Baaghi TV

Category: متفرق

  • کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    کیوں نا چنیں واہ راستہ .تحریر:شاہدہ مجید

    مدھر سریلی آواز ، خوبصورت سجیلا وجیہہ گلوکار،مبلغ،نعت خواں ……
    جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو طیارہ حادثہ میں دنیائے فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی یادیں مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں
    جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا، انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کی نعت ’محمد کا روزہ قریب آرہا ہے‘ بھی دلوں میں گدازپیدا کرتا رہے گی

    اللہ کریم جب کسی سے بہت خوش ہوتا ہے اور اسے کچھ بہت خاص نوازنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے دین کی سمجھ عطا کرتاہے۔ ہدایت کی سعادت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی بلکہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی بھی نعمت بن مانگے عطا کردیتا ہے مگر ہدایت اس سے مانگنا پڑتی ہے۔ ہدایت نصیب کی بات ہے بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ ایسے ہی نصیب والوں میں اک نام جنید جمشید کا بھی شامل ہے۔ جنید انتہائی بلند نصیب والے انسان تھے جب گلوکاری کرتے تھے تب بھی شہرت کے بام عروج پر رہے اور جب عشق نبی میں مغلوب و سرشار ہوکر نعت خواں بن گئے توبھی اللہ کریم نے ان کے نام کو چار چاند لگا دیئے۔ گلوکاری سے نعت خوانی اور نعت خوانی سے تبلیغ اور تبلیغ سے شہادت تک کا یہ سفر محبت، عبادت اور سعادت کا سفر تھا۔ جنید جمشید کے بارے میں سوچو تو رشک آتا ہے کہ ان کے سفر حیات سے سفر آخرت تک قسمت ان پر کتنی محبت سے مہربان رہی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ہر دور میں توجہ اور محبتیں سمیٹیں ۔ آزمائشوں سے بھی گزرے مگر پھر بھی ان کی زندگی کا ہر دور ہی ان کےلئے وجہ شہرت بنا۔بظاہر ان کی زندگی کا سفر حویلیاںکی پہاڑیوں پر ختم ہوگیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گزشتہ برس 7دسمبر کو چترال سے جماعت کی نصرت کے بعد واپس اسلام آباد آرہے تھے تو ان کا جہاز تباہ ہوکر پہاڑی سے جاٹکرایا۔ جنید جمشید سمیت اس حادثے میں سوارتمام مسافر بھی شہید ہوگئے۔ ان تمام انسانی جانوںپر جتنا بھی افسوس کیا گیا یا کیا جائے گا، کم ہے کہ جانیں تمام ہی قیمتی ہوتی ہیں لیکن اس حادثے کے بعد تمام فوکس جنید جمشید کی شہادت پر رہا۔ تمام ملک ایک صدمے کی کیفیت میں ڈوب گیا بلکہ اس دکھ اور رنج کی لہریں دنیا بھر میں ان کے مداحوں نے محسوس کیں اور کئی روز تک ٹی وی چینلز کے شوز میں اور لوگوں کے دل اور ذہنوں میں صرف جنید جمشید ہی چھائے رہے۔ ان کی زندگی کے تمام پہلو زیرموضوع رہنے لگے۔ ہر آنکھ نم اور ہر دل افسردہ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس کی آخر کیا وجہ ہے؟ کیوں جنید کو اس قدر محبت اور توجہ ملی۔ اس کو جاننے کے ئے جنید کی زندگی کی کہانی کو ایک بارپھردہراتے ہیں۔

    روداد حیات
    3ستمبر1964ءکو پیدا ہونے والے جنید جمشید کی 52سالہ زندگی نشیب و فراز اور جدوجہد سے عبارت رہی۔ جنید جمشید کے والد کا تعلق پاکستان ائیرفورس سے ہونے کے باعث ان کے والد نے کوشش کی وہ بھی اسی شعبے سے وابستہ ہوں۔ جنید نے لاہور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور پاک فضائیہ میں بطور کنٹریکٹراپنی سروس کا آغاز کیا۔ جنید کو دور طالب علمی سے ہی موسیقی سے لگاﺅ تھا۔ دوستوں کے ساتھ مل کر میوزیکل بینڈ بھی تشکیل دے دیا اور گلوکاری کرنے لگے۔ جنید جمشید نے اپنے بارے میں ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ گلوکاری میں منصوبہ بندی سے نہیں آئے بلکہ روحیل حیات کی ان پر نظر پڑ گئی جب انہیں ایک جگہ پر گاتے ہوئے سنا تو انہیں اپنے ساتھ گانے کی دعوت دی اور پھر انہیں گائیکی کی ایسی تربیت حاصل ہوئی کہ نامور موسیقار سہیل رعنا تک انہیں بے حد سراہنے پر مجبور ہوگئے۔
    وائٹل سائنز میوزیکل گروپ انہوں نے 1980 کے عشرے میں بنایا جس میں جنید جمشید مرکزی گلوکار اور روحیل حیات اور سلمان احمد موسیقاروں میں شامل تھے۔ وائٹل سائنز کے گانوں کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور جب 1987 میں جنید جمشید نے دل دل پاکستان گایا تو یہ نغمہ ہر دل کی دھڑکن میں سما گیا اور پھرجنید کی شہرت کے ڈنکے چاروں طرف بجنے لگے۔ اس وقت کوئی ٹی وی پروگرام، ٹاک شو یا میوزیکل پروگرام ایسا نہ ہوگا جس میں اس نغمے کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ ٹی وی سے لے کر نجی تقریبات، شادی بیاہ تک ان کا یہ ملی نغمہ چھایا رہا۔ یوم آزادی اور دیگر قومی دنوں پر اس نغمے کی دھنیں بجانا لازمی بن گیا۔
    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق دل دل پاکستان دنیا کے پراثرترین قومی نغموں میں بھی شامل ہے جسے پاکستان کا دوسرا قومی ترانہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ جنید جمشید کو 2007 میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ وائٹل سائنز نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور بہترین دھنیں پیش کیں۔90ءکے عشرے میں یہ گروپ باہمی اختلافات کا شکار ہوا لیکن جنید جمشید نے اپنا فنی سفر جاری رکھا۔ یہ خوبصورت سجیلا، وجیہہ و رعنا نوجوان ہر کسی کی نظروں سے دل میں جذب ہوتا گیا اور اس کی سریلی مدھر آواز ہر سماعت میں رس گھولتی گئی۔ اس کے گانوں کی شاعری کمال کی ہوتی اور اکثر گانوں کی شاعری میں سننے والوں کےلئے مثبت پیغام ہوا کرتے تھے۔’سانولی سلونی تیری جھیل سی آنکھیں‘ جیسے کئی نغمات سماعتوں میں رس گھولتے رہے۔

    ایک نیا سفر
    پھر اچانک جنید کاحلیہ اور طرززندگی بدل گیا بلکہ جنید کا دل بدل گیا۔ بقول جنید جمشید کہ وہ فائر فائٹربنناچاہتے تھے مگر نہیں بن سکے۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر نہیں بن سکے، وہ گلوکار نہیںبننا چاہتے تھے مگر گلوکاربن گئے۔ گلوکار ی سے انہیں عزت، شہرت، محبت اور دولت سب کچھ ملا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اتنی عزت و پذیرائی کے باوجود انہیں اپنے اندر کسی کمی کا احساس ہوتا تھا۔ یہی بے چینی اور بے قراری انہیں دین کی طرف کھینچ لے گئی اور بالآخر ان کے اندر کا ضطراب ایک روحانی انقلاب میں بدل گیا۔ اس تبدیلی پر کئی بار گفتگو کے دوران ایک واقعے کا بھی ذکر کرتے تھے کہ ایک میوزیکل شو کےلئے ان کی کار کی ٹکر سے ایک کتا جان سے چلا گیا۔ انہوں نے کار سے اتر کر کتے کو سڑک سے ہٹایا اور قریب ایک خالی پلاٹ میں دفن کردیا اور اللہ کو گواہ بنایا کہ وہ اپنی زندگی کوتبدیل کرلیں گے۔

    جنید جمشید جب تک گلوکار تھے تب تک نوجوانوں اور بچوں کے دل میں بستے تھے جب گلوکاری چھوڑ کر دین کے لئے وقف ہوگئے تو ہر بچے، بڑے، نوجوان، بوڑھے غرض ہر انسان کے دل میں گھر کر گئے۔ جنید ایک انتہائی باوقار، بلند اخلاق اور مخلص انسان تھے۔ اخلاق اور اخلاص ان کی ہر ادا میں نظر آتا تھا۔ سعادت ان کی پیشانی پر لکھی تھی۔ قسمت روزاول سے مہربان تھی۔ اللہ کریم نے انہیں حسن وجاہت، دولت و شہرت جیسی نعمتوں سے تو پہلے ہی نواز رکھا تھا پھر دین ہدایت کی محبت دے کر اپنے خصوصی فضل سے نواز دیا اور جنید نے بھی راہ ہدایت پر قدم بڑھا دیے تو پھر پلٹ کر نہ دیکھا ۔ شہرت کی پرواہ کی نہ دولت کی۔ اللہ کے رستے پر چلنا اتنا آسان نہیں ہوتا اس رستے پر شیطان کے بہکاوے اور شاطرانہ چالیں بھی پیچھا کرتی ہیں۔ انسانوں کے دل شکن رویے اور کئی کئی طرح کی رکاوٹیں اور آزمائشیں بھی آتی ہیں اور یہ اللہ کا اپنے بندے سے امتحان بھی ہوتا ہے کہ وہ دی ہوئی نعمت کی قدر اور حفاظت کیسے کرتا ہے۔ آیا وہ استقامت سے نبھاتا ہے یا نہیں اور جنید نے استقامت اور اخلاص کا بہترین مظاہرہ کرکے دکھایا۔عجز و انکساری اور خوش اخلاقی کے علاوہ جنید جمشید کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبصورتی اور خوبی ان کی برداشت کرنے کی خوبی تھی۔ اس سفر میں اسی خوبی کی وجہ سے وہ ہر مصیبت اور تکلیف دہ سلوک اور ناروا رویوں کو بہت خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی سے جھیل گئے۔
    راہ حق کے سفر میں کئی تنازعوں کاشکار ہوگئے۔ ملامت اور بدسلوکی کی گئی، طعنوں اور گالیوں سے نوازا گیا مگر آفرین ہے اس اعلیٰ اخلاق کے مالک آہنی اعصاب کے مرد ابریشم اور مخلص و عاجز و منکسر انسان پر کہ پلٹ کر کسی کو جواب نہیں دیا بلکہ معافیاں مانگتے رہے اور دلوں کو جوڑنے کی فکر میں رہے تاکہ رب کے ساتھ اپنا معاملہ درست رکھ سکیں۔ان کے منہ سے کبھی بین المسلکی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے والے الفاظ نہیں نکلے۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس ان کے کوسٹار وسیم بادامی بار بار میڈیا پروگرامز میں گواہی دیتے رہے کہ میں روایتی انداز میں نہیں کہہ رہا جیسے کہ مرنے والوں کےلئے اچھے جملے بولے جاتے ہیں، میں پورے ہوش و حواس سے اللہ کو حاضر ناظر جان کر گواہی دے رہا ہوں کہ خدا کی قسم میں نے جنید جمشید سے زیادہ اچھا انسان اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا اور ہم پانچ برس اکٹھے کام کرتے رہے ان پانچ سالوں میں، میں نے انہیں پانچ سکینڈ بھی کسی کی غیبت کرتے ہوئے نہیں سنا۔جنید توڑنے والوں میں سے نہیں بلکہ جوڑنے والوں میں سے تھے وہ ہمیشہ دلوں کو جوڑنے میں لگے رہے۔ اس سفر میں کسی ملامت نے انہیں بددل نہیں کیا بلکہ وہ اپنی عاقبت سنوارنے اور دین کی تبلیغ کرنے میں استقامت سے مصروف رہے جب ان کے بارے میں منفی پروپیگنڈے کئے جاتے تھے تب دل میں خیال آتا کہ شاید اب جنید جمشید اپنے فیصلے پر پچھتاتے ہوں گے۔ ایسے ہی وقتوں کی بات ہے کہ ایک میڈیا پرسن نے ان سے سوال کر ڈالا کہ کیا آپ کے دل میں کوئی پچھتاوہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ پچھتاوہ کیسا بلکہ بے انتہا خوش ہوں، اتنا خوش ہوں کہ کوئی مصیبت آ بھی جائے تودل میں اللہ سکون بھر دیتا ہے۔

    کلین شیو جنید پر کبھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا جب جنید دین کی طرف آئے تو ان پر اعتراضات کے دفتر کھول دیئے گئے، کبھی کسی قول کو لے کر کبھی کسی بیان اور کبھی کاروباری تنقید، تاہم جنید نے اپنی زندگی نے ہر دور میں صبر و تحمل اور رواداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ جنید کی پوری زندگی کا گلوکاری سے لے کر نعت خوانی تک کا سفر شاندار رہا۔ انکا دل دل پاکستان بھی دلوں کو گرماتا رہا اور ان کا نعتیہ کلام ’میرادل بدل دے‘ رویے بھی دلوں کو گداز کرتا رہے گا۔ کہاں دنیاوی شان و شوکت سے آراستہ زندگی اور کہاں پھر دین کی تبلیغ اور مبلغ بن کر گزارے جانے والی عجزوانکساری والی زندگی۔ کہاں جینز گٹار والا جنید اور کہاں داڑھی اور ٹوپی، تسبیح اور نور سے روشن چہرے والا جنید جمشید۔ بس یہی وہ خوبی اور قربانی جس نے جنید کو سب سے ممتاز کردیا اور اس کی استقامت صبرواخلاق نے دلوں کو فتح کرایا جو شخص خود کو اللہ کے راستے میں وقف کردے بلکہ فنا کردے تو پھر ایسے ہی دنیا بھر کی تمام عزتیں، برکتیں اس کا حصار کر لیتی ہیں۔ یہی ہمیں سمجھا گیا گزشتہ برس شہادت کا رتبہ حاصل کر کے جہان فانی سے رخصت ہونے والا جنید جمشید۔ ان کی زندگی نوجوانوں اور بزرگوں سب کےلئے قابل تقلید ہے۔ وہ موسیقی کے دلدادہ افرادکے دلوں میں بھی زندہ رہے گا اور آخرت کی فکر کرنے والوں کا محبوب بھی رہے گا۔

  • آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    آج کا مسلمان .تحریر : ارم ثناء

    افسوس! ہے کہ آج کا مسلمان اپنے فرائض سے غافل ہے۔ افسوس! ہے آج کے مسلمانوں پر، جنہوں نے دنیا کو ہی سارا کچھ سمجھ لیا ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کو ہی ہمیشہ کی زندگی سمجھ لیا ہے۔ ہر انسان روازنہ کسی نا کسی کی موت کی خبر سنتا ہے ، مرد حضرات جنازوں میں شرکت بھی کرتے ہیں۔ لیکن افسوس! پھر بھی ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ ویسے ہی ہم دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں، ویسے ہی ہم جھوٹ بولتے ہیں، ویسے ہی ہم اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول رہتے ہیں۔ ہمارا ملک صرف اب نام کا ہی اسلامی ملک ہے اس میں کچھ بھی اسلام کے مطابق نہیں ہورہا۔ ہر معاملے میں ہمارے اسلام نے ہماری رہنمائی کی ہے لیکن ہم نے کیا کیا ہے ہم نے اس کو چھوڑ کر انگریزوں کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا ہے۔ اسلام میں جمہوریت کا کوئی نظام نہیں ہے لیکن ہم نے کیا کیا خلافت کے نظام کو چھوڑ کر جمہوریت کو اپنایا۔

    ہم نے اپنے معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دینے کےلئے چینل بنا لیے۔ ہم درحقیقت ایک بے حیاء اور بے رحم قوم بن چکے ہیں۔ ہم نے اپنے نفس کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ ہم نے ہمارے معاشرے میں بے حیائی کے فروغ کےلئے ٹی وی چینلز پر بہودہ ڈرامے چلانے شروع کردیے جیسے اقتدار، تیرے پن، برزخ،کروس روڈ، اے عشق جنوں وغیرہ جیسے ڈرامے ہمارے معاشرے میں سوائے بے حیائی پھیلانے کے کوئی اور سبق نہیں دے رہے۔ ہماری نوجوان نسل آج وہ کام کررہی ہے جس سے ہمارے دین نے ہم کو منع کیا ہے۔ ہمارے دین نے ہم کو جھوٹ بولنے سے منع کیا ہے، عورتوں کو بے پردہ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے، مردوں اور عورتوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے لیکن ہم جان بوجھ کو غیر محرموں کو دیکھتے ہیں، کوئی ڈرامہ اچھا لگا تو وہ دیکھنا شروع کردیا۔ ہمیں پتا ہے کہ ڈراموں میں غیر محرم ہوتے ہیں، ہمیں پتا ہے کہ اس میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے، ہمیں پتا ہے کہ اس میں ایک غیر محرم عورت ایک غیر محرم کو چھوتی ہے لیکن ہم پھر بھی ان کو سارا سارا دن دیکتھے رہتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کا بائیکاٹ کریں ان کے خلاف آواز اٹھائیں، لیکن ہم کچھ نہیں کرتے۔

    قرآن مجید میں کہا گیا ہے کہ جب غیر مسلم تم پر حملہ آور ہوں تو ان کا جواب دو، لیکن آج کی بزدل نوجوان نسل جن کے آئیڈیل عمران خان، نواز شریف، بلاول بھٹو، عمران عباس بلال عباس جیسے لوگ ہیں یہ اپنے ان آئڈیل کےلئے تو جان دے سکتے ہیں لیکن دین اسلام کےلئے نہیں، یہ لوگ ناکام محبت کے پیچھے تو خود کشی کرسکتے ہیں لیکن مسجد اقصی کو بچانے کےلئے ایک نہیں ہو سکتے۔ در اصل غیر مسلموں نے اپنے ہتھیاروں( سوشل ایپس) وغیرہ کے ذریعے ہماری ذہنی سازی ہی ایسے کی ہے کہ اب ہمیں دنیا کے علاؤہ کچھ نظر ہی نہیں آتا، ہمیں انہوں نے اپنا ذہنی غلام بن لیا ہے۔

    مسلمانوں اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ اپنے مقصد کو پہچانو اپنا آئیڈیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ کو بناو، اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی تربیت دین اسلام کے مطابق کرو کیونکہ کل کو انہوں نے ایک نسل تیاری کرنی ہے، ان میں خلافت کا جذبہ پیدا کرو، ان کو اپنے حق کےلئے آواز بلند کرنے کا حوصلہ دو

  • انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    انتشارروکنے کیلئے فیک نیوز کا سدباب ضروری.تحریر: حنا سرور

    دنیا بھر میں جہاں ہر روز نت نئے چیلنجز جنم لیتے ہیں، وہیں ایک ایسا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے جو ہماری سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کو جڑوں سے ہلا رہا ہے، اور وہ ہے "فیک نیوز” یا جھوٹی خبریں۔ اس دور میں جب معلومات کا تبادلہ تیز ترین ہو گیا ہے، فیک نیوز نے ہر سطح پر فتنہ و فساد کو بڑھاوا دیا ہے، جس کا اثر نہ صرف افراد کی ذاتی زندگیوں پر پڑ رہا ہے بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذہن سازی اور امن و امان پر بھی سنگین نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔

    فیک نیوز وہ جھوٹ یا غلط معلومات ہیں جو مخصوص مقاصد کے تحت پھیلائی جاتی ہیں، چاہے وہ سیاسی، سماجی، یا معاشی فوائد کے لیے ہو۔ یہ خبریں عام طور پر جذباتی، اشتعال انگیز، یا تضحیک آمیز ہوتی ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکے یا کسی گروہ یا فرد کے خلاف نفرت یا تعصب پیدا کیا جا سکے۔ جب فیک نیوز پھیلتی ہے تو اس سے لوگوں میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک جھوٹی خبر کسی خاص قوم، مذہب یا علاقے کے بارے میں شائع کی جاتی ہے جس سے نہ صرف ان افراد کا تشخص مجروح ہوتا ہے بلکہ ایک قوم کے اندر نفرت کا بیج بھی بو دیا جاتا ہے۔ اس سے سماج میں تقسیم اور انتشار بڑھتا ہے۔ فیک نیوز کا سب سے بڑا فائدہ سیاسی جماعتوں یا مفاد پرست افراد کو ہوتا ہے، جو ان جھوٹی خبروں کو مخالفین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یہ خبریں کسی سیاسی رہنما کو بدنام کرنے یا عوام میں حکومتی اقدامات کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف معاشرتی اور سیاسی مسائل پیدا کرتی ہے، بلکہ اقتصادی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جھوٹی اقتصادی خبریں کمپنیوں یا کاروباروں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، یا سرمایہ کاروں کو جھوٹی افواہوں کی بنیاد پر غلط فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

    فیک نیوز کا سب سے برا اثر امن و امان پر پڑتا ہے۔ یہ افواہیں اور جھوٹی خبریں فساد اور تشدد کو جنم دیتی ہیں، اور لوگوں کے درمیان نفرت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اگر اس کا فوری طور پر خاتمہ نہ کیا جائے تو معاشرتی ہم آہنگی اور امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افراد آپس میں محبت، احترام اور امن کے ساتھ رہیں۔ جب جھوٹی خبریں پھیلتی ہیں تو اصل حقائق اور معلومات چھپ جاتی ہیں، جس سے لوگوں کو فیصلے کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ فیک نیوز کا خاتمہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ لوگ صحیح، معتبر اور اصل معلومات تک رسائی حاصل کریں، جس سے ان کے فیصلے بہتر اور جاندار ہوتے ہیں۔ ہر فرد اور ادارہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکے اور سچائی کا پرچار کرے۔ اگر ہم سچائی کی ترویج کرتے ہیں اور جھوٹی خبروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ہم سماج میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون کا سختی سے اطلاق ضروری ہے۔ جہاں فیک نیوز کو پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ضرورت ہے، وہاں عوامی سطح پر شعور بھی بیدار کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ خود فیک نیوز کا شکار نہ ہوں اور ان کو پھیلانے سے گریز کریں۔

    فیک نیوز سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟
    کسی بھی خبر کو شئیر کرنے سے پہلے اس کی اصل ذرائع کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ آج کل بہت سی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اور موبائل ایپلیکیشنز پر خبریں باآسانی پھیلائی جاتی ہیں، لیکن ان کا ہر وقت صداقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خبر کو صرف اس کے سرخی یا عنوان پر نہ پڑھیں، بلکہ اس کی حقیقت کو جانچیں۔ معتبر اور معروف ذرائع سے ہی خبریں حاصل کریں۔ سوشل میڈیا پر خبروں کو بغیر تحقیق کے شیئر کرنا فیک نیوز کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔ اگر کسی خبر میں کوئی سنسنی خیز بات ہو یا وہ جذبات کو اُبھارے، تو اس کا ممکنہ طور پر جھوٹ ہونا زیادہ ہوتا ہے۔تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنے طلباء کو میڈیا کی سواد پر تعلیم دیں تاکہ وہ فیک نیوز کی حقیقت کو سمجھ سکیں اور اس سے بچ سکیں۔

    فیک نیوز کے پھیلاؤ کا فوری خاتمہ نہ صرف ہمارے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ہماری نسلوں کے لیے ایک بہتر اور پرامن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ ہمیں فیک نیوز کے خلاف مشترکہ طور پر جنگ لڑنی ہوگی، تاکہ ہم اپنے معاشرے کو ہر قسم کی فتنہ و فساد سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کے لیے حکومت، میڈیا، اور عوام کو یکجا ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

  • پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز  .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز .تحریر:صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

    پاکستان میں وکالت کا شعبہ ہمیشہ سے ایک عزت اور فخر کا ذریعہ رہا ہے، لیکن نئے وکلا کے لیے اس شعبے میں اپنی جگہ بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان وکیل جو اس شعبے میں حال ہی میں قدم رکھتے ہیں، انہیں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی جڑیں نہ صرف پیشہ ورانہ مشکلات میں بلکہ پاکستان کے معاشی اور سماجی نظام میں بھی موجود ہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں وسائل کی کمی اور معاشی حالات پیچیدہ ہیں، نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ یہاں سرمایہ دارانہ نظام اور سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی اشرافیہ کی موجودگی میں، جو وسائل کے مکمل قابض ہیں، نئے آنے والے وکلا کے لیے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔پاکستان میں وکالت کا شعبہ اکثر ایک مخصوص طبقے کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر وہ نوجوان جو وکیل خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان کا والد، دادا یا چچا وکیل نہ ہو، تو اس کے لیے وکالت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ اس کے باوجود، اگر وہ نوجوان محنت اور لگن سے اس شعبے میں آنا چاہے تو اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔ ایک طرف تو، کارپوریٹ سیکٹر میں اگر ہم دیکھیں تو اکثر کمپنیوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے قانونی معاملات کے لیے کسی وکیل کو بطور مشیر رکھیں، لیکن دوسری طرف، وہ وکلا جو سیاسی تعلقات رکھتے ہیں، انہیں کئی کمپنیوں کی قانونی مشاورت کا موقع ملتا ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کے لیے سیکھنے کے مواقع بہت کم ہیں۔ ایک نوجوان وکیل کو ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد کسی تجربہ کار وکیل کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ عملی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزما سکے۔ تاہم، اکثر سینئر وکلا کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ نئے وکلا کو مکمل تربیت دے سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے سینئر وکلا پہلے ہی اپنی پریکٹس میں مصروف ہوتے ہیں اور ان کے پاس نئے وکلا کو سکھانے کا وقت نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے اکثر نوجوان وکلا کو اپنی جگہ بنانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔پاکستان میں وکلا کی سیاست بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ نئے وکلا جو بار کے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے، انہیں اپنی جگہ بنانے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وکلا کی سیاست میں بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے اور نوجوان وکلا کے لیے یہ رقم سیاست میں حصہ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے وکلا کی سیاست میں صرف وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں بہت سے نوجوان وکلاء اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ وکالت کا پیشہ صرف قانون کا علم رکھنے کا نہیں بلکہ اس میں اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنا بھی ضروری ہے۔ وکلا کے پیشے میں بے شمار چیلنجز ہوتے ہیں جن میں سے ایک بڑی چیلنج پیشہ ورانہ ساکھ کا ہے۔ بہت سے وکلا فیس کا معاملہ، کیسز کی مقدار اور دیگر مالی معاملات پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیشہ ورانہ معیار میں کمی آتی ہے۔اگرچہ پاکستان میں نوجوان وکلا کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود اس شعبے میں کامیابی کے لیے کئی مواقع بھی موجود ہیں۔ ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر نوجوان وکیل اپنے لیے ایک کامیاب مستقبل بنا سکتے ہیں۔

    پاکستان کے بڑے شہروں میں جہاں پہلے سے بڑی وکیل برادری موجود ہے، وہاں نوجوان وکلا کے لیے مقابلہ بہت سخت ہے۔ لیکن دیہاتی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں ابھی تک وکالت کے شعبے میں اتنی ترقی نہیں ہوئی۔ ایسے علاقوں میں نوجوان وکلا کے لیے اپنی جگہ بنانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، دیہاتی علاقوں میں عدالتیں بھی کم ہیں اور وہاں کی عوام کو قانونی مدد کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، جس سے نوجوان وکلا کو کام کے مواقع ملتے ہیں۔دنیا بھر میں وکالت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ نوجوان وکلا آن لائن وکالت کے ذریعے اپنے کیسز کو موثر انداز میں حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وکالت کی خدمات فراہم کرنے کے ذریعے نئے وکلا اپنے آپ کو مارکیٹ کر سکتے ہیں۔ لیکن بار کونسل کی طرف سے پابندی کے وکیل اپنی مارکیٹ نہیں کر سکتا جب کہ ہورپ امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔

    پاکستان میں نئے وکلا کو مزید سہولت دینے کے لیے حکومت یا مختلف وکلا کی تنظیمیں اسکالرشپ اور تربیتی پروگرامز فراہم کر سکتی ہیں۔ یہ پروگرامز نہ صرف مالی مدد فراہم کرسکتی ہیں بلکہ نئے وکلا کو تربیت دینے کا بھی موقع فراہم کرسکتے ہیں۔ نوجوان وکلا اگر ان پروگرامز کا حصہ بنیں، تو ان کے لیے سیکھنے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع مل سکتا ہے۔اس حوالے سے پنجاب بار کونسل نے ٹریننگ پروگرام شروع کیا جو کہ خوش آ ئندہے۔پاکستان میں نوجوان وکلا کے مسائل کا حل ممکن ہے، لیکن اس کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوان وکلا کے لیے انٹرنشپ پروگرامز کا آغاز کیا جانا چاہیے تاکہ وہ عملی میدان میں کام کرنے کا تجربہ حاصل کر سکیں۔ جیسے ہی کوئی نوجوان وکیل وکالت کے پیشے میں قدم رکھتا ہے، اس کو ایک ماہانہ سکالرشپ دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے مالی مسائل سے نمٹ سکے اور اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔نوجوان وکلا کو اخلاقی اصولوں کی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے پیشے میں صرف قانونی علم پر ہی انحصار نہ کریں بلکہ اپنے کام میں ایمانداری اور پیشہ ورانہ ساکھ کو بھی برقرار رکھیں۔وکلا کی سیاست میں روپے کے استعمال اور سیاسی تعلقات کی بجائے پیشہ ورانہ معیار کو اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ صرف اہل وکلا کو ہی اہمیت ملے۔

    پاکستان میں نوجوان وکلا کے لیے پیشہ ورانہ چیلنجز اور مواقع دونوں موجود ہیں۔ اگر ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں، تو یہ نوجوان وکلا نہ صرف اپنے لیے کامیاب کیریئر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نوجوان وکلا کو صرف قانونی علم ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ اخلاقی تربیت اور مالی مدد کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ اس شعبے میں اپنی جگہ بنا سکیں اور اپنے خاندانوں اور ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔

  • وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    وقت کبھی واپس نہیں آتا.تحریر:نبیلہ اکبر

    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے، کیونکہ وقت وہ چیز ہے جو کبھی واپس نہیں آتا، جو گزرا وہ ہمیشہ کے لئے گزر گیا۔ زندگی میں سب سے قیمتی چیز وہ وقت ہوتا ہے جو ہم کسی کو دیتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے وقف کرتے ہیں، وہ لمحے جو ہم کسی کی مدد کرنے یا اُس کے ساتھ گزارنے کے لئے نکالتے ہیں۔ اور وہ وقت جو ہم اپنے عزیزوں، دوستوں یا کسی دوسرے انسان کے ساتھ گزارتے ہیں، وہ وقت جو ہمارے لئے نہ صرف ایک یاد بن کر رہ جاتا ہے بلکہ ایک نشان بن کر ہمارے دل میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

    وقت کی قیمت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ وہ شخص جس کے ساتھ ہم نے اپنا وقت گزارا، وہ دراصل ہمارا وقت ضائع کرنے والا نہیں، بلکہ ہمارے لئے اہم اور قیمتی ہے۔وقت ہمیشہ اسی کو دیا جاتا ہے جس کی اہمیت ہو، کیونکہ انسان ہمیشہ اپنی ترجیحات کے مطابق وقت گزارتا ہے۔ اگر آپ کسی کے لیے اہم ہیں، تو وہ شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا، چاہے وہ کتنی ہی مصروفیت میں کیوں نہ ہو۔ ہم سب کے پاس دن کے 24 گھنٹے ہیں، لیکن ہر شخص کے لئے وقت کی قدر مختلف ہوتی ہے۔ جو لوگ ہمارے لئے اہم ہوتے ہیں، وہ ہمیں وقت دیتے ہیں، اور جو ہم سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، وہ ہمارے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ کبھی بھی آپ سے بات کرنے کے لئے وقت نکالنے میں عذر نہیں کرے گا۔ محبت میں وقت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک ترجیح ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ سے محبت کرتا ہے اور وہ ہمیشہ آپ کو اپنی مصروفیات کا بہانہ دے کر آپ سے وقت نہیں گزارتا، تو پھر یہ ایک سنگین بات ہے کہ اس کی محبت میں سچائی کہاں ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جو شخص آپ سے محبت کے بجائے وقت کی کمی کا بہانہ بناتا ہے، وہ دراصل آپ کی اہمیت کو کم سمجھتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب آپ کسی کے لئے اہم نہیں ہوتے، تو آپ کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ شخص دراصل آپ کے ساتھ وقت گزارنے کی بجائے دوسری ترجیحات میں مصروف ہے۔اگر کوئی شخص آپ کے ساتھ وقت گزارنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، تو یہ سوچنے کا وقت ہے کہ کیا واقعی وہ شخص آپ کی زندگی میں اہم ہے؟ یا وہ صرف وقت گزاری کے لئے آپ کے ساتھ ہے؟ زندگی میں ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں جو اپنی مصروفیتوں کے باوجود آپ کے ساتھ وقت گزاریں اور اس وقت کو آپ کی خوشی میں بدل دیں۔

    اگر آپ سے کسی کی محبت سچی ہو، تو وہ شخص کبھی نہیں کہے گا کہ وہ آپ سے بات کرنے یا آپ کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے مصروف ہے۔ محبت کا رشتہ وقت کی فراہمی کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ آپ کا وقت کسی کے لئے سب سے قیمتی تحفہ ہوتا ہے، اور اگر وہ شخص آپ کو اپنا وقت دے رہا ہے، تو وہ دراصل آپ کی زندگی میں اپنی اہمیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔یاد رکھیں، محبت اور وقت کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ اگر کوئی آپ سے محبت کرتا ہے، تو وہ آپ کے ساتھ وقت گزارے گا، اور اگر کوئی آپ کے ساتھ وقت گزارنے سے گریز کرتا ہے، تو یہ ایک اشارہ ہے کہ وہ شاید آپ کی زندگی میں اتنی اہمیت نہیں رکھتا جتنا آپ نے سوچا تھا۔

    آخرکار، وقت کی قیمت کا اندازہ ہمیں اُس وقت ہی ہوتا ہے جب ہم اسے گنوا چکے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے قریبی لوگوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں وقت دیں گے، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ہم کسی سے وقت نہ لیں، تو پھر ہم بھی اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔اگر آپ کو کسی کا وقت نہیں مل رہا، تو اسے بہانہ سمجھیں اور اس شخص سے اپنے تعلقات کا دوبارہ جائزہ لیں۔ دنیا میں محبت کے رشتہ کو صرف وقت کی فراہمی سے ناپا جا سکتا ہے۔ اس لئے وقت کی قدر کریں اور وہ وقت گزاریوں میں نہ گم ہوں جو آپ کی اہمیت کو کم کریں۔یاد رکھیں، "وقت کبھی واپس نہیں آتا”، لہذا اس کا استعمال درست طریقے سے کریں۔ اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں اور ان لوگوں کے ساتھ تعلقات استوار کریں جو آپ کی اہمیت اور وقت کو قدر دیں۔

  • ہوشیار باش : سائبر کرائم ایکٹ کا ترمیمی بل تیار ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ہوشیار باش : سائبر کرائم ایکٹ کا ترمیمی بل تیار ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نےدھرنوں میں قانون پامال کرنے والوں کو سزائیں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ،تشدد آتشیں اسلحہ کا استعمال کرنے والوں کی لسٹیں جدید ترین جیو فینسنگ اور متعلقہ اداروں کی مدد سے بنائی جارہی ہیں۔اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر جن جن اندرونی و بیرونی "کرداروں” نے اداروں کے خلاف فیک نیوز پوسٹیں لگائیں یا لگا رہے ہیں اور شیئر کی ہیں یا کر رہے ہیں،انکے خلاف حکومت نے سائبر کرائم ترمیمی بل کا ابتدائی مسودہ بھی تیار کر لیا، نئے مسودے میں اہم تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔مسودے میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کے پاس ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے سے متعلق مواد کو بھی ہٹانے کا اختیار حاصل ہو گا، جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے، خوف و ہراس پیدا کرنے والوں کو 5 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔اتھارٹی کے پاس فوج اور عدلیہ کے خلاف آن لائن مواد کو ہٹانے کا اختیار حاصل ہوگا، مذہبی فرقہ وارانہ یا نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلانے سے متعلق شیئر کیے گئے مواد کو ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔مسودے کے مطابق کسی شخص کو ڈرانے، جھوٹا الزام لگانے اور پورنو گرافی سے متعلق مواد کو بھی ہٹایا جا سکے گا، ریاست یا اس کے اداروں کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کی دیگر اقسام کو فروغ دینے سے متعلق مواد بھی ہٹایا جا سکے گا۔مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کا ایک چیئرمین اور 6 اراکین ہوں گے، اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف ٹربیونل سے رجوع کیا جا سکے گا۔

    فیک نیوز یا جھوٹی خبریں موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی آسانی نے جہاں معلومات تک رسائی ممکن بنائی ہے، وہیں غلط معلومات یا افواہوں کا پھیلاؤ بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ فیک نیوز نہ صرف عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں بلکہ یہ سماجی، سیاسی، اور معاشی استحکام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں فیک نیوز کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں خواندگی کی شرح کم ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال غیر ذمہ دارانہ حد تک بڑھ چکا ہے۔ جھوٹی خبریں اکثر مذہبی منافرت، سیاسی پولرائزیشن، اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دیتی ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔سودے کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی جائے گی، اتھارٹی کو سوشل میڈیا سے مواد بلاک کرنے یا ہٹانے کا اختیار ہو گا، اتھارٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں یا کسی شخص کے خلاف مواد ہٹانے کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔اس ترمیمی بل کا مقصد فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے۔

    بل میں دی گئی تفصیلات کے مطابق:1. تعریف اور دائرہ کار: بل میں فیک نیوز کی واضح تعریف کی گئی ہے، جس کے تحت ایسی تمام معلومات شامل ہیں جو جان بوجھ کر جھوٹ یا گمراہ کن ہوں۔2. سزائیں: فیک نیوز پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جن میں بھاری جرمانے اور قید شامل ہیں۔3. آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی کو مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔4. ریگولیٹری باڈی: ایک نئی ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو جھوٹی خبروں کے معاملے کی نگرانی کرے گی۔1. قومی مفاد کا تحفظ: اس بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ فیک نیوز قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اور یہ اقدام عوام کو غلط معلومات سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔2. عوامی آگاہی: بل کے ذریعے عوام کو درست معلومات فراہم کرنے اور افواہوں سے بچانے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔3. بین الاقوامی مثالیں: کئی ممالک، جیسے سنگاپور اور فرانس، پہلے ہی فیک نیوز کے خلاف قوانین متعارف کر چکے ہیں۔تاہم، اس بل پر تنقید بھی کی جا رہی ہے:1. آزادی اظہار پر قدغن: تنقید کرنے والے اس بل کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت فیک نیوز کے بہانے مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر سکتی ہے۔2. اختیارات کا غلط استعمال: اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومتی ادارے اپنی مرضی سے کسی بھی خبر کو فیک نیوز قرار دے کر تنقیدی صحافیوں اور کارکنوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔3. بل میں فیک نیوز کی تعریف اگرچہ دی گئی ہے، مگر یہ اتنی وسیع ہو سکتی ہے کہ اس کا اطلاق حقائق پر مبنی رپورٹنگ پر بھی ہو جائے۔4۔ پاکستان میں پہلے سے ہی ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، اور ایک نئی اتھارٹی کے قیام سے مزید بیوروکریسی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں. عوام کو ڈیجیٹل آگاہی فراہم کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان میں یہ ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں میڈیا لٹریسی کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ جھوٹی خبروں کی پہچان کر سکیں۔اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس سلسلے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جیسے کہ جھوٹی خبروں کی نشان دہی کے لیے الگورتھم بہتر بنانا اور ایسے اکاؤنٹس بند کرنا ہونگے جو مسلسل غلط معلومات پھیلاتے ہیں تاکہ ملک میں افراتفری کی صورت حال پیدا نہ ہونے دی جائے۔

    پاکستان کا سائبر کرائم ترمیمی بل فیک نیوز کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، مگر اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ اس پر عملدرآمد کس حد تک شفاف اور منصفانہ ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بل پر تنقید کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں مزید اصلاحات کرے تاکہ یہ آزادیِ اظہار کے حق کو محدود کیے بغیر فیک نیوز کو روک سکے۔اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت عوام کو ڈیجیٹل میڈیا کے صحیح استعمال کی تربیت دے تاکہ معاشرہ ہی جھوٹی خبروں کے خلاف مزاحمت کر سکے۔ قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن فیک نیوز جیسے پیچیدہ مسئلے کا مستقل حل عوامی شعور کی بیداری میں مضمر ہے۔

    ۔بحرحال ! ملکی وسیع تر مفاد میں انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان میں فیک نیوز کے مسئلے کے حل کے لئے سخت قوانین نہ صرف بنانے کی حدتک محدود رہیں، بلکہ ان پر آہنی ہاتھوں سے عملدرآمد بھی ضروری ہے۔۔

  • پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں لیک ویڈیوز کاپھیلاؤ اور حکومتی ذمہ داری

    پاکستان میں جہاں پورن سائٹس پر پابندی ہے، وہیں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ بھی دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ یہ سوال اب تک کئی بار اٹھ چکا ہے کہ اگر پورن مواد غیر اخلاقی اور غیر قانونی سمجھا جاتا ہے تو پھر نجی ویڈیوز کی شیئرنگ اور ان کا بے رحمی سے پھیلاؤ کیوں کسی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا؟ کیا ہم اس دوہری سوچ کا شکار ہیں؟

    پاکستان میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ پورن دیکھنا ایک اخلاقی غلطی ہے اور اس پر قانونی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ تاہم، نجی ویڈیوز یا "نائیڈ” ویڈیوز کا لیک ہونا اور ان کا سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیلنا ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اکثر یہ ویڈیوز مختلف افراد کی رضا مندی کے بغیر انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہو جاتی ہیں، اور ان ویڈیوز کے شیئر ہونے کے بعد متاثرہ افراد کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔

    پاکستان میں جب کسی نجی ویڈیو کا لیک ہونا ہوتا ہے، تو اکثر افراد اس ویڈیو کو دیکھنے اور شیئر کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہ دوہرا معیار واضح طور پر موجود ہے کہ لوگ پورن ویڈیوز کو اخلاقی طور پر غلط سمجھتے ہیں لیکن جب بات کسی کی نجی ویڈیو کی ہو تو وہ اسے شیئر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ فرد کی ذاتی زندگی کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ ان ویڈیوز کے پھیلاؤ سے معاشرتی سطح پر بھی بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

    نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کی صورت میں فرد کی عزت اور ساکھ پر حملہ ہوتا ہے، جس کا اثر ان کے خاندان، دوستوں اور پورے معاشرے پر بھی پڑتا ہے۔ اکثر اوقات یہ معاملہ ذہنی و نفسیاتی مسائل کا سبب بنتا ہے اور متاثرہ افراد اپنے آپ کو تنہائی، شرمندگی اور بے عزتی کا شکار محسوس کرتے ہیں۔

    پاکستانی حکومت کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ حکومت کی جانب سے وی پی این (VPN) پر پابندی لگانے کا اقدام ایک طرف تو انٹرنیٹ پر مواد کی کنٹرولنگ کی کوشش ہے، لیکن اس سے نجی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کے اصل اسباب کا تجزیہ کرنا ہوگا۔نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ صرف افراد کی ذاتی آزادی یا انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ معاشرتی، اخلاقی اور قانونی مسائل بھی ہیں جنہیں بہتر طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں تشکیل دینی ہوںگی جو اس نوعیت کے مواد کی تشہیر کو روکے اور ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے جو اس قسم کے ویڈیوز کو جان بوجھ کر شیئر کرتے ہیں۔

    حکومت کو اس مسئلے کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے خلاف سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ لیک ہونے والی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر سخت سزا کا تعین کیا جانا چاہیے۔حکومت کو ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کی ضرورت ہے جس سے لیک ہونے والی ویڈیوز کو فوراً ڈیلیٹ کیا جا سکے اور ان کی تشہیر کو روکا جا سکے۔ سوشل میڈیا کمپنیز کو اس بات کی ذمہ داری دینی چاہیے کہ وہ ایسے مواد کی فوراً نشاندہی کریں اور اسے ہٹا دیں۔ اس سلسلے میں ان کمپنیز کو پاکستانی قوانین کے مطابق کارروائی کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔عوام میں اس بات کا شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے کہ نجی ویڈیوز کا شیئر کرنا صرف اخلاقی طور پر غلط نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جرم بھی ہے جو دوسرے انسان کی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔

    پاکستان میں نجی ویڈیوز کے لیک ہونے کا مسئلہ ایک سنگین نوعیت کا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو اس مسئلے کے جڑ تک پہنچ کر اس کا مؤثر حل نکالنا ہوگا۔ صرف وی پی این پر پابندی لگا کر اس مسئلے کا حل نہیں نکلے گا، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے تاکہ اس طرح کی ویڈیوز کی تشہیر کو روکا جا سکے اور ان کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن اور پاکستان یو اے ای تعلقات

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن ہر سال 2 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف امارات کی آزادی اور ترقی کی داستان سناتا ہے بلکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے تاریخی، اقتصادی، اور ثقافتی تعلقات کی علامت بھی ہے۔ متحدہ عرب امارات کا قومی دن 2 دسمبر 1971 ، جب چھ مختلف امارات — ابوظہبی، دبئی، شارجہ، عجمان، اُم القوین اور الفجیرہ — نے ایک وفاقی یونٹ کے طور پر متحد ہو کر یو اے ای کی بنیاد رکھی۔ ان امارات میں ساتواں امارات "راس الخیمہ” بعد میں 10 فروری 1972 میں شامل ہوا۔

    یو اے ای کا قومی دن ایک یادگار موقع ہے جس پر امارات کی کامیابیوں اور ترقی کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اس دن کو عوامی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں مختلف تقریبات، جشن، اور رنگا رنگ پروگرامز شامل ہوتے ہیں۔ اس دن کو نہ صرف مقامی طور پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یو اے ای نے اپنے مختصر عرصے میں عالمی سطح پر اقتصادی، تجارتی، اور ثقافتی لحاظ سے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات: ایک تاریخی پس منظر
    پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط اور دوستانہ رہے ہیں۔ یہ تعلقات مختلف پہلوؤں پر محیط ہیں جن میں اقتصادی تعاون، ثقافتی روابط، اور انسانی سطح پر تعاون شامل ہیں۔پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی تعلقات انتہائی اہم ہیں۔ یو اے ای پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور پاکستان کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری یو اے ای میں کام کرتے ہیں اور وہاں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں، پاکستان کو مختلف شعبوں میں اہم مالی مدد اور امداد حاصل ہوتی ہے۔یو اے ای پاکستان کو تیل کی فراہمی، تجارت، اور دیگر مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم سالانہ اربوں ڈالرز تک پہنچتا ہے، اور یہ تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔پاکستانی مزدوروں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کام کر رہی ہے۔ یہ افراد تعمیراتی صنعت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانیوں کی موجودگی نے دونوں ممالک کے درمیان انسانی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن کی محنت و لگن نے یو اے ای کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔یو اے ای میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں آباد ہے، اور ان کے ثقافتی، سماجی اور اقتصادی روابط دونوں ممالک کی دوستی کی ایک اور نشانی ہیں۔

    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعلقات بھی انتہائی مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور عالمی سطح پر مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ یو اے ای نے پاکستان کے ساتھ مل کر مختلف فوجی مشقیں بھی کی ہیں اور دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
    پاکستان اور یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعلقات بھی کافی گہرے ہیں۔ یو اے ای میں پاکستانی ثقافت کی ایک واضح موجودگی ہے، خاص طور پر پاکستانی کھانے، موسیقی، اور تہوار۔ ہر سال مختلف پاکستانی تہوار، جیسے عید الفطر، عید الاضحیٰ، اور یوم پاکستان یو اے ای میں بڑی دھوم دھام سے منائے جاتے ہیں۔پاکستانی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار اور گلوکار بھی یو اے ای میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، پاکستان کی مشہور آرٹس، دستکاری اور تہذیب بھی یو اے ای میں مقبول ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن نہ صرف اس ملک کی آزادی اور ترقی کا جشن ہے بلکہ یہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان گہرے روابط کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، اور دفاعی تعلقات مستحکم ہیں اور مستقبل میں ان تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جاتی ہے۔پاکستانی عوام یو اے ای کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہو گی۔ یو اے ای کا قومی دن پاکستانیوں کے لیے ایک ایسا موقع ہے جب وہ اپنے دوست ملک کی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں اور ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

  • کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم ایجنسی میں اموات، کیا صوبائی حکومت کافی اقدامات کر رہی ہے؟

    کرم کا علاقہ شیعہ اور سنی کمیونٹیز کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور دردناک تاریخ رکھتا ہے۔ سب سے خونریز سال 2007 سے 2011 کے دوران تھے، جب 2,000 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
    یہ پہاڑی علاقہ جو افغانستان کے خوست، پکتیا اور ننگرہار صوبوں کے ساتھ متصل ہے، اب شدت پسند گروپوں کے لیے پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش جیسی تنظیمیں یہاں حملے کرتی رہتی ہیں، جس سے علاقے میں مزید عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    حالیہ تشدد ایک اراضی کے تنازعے سے شروع ہو کر قبائلی اور فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہوگیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ محسود، ایک قبائلی سردار، نے کہا، "یقیناً علاقے میں لوگوں میں بہت غصہ اور نفرت ہے تاہم، ہمیں کرم کے علاوہ دیگر علاقوں کے قبائلی عمائدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔”

    اس صورتحال کے جواب میں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تناؤ کو کم کرنے اور اس پر قابو پانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک قبائلی جرگہ کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے تاکہ امن کی کوشش کی جا سکے۔ ایک نیا صوبائی ہائی وے پولیس فورس بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ اہم نقل و حمل کے راستوں کی حفاظت کی جا سکے۔ ان اقدامات کے باوجود، ایک اعلی سطحی وفد جس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری بھی شامل تھے، عارضی فائر بندی پر بات چیت کرنے میں کامیاب ہوا، لیکن اس کے بعد تشدد دوبارہ بھڑک اٹھا۔

    یہ تنازعہ تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی پیچیدگیوں میں گہرا جڑا ہوا ہے جس کا حل ایک دن میں ممکن نہیں۔ تاہم، جیسا کہ بانی پاکستان کے ویژن تھا ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون اور انصاف کی بحالی ،لیکن یہاں کیا ریاست کرم میں یہ ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے؟اس بڑھتے ہوئے بحران کے باوجود، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دارالحکومت میں سیاسی لڑائیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی ہے، جس کی وجہ سے کرم کے عوام حکومت کی غفلت کا سنگین نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

  • فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    فلسطینیوں کی پکار اور ہمارا رویہ.تحریر:ارم ثناء

    آج کل جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہورہا ہے فلسطین، لبنان، کشمیر، برما، ہندوستان وغیرہ ممالک میں۔ کیا اب بھی مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں ہے؟ کیا اب جو مسلم آزاد ممالک ہیں کیا ان پر جہاد فرض نہیں ہے؟ جہاد کیا ہے؟ جہاد صرف تلوار سے لڑنے کو تو نہیں کہتے جہاد کی مختلف اقسام بتائی گئی ہیں ہمیں۔ یہ جو پاکستان کی آدھی سے زیادہ عوام کہتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے؟ یہ سب تو حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ کیوں نہیں کچھ کر سکتے؟ آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس کا بائیکاٹ تو کر سکتے ہیں نا ؟ آپ کا دل کوک یا lay’s وغیرہ کھانے کو کر رہا ہے لیکن آپ لوگ رک جائیں، نہیں ہم نے نہیں کھانا اپنے دل کو سمجھائیں کہ نہیں کھانا، خود کو کہیں کہ میں اسرائیل کی معیشت کو کیوں مضبوط کروں؟ میں کیوں فلسطین کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگوں، ظاہر ہے میرے ہی دیے پیسوں سے وہ ہتھیار یا جنگ کا باقی سامان خریدتے ہیں۔ یہ ہوگا آپ کا جہاد با لنفس۔ آپ نے یہاں اپنے نفس کو روکا ہے اللہ کےلئے اللہ کے بندوں کےلئے۔

    اب جو ناول نگار ہیں جو سارا دن بیہودہ ناول لکھتے ہیں وہ لکھیں وہ اپنی قوم کو جہاد کے بارے میں بتائیں یہ ہوگا قلم سے جہاد۔ جو لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں یہ جو لیڈرز ہیں یہ سب اپنی اپنی پارٹی کے لوگوں کو کہیں کہ آئیں ساتھ دیں ہمارا، ہم جہاد کریں گے جب سب پاکستان کی عوام سڑکوں پر نکلے گی تو کیوں نا حکمران مانیں گے؟ یہ ہوگا آپ کا تلوار سے جہاد۔ اب اس وقت جہاد ہم پر فرض ہے اب جو مائیں ہیں یہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں شروع سے جنون ہو اللہ کی راہ میں قربان ہونے کا،

    یاد رکھیں اگر آپ لوگ اسرائیل کی پروڈکٹس استعمال کرتے ہیں تو قیامت کے دن آپ سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیوں اسرائیل کا ساتھ دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اسرائیل کی معیشت کو مضبوط کیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ نہیں دیا؟ کیوں تم لوگوں نے اپنا قبلہ اول آزاد کرانے کی کوشش نہیں گی؟ یہ جو پاکستان کی عوام کہتی ہے کہ عمران خان نے، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان یا حکومت نے ان کی مدد کی ہے تو یہ سب جھوٹ ہے پاکستان کی عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو اب فلسطین آزاد ہوتا اگر انہوں نے ساتھ دیا ہوتا تو یہ جو فلسطین کےلئے آواز اٹھا رہے ہیں ان کو جیل میں قید نا کرتے۔

    اب مسلمانوں کو چاہیے کہ ایک ہو جائیں چھوڑ دیں پاکستانی، سعودیہ، ترکی، پنجابی، سندھی، پلوجی، اہل سنت، اہلحدیث، شعہہ، وہابی اب چھوڑ دو یہ سب فرقہ واریت کا پرچار ،اب ایک ہو جاؤ جسد واحد کی طرح اب اٹھ جاؤ۔
    آپ کو پتا ہے؟ کہ یہودی پوری دنیا میں بہت کم ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد اربوں میں ہے۔ یہ یہودی اپنے مسیح دجال کےلئے راہ صاف کررہے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ کےلئے۔ مسلمانوں آپ لوگ کیا کررہے ہو؟ اپنی ہی بیٹوں کو نچا کر خوش ہورہے ہو، اپنی ہی بیٹیوں کی عمر کی لڑکیوں پر تبصرے کرکے خوش ہو رہے ہو ،خدار لوٹ آؤ اسلام کی طرف، لڑکیو چھوڑ دو بے پردگی، چھوڑ دو غیر محرم کی آنکھوں کو سکون دینا ،چھوڑ دوغیر محرم کو اپنا جسم دکھانا، خدار اب اپنی نسل کو ایسے تیار کرو کہ اللہ ان کو حضرت امام مہدی کے لشکر میں شامل کردے