Baaghi TV

Category: متفرق

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    مرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    (قصہ درد 2)
    کچھ روز پہلے قلم سے سر قلم کروانے کا شوق اچانک انگڑائی لے کر بیدار ہوا تو قصہ درد کہہ ڈالا، پنجاب حکومت، محکمہ تعلیم اور وزیر تعلیم کو مخاطب کر کے اساتذہ کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ایک معاشرتی موضوع پر لکھنے کی کوشش کی لیکن طبیعت میں وہ روانی نہ تھی۔ کچھ کمی تھی۔ تبھی عنوان بہ ہیت شعر آیا
    میرے لہو کو چھڑک دو تمام گلشن میں میری وفاوں پے انگلی اٹھا رہا ہے کوئی آج دوبارہ سوچا تو خیال آیا کہ قصہ درد ایک نہیں یہ تو داستان امیر حمزہ سے طویل اور بلبل ہزار داستاں سے ضخیم ہے۔ سابقہ تحریر پر کچھ قارئین نے رائے دی ہے کہ الفاظ کا انتخاب آسان کریں ۔ ان کی رائے کا بھی شکریہ۔ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے کے مصداق کچھ ایسا ہی انتخاب
    پچھلی تحریر میں الفاظ ہوا
    خیر قصہ مختصر آج کا موضوع مالی معاملات حکومت اور اساتذہ سے جڑا ہے۔ سرکاری سکولز میں بیس روپے ماہانہ فروغ تعلیم فنڈ کے نام سے ہر طالب علم سے لیا جاتا ہے۔ جن طلباء کے بارے ہیڈ ماسٹر کو علم ہو وہ یہ 20 روپے کی خطیر رقم بیک جنبش قلم معاف بھی کر سکتا ہے۔ آہ ہمارے چھوٹے چھوٹے اختیارات اب وصولی ایف ٹی ایف یعنی فروغ تعلیم فنڈ حکومت و محکمہ کے احکامات ہیں کہ اسے بینک میں جمع کرایا جائے 5000 روپے سے زائد رقم چوبیس گھنٹے سے زائد پاس رکھنا محکمانہ اجازت نہ ہے. اس رقم کو سکول کے اکاونٹ میں جمع کرایا جاتا ہے پھر اخراجات کے لیے دوبارہ بذریعہ چیک نکلوایا جاتا ہے۔ ایک اور اکاونٹ نان سیلری بجٹ NSB ہے ، جو کہ سکول کے نام پر بینک میں کھولا جاتا ہے۔ یہاں سے وہ رام کہانی شروع ہوتی ہے جس کو پڑھ کر بقول مشتاق یوسفی( مرد قتل کردیتے یا ہیں خودکشی) سکول مینیجمنٹ کونسل کے نام سے مقامی افراد کی ایک کمیٹی ہر سکول میں موجود ہے جس کا ہر ماہ اجلاس ہوتا ہے اس کمیٹی کا مقرر کردہ رکن این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز دونوں اکاونٹس کا شریک دستخط یعنی کو سگنیٹری ہوتا ہے۔ شریک چئیرمین کے دستخط بینک میں جوائنٹ اکاونٹ میں اپ ڈیٹ کرانے کے لیے نئی بینکنگ پالیسی کے تحت ہیڈ کی سیلری سلپ اور کو سگنیٹری کی آمدن کے ثبوت کے لیے اس کی زمین زرعی کا فرد یا کوئی بھی آمدن کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ اب لطیفہ یہ ہے کہ دونوں اکاونٹس کی آمدن گورنمنٹ کے فنڈَز سے ہے لیکن بینک پتہ نہیں کیا سمجھ کر ڈیل کر رہے ہیں۔

    خود پر بیتی ایک داستاں سناتا کہ چند سال پہلے ایک بینک منیجر نے این ایس بی اکاونٹس کے بارے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ بے نامی اکاونٹس عنقریب بند کر دیے جائیں گے عرض کی یہ پنجاب حکومت کے بی ہاف پر کھولے گئے ہیں ارشاد ہوا ہیں تو بے نام اکاونٹس سے ملتے جلتے نہ کوئی انسانی اکاونٹ ٹائٹل نہ آمدن کا کوئی واضح ذریعہ۔ خیر یہ تو حکومت پنجاب، اور تعلیم کے محکمہ میں وزارت کے لیول کی نا اہلی ہے۔ آگے چلتے ہیں۔ ہر خریداری جو ان اکاونٹس سے کی جائے اس پر مختلف رقم پر مختلف ٹیکس دینا لازمی ہے۔ یعنی پہلے لاہور سے رقم سکولز کے اکاونٹس میں اور پھر اسی رقم پر ٹیکس باالفاظ دیگر حکومت ہی حکومت سے ٹیکس لے رہی۔ اساتذہ ٹیکس نہ دیں تب بھی مرتے اور دیں تو ایک نئی داستاں۔ چلیں یہ تو ہوئی انتطامی نا اہلی۔ اب رقم بینک سے بذریعہ چیک نکلوانے کے لیے سب سے پہلے تو سکول کونسل کا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں اس امر کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیسے نکلوانے کی واقعی ضرورت ہے اس کے بعد اس اجلاس سے ایک دو یا تین رکنی کمیٹی برائے خریداری بذریعہ منظور شدہ رقم تشکیل پاتی ہے۔ پھر ہیڈ یا کو سگنیٹری بینک جا کر رقم نکلواتے ہیں اب چونکہ 5000 سے زائد کیش پاس رکھنا ممنوع ہے لہذا رقم نکلوانے کے فوراً بعد مطلوبہ شے کو تلاش کر کے اس کی خرید و ادائیگی ہوتی ہے ساتھ سی نیا کام شروع اب بل لینا ہے اور بل پر رقم سکول کانام پتہ مقدار شے نرخ۔ الگ و واضح درج ہوں دوسرے بل پر رسید ادائیگی ہو اب ان دونوں بلز کو لاکر اخراجات کے بلز کی فائل میں محفوظ کرنے سے پہلے بل کی پشت پر ایک مرتبہ پھر چند ایس ایم سی ممبران اور ہیڈز دستخط کریں گے اور رسیدی ٹکٹ بھی لگایا جائے گا۔ جو چیز جس مقصد کے لیے خریدی گئی اگلے اجلاس میں وہ کمیٹی کو معائنہ و ملاحظہ کرائی جائے گی اور اجلاس کی کاروائی تحریر کر کے اس پر ایک بار پھر دستخط ہوں گے۔

    اب چلتے ہیں حکومتی و محکمانہ ہدایات کی طرف کہ خریداری صرف اس دکان سے کریں جو این ٹی این رجسٹرڈ ہو ٹیکس کے معاملات میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر رہی ہو اور جب ان کے ہاتھ سکول ہیڈز آتے تو وہ ایڈوانس ٹیکس جمع کرا چکے ہوتے لہذا وہ رقم بھی اوور چارجنگ کر کے پوری کی جاتی یا اشیاء کی کوالٹی کم کر دی جاتی۔ اگر خریداری خود کی تو شرح ٹیکس کے حساب سے اس شے کی قیمت کے ساتھ ٹیکس الگ جمع کرانا لازمی ہے۔ یعنی پہلے ایک ادارہ یعنی محکمہ تعلیم اپنے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں کو رقم دیتا ہے۔ اس رقم کو بینک اپنی پالیسی کے تحت الگ سے ماہانہ یا سہ ماہی 49 روپے، 35 روپے کٹوتی کرتا ہے پھر وہی رقم کیش ہو کر حکومت کو کچھ حصہ ٹیکس کی شکل میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا، کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ قصہ درد جاری ہے۔ درخت کاٹنا وہ بھی سکول میں پرانے اساتذہ کے مطابق بندہ مارنے کے برابر جرم ہے۔ اب بڑا درخت بعض دفعہ کٹوانا لازم ہو تو،
    (کیونکہ چاردیواری کے قریب یا پانی کے بور کے نزدیک جڑیں و ٹہنیاں مسائل بناتی ہیں ) اب اس جرم ضعیفی کی سزا سنیں۔

    سب سے پہلے وہی اجلاس سکول کونسل، پھر من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق اجلاس میں تائید اس کے بعد چین آف کمانڈ کو ملحوظ خاطر رکھ کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کو درخواست اس کی منظوری کے بعد ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن سے منظوری۔ ٹھہریں۔۔۔۔۔ دلی ہنوَز دور است۔ اب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محکمہ جنگلات کو لیٹر لکھے گا اس کے بعد محکمہ جنگلات اپنے سٹاف کے ذریعے سکول کا وزٹ کرے گا اور درخت کو جانچ کر اس کی متوقع قیمت مقرر کر کے ڈپٹی ڈی ای او کو تحریری رپورٹ دے گا اب ہیڈ کو کم از کم مقررہ ریٹ پردرخت بیچنے کی اجازت بذریعہ دفتر ایجوکیشن آفس ملے گی اور درخت کو (لکڑی) بیچ کر جو رقم ملے گی اسے اکاونٹ میں جمع کرانا لازمی چاہے کتنی ہی ضروری پیمنٹ ہو ایک دفعہ پیسے اکاونٹ ایف ٹی ایف میں جائیں گے پھر نکلوا لیجئے۔

    تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون؟

    اب چلتے ہیں آڈٹ کی جانب اصول یہ ہے کہ مالی سال کے بلز باترتیب ایک فائل میں ہوں۔ فائل میں موجود بل پر مالک دکان کی مہر و دستخط ہوں۔ بل کی پشت پر ہیڈ اور کو سگنیٹری سمیت دیگر اراکین کے دستخط یوں۔ جس رقم کا آڈٹ ہو رہا ہے اس کو خرچ کرنے کی منظوری کا تحریری اجلاس ایس ایم سی درج ہو۔ سٹاک رجسٹر پر تحریر ہو ساتھ ہی ساتھ SIS سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پر بھی چیک نمبر، تاریخ اور خریداری یا خرچ تحریر ہو۔ اس سارے لایعنی اور بے مقصد عمل سے مالی بے ضابطگی سے بچنے اور اخراجات شفاف کرنے میں مدد ملتی ( بقول بلکہ بحکم محکمہ تعلیم ). اس سارے عمل میں اتنی پیچیدگی ہے کہ شفاف ادائیگی بھی ضابطے کی کاروائی میں کے داو پیچ کی تاب نہ لاکر مشکوک ٹھہرتی جس سے ایک اور مسئلہ لاینحل کھڑا ہوتا ہے آڈٹ آبجیکشن۔ جس کے بعد ہیڈ ٹیچر کو لاہور، ضلع اور تحصیل کے درمیان شٹل کاک بنا دیا جاتا ہے ۔ اتنی زیادہ بے ترتیب اور لایعنی ہدایت کے بعد پڑھانے کے لیے نہ وقت ملتا ہی ہمت۔ تھک ہار کے جب سونے کو لیٹتے تو کسی نہ کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا ہوتا اساتذہ کی تنخواہیں بہت زیادہ اور کام کم ہے۔ اللہ کے بندے ٹیچرز کی اوسط تنخواہ اس تمام عمل سے گزرنے کے باوجود، نوکری پر روز ایک شرط، پینشن غیر یقینی پھر بھی اگر زیادہ ہے تو بند کر دیں ویسے بھی بچتا تو کچھ نہیں بس دل کے بہلانے کو ہم بھی یہ نوکری کر رہے۔ اساتذہ کو ریلیف دینا ہے تو خدارا مشکل مبہم اور بے کار وقت ضائع کرنے والے ان کاموں سے ان کی جان چھڑوائیں بلکہ خود بھی چھوڑ دیں۔ خواتین ہیڈذ کبھی بینک کبھی آڈٹ میں پھنس کر گھر میں کام چھوڑ کر یہ تمام ضابطے کی کاروائی مکمل کرتے کئی مرتبہ دیر سے واپس جاتی ہیں غیر معمولی مسائل اور خانگی مسائل کے حوالے سے جس مشکل کا سامنا کرتی ہیں اس کا بھی احساس کم از کم حکومت کو نہیں۔ ویسے بھی حکومت کا تو کام ہی وہ کروانا کہ بندہ کرپٹ نہ ہوکر بھی جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے تو مجبوراً کرپٹ ہوجاتا۔ آخری بات کہ خدا را اس عمل کو آسان کیجیے آڈٹ کا طریقہ بدلیں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی بدلیں اس کے بعد جو کرپشن کرے بے شک نوکری سے نکال دیں لیکن یہ جو کچھ ہو رہا یہ ختم کریں
    اس کا جواب ایک ہی لمحے میں ختم تھا (پالیسی میٹرز)
    پھر بھی مرے سوال کا حق دیر تک رہا

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

  • شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق،امت مسلمہ پھر سے یتیم،تحریر:عائشہ ندیم

    چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے
    چمن میں آۓ گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے

    28 فروری بروز جمعہ کا دن ایک دلخراش خبر کے ساتھ طلوع ہوا۔ جمعہ کی رات فیس بک پر سکرولنگ کے دوران دارالعلوم ثانی جامعہ حقانیہ میں ہونے والے المناک دھماکے کی خبر نظروں سے گزری۔ پہلے تو یقین نہ آیا، فوراً سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سچ ہے۔ دل پر جیسے بجلی سی گر گئی اور پورا دن انتہائی سوگوار گزرا۔ پھر دھماکے کے بعد کی ویڈیوز دیکھیں، وہ معصوموں اور بے گناہوں کے بکھرے وجود کا منظر، جو آنکھوں کے سامنے سے ہٹانا ناممکن لگتا تھا۔

    دل غم کی شدت سے تڑپتا رہا کیونکہ مدارس والوں کو تو مدارس سے عشق ہوتا ہے۔ آج تک عالمِ اسلام میں مولانا سمیع الحق کی کمی پوری نہیں ہو پائی تھی کہ ایک اور سانحہ امت مسلمہ پر ٹوٹ پڑا۔ شہید ابن شہید، مولانا حامد الحق کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آہ! امت مسلمہ پھر سے یتیم ہوگئی۔

    کاش کہ اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے والے یہ سمجھ سکیں کہ ان کی سازشیں امت مسلمہ کے دل میں انتقام کی آگ سلگانے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکتیں۔ کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ اسلام کو جتنا دبانے کی کوشش کی جائے گی، یہ اتنا ہی ابھر کر پھیلے گا۔وہ تو جنت کے باسی تھے، راہِ حق میں قربان ہونے کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھرتے تھے، جو اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے کو کفر سمجھتے تھے۔ یقیناً جب وہ اللہ کے حضور پہنچے ہوں گے، تو فرشتوں نے ان کا استقبال کیا ہوگا۔ لیکن ان کے اہلِ خانہ اور ان تمام لوگوں کا کیا قصور تھا جنہیں ان کی ضرورت تھی؟ کیوں ہمیں رمضان المبارک کی شروعات میں لاشوں کا تحفہ دیا گیا؟

    اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔آمین

    دیوانے گزر جائیں گے ہر منزل غم سے
    حیرت سے زمانہ انھیں تکتا ہی رہے گا
    آتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
    گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا

  • جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    جامعہ حقانیہ خود کش حملہ،دہشتگردی کی بزدلانہ کاروائی.تحریر: جان محمد رمضان

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں حالیہ خودکش حملہ ایک سنگین دہشت گردی کا واقعہ ہے جو فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کی مذموم کارروائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس حملے میں مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایک اہم دینی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مولانا حامد الحق حقانی نے حالیہ دنوں میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک کانفرنس میں خواتین کی تعلیم کے بارے میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا تھا، جو انہیں فتنہ الخوارج کے گروہ کا نشانہ بننے کی وجہ بنا۔ مولانا حامد الحق حقانی نے خواتین کی تعلیم پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق قرار دیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکنا اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اس بیانیے کی وجہ سے انہیں فتنہ الخوارج کی جانب سے متعدد دھمکیاں بھی ملیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے اس خودکش دھماکے نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اس حملے کا مقصد مولانا حامد الحق حقانی کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ فتنہ الخوارج کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ گروہ اسی طرح کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے دینِ اسلام کے خلاف اپنی نفرت کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔فتنہ الخوارج کی طرف سے اس نوعیت کی دہشت گردی کے حملے نئی بات نہیں ہیں۔ اس گروہ نے ماضی میں بھی مساجد، امام بارگاہوں اور مزارات کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ ان دہشت گردوں نے 17 مساجد، 32 امام بارگاہوں اور 21 مزارات کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، کئی اہم مذہبی شخصیات جیسے مولانا حسن جان، مولانا نور محمد، علامہ ناصر عباس، اور خالد سومرو کو بھی شہید کیا گیا۔یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فتنہ الخوارج اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے دین کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کے دشمن بن چکے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کو اس دہشت گردی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر امن دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ حکومت کو اپنی سیاست کو عوامی مفادات پر ترجیح دینے کے بجائے صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس حکمت عملی اپنائے اور عوام کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرے۔یہ خودکش حملہ نہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے بلکہ یہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بعض انتہاپسند گروہ دین اسلام کی اصل تعلیمات سے ہٹ کر دہشت گردی کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    دارالعلوم حقانیہ میں ہونے والے اس حملے کے بعد، یہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اس دہشت گردی کا مقابلہ کریں اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔

  • اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اپیل بنام وزیر اعلیٰ پنجاب ، انصاف دو، میرا صفدر علی مجھ سے چھین لیا گیا،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب، مریم نواز صاحبہ!
    آج میں ایک باپ کی حیثیت سے آپ کے در پر انصاف کی بھیک مانگنے آیا ہوں۔ میرا دل زخمی ہے، میری دنیا اجڑ چکی ہے، میری امیدوں کا چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ میں حیدر علی، ایک مظلوم باپ، جس کے جگر کا ٹکڑا، 23 سالہ معصوم صفدر علی، ناحق قتل کر دیا گیا۔ وہ میرا خواب تھا، میری امید تھا، میرے بوڑھے کندھوں کا سہارا تھا، مگر اسے بے دردی سے چھین لیا گیا۔
    یہ کیسا انصاف ہے؟
    سمن آباد، فیصل آباد کی وہ سڑکیں، جو کبھی میرے بیٹے کے قدموں کی آہٹ پہ مسکراتی تھیں، آج سسک رہی ہیں۔ میرے صفدر کو نانا پاپا پیزا شاپ کے مالک کے حکم پر ایک بے حس سیکیورٹی گارڈ نے گولی مار دی۔ ایک ایسی گولی جو میرے بیٹے کے سینے میں اتری اور میرے دل کو چھلنی کر گئی۔ کیا یہ ہے قانون؟ کیا ایسے قتل عام کا کوئی حساب نہیں؟ کیا میرے بیٹے کا خون اتنا سستا تھا کہ کوئی بھی طاقتور شخص اپنی مرضی سے اسے بہا سکتا تھا؟صفدر علی کوئی بدمعاش یا جرائم پیشہ فرد نہیں تھا، وہ تو صرف اپنی محنت کی کمائی سے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ پال رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کے خواب، اس کے ارمان، سب ایک لمحے میں چھین لیے گئے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ میرے بچے کا قصور کیا تھا؟ وہ کیوں مارا گیا؟

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، کیا میرا بیٹا قصوروار تھا؟
    آپ بھی ایک ماں ہیں، آپ بیٹے،بیٹیوں کی عزت کی داعی ہیں، آپ نے ہمیشہ خواتین، نوجوانوں اور محروم طبقات کے حق میں آواز بلند کی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ ایک ماں کے دل پر کیا گزرتی ہے جب اس کا لخت جگر اس کے سامنے خون میں لت پت ہو۔ مگر میں ایک باپ ہوں، اور میرا دل اس دکھ سے دوہرا ہو چکا ہے۔وزیر اعلیٰ صاحبہ! میری اہلیہ کا برا حال ہے، وہ دن رات اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہے۔ میری بیٹیاں اپنے بھائی کو یاد کر کے تڑپ رہی ہیں۔ ہم سب کو انصاف چاہیے۔ ہمیں بس یہی پوچھنا ہے کہ کیا ہمارے بچوں کا خون اتنا ارزاں ہو چکا ہے کہ کوئی بھی اثر و رسوخ والا شخص، کسی بھی دن، کسی بھی وقت ان کی جان لے سکتا ہے؟

    قاتلوں کو نشانِ عبرت بنایا جائے!
    ہمیں بتایا گیا ہے کہ قاتل گرفتار ہو چکے ہیں، لیکن کیا ان پر واقعی وہی قانون لاگو کیا جا رہا ہے جو کسی عام مجرم پر ہوتا؟ یا پھر وہ بااثر ہونے کی بنا پر کسی رعایت کے منتظر ہیں؟ بتانے والے بتاتے ہیں کہ حوالات میں وہ مہمانوں کی طرح بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔میں یہ نہیں چاہتا کہ صرف مقدمہ درج ہو، میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ صرف زبانی تسلیاں دی جائیں۔ میں انصاف چاہتا ہوں، وہ انصاف جو کھلی آنکھوں سے نظر آئے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص کسی ماں کے لعل کو یوں چھیننے سے پہلے ہزار بار سوچے۔یہ کیس صرف صفدر علی کا نہیں ہے، یہ ہر محنت کش کا کیس ہے، ہر اس باپ کا کیس ہے جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے رات دن ایک کرتا ہے۔ اگر آج صفدر کے قاتل آزاد گھومتے رہے، اگر آج ان کو ان کے جرم کی سخت ترین سزا نہ دی گئی، تو کل کوئی اور صفدر علی مارا جائے گا، کوئی اور ماں اپنا بیٹا کھو دے گی، کوئی اور بہن اپنے بھائی کی جدائی میں آنسو بہائے گی۔میری اپیل، میری آخری امید
    محترمہ مریم نواز صاحبہ، میں آپ کے انصاف پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اس کیس کو نظر انداز نہیں کریں گی۔ آپ کو اپنے صوبے کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے، اور میرے بیٹے کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دلوا کر ثابت کرنا ہے کہ پنجاب میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔میں آپ سے دست بستہ التجا کرتا ہوں:صفدر علی قتل کیس کو فوری طور پر دہشت گردی ایکٹ کے تحت ٹرائل میں لایا جائے۔
    ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنیں۔اس کیس کو فاسٹ ٹریک عدالت میں سنا جائے تاکہ میرے بیٹے کے خون کے ساتھ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔نانا پاپا پیزا شاپ کو فوری طور پر سیل کیا جائے اور اس کے مالکان کو بھی برابر کی سزا دی جائے کیونکہ انہوں نے ایک معصوم جان کے قتل کا حکم دیا تھا۔سیکیورٹی گارڈز کے غلط استعمال پر سخت قانون سازی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی غیر ذمہ دار شخص کسی کی زندگی سے نہ کھیل سکے۔

    وزیر اعلیٰ صاحبہ، میں ٹوٹ چکا ہوں، مگر انصاف کے لیے ابھی بھی کھڑا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری فریاد سنیں گی اور میرا دکھ بانٹیں گی۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو کل یہ آگ کسی اور کے گھر پہنچے گی۔
    میں انصاف مانگتا ہوں، میں انصاف کا حق دار ہوں!
    اللہ آپ کو اس آزمائش میں سرخرو کرے اور آپ کو وہ ہمت دے کہ آپ ایک مظلوم باپ کے آنسو پونچھ سکیں۔حیدر علی، والد صفدر علی

  • باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کی شہرت اس کی بے باک اور سچی صحافت کی بدولت ہے۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے باغی ٹی وی کی نمائندگی لینے کا فیصلہ کیا اور قصور سے باغی ٹی وی کا حصہ بننے کی سعادت حاصل کی۔ باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب، جو کہ سچائی اور حقائق پر مبنی تجزیے اور تبصروں کے لیے جانے جاتے ہیں، میرے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پہچان "کھرا سچ” ہے، اور یہی وہ فلسفہ ہے جس پر باغی ٹی وی کا پورا نیٹ ورک قائم ہے۔ مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کے حوصلہ افزائی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، میں نے ہمیشہ سچائی کی راہ اپنائی اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کی۔

    اگرچہ باغی ٹی وی کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے چار سال ہو چکے ہیں، لیکن میری مبشر لقمان صاحب سے پہلی ملاقات تقریباً ایک ماہ قبل ہوئی۔ وہ ملاقات میرے لئے ایک بہت اہم موقع تھی میں نے ان سے کہا کہ میں قصور میں باغی ٹی وی کا دفتر قائم کرنا چاہتا ہوں۔ مبشر لقمان صاحب نے نہ صرف میری خواہش کو سراہا بلکہ مجھے بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ "آپ دفتر بنائیں، اور میں خود آ کر اس کا افتتاح کروں گا۔” ان کی یہ بات میرے لئے ایک تحریک کا باعث بنی اور یہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا کہ ایک دن وہ خود ہمارے دفتر کا افتتاح کرنے کے لئے قصور آئیں گے۔

    بالآخر وہ دن آیا جب مبشر لقمان صاحب نے قصور آ کر ہمارے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ موقع نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قصور کے صحافیوں اور عوام کے لئے بھی ایک خاص لمحہ تھا۔ افتتاحی تقریب میں باغی ٹی وی اور روزنامہ قدامت کے دفتر کا افتتاح کیا گیا، جس میں وکلا، صحافیوں، اور مقامی دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ تقریب نہایت پروقار اور یادگار تھی جہاں پھولوں کی پتیوں کو نچھاور کر کے دوستوں کا استقبال کیا گیا اور مالا پہنا کر انہیں عزت دی گئی۔

    افتتاحی تقریب کے دوران، مبشر لقمان صاحب نے قصور کے صحافیوں کو اہم نصیحتیں دیں اور انہیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا مقصد صرف سچ کو اجاگر کرنا اور عوام کی خدمت کرنا ہے، خواہ وہ کسی بھی رائے یا طاقتور طبقے کے خلاف ہو۔ ان کی باتوں نے ہم سب کو نئی توانائی اور حوصلہ دیا کہ ہم سچائی کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور اپنے ضمیر کے مطابق کام کریں۔

    میں باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کا بھی شکر گزار ہوں۔ ان دونوں کی رہنمائی اور حمایت کی بدولت ہی میں نے اپنا کام بہتر طور پر انجام دیا ہے۔ جب بھی کسی خبر کی اشاعت کی ضرورت ہوتی، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے اسے بروقت شائع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی محنت اور ٹیم ورک کی بدولت، باغی ٹی وی کی کامیابی کو مزید جلا ملی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ قصور کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور انہیں حل کروانے میں اہم کردار ادا کرنا ہمارا فرض ہے۔ باغی ٹی وی کے ذریعے ہم عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو اٹھائیں گے اور مبشر لقمان صاحب کی نصیحت کے مطابق، مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ ہمیں اس بات کا پختہ عزم ہے کہ ہم اپنے شہر اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے، سچ اور حق کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

    ایک بار پھر میں باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں اپنے دفتر کے افتتاح کے لیے قصور آنے کا وقت دیا۔ ان کی موجودگی نے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا اور ہمیں یہ باور کرایا کہ سچائی کی راہ پر چلنا ہی صحافت کا اصل مقصد ہے۔باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ، ہم نے اپنے کام کا آغاز کیا اور آگے بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ ان کی نصیحتوں کے مطابق، ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں گے اور مظلوموں کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کے افتتاحی موقع پر ملنے والے حوصلے اور اعتماد کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    baaghitv

  • سماعت سے محروم بچوں کے والدین کے لئے  خوشی کی خبر

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین کے لئے خوشی کی خبر

    پاکستان میں سماعت سے محروم بچوں کے والدین کے لئے ایک خوشی کی خبر ہے۔ پنجاب حکومت نے غریب والدین کے لیے کوکلیئر امپلانٹ آپریشن کی سہولت شروع کر دی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو سننے اور بولنے کی صلاحیت دے سکیں۔ کوکلیئر امپلانٹ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو سماعت سے محروم بچوں کو آوازوں کو سننے اور بولنے کے قابل بنا دیتی ہے۔کوکلیئر امپلانٹ ایک چھوٹا الیکٹرانک ڈیوائس ہے جو کان کے اندر لگایا جاتا ہے۔ یہ آلہ آوازوں کو ڈیجیٹل سگنلز میں تبدیل کرتا ہے اور براہ راست دماغ تک پہنچاتا ہے۔ اس سے وہ بچے جو پیدائشی طور پر یا کسی حادثے کی وجہ سے سماعت سے محروم ہیں، وہ دنیا کی آوازیں سننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے نہ صرف وہ سن سکتے ہیں بلکہ بولنے کی صلاحیت بھی حاصل کرتے ہیں، جو ان کے معاشرتی اور تعلیمی ترقی کے لئے اہم ہے۔

    پنجاب حکومت نے غریب والدین کے لئے یہ ایک بڑا اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پروگرام کا آغاز کیا ہے تاکہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو سننے اور بولنے کی صلاحیت دینے کے خواہشمند ہیں، ان کی مدد کی جا سکے۔ یہ پروگرام خاص طور پر اُن والدین کے لیے ہے جو مالی طور پر مضبوط نہیں ہیں اور جو اپنے بچے کو اس علاج کی سہولت دینے میں قادر نہیں ہیں۔کوکلیئر امپلانٹ سے بچوں کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اس آپریشن کے بعد بچے نہ صرف سماعت اور بولنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں، بلکہ ان کی تعلیمی اور سماجی زندگی میں بھی اہم تبدیلی آتی ہے۔ وہ دیگر بچوں کے ساتھ بہتر طریقے سے بات چیت کر سکتے ہیں اور معاشرتی طور پر بھی بہتر ترقی کر سکتے ہیں۔آپریشن کے ذریعے بچے نہ صرف آوازیں سننا شروع کرتے ہیں بلکہ اس کے ذریعے زبان سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ والدین کی خوشی دیکھنے کے لائق ہوتی ہے جب ان کے بچے پہلی بار سننے اور بولنے لگتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہمیشہ غریب عوام کے حقوق کے لئے کام کیا ہے اور یہ اقدام بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سماعت سے محروم بچوں کے لیے یہ پروگرام ایک اہم قدم ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنے حقوق حاصل کر سکیں۔ ان کے اس اقدام سے غریب والدین کی مشکلات میں کمی آئے گی اور وہ اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کی امید رکھتے ہیں۔ کوکلیئر امپلانٹ آپریشن مہنگا ہوتا ہے، اس لئے بہت سے والدین اسے افورڈ نہیں کر پاتے۔ لیکن اب پنجاب حکومت نے اس آپریشن کی سہولت غریب والدین کے لئے مفت فراہم کی ہے، جس سے ان کے لئے یہ ایک سنہری موقع بن گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بچوں کی زندگی بہتر ہو گی بلکہ پورے خاندان کی زندگی میں بھی خوشی کا ساما آ سکے گا۔

    پنجاب حکومت کا یہ اقدام یقینی طور پر سماعت سے محروم بچوں کے لیے ایک انقلاب ثابت ہو گا۔ اس کے ذریعے نہ صرف ان بچوں کو سننے اور بولنے کی صلاحیت ملے گی بلکہ ان کی زندگی کے دروازے بھی کھلیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی یہ کاوشیں غریب عوام کے لئے ایک نعمت کی مانند ہیں اور ان کی اس مدد سے بچے بہتر زندگی گزار سکیں گے۔ہمیں امید ہے کہ یہ قدم مزید صوبوں میں بھی اُٹھایا جائے گا تاکہ ہر بچے کو اس سہولت کا فائدہ پہنچ سکے

  • سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    سول نافرمانی،پی ٹی آئی کا بیانیہ”وڑ”گیا. تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف حکومتوں نے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم سیاست میں آنے والی پیچیدگیاں اور بعض سیاسی جماعتوں کے بیانیے نے ملک کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے، پی ٹی آئی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ پاکستان میں ترسیلات زر بھیجنے سے گریز کریں۔ تاہم جنوری 2025 کے اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس بیانیے کے اثرات کم ہو گئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کی مدد کے لیے سرگرم ہیں۔سول نافرمانی ایک ایسا سیاسی عمل ہے جس میں عوام کسی حکومتی پالیسی یا فیصلے کے خلاف غیر قانونی طور پر مزاحمت کرتے ہیں۔ عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلائی تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر نہ بھیجنے کی کال بھی دی گئی تھی، تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس بیان میں ان کی کوشش تھی کہ پاکستانی عوام حکومت کی غیر مقبول پالیسیوں کا مقابلہ کریں۔تاہم، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر میں اضافہ ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ عوام اس قسم کے بیانیے سے متاثر نہیں ہوئے اور وہ اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ اضافے نہ صرف حکومت کے پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہیں بلکہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ پاکستانی قوم کی محبت اپنے وطن کے ساتھ کبھی کم نہیں ہوتی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر 3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو کہ 25 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پیسہ پاکستان بھیجا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی بیرون ملک اپنے وطن کی حالت بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔یہ اضافہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کی علامت ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب بیرون ملک پاکستانی اپنے پیسوں کو پاکستان بھیجتے ہیں، تو اس کا مقصد صرف مالی امداد نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک علامت ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن کی معاشی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ جنوری 2025 میں بھیجی جانے والی 3 ارب ڈالر کی رقم صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ معاشی بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، جہاں پاکستانیوں نے 72.83 کروڑ ڈالر بھیجے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 62.17 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 44.36 کروڑ ڈالر، اور امریکہ سے 29.85 کروڑ ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وطن کی معیشت کے لیے بھرپور تعاون کر رہی ہے۔ماہرین معاشیات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں اضافے کا ایک اہم سبب حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب حکومت نے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے، تو اس کا اثر بیرون ملک پاکستانیوں کی سوچ اور رویوں پر بھی پڑا۔یہ تمام ترسیلات زر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ لوگ حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ اپنے پیسوں سے پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کا "ملک دشمن بیانیہ” اب اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس بات کو سمجھا ہے کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ہر شخص کا کردار اہم ہے، اور وہ کسی سیاسی جماعت یا بیانیے کے اثرات سے بالاتر ہو کر اپنے ملک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    جنوری 2025 میں ترسیلات زر میں اضافہ ایک اہم سنگ میل ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی عوام اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی کسی بھی سیاسی یا جذباتی بیانیے سے متاثر ہوئے بغیر اپنے وطن کی ترقی کے لیے فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کے مستقبل کے لیے یکجا ہیں اور اپنے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی مدد فراہم کر رہے ہیں۔یہ ایک پیغام ہے کہ اگر حکومت اور عوام کے درمیان ایک مثبت تعلق قائم ہو، تو ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    افغانستان میں افراتفری اور اس کے علاقائی اثرات

    اگست 2021 میں امریکہ کی واپسی کے بعد سے، واشنگٹن نے افغانستان کے لیے 3.71 بلین ڈالر کی امداد مختص کی ہے، جس میں سے 64.2% اقوام متحدہ کے ایجنسیوں، UNAMA اور ورلڈ بینک کے ذریعے تقسیم کی گئی،

    طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، ان کی جابرانہ حکمرانی مزید سخت ہو گئی ہے، جس کا سبب ان کی حکومتی پالیسیوں اور دہشت گرد گروپوں جیسے فتنے الخوارج (فاك ٹی ٹی پی)، داعش (ISIS) اور القاعدہ کی حمایت ہے۔ طالبان کی حکمرانی نے خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ SIGAR نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے بے خوف ہو کر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جیسا کہ ISIS-K نے 2024 میں افغانستان، ایران، روس، پاکستان اور ترکی میں 60 حملے کیے، جو 2023 کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہیں۔

    پاکستان نے 2024 میں 640 سے زیادہ (ٹی ٹی پی) حملوں کا سامنا کیا، جن میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں 2,500 سے زائد افرادکی موت ہوئی، جو 2023 کے مقابلے میں 66 فیصد اضافہ ہے، پاکستان کی حکومت نے طالبان کے جابرانہ دور حکومت کی جانب سے (ٹی ٹی پی) کے انتہاپسند گروپ کو خاموشی سے سپورٹ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جو افغان سرزمین پر بے خوف پناہ گزین ہیں۔ پاکستان نے یہ بھی ثبوت فراہم کیا ہے کہ (ٹی ٹی پی) کے جنگجو امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں، جو امریکہ کی واپسی کے بعد افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع نے اندازہ لگایا ہے کہ افغانستان میں 7 بلین ڈالر کا فوجی سامان چھوڑا گیا تھا، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مستقبل کی امداد اس بات پر مشروط کی کہ امریکی فوجی سامان واپس کیا جائے۔ چار ملکی گروپ (پاکستان، چین، ایران اور روس) نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کریں۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے کوئی بڑا حملہ ہوا تو اس کا فوری جواب دیا جائے گا اور (ٹی ٹی پی) کے محفوظ ٹھکانوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ (ٹی ٹی پی) طالبان کی حکمرانی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے، جس میں 6,000 سے 6,500 جنگجو پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان کی حکمت عملی سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے اور طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے چین اور دیگر علاقائی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر مضبوط دفاعی اقدام پر مرکوز ہے۔ اسلام آباد اپنے اقتدار اعلیٰ اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز نہ بننے دیا جائے۔

  • ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سائنسدان ،تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری یکم جولائی 1903ء کو مشرقی پاکستان کے ضلع روہتک کے ایک گاؤں کہنور میں پیدا ہوئے ۔
    ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری وائسرائے روفس آئزکس کے وظیفے پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں زیر تعلیم رہے ۔ یہیں سے Msc فزکس میں ٹوپ کیا اور باقی تمام سائنسی مضامین میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر طلائی تمغے حاصل کیے ۔ڈاکٹر صاحب کی کامیابیوں سے متاثر ہو کر بھوپال کے نواب حمیداللہ خان نے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ بھیج دیا ، وہیں کیونڈش لیبارٹری میں” ماہر طبیعات مارک اولیفانٹ” نے نیوکلیئر فزکس کی طرف مائل کیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء میں” کیمسٹری میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان ارنسٹ ردرفورڈ "کی نگرانی میں نیوکلیئر فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ کیونڈش کا یہ ایک شاندار دور تھا کیونکہ وہاں اس دوران ایٹم اور نیوکلیئرفزکس میں بہت پیش رفت ہوئی ۔ کیونڈش لیبارٹری میں اس وقت سر جے جے تھامسن ، لارڈ ردرفورڈ ، آسٹن ولسن ، کک روفٹ والٹن اور سر جیمز چیڈ ویک جیسے سائنسدان کام کر رہے تھے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ہمیشہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ کیونڈش کے سنہری دور میں” ردرفورڈ” کے طالب علم ر ہے ۔

    تیس سال کی عمر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برطانوی ہندوستان واپس آئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فزکس کی تعلیم دینے لگے ۔ 1935ء سے 1938ء تک وہ یہیں شعبہ فزکس کے چیئرمین بھی رہے ۔1938ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری شعبہ طبیعات کے سربراہ کی حیثیت سے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تشریف لے گئے جہاں” اولیفانٹ” کی دعوت پر دوبارہ برمنگھم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں بطور نوفلیڈ فیلو کام کرنے کے لئے برطانیہ چلے گئے ۔برطانوی میگزین "ڈاروینین”کے مطابق 1947ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری برمنگھم میں "اولیفانٹ” کی لیبارٹری میں ایک سال گزارنے کے بعد کہنور واپس آ گئے ۔

    قیام پاکستان کے فوراً بعد "اولیفانٹ” نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے نوزائیدہ ملک میں سائنس ، خصوصاََ ایٹمی اور نیوکلیئر فزکس کی تدریس و تحقیق کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ، اور لکھا کہ "اس پروگرام کے کامیاب اطلاق کے لئے پورے برصغیر میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری سے بہتر کوئی مسلمان سائنسدان نہیں ہے اور انہیں فوری طور پر پاکستان بلانے پر زور دیا ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے "اولیفانٹ” کے کہنے پر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو خط لکھ کر پاکستان آنے کی دعوت دی اور ساتھ ہی گورنمنٹ کالج لاہور میں شعبہ فزکس کی سربراہی کی پیش کش کی ۔بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو نیشنل فزکس لیبارٹری میں ڈپٹی ڈائریکٹر کی پیشکش کردی ، لیکن ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ، اور1948ء میں حکومت پاکستان کے دعوت نامے پر اپنے خاندان سمیت پاکستان آگئے ، اور گورنمنٹ کالج لاہور جوائن کر کے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے استعفیٰ دے دیا ۔

    پاکستان کی ایٹمی سرگرمیوں کی پہلی دہائی کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تین طبیعیات دان ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری ، نذیر احمد اور ڈاکٹر عبدالسلام پر مشتمل ہے ۔1954ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے جوہری تحقیق کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ فزکس میں” ہائی ٹینشن لیبارٹری "کی بنیاد رکھی ۔”ہائی ٹینشن لیبارٹری "میں ایک ایٹم ایکسلریٹر لگایا گیا ہے ، جس میں اعلیٰ سطح پر تحقیق ممکن ہوئی۔ہائی ٹینشن لیبارٹری بہت تیزی سے بین الاقوامی سطح پر جانی پہچانی جانے لگی ، جب غیر ملکی سائنسدان پاکستان کے دورے پر آتے تو اس لیبارٹری کو دیکھنے کی خواہش ضرور کرتے ۔1958ء میں پرنس فلپ نے اس لیبارٹری کا دورہ کیا اور بیس سے زیادہ تجربات کا مشاہدہ کیا ،اور کہا کہ "یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہاں کیونڈش کی طرح کا ماحول ہے ۔””ہائی ٹینشن لیبارٹری "کا نام بعد میں تبدیل کر کے "سنٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز ان فزکس”رکھ دیا گیا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے نیوکلیئر پارٹیکل ایکسلریٹر کی تنصیب میں اہم کردار ادا کیا ، 1967ء میں انہوں نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تشکیل دی جس نے کامیابی سے” ریڈیو آئسو ٹوپس”کی پہلی کھیپ تیار کی ۔اس لیبارٹری سے تربیت حاصل کرنے والے طلباء پاکستان اور بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔Msc فزکس کے طلباء تقریباً بیس سے تیس کی تعداد میں جوہری فزکس میں تحقیقی کام کرنے کے لئے لیبارٹری آتے ۔ تمام طلباء کو پروجیکٹ دئیے جاتے ، جن کی نگرانی ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کرتے ۔تحقیقی کام کرنے والے طلباء نے یونیورسٹیز اور راولپنڈی کے قریب نئے بننے والے "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی”میں پوزیشنیں سنبھال لیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تیار کی جو اب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی قیادت کر رہی ہے ۔ ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو سائنس میں "استادوں کے استاد”کا خطاب ملا ۔خوارزمی سوسائٹی اور انٹرا ایکٹ کے زیرِ اہتمام 30نومبر 1998ء کو اپنے لیکچر میں ڈاکٹر ثمر مبارک مندنے انہیں "پاکستانی ایٹمی پروگرام کا حقیقی خالق” قرار دیا ۔
    1958ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری 55سال کی عمر میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہو گئے ، اور اس کے بعد” ہائی ٹینشن” اور” نیوکلیئر ریسرچ لیبارٹری” کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری "تجرباتی نیوکلیئر فزکس” کے سر خیل بنے اور اپنے شاگرد مصطفیٰ یار خان کے ساتھ مل کر پاکستان کے کامیاب "نیوکلیئر پروگرام "کی بنیاد رکھی ۔1970ء کے اوائل میں ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے پنجاب یونیورسٹی کے "سنٹر فار سالڈ سٹیٹ فزکس”کو اپنا مسکن بنا لیا ، اور یہاں پر انہوں نے” پلازما فزکس” کی نئی ریسرچ لیبارٹری قائم کی ۔اس لیبارٹری میں انہوں نے یونیورسٹی کے متعدد طلباء کو Msc اور M phill کے لئے تربیت دی ۔ اس کام سے متعلق بڑی تعداد میں مقالہ جات اور تحریریں شائع کروائی گئیں ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کی پنجاب یونیورسٹی سے وابستگی شروع ہی سے تھی ۔1960ء سے 1977ء تک پنجاب یونیورسٹی میں اعزازی پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔1977ء میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے انہیں تاحیات پروفیسر ایمریطس مقرر کیاگیا ۔

    پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری نے 1932ء سے 1988ء کے دوران 53 تحقیقی مقالہ جات لکھے ، جو مختلف بین الاقوامی جرائد کی زینت بنے ۔شاندار سائنسی خدمات پر متعدد ملکی اور غیر ملکی اداروں کی تنظیموں نے ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو رکنیت ، "چئیر مین شپ” سے نوازا ۔ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کی خدمات کے اعتراف میں ستارہ خدمت 1964ء ، ستارہ امتیاز 1982ء اور 2005ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا ۔ بلآخر 4 دسمبر 1988ء کو مختصر علالت کے بعد ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری انتقال کر گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)ڈاکٹر رفیع محمد چوہدری کو پاکستان کے لئے گراں قدر خدمات کے صلے میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔(انشاء اللہ)