروں کو ایسے پولیس ڈالے دیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نان یونیفارم ملازمین/آفس ورک نوکری والوں کو یونیفارم پولیس کا ڈالہ دینا اختیارات سے تجاوز اور لاقانونیت کی انتہا نہیں۔

    میں کم از کم پانچ دفعہ لکھ چکا ہوں کہ بلانمبر پلیٹ گاڑیاں سنگین جرم ہے جس پر وزیراعظم، وزارت داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت کاروائی کا حکم دیا لیکن موثر کاروائی نہیں ہو رہی۔ گذشتہ دنوں ایک سنئیر آفیسر کے ساتھ رائیونڈ جانے کا اتفاق ہوا تو جاتی عمرہ چوک پٹرول پمپ کے بالکل سامنے کم از بیس بغیر نمبر پلیٹ لوڈر اور مسافر بردار رکشے کھڑے تھے۔ یہ تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے گھر کی طرف جانے والے سڑک کے چوک کا عالم ہے۔ کیا بنا نمبر پلیٹ رکشے اور گاڑیاں سکیورٹی ٹھریٹ نہیں؟ مجھے اس آفیسر نے بتایا کہ رمضان سے چند روز قبل وزیراعلیٰ پنجاب نے اندرون لاہور کا دورہ کیا تو بے ہنگم ٹریفک جام پر وزیراعلیٰ نے سی ٹی او لاہور کو Displeasure بھیجنے کو کہا۔ وزیراعلیٰ آفس کی طرف سے Displeasure کے جواب میں دو دو عہدے انجوائے کرنے والے سی ٹی او نے وزیراعلیٰ آفس کے متعلقہ آفیسر کو وربل جواب دیا کہ وزیراعلیٰ رش والے ٹائم آئیں تو میں کیا کرتا۔ جو سی ٹی او اپنی غلطی تسلیم کرنے اور ٹریفک پولیس کے معاملات میں بہتری کی بجائے یہ کہے کہ رش والے اوقات میں وہ کیا کرے وہاں ٹریفک پولیس میں بہتری کی امید چھوڑ دیں۔ ایسا لگتا ہے پنجاب ٹریفک پولیس نے پورے پنجاب میں سڑکوں کو تجاوزات مافیا اور ناجائز پارکنگ کے اڈے اور بنا نمبر پلیٹ سفر کرنے والے دہشت گردوں کی جنت بنا دیا ہے۔

    پولیس ناکوں پر تعینات اہلکار ایک ایک گاڑی کو روک کر سونگھتے ہیں اور ہر گزرنے والے کا ایکسرے کرتے ہیں انکو بلانمبر پلیٹ گاڑیاں کیوں نظر نہیں آتی۔ بغیرنمبر پلیٹ گاڑی چاہے سرکاری ہو یا غیر سرکاری رکشہ ہو یا موٹر سائیکل سب کے خلاف ایف آئی آر دے کر پابند سلاسل کیا جائے۔اسسٹنٹ کمشنر، اے ڈی سی آر پولیس اور ٹریفک پولیس کی اپنی گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ ہیں جن کی نمبر پلیٹ ہیں انہوں نے بھی نمبر کے آگے راڈ لگا کر نمبر کو چھپایا ہوتا ہے ۔ کیا یہ سول ملازمین کوئی خفیہ ایجنسی ہیں جو نمبر پلیٹ نہیں لگا رہے ؟آنکھوں کو چندیا دینے والی غیر نمونہ فلیشر لائٹ سے حادثات ہو رہے ہیں لیکن کاروائی نہیں ہو رہی۔

    جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ کے افسران اور جوان ان سول افسران کی لاقانونیت کی وجہ سے دہشت گردوں کا سافٹ ٹارگٹ بن کر شہید ہو رہے ہیں۔ جناب چیف آف آرمی سٹاف آپ ان افسران اور جوانوں کی شہادتوں کا بدلہ دہشت گردوں سے تو لے رہے ہیں لیکن فرائض سے غفلت کرکے اور بنا نمبر پلیٹ قانون شکن اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا کب تنگ کریں گے؟۔
    جناب چیف آف آرمی سٹاف اور وزیراعظم آپ دونوں کی کوششوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے لیکن سرکاری ملازمین کی مجرمانہ غفلت، کرپشن اور لاقانونیت سے تنگ آکر مقامی سرمایہ کار بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں تو بیرونی سرمایہ کاروں کو کیسے اعتماد دلائیں گے۔

  • پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی اور اس کا حقیقی حل.تحریر: قاضی کاشف نیاز

    گزشتہ چند ماہ سے ملک عزیز پاکستان میں دہشت گردی خطرناک حد تک روز افزوں ھے۔۔۔صوبہ بلوچستان اور کے پی کے میں سکیورٹی فورسز پر حملے تو آئے دن معمول تھے ہی۔۔بےگناہ لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ دیکھ کر شہید کرنے کے دلسوز واقعات بھی آئے روز ھو رھے تھے لیکن 11مارچ کو پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا واقعہ ھوا جس میں کوئٹہ سے چلنے والی جعفر ایکسپریس کو بولان مچھ کے علاقے میں دہشت گردوں نے ہائی جیک کر لیا۔۔ دہشت گردوں نے 400سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا۔۔اور 24مسافروں کو شہید کر دیا جن میں کئی مسافر سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔۔۔۔۔۔یہ تو اللہ کا شکر ھوا کہ سکیورٹی فورسز نے بڑی مہارت سے کامیاب آپریشن کو مکمل کرتے ھوئے باقی تمام مسافروں کو دہشت گردوں کے چنگل سے بخیریت بازیاب کرا لیا۔۔۔اس آپریشن میں صرف ایک سکیورٹی اہلکار شہید ھوا۔۔۔
    تاھم اس کے بعد بھی یہ سلسلہ نہیں تھما اور روزانہ سکیورٹی اہلکاروں پر ایسے حملے جاری ہیں۔۔۔

    پاکستان کے دشمن روز اول سے پاکستان کو ختم کرنے کے ہمیشہ درپے رھے ہیں۔۔اس کے لیے ہمارا دشمن ایک دن بھی آرام سے نہیں ںیٹھا۔۔وہ کھلی جنگ میں تو ہماری بہادر افواج سے ہمیشہ شکست فاش کھاتا رہا جیسا کہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔۔۔اس وقت کے بعد چانکیائی سیاست کے ماہر ہمارے اس مکار دشمن نے اچھی طرح سوچ لیا کہ وہ پاکستان کو کھلی جنگ میں تو کبھی شکست نہیں دے سکتا لیکن سازش،جھوٹا پروپیگنڈہ اور قوم کو باہم تقسیم کر کے اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلا کر وہ یہ جنگ آسانی سے جیت سکتا ھے۔۔چنانچہ 1965 کے بعد وہ پوری تندہی سے اسی ایجنڈے پر پوری تیزی اور سنجیدگی سے اور بڑی برق رفتاری سے عمل کرنے لگا۔۔سب سے پہلے اس نے مشرقی پاکستان میں لسانیت کے نام پر نفرت کی آگ لگائی اور ہمارے بنگالی بھائیوں کو مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف کھڑا کر دیا۔۔دشمن کی اس سازش میں ہمارے اپنے ہی کچھ لیڈر اپنے مفادات کے لیے اس کے آلہ کار اور سہولت کار بن گئے۔۔۔ ۔یقینا اس میں مغربی پاکستان کے لیڈروں،اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں سے بھی غلطیاں ھوئی ھوں گی،ممکن ھے ان سے بھی کچھ استحصال ھوا ھو لیکن ایسا استحصال تو ہندو بنیا اس سے بھی کئی گنا زیادہ بھارت کی مختلف قوموں کے ساتھ شروع دن سے برت رہا ھے جیسا کہ دلت،سکھ اور مسلم کمیونیٹیز کو وہاں دیوار کے ساتھ لگا کے رکھا گیا ھے۔۔۔ان کا قتل عام وہاں معمول ھے۔۔۔نہ ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہ ان کی جان و مال۔۔۔یہ قومیں ہندو بنیے کے ساتھ ایک برتن میں پانی تک نہیں ہی سکتیں۔۔۔اس سے بڑا استحصال کسی قوم کا اور کیا ھو سکتا ھے۔۔۔دلت اور بڑی ذات کے ہندؤوں کے مندر تک الگ ہیں۔۔۔دنیا میں خط غربت کی انتہائی شرح سے بھی نیچے لوگ بھارت میں رہتے ہیں ۔۔پاکستان میں بھی یقینا غربت بہت ھے لیکن جتنی غربت انڈیا میں ھے اور جتنے لوگ انڈیا کے بڑے شہروں میں فٹ پاتھوں پر لاکھوں کی تعداد میں سوتے ہیں،پاکستان میں الحمدللہ پھر بھی اتنے کربناک حالات نہیں۔۔انڈیا میں غربت کا یہ عالم ھے کہ وہاں گھروں میں لیٹرین کا نہ ھونا سب سے بڑا مسئلہ ھوتا ھے اور وہاں سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا منشور ہی یہ ھوتا ھے کہ وہ ہر گھر میں لیٹرین مہیا کریں گے۔۔وہاں اکثر ایسے محلے اور کالونیاں ھوتی ہیں جہاں پورے محلے کے لیے اجتماعی طور پہ صرف دو لیٹرینیں ھوتی ہیں لیکن افسوس پاکستان نے انڈیا کی اس قدر غربت اور محروم قوموں کے کارڈ کو کبھی استعمال نہیں کیا۔۔۔حالانکہ انڈیا کی یہ محروم قومیں بھارت کے اسی استحصال اور غربت کے خلاف ایک عرصہ سے علم بغاوت بلند کیے ھوئے ہیں۔۔ ناگا لینڈ،میزورام،آسام، تامل ناڈو وغیرہ کے بے شمار ضلعے ایسے ہیں جہاں حکومت بھارت کی رٹ تک نہیں لیکن پاکستان نے کبھی بھارت کے ان حالات سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔۔۔کشمیریوں کی بیداری اور تحریک آزادی ہمارے لیے کافی مددگار ثابت ھوئی جس سے بھارت کو پہلی بار اپنی پڑ گئی اور یوں پاکستان کے لیے کشمیری ایک ڈھال بن کے کھڑے ھو گئے لیکن افسوس یہ ڈھال بھی ہمارے ہی حکمران طبقہ نے کمزور کر دی اور اس میں سب ہی نے اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔۔۔چنانچہ انڈیا نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس نے اپنی روایتی پروپیگنڈہ سازشوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت کی آگ ایک بار پھر لگانا شروع کردی، خاص طور پہ اس نے ہمارے دو صوبوں بلوچستان اور کے پی کے کو اپنا اھم ہدف بنا لیا۔۔
    اب ضرورت اس امر کی ھے کہ حکمران طبقہ سے لے کر عوام تک سبھی اپنے دشمن کی سازشوں کو سمجھیں اور ملک کی مضبوطی اور دفاع کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔۔کشمیر کی تحریک کو پھر مضبوط کرنے کی ضرورت ھے۔۔اسلام پاکستان کی 99فیصد اکثریت کا دین ھے جو ہم سب کو متحد رکھنے کے لیے ایک مضبوط مشترکہ بنیاد ھے۔۔ھم سب اپنے اختلافات رنگ،نسل اور قومیت کی بجائے اسلام کے پرچم تلے متحد ھو کر ختم کر سکتے ہیں۔۔ہمیں دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھنے کی اشد ضرورت ھے۔۔۔وہ ہمیں باہم لڑا کر ملک کو ایک بار پھر توڑنے کا اپنا ناپاک مشن پورا کرنا چاہتاھے۔۔ہمارا یہ فرض ھے کہ ھم کسی بھی بہانے اور کسی بھی نعرے کی اڑ میں دشمن کے ان عزائم کو پورا نہ ھونے دیں اور ایسی کسی سرگرمی میں شریک نہ ھوں جس سے ملک کے استحکام پر ضرب پڑے کیونکہ ملک ھے تو ھم ہیں۔۔۔اگر ملک ہی نہ رہا تو پھر کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔۔۔دشمن ہمیں بے دست و پا کر کے ہمارا حال فلسطین و کشمیر ،برما اور عراق و شام اور لیبیا جیسا کرنا چاہتا ھے۔۔ہمارا دشمن زبردست سیاہ پروپیگنڈہ کا ماہر ھے۔۔ابھی حالیہ ٹرین واقعہ میں بھی اس نے کتنی ہی فیک وڈیوز پھیلائیں۔۔کہیں اس نے پوری ٹرین کو جلتا ھوا دکھایا تو کہیں اس نے پاک فوج میں بغاوت کی جھوٹی وڈیوز پھیلائیں۔۔۔اسی سے اندازہ لگا لیں کہ اس ساری دہشت گردی کے پیچھے اصل ہمارا یہی دشمن چھپا ھے۔۔۔اسی دشمن نے ٹرین دہشت گردوں کے حق میں سافٹ امیج بھی پیدا کرنے کی پوری کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ دہشت گردوں نے عام مسافروں کو خود جانے دیا اور صرف سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔۔حالانکہ یہی دشمن بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر بے گناہ لوگوں کو مارتا رہا ھے۔۔سوال یہ ھے کہ یہ دہشت گرد اگر اتنے ہی رحمدل اور انسان دوست ہیں تو اس وقت اس کا سافٹ امیج اور انسانیت کہاں تھی۔۔۔اس لیے دشمن کے ایسے کسی بھی پروپیگنڈہ سے ہمیں خبردار رہنا چاہیے ۔۔ ائیے آگے بڑھیں۔۔اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے اصل دشمن کو پہچان کر اس کے خلاف سیسہ پلائی ھوئی دیوار بن جائیں ۔ھم اپنے غیر متزلزل اتحاد سے ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔۔اج ہمارے بنگالی بھائیوں کی بھی آنکھیں کھل چکی ہیں اور وہ اپنے اس مکار دشمن کو پہچان کر ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ اپنی محبتیں نچھاور کر رھے ہیں لیکن ہمارے لیے ابھی وقت ھے کہ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے اور دشمن اپنا وار کر جائے،ھم اپنے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں اور دشمن کی ہمیں باھم لڑا کر ملک تباہ کرنے کی جو گہری سازش ھے،اس کو اپنے اتحاد سے ناکام بنا دیں۔۔۔۔۔

  • خاموش فون . ایک بڑا نقصان!

    خاموش فون . ایک بڑا نقصان!

    خاموش فون. ایک بڑا نقصان!
    تحریر:حسن معاویہ جٹ

    کبھی بھی گھر والوں کی کال آئے تو نظر انداز نہ کریں۔ میسجز آئے ہوں تو لازماً دیکھ لیں، اگر بات کرنے کا دل نہیں بھی چاہ رہا تو بھی ضروری بات کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کریں۔ بعض اوقات انسان اتنا تھکا ہوتا ہے کہ جی چاہتا ہے کوئی بات نہ کرے، کوئی کال نہ آئے اور بس بے فکری سے سو جائے۔ اسی سوچ کے تحت کئی لوگ اپنا فون سائلنٹ موڈ پر لگا کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ لاکھ کوئی فون کرتا رہے مگر جب جواب نہ ملے تو کرنے والا تھک ہار کر رک جاتا ہے۔

    میرا ایک بچپن کا دوست جو اب اپنی فیملی سمیت لاہور منتقل ہو چکا ہے، کبھی اپنے گھر میں ٹھہرتا تو کبھی کام کی جگہ کے قریب کرائے کے کمرے میں رکتا۔ اس کی عادت تھی کہ جب تھکاوٹ ہوتی یا موڈ خراب ہوتا تو فون سائلنٹ کر دیتا تاکہ آرام میں خلل نہ آئے۔

    اُس روز بھی اس نے یہی کیا۔ مغرب کے بعد کمرے میں جا کر فون سائلنٹ کیا اور گہری نیند سو گیا۔ نیند اتنی گہری تھی کہ اگلے روز دوپہر بارہ بجے آنکھ کھلی۔ فریش ہو کر اس نے موبائل اٹھایا تو سینکڑوں مسڈ کالز دیکھ کر دل زور سے دھڑکنے لگا۔

    یہ تمام مسڈ کالز اس کے بھائی، کزنز اور دیگر رشتے داروں کی تھیں۔ گھبراہٹ کے عالم میں اس نے گھر فون کیا تو روتے ہوئے بتایا گیا: "عابد، فجر کے وقت تمہارے ابو کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم تمہارا انتظار کر کر کے میت چنیوٹ لے آئے ہیں اور یہاں چار بجے جنازہ ہے۔۔۔”

    عابد پر جیسے بجلی گر گئی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا کرے۔ اکیلا تھا، کوئی تسلی دینے والا موجود نہیں تھا۔ وہ دھاڑیں مار کر رویا۔ کورونا کے دن چل رہے تھے جس کی وجہ سے جانے آنے میں بھی مسائل تھے۔ عابد نے فوراً ایک دوست کو آگاہ کیا۔ دوست نے ٹیکسی بک کروا دی۔ عابد ٹیکسی میں سوار چنیوٹ پہنچا جہاں اس کی غیر موجودگی کے باعث جنازہ مؤخر کرنا پڑا۔ جیسے ہی اس کے چنیوٹ میں داخل ہونے کی اطلاع موصول ہوئی خاندان والوں نے میت اٹھانے کی تیاری کر لی۔ جب وہ بھاگتا ہوا پہنچا تو جنازہ لے جایا جا رہا تھا۔ راستے میں عابد شامل ہوا تو چارپائی روک کر اسے آخری دیدار کروایا گیا۔ وہ لمحہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ سطور لکھتے ہوئے بھی میری آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔

    اس واقعے کے بعد میں نے ہمیشہ کے لیے فون سائلنٹ پر لگانے سے توبہ کر لی۔ مسجد جاتا ہوں تو بھی فون کی آواز بند کرنے کے بجائے مدھم کر دیتا ہوں، وجہ یہ کہ اگر کوئی کال کرے کم از کم ہلکی محسوس ہو جائے تاکہ بعد میں رابطہ کرنا یاد رہ جائے۔

    ایک بات اور کال کرنے والوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ اگر کوئی بار بار کال کرنے پر بھی فون نہیں اٹھا رہا تو اس کی کوئی مجبوری ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں بار بار کال کرنے کے بجائے واٹس ایپ پر میسج چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ آج کل لوگ جلدی یا ذرا دیر سے واٹس ایپ پر آئے پیغامات ضرور دیکھتے ہیں۔

    ایک ضروری بات یہ بھی کہ کچھ لوگ نئے نمبر سے کال اٹھانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں حالانکہ ممکن ہے کہ نئے نمبر سے کال کرنے والا کسی ایسی خبر سے آگاہ کرنا چاہتا ہو جو زندگی بچانے یا کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکے۔ سو ہمیں اپنی پختہ عادات سے ہٹ کر بھی بعض کام کر لینے چاہئیں تاکہ وہ لمحہ زندگی میں نہ آئے جب کہنا پڑے: "اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔”

    رہے نام اللہ کا۔

  • بولان حملہ اور ڈیجیٹل دہشت گردی ،تحریر :ملک سلمان

    بولان حملہ اور ڈیجیٹل دہشت گردی ،تحریر :ملک سلمان

    بولان کے علاقے مشکاف ٹنل ڈھاڈر کے قریب امن دشمن دہشت گردوں نے منظم کاروائی کرتے ہوئے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑا کر کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو روک کر مسافروں اور عملہ کو یرغمال بنا لیا۔ تین سو سے زائد مسافروں کو یرغمال بنانے کی خبر نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی دنیا کیلئے بھی بریکنگ نیوز تھی۔ ٹرین پر قبضے کے وقت بیس کے قریب مسافروں کی ہلاکت کی اطلاع، جدید اسلحہ سے لیس دہشت گرد، نوسگنل ایریا، سرنگ اور پہاڑی علاقہ ان مشکل حالات میں انٹرنیشنل میڈیا اور بیرونی دفاعی تجزیہ کاروں کی اکثریت کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے مطالبات ماننے کے علاوہ کوئی حل ممکن نہیں جبکہ باقی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا انسانیت دشمن دہشت گردوں کے چنگل سے مسافروں کا ذندہ بچنا مشکل ہے۔

    ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں افواج پاکستان نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فوجی آپریشن کے زریعے انتہائی جرات و بہادری اور کامیابی سے ناصرف تمام یرغمال مسافروں کو بازیاب کروایا بلکہ تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔

    افواج پاکستان نے انتہائی احتیاط اور حکمت عملی سے دوران آپریشن تمام 300کے قریب مسافروں کومحفوظ رکھتے ہوئے تمام 33دہشت گردوں کو بھی ابدی نیند سلاتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ افواج پاکستان اس وطن عزیز کی ایک ایک انچ اور ہر شہری کی حفاظت کیلئے موجود ہیں اس لیے ملک دشمنوں کے عزائم کبھی پوری نہیں ہوسکتے۔ مشکل ترین حالات میں ناممکن کو ممکن بنانا افواج پاکستان کا ہی اعزاز ہوتا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا پر ٹرین حادثے کے حوالے سے مسافروں کی شہادت، افواج مخالف پروپیگنڈا، سنگین الزامات اور من گھڑت تجزیوں کی بھرمار رہی۔

    اس میں کوئی دورائے نہیں کہ محض ڈالروں کی خاطر سنسنی پھیلا کر ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا کر پیسہ اکٹھا کرنے والے جسم بیچ کر کمائی کرنے والوں سے بھی زیادہ غلیظ ہیں۔ڈس انفارمیشن، فیک نیوز اور پراپیگنڈا کی تشہیر ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کا وطیرا بن چکا ہے۔ہمسایہ ملک بھارت کئی ماہ پہلے سوشل میڈیا کا کنٹرول آرمی کے حوالے کرچکا ہے کیونکہ ڈیجیٹل دہشت گردی کو بھی فوج کے سوا کوئی کنٹرول نہیں کرسکتا۔ سوشل میڈیا کے زریعے سنسنی پھیلانے والے شرپسند عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ ملکی سلامتی اور استحکام کے خلاف کام کرنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے، اندرون و بیرون ملک جہاں کہیں سے بھی شر پسند اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں انکو عبرت ناک سزائیں دی جائیں تا کہ آئندہ کوئی بھی شخص فیک نیوز اور جھوٹے پراپیگنڈا کے زریعے امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کی جرات نا کر پائے۔
    شرپسند گروہوں اور ان کے حامی تجزیہ کاروں کی جانب سے پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، من گھڑت افواہیں اڑائی جاتی ہیں، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس دیے جاتے ہیں۔
    ”سائبرکرائم اور ڈیجیٹل دہشت گردی“ روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان ڈیجیٹل دہشت گردوں کو پاتال سے بھی تلاش کرنا پڑے تو نکالا جائے اورکڑی سے کڑی سزا دے کر نشان عبرت بنا دیں۔ جھوٹ کا کاروبار کرنے اور عوام میں نفرت کا زہر گھولنے والے ڈیجیٹل دہشت گردوں کوسخت سزائیں دیے بن گزارا نہیں۔ قوم کو گمراہ کرنا، ورغلانا اور ذاتی مفادات کیلئے ملک میں فساد برپا کرنا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟

    سوشل میڈیا قوانین کے حوالے سے چین، روس، ترکی، ایران، سعودی عرب سمیت بہت سے ممالک میں سخت قوانین نافذ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق ایسی اشاعت جو ریاستی مفادات، سلامتی، خودمختاری، امن عامہ، خوشگوار تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہو، نفرت کے جذبات کو ہوا دے، ریاستی ادارے پر عوام کے اعتماد کو کم کرے ایسی اشاعت کرنے والے کو تین لاکھ درہم سے ایک کروڑ درہم تک جرمانہ اور قید کیا جا سکتا ہے۔
    پیکا کو مذید سخت کرنا ہوگا، متحدہ عرب امارات جیسے قوانین لاگو کرنا ہونگے جہاں سوشل میڈیا تو درکنار کوئی ہوٹل، ریسٹورنٹ اور گھر کی چار دیواری میں بھی ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کا نہیں سوچ سکتا۔

    میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ میں سائبر کرائم کے چند افسران کو جانتا ہوں جو ناقص تفتیش کرکے حکومت اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کرنے والے ملزمان کو سزاؤں سے بچاتے رہے ہیں۔ سائبر کرائم کے کچھ افسران نے ایک گینگ بنا رکھا ہے جو مدعی اور ملزم دونوں کا موبائل لیکر فرانزک کی آڑ میں پرسنل ڈیٹا حاصل کرکے شہریوں کو بلیک میل کرتے ہیں لڑکے سے پیسے اور لڑکی سے عصمت کی سودے بازی ہوتی ہے۔
    سائبر کرائم جیسے اہم ادارے کو صرف پولیس اور ایف آئی اے کے افسران کے حوالے کرنے کی بجائے اس کی”سپرویژن“ کیلئے آرمی افسران تعینات کیے جائیں تا کہ ناصرف سوشل میڈیا کے دہشت گردوں کو نکیل ڈالی جائے بلکہ ہر طرح کے استحصال کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سائبر کرائم کیلئے الگ سے ججز مقرر ہونے چاہئے جو خود سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں، پروفیشنلی ٹرینڈ ججز نہ ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل دہشت گردی میں ملوث ملزمان عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔

  • درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں

    درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں

    درخت لگائیں، آنے والی نسلوں کو بچائیں
    تحریر:ملک ظفراقبال
    درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کی بقا ہے

    مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ہر پروجیکٹ کو فائلوں میں ثابت کر دیا جاتا ہے کہ سب اوکے ہے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ بلکہ ہم خود اپنے آپ کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں، جو اس وقت ہمیں محسوس نہیں ہوتا۔ اس طرح شجرکاری مہم زور و شور سے جاری تو ہو جاتی ہے، مگر 76 سالوں سے اس مہم سے وہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے جس کی امید تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ہم ذمہ داری سے کام نہیں کرتے، بلکہ خانہ پُری ہی ہمارا منشور ہوتا ہے۔ ایک طرف ہم حکومتی اداروں سے نالاں نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا اپنا کوئی منشور نہیں ہوتا، بلکہ حکومتی اقدامات کے ساتھ سول سوسائٹی کو مل کر اس طرح کی مہم میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

    مجھے اچھی طرح یاد ہے اوکاڑہ میں 2019 میں محکمہ جنگلات کے ایک ایس ڈی او افتخار احمد جنجوعہ تھے جو شجرکاری مہم کو بھرپور انداز میں شروع کرتے تھے۔ ان کے دور میں اوکاڑہ کے گرد و نواح میں درخت ہی درخت نظر آنے لگے۔ آج بھی ان کی ٹیم کی طرف سے لگائے گئے درخت نہروں اور سڑکوں پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اس طرح کا افسر ہر ضلع میں ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے مقرر کردہ اہداف حاصل نہ کرے۔

    آئیں اب بات کرتے ہیں کہ درخت ہمارے لیے کیوں ضروری ہیں؟
    درخت نہ صرف انسانی زندگی بلکہ پورے کرۂ ارض کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ان کی حفاظت کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور خوشحال ماحول فراہم کیا جا سکے۔درخت زمین کے لیے نہایت ضروری ہیں کیونکہ وہ ماحول، معیشت، صحت اور حیاتیاتی تنوع پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ ان کی اہمیت کو درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

    درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہے۔ ایک بڑا درخت سالانہ ہزاروں لیٹر آکسیجن فراہم کر سکتا ہے، جو انسانوں اور جانوروں کی بقا کے لیے لازم ہے۔درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں، جو گلوبل وارمنگ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ وہ دھول، دھوئیں اور دیگر زہریلی گیسوں کو بھی جذب کرکے ہوا کو صاف رکھتے ہیں۔درخت ماحول میں نمی برقرار رکھتے ہیں اور بادلوں کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں، جس سے بارشوں میں اضافہ ہوتا ہے اور خشک سالی کے اثرات کم ہوتے ہیں۔درختوں کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں، جس سے مٹی کا کٹاؤ اور زمین کی زرخیزی میں کمی روکی جاتی ہے۔ یہ کھیتوں اور زرعی پیداوار کے لیے نہایت مفید ہیں۔
    درخت جانوروں، پرندوں اور کیڑوں کے لیے قدرتی مسکن فراہم کرتے ہیں۔ کئی اقسام کے جانور درختوں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں شہد کی مکھی، پرندے اور مختلف جنگلی حیات شامل ہیں۔

    درخت گرمیوں میں ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں۔ شہروں میں درختوں کی موجودگی گرمی کی شدت کو کم کرتی ہے، جس سے ایئر کنڈیشنرز کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔درخت ذہنی اور جسمانی صحت پر اچھے اثرات ڈالتے ہیں۔ درختوں سے بھرپور ماحول میں رہنے والے لوگ کم تناؤ محسوس کرتے ہیں اور ان میں بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔درخت لکڑی، پھل، ادویاتی پودے، شہد اور دیگر قدرتی وسائل فراہم کرتے ہیں، جو معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں۔درخت قدرتی ساؤنڈ پروفنگ کا کام کرتے ہیں اور ٹریفک، فیکٹریوں اور دیگر شور کے ذرائع سے پیدا ہونے والے شور کو کم کرتے ہیں۔

    اسلام سمیت دنیا کے کئی مذاہب میں درختوں کو اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے، جس سے ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے: درخت لگانا اسلام میں ایک عظیم نیکی اور صدقہ جاریہ ہے۔ قرآن و حدیث میں درختوں کی اہمیت اور ان کے فوائد پر زور دیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل اس کی وضاحت کرتے ہیں:

    اللہ تعالیٰ نے درختوں کو اپنی عظیم نعمتوں میں شمار کیا ہے:
    (سورہ الانعام: 99) میں ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: "اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے ہر قسم کی نباتات اگائیں.”
    (سورہ الرحمن: 6) میں ارشاد ربانی ہے:ترجمہ: "اور سبزہ اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔”

    حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہےحضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا،اگر کسی مسلمان نے کوئی درخت لگایا یا کھیتی کی، پھر اس میں سے انسان، جانور یا پرندہ کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوگا۔(بخاری: 2320، مسلم: 1553)

    قیامت کے قریب بھی درخت لگانے کی ترغیب:
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا”اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو تو اگر وہ اس کو لگا سکتا ہے تو ضرور لگائے۔”(مسند احمد: 12902)حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا”جو مسلمان درخت لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی بھی مخلوق کھاتی ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔”(مسلم: 1552)

    آئیں سب مل کر حکومت کا ساتھ دیں اور سول سوسائٹی اس شجرکاری مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے۔

    درخت لگانا نہ صرف زمین کی خوبصورتی اور ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہے، بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ ایک مستقل نیکی اور صدقہ جاریہ بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ دنیا میں فائدہ پہنچے اور آخرت میں ثواب حاصل ہو۔

  • صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    صحت میں بہتری کے لیے عملی اقدامات اور چیلنجز.تحریر:ملک سلمان

    مریم نواز شریف کے میو ہسپتال والے وزٹ سے اب تک میں نے لاہور اور پنجاب کے درجنوں ہسپتالوں میں داخل مریضوں کا فیڈ بیک لیا تو 100فیصد کی رائے تھی کہ مریم نواز کے میو ہسپتال کے ایم ایس کی معطلی کے بعد باقی ہسپتالوں میں بھی فوری بہتری آئی ہے تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ ڈاکٹروں کو بھی احتساب کا ڈر ہوا ہے۔ خاص طور پر میو ہسپتال کے مریضوں اور لواحقین کا کہنا تھا وزیراعلیٰ پنجاب ان کی دل کی آواز بنی ہیں، مریم نواز کے وزٹ سے پہلے ڈاکٹرسرنج اور برنولہ تک باہر سے منگواتے تھے جبکہ محکمہ صحت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق دو لاکھ سرنج اور اتنے ہی برنولہ میو ہسپتال کے پاس موجود تھے۔
    پاکستان میں شعبہ صحت کیلئے گذشتہ تیس سالوں میں ہم نے ورلڈ بینک سے 2ارب20کروڑ ڈالر سے زائد کے پراجیکٹس لیے۔
    دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی فنڈنگ اور حکومت کا سالانہ بجٹ اس کے علاوہ ہے۔ اس کے باوجود شعبہ صحت میں تنزلی کی وجہ صرف یہی ہے کہ کروڑوں اور اربوں کے فنڈز ڈاکٹرز کے حوالے کردیے۔ انتظامی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اربوں کھربوں روپے بدانتظامی اور کرپشن کی نظر ہو گئے۔
    میں نے گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمیں بھی ایم ایس کی سیٹ کوختم کرکے ایڈمنسٹریٹر لگانا ہوں گے۔
    ٹیچنگ ہسپتالوں کیلئے آرمی کے ریٹائرڈ لیفٹنٹ کرنل، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے گریڈ انیس کے افسران کو ایڈمنسٹریٹر بنایا جائے،ان افسران کے ہوتے ہوئے کسی بھی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی بلیک میلنگ اور ہڑتال ہوجائے تو پھر کہیے گا۔
    ڈائریکٹر فنانس پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ سے ہونے چاہئے۔ایڈمنسٹریشن اور فنانس کی سیٹوں پر کسی بھی صورت ڈاکٹر کو نہیں لگانا چاہئے۔
    تمام اضلاع کے چیف ایگزیکٹو ہیلتھ کیلئے گریڈ 18کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس افسران بہترین انتخاب ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ تحصیل لیول اور چھوٹے ہسپتالوں کیلئے گریڈ 17اور 18کے ایڈمنسٹریٹو تجربے کے حامل ایڈمن افسران کی بھرتی کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کا واحد حل یہی ہے کہ ڈاکٹرز کو انتظامی عہدوں سے مکمل الگ کر کے صرف علاج معالجہ پر فوکس کرنے کا کہا جائے اور انتظامی سیٹوں پر انتظامی افسران کی تقرری کی جائے۔
    شعبہ صحت میں بہتری کے لیے پریکٹیکل اقدامات پر جہاں عام عوام مریم نواز کو دعائیں دے رہی ہے وہیں چند سرکاری ڈاکٹر سوشل میڈیا پر مریم نواز کے خلاف محاذ بنائے ہوئے غلیظ کمپین کر رہے ہیں ۔
    میں بارہا توجہ دلا چکا ہوں کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف صحافی اور یوٹیوب پوڈکاسٹر بنتے جا رہے ہیں۔ سرکاری ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی صحافتی سرگرمیوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں پریکٹس پر پیڈا ایکٹ لگایا جائے جبکہ حکومت مخالف پروپیگنڈا کرنے والے باقی افراد پر پیکا ایکٹ لگانا ہی واحد ہے۔

  • موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون اور انٹرنیٹ، دور جدید کی اہمیت اور چیلنجز.تحریر : شہزادی ثمرین

    موبائل فون آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کے لیے مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا تھا، لیکن یہ ذرائع ہمیشہ محدود اور مشکل ہوتے تھے۔ اگر کسی کا رشتہ دار گھر سے طویل سفر پر نکلتا تو ہفتوں یا مہینوں تک اس کی خبر نہیں ملتی تھی، جب تک کہ وہ واپس نہ آ جائے۔ اس دور میں خط و کتابت کا آغاز ہوا، جس سے لوگ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے تھے، لیکن پھر بھی خط بھیجنے کا عمل وقت لیتا تھا۔

    وقت کے ساتھ ساتھ پیغام رسانی کے نئے ذرائع سامنے آنا شروع ہوئے۔ ٹیلیفون کا استعمال اس حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوا، جس سے لوگ فوراً ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچا سکتے تھے۔ لیکن آج کل موبائل فون نے ٹیلیفون کی جگہ لے لی ہے اور یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اب پاکستان میں ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے، چاہے وہ مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو یا بزرگ، ہر عمر کے افراد اس کا استعمال کرتے ہیں۔

    موبائل فون نے ہماری زندگیوں کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم دنیا بھر سے جڑ سکتے ہیں، بات چیت کر سکتے ہیں، اور مختلف کاموں کو آسانی سے انجام دے سکتے ہیں۔ موبائل فون کی کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں،موبائل فون پر پیغام بھیجنا ایک انتہائی آسان عمل ہے۔ وٹس ایپ اور دیگر ایپس کے ذریعے ہم تیزی سے پیغامات ارسال کر سکتے ہیں۔موبائل فون کی بدولت ہم نہ صرف آواز، بلکہ کسی دوسرے شخص کی شکل بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سے دور دراز کے رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رابطہ کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔موبائل میں مختلف گیمز، موویز، اور ویڈیوز کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس سے لوگ اپنے فارغ وقت میں تفریح حاصل کرتے ہیں۔موبائل فون میں کیلکولیٹر، کلینڈر، موسم کی معلومات، اور سڑکوں کے نقشے جیسی بہت سی سہولتیں شامل ہیں، جو ہمیں روزانہ کی زندگی میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

    اگرچہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگیوں کو بہت آسان بنایا ہے، مگر ان کے کچھ نقصانات بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بچے موبائل پر گیمز کھیلنے، ویڈیوز دیکھنے اور دیگر تفریحی مواد میں غرق ہو جاتے ہیں جس سے ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے موبائل کی وجہ سے اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی میں کمی آتی ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ بعض لوگ آن لائن کام کے جھانسے دے کر لوگوں سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بچوں اور بڑوں دونوں پر نفسیاتی اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہمارے ذہنوں کو انتشار کی طرف لے جا رہی ہے۔ موبائل فون کا زیادہ استعمال فیملی تعلقات کو کمزور کر رہا ہے۔ والدین اور بچے ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں، اور اس کا برا اثر گھریلو ماحول پر پڑ رہا ہے۔آج کل ٹک ٹاک جیسی ایپس نے نوجوانوں میں ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سارا دن ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سے ان کی پڑھائی اور دیگر ضروری کام متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین اکثر اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کے بچے کیا کر رہے ہیں۔

    موجودہ حالات میں حکومت کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے استعمال کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ صورتحال ایسے ہی رہی تو آنے والے سالوں میں ہماری قوم کی ترقی خطرے میں پڑ جائے گی۔ بچوں اور نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور موبائل فون کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے مناسب قوانین بنانا ضروری ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہماری زندگی کو بے حد سہولت بخشا ہے، مگر ان کے استعمال میں اعتدال ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو ان ٹیکنالوجیز کے صحیح استعمال کے بارے میں آگاہی دینی چاہیے تاکہ وہ ان کا فائدہ اٹھا سکیں، نہ کہ ان سے نقصان پہنچے۔