Baaghi TV

Category: متفرق

  • ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی سے سیکھنے کا سبق

    ہمٹی ڈمٹی بچوں کے لیے ایک قیمتی سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی کبھار آپ کچھ چیزیں ٹوٹنے یا گم کرنے کا سامنا کرتے ہیں، اور چاہے آپ یا کوئی اور جتنا بھی کوشش کرے، وہ چیز واپس نہیں آ سکتی یا ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ یہاں تک کہ "بادشاہ کے تمام گھوڑے اور بادشاہ کے تمام سپاہی” بھی اُسے واپس نہیں لا سکے۔

    جب آپ خطرات مول لیتے ہیں، تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ مسئلے کے فائدے یا نقصانات کا اچھی طرح سے جائزہ لیں۔ بغیر سوچے سمجھے، محض تیز فیصلوں پر نہ چھلانگ لگائیں۔ جو لوگ آپ کو جلدی سے مشورہ دینے کے لیے بے چین ہوں، ان کی باتوں پر نہ جائیں کیونکہ وہ یا تو آپ کی طرح بے عقل ہو سکتے ہیں، یا وہ چاہتے ہیں کہ آپ ناکامی کا سامنا کریں۔ کیا آپ نے کبھی "مفاد کے مصلحت” کا سنا ہے؟

    یہ بات اہم ہے کہ ہمٹی ڈمٹی کے معاملے میں، بادشاہ کے تمام گھوڑے اور تمام سپاہیوں نے غریب انڈے کے سر کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی، لیکن زیادہ تر حالات میں بادشاہ کے گھوڑے اور سپاہی آپ پر چھلانگ لگا کر آپ کو چکنا چور کر سکتے ہیں۔شاید وہ آپ پر حقیقتاً چھلانگ نہ لگائیں، لیکن ہاں، وہ آپ کو مجازی طور پر کچل سکتے ہیں۔ اور یہ ایک نئی مصیبت بن سکتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔آپ کو اپنے چہرے پر دراڑ کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے گی، ممکن ہے ناک غائب ہو اور آپ کے پاس ناکام خطرے کے نتائج کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہو۔لہٰذا احتیاط کریں کہ آپ اپنا ہوم ورک نہ چھوڑیں، یا دوسرے انڈے کے سر والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں۔ سمجھ گئے؟

  • پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں دھرنوں، جلسوں، اور مظاہروں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں نہ صرف پی ٹی آئی احتجاجی سرگرمیاں کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا وہ اثر نظر نہیں آ رہا جو ماضی میں ہوتا تھا۔

    پی ٹی آئی نے ماضی میں سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے بیانیے کی ترویج اور مخالفین پر تنقید کے لیے یہ پلیٹ فارم مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا۔ یہ ایک ایسی جماعت کے طور پر ابھری جو روایتی میڈیا کی بجائے ڈیجیٹل میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں مہارت رکھتی تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں نہ صرف زمینی احتجاج میں کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پارٹی کا رنگ پھیکا پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ جماعت جو ٹویٹر پر ٹرینڈز بناتی تھی، فیس بک پر لاکھوں کی ریچ حاصل کرتی تھی، اور یوٹیوب پر لاکھوں ویوز جمع کرتی تھی، آج کل کمزور دکھائی دے رہی ہے۔پی ٹی آئی اب سوشل میڈیا پر وہ بیانیہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی جو پہلے بناتی تھی،پی ٹی آئی کی پارٹی کی اندرونی تقسیم اور اہم رہنماؤں کی گرفتاری یا خاموشی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں،حکومتی سطح پر سوشل میڈیا پر عائد کردہ ممکنہ پابندیوں کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم مشکلات کا شکار ہے،انتشار اور نفرت کی سیاست کی وجہ سے عوام، خاص طور پر نوجوان، ماضی کی طرح سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر بہت پیچھے جا چکی ہے

    پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا محاذ پر اثر کم ہونے کی وجوہات میں تنظیمی مسائل، حکومتی دباؤ، اور عوامی دلچسپی میں کمی شامل ہو سکتی ہے وہیں پی ٹی آئی رہنماؤں کے آپسی اختلافات، علیمہ، بشریٰ کی لڑائی، گنڈا پور ،بشری کی لڑائیاں اور پارٹی رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی وجہ سے بھی سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کارکنان مایوس ہو چکے ہیں،کارکنان کو سمجھ نہیں آتی کہ وہ کس کے بیانئے کو لے کر چلیں،عمران خان تو جیل میں ہیں اور ان سے ملاقاتیں کرنے والے پارٹی رہنماؤں کا مؤقف الگ الگ ہوتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کو بیانیہ بنانے میں مشکل پیش آتی ہے.

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    برطانیہ،عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کا تاریخی احتجاج

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    اسلام آباد، مظاہرین پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی

    24 نومبردن ختم،لاہورسے نہ قافلہ نکلا نہ کوئی بڑا مظاہرہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    خود گرفتاریاں دے رہے،پی ٹی آئی قیادت کہیں نظر نہیں آرہی،مصدق ملک

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

  • مودی اور سیکولر بھارت

    مودی اور سیکولر بھارت

    بھارت میں ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ ان اہم لمحات میں زور پکڑا جب سیاسی رہنماؤں نے جو خود کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں، انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ گزشتہ صدی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ چکا ، جس کی ایک بڑی مثال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جنہوں نے سیکولرازم کو ترک کرتے ہوئے مذہب پر مبنی قومی شناخت کو ترجیح دی ہے۔

    1923 میں ونائیک دامودر ساورکر نے ایک جارحانہ ہندو مرکزیت پر مبنی ہندوتوا کا نظریہ پیش کیا۔ ہندو دھرم کی برابری کے روحانی اصولوں سے ہٹ کر، ساورکر نے لوگوں کو "دوستوں” اور "دشمنوں” میں تقسیم کیا۔ دوست وہ تھے جو نسب اور وفاداری کے ذریعے بھارت سے جڑے تھے، جبکہ دشمن وہ تھے جنہیں غیر ملکی یا غیر وفادار سمجھا جاتا تھا۔ لگ بھگ ایک دہائی بعد، جرمن نازی نظریہ ساز کارل شمٹ نے سیاست کو اسی طرح دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کیا۔

    1925 میں ساورکر سے متاثر ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی گئی جو اس تحریک کا عسکری ونگ تھا۔ آر ایس ایس نے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی اور ایک مثالی ہندو ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کا مقصد ایک متنازع نظریہ کو فروغ دینا تھا۔ نریندر مودی، آر ایس ایس کے نمایاں ارکان میں سے ایک ہیں اور وہ اسی تحریک سے کھل کر سامنے آئے،

    دوسری جانب، انڈین نیشنل کانگریس، مہاتما گاندھی کی قیادت میں، ایک سیکولر اور متحدہ بھارت کی حمایت کرتی رہی، جس کا مقصد برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، ہندوتوا کے حامیوں نے گاندھی کے مذہبی ہم آہنگی کے پیغامات کو مسلمانوں کے لیے رعایت سمجھا۔جس کے نتیجے میں 1948 میں ساورکر کے نظریے کے پیروکار کے ہاتھوں گاندھی کا قتل ہوا۔

    آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کے لیے ایک سیکولر وژن کی وکالت کی، جو معاشی اور سماجی ترقی کی خواہشات پر مبنی تھا۔ لیکن نہرو کی 1964 میں وفات کے بعد، کمیونل نظریات کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہ مقبول ہونے لگے۔ سیکولرازم کو ایک بڑا دھچکا 19 اپریل 1976 کو لگا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے نے ایمرجنسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دن دہلی کی جامع مسجد کے قریب جبری نس بندیوں سے آغاز ہوا اور ترکمان گیٹ پر مسلمانوں کے انخلاء اور قتل عام پر ختم ہوا۔1976 کے ترکمان گیٹ کے تشدد کے 16 سال بعد، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ایک اور لہر کو جنم دیا، جس سے بھارت کے سیکولر نظریات مزید کمزور ہو گئے۔

    آج، ہندوتوا،جو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے بہت مختلف ہے، اکثر بھارت کے ایلیٹس کی خاموش حمایت کے ساتھ سیاست اور ثقافت میں سرایت کر چکا ہے، مودی، جو ایک پجاری جیسا عوامی کردار اپناتے جا رہے ہیں، کے دور میں ایک سیکولر بھارت کا خواب ایک مذہبی طور پر متعین ریاست کے عروج سے دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

  • بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں کے علاقے میں پیش آنے والے المناک حملے نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس دلخراش واقعے میں 12 بہادر جوان شہید ہو گئے، جو ملک و ملت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کاروائیاں بیرونی دشمنوں کی آشیرباد سے ہو رہی ہیں، فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملوں کو روکنے اور انکی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے پھر سے آپریشن ضرب عضب ،رد الفساد کی ضرورت ہے،کسی قسم کی نرمی ان دہشت گردوں اور انکے حامیوں کے خلاف نہیں ہونی چاہئے جو ملکی سلامتی کے دشمن ہیں اور آئے روز خیبر پختونخوا و بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں.

    بنوں میں شہید ہونے والے جوان ہمارے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان کا عزم اور قربانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے بہادر سپاہیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔بنوں حملے میں شہید ہونے والے جوان صرف ایک ادارے کے سپاہی نہیں بلکہ پوری قوم کے سپوت ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ملک کی حفاظت صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا فرض ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو امن و امان کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ہم سب پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے غم کو بانٹیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ان کے پیاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کریں تاکہ ان کے لیے زندگی کے مسائل آسان ہو سکیں۔

    بنوں میں دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے۔ ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ قوم ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔شہیدوں کی قربانیوں کا یہ پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا کہ "ہم زندہ قوم ہیں۔”

  • پراکسی جنگوں کا فن

    پراکسی جنگوں کا فن

    پراکسی جنگوں پر بڑھتے ہوئے انحصار نے بڑے پیمانے پر تشویش پیدا کی ہے، خاص طور پر جب مغربی ممالک داعش کے خلاف جنگ میں براہِ راست مداخلت کے بجائے معتدل شامی باغیوں اور کرد پیشمرگہ کو ہتھیار، فنڈز، اور وسائل فراہم کر رہے ہیں۔ اسی طرح، 2014 میں روس کی جانب سے کریمیا کے الحاق نے مغربی رہنماؤں کو پریشان کیا، جنہیں خدشہ تھا کہ ماسکو علاقائی بالادستی حاصل کرنے کے لیے چالاک مگر جارحانہ حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ مشرقی یوکرین میں اہم علاقوں پر قبضہ کرنے والے روسی "رضاکار”، جن کے بارے میں صدر پیوٹن کا دعویٰ تھا کہ وہ ریاست سے غیر منسلک ہیں، ان خدشات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

    یہ حکمت عملی سن زو کی کتاب دی آرٹ آف وار کے اصولوں کی عکاسی کرتی ہے، جو براہِ راست جنگ کے بجائے کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر جیتنے کی وکالت کرتی ہے۔ ناقدین اکثر بالواسطہ جنگ کو محض تنازعے سے گریز کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن اسے "جنگ کی منتقلی” کے طور پر بہتر سمجھا جا سکتا ہے، جہاں اثر و رسوخ بالواسطہ ذرائع سے قائم کیا جاتا ہے۔ 1929 میں لڈیل ہارٹ نے اس تصور کو متعارف کرایا اور اپنی کتاب اسٹریٹجی: این ان ڈائریکٹ اپروچ میں اسے تفصیل سے بیان کیا، جو مغرب میں عسکری نظریے کا ایک اہم موڑ تھا، جیسا کہ مؤرخ برائن ہولڈن ریڈ نے کہا۔

    پراکسی جنگوں کے ذریعے ایک ملک اپنے مفادات کا حصول بالواسطہ طور پر کر سکتا ہے، مثلاً ملیشیا یا اتحادی قومی افواج کو ہتھیار، فنڈنگ، اور حمایت فراہم کر کے، بغیر اپنی افواج کو میدان میں اتارے۔ یہ طریقہ کار روایتی تنازعوں جیسے بغاوت سے آگے بڑھ کر ایک ایسے تعلقات اور حکمت عملیوں کے جال کو جنم دیتا ہے جو اعلانیہ اور خفیہ دونوں ہو سکتے ہیں۔ پراکسی تنازعات عموماً ایسے ماحول میں ہوتے ہیں جہاں ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں بعض اوقات تو سائبر اسپیس کے ذریعے بھی ایسا کیا جاتا ہے

    تاریخی طور پر، قوموں نے مقامی بحرانوں، جیسے خانہ جنگیوں، سے فائدہ اٹھا کر،اکثر مخالف نظریات یا طاقتوں کو قابو کرنے کے لیے بڑے جغرافیائی سیاسی تغیرات کو ہوا دی ہے، کئی معاملات میں، پراکسی قوتیں ان ممالک کے لیے ایک کشش کا باعث بنتی ہیں جو فوجی بھرتی کے مسائل اور محدود دفاعی بجٹ کا سامنا کرتے ہیں۔ فوجی کارروائیوں کو آؤٹ سورس کرنے سے یہ ریاستیں بغیر کسی براہِ راست موجودگی کے اپنی طاقت کا اظہار کر سکتی ہیں۔

    امریکہ، جس نے وار آن ٹیرر کی طویل مدتی لاگت سے سبق حاصل کیا ہے، بڑے پیمانے پر، حکومت کی تبدیلی کی جنگوں میں ملوث ہونے سے گریز کرتا ہے اور پراکسی جنگوں کو ترجیح دیتا ہے۔ اس حکمت عملی سے امریکہ کی سیاسی اور عسکری نمائش کم ہو جاتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچا جاتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ، جو ایک نئی تنہائی پسند پالیسی کی عکاس ہے، نے وسیع فوجی وعدوں سے گریز کیا، اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ مفادات کے تحفظ کے لیے پراکسی کو ایک آلہ کے طور پر زیادہ استعمال کرے گا یا نہیں۔

    چین اور روس بھی پراکسی جنگوں کے مستقبل کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چین، اپنی عالمی طاقت کے ابھار کے ساتھ، اس بات کا فیصلہ کرنے کا سامنا کرتا ہے کہ تجارت کے تعلقات کو نقصان پہنچائے بغیر کس طرح اثر و رسوخ کا اظہار کرے۔ روس کا نیٹو کی سرحدوں کے قریب، جیسے کریمیا میں، پراکسیوں پر انحصار، مغربی پالیسی کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے کیونکہ بالواسطہ جارحیت کے جواب دینا پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

    ہم ایران اور سعودی عرب کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے، جو اپنے اپنے برانڈ کے اسلام کے لیے عالمی اثر و رسوخ حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔

    مجموعی طور پر، یہ پیش رفت ایک ایسی دنیا کی نشاندہی کرتی ہیں جہاں بالواسطہ، کثیر الجہتی تنازعات زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں، جس سے زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ دنیا بدل چکی ہے، اور یہ تبدیلی بہتری کے لیے نہیں ہے

  • عشق اور ہنی ٹریپ ،تحریر:  شمائل عبداللہ

    عشق اور ہنی ٹریپ ،تحریر: شمائل عبداللہ

    میں محبت پر اتنا لکھتا نہیں کیونکہ مجھے لگتا ہے محبت سے دوستی بہتر ہے! اور یہ سچ بھی ہے لیکن آج مجھے اس پر لکھنا واجب لگا کہ محبت کو بہت ہی تماشہ بنا دیا گیا ہے۔ پچھلے دنوں خلیل الرحمٰن کے ساتھ جو واقعہ ہوا اس میں سے ایک خبر سامنے یہ بھی آئی کہ خلیل کے ساتھ ہنی ٹریپ بھی ہوا تھا۔ اب ایک عام انسان اور ایک ادیب میں فرق ہوتا ہے اس کی سوچ اس کی باتیں معاشرے کیلئے ایک نمونہ ہوتی ہیں وہ ایک تاریخ ساز کام میں ملوث ہوتا ہے۔ اور خلیل کا یوں ہنی ٹریپ کا شکار ہونا سمجھ سے باہر بات ہے ان کے باتیں بھی عجیب ہیں۔
    کہیں پہ وہ کہتے ہیں لڑکی لڑکے کی دوستی نہیں ہوتی کہیں ماہرہ خان کو سب سے اچھی دوست کہتے ہیں کہیں پہ وفا کو آزمانے کی بات کرتے ہیں کہیں کہتے ہیں میں نے ایسا کچھ کہا ہی نہیں کہیں پہ رائٹر اور ایکٹر کی دوستی کو نہیں مانتے اور کہیں پہ ہمایوں سعید کو اپنا بہترین دوست کہتے ہیں ایسے رائٹرز معاشرے کو کہاں لے کر جائیں گے؟ سوچئے ذرا! میں تو ہنی ٹریپ کا شکار ہونے والے مردوں کو مرد ہی نہیں کہتا بھلا یہ کیا کہ کسی نے لڑکی کی آواز میں بات کی تو پھسل گئے۔ اے آدمزاد ہوش کر کہ تجھے خالق نے ایسا نہیں بنایا تو جس کا محافظ ہے اسی کے نام سے بدی کرتا ہے۔ اے مرد تیری مردانگی کہاں گئی؟ پھر یہ کہہ دینا ! کہ ہمیں ہنی ٹریپ کیا گیا بیہودگی ہے اور کچھ نہیں لڑکیوں کے نام سے فیک آئی ڈیز بےشمار ۔ لیکن لڑکے کے نام سے لڑکی کی ایک بھی فیک آئی ڈی نہیں تو شیطان کون؟ پھر یہ جو دو منٹ بعد ہمیں عشق ہو جاتا ہے یہ حوس ہے جو کبھی کبھی ہمیں آزمانے کو عشق کی بہروپ ہے! عشق اتنا فالتو نہیں کہ بارہا ہو یہ روح میں اترتا ہے اور روح میں جو چیز اترتی ہے ایک ہی بار اترتی ہے! خسرے کی مثال لے لیں جس طرح زندگی میں ایک بار نکلتا اسی طرح عشق ہے موت کی مثال بھی لے سکتے ہیں جیسا کہ شاعر کہتا ہے کہ:-
    یہ ہے عادت عشق کہ دل پر نہیں کرتا ترس
    یہ ہے ماجرا کہ پاگل حالت حال بگاڑ دیتا ہے
    عشق کی نگری میں معافی نہیں کسی کو
    عشق عمر نہیں دیکھتا بس اجاڑ دیتا ہے ہمیں حوس سے صاودھان رہنا! کل مجھ سے ایک شخص دو دوستوں میں رومانویت کی بات کرنے لگا کیونکہ میں نے اسے پوچھا محبت کیا ہے؟ کہنے لگا محبت کی چار قسمیں ہیں رومانوی محبت والدین کی محبت فلاں فلاں اور رومانوی محبت دو دوستوں میں ہے۔ میں نے کہا بالکل غلط یوں تو محبت کی پھر ہزار قسمیں بنا لو محبت کی دو قسمیں ہیں کی جانے والی اور ہو جانے والی اور رومانوی کیفیت قطعی محبت کا حصہ نہیں یہ جسم کی خواہش ہے جسے پورا کرنے کیلئے خدا نے نکاح کا حکم دیا ہے اور یہ کبھی دوستوں میں نہیں بلکہ محبوب اور محبوبہ میں ہوتی ہے اور یہ کسی کی بھی طرفدار نہیں ہوتی خدا کی طرح کیوں خدا محبت ہے۔ عہد عتیق میں جو کہ کتاب مقدس کا حصہ ہے اور یہودیوں کیلئے ہے لیکن رہنمائی حاصل کرنے کیلئے مسیحی بھی پڑھتے ہیں۔ اس میں ایک کتاب ہے عشقیہ نظموں پر جس کا نام ہے غزل الغزلات جو کہ اگرچہ معرفت کی باتیں لیکن چونکہ عشقیہ نظمیں ہیں تو میں پوچھتا ہوں کوئی بھی روحانی کتاب کسی بھی ناپاک چیز یا رشتے کی مثال دے سکتی ہے؟ سو ثابت یہ ہوا کہ محبت کوئی ناپاک چیز نہیں بلکہ پاک ہے جس کی منزل نکاح ہے مگر یہ بات دنیا کی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ شاعر کہتا ہے کہ:-
    دل سے یہ جڑے ہیں دل اپنے کہنے کو کوئی رشتہ ہی نہیں
    اس پاکیزہ سے بندھن کو دنیا میں کوئی سمجھا ہی نہیں
    ایک مسیحی شاعر لکھتا ہے کہ:-
    تاریخ گواہ ہے مسیحیت خلاف نہیں محبت کے
    یوحنا نے بھی ملوایا تھا دو عاشقوں کو گلے
    تھی تیمتیس کی ماں یہودی اور باپ یونانی
    پھر بھلا کیوں روایت یہ یہاں گناہ کی چلے
    لیکن ہمیں دعا کے ذریعے حوس سے بچنا اور حواس سے محبت کو سمجھنا ہے اور یہ دھیان رکھنا ہے کہ دل ٹوٹ نہ جائے کیونکہ پھر یہ لاعلاج ہے اور کافر بھی بن سکتا ہے جیسا کہ مسیحی شاعر شکوہ کرتا ہے کہ:-
    عشق والے ہی قابل نفرت رہے دور بہ دور
    میرے مسیحا نے یوں تو جلائے ہیں مردے بھی
    لیکن ٹوٹے دل نمازی بھی بن سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں مقدر ہے اپنا اپنا سو احتیاط کیجئے کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے اور حوس پرستوں سے بھی یہ کہہ دیجئے!
    "آپ اچھے فرشتہ صفت ٹھہرے”
    میں برا، میں خراب، جناب! اجتناب!
    کیونکہ کبھی کبھی ایک مچھلی سارا جل گندا کرتی ہے! یہاں پر بتاتا چلوں کہ رومانس اور سیکس میں بھی فرق ہے جس کو لے کر بھی ہم گمراہ زیادہ تفصیل تو میں بیان نہیں کر سکتا لیکن مختصر بتاؤں گا کہ مان لو کہ ہلکا گلابی رنگ رومانس ہے اور سرخ ترین رنگ سیکس اور ان دونوں رسموں کو نبھانے کی شرط نکاح ہے اور نکاح بھی تاعمر کا ورنہ لوگوں نے یہ رسم بھی جائز طریقے سے نبھا کر بس ترک کرنا واجب سمجھا ہے جان رکھو کہ یہ بھی گناہ ہے۔ اور خلیل صاحب نے خود اپنے ڈرامے لال عشق او ایس ٹی میں لکھتے ہیں کہ:-
    کون ہیں لوگ یہ زخم کھائے ہوئے
    دل کی میت کو سر پہ اٹھائے ہوئے
    آرزوئیں یہ کہاں بیچ کر آئے ہیں
    آج آئے ہیں پوچھو یہ کیا لائے ہیں
    اک محبت سے یہ نہ سنبھالے گئے
    اک محبت نہ ان سے سنبھالی گئی
    زندگی بس امیدوں بھری جیب تھی
    جیسے خالی ملی ویسے خالی گئی
    کیا ملا ہے محبت کے بازار سے
    آج پھرتے ہو دل کو نقد ہار کے
    یہ محبت کی دشمن کی اک چال ہے
    عشق تو لال ہے عشق تو لال ہے
    محبت کی دشمن یعنی حوس اللہ ہم سب کو اس سے بچائے رکھے (آمین)

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    پاکستانی ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اب تک مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا،مسکان چانڈیو، گل چاہت کی نجی زندگی کی نازیبا ویڈیو لیک ہو چکی ہیں، ویڈیوز کو دیکھ کر ایسے لگ رہا ہے کہ ٹک ٹاکرز نے ویڈیو خود یا اپنی رضامندی سے بنائی ہیں تاہم وہ بعد میں لیک ہو گئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، ویڈیو کس نے لیک کیں اور اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکا.

    آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ، ویڈیو لیک ہونے کے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف کسی کی پرائیویسی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے بلکہ جذباتی، سماجی، اور قانونی مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ویڈیو لیک سے کیسے بچا جائے، اسکے لئے ضروری ہے کہ اول تو کوئی ایسی ویڈیو بنائیں ہی نہ، جس کے لیک ہونے کا خدشہ ہو،اگر کوئی ویڈیو بنا بھی لی تو اپنی ذاتی ویڈیوز اور مواد کو ہمیشہ محفوظ جگہ پر رکھیں، جیسے کہ پاسورڈ پروٹیکٹڈ ڈیوائسز یا اینکرپٹڈ فولڈرز میں۔ کوشش کریں کہ حساس مواد کو کلاؤڈ پر اپ لوڈ نہ کریں کیونکہ کلاؤڈ ہیکنگ کے امکانات موجود رہتے ہیں۔اپنے موبائل فون، کمپیوٹر، اور دیگر ڈیوائسز کے لیے مضبوط پاسورڈز کا استعمال کریں۔ پاسورڈ میں حروف، نمبرز، اور اسپیشل کریکٹرز کا استعمال کریں تاکہ اسے اندازہ لگانا مشکل ہو۔ایسی ایپس انسٹال نہ کریں جو غیر معتبر ہوں یا جن کے بارے میں آپ کو مکمل معلومات نہ ہوں۔ بعض اوقات یہ ایپس آپ کی پرائیویسی تک رسائی حاصل کر کے آپ کے ڈیٹا کو چوری کر سکتی ہیں۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صرف ان لوگوں کو دوست یا فالو کریں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں۔ ذاتی ویڈیوز یا تصاویر شیئر کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر یہ مواد پبلک ہو جائے تو اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔اپنے موبائل اور کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز اور سیکیورٹی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے سائبر حملے سے بچا جا سکے۔اگر آپ کو اپنی ویڈیوز کا بیک اپ لینا ضروری ہے تو اسے محفوظ جگہ پر کریں، جیسے کہ ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز جو انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہوں۔ای میلز، سوشل میڈیا، یا کسی اور پلیٹ فارم پر ذاتی ویڈیوز یا حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔ یاد رکھیں کہ ایک بار شیئر کیے جانے کے بعد آپ کے مواد پر آپ کا کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔اگر ویڈیو لیک ہو جائے تو فوراً متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ پاکستان میں ایف آئی اےسائبر کرائم ونگ ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے موجود ہے۔ایف آئی اے کو ویڈیو لیک کے حوالہ سے درخواست دی جا سکتی ہے. تھوڑی سی احتیاط اور سمجھداری بڑے نقصانات سے بچا سکتی ہے۔ یاد رکھیں، انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز کسی نہ کسی وقت لیک ہو سکتی ہے، اس لیے اپنی ذاتی معلومات کو ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کریں،آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • شور  سے دور، خاموشی کی تبدیلی کی طاقت

    شور سے دور، خاموشی کی تبدیلی کی طاقت

    ایک ایسی دنیا میں جہاں آوازوں کا غلبہ ہو، خاموشی ایک طاقتور زبان کے طور پر ابھرتی ہے جو الفاظ سے ماورا ہے۔ یہ ایک ایسی موجودگی ہے جو توجہ طلب کرتی ہے، نہ کہ خلا کو بھرنے کے لئے، خاموشی اپنی جگہ لمحہ بہ لمحہ ، زبانی بیان کرنے کی خواہش سے بے نیاز موجود ہے

    زندگی کی ہنگامہ خیز آوازوں کے درمیان، خاموشی ایک نظرانداز کردہ خزانہ بن جاتی ہے۔ پھر بھی، اہم لمحات میں، یہ سب سے زیادہ فصیح جواب کے طور پر ابھرتی ہے۔ خاموشی کی اہمیت انسانی تجربے کے وسیع جذباتی منظرنامے کی عکاسی کرتے ہوئے شخص سے شخص تک بدلتی رہتی ہے،یہ پراسرار زبان سکون، تسلی اور غور و فکر کا ذریعہ ہے۔ یہ آنسو بہنے، خیالات کھلنے، اور جذبات سامنے آنے کی اجازت دیتی ہے۔ خاموشی ایسے پیغامات پہنچا سکتی ہے جو الفاظ نہیں پہنچا سکتے، گہری سوچ کو جنم دیتے ہیں اور ارد گرد کے شور و غل کے خلاف ایک خاموش احتجاج کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    ہمیں اکثر "آواز اٹھانے” کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن جب زندگی کی ہنگامہ خیزی الفاظ کو بے معنی کر دیتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟ ان لمحات میں، خاموشی گرجدار طریقے سے وہ بات بیان کرتی ہے جو الفاظ نہیں کر سکتے۔ یہ ایک پناہ گاہ بن جاتی ہے جہاں خیالات اور جذبات لسانی حدود سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

    خاموشی ایک طاقتور اعلان ہے، جو انسانی جذبات کی پیچیدگی کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ مانتی ہے کہ کبھی کبھار، الفاظ ناکافی ہوتے ہیں۔ خاموشی کو اپنانے سے، ہم اپنے آپ کو یہ مواقع فراہم کرتے ہیں،
    خاموشی میں سکون کو تلاش کریں
    وہ بیان کریں جو الفاظ نہیں کر سکتے
    شور کے خلاف احتجاج کریں
    ان کہی خوبصورتی کو دریافت کریں
    ایک ایسی دنیا میں جو اکثر زبانی اظہار کو ترجیح دیتی ہے، خاموشی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے گہرے بیانات بے الفاظ ہو سکتے ہیں۔ اس کی تنوع اور گہرائی ہمیں ان کہی کی دولت کو دریافت کرنے اور خاموشی میں معنی تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

  • موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    موسمیاتی تغیر اور ہماری زراعت.تحریر:عقیل ملک

    ماحولیاتی تبدیلی کے زراعت خصوصاً گندم کی پیداوار پر اثرات کے حوالے سے کئی عالمی اداروں اور تحقیقاتی رپورٹس نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (IFPRI) کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا زرعی پیداوار پر نہایت منفی اثر پڑ رہا ہے۔ FAO کی 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر گندم کی پیداوار میں کمی کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں اور ان سے وابستہ غیر متوقع موسمی حالات ہیں۔ اسی طرح ورلڈ بینک کی رپورٹ "کلائمیٹ چینج اینڈ ایگری کلچر” میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ اگر ان موسمی تبدیلیوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے سالوں میں گندم اور دیگر زرعی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کمی کا سب سے زیادہ اثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر ہوگا جہاں زراعت مقامی معیشت اور غذائی سکیورٹی کا بنیادی ستون ہے۔

    انٹرگورنمنٹل پینل آن کلمیٹ چینج (IPCC) کی 2019 کی ایک رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں جنوبی ایشیا جیسے علاقوں میں گندم کی پیداوار میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سیلسیس اضافے سے گندم کی پیداوار میں تقریباً 6 فیصد کمی کا امکان ہوتا ہے ۔ اس سال پاکستان میں سموگ اپنے وقت سے پہلے کئی علاقوں کا متاثر کر رہی ہے اور اس کے اثرات بھی سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔ وقت پر بارشیں نہ ہونے کے سبب پانی کی کمی آج کے دور کا ایک انتہائی سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور یہ مسئلہ خاص طور پر گندم پیدا کرنے والے علاقوں میں شدت اختیار کر رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور پانی کے غیر مؤثر استعمال کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے جس سے آبپاشی کے وسائل سکڑتے جا رہے ہیں۔ پانی کی قلت کے سبب پاکستان جیسے زرعی ملک میں فصل کی پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کا ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس میں زور دیا گیا ہے کہ پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید آبپاشی کی تکنیکیں اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ لیکن ابھی تک تو پاکستان میں ڈرپ ایریگیشن اور اسپرنکلر سسٹم جیسی تکنیکیں کو مکمل طور پر پاکستان میں متعارف ہی نہیں کرایا جاسکا۔ پاکستان نے 2017 میں یہ سسٹم 26000 ایکڑ پر انسٹال کیا تھا جس کی وجہ سے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں ساوتھ افریقہ اور چائنہ نے اس سسٹم کے ذریعے پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ FAO کے مطابق ڈرپ ایریگیشن سسٹم میں پانی کی بچت روایتی آبپاشی کے مقابلے میں تقریباً 30 سے 50 فیصد زیادہ ہوتی ہے جس سے نہ صرف پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ پیداوار میں بھی بہتری آتی ہے۔ انٹرنیشنل واٹر مینیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) نے بھی اپنی تحقیق میں نشاندہی کی کہ اگر پانی کی بچت کے لئے جدید طریقے استعمال نہ کیے گئے تو گندم سمیت دیگر زرعی پیداوار پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پانی کی بچت کے لیے مؤثر حکمت عملی، جیسے پانی کی دوبارہ کارآمدی اور زمین کی نمی کو برقرار رکھنے کے طریقے اپنانے سے نہ صرف پیداوار میں استحکام لایا جا سکتا ہے بلکہ پانی کی قلت کے مسئلے کو بھی حل کیا جا سکتا ہے۔

    ایک اور مسئلے نےبھی کاشت کاروں کو پریشان کر رکھا ہے کہ افراطِ زر اور شرح سود میں اضافے کے باعث پاکستان میں بیج، کھاد اور کیڑے مار دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس سے چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ زرعی اخراجات میںیہ اضافے نے نہ صرف پیداوار کی لاگت کو بڑھا رہا ہے بلکہ پیداوار کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ محدود مالی وسائل رکھنے والے چھوٹے کسانوں کے لئے یہ اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے اور گندم کی طلب کو پورا کرنے کے لئے گزشتہ برسوں کی نسبت پاکستان کے زر مبادلہ کا بیشتر حصہ دوسرے ممالک سے گندم کی خریداری پر خرچ کرنا پڑے گا۔

    FAO کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں 70 فیصد کسان چھوٹے کسانوں کی کٹیگری میں آتے ہیں جنہیں جدید زرعی وسائل تک رسائی حاصل نہیں۔ پاکستان میں زراعت، خاص طور پر گندم کی پیداوار، حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور زرعی اخراجات میں اضافے جیسے مسائل کے باوجود حکومت کی طرف سے مؤثر مدد اور مالی امداد فراہم نہیں کی جا رہی جس سے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) اور ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور سبسڈی کی کمی نے کسانوں کی پیداواری صلاحیت کو محدود کردیا ہے۔ کسانوں کو مالی مدد سبسڈی اور جدید زرعی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بہتر مقابلہ کر سکیں اور ملک میں غذائی خود کفالت کو یقینی بنا سکیں۔پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئےحکومت نے سولر انرجی پر ٹیوب ویل چلانے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا جو ایک اچھا اقدام ہے مگر اس پروگرام کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے فوائد زیادہ تر بڑے کسانوں تک محدود ہیں۔ یہ کسان پہلے سے مالی طور پر مضبوط ہیں اور ٹیوب ویل کے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس چھوٹے کسان جو زراعت کے شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اس پروگرام سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس پروگرام میں چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کرنا ایک امتیازی سلوک ہے جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ زرعی ترقی کے لیے پالیسیاں صرف بڑے زرعی سرمایہ داروں کے مفاد میں بنائی جا رہی ہیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے اس پروگرام تک رسائی دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر چھوٹے کسانوں کو نظر انداز کیا جائے گا تو زرعی ترقی کا خواب کبھی حقیقت نہیں بنے گا

  • پنجاب میں سموگ،اس کا سبب اور حل

    پنجاب میں سموگ،اس کا سبب اور حل

    صوبہ پنجاب میں سموگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو ہر سال موسم خزاں میں شدت اختیار کرتا ہے۔ لاہور اور دیگر بڑے شہر اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں، جہاں اس کا اثر نہ صرف ماحولیاتی آلودگی پر پڑتا ہے بلکہ عوامی صحت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سموگ کا اصل سبب کیا ہے اور اس کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

    سموگ ایک قسم کی فضائی آلودگی ہے جو عام طور پر دھند اور مضر مادوں کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ پنجاب میں سموگ کی سب سے بڑی وجہ مختلف عوامل ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں

    ٹریفک کا زیادہ رش
    لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، جو سموگ کا باعث بنتا ہے۔

    کھیتوں کی جلانے کی وجہ سے
    فصلوں کی باقیات کو جلانے کی عادت بھی سموگ کے پھیلنے کا ایک اہم سبب ہے۔ کھیتوں کے قریب رہنے والے کسانوں کے لئے فصلوں کو جلانا آسان طریقہ لگتا ہے، لیکن اس سے بے شمار زہریلے مادے فضاء میں پھیل جاتے ہیں۔

    صنعتوں کا دھواں
    لاہور اور اس کے اطراف میں کئی صنعتیں اور کارخانے ہیں جو دھوئیں کا اخراج کرتے ہیں۔ یہ دھواں بھی سموگ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

    موسمی تبدیلیاں
    پنجاب میں سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت کی کمی اور ہوا کی رفتار میں کمی سموگ کو پھیلنے میں مدد دیتی ہے۔ سردیوں میں ہوا نیچے کی طرف رہتی ہے، جو کہ آلودہ ہوا کو زمین کے قریب روک کر سموگ کی صورت میں جمع ہونے کا باعث بنتی ہے۔

    سموگ کے اثرات
    سموگ کا اثر صرف فضائی آلودگی تک محدود نہیں ہے۔ اس کے کئی سنگین نتائج ہیں، سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریاں، گلے کی بیماریوں اور آنکھوں میں جلن جیسی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ یہ بچوں اور بزرگوں کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔سموگ کی وجہ سے دھند میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے روڈ حادثات اور ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہیں۔ یہ دیکھنے کی صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھاتا ہے۔موگ کے اثرات قدرتی ماحول پر بھی پڑتے ہیں۔ یہ زمین کے درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے اور ماحولیاتی توازن میں خلل ڈالتا ہے۔

    سموگ کے حل کے لئے اقدامات
    سموگ کا مسئلہ پیچیدہ ضرور ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے کئی موثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں،حکومت کو کسانوں کو متبادل طریقے فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کی بجائے انہیں مختلف طریقوں سے تلف کریں۔ حکومت کو ان کسانوں کے لئے مالی مراعات یا ٹیکنالوجی فراہم کرنی چاہئے تاکہ وہ بہتر طریقے اختیار کر سکیں۔زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ سروسز شروع کر کے نجی گاڑیوں کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف سموگ کو کم کرے گا بلکہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔صنعتوں کو معیاری فلٹرز لگانے اور آلودگی کو کم کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو سخت قوانین بنانا ہوں گے تاکہ آلودہ فضاء میں مزید اضافہ نہ ہو۔درخت ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت کو شہروں میں زیادہ درخت لگانے کی مہم چلانی چاہیے تاکہ وہ آلودہ ہوا کو جذب کر سکیں۔عوام کو سموگ کے خطرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ آگاہی اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔

    سموگ کا مسئلہ ایک سنگین چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت، صنعتوں، کسانوں اور عوامی سطح پر مشترکہ کوششیں ہی اس مسئلے کو حل کرنے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر ہم آج سے ہی اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیں، تو مستقبل میں پنجاب کا ماحول زیادہ صاف اور صحت مند ہو سکتا ہے۔