Baaghi TV

Category: متفرق

  • بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان پر دشمنوں کا پھربزدلانہ وار، تحریر: جان محمد رمضان

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کی شب دہشت گردوں نے ایک بزدلانہ حملہ کیا، جس میں انہوں نے منگوچر کے علاقے میں سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی اور مسافر بسوں پر فائرنگ کی۔ اس حملے کے دوران 18 سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہو گئے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی نے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانے کے بعد بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ جوابی کارروائی کے دوران 12 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

    قلات میں دہشت گردوں نے اس حملے میں اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردوں نے مسافر بسوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں شہریوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک نجی بینک کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی، تاکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ ان دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد علاقے میں ترقی اور امن کو سبوتاژ کرنا اور عوام میں خوف پیدا کرنا تھا۔یہ حملے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کو فروغ دینے کی سازش کا حصہ ہیں۔ ان کارروائیوں کے پیچھے بیرونی قوتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جو بلوچستان میں امن و سکون کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

    دہشت گردوں کی کارروائیاں ناکام بنانے میں بلوچستان کی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور کردار ادا کیا۔ فورسز نے فوراً علاقے کا محاصرہ کیا اور دہشت گردوں کو مؤثر جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی جرات و بہادری کی بدولت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں اپنے حملے کی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔شہید ہونے والے 18 جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ عوام کی حفاظت کی جا سکے، اور ان کی قربانیاں بلوچستان کی سرزمین پر امن قائم رکھنے کے لیے ایک سنہری مثال بن گئیں۔

    دہشت گردوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں دہشت اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دہشت گرد کمزور ہیں اور ان کے تمام تر حربے ناکام ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں اور عوام کی حمایت سے یہ دہشت گرد اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔جب بھی ان دہشت گردوں کو پکڑا گیا، تو انہوں نے بے بسی کا مظاہرہ کیا اور حقیقتاً ان کی تمام تر طاقت جھوٹے پروپیگنڈے اور خوف کو پھیلانے تک محدود ہے۔ بلوچستان میں اب عوام اور سیکیورٹی فورسز کے تعاون سے ان دہشت گردوں کی کمر توڑ دی جائے گی اور علاقے میں دیرپا امن قائم کیا جائے گا۔

    بلوچستان کے علاقے قلات میں 31 جنوری 2025 کو ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک اور مثال ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ تو عوام کے حوصلے کو توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی فورسز کی عزم و ہمت کو کم کر سکتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ان دہشت گردوں کی کارروائی کو ناکام بنایا اور بلوچستان میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک اور قدم اٹھایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، لیکن بلوچستان کے عوام اور فورسز کی ہم آہنگی نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔یہ وقت ہے کہ ہم سب بلوچستان میں امن و سکون کے قیام کے لیے مل کر کام کریں اور دہشت گردوں کے تمام منصوبوں کو ناکام بنائیں۔

    jaan

  • کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    کشمیر اور بھارت کا نام نہاد جمہوری چہرہ .تحریر: جان محمد رمضان

    بھارت اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا جمہوری چہرہ دن بدن زیادہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ صرف ایک دھوکہ ہے۔ بھارت میں جمہوریت، سیکولرازم اور انسانی حقوق کی دعوے صرف لفظوں تک محدود ہیں اور ان دعووں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور اقلیتوں کے ساتھ بدترین سلوک نے بھارت کے جمہوری دعووں کو ایک کھلا جھوٹ ثابت کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کی فورسز کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں۔ 7 دہائیوں سے کشمیری عوام بھارت کی حکمرانی کے تحت نہ صرف اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں بلکہ ان کے انسانی حقوق کی بدترین پامالی بھی کی جا رہی ہے۔ ہر روز کشمیری عوام کو بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کا استعمال، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

    ان تمام مظالم کے باوجود کشمیری عوام نے کبھی بھی اپنی آزادی کی جدوجہد سے پیچھے قدم نہیں اٹھایا۔ بھارت نے انہیں اپنے حقِ خودارادیت سے محروم کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کیا ہے جو کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں۔جب بھارت یومِ جمہوریہ مناتا ہے، تو یہ دن کشمیری عوام کے لئے یومِ سیاہ بن چکا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کا دعویٰ کشمیری عوام کے لئے ایک مذاق بن چکا ہے، کیونکہ بھارت نے ان کے جمہوری اور انسانی حقوق کو مسلسل غصب کر رکھا ہے۔ کشمیری عوام نے تیسری نسل تک اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھا ہے اور اس دوران بے شمار جانوں کی قربانی دی ہے۔

    کشمیری عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے: اپنے حقِ خودارادیت کا حق حاصل کرنا۔ اس حق کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت تسلیم کیا جا چکا ہے، لیکن بھارت نے مسلسل اس مطالبے کو نظرانداز کیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے فوری اقدامات کریں۔کشمیری عوام کی یہ جدوجہد عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے جاری ظلم و ستم کو روکنا اور کشمیری عوام کو ان کے حقوق دینا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

    بھارت کا جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویٰ صرف ایک دکھاوا ہے، جو کشمیری عوام اور بھارت کی اقلیتوں کے حقوق کو پامال کرنے کے عمل کو چھپانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یومِ جمہوریہ کا دن کشمیری عوام کے لئے ایک لمحہ افسوس ہے کیونکہ اس دن بھارت اپنی جمہوریت کے دعوے کے بجائے کشمیریوں کی آزادی کو نظرانداز کرتا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔

    jaan

  • بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    بی ایل اے،بی ایل ایف،بلوچستان کی ترقی کی دشمن.تحریر: جان محمد رمضان

    دہشت گرد تنظیمیں، جیسے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)، نہ صرف پاکستان کے امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، بلکہ یہ تنظیمیں بلوچستان کی ترقی کی دشمن بھی ہیں۔ ان تنظیموں کی دہشت گردانہ سرگرمیاں اور ان کے حملوں نے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہے بلکہ پورے پاکستان میں خوف و ہراس پھیلایا ہے۔ ان تنظیموں کے وحشیانہ حملوں کی حقیقت اب روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے۔

    9 نومبر 2024ء کو کوئٹہ میں ہونے والے حملے میں 2 معصوم شہریوں کی شہادت نے ایک بار پھر بی ایل اے اور بی ایل ایف کے وحشیانہ عزائم کو بے نقاب کیا۔ ان شہریوں کے بھائیوں کی آہ و پکار اور دل دہلا دینے والے حقائق نے بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اسباب کو واضح کیا۔ ان حملوں کی حقیقت نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے عوام کے سامنے آ چکی ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں صرف انسانیت کے دشمن ہیں۔

    29 ستمبر 2023ء کو مستونگ میں ایک مسجد کے قریب ہونے والے دھماکے میں 50 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں شہید ہونے والی ایک کمسن بچی کا والد اپنی بیٹی کی تصویر ہاتھ میں لیے غم سے نڈھال تھا۔ بی ایل اے نے اس حملے کی ذمے داری خود قبول کی، جو ان کے دہشت گردانہ عزائم کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ تنظیمیں انسانیت کے خلاف ہیں اور اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بے گناہ انسانوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

    2024ء میں 33 بلوچوں کی شہادت،گزشتہ برس بھی بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے 33 معصوم بلوچوں کی زندگیوں کا خاتمہ کیا۔ بلوچ عوام، طلبہ اور روتی ہوئی مائیں ان دہشت گرد تنظیموں کی درندگی کی شدید مذمت کر رہی ہیں۔ ان واقعات نے بلوچستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ان تنظیموں کی حقیقت کیا ہے اور وہ کس مقصد کے لیے یہ جانی نقصان کروا رہے ہیں۔

    4 جنوری 2025ء کو تربت میں ہونے والے بس حملے میں ایک نوجوان کی شہادت ہوئی۔ اس حملے کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی۔ اس نوجوان کی والدہ نے اپنی آہ و پکار کے ذریعے یہ سوال اٹھایا کہ ’’بی ایل اے کے دہشت گردوں نے میرے بیٹے کو بے دردی سے کیوں مارا؟‘‘، اس سوال نے اس بات کو مزید تقویت دی کہ یہ دہشت گرد تنظیمیں بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔

    بی ایل اے کے دہشت گرد بشیر نے حال ہی میں گرفتاری کے بعد اپنی تنظیم کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔ اس نے بی ایل اے کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد صرف تباہی اور خونریزی ہے۔ بشیر کی گواہی نے ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عوامی شعور کو مزید بیدار کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیاں کسی بھی طور پر بلوچ عوام کی خدمت نہیں کر رہیں، بلکہ یہ ان کے خون سے کھیل کر اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پنجاب یونیورسٹی لاہور کے طالب علم، طلعت عزیز، کو بھی بی ایل اے کے دہشت گردوں نے جھانسا دے کر پہاڑوں میں لے گئے۔ ان دہشت گردوں نے اس معصوم طالب علم کی زندگی کو خطرے میں ڈالا اور اس کا اغوا کیا۔ اس واقعے نے اس بات کو مزید اجاگر کیا کہ یہ تنظیمیں صرف بلوچوں کے حقوق کی بات نہیں کر رہیں، بلکہ ان کا مقصد عوامی تعلیم اور ترقی کو بھی روکنا ہے۔

    11 جنوری 2025ء کو بی ایل اے نے تمپ میں 2 بے گناہ شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ اس حملے میں 15 سالہ معراج وہاب کی موت نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ معراج کے والدین نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور بی ایل اے کے ’’ریاستی ڈیتھ سکواڈ‘‘ جیسے جھوٹے الزامات کی تردید کی۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ان دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں بے بنیاد الزامات اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

    ان تمام واقعات کے بعد بلوچستان کے عوام کا عزم مزید مضبوط ہوا ہے کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ بلوچ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے اور اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے آزاد کرنے کے لیے جدوجہد کریں گے۔ سکیورٹی فورسز بھی اب پوری قوت سے ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی ایل ایف نے جس طرح بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں معصوم عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے، اس کی حقیقت اب پوری دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔ ان دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے بلوچ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں، اور ان کی بربریت کا جواب دیا جائے گا۔ سکیورٹی فورسز اور عوام کا عزم مضبوط ہے، اور وہ ان دہشت گردوں کے خلاف اپنا حق چھیننے کے لیے لڑیں گے۔آخر میں، یہ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر ان دہشت گرد تنظیموں کی سازشوں کا مقابلہ کریں اور ایک پرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں۔

    jaan

  • حافظ عبدالرحمان مکی  کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی شان و جلالت اور بھارتی میڈیا
    تحریر: قاضی کاشف نیاز
    میں اس کے مقام کا کیا اندازہ لگاؤں جس کی موت پر دشمن بھی بڑھ چڑھ کر خوشیاں منا رہا ہو۔ ایسے عظیم شخص کے مقام کی حد کو میں پا ہی نہیں سکتا۔ ذرا دیکھیں تو سہی کہ کفر کے ایوانوں میں کس قدر شادیانے بج رہے ہیں۔ انڈیا کا شاید ہی کوئی چینل ہو جو مکی رحمہ اللہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دے کر بغلیں نہ بجا رہا ہو۔ این ڈی ایم انڈیا نیوز سے لے کر زی نیوز، نیوز نیشن، بھارت 24، ہندوستان ٹائمز، سنسکرتی ایاز (Iuyas Sanskrit) رتام انگلش نیوز (Ritam English News) اور انڈیا ٹوڈے تک، انڈیا کے تقریباً سبھی نیوز چینلز حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ کی وفات کو ایک بہت بڑی خبر اور اس دن کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز بنا کر چیخ چیخ کر، چلا چلا کر اور گلا پھاڑ پھاڑ کر دنیا کو بتاتے رہے کہ ہمارا ایک سب سے بڑا دشمن، 26/11 کا ماسٹر مائنڈ، ہماری جان چھوڑ چکا۔

    خیر، یہ تو اس کی ایک اور بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح اس کی جان چھوٹ گئی ہے۔ اسے اندازہ ہی نہیں کہ ایک مکی رحمہ اللہ کے جانے سے اس کی جان نہیں چھوٹی بلکہ مکی رحمہ اللہ کی موت تو پہلے سے بھی کئی گنا زیادہ "مکی” پیدا کر چکی ہے۔ پہلے صرف ایک جماعت اور اس سے وابستہ لوگ ہی مکی رحمہ اللہ کو جانتے تھے۔ اب پاکستان کا شاید ہی کوئی طبقہ ہو جو مکی رحمہ اللہ کی شان میں رطب اللسان نہ ہو۔

    آج تو بڑے بڑے لبرل دانشور اور اے این پی جیسی لبرل سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ان کی عظمت بیان کر رہے ہیں اور بڑے بڑے وفود کی صورت میں تعزیت کے لیے ان کے در پر پہنچے ہیں۔

    واہ مکی رحمہ اللہ! تیرے کیا کہنے۔ تو جب تک زندہ رہا، دعوت و جہاد اور انبیاء علیہم السلام کی سیاست کے مشن کو آسمان تک پہنچایا اور مرا بھی تو اس طرح کہ اس مشن کو اوجِ ثریا تک پہنچا گیا۔ وہ رخصت ہوئے تو یہ کہتے ہوئے کہ وقت بہت کم ہے اور پھر کلمہ پڑھتے ہوئے یہاں تک بتا گئے کہ فرشتے ان کی روحِ سعید کے استقبال کو اور لینے کو آ پہنچے ہیں۔

    اسی قابل رشک موت کی وجہ سے ہی آج کفر کا ہر ایوان مکی رحمہ اللہ کی گونج سے لرز رہا ہے۔ ان کی خوشیاں بتا رہی ہیں کہ اندر سے یہ بزدل کفار حافظ عبدالرحمان مکی رحمہ اللہ سے کس قدر خوفزدہ اور دہشت زدہ تھے۔ وہ تھی ہی ایسی شخصیت۔

    ان کے ہم عصر ساتھی بتاتے ہیں کہ اپنے طالب علمی کے زمانے میں بھی وہ سرخوں اور ملحدوں کے لیے ہمیشہ دہشت کی علامت رہے۔ جب اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھے اور سرخوں سے مقابلہ ہوتا تو انہیں ہی سب سے آگے کیا جاتا۔

    ایک دفعہ سرخوں کا پورا جلوس اپنی مار دھاڑ دکھا رہا تھا تو اسلام پسندوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔ آخر مشورہ ہوا کہ کسی طرح حافظ عبدالرحمان کو لایا جائے تو وہ ان کا آسانی سے توڑ کر لیں گے۔ چنانچہ وہ آئے تو پھر اس طرح شیر کی طرح آئے کہ اکیلے ہی اپنے موٹر سائیکل پر سوار پوری تیزی سے سرخوں کے جلوس کی طرف رخ کر لیا۔

    کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
    رن تو رن ہے، چرخ کہن کانپ رہا ہے

    کا مصداق بن کر جوں ہی موٹر سائیکل ان کی طرف چڑھائی، سرخوں کا سارا جلوس ہی آناً فاناً تتر بتر ہو گیا۔

    پھر باقی ساری زندگی بھی کفر کا ہر ایوان ان سے یوں ہی لرزتا رہا اور آج تک لرز رہا ہے۔ اپنی موت سے بھی انہیں ایسا لرزایا اور ڈرایا کہ وہ اسے کبھی بہت بڑا دہشت گرد کہتے ہیں، کبھی بہت بڑا انتہا پسند، اور کبھی 26/11 کا سب سے بڑا سرغنہ قرار دے رہے ہیں۔

    یہ دراصل مکی صاحب رحمہ اللہ کے لیے وہ خطابات ہیں جو انہیں کفر کے ایوانوں سے مل رہے ہیں اور یہ خطابات انہیں جس قدر مل رہے ہیں، اسی قدر یہ خطابات ان کے لیے اعزاز بن کر اللہ کی بارگاہ میں جرأت اور بہادری کے تمغوں میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔

    اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ وادخلہ الجنہ الفردوس۔ آمین ثم آمین!

  • باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    پاکستانی میڈیا کی دنیا میں باغی ٹی وی ایک ایسا نام ہے جس نے اپنی غیرجانبدارانہ صحافت اور سچائی پر مبنی رپورٹنگ سے اپنا مقام بنایا ہے۔ اس کی بنیاد سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان نے رکھی تھی، جنہوں نے اپنے طویل تجربے اور صحافتی مہارت کو اس چینل کی بنیاد فراہم کی۔ باغی ٹی وی کا مقصد صرف خبریں فراہم کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان مسائل کی حقیقت تک پہنچانا ہے جو ان کی زندگیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔باغی ٹی وی کا مقصد پاکستانی عوام کو درست اور بے باک خبریں فراہم کرنا تھا۔ چینل نے اپنے آغاز سے ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ عوام تک سچ پہنچانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گا۔ مبشر لقمان، جو خود ایک معروف صحافی اور اینکر ہیں، نے باغی ٹی وی کو متعارف کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحافت کا مقصد عوام کو غیرجانبدار اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کرنا ہے۔باغی ٹی وی نے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے دیکھنے والوں کو ایک منفرد اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ چینل کی پالیسی کے مطابق، صحافتی آزادی اور سچائی کو اہمیت دی جاتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کا ایک اور اہم پہلو اس کی ملک بھر میں موجود نمائندگی ہے۔ چینل نے مختلف صوبوں اور شہروں میں اپنے نمائندے تعینات کیے ہیں تاکہ وہ مقامی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں، سیاسی تبدیلیوں اور عوامی مسائل کی رپورٹنگ کر سکیں۔ اس کی مقامی سطح پر موجودگی نے اسے ایک مضبوط نیٹ ورک فراہم کیا ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے ناظرین تک فوراً اور بر وقت خبریں پہنچا سکتا ہے۔چینل کی یہ نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ باغی ٹی وی کی پہنچ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کے دور دراز علاقوں تک بھی اپنی آواز پہنچا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہاتوں میں بھی اپنے ناظرین کی ایک بڑی تعداد رکھتا ہے۔باغی ٹی وی نے پاکستانی صحافیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کر سکتے ہیں۔ چینل نے ہمیشہ نئے صحافیوں کو موقع دیا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر تحقیق کریں، خبریں جمع کریں اور اپنی رپورٹنگ کی مہارت کو بروئے کار لائیں۔ اس پلیٹ فارم نے نہ صرف تجربہ کار صحافیوں کو جگہ دی ہے بلکہ نئے آنے والے صحافیوں کے لیے بھی ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے تاکہ وہ اس چینل کے ذریعے اپنی صحافتی صلاحیتوں کو بہتر کر سکیں۔باغی ٹی وی نے صحافیوں کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنے خیالات اور خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہاں صحافیوں کو اپنے کام کے لیے مکمل آزادی دی جاتی ہے اور ان کی محنت کو سراہا جاتا ہے، جس سے چینل کا معیار مزید بلند ہوتا ہے۔

    چینل کی رپورٹنگ صرف خبروں تک محدود نہیں ہے بلکہ باغی ٹی وی نے عوامی معاملات، سیاست، معیشت اور معاشرتی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی ہے۔ اس چینل پر تجزیاتی پروگرامز اور رپورٹس عوامی مسائل کی گہری سمجھ فراہم کرتے ہیں اور انہیں موجودہ حالات میں بہتر فیصلے کرنے کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے تجزیے اور رپورٹنگ کا انداز بے باک اور حقیقت پر مبنی ہوتا ہے، جو ناظرین کو مکمل طور پر مطمئن کرتا ہے۔باغی ٹی وی کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا مواد اور رپورٹس عوام میں ایک منفرد شناخت بنا چکے ہیں۔ اس کی رپورٹنگ نے اسے عوام کے درمیان ایک معتبر پلیٹ فارم بنایا ہے، جہاں لوگ بغیر کسی دباؤ کے حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ چینل کی مقبولیت میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اس کی شفافیت اور سچائی کی پختہ پالیسی ہے۔

    باغی ٹی وی نے پاکستانی میڈیا کے منظرنامے میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس نے صحافت کے معیار کو بلند کیا ہے اور پاکستانی عوام کو سچ اور حقیقت پر مبنی خبریں فراہم کی ہیں۔ چینل کی ملک بھر میں نمائندگی اور صحافیوں کے لیے بہترین پلیٹ فارم کا ہونا اس کی کامیابی کے اہم ستون ہیں۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک چینل ہے بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں صحافت کی آزادی اور سچائی کو فوقیت دی جاتی ہے

    باغی ٹی وی پر میرے بھی بلاگز باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، میں باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ پر ان کو مبارک باد پیش کرتی ہوں،یہ نہ صرف ایک میڈیا ادارے کی کامیابی کا دن ہے بلکہ صحافت کے میدان میں اس کے اہم کردار اور بے مثال خدمات کا اعتراف بھی ہے۔باغی ٹی وی نے اپنی جراتمندانہ صحافت حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور بے لاگ تجزیوں کے زریعے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔اس نے ہمیشہ سچائی اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کی۔اور اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہر موقع پر ظلم، ناانصافی کے خلاف بغاوت کے جذبے کو زندہ رکھا۔

    میں دعاگو ہوں باغی ٹی وی کا یہ سفر مزید کامیابیوں ترقیوں اور خوشحالی سے بھرپور رہے۔آپ اسی طرح حق و سچ کی نمائندگی کرتے رہیں اور صحافت کی دنیا میں نئی مثالیں قائم کرتے رہیں۔سالگرہ کے اس خوشگوار موقع پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو ڈھیروں مبارکباد اور نیک تمنائیں

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • دل کا دورہ ،اکیلے ہوں تو کیا کرنا چاہئے

    دل کا دورہ ،اکیلے ہوں تو کیا کرنا چاہئے

    دل کا دورہ، ہارٹ اٹیک دنیا بھر میں بہت سے افراد کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اگرچہ دل کے دورے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے کئی تدابیر ہیں، لیکن ان کا مکمل طور پر تدارک ممکن نہیں۔

    دل کے دورے کی صورت میں عام طور پر لوگوں کی پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ مدد کے لیے پکاریں، لیکن اگر آپ اکیلے گھر میں ہوں اور آپ کو دل کا دورہ پڑ جائے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ یہاں کچھ اہم اقدامات ہیں جو آپ کو اس نازک وقت میں انجام دینے چاہئیں۔

    1. فوراً ایمرجنسی خدمات کو کال کریں
    سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ آپ فوراً ایمرجنسی خدمات کو کال کریں، چاہے آپ اکیلے ہوں یا کسی کے ساتھ۔ آپ کو فوری طور پر ماہر علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ تک فوری پہنچ سکے۔دل کے دورے کے بعد بقاء کے امکانات ان افراد کے لیے زیادہ ہوتے ہیں جو فوراً طبی امداد حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ آپ کو دل کا دورہ پڑا ہے یا نہیں، تب بھی ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کریں۔

    2. قریبی پڑوسی یا رشتہ دار کو بلائیں
    اگر آپ کو دل کا دورہ پڑ رہا ہے اور آپ اکیلے ہیں تو فوراً اپنے کسی قابل اعتماد پڑوسی یا رشتہ دار سے رابطہ کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ جلدی آپ کے پاس آئیں۔ اگر آپ کا دل اچانک رک جائے، تو کسی اور کا قریب ہونا انتہائی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اپنی بات چیت کو مختصر رکھیں تاکہ آپ زیادہ تھک نہ جائیں یا زیادہ سانس نہ لیں۔ اگر وہ جلد آپ کے پاس پہنچتے ہیں، تو وہ آپ کے لیے مدد کی درخواست کر سکتے ہیں۔

    3. اسپرین کا استعمال
    اگر آپ کو دل کا دورہ پڑ رہا ہے اور آپ کو اسپرین سے الرجی نہیں ہے، تو ایمرجنسی سروسز کو کال کرنے کے بعد ایک اسپرین گولی لے لیں۔ اسپرین خون کے جمنے کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے، جس سے دل کو کم نقصان پہنچتا ہے۔تاہم، اسپرین کا استعمال صرف ایک عارضی حل ہے اور اس کا مقصد دل کی تکلیف کو کم کرنا ہے، نہ کہ اس سے ہونے والے نقصان کو مکمل طور پر روکنا۔ اس لیے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور صحیح علاج کروائیں۔

    4. پرسکون رہنا ضروری ہے
    دل کے حملے کے دوران زیادہ گھبرانا یا افرا تفری میں مبتلا ہونا آپ کی حالت کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ خود کو پرسکون رکھیں کیونکہ دل کی دھڑکن کو زیادہ تیز ہونے سے بچانے کے لیے ذہنی سکون ضروری ہے۔اگر آپ بیٹھنے میں آرام محسوس کرتے ہیں تو نرم جگہ پر بیٹھیں یا زمین پر لیٹ جائیں۔ اگر سانس لینے میں دشواری ہو تو اپنے کپڑے کھولیں، خاص طور پر کمر کی پٹیاں یا ٹائی کو نکال دیں۔ گہرے اور آہستہ سانس لیں، اور زیادہ کھانسنے کی کوشش نہ کریں۔

    5. آکسیجن کی فراہمی کے لیے ہوا کی روانی کو بڑھائیں
    اگر ممکن ہو تو قدرتی روشنی کے قریب یا پنکھے، اے سی، کھڑکیاں یا دروازے کے قریب لیٹیں۔ تازہ ہوا کی مستقل روانی آپ کے دل کو زیادہ آکسیجن فراہم کر سکتی ہے، جو آپ کی حالت میں بہتری لا سکتی ہے۔

    6. دل کے حملے کی علامات کو ایک گھنٹے میں علاج کروائیں
    دل کے حملے کی علامات کو ایک گھنٹے کے اندر علاج کرانا انتہائی اہم ہے۔ اگر اس وقت میں علاج نہیں کیا جاتا تو دل کے پٹھے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ آپ کی بند شریان کو 90 منٹ کے اندر کھول دیا جائے تاکہ نقصان کم سے کم ہو۔

    7. دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
    دل کے دورے کے بعد، اپنے ڈاکٹر سے ملاقات کریں اور دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر مشورہ کریں، جیسے کہ خوراک، ورزش، نیند کے معمولات، اور دیگر روزمرہ کی عادات میں تبدیلیاں۔دل کے دورے کے دوران جلدی اور درست فیصلے کرنا آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ان اقدامات کو فوراً اور صحیح طریقے سے اپنائیں۔

    ترکی: بارودی مواد کے پلانٹ میں دھماکے سے 12 افراد ہلاک، 3 زخمی

    چیمپئینز ٹرافی،برطانوی اخبار نے انڈیا کرکٹ بورڈ کا پول کھول دیا

    جی ایچ کیو حملہ کیس، ایک اور ملزم پر فرد جرم، ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی درخواستیں مسترد

  • "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    ہمارے قریبی ہیں ٖ میاں بیوی میں تعلقات اچھے نہیں تھے ٖ ناراضگی اتنی تھی کہ سالوں تک بچوں نے باپ کی شکل نا دیکھی ٖ وہ ماں کے پاس رہے ٖتقریباً پندرہ سال بعد باپ کے انتقال کی خبر آئی ٖ تب بچے جنازے پر گئے
    میرے ذہن سے بات ہی نہیں نکل رہی کہ باپ کو سالوں بعد اس طرح دیکھ کر بچوں کے دل پر کیا گزری ہوگی ٖ ملاقات ہوئی بھی تو وہ باپ سے بات نا کر سکے ٖ اسے گلے نا لگا سکے ٖ یہ کمی اور خالی پن اب ساری زندگی ان کے دل میں رہے گا وہ اس آخری چہرے کو کبھی بھول نہیں پائیں گے ٖ شاید اس وقت انہیں احساس ہوا ہوگا کہ ہمارا کیا نقصان ہوا ہے ٖ
    کیا ہوا ٖ کس کا قصور تھا ٖ کون وجہ بنا ٖ وہ ساری باتیں تو اب ختم ہوگئی نا ٖ
    میاں بیوی کا رشتہ بچوں کے بعد صرف ان دونوں کا نہیں رہتا ٖ اس میں بہتری یا بگاڑ بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے ٖ آپس میں جتنے مرضی اختلافات ہوں ٖ بچوں کے ذہنوں میں گندگی نہیں بھرنی چاہیے ٖ ماں باپ جیسا رشتہ بچوں کی زندگی میں بہ
    ت اہمیت رکھتا ہے ٖ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو اس سے محروم کرے ٖ
    آپ کے لڑائی جھگڑوں میں آپ ٖ بچوں کا بچپن ٖ انکی معصومیت چھین لیتے ہیں ٖ پھر انا اور ضد کی خاطر بچوں کے ذہنوں کو تار تار کر دیتے ہیں ٖ انکی شخصیت میں کبھی نا بھرنے والا خلا چھوڑ دیتے ہیں ٖ
    اسلئے چاہے مرد ہو یا عورت ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں ٖ
    ہمارا رشتہ سسٹم بھی عجیب ہے ٖ پورا خاندان رشتہ دیکھنے چلا جاتا ہے ٖ لیکن جن دو لوگوں نے آپس میں زندگی گزارنی ہوتی ہے انہیں موقع ہی نہیں ملتا کہ بات کر سکیں ٖ
    بیشک یہ نصیب کی بات ہے ٖ لیکن پھر بھی اس رسک کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ٖ بیٹھ کر ایک دوسرے کے مزاج کی بات کر لی جائے ٖ عادات کا بتا لیا جائے ٖ خیالات کا اظہار کر لیا جائے ٖ
    صبر ٖ برداشت ٖ ساتھ اور وفا پر بات کر لی جائے ٖ تا کہ اندازہ ہوجائے سامنے والا انسان کس طبیعت کا مالک ہے اور ہم اس طبیعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں ٖ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا لیکن کس حد تک کمپرومائز کرنا پڑے گا ٖ اندازہ ہوجائے گا ( یہ بھی اس صورت میں ہی ممکن ہے جب سامنے والی اپنی اصلی شخصیت کو سامنے رکھے)
    رہی بات محبتوں میں ہوئی شادی کی ٖ کہ وہ بھی تو ناکام ہوتی ہیں ٖ
    تو میں اس حق میں ہوں کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تب بھی اختلافات کی گنجائش رکھیں ٖ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نہیں ملے گا ٖ اگر کبھی سمجھانا ہوگا تو کسی وقت سمجھنا بھی پڑے گا ٖ کوئی بات منوانی ہے تو کبھی ماننی بھی پڑے گی ٖ کبھی معذرت بھی کرنی پڑ سکتی ہے
    ٖ وقت کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا ٖ محبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشکل وقت نہیں آئے گا ٖ تب آپ دونوں ایک الگ رشتے میں ہوں گے ٖ آپ کو اپنی ذات ٖ ایک دوسرے کے علاوہ ایک دوسرے کے رشتوں کو بھی دیکھنا ہوگا ٖ
    زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ٖ کہیں کانٹوں سے بھی سامنا ہوسکتا ہے ٖ
    یہ محض چار دن نہیں پوری زندگی کی بات ہے ٖ
    اللہ پاک سے دعا کیا کریں وہ آپ کا نصیب کسی ظرف والے شخص سے جوڑیں ٖ کسی ایسے انسان کا ساتھ ہو جسکی قربت میں آپ زندگی کی دھوپ چھاؤں سکون سے گزار سکیں ٖ کوئی ایسا انسان جو آپ کے بچوں کا اچھا باپ یا اچھی ماں بن سکے ٖ
    ایسا جو حقیقی معنوں میں آپ کا گھر ہو ٖآمین

  • آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے.تحریر:قرۃالعین خالد

    آئیے ہاتھ بڑھائیے
    تحریر:قرۃالعین خالد
    الحمدللہ! دارالفلاح ایک ایسا ادارہ ہے جو بے آسرا ماؤں اور بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ دارالفلاح کی بنیاد 1967 میں رکھی گئی۔1965 کی جنگ کے بعد بہت سی خواتین بیوہ ہو گئیں تو اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی۔ پنجاب میں تقریبا چھ شہروں میں دارالفلاح اپنا کام بےحد خوش اسلوبی سے سر انجام دے رہا ہے۔ جن میں لاہور راولپنڈی ملتان بہاولپور سرگودھا اور سیالکوٹ شامل ہیں۔

    الحمدللہ رب العالمین 12 دسمبر 2024 بروز بدھ "سعدین انسٹیٹیوٹ” کی جانب سے ایک موٹیویشنل سیشن کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد خواتین کو زندگی کے مقصد سے آگاہ کرنا تھا۔ زندگی اور خالات سے پریشان خواتین سے بات کر کے ان کا تعلق رب سے جوڑنے کی ادنی سی کوشش کی گئی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر میاں شاہد صاحب سے بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ایک درد دل رکھنے والے انسان ہیں اور وہ ان خواتین اور بچوں کی دینی تعلیم کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں۔ وارڈن میم تعظیم صاحبہ بھی اس کار خیر میں اپنی ٹیم کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

    گو کہ یہ ادارہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیعت المال گورنمنٹ آف پنجاب کی زیرِ سرپرستی میں ہے لیکن سیالکوٹ کے رہائشی بھی درد دل رکھتے ہوئے ہمیشہ ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ میں قرۃالعین خالد کالم نگار، مصنفہ سی ای او سعدین انسٹیٹیوٹ "مقصد حیات” پر بات کرتے ہوئے اداس چہروں پر مسکراہٹ بکھرتے دیکھ سکون قلب کے ساتھ واپس گھر آئی۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم سب کو ہمارا حقیقی مقصد حیات سمجھا دے آمین۔

    میں اپنی دوست شافیہ کاشف کی شکر گزار ہوں جس کے توسط سے مجھے دارالفلاح کے انتظامیہ اور وہاں کے رہائشیوں سے اتنے قریب سے ملنے کا موقع ملا۔ دارالفلاح نہ صرف بے بس ماں بچے کے لیے پناہ گاہ ہے بلکہ وہاں خواتین کو ہنر سکھانے کا مکمل انتظام بھی موجود ہے جسے سیکھ کر خواتین مستقبل میں اپنا اور اپنے بچوں کا خود خیال رکھ سکتی ہیں۔

    مخیر افراد سے گذارش ہے کہ ایسے اداروں کا خاص خیال رکھا کریں اللہ ربّ العزت سب کے رشتوں کو سلامت رکھے آمین۔ آئیے ہاتھ بڑھائیے اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔

  • مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں ادب اور فنونِ لطیفہ ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں کئی شخصیات نے اپنی ذہانت، بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں سے قوم کو شعور و آگہی فراہم کی ہے۔ ان میں انور مقصود جیسا نام بھی شامل ہے، جنہیں پاکستانی معاشرے میں طنز و مزاح کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ الفاظ کا استعمال، خاص طور پر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ، نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی شخصیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ قوم کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔شہداء کا مقام اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شہداء کسی بھی قوم کا فخر اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بناتے ہیں، ان کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستان نیوی کے اہلکار سمندروں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہمت اور بہادری کا متقاضی ہوتا ہے۔ انور مقصود جیسے سینئر اور باوقار ادیب کی جانب سے ان قربانیوں کا مذاق اڑانا نہ صرف شہداء کی توہین ہے بلکہ ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔ادب اور فنونِ لطیفہ کا مقصد ہمیشہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنا اور عوام کو مثبت پیغام دینا رہا ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات اور بیانات میں نہ صرف الفاظ کا احتیاط سے استعمال کریں بلکہ ایسی حساس موضوعات پر خاص طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ طنز و مزاح کا مطلب کسی کی تضحیک یا جذبات کو مجروح کرنا نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ مگر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ان میں کسی بھی قسم کی دانشمندی یا مزاح کا پہلو بھی موجود نہیں۔اسےضعیف العمری کہیں یا غیر ذمہ داری؟۔

    کچھ لوگ انور مقصود کے اس بیان کو ان کی ضعیف العمری اور بھول چوک کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، مگر یہ دلیل کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ضعیف العمری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اگرچہ ان کی عمر کا لحاظ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان کا احتیاط سے استعمال کریں۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اور ان کے بیانات براہ راست لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔قوم کے جذبات پر اس بات کا شدید اثر پڑا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلح افواج کو عوام کی بھرپور حمایت اور محبت حاصل ہے۔ یہاں فوجیوں کو نہ صرف محافظ بلکہ قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔ ایسے میں انور مقصود جیسے معروف فنکار کی جانب سے شہداء کا مذاق اڑانے والا بیان عوامی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف شہداء کے خاندانوں کے لیے باعثِ اذیت ہے بلکہ قوم کی مشترکہ یکجہتی اور قربانیوں کی قدردانی کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    اس بیان پرمعافی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ وقت انور مقصود کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ ایک معافی نہ صرف ان کے لیے عزت بحال کرنے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ یہ ان کی جانب سے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے لیے احترام کا اظہار بھی ہوگا۔ انور مقصود کو اپنی حیثیت اور مقام کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

    پاکستانی قوم ہمیشہ سے اپنے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے۔ یہ شخصیات قوم کے اخلاقی رہنما بھی ہوتی ہیں، اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف سماج کے مسائل پر روشنی ڈالیں بلکہ ایسی مثال قائم کریں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکے۔تحدیک نفاذ اردو کی سرپرست فاطمہ قمر صاحبہ نے انور مقصود کےاس بیان کا نوٹس لیتے ہو ئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انور مقصود ضعیف العمری میں گھٹیا بھانڈ بن چکا ہے۔شہادت کو ڈوب مرنا کہ کر,اس نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا ہے۔

    بحثیت محب وطن راقم فاطمہ قمر صاحبہ کے بیان کی پرزور تائید کرتا ہے۔انور مقصود کا پڑھے لکھے خاندان سے تعلق ہونا اور فاطمہ ٹریا بجیا کا بھائی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔ذبردست نقاد، کمال کا فنکار اور ادیب ہونا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔جو اپنے ملک، اپنی فوج کے بارے تضحیک آمیز کلمات بول کر ۔۔۔اسے نقادی،ادیبی اور فنکاری کے کپڑے پہنائے۔۔۔۔۔۔معذرت کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ ایسے ہر شخص کو ہم ۔۔۔۔اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔۔۔

    انور مقصود کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ تبصرہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے۔ شہداء کی قربانیاں کسی بھی قوم کے لیے قابل احترام ہوتی ہیں، اور ان پر طنز کرنا ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انور مقصود جیسے معروف ادیب سے ایسے غیر حساس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ان کے الفاظ نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ یہ معاشرتی اخلاقیات اور ادب کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ قوم کو یکجہتی اور احترام کے پیغام دیں۔ شہداء ہماری عزت اور فخر ہیں، ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔۔۔۔۔میں فاطمہ قمر صاحبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے۔۔۔انور مقصود کی باتوں کا نوٹس لیا۔۔اور باوجود اس کے کہ جناب موصوف کا تعلق بھی ہمارےقلم قبیلے سے ہے۔۔۔۔بتا دیا کہ پاکستان اور اسکی افواج پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ویلڈن آپا جی۔۔۔ویلڈن۔۔۔ انور مقصود جیسے فنکار کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اپنے بیانات کے ذریعے قوم میں اتحاد، محبت، اور قربانیوں کا احترام پیدا کریں۔انور مقصود کے حالیہ بیان نے قوم کے دلوں میں ایک مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ الفاظ کی اہمیت اور ان کے اثرات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلح افواج اور ان کے شہداء ہماری قومی یکجہتی کی بنیاد ہیں، اور ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھتے ہوئے آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ادب اور فن کی اصل روح یہی ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے اور ایسی مثال قائم کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہو۔

    نوٹ: آج۔کا یہ مذمتی کالم بنام انور مقصود بڑے دکھی دل کے ساتھ لکھا ہے،لیکن پاکستانی افواج کی عزت اور شہداءکے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔

    shahid naseem

  • لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    لاھور پریس کلب کا روشن ستارہ ، ارشد انصاری ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ارشد انصاری کا شمار پاکستان کے ان ممتاز صحافیوں میں ہوتا ہے،جنہوں نے نہ صرف صحافت کے میدان میں بے مثالی خدمات انجام دیں بلکہ پریس کلب کی فلاح و بہبود اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا مقصد ہمیشہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، ان کی پیشہ ورانہ ترقی اور ان کے لیے بہتر سہولیات کی فراہمی رہا ہے۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ایک تجربہ کار اور متحرک صحافی ہیں جنہوں نے کلب کی بہتری اور صحافی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ وہ لاہور پریس کلب کے انتخابات میں جرنلسٹ پروگریسو گروپ کے امیدوار کے طور پر دوبارہ منتخب ہوئے، جس میں انہوں نے صدارت کی سیٹ پر 984 ووٹ حاصل کیے۔ ان کی قیادت اور کام کی وجہ سے کلب کے اراکین نے ان پر ایک بار پھر اعتماد کا اظہار کیا​​​​۔ارشد انصاری کی خدمات کا دائرہ وسیع اور ہمہ جہت ہے۔ ان کے دور میں کلب میں درج ذیل نمایاں تبدیلیاں اور اصلاحات دیکھنے کو ملیں ،انتظامی اصلاحات اور سہولیات میں اضافے کے طور ،پریس کلب کی لائبریری کو جدید ای-لائبریری میں تبدیل کیا گیا، جہاں کمپیوٹرز اور کیمرے نصب کیے گئے اور دو لاکھ سے زائد ای-بکس کے ساتھ نئی کتابیں مہیا کی گئیں​​۔ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔کئی سالوں بعد کلب کی عمارت کی تزئین و آرائش کی گئی، اور اہم مقامات جیسے کیفے ٹیریا اور لائبریری میں ایئر کنڈیشنز نصب کیے گئے​​۔کلب کے کیفے ٹیریا کے معیار میں بہتری لائی گئی، جہاں کھانے کے معیار اور سہولیات کو اپ گریڈ کیا گیا۔رمضان کے موقع پر خصوصی محفل حسن قرأت و نعت کا اہتمام کیا گیا، اور ممبران کو عمرے کے ٹکٹس فراہم کیے گئے​​۔خواتین ممبران کے لیے خصوصی ٹورز کا اہتمام کیا گیا، جو پریس کلب کی تاریخ میں ایک نمایاں قدم ہے۔اندرون سندھ اور کراچی کے مطالعاتی دورے بھی کرائے گئے، جو صحافیوں کی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے اہم ہیں​​۔ارشد انصاری کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا ان کی قیادت کی کامیابیوں اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی سربراہی میں کلب میں کی گئی اصلاحات نے ممبران کو بہتر سہولیات فراہم کیں، اور صحافتی برادری کی حمایت حاصل کی۔ 2023 کے انتخابات میں ان کے پینل نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی، جس میں زاہد عابد نے سیکرٹری، اور دیگر عہدوں پر ان کے پینل کے امیدوار بھی کامیاب رہے​​​​۔ارشد انصاری کے لیے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے:صحافیوں کے لیے مزید سہولیات کی فراہمی۔ممبران کی رکنیت سے جڑے مسائل کا حل۔کلب کو مزید جدید اور مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا۔ارشد انصاری کی قیادت نے لاہور پریس کلب کو ایک متحرک اور جدید ادارہ بنایا ہے۔

    ارشد انصاری کی حالیہ کامیابیوں میں سے ایک سب سے اہم کارنامہ وہ فیز 2 کے حوالے سے 200 ایکڑ اراضی کی منظوری ہے جو انہوں نے صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کے قیام کے لیے حاصل کی۔ یہ زمین صحافیوں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جو کئی دہائیوں سے رہائشی مسائل سے دوچار تھے۔ اس منصوبے کے تحت صحافیوں کو مناسب قیمت پر پلاٹ فراہم کیے جائیں گے، جو ان کی مالی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔صحافیوں کی ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ارشد انصاری کے ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر صحافی کو ایک محفوظ اور پرسکون رہائش فراہم کی جائے۔ یہ کالونی نہ صرف رہائشی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ ایک جدید طرز زندگی کے مطابق تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے گی، جن میں تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، پارکس، اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی۔ارشد انصاری کو اس ہاؤسنگ کالونی کے منصوبے کی تکمیل کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بیوروکریٹک رکاوٹوں، مالی مسائل، اور زمین کے حصول کے پیچیدہ عمل کے باوجود انہوں نے اپنی قیادت اور عزم سے ان مسائل کو حل کیا۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر اس منصوبے کی منظوری کو یقینی بنایا۔ان کی خدمات، اختراعی اقدامات، اور ممبران کے ساتھ مؤثر رابطے نے انہیں صحافی برادری کے لیے ایک مثالی رہنما ثابت کیا ہے۔ ان کا دوبارہ الیکشن میں حصہ لینا اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کلب کی بہتری کے لیے مسلسل پرعزم ہیں۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ صحافیوں کے اعتماد اور کلب کے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ارشد انصاری کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی قیادت کی صلاحیت ہے۔ وہ ایک وژنری لیڈر ہیں جو نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ ان کی ایمانداری، جرات، اور صحافیوں کے ساتھ ہمدردی نے انہیں صحافی برادری میں ایک خاص مقام عطا کیا ہے۔ارشد انصاری کی خدمات نہ صرف صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں بلکہ یہ ثابت کرتی ہیں کہ جب ایک رہنما عزم اور خلوص کے ساتھ کام کرتا ہے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ 200 ایکڑ اراضی کی منظوری اور ہاؤسنگ کالونی کا آغاز ان کی محنت اور صحافیوں کے حقوق کے لیے ان کی غیر معمولی جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی حوالے ممبران لاھور پریس کلب نے آئندہ پریس کلب الیکشن میں ارشدانصاری کو دوبارہ صدر بنوانے کا عزم کیا ہے،کیونکہ ان کے اقدامات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے صحافیوں کے لیے بھی یادگار رہیں گے۔

    shahid naseem