Baaghi TV

Category: متفرق

  • پنجاب میں سموگ،اس کا سبب اور حل

    پنجاب میں سموگ،اس کا سبب اور حل

    صوبہ پنجاب میں سموگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو ہر سال موسم خزاں میں شدت اختیار کرتا ہے۔ لاہور اور دیگر بڑے شہر اس کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں، جہاں اس کا اثر نہ صرف ماحولیاتی آلودگی پر پڑتا ہے بلکہ عوامی صحت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سموگ کا اصل سبب کیا ہے اور اس کا حل کیا ہو سکتا ہے؟

    سموگ ایک قسم کی فضائی آلودگی ہے جو عام طور پر دھند اور مضر مادوں کے ملاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ پنجاب میں سموگ کی سب سے بڑی وجہ مختلف عوامل ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں

    ٹریفک کا زیادہ رش
    لاہور، فیصل آباد اور دیگر بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے، جو سموگ کا باعث بنتا ہے۔

    کھیتوں کی جلانے کی وجہ سے
    فصلوں کی باقیات کو جلانے کی عادت بھی سموگ کے پھیلنے کا ایک اہم سبب ہے۔ کھیتوں کے قریب رہنے والے کسانوں کے لئے فصلوں کو جلانا آسان طریقہ لگتا ہے، لیکن اس سے بے شمار زہریلے مادے فضاء میں پھیل جاتے ہیں۔

    صنعتوں کا دھواں
    لاہور اور اس کے اطراف میں کئی صنعتیں اور کارخانے ہیں جو دھوئیں کا اخراج کرتے ہیں۔ یہ دھواں بھی سموگ میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

    موسمی تبدیلیاں
    پنجاب میں سردیوں کے موسم میں درجہ حرارت کی کمی اور ہوا کی رفتار میں کمی سموگ کو پھیلنے میں مدد دیتی ہے۔ سردیوں میں ہوا نیچے کی طرف رہتی ہے، جو کہ آلودہ ہوا کو زمین کے قریب روک کر سموگ کی صورت میں جمع ہونے کا باعث بنتی ہے۔

    سموگ کے اثرات
    سموگ کا اثر صرف فضائی آلودگی تک محدود نہیں ہے۔ اس کے کئی سنگین نتائج ہیں، سموگ کی وجہ سے سانس کی بیماریاں، گلے کی بیماریوں اور آنکھوں میں جلن جیسی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ یہ بچوں اور بزرگوں کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔سموگ کی وجہ سے دھند میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے روڈ حادثات اور ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہیں۔ یہ دیکھنے کی صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھاتا ہے۔موگ کے اثرات قدرتی ماحول پر بھی پڑتے ہیں۔ یہ زمین کے درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے اور ماحولیاتی توازن میں خلل ڈالتا ہے۔

    سموگ کے حل کے لئے اقدامات
    سموگ کا مسئلہ پیچیدہ ضرور ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے کئی موثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں،حکومت کو کسانوں کو متبادل طریقے فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کی بجائے انہیں مختلف طریقوں سے تلف کریں۔ حکومت کو ان کسانوں کے لئے مالی مراعات یا ٹیکنالوجی فراہم کرنی چاہئے تاکہ وہ بہتر طریقے اختیار کر سکیں۔زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ سروسز شروع کر کے نجی گاڑیوں کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف سموگ کو کم کرے گا بلکہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔صنعتوں کو معیاری فلٹرز لگانے اور آلودگی کو کم کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو سخت قوانین بنانا ہوں گے تاکہ آلودہ فضاء میں مزید اضافہ نہ ہو۔درخت ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت کو شہروں میں زیادہ درخت لگانے کی مہم چلانی چاہیے تاکہ وہ آلودہ ہوا کو جذب کر سکیں۔عوام کو سموگ کے خطرات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ آگاہی اسکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔

    سموگ کا مسئلہ ایک سنگین چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت، صنعتوں، کسانوں اور عوامی سطح پر مشترکہ کوششیں ہی اس مسئلے کو حل کرنے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر ہم آج سے ہی اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیں، تو مستقبل میں پنجاب کا ماحول زیادہ صاف اور صحت مند ہو سکتا ہے۔

  • مہربانی کا عالمی دن: دنیا کو بہتر بنانے کی ایک چھوٹی سی کوشش

    مہربانی کا عالمی دن: دنیا کو بہتر بنانے کی ایک چھوٹی سی کوشش

    دنیا میں جہاں ہر طرف مصروفیت اور مقابلہ بازی کا دور دورہ ہے، وہیں مہربانی اور انسانیت کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر سال 13 نومبر کو "مہربانی کا عالمی دن” منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں دوسروں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور مدد کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔

    مہربانی کا مطلب صرف کسی کو مالی طور پر مدد دینا یا کسی کی مشکل وقت میں مدد کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسانوں کے درمیان محبت، احترام اور دوستی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ مہربانی کسی بھی چھوٹے یا بڑے عمل کی صورت میں ہو سکتی ہے، جیسے کسی کی مدد کرنا، کسی کو مسکراہٹ دینا، کسی کے درد میں شریک ہونا، یا بس کسی کے لیے اچھے الفاظ کہنا۔ مہربانی کے عالمی دن کا مقصد دنیا بھر میں انسانوں کے درمیان حسن سلوک، محبت اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرتی رویوں کو بہتر بنائیں، ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہیں۔ اس دن کو منانے سے نہ صرف فرد کی زندگی میں خوشی آتی ہے، بلکہ پورے معاشرتی نظام میں محبت اور امن کی فضا بھی قائم ہوتی ہے۔

    مہربانی کے فوائد
    مہربانی صرف دوسروں کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمارے اپنے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں یا کسی کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ہیں، تو ہمیں ذہنی سکون ملتا ہے اور دل کو خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ مہربانی ہمارے اندر سے خود غرضی اور غصے کو کم کرتی ہے، اور ہمیں خوشی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ہمارے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بناتی ہے، اور ہم سب مل کر ایک بہتر معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں کئی ایسے چھوٹے بڑے اقدامات ہیں جن سے مہربانی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ کئی انسانیت دوست ادارے اور تنظیمیں لوگوں کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے لوگ روزانہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں جیسے کسی کو بس کی سیٹ دینا، کسی کو خوش دیکھ کر اس سے بات کرنا، یا بس ایک اچھا لفظ کہنا۔پاکستان میں بھی مہربانی کے بہت سے ایسے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں جہاں لوگ اپنے وسائل اور وقت کو دوسروں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ہر سال نیکی کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں کو لوگوں کی زندگیوں میں پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ معاشرتی برائیوں کو کم کیا جا سکے اور مہربانی کے پیغام کو عام کیا جا سکے۔

    ہم کس طرح مہربانی کے عالمی دن کو منا سکتے ہیں؟
    مہربانی کے عالمی دن کو منانے کے لیے ہمیں یہ ضروری نہیں کہ کوئی بڑا اقدام کریں، بلکہ چھوٹے چھوٹے کام بھی ایک بڑے فرق کا سبب بن سکتے ہیں:
    دوسروں کی مدد کریں: کسی بھی فرد کی مدد کرنا، چاہے وہ کسی کی مالی مدد ہو یا اس کی ذہنی حمایت، بہت بڑی مہربانی ہے۔
    مسکراہٹ بانٹیں: کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا نہ صرف آپ کو خوشی دے گا بلکہ اس شخص کے دن کو بھی روشن کر دے گا۔
    اچھے الفاظ استعمال کریں: کسی کی تعریف کرنا، اس کی محنت کی قدر کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا، سب مہربانی کے چھوٹے لیکن موثر طریقے ہیں۔
    خود کو بہتر بنائیں: اپنے اندر مہربانی کے جذبات پیدا کرنا اور ان پر عمل کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔
    مفاد عامہ کے منصوبوں میں حصہ لیں: اگر آپ کے اردگرد کوئی کمیونٹی پروگرام یا خیرات کے منصوبے چل رہے ہوں، تو ان میں حصہ لیں اور دوسروں کی زندگی میں بہتر تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔

    مہربانی ایک ایسی زبان ہے جو سب لوگ سمجھ سکتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی زبان یا ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں۔ "مہربانی کے عالمی دن” کو مناتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں چھوٹے چھوٹے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اچھا انسان بننے کے لیے ہمیں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور مہربانی سے پیش آنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ رویہ ہے جو ہمیں اپنے اندر کی انسانیت کو پہچاننے اور دنیا کو ایک خوبصورت جگہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔

    آئیے! ہم سب مل کر اس دن کو منائیں اور دنیا میں محبت اور مہربانی کے پیغام کو پھیلائیں۔

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • دنیا کی نظریں ٹرمپ پر،کیا جنگ بندیاں ہو پائیں گی؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا کی نظریں ٹرمپ پر،کیا جنگ بندیاں ہو پائیں گی؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    آنے والے چند مہینوں میں عالمی دنیا کو امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کی پالیسی کا علم ہو گا کہ وہ دنیا اور بالخصوص یورپی ممالک کے لئے کیا پالیسی دیتے ہیں ،صدارتی اُمیدوار ٹرمپ کے بیانات اور امریکی صدر ٹرمپ کا کیا موقف ہوگا؟ عالمی دنیا اپنی گھڑی کی طرف دیکھ رہی ہے ۔ یہ ٹرمپ کی طاقت کاعکس ہے یا اس ملک امریکہ کی طاقت کا شاید دونوں کی طاقت کا ۔ دنیا وائٹ ہائوس کے نئے مکین کی طرف دیکھ رہی ہے کہ نیا مکین اُن کے لئے کیسا رہے گا؟انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے میں بچ گیا ،رقص کیا ،سرخ ٹائی سے خون صاف کیا اور انتخابی مہم جاری رکھی اور امریکی عوام نے بھاری اکثریت سے کامیاب کروایا۔ ٹرمپ دنیا کے معاشی سلامتی اور دیگر مسائل بحرانوں کو حل کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ روس یو کرین جنگ جبکہ اسرائیل، فلسطین ، ایران اور لبنان جنگ کا ہے۔ غزہ خون کی ایک جھیل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ غزہ ملبے لاشوں اور بے گھر لوگوں سے بھرا ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس میں داخل ہونے والا نیا مکین مشرق وسطٰی میں جاری قتل عام کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے ؟ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا میں جہاں جہاں بھی جنگ ہے یا جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں جنگ بندی تک پہنچنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

    دنیا میں جہاں جہاں جنگ ہے ایک مضبوط امریکی کردار کی ضرورت ہے۔ ان تمام بڑی بڑی مشکلات کو اگر مد نظر رکھا جائے توکیا امریکی صدر ٹرمپ اور اُن کی انتظامیہ کو پاکستان کی کسی سیاسی جماعت یا کسی فرد واحد کی فکر لاحق ہو سکتی ہے ؟ہمارے سیاستدانوں ، مشیروں ، بیورو کریسی ، بیورو کریٹ کی عوام دوستی اور تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر بات کرنا ایک خواب بن چکا ہے۔ سفارتی سطح پر دنیا کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے اس کا براہ راست تعلق خطہ اور عالمی سیاست کے استحکام کے ساتھ جڑا ہے۔ پاک فوج اور جملہ اداروں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے قربانیاں دی اور دے رہی ہیں جبکہ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں.

  • ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے  حکمت عملی کی ضرورت

    ٹرمپ کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے حکمت عملی کی ضرورت

    ذرائع کے مطابق،نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے یوکرین کے تنازعے پر بات کی ہے اور پیوٹن سے اس صورتحال کے مزید بڑھنے سے بچنے کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ میں امریکہ کی فوجی موجودگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ امریکی اثرورسوخ اس خطے میں موجود ہے۔

    میدان جنگ میں روس کی افواج یوکرین کے مغربی "کرسک” علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہیں، جہاں تقریباً 50,000 روسی فوجی اُس علاقے کو دوبارہ قبضے میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں جو اگست سے روس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق روس کی سست مگر مسلسل پیش قدمی مشرقی یوکرین میں جاری ہے، جہاں اُس کی فوجیں ڈونباس کے صنعتی علاقے پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے گاؤں گاؤں فتح حاصل کر رہی ہیں۔

    اس جنگ کے اقتصادی اثرات یوکرین اور روس تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کا عالمی تجارت اور خوراک کی سکیورٹی پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ وہ ممالک جو روس اور یوکرین پر انحصار کرتے ہیں، جیسا کہ ایندھن اور اناج کی فراہمی کے لیے، انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ حالانکہ امریکہ ان ممالک پر کم انحصار کرتا ہے، لیکن دوسرے ممالک پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہیٹی میں جنگ کے آغاز کے بعد ایندھن کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئیں، اور پہلے سے ہی معاشی طور پر کمزور ممالک جیسے یمن، ایتھوپیا اور صومالیہ خوراک کی کمی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

    امریکہ میں، جنگ کی وجہ سے مہنگائی میں جو اضافہ ہوا ہے، اس کا اثر ان صنعتوں پر پڑا ہے جو سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم مواد پر انحصار کرتی ہیں۔ موڈی اینالٹکس کے چیف اکنامسٹ مارک زانڈی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے امریکہ کی افراط زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا ہے (مئی 2021 سے مئی 2022 تک)۔ اس صورتحال کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو نے شرح سود بڑھا دی، جو اب بھی بلند سطح پر ہے اور امریکی کاروباروں اور صارفین پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    یوکرین کی جنگ کا عالمی سطح پر اثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید معیشتیں آپس میں کس قدر جڑی ہوئی ہیں اور عالمی سپلائی چینز کی نزاکت کتنی اہم ہے۔ آج کے دور میں مقامی جنگوں کے بھی عالمی سطح پر دور رس نتائج ہو سکتے ہیں، جو کئی ممالک کی استحکام کے لیے ضروری وسائل جیسے بنیادی اشیاء اور ہائی ٹیک اجزاء کو متاثر کرتے ہیں۔ امریکہ کے لیے، مہنگائی، سیمی کنڈکٹر کی کمی اور عالمی سطح پر خوراک کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنا ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ٹرمپ کی ممکنہ حکمت عملی، خصوصاً روس پر سفارتی دباؤ ڈالنے اور متاثرہ علاقوں کو اقتصادی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے، دنیا بھر میں اس بحران کے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے بہت دھیان سے دیکھی جائے گی،ٹرمپ کے دوسری بار انتخابات جیتنے کے بعد اس وقت پوری دنیا کی نظریں امریکہ اور اس کے عالمی کردار پر مرکوز ہیں۔

  • آنسو کیوں نہیں آتے؟

    آنسو کیوں نہیں آتے؟

    کچھ لوگوں کے لیے، زندگی کا ساتھی ملنا ایک تحفہ محسوس ہوتا ہے، ایک ایسا رشتہ جو زندگی کو مکمل بناتا ہے۔ لیکن جب زندگی ناقابل برداشت چیلنجز پیش کرتی ہے، تو یہ گہرے رشتہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ بن جاتے ہیں۔ ابتدا میں غم دل و دماغ کو مکمل طور پر گھیر لیتا ہے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، یہ آہستہ آہستہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اپنی موجودگی کو خاموش اور باریک انداز میں ہمارے زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔ ہم خود کو بدل لیتے ہیں، ہمارا دماغ، ہمارا دل اور ہم سیکھتے ہیں کہ غم کو نئے طریقے سے جھیلنا ہے۔ لیکن غم کبھی ختم نہیں ہوتا؛ وہ بدلتا ہے۔

    لیکن اس تبدیلی کے بعد کچھ اور بھی ہوتا ہے، ایک ایسا ادھورا، بے امید درد جو کسی بھی مستقبل کی امید کو دھندلا دیتا ہے۔ آپ کوشش کرتے ہیں، واقعی کرتے ہیں۔ آپ خود کو دوبارہ زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں: باہر جانا، لوگوں سے ملنا، خوشی کی تلاش کرنا۔ آپ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، سماجی سرگرمیوں سے لے کر سکون کے لمحوں تک، کچھ بھی جو خوشی دوبارہ پیدا کر سکے۔ لیکن پھر بھی، وہ "منجمد آنسو” آپ کے سینے میں پتھر کی طرح پڑے رہتے ہیں، سب کچھ سن کر دیتے ہیں، ہنسی کے گرم احساس کو چھین لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ بہت ضروری چیز آپ سے چھین لی گئی ہو، ایک ایسا حصہ جو کوئی بھی کوشش واپس نہیں لا سکتی۔

    یہ صرف طویل غم نہیں ہے۔ یہ اس کے بعد کا غم ہے— وہ غم جب آپ یہ سمجھتے ہیں کہ نقصان کے بعد زندگی تبدیل ہو گئی ہے، خالی ہو گئی ہے۔ مسلسل خالی پن ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ خود سے، دوسروں سے اور دنیا سے کٹ گئے ہوں۔ یہ سنسانی آپ کی توانائی کو چوس لیتی ہے اور معمولی کاموں کو بھی مشکل بنا دیتی ہے، آپ اپنے وجود سے سوال کرنے لگتے ہیں۔ کبھی کبھار، یہ خلا تھکا دینے والی زندگی کی حالات کی وجہ سے آتا ہے، اور ایسا لگتا ہے جیسے آپ خود سے بہت دور جا چکے ہوں، اور اب آپ اپنے آپ کو دوبارہ مکمل طور پر جڑنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

    کیا اس کا کوئی حل نہیں؟

  • شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    شاعر مشرق اور آج کا نوجوان.تحریر:ریحانہ جدون

    علامہ اقبال، جنہیں "شاعر مشرق” کے لقب سے نوازا گیا، نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ایک فلاسفر اور مفکر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں ایک ایسی گہری بصیرت اور دلوں کو متحرک کرنے والی قوت تھی جو آج بھی نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔ ان کا پیغام ہمیشہ سے یہی رہا کہ انسان کو اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے اور اپنی تقدیر خود لکھنی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کا نوجوان اقبال کے پیغام کو سمجھتا ہے اور ان کی شاعری کو اپنے معاشرتی، سیاسی اور ذاتی زندگی میں کس طرح ڈھالتا ہے؟

    علامہ اقبال کی شاعری میں جو جوش اور جذبہ تھا، وہ آج بھی نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی خزانہ ہے۔ اقبال نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو اپنے عزم و ارادے کو مضبوط کرنا چاہیے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے محنت کرنی چاہیے۔ ان کی مشہور نظم "خُدی کو کر بلند اتنا” اسی پیغام کا عکاس ہے۔آج کا نوجوان اگرچہ اپنے دور کے مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے پاس وسائل اور مواقع بھی بے شمار ہیں۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اور جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لئے نئے دروازے کھولے ہیں، لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ، اگر اس نوجوان کی شخصیت میں اقبال کی طرح کی بلندی نہ ہو، تو وہ ان وسائل کا صحیح استعمال نہیں کر پائے گا۔

    اقبال نے ہمیشہ "خودی” کے تصور پر زور دیا۔ ان کے نزدیک "خودی” انسان کی اندرونی طاقت ہے، جو اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی جرات اور حوصلہ دیتی ہے۔ آج کے نوجوانوں میں یہ خودی کی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ معاشرتی دباؤ، مقابلہ بازی، اور خود کو ثابت کرنے کی خواہش کی وجہ سے نوجوان اکثر اپنے حقیقی مقصد سے بھٹک جاتے ہیں۔اقبال کا پیغام تھا کہ انسان جب تک اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا، اس کی زندگی کا مقصد بھی غیر واضح رہے گا۔ وہ ہمیشہ اپنی شاعری میں اس بات پر زور دیتے رہے کہ انسان کو اپنی تقدیر کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے اور اپنے اندر کی قوت کو پہچان کر اسے دنیا میں نمایاں کرنا چاہیے۔

    آج کا نوجوان اقبال کی شاعری کو کسی حد تک سمجھتا ہے، مگر اس کے لئے ان کے پیغام کو عملی زندگی میں لانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اقبال کا خواب تھا کہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت ایک نئی تحریک پیدا کرے، لیکن کیا آج کے نوجوان ان خیالات کو حقیقت کا روپ دے پا رہے ہیں؟ یہ سوال بہت اہم ہے۔آج کا نوجوان کئی مرتبہ معاشرتی دباؤ، تعلیم، روزگار، اور ذاتی مسائل کے شکار ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اقبال کی "خودی” کا پیغام اور اس کے مطابق اپنی تقدیر خود بنانے کا نظریہ ایک ترغیب فراہم کر سکتا ہے۔ اقبال کی شاعری نوجوانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کامیابی صرف محنت اور عزم سے آتی ہے، اور اگر انسان خودی کو بلند کرنے میں کامیاب ہو جائے تو دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے روکھ نہیں سکتی۔

    اقبال کی شاعری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر نوجوان کو اپنے اندر جھانک کر اپنی کمزوریوں کو پہچاننا چاہیے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آج کے دور میں جہاں فنی، سائنسی اور فکری جدتیں آ رہی ہیں، وہیں نوجوانوں کو اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ان نئی تبدیلیوں کو اپنانا ضروری ہے۔ اس میں اقبال کی شاعری ایک رہنمائی کا کام کر سکتی ہے۔

    آج کے نوجوان کے لئے اقبال کا پیغام واضح ہے:
    "خُدی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خُدا بندے سے خود پُوچھے، بتا، تیری رضا کیا ہے؟”

    شاعر مشرق، علامہ اقبال کی شاعری نہ صرف ایک عہد کا آئینہ ہے، بلکہ آج کے نوجوانوں کے لئے ایک قیمتی ہدایت ہے۔ اگر ہم اقبال کی تعلیمات پر عمل کریں، تو نہ صرف اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک بہتر معاشرتی اور سیاسی نظام کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہمیشہ نوجوانوں کے لئے یہ ہے کہ "خود پر یقین رکھو”، "محنت کرو”، اور "دنیا کو بدلنے کے لئے اپنے آپ کو بدلنا ضروری ہے”۔یاد رکھیں، اقبال کی شاعری آج بھی ہمارے لئے ایک روشن راہ دکھاتی ہے۔ اس راہ کو اختیار کر کے ہم اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی قوم اور اپنے ملک کو بھی فلاح کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • کیا آپ خود کو مکمل محسوس کرتے ہیں؟

    کیا آپ خود کو مکمل محسوس کرتے ہیں؟

    کیا آپ خود کو مکمل محسوس کرتے ہیں؟

    خود کو مکمل محسوس کرنا، اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور ایسی زندگی گزارنا ہے جو آپ کے مقصد کے مطابق ہو اور آپ کی حقیقت سے ہم آہنگ ہو۔ یہ سفر محض کامیابیوں یا دوسروں کی رضا کے پیچھے دوڑنا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر خوشی اور معنی تلاش کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ داخلی سفر آپ کے اعمال اور تجربات کو آپ کی ذاتی اقدار، خواہشات اور اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے بارے میں ہے۔

    خودی کو سمجھنا
    جب ہم یہ سمجھنا شروع کرتے ہیں کہ حقیقت میں ہم کون ہیں، تب ہم اپنی زندگی کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے اندرونی خیالات اور احساسات ہی ہمارے بیرونی اعمال کو شکل دیتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات اور خواہشات کو پہچانیں اور ان کے مطابق فیصلے کریں۔ اپنے آپ کو جاننا خودی کی اصل بنیاد ہے۔

    جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی تندرستی
    خود کو مکمل محسوس کرنے کے لیے جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی طور پر تندرست ہونا بہت ضروری ہے۔ جب ہم اپنی دیکھ بھال کرتے ہیں تو دوسروں کے لیے بھی ہم زیادہ بہتر طریقے سے حمایت اور محبت فراہم کر سکتے ہیں۔

    تعلقات کی اہمیت
    چونکہ انسان فطری طور پر سوشل (سماجی) ہے، اس لیے تعلقات اہمیت رکھتے ہیں۔ مگر ان تعلقات میں احتیاط بھی ضروری ہے۔ ایسے لوگوں سے دور رہیں جو آپ کی توانائی کو ختم کرتے ہیں، جو ہمیشہ منفی رویہ اپناتے ہیں یا آپ کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کی بجائے، اپنے ارد گرد ایسے افراد کو جمع کریں جو آپ کو متاثر کریں اور آپ کی حوصلہ افزائی کریں۔

    کام کی اہمیت
    ہماری زندگی میں کام ایک بڑا حصہ ہوتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم وہ کام کریں جو ہمارے جذبوں اور خواہشات کے مطابق ہو۔ اگر آپ اپنے کام سے بور ہو رہے ہیں یا آپ کو اطمینان نہیں مل رہا، تو یہ ایک اشارہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جب آپ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ آپ کیوں ناخوش ہیں، تو آپ اپنی پسندیدہ اور اہمیت رکھنے والی ملازمت کی طرف قدم بڑھا سکتے ہیں۔

    دوسروں پر اثر
    آخرکار، جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ دوسروں پر کیسے اثر ڈالتے ہیں، اگر آپ اپنی زندگی کو اس بات پر فوکس کرتے ہیں کہ آپ لوگوں پر کیا اثر چھوڑنا چاہتے ہیں اور آپ کو کس طرح یاد رکھا جائے گا، تو آپ کو زندگی کے اصل معنی واضح ہو جاتے ہیں۔ ہر دن خود کو بہترین صورت میں‌ڈھالنے کا ایک نیا موقع ہے چاہے آپ کہیں سے بھی آغاز کر رہے ہوں۔

  • امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکی انتخابات پر سب کی نظریں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ کے موجودہ انتخابات دنیا کی تقدیر کا تعین کریں گے سلامتی اور معیشت کے ساتھ ساتھ اُن ممالک کی تقدیر کا تعین کریں گے جو بد نظمی کا شکار ہیں ،نیا وائٹ ہائوس کا ماسٹر دنیا کی اعلیٰ معیشت اور دنیا کی جدید ترین اور طاقتور فوج رکھنے والا بحری بیڑوں سمندروں کو حرکت دینے والا نئے ماسٹر کا پلان کیا ہوگا؟یقینا وہ سب سے پہلے امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کرے گا۔ اقوام عالم امریکی انتخابات کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔ دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نیٹو کے انتظار میں ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم امریکی انتخابات کے نتائج کا شدت سے انتظار کررہے ہیں جبکہ روس کے صدر کو انتظار ہے ۔ روس اور یو کرین کی جنگ بندی کی چابی امریکہ کے ہی پاس ہے جبکہ مشرقی وسطیٰ کے رہنمائوں کی نظریں امریکی انتخابات کے نتائج پر لگی ہیں۔

    امریکہ کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ امریکہ سے نفرت کرتے ہیں یا محبت یا امریکہ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ دنیا کی سب سے طاقتور معیشت اور طاقتور فوج اور طاقتور بحریہ پر امریکہ فخر کرتا ہے ۔ امریکہ دنیا کے کئی ممالک کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ضمانتیں اور حل فراہم کرتا ہے۔ دنیا جنگوں اور تباہی سے بچنے کے لئے امریکہ کی طرف دیکھتی ہے ۔ کیا وائٹ ہائوس کے نئے ماسٹر امریکی داخلی سیاسی اور خارجہ پالیسی تبدیل ہو جائے گی جس سے امریکی عوام اوربین الاقوامی دنیا کو فائدہ ہوگا

  • میری زندگی کی شام

    میری زندگی کی شام

    میں نے سوچا تھا کہ جب مجھے وقت ملے گا تو میں زندگی کے ساتھ ایک دہائی کی لڑائی کا ازالہ معاشرتی سرگرمیوں کے ذریعے کروں گی، میں نے یاد کیا یا، کم از کم میں نے ایسا ہی سوچا۔ اب جب مجھے وقت مل گیا ہے توبے کار کی گفتگو کے لیے بات چیت کی کوئی خواہش نہیں ہے۔ اس کے بجائے، میں اپنی تنہائی کا لطف ان کتابوں کے ساتھ اٹھاتی ہوں جو میں پڑھنا چاہتی تھی، ان لکھاریوں کے ساتھ جنہیں میں پڑھنا چاہتی تھی۔

    میں نے موراکامی کو دریافت کیا، جاپانی مصنف جو اپنی کتاب "ناروے کا بھیڑیا” کے بعد ایک مظہر بن گئے۔ میں نے مارکیٹ میں دستیاب ان کی 7 کتابیں اٹھائیں۔یہ ایک خوبصورت چیز ہے کہ آپ کے بستر کا ایک حصہ کتابوں سے بھر جائے۔ رات کو ایک یا دو بجے اٹھ کر پڑھنا۔ دن کے ابتدائی گھنٹوں کی مکمل خاموشی،اور کسی قسم کا کوئی خلل نہ ہو

    زندگی مختلف راستوں پر لوگوں کے لیے مختلف موڑ لاتی ہے، جیسا کہ ہم اپنے اپنے راستوں پر چلتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے راستے میں گزرنے والے ذرات کی طرح ہیں، دوسروں سے ملنا صرف وقت کے طوفان میں کھو جانے کے لیے ہوتا ہے،ہمارے راستے کبھی بھی دوبارہ نہیں ملتے۔

    ہم اکثر اپنی دنیاوی کامیابیوں سے زیادہ نقصانات کا شکار ہوتے ہیں۔ یا کم از کم میں یہی سوچتی ہوں۔

    موروکامی کی کتاب کے کچھ الفاظ، جو میں نے ابھی ختم کی ہے، نے مجھے بار بار پڑھنے پر مجبور کر دیا، جو کہ بہت سچ ہیں: "تو اسی طرح ہم اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ چاہے نقصان کتنا ہی گہرا اور مہلک ہو، چاہے چیز کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو جو ہم سے چھینی گئی ہو، جو ہمارے ہاتھوں سے کھینچ لی گئی ہو،یہاں تک کہ اگر ہم بالکل بدل چکے لوگوں کی صورت میں رہ جاتے ہیں، صرف پہلے کی جلد کے ساتھ، ہم خاموشی میں اپنی زندگی اسی طرح گزارنے لگتے ہیں۔ ہم اپنے مقررہ وقت کے قریب تر آ جاتے ہیں، اسے الوداع کہتے ہوئے جیسے یہ پیچھے کی طرف چھوٹتا ہے۔”

    اہم یہ ہے کہ ہم اپنی خوشی یا اطمینان کا احساس کسی کے معیار سے نہیں بلکہ اپنے اپنے معیار سے کریں۔

  • عدلیہ تنازعات کی زد میں.تحریر:صفیہ چودھری

    عدلیہ تنازعات کی زد میں.تحریر:صفیہ چودھری

    پاکستان کی عدلیہ ان دنوں تنازعات کی زد میں ہے، خاص طور پر سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے حالیہ طرزِ عمل پر۔ ان ججز کی جانب سے عدالتی روایات اور غیر جانبداری کے اصولوں کے برخلاف رویے نے عوام میں عدلیہ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان کی حرکات اور بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ عدالتی اتحاد اور پروفیشنل اقدار کو اہمیت نہیں دے رہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ججز کو عدلیہ کی بھلائی کے لیے جلد ریٹائرمنٹ لینے پر غور نہیں کرنا چاہیے؟

    جسٹس منصور علی شاہ کا متنازع رویہ
    جسٹس منصور علی شاہ کا حالیہ طرز عمل ایک خاص پریشانی کا باعث ہے۔ ان کا سابق چیف جسٹسز، جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے الوداعی تقریبات میں شرکت نہ کرنا ایک حیرت انگیز اور اختلافی قدم ہے۔ ان تقریبات کی اہمیت محض روایتی نہیں بلکہ یہ عدلیہ میں احترام، تسلسل اور ہم آہنگی کی علامت ہوتی ہیں۔ کسی سینئر جج کا ان تقریبات میں شرکت سے گریز کرنا ان کے ادارے کے لیے احترام اور ہم آہنگی کے اصولوں کے خلاف ہے۔

    ایسی تقاریب عدلیہ کے اندر ایک دوسرے کے کام اور خدمات کا اعتراف کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں۔ جسٹس شاہ کا عدم شرکت کا فیصلہ ان کے خیالات اور ان کی ترجیحات پر ایک سوالیہ نشان ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ شاید وہ اپنے آپ کو عدالتی روایت سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ عدلیہ جیسے ادارے میں، جو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، یہ ضروری ہے کہ اس کے ممبران ہم آہنگی اور باہمی احترام کا مظاہرہ کریں۔

    جسٹس شاہ کا الزامی بیان اور اس کے اثرات
    اس سے بھی زیادہ تشویش ناک جسٹس منصور علی شاہ کا حالیہ عوامی بیان ہے، جس میں انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر عدلیہ میں انتشار پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ بظاہر یہ بیان ذاتی تعصب پر مبنی معلوم ہوتا ہے، نہ کہ کسی ٹھوس بنیاد پر۔ اس بیان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ اپنی عدم شرکت اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بظاہر سرد مہری کو چھپانے کے لیے دوسروں پر بلاوجہ تنقید کر رہے ہیں۔

    عوام کو توقع ہوتی ہے کہ ان کے اعلیٰ جج صاحبان سچائی اور وقار کا مظاہرہ کریں گے اور بلا تحقیق الزامات نہیں لگائیں گے۔ کسی جج کی جانب سے اس طرح کے الزامات ادارے کے وقار پر دھبہ ثابت ہوتے ہیں اور عوام میں عدلیہ کے وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ عوام عدلیہ سے غیر جانبداری اور اعلیٰ معیار کی توقع کرتے ہیں، نہ کہ ذاتی اختلافات کو پبلک فورمز پر لے جانے کا۔

    جسٹس منیب اختر پر سوالات
    دوسری جانب، جسٹس منیب اختر کا طرز عمل بھی مشکوک قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کی بعض سیاسی مفادات کے ساتھ وابستگی کی خبروں نے ان کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عدلیہ کے ممبران کو اپنے اصولوں اور عدالتی فیصلوں میں عدل و انصاف اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنا ضروری ہے، لیکن جسٹس منیب کے کچھ فیصلے اور ان کا سیاسی موضوعات میں جھکاؤ ان کے عہدے کی غیر جانبداری کے اصول کے منافی معلوم ہوتا ہے۔

    جب کسی جج کی طرف سے سیاسی جھکاؤ کا تاثر دیا جائے تو عدالتی عمل کی شفافیت مشکوک ہو جاتی ہے، اور عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یہ تاثر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ عدلیہ کے فیصلے شاید کسی خارجی اثر کے تحت لیے جا رہے ہیں، جو عدلیہ کے وقار اور غیر جانبداری کے اصول کو مجروح کرتا ہے۔

    عدلیہ کی ضرورت اور ان ججز کا کردار
    پاکستان کی عدلیہ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ بیرونی دباؤ اور عوامی جانچ کے اس دور میں یہ نہایت ضروری ہے کہ عدلیہ کے ججز پروفیشنلزم، غیر جانبداری، اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں۔ سینئر ججز، خاص طور پر جسٹس شاہ اور جسٹس اختر، جو ان اصولوں کی پاسداری نہیں کر سکتے، وہ نہ صرف ادارے بلکہ ان عوام کی بھی خدمت میں کوتاہی کر رہے ہیں جن کی وہ خدمت کا حلف اٹھاتے ہیں۔ ایسے میں ان ججز کو ایمانداری سے یہ سوال اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ کیا وہ اپنی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ اگر نہیں، تو ان کے لیے معززانہ انداز میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ زیادہ بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔

    عدلیہ کا وقار، غیر جانبداری اور باہمی احترام کی ضرورت
    عدلیہ کے وقار، غیر جانبداری اور احترام کے اصول محض اخلاقیات نہیں بلکہ عدلیہ کی طاقت کا بنیادی حصہ ہیں۔ عدلیہ کے سامنے ان اصولوں کی پاسداری ان مشکل وقتوں میں مزید ضروری ہو جاتی ہے۔ جسٹس شاہ اور جسٹس اختر کے اقدامات نے ان اصولوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے باعث عدلیہ کے لیے غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے کردار کو نبھانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ سینئر ججز عزت و وقار کے ساتھ خود ریٹائر ہو جائیں تو عدلیہ ایک نیا آغاز کر سکتی ہے جس سے اس کے غیر جانبداری اور انصاف کے اصولوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔

    وقت آ چکا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر سنجیدگی سے اس بات پر غور کریں کہ ان کی موجودگی اور ان کے اقدامات ادارے کے لیے کیسا پیغام دیتے ہیں۔ عدلیہ اس وقت مؤثر انداز میں کام نہیں کر سکتی جب اس کے ممبران خود ان اصولوں کو پامال کریں جن کی عدلیہ حفاظت کرنے کے لیے موجود ہے۔ اگر یہ سینئر ججز ادارے کے وقار، اتحاد، اور احترام کو ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں تو ان کا معززانہ انداز میں ریٹائرمنٹ کا فیصلہ ہی مناسب ہوگا۔

    یہ مشکل فیصلہ عدلیہ کے وقار، عوام کے اعتماد اور عدالتی نظام کے لیے ضروری ہے