Baaghi TV

Category: متفرق

  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    مغرب کی حکومتیں اور ان کے حکمران ۔۔۔۔انسانیت اور جمہوریت کے جھوٹے دعویدار اور علمبردار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ا ن سے بڑا انسانیت کا دشمن اس وقت روئے زمین پر کوئی نہیں ۔یہ وہ درندے ہیں جن کے منہ کو انسانوں کا اور خاص کر مسلمانوں کا خون لگا ہوا ہے ۔یہ درندے دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمانوں کا خون بہاتے رہتے ہیں اور اس خون سے اپنی پیاس بجھاتے رہتے ہیں جس کی تازہ اور بدترین مثال غزہ ہے جس پر اسرائیل کی جارحیت کا ایک سال مکمل ہوچکا ہے ۔ایک سال کا ایک ایک لمحہ غزہ کے مسلمانوں کیلئے قیامت بن کر گزرا ہے ۔ ایک سال میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جو غزہ کے مسلمانوں نے آرام اور سکون سے گزارا ہو اور کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں وہ چین کی نیند سوئے ہوں ۔

    واضح رہے کہ غزہ کی پٹی دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آ باد علاقہ تھا جو365 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ساحلی پٹی پر مشتمل 24 لاکھ افراد کا مسکن ہے، جہاں ایک مربع کلومیٹر رقبے میں ساڑھے پانچ ہزار افراد رہائش پذیر تھے ۔دنیا کا سب سے گنجان آباد یہ علاقہ اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسرائیل نے غزہ کی محدود جغرافیے کی حامل زیر محاصرہ گنجان آبادی پر جتنا بارود ایک سال کے دوران برسایا ، اس کی مثال دونوں عالمی جنگوں میں بھی نہیں ملتی ہے۔اسرائیل غزہ کی چھوٹی سی پٹی پر اب تک 85 ہزار ٹن سے بھی زیادہ بارود بموں کی شکل میں برسا چکا ہے۔ غزہ میں تاریخ انسانی کی بدترین تباہی ہوئی ہے جس کا اندازہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے طیاروں ، ٹینکوں اور توپوں نے بمباری سے جو تباہی مچائی ، رہائشی عمارتیں ، تعلیمی ادارے ، ہسپتال ، مساجد ، دکانیں اور مارکیٹیں جتنے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئی ہیں ان کا ملبہ اٹھانے پر 15 سال لگیں جائیں گے۔ جب کہ تباہ شدہ عمارتوں کی جگہ تعمیر نو پر 80 سال لگیں گے۔ آزاد ذرائع کے مطابق 2 لاکھ سے زائد فلسطینی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ زخموں سے چور ہیں، 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جو مکمل طور پر گھر سے بے گھر اور در سے بے در ہوچکے ہیں ۔ان بیچاروں کے پاس معمولی چھت اور کھانے پینے کا معمولی سامان بھی دستیاب نہیں ہے ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے ؟

    ’ہیومن رائٹس واچ‘ کی روپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں قائم انڈونیشیا ہسپتال، ترک ہسپتال اور القدس ہسپتال کو کئی بار نشانہ بنایا۔ ہر روز اوسطاً طبی عملے کے دو ارکان یا ڈاکٹروں کو موت کے گھاٹ اتارتاجاتا رہا ۔ اب تک کم سے کم 752 ڈاکٹر و طبی عملے کے ارکان قتل اور 782 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 128 زیر حراست ہیں۔اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے فراہم کردہ ڈیٹا اور اوپن سٹریٹ میپ کے جغرافیائی ڈیٹا بیس کے مطابق غزہ کی 80فیصد مساجد مکمل طور پر یا جزوی طور پر تباہ ہوچکی ہیں ۔سات اکتوبر 2023 سے 31 دسمبر 2023 کے دوران 117 مساجد بشمول تاریخی گرینڈ مسجد عمری اور دو گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہوئے۔ غزہ کے کل قابل کاشت رقبے کا 68 فیصد حصہ [102مربع کلومیٹر] اسرائیلی بمباری اور فوجی نقل وحرکت سے تباہ ہو چکا ہے۔ شمالی غزہ کی 78 فیصد زرعی زمین جبکہ رفح میں 57 فیصد زرعی رقبہ ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔اسرائیلی بمباری سے غزہ میں سڑکوں کا 68 فیصد ]119 کلومیٹر] نیٹ ورک تباہ ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیٹلائیٹ سینٹر کی جانب سے 18 اگست 2024 کو جاری کردہ ابتدائی ڈیٹا رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ ہونے والی شاہراؤں میں 415 کلومیٹر سڑکیں مکمل تباہ جبکہ 1440 کلومیٹر پر محیط سڑکیں جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں، ہسپتالوں کے محاصروں اور حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ہزاروں فلسطینیوں کو 200سے زائد اجتماعی قبروں میں پھینک چکی ہے۔غزہ جنگ کے دوران 173 صحافی بھی اسرائیلی فوج کی بمباری، ڈرون حملوں اور فائرنگ کا نشانہ بن کر زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔جبکہ لاتعداد صحافی پابند سلاسل ہیں ۔ غزہ میں سب سے بری حالت بچوں کی ہے ۔ بچے جو کہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ قوموں کی تعمیر وترقی اور نشوونما کا دارومدار بچوں پر ہوتا ہے ۔ جب کسی قوم کے بچے موت کے گھاٹ اتار دیے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ صہیونی اسی فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی درندے فلسطینی بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے اور جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ( یونیسیف ) کی رپورٹ انتہائی لرزہ خیز ، دلوں کو ہلادینے تڑپا دینے اور خون کے آنسو رولادینے والی ہے ۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کا کہنا ہے کہ یہ جنگ جو اسرائیل نے غزہ پر مسلط کررکھی ہے اس میں سب سے زیادہ نقصان بچوں کا ہورہا ہے ۔اس جنگ میں روزانہ ہی فلسطینی بچے اسرائیلی فوج کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ ایک سال کے دوران ہر روز تقریباََ 40 بچے شہید کیے گئے ہیں ۔ غزہ کا مختصر سا خطہ اپنے اندر موجود لاکھوں بچوں کے لئے گویا زمین پرجہنم بنادیا گیا ہے۔ صورت حال بہتر ہونے کی بجائے دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء کو اسرائیلی حملے کے بعد اب تک 14,100 سے زائد بچے موت کے گھاٹ اتارے جاچکے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ غزہ میں روزانہ 35 سے 40 کے درمیان بچے اور بچیاں شہید کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں لوگ مرنے کے بعد ملبے کے نیچے دب کر بھی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ جو لوگ روزانہ فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں میں بچ جاتے ہیں انہیں اکثر خوفناک حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بچوں کو بار بار تشدد اور بار بار انخلا کے احکامات سے بے گھر کیا جاتا ہے یہاں تک کہ محرومیت نے پورے غزہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بچے اور ان کے اہلخانہ کہاں جائیں؟ وہ سکولوں اور پناہ گاہوں میں محفوظ نہیں ہیں، وہ ہسپتالوں میں محفوظ نہیں ہیں اور زیادہ بھیڑ والے کیمپوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

    ایک طرف غزہ میں اسرائیل کی بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف دنیا کے نقشے پر57اسلامی ممالک موجود ہیں جو ہر قسم کے وسائل ،قدرتی ذخائر اور معدنیات سے مالال ہیں ۔57اسلامی ممالک کی ا فواج کی تعداد لاکھوں پر مشتمل ہے جو کہ ہر قسم کے جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے بلکہ ان میں پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک بھی شامل ہے اس کے باوجود غزہ کے مسلمان بے یارومددگار ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تمام اسلامی ممالک سے صرف سعودی عرب ہی قدمے دامے درمے سخنے فلسطینی بھائیوں کی مدد کررہا ہے ۔

    اب چاہئے تو یہ کہ دیگر اسلامی دنیا بھی غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ان کی جانی مالی اور عسکری مدد کرتی لیکن اسلامی دنیا خاموش تماشائی ہے جبکہ اسرائیلی درندے فلسطینی مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح بھوکے گدھ اپنے شکار پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس وقت غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ جنگ نہیں بلکہ یکطرفہ قتل عام ہے ۔ اسلامی ممالک نے غزہ میں بڑھکتی ہوئی آگ کو نہ بجھایا تو عین ممکن ہے کہ آگ کے یہ بڑھکتے ہوئے شعلے ان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ۔
    اے چشم اشکبار ذرا دیکھ تو سہی
    یہ گھر جو جل رہا ہے کہیں تیرا ہی گھر نہ ہو

  • زندگی کو جانچنے کے لئے کوئی مشغلہ ضروری ہے

    زندگی کو جانچنے کے لئے کوئی مشغلہ ضروری ہے

    بہت سے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہے کہ فارغ وقت کو کس طرح گزارا جائے۔ آج کی تیز رفتار اور بے ترتیب دنیا میں، اپنے لیے چند لمحے نکالنا اور ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہونا جو خوشی اور سکون بخشیں، نہایت ضروری ہے۔کوئی بھی مشغلہ ہمیں معمولات سے ایک بہت ضروری وقفہ فراہم کرتا ہے، جس سے ہم اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہو سکتے ہیں، نئی صلاحیتیں سیکھ سکتے ہیں، اور ذہنی تناؤ کم کر سکتے ہیں۔کسی شوق کا ہونا آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ایک خاص قسم کی تسکین بخشتا ہے۔ چاہے آپ کسی پرانی دلچسپی کو دوبارہ زندہ کر رہے ہوں یا کوئی نئی چیز آزما رہے ہوں، آپ خود کو دریافت کرنے کے ایک نئے سفر پر نکل پڑتے ہیں۔

    غیر معمولی سرگرمیوں میں مشغول ہونا ہمارے ذہن کو روزمرہ زندگی کے دباؤ سے دور لے جاتا ہے۔ وہ کام جو ہمیں خوشی دیتے ہیں، تناؤ کو کم کرنے اور توانائی کو دوبارہ بھرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان جو آج کل بڑھتی ہوئی بوریت کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایک مفید مشغلہ اس بوریت کا بہترین علاج ہو سکتا ہے۔اگر آپ کے پاس اپنے فارغ وقت میں دلچسپی لینے کے لیے کچھ نہیں ہے، تو آپ اسے برباد کررہے ہیں۔ جیسا کہ کہاوت ہے، "خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔” اپنے فارغ وقت کو فضول سرگرمیوں یا منفی خیالات پر ضائع کرنے کے بجائے، اسے کسی شوق سے بھرنا ایک قیمتی سرمایہ کاری ہے۔

    اگر آپ کوئی کھیل یا تیراکی جیسے شوق اپناتے ہیں تو یہ نہ صرف خوشی دیتی ہے، بلکہ جسمانی فٹنس کو بھی فروغ دیتا ہے۔کسی خوشگوار مصروفیت میں شامل ہونا ذہنی صحت کو بھی بڑھاتا ہے۔ جو چیز ہمیں خوشی دیتی ہے، وہ قدرتی طور پر ہمارے موڈ کو بہتر بناتی ہے۔

    کوئی بھی مشغلہ ہمیں سیکھنے اور ذاتی ترقی کے شاندار مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جیسے جیسے ہم ان میں غوطہ زن ہوتے ہیں، ہم نئی مہارتیں اور بصیرت حاصل کرتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی نئی زبان سیکھنا ہو، کھانا پکانے کی مہارت کو بہتر بنانا ہو، یا کوئی ساز بجانا سیکھنا ہو،یہ شوق ہمیں اجنبی دنیا کی دریافت پر مجبور کرتے ہیں اور ہمارے نقطہ نظر کو وسعت دیتے ہیں۔ اپنے شوق میں بہتری لانے اور ترقی کرنے کا عمل ہمیں کامیابی کا احساس دیتا ہے، خود اعتمادی میں اضافہ کرتا ہے، اور ہمیں ایسے محسوس کراتا ہے جیسے ہم کچھ نیا دریافت کر رہے ہوں

  • پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس اور بھارتی وزیر خارجہ کی آمد

    پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس اور بھارتی وزیر خارجہ کی آمد

    پاکستان میں ایس سی او سربراہی اجلاس اور بھارتی وزیر خارجہ کی آمد

    شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ سربراہی کانفرنس پاکستان میں ہو گی جس میں بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر بھی شریک ہوں گے عام طور پر، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایس سی او کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے، جو کہ تنظیم کا دوسرا اعلیٰ ترین فورم ہے،بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی تقریبا دس برسوں بعد پہلی بار پاکستان آمد ہو گی،پاکستان اور بھارت دونوں ممالک اس تقریب کے دوران ضمنی ملاقاتوں کے انعقاد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پلوامہ حملے اور بھارت کے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کے بعد 2019 سے پاکستان اور بھارت کے مابین دوطرفہ تجارت روک دی گئی تھی،اس کے جواب میں، بھارت نے پاکستانی درآمدات پر 200 فیصد ٹیرف لگا دیا، اور پاکستان نے بھارت کے ساتھ رسمی تجارت روک دی، البتہ غیر سرکاری تجارت جاری ہے

    ایف پی کے لیے سنجے کتھوریا کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان بھارت کے ساتھ تجدید تجارت کے ذریعے اپنی مشکلات کا شکار معیشت کو نمایاں طور پر مستحکم کر سکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات معمول پر آ جائیں تو پاکستان کی برآمدات میں 80 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے جی ڈی پی کی نمو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔ پاکستان، جس نے 2022 میں صرف 31.5 بلین ڈالر کا سامان برآمد کیا تھا، اگر بھارت کے ساتھ تجارت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو اس کی برآمدات میں 25 بلین ڈالر کا اضافی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    تجارت کے علاوہ، بھارت کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات، پاکستان کو دباؤ میں آنے والے معاشی مسائل، جیسے بلند افراط زر اور توانائی کی قلت سے نمٹنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ بھارت کے لیے پاکستان کے ساتھ تجارت میں توسیع کے معاشی فوائد کو مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔ اگرچہ کچھ تجزیہ کار ممکنہ فوائد کو کم کرتے ہیں، لیکن یہ جائزے محدود تجارتی ڈیٹا پر مبنی ہیں۔ پاکستان کی 236 ملین کی بڑی آبادی، 14 سال سے کم عمر کے ایک تہائی کے ساتھ، ایک امید افزا مارکیٹ پیش کرتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ، بنگلہ دیش کو بھارت کے اعلی تجارتی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔ موجودہ تجارتی رکاوٹوں کے باوجود، پاکستان کو ہندوستان کی برآمدات 1 بلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ چکی ہیں، اور بالواسطہ تجارت کافی حد تک برقرار ہے۔ دونوں ممالک کے لیے سیاحت کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک اہم عنصر یہ ہے کہ کیا پاکستان کی فوج جو نمایاں اثر و رسوخ رکھتی ہے، تجارت پر مرکوز حکمت عملی کی حمایت کرے گی۔ فوج، ایک مضبوط معیشت کو فروغ دینے پر تیزی سے توجہ مرکوز کر رہی ہے، ہو سکتا ہے کہ قلیل مدتی فوائد اور طویل مدتی سیکورٹی فوائد دونوں کے لیے اس طرح کے نقطہ نظر کی حمایت کر سکے۔ جدید پاکستانی فوج ماضی کے مقابلے میں معاشی استحکام میں زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے اور امکان ہے کہ وہ بیرونی مداخلت کی اجازت دیے بغیر اس مقصد کو ترجیح دے گی۔

    سوال باقی ہے:کیا سبھرامنیم جے شنکر اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

  • فرقہ وارانہ لیڈر کی خیالی چال

    فرقہ وارانہ لیڈر کی خیالی چال

    ایک فرقے کے رہنما کی ایک ابتدائی حکمت عملی ہوتی ہے کہ اپنے پیروکاروں کو خاص یا مظلوم ہونے کا احساس دلائے، جبکہ باہر کے لوگوں کو گمراہ، بے راہ روی کا شکار یا بدعنوان کے طور پر پیش کیا جائے۔ اس سے فوری طور پر بیرونی اثرات کے خلاف ایک دیوار قائم ہوتی ہے، اور گروہ اندرونی طور پر مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب باہر کے لوگ مذاق اڑاتے ہیں، غصے کا اظہار کرتے ہیں، یا فرقے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس سے فرقے کا حفاظتی دائرہ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ ان ردعمل سے فرقے کے رہنما کی جانب اپنے پیروکاروں کو دی گئی دنیا کے بارے میں وارننگز کو سچ مانا جاتا ہے۔
    کسی بھی فرقے کے رہنما اکثر اس عمل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں لہذا وہ غیر متوقع رویے اختیار کرنے لگتے ہیں، بڑے بڑے سازشی نظریات گھڑتے ہیں، یا بدسلوکی پر اتر آتے ہیں، جو باہر کے لوگوں کو قدرتی طور پر پریشان کرتا ہے۔ لیکن اس سےعام لوگوں کی تنقید اور غصہ یا نفرت کو مزید تقویت ملتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پیروکاروں کی اپنے رہنما اور گروہ سے وفاداری اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے جس میں دونوں فریق پھنسے رہتے ہیں۔ لیکن تنگ آکر کچھ پیروکار آخر کار فرقہ چھوڑ دیتے ہیں ، جبکہ دیگر پیروکار اس کے برعکس مزید وفادار ہو جاتے ہیں، یا تو رہنما کے لیے ہمدردی کے باعث یا باہر کے لوگوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بے اعتمادی اور نفرت کے احساس سے۔
    فرقے کے اراکین اکثر اپنے رہنما کے خراب رویے کا جواز پیش کرتے ہیں، یا تو انہیں ایک مقدس شخصیت مانتے ہیں یا بیرونی عوامل کو ان پر زیادہ دباؤ ڈالنے کا الزام دیتے ہیں۔ اس طرح کا تصور رہنما کے مرکزی کردار کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ جیسا کہ نیو مین (نیا انسان ایک یوتوپیائی تصور ہے جس میں ایک نئے مثالی انسان یا شہری کی تخلیق کی بات کی جاتی ہے، جو غیر مثالی انسانوں یا شہریوں کی جگہ لے ) نے بیان کیا، ایسی تحریکوں کے مرکز میں ایک رہنما ہوتا ہے جس کے گرد ایک قریبی اندرونی حلقہ ہوتا ہے، جو ایک خفیہ ماحول پیدا کرتا ہے اور لیڈر کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ یہ اندرونی حلقہ جان بوجھ کر غیر مستحکم رکھا جاتا ہے تاکہ گروہ کا انحصار رہنما پر مزید گہرا ہو جائے

  • اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف: کپاس کی فصل پر سفید مکھی کا شدید حملہ، کاشتکار پریشانی میں مبتلا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) جنوبی پنجاب میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی کے حملے میں تیزی آنے سے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حملے کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی کپاس کی فصلیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، اور کاشتکار معاشی دباؤ میں مبتلا ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ سفید مکھی کے علاوہ ناقص زرعی ادویات اور غیر معیاری سپرے بھی فصل کی بربادی کا سبب بن رہے ہیں۔

    کئی کسانوں نے بتایا کہ انہیں مناسب معلومات اور حکومتی امداد کی کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ درست علاج یا حفاظتی اقدامات نہیں کر پا رہے۔ فصلوں کی حالت مزید بگڑتی جا رہی ہے، اور کسانوں کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ کاشتکاروں نے الزام لگایا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے غیر معیاری ادویات کی فروخت کے حوالے سے کی گئی شکایات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت فوری مداخلت کرے اور کسانوں کو مناسب مشاورت اور رہنمائی فراہم کرے تاکہ وہ اپنی فصلوں کو بچانے کے لیے موثر سپرے اور دیگر حفاظتی اقدامات کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہیں کیے تو انہیں بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ان کی معیشت کو برباد کر سکتا ہے۔

    کاشتکاروں نے حکومت سے فوری طور پر مسائل کو سنجیدگی سے لینے اور مناسب حل فراہم کرنے کی امید ظاہر کی ہے، تاکہ وہ اپنی محنت سے حاصل ہونے والی فصل کو بچا سکیں اور معاشی تباہی سے محفوظ رہ سکیں۔

  • وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟

    وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟

    وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے ، کیا ایسا ہوتا ہے؟
    پرانی کہاوت "وقت تمام زخموں کو مندمل کرتا ہے” یا "بس کچھ وقت دو” واقعی ایسا ہے یا نہیں؟جذباتی زخموں سے بھرنے کے لیے یہ جان لیں کہ وقت حل نہیں ہے۔ جذباتی شفایابی ایک بہت زیادہ پیچیدہ عمل ہے جس میں صرف وقت گزرنے سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ زخم جو ہمارے جذبات میں گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ کسی پیارے کا کھو جانا وقت کے گزرنے سے مندمل نہیں ہو سکتا۔ جسمانی زخموں کے برعکس جذباتی زخم پیچیدہ ہوتے ہیں۔کوئی آپ پر مرتاہے۔ یہ آپ کا باپ، آپ کا شوہر، بیوی،کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے پدرسری معاشرے میں شوہر کی موت کے بعد مالی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، بیواؤں کو اکثر اپنے غم پر کارروائی کرنے کا وقت نہیں ملتا ہے اس سے پہلے کہ حقیقت ان کے چہرے سے ٹکرا جائے۔ کچن کیسے چلے گا؟ بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے، جذباتی غم بے خبر ہو جاتا ہے۔

    آپ کے شوہر کی موت پر آپ کی "سماجی حیثیت” ختم ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ گھریلو خاتون ہیں۔
    نئی حقیقتیں سخت اور بہت اچانک ہیں۔ بچے، اپنی عمر کے لحاظ سے صدمے سے گزرتے ہیں۔یہ بہت بڑا خلا ہے اورمختلف سطحوں پر تعلیم، شادی و دیگر امور پر ان کے مستقبل سے سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔

    آپ کے پیارے کی موت کے چند ہفتوں کے بعد،تعزیت کا سلسلہ، اس کے بعد لوگ اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ حالات معمول پر آ ئے اور سوگوار خاندان کے علاوہ سب کے لیے وقت ساکت کھڑا ہے۔
    آپ دیکھتے ہیں کہ زندگی گزر رہی ہے۔ خوش لوگ، چہرے، آپ ان چیزوں سے تعلق روک سکتے ہیں جو انہیں خوش کرتی ہیں۔ زندگی کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر ڈرامائی طور پر بدل جاتا ہے۔ جن چیزوں کو آپ نے اہم سمجھا وہ غائب ہو جاتے ہیں۔

    حل نہ ہونے والے صدمات اضطراب، افسردگی کا باعث بنتے ہیں، یہاں تک کہ آپ کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں جذباتی صدمے ترجیح کے کم درجے پر ہوتے ہیں، پیسے خرچ کرتے وقت مدد حاصل کرنا ایک مہنگا آپشن ہو سکتا ہے۔ عام طور پر، اسے ایک نان ایشو کے طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے اور، "وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے”۔ ایسا نہیں ہوتا۔

  • مستقل مزاجی ایک کامیاب کیریئر بنانے کی کنجی

    مستقل مزاجی ایک کامیاب کیریئر بنانے کی کنجی

    آجکل بہت سے نوجوان صحیح کیریئر کا فیصلہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی، وہ اکثر اس بارے میں غیر یقینی محسوس کرتے ہیں کہ آیا انہوں نے جس فیلڈ کا انتخاب کیا ہے وہ واقعی ان کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مستقل مزاجی کی طاقت ضروری ہو جاتی ہے۔مستقل مزاجی بنیادی عادات کو فروغ دینے کے بارے میں ہے۔ چاہے وہ کسی ہنر کا احترام کرنا ہو، فٹنس روٹین کو برقرار رکھنا ہو، یا روزانہ کی مصروفیات پر عمل کرنا ہو، مسلسل کوششیں دیرپا مثبت عادات کا باعث بنتی ہیں۔ ان عادات کو طویل مدتی اہداف کے حصول کی طرف روزانہ کے اقدامات کے طور پر سوچیں۔ ہم جتنا زیادہ مشق کرتے ہیں اور برقرار رہتے ہیں، ہم اپنے عزائم کو سمجھنے کے اتنے ہی قریب پہنچ جاتے ہیں۔

    کسی بھی کام میں مہارت راتوں رات نہیں ہوتی ،اس کے لیے لگن، صبر اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاہے آپ مالی کامیابی، پیشہ ورانہ مہارت، یا ذاتی ترقی کا ہدف رکھتے ہوں، تمام کامیابیاں وقت اور مستقل مشق کا تقاضا کرتی ہیں۔ کامیابی چھوٹے، بڑھتے ہوئے قدموں پر قائم ہوتی ہے،مستقل مزاجی کو برقرار رکھنے کے لیے حقیقت پسندانہ اہداف کا تعین بہت ضروری ہے۔ طویل مدتی خواہشات کو توڑ کر، جیسا کہ آپ پانچ سالوں میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں، روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ اہداف میں، آپ قابل انتظام سنگ میل بناتے ہیں جو اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور کامیابی کا احساس فراہم کرتے ہیں۔ قلیل مدتی جیت مقصد اور سمت کے زیادہ احساس میں حصہ ڈالتی ہے۔

    مستقل مزاجی رفتار کو بڑھانے میں بھی مدد کرتی ہے۔ جیسا کہ آپ اپنے منصوبوں پر قائم رہتے ہیں اور اپنے شیڈول کے ساتھ متحرک رہتے ہیں، جس کے بعد ہر قدم آگے بڑھنا آسان ہو جاتا ہے، جس سے آپ اپنی ترقی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مزید برآں، مستقل مزاجی رہنما کے طور پر آپ کی صلاحیتوں پر اعتماد کو فروغ دیتی ہے، اگر لوگ آپ کو اپنے اصولوں کو مستقل طور پر لاگو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو لوگ آپ کے فیصلوں پر بھروسہ کرنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ باکس سے باہر سوچنے سے انکار کرتے ہیں۔ بعض اوقات کسی مسئلے کا بہترین حل انتہائی غیر روایتی ہو سکتا ہے۔ اس پر غور کریں۔ اسے آزمائیں.
    جیسا کہ ای جیمس روہن نے ایک بار کہا تھا، "کامیابی نہ تو جادوئی ہے اور نہ ہی پراسرار۔ کامیابی بنیادی اصولوں کو مستقل طور پر لاگو کرنے کا قدرتی نتیجہ ہے۔”

  • آپ سب سے زیادہ کس چیز سے خوفزدہ  ہیں؟

    آپ سب سے زیادہ کس چیز سے خوفزدہ ہیں؟

    اکثر لوگ مختلف چیزوں سے ڈرتے ہیں۔ یہ بہت حد تک ہماری زندگی کے تجربات سے متعلق ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھی ہم اتنے خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں۔ہر کوئی کسی نہ کسی چیز سے ڈرتا ہے۔ آپ سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرتے ہیں؟ کیا آپ تبدیلی سے ڈرتے ہیں؟ کبھی کبھی ہم اپنے کمفرٹ زون میں اتنے راسخ ہو جاتے ہیں کہ تبدیلی کا خیال ہی خوفناک لگنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کا خوف ہوتا ہے، حالات کے بدلنے کا ڈر۔ یہ خوف اکثر ناکامی کے ڈر سے جڑا ہوتا ہے،یہ سوچ کہ شاید ہم اپنے مقصد کو پورا نہیں کر پائیں گے یا اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کر سکیں گے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کامیاب بھی ہو جائیں، تو یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے: کیا آپ نے واقعی یہ کامیابی اپنے دم پر حاصل کی، یا یہ صرف خوش قسمتی کا نتیجہ تھا؟ ہمارے ماضی کے تجربات بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا آپ کا موازنہ کسی زیادہ ذہین بھائی، بہن، یا دوست سے کیا گیا تھا؟ کیا آپ سے توقع کی گئی کہ آپ ان سے بہتر کارکردگی دکھائیں؟ بہن بھائیوں یا دوسروں کے درمیان مقابلے کی حوصلہ افزائی اکثر غیر صحت مند والدین کا رویہ ہوتا ہے۔

    ہر شخص کی اپنی منفرد صلاحیتیں ہوتی ہیں، اور بچوں کو اپنی منفرد خصوصیات کے ساتھ پروان چڑھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔عام طور پر ہم اپنے خوف کی وجوہات پر غور نہیں کرتے، حالانکہ ایسا کرنا ضروری ہے۔ خود احتسابی سے ذہنی وضاحت میں مدد ملتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہوا خوف نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کامل نہیں ہیں،اور نہ ہی کوئی اور ہے۔ اگر آپ کمال کے پیچھے دوڑیں گے، تو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم، ناکامی بھی سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک حصہ ہے، اور یہ وہ طریقہ ہے جس سے ہم ترقی کرتے ہیں،اپنی غلطیوں سے سبق لے کر۔اپنے خوف کے بارے میں بات کرنے سے وہ کم خوفناک محسوس ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کو جئیں؛ کل کے خوف سے اپنے آج کو برباد نہ کریں۔

    جان لینن نے کہا: "دو بنیادی محرکات ہیں: خوف اور محبت، جب ہم ڈرتے ہیں، تو ہم زندگی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جب ہم محبت کرتے ہیں، تو ہم جوش، جذبے، اور قبولیت کے ساتھ زندگی کی تمام پیشکشوں کے لیے اپنے دل کھول دیتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے خود سے محبت کرنا سیکھنا چاہیے، اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ۔ اگر ہم اپنے آپ سے محبت نہیں کر سکتے، تو ہم نہ دوسروں سے محبت کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا پورا ادراک کر سکتے ہیں۔ ایک بہتر دنیا کے لیے تمام امیدیں ان لوگوں کی بے خوفی اور کھلے دل پر مبنی ہیں جو زندگی کو پورے دل سے گلے لگاتے ہیں۔”

  • ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ڈاکٹر اطہر محبوب ۔۔۔یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
    ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    دو حاضر میں جو افراد ملت کے مقدر کا ستارہ ثابت ہوئے ان میں سے ایک پروفیسرڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ ممتاز ماہر تعلیم ہیں ، مثالی منتظم اور صنعتی ماہر کے طور پر منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ تعلیمی خدمات کے عوض تمغہ امتیاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔ کوئی بھی انسان جو کسی شعبے سے منسلک ہو اس کی اہلیت اور قابلیت کا اندازہ اس کے کام اور کام کے نتائج سے کیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب کاکام اس امر کا اعلان ہے کہ وہ اپنے شعبے کے ساتھ بے حد مخلص ہیں ۔ ان کی علمی اور تدریسی مہارت کو دیکھنا ہو تو خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجیئنرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ( رحیم یار خان ) اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو دیکھا جاسکتا ہے ۔خواجہ فرید یونیورسٹی کا تو ڈاکٹر اطہر محبوب کو بانی وائس پرنسپل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ رحیم یار خان ایک پسماندہ علاقہ ہے ، جو عرصہ دراز سے تعلیم اور شعور سے محروم چلا آرہا ہے۔جب حکومت نے رحیم یار خان میں یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو اس کا پہلا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو مقرر کیا گیا ۔ یونیورسٹی کا بانی وائس چانسلر بننا جہاں ایک اعزاز تھا تو وہاں ایک بہت بڑا چیلنج بھی تھا ۔ اس لیے کہ یہاں مسائل و مشکلات کے پہاڑ تھے ۔ایک ایسا ملک جہاں سرکاری کام چیونٹی کی رفتار سے رینگتے ہیں اور کسی بھی پراجیکٹ کی تعمیر پر برسوں لگ جاتے ہیں ایسے ملک میں ڈاکٹر اطہر محبوب نے کام کرنے کی ایک نئی روایت متعارف کروائی ۔ 29مئی 2014ءکو یونیورسٹی کے قیام کا ایکٹ جاری کیاگیا جبکہ چار ماہ بعد ہی ڈاکٹر اطہر محبوب نے کلاسز کا آغاز بھی کردیا ۔جب شیخ الجامعہ علم کا ایسا شیدائی ہو تو اسے علم سے محبت کرنے والے ساتھی اور شاگرد بھی مل جاتے ہیں۔ چنانچہ
    یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا
    کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا
    کے مصداق چند ہی مہینوں میں طلبہ وطالبات کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ۔ کم وقت میں یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریس کا آغاز۔۔۔۔اور ہزاروں کی تعداد میں طلبہ وطالبات ۔۔۔۔؟ یہ یقینا پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا ۔ اس واقعہ نے ثابت کردکھایا کہ ڈاکٹر اطہر علم کے فروغ اور کام سے لگن کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ وہ قرون اولی کی علم دوست شخصیات کی طرح پاکستان میں تعلیمی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی طرح ” کام ۔۔۔۔۔کام ۔۔۔۔۔اور کام “ پر یقین رکھتے ہیں ۔

    پروفیسر ڈاکٹر اطہر کی علم سے محبت اور خدمت کا دوسرا شاہکار اور یادگار واقعہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہے ۔انھوں نے اپنے دور میں یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کےلئے بیشمارتاریخی اقدامات کئے ۔۔۔مثلاََ طلبہ وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی خدمات حاصل کی گئیں ، لائق اور ذہین طلبہ کی حوصلہ افزائی کےلئے وظائف جاری کئے گئے،ایسے مفید ڈگری پروگراموں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا جن کی معاشرے میں بہت زیادہ ڈیمانڈ ہے ، طلبہ وطالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر متعدد شفٹوں میں کلاسوں کا اجراء کیا گیا ، مختلف کیمپس میں ضروریات کے مطابق سہولیات میں اضافہ ہوا ، آمدو رفت کےلئے پہلے سے موجود ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں اضافہ بھی کیا گیا ، صحت مند سرگرمیوں کے لئے کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیاں جاری کی گئیں ، طلبہ وطالبات کے دین کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کے لیے جامع الامام ابن کثیر سمیت یونیورسٹی کے مختلف کیمپس میں عالی شان مساجد بنائی گئیں ۔ ڈاکٹر اطہر محبوب برملا یہ بات کہا کرتے تھے میں ” اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمی تعلیمی ادارہ بنانا چاہتا ہوں ۔“
    یہ وہ اقدامات تھے جنھوں نے یونیورسٹی کے معیار تعلیم کو چار چاند لگا دیے اور اس کی مقبولیت میں بھی بے حد اضافہ ہونے لگا ۔ کلاسیں تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگیں ۔فیکلٹیز جو پہلے صرف چھ تھیں وہ13تک جاپہنچی ۔ پہلے کل وقتی اساتذہ 400تھے پھر ایک وقت آیاجب یہ تعداد 1400تک جاپہنچی ۔ پہلے طلبہ وطالبات کی تعداد صرف 13,000تھی جو 65,000ہزار تک جاپہنچی ۔

    یہاں میں خصوصی طور پر ایک واقعہ بطور خاص قارئین کے گوش گزار کرنا چاہوں گا ۔ اس واقعہ کے راوی ڈاکٹر اکرم چوہدری ہیں جو سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ” میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا گورنر پنجاب وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنی اپنی جامعات کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے “ ۔

    یہ ہیں ڈاکٹر اطہر محبوب۔۔۔۔! اور یہ ہے۔۔۔۔ ان کی تعلیمی کاوشوں کا مختصر تذکرہ !
    حقیقت یہ ہے کہ خواجہ فرید یونیورسٹی کی طرح ڈاکٹر اطہر نے اسلامیہ یونیورسٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بے حد محنت ہے ۔یہاں تک کہ اسلامیہ یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے علاقے میں موجود بعض نجی تعلیمی اداروں اور مافیاز کے کاروبار مانند پڑنے لگ گئے ۔ اس کے ساتھ یہ خبریں بھی گردش کررہی تھیں کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو بطور وی سی مزید توسیع دی جائے گی ۔ چنانچہ ڈاکٹر اطہر محبوب کا دوسری ٹرم کےلئے راستہ روکنے کی خاطر ۔۔۔ایک بھیانک سازش تیار کی گئی ۔تاہم وہ جو کہتے ہیں جھوٹ کو دوام نہیں یہاں بھی یہی کچھ ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے جسٹس سردار محمد ڈوگر کو بطور ٹربیونل جج نامزد کیا تو انھوں نے تحقیقات کے بعد یہ بتا دیا تھا کہ آئی یو بی ، ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو بدنام کرنے کےلئے جو سکینڈل بنایا گیا وہ سب جھوٹ تھا اور اس میں جن افراد کو ٹارگٹ کیا گیا وہ سب شفاف کردار کے مالک ہیں ۔ڈاکٹر اطہر محبوب اور انکی ٹیم کو سازشیوں کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا ،اور انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ ڈاکٹر اطہر محبوب کے بعد صرف ایک سال میں یونیورسٹی ویران ھوکر رہ گئی ہے۔ طلبہ کی تعداد نہ ھونے کے برابر ہے ۔
    رکاوٹیں ہمیشہ باصلاحیت لوگوں کے راستے میں ہی کھڑی کی جاتی ہیں جیسا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب ہیں ۔ وہ بہت باصلاحیت ہیں جبکہ اس وقت پنجاب کی بہت سی جامعات وائس چانسلرز شپ سے محروم چلی آرہی ہیں جن میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی شامل ہے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جامعات میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لیے انٹرویوز شروع کیے ہیں ۔اہلیان جنوبی پنجاب کی خواہش ہے، کہ یونیورسٹی کی گرتی ھوئی ساکھ کو بحال کرنے،اور یونیورسٹی کو نئے سرے سے آباد کرنے کے لیے دوبارہ ڈاکٹر اطہر محبوب کو اسلامیہ یونیورسٹی کا وی سی مقرر کیا جائے ۔اسلئے کہ
    یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
    ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس یونیورسٹی کو اپنے خون سے سینچا اور کی آبیاری کی ہے ۔ یونیورسٹی میں ان کی دوبارہ تعیناتی ان کی خدمات کا اعتراف بھی ہوگا اور یونیورسٹی کے لیے اعزاز بھی ہوگا۔ یونیورسٹی کا ہر گوشہ زبان حال سے ڈاکٹر اطہر محبوب کو کہہ رہا ہے
    پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

  • اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ جنگ نہیں چاہتے لیکن…

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ دشمنی جاری تنازعہ میں ایک قابل ذکر اضافہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اتوار کی صبح، اسرائیلی فوج نے ایک فضائی مہم شروع کی، جس میں تقریباً 100 لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے تاکہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہداف پر پہلے سے حملہ کیا جا سکے۔ یہ حملہ اگر رپورٹ کردہ اعداد و شمار درست ہیں، تو یہ 2006 کی اسرائیل حزب اللہ جنگ کے بعد لبنان میں سب سے زیادہ بڑی اسرائیلی کارروائی ہے۔ یہ حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 04:30 (01:30 GMT) پر ہوئے، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ صرف 30 منٹ بعد اسرائیل کے سب سے بڑے شہر تل ابیب کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی،اسرائیلی حملے کے جواب میں کاروائی کرتے ہوئے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات پر 300 سے زیادہ راکٹ اور میزائل داغے، جس سے پورے خطے میں فضائی حملے کے سائرن بج گئے۔ اس اقدام نے ممکنہ ہمہ گیر جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے 30 جولائی کو بیروت میں سینیئر کمانڈر فواد شکر کے قتل کے بدلے کا صرف پہلا مرحلہ ہے، جس کی بڑی وجہ اسرائیل سے منسوب کی جاتی ہے۔ اگلے دن تہران میں حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ھنیہ کے قتل سے صورتحال مزید بھڑک اٹھی، اس کا ذمہ دار بھی اسرائیل کو ہی ٹھہرایا جا رہا ہے

    غزہ کے تنازعے کو وسیع تر علاقائی جنگ میں پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی ہفتوں سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب تک یہ اقدامات جنگ بندی یا یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیل کی فوج نے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ دونوں کے خلاف دو محاذوں پر جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، تاہم 150,000 راکٹوں اور بہترین تربیت یافتہ جنگجوؤں کے ہتھیاروں کی وجہ ایک زیادہ اہم چیلنج ہے۔جن میں سے بہت سے شامی تنازعے کا جنگی تجربہ رکھتے ہیں
    یہ اس تنازعہ سے کیسے نکلیں گے، وقت بتائے گا
    نوٹ: بی بی سی کی خصوصی رپورٹ سے تحقیق کی گئی ہے