Baaghi TV

Category: متفرق

  • امن کی قیمت چکاتے میجر معیز شہید کے معصوم بچے

    امن کی قیمت چکاتے میجر معیز شہید کے معصوم بچے

    وطن کی حفاظت کی راہ میں جان قربان کرنے والے میجر معیز شہید کے معصوم بچے آج بھی اُن لمحوں سے بے خبر ہیں، جنہوں نے ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ وہ ننھی آنکھیں، جن میں ابھی خواب سجنے تھے، وہ معصوم چہروں پر ہنسی کے رنگ ابھی مکمل نہ ہوئے تھے، مگر قسمت نے انہیں ایک ایسی حقیقت سے آشنا کر دیا ہے، جو عمر بھر کا دُکھ بن گئی۔

    میجر معیز شہید نے دشمن کے ساتھ ساتھ وقت کے بے رحم تیروں کا بھی سامنا کیا۔ انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر نہ صرف سرزمین پاکستان کو محفوظ بنایا، بلکہ اپنی آنے والی نسل کو بھی یہ سبق دیا کہ قوم کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔یہ بچے اب سایہ باپ کے بغیر پلیں گے، لیکن ان کا باپ شہیدوں کے اس قافلے کا حصہ بن چکا ہے جنہیں کبھی مرنا نصیب نہیں ہوتا۔ قوم کے اس بہادر بیٹے نے آنے والے کل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا آج قربان کیا، اور ان کے بچوں کا بچپن، لڑکپن اور جوانی، سب اب قوم کی امانت بن چکے ہیں۔

    میجر معیز شہید کی شہادت ایک پیغام ہے — کہ پاکستان کا ہر سپاہی، ہر محافظ، اور ہر بیٹا مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ شہید کے لہو سے لکھی گئی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن مفت نہیں ملتا، اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے — اور وہ قیمت بعض اوقات بچوں کا مسکراتا بچپن بھی ہوتی ہے۔قوم میجر معیز شہید کے اہلِ خانہ کو سلام پیش کرتی ہے، اور ان کے معصوم بچوں سے یہ وعدہ کرتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں — یہ پوری قوم ان کی محافظ ہے۔اِن شاء اللہ، ہر سپاہی شہید میجر معیز کے نقش قدم پر چلتا رہے گا، اور پاکستان ہمیشہ سربلند رہے گا۔

  • اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کی پشاور و تلہ گنگ میں‌تقریبات،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) نے حال ہی میں پشاور چکوال اور تلہ گنگ کا ایک انتہائی کامیاب اور یادگار دورہ مکمل کیا، جس نے ادبی، صحافتی اور معاشرتی میدان میں نئے افق روشن کیے۔ یہ دورہ قلمکاروں کے باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے اور خاص طور پر دور دراز علاقوں کی باصلاحیت مرد و خواتین لکھاریوں کو قومی دھارے میں لانے کے اپووا کے غیر متزلزل عزم کی عملی مثال بنا۔

    اپووا کے وفد نے پشاور پہنچنے پر سب سے پہلے گورنر خیبر پختونخوا سے ملاقات کی، جو اس دورے کا سب سے اہم اور بنیادی حصہ تھا۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ، صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور معاشرتی ترقی میں قلمکاروں کے کلیدی کردار پر سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات نے اپووا کے مقاصد اور کوششوں کو حکومتی سطح پر نہ صرف پذیرائی دلائی بلکہ مستقبل کے لیے نئے امکانات کے دروازے بھی کھول دیے۔

    گورنر ہاؤس سے ملاقات کے بعد، اپووا کے وفد نے ” چائنہ ونڈو” کا دورہ کیا، جو چین کی ثقافت اور اقدار کو پاکستانی عوام سے متعارف کرانے کا ایک منفرد اور دلکش پلیٹ فارم ہے۔ یہیں اپووا کے پہلے ضلعی دفتر کا شاندار افتتاح کیا گیا، جو خطے میں قلمکاروں کے لیے ایک نئے مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ اپووا کی جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا، ناز پروین نے اس موقع پر وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف لنچ کا اہتمام کیا جس میں مقامی کھانوں کی لذت اور روایتی پشاوری قہوے کی مہمان نوازی نے وفد کے دل موہ لیے۔
    apwwa


    پشاور میں اگلا پڑاؤ حیات آباد تھا، جہاں باہمی رشتوں کے احترام کی ایک مثال قائم کی گئی۔ اپووا کے پی کے وومن ونگ کی صدر فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر ان کے شوہر کے انتقال پر تعزیتی ملاقات کی گئی اور حیات آباد میں ہی اپووا کے ریجنل آفس کا بھی افتتاح عمل میں آیا۔ ڈاکٹر عمر شہزاد اور اپووا کی ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کی جانب سے وفد کے لیے ایک مزیدار ہائی ٹی کا انتظام کیا گیا۔ اور کیک کاٹا گیا ۔اس موقع پر نئے عہدوں کا بھی اعلان کیا گیا اور نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔


    مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی، رانی عندلیب کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ان کے تاثرات اس دورے کا سب سے متاثر کن اور عزم سے بھرپور حصہ تھے: "میں اپووا کی انتہائی شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ایک دور دراز علاقے میں رہنے والی خاتون کو اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے اور اس کو اپنے وفد میں شامل کر کے گورنر ہاؤس تک لائے جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں خواتین کے فیلڈ میں کام کرنا کو برا سمجھا جاتا ہے، مجھ پر اس سے پہلے تو دو تین حملے ہو چکے ہیں لیکن میں اپنے شوق اور لگن کی وجہ سے کام کر رہی ہوں۔ انتہائی مشکور ہوں کہ اپووا نے مجھے اپنی ٹیم میں شامل کیا اور اس وفد میں شامل کیا”۔ رانی عندلیب کی کہانی عزم، ہمت اور قلم کی طاقت کی ایک زندہ مثال ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ اپووا کس طرح پسماندہ علاقوں کے باصلاحیت افراد کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔


    پشاور کے بعد، اپووا کا وفد "شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین” تلہ گنگ پہنچا، جو اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی، سینیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، اور متحرک رکن ممتاز اعوان کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہاں بھی اپووا کے ضلعی آفس کا پروقار افتتاح کیا گیا، جس میں ضلع بھر کے صحافی اور لکھاری شریک ہوئے۔ یہ بھرپور شرکت اپووا کی علاقائی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس موقع پر شیخ فیضان کو اپووا کوارڈینیٹر تلہ گنگ اور چکوال مقرر کیا گیا۔ اس تقریب میں ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا، جو علاقے کے ادبی حلقوں کے لیے ایک خوشگوار آغاز ثابت ہوا۔ یہ دورہ صرف دفاتر کے افتتاح یا ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ قلمکاروں کے درمیان اتحاد، باہمی تعاون، اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے اپووا کے غیر متزلزل عزم کا عملی مظہر تھا۔ اس تاریخ ساز دورے نے پاکستان میں ادبی اور صحافتی تحریک کو نئی جہتیں دی ہیں اور نئی نسل کو قلم کے ذریعے مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی ہے۔

  • اپووا  اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا اور چائنہ ونڈو،ثقافتی تبادلے اور باہمی تعاون کا نیا باب،رپورٹ:مدیحہ کنول

    پشاور: آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے وفد نے حال ہی میں پشاور میں قائم "چائنہ ونڈو” کا خصوصی دورہ کیا۔ یہ دورہ اپووا کی کے پی کے جنرل سیکرٹری اور چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ناز پروین کی خصوصی دعوت پر ترتیب دیا گیا۔

    چائنہ ونڈو، چین کی ثقافت، تاریخ اور طرز زندگی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ایک اہم پروجیکٹ ہے۔ یہاں چینی ثقافت سے متعلق ہر چیز، بشمول ان کی کرنسی، روایتی لباس، اور دیگر اشیاء کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ زائرین چین کے بارے میں جامع معلومات حاصل کر سکیں۔اس مرکز میں چینی زبان کی کلاسز بھی منعقد کی جاتی ہیں تاکہ مقامی افراد چینی زبان سیکھ سکیں۔ اس دورے کے دوران یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اپووا کے تمام ممبران کو چائنہ ونڈو میں ساڑھے تین ماہ کا چینی زبان کا کورس بالکل مفت کروایا جائے گا۔

    اس کے علاوہ، چائنہ ونڈو میں اپووا کا ایک ضلعی آفس بھی قائم کیا گیا ہے، جو دونوں اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور ثقافتی تبادلے کو مزید فروغ دے گا۔ یہ اقدام اپووا کے ممبران کے لیے نئے مواقع فراہم کرے گا اور پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ڈائریکٹر چائینہ ونڈو ناز پروین کی طرف سے اپووا وفد کے اعزاز میں پر تکلف لنچ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

  • قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے
    شہیدبھٹو اور نواز شریف نے دفاع ناقابل تسخیر بنایا،انکی بے توقیری کرنے والے معافی مانگیں
    آج جو بچے جنگوں میں جانیں گنوارہے یا معذور ہورہے ،ان کا کیا قصور ؟دنیا آدھا نہیں پوراسوچے
    اقوام عالم کب تک جنگیں سہتی رہیں گی،کوئی تو آگے آئے اور یہ سلسلہ بند کرائے،دنیا امن چاہتی ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے،ہر طرف ہے آگ دامن کو بچائیں کیسے،کوئی نہیں جانتا ایران اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں آگے چل کر کیا صورت حال پیدا ہوگی، دنیا کی طاقتور قوتیں جو دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر مستحکم ہیں، دنیا بھر کے انسانوں پر رحم کریں، دنیا بھر کے انسان حالت جنگ میں رہنا پسند نہیں کرتے ،اگر دنیا بھر کے انسانوں سے سوال کیا جائے تو مجموعی طورپر عام شہری کی جنگ میں جانے کا انتخاب نہیں کرتے اُن کو جہاں وہ رہتے ہیں آزادی سے رہنے کا حق ہونا چاہیے، جنگوں میں عام انسان مارا جاتا ہے اُن کے بچے مارے جاتے ہیں،عام انسانوں کی پکار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، عام انسان اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا ہے ،وہ آرام سے زندگی گزارنا چاہتا ہے ، ذرا نہیں پورا سوچیے جو بچے جنگی علاقوں میں پروان چڑھتے ہیں یا جابرانہ حکومتوں کی حکمرانی میں وہ بعد کی زندگی میں ہتھیار اٹھانے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں،جنگی ماحول میں کوئی ڈاکٹر، انجنیئر ، سائنس دان نہیں بنتا، دنیا بھر کی فیصلہ ساز قوتیں انسانی دوستی کا پرچم بلند کریں ، آخر عام انسانوں کی کون سی خطا ہے جس کی اُن کو سزا دی جا رہی ہے ،عالمی دنیا کے حکمران مسلم ممالک ہوں یا امریکہ یا مغربی ممالک اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی دیگر عالمی ادارے مذمتی بیانات سے باہر نکل کر سوچیں، غور کریں کہ مخلوق خدا کے ساتھ کون سا ظلم ہے جو نہیں ہو رہا، مشرق وسطیٰ کو جنگ کا میدان کیوں بنایا جا رہا ہے ؟ اور مشرقی وسطیٰ جنگ کا میدان کیوں بن رہا ہے ؟ مشرقی وسطیٰ کے حکمران سوچیں اور غور کریں، ماضی میں کئی جنگیں لڑی گئیں جن کی ضرورت نہیں تھی عالمی طاقتوں نے کمزور بہانے تراش کر چھوٹے ملکوں پر دانستہ جنگیں تھوپیں اور وسائل پر قبضہ کیا، ہر چند کے امن بہت اہم ہے ، انسان بہت مقدم ہے اور انسانیت بہت محترم ہے، مگر عالمی غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لئے مضبوط دفاع لازم ہو گیا جو ہری طاقت کا حصول اہم ہو گیا آج عالمی غنڈہ گردی کو دیکھ کر ملک کی سیاسی لیڈر شپ یاد آتی ہے ،پاکستان کو عالمی غنڈہ گردی سے بچانے کے لئے ایک کردار بھٹو تھے ایک سیاسی لیڈر تھا جس نے پاکستان کے لئے جوہری قوت ضروری سمجھا جبکہ دوسرا نواز شریف جس نے ایٹمی دھماکے کئے، جنہوں نے بھٹو اور نواز شریف کی بے توقیری کی اُن کو آج ا پنے جرم کا اعتراف کرکے بھٹو کی مغفرت اور نواز شریف سے معافی کے ساتھ خراج تحسین پیش کرنا چاہیے

  •  اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

     اپووا وفد کا دورہ پشاور، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات

    جب سخن و قلم کے چراغ روشن ہوں، اور علم و عرفان کی مہک فضا میں گھل جائے، تو ایسے لمحات تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم ہو جایا کرتے ہیں۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ادبی قافلہ، جو ہمیشہ فکر و فن کے گلدستے لیے ملک بھر کے ادبی چمن کو معطر کرتا رہا ہے، حال ہی میں گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی کی خصوصی دعوت پر پشاور روانہ ہوا۔

    یہ مژدہ جانفزا بانی و صدراپووا ایم ایم علی کی پُرخلوص کال پر راقم کو ملا، اور بلا تامل اس فکری سفر میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ، لاہور سے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان کی زیرقیادت اس قافلے نے ادب و اخلاص کے ساز پر رواں دواں ہو کر بلکسر کی پرنور فضاؤں میں شب بسر کی،سحر ہوتے ہی منزلِ مقصود کی جانب روانگی ہوئی، اور گورنر ہاؤس پشاور کے درو دیوار نے اپووا کے کارواں کو والہانہ خوش آمدید کہا۔ منتظمین کی شائستگی اور تکریم نے اس علمی ملاقات کو مزید باوقار بنا دیا۔گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ساعتِ سعید نصیب ہوئی۔ ملک یعقوب اعوان نے نہایت بلیغ انداز میں اپووا کا تعارف پیش کیا، جس کے بعد تمام معزز اراکین نے فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا، ایک سے بڑھ کر ایک ادبی ستارہ، جس کی چمک سے گورنر ہاؤس جگمگا اٹھا۔

    اس روح پرور نشست میں بانی صدر ایم ایم علی اور نائب صدرحافظ محمد زاہد نے اپووا کی فکری خدمات، ادبی سرگرمیوں اور تنظیمی اہداف کو نہایت شائستہ اور مدلل لب و لہجے میں پیش کیا۔ گفتگو میں جو شفافیت اور خلوص تھا، اس نے گورنر کو متاثر کئے بغیر نہ چھوڑا،گورنر فیصل کریم کنڈی نے نہایت پرخلوص کلمات میں اپووا کے اس سنجیدہ ادبی مشن کو قومی یکجہتی، فکری بالیدگی اور ثقافتی تجدید کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب دلوں کو جوڑتا ہے، اور اپووا اس جوڑنے کے عمل میں پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے تمام شرکائے وفد کو تعریفی اسناد اور یادگاری سوینئرز سے نوازا۔ چائے کی ضیافت کے دوران گفتگو کا دائرہ مزید وسعت اختیار کر گیا۔ آخر میں اپووا کی جانب سے سالانہ ادبی تقریب میں شرکت کی دعوت پیش کی گئی، جسے گورنر خیبر پختونخوا نے نہایت خندہ پیشانی سے قبول کیا اور یقین دہانی کروائی کہ وہ ادب کے اس مقدس سفر میں اپووا کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

    یہ سفر، ملاقات محض ایک رسمی گفتگو نہ تھی بلکہ قومی ادب کی قدر دانی اور فکری ہم آہنگی کی ایک نادر مثال تھی، جہاں قلم کی حرمت کو منصب کی عظمت سے جوڑا گیا۔وفد میں ملک یعقوب اعوان، ایم ایم علی، حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، محمد اسلم سیال، ممتاز اعوان، معاویہ ظفر، محمد بلال، ڈاکٹر عمر شہزاد، ڈاکٹر سعدیہ شہزاد، ناز پروین، بشریٰ فرخ، تابندہ فرخ، ثمینہ قادر، نیلوفر سمیع، رانی عندلیب شامل تھے،”دلاور” بھی ہمارے ہمراہ تھا ،دلاور کے گاڑی سے اترتے ہی گورنر ہاؤس انتظامیہ کی دوڑیں بھی دیکھنے والی تھیں………..

    یقیناً یہ ملاقات ادب کی توقیر، ادیب کی عزت اور فکر کی پذیرائی کا مظہر تھی، اپووا کا یہ اقدام آنے والے دنوں میں مزید فکری سنگ میل عبور کرنے کی نوید دے رہا ہے،اپووا…کی جانب سے مزید سرپرائزتیار ہیں.

    اپووا محض ایک تنظیم نہیں، بلکہ ادب کا مقدس قافلہ ہے ، ایسا قافلہ جو قلم کے چراغ اٹھائے، روشنی بانٹنے کے سفر پر گامزن ہے، اس قافلے کی ہر کڑی، ہر فرد اور ہر قدم علم، شعور، زبان، تہذیب اور فنِ تحریر کے احترام سے لبریز ہے، اپووانے معاشرے کے ان گوشوں میں روشنی پہنچائی ہے، جہاں جہالت کا اندھیرا اور فکری جمود برسوں سے براجمان تھا، اپووا کی ادبی کاوشیں معاشرتی نکھار، فکری ارتقاء اور قومی یگانگت کی ایک زندہ علامت بن چکی ہیں،اپووا نہ صرف شعرا و ادبا کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے بلکہ نئے لکھنے والوں کی آبیاری کر کے انہیں فکر و فن کے باغ میں تناور درخت بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی تقریبات میں ادب کے قدردان، لفظوں کے مسافر، اور فہمیدہ دل و دماغ یکجا ہوتے ہیں، جہاں صرف باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ روحانی ارتعاش، فکری پرورش اور جمالیاتی آگہی بانٹی جاتی ہے،ایم ایم علی جیسے بصیرت افروز قائد، ملک یعقوب اعوان جیسے باوقار رہنما، حافظ محمد زاہد جیسے فکری معمار، اور درجنوں اہلِ قلم کی پرخلوص کوششوں نے اپووا کو پاکستان کی ادبی پیشانی کا جھومر بنا دیا ہے۔

    آج جب دنیا تشدد،نفرت، مادّہ پرستی اور زبان کی سطحیت کا شکار ہو رہی ہے، اپووا ایسے وقت میں دلوں کو جوڑنے، زبان کو نکھارنے اور قلم کو حرمت دینے کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہے،ہم اپووا کے بانیان، کارکنان، اور تمام ادبی سپاہیوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ عقیدت، تحسین اور محبت پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ یہ قافلہ یوں ہی فکر کی مشعلیں لے کر اقبال کے خواب، فیض کی امید کو آگے بڑھاتا رہے۔

  • اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اسرائیلی جارحیت اور ایرانی سرخ پرچم.تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    اللہ رب العالمین نے قرآن الکریم میں فرمایا ہے ؛
    ترجمہ: ” ان (کافروں) سے لڑو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا اور انہیں رسوا کرے گا، اور ان پر تمہیں فتح دے گا، اور مومنوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائے گا۔”
    (سورۃ التوبہ – آیت 14)

    مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل عرصے سے اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست کا کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ جس سے ناصرف غزہ بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی محفوظ نہیں رہے۔ اسرائیل 2023ء سے لے کر 2025ء تک فلسطینی حمایتی تنظیموں حماس اور حزب اللہ کے کئی اہم ترین رہنماؤں اور اعلی قیادت کو اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا آیا ہے۔ بلکہ لبنان، شام ،یمن،اردن اور ایران کی خودمختاری پہ بھی با رہا حملوں سے باز نہیں آیا ۔ جس میں اعلی قیادت و معصوم شہریوں کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    13 جون جمعہ کی علی الصبح بھی اپنی مجرمانہ فطرت سے مجبور دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پہ حملہ کیا۔ جس میں 200 اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت شیراز، تبریز اور شمال مغربی ایران میں اہم جوہری و فوجی تنصیبات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ جس میں ایران کے 9 اہم سائنس دانوں، اعلی فوجی قیادت جن میں پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی ، ایرانی آرمی چیف جنرل علی باقری، ایران کے معظم ء اعلی سید علی خامنہ ای کے مشیر اور کئی اہم کمانڈرز سمیت کئی معصوم بچوں اور شہریوں کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً حملوں میں ایرانی آئل ریفائنریز اور دنیا کی سب سے بڑی گیس ریفائنری پہ بھی حملہ کیا گیا۔

    اسرائیل کے اس دہشت گردانہ فعل پہ تمام مسلم اُمہ سمیت پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں غم و غصہ کی شیدید لہر ڈور گئی۔ پاکستان نے اسرائیلی دہشت گردی کو ایران کی خودمختاری و خطے کی سلامتی و سالمیت پہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ۔ اور بھرپور انداز میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ قومی اسمبلی میں ایران کی حمایت اور مشکل وقت میں ساتھ دینے کی باقاعدہ قرارداد بھی پیش کی گئی۔

    مسلم دنیا میں ایران واحد اسلامی ریاست ہے۔ جو غزہ میں جاری اسرائیلی بیہمانہ جارحیت پہ نظریاتی و عملی طور پہ مسلسل علمِ حق بلند کرتی نظر آتی ہے۔ اور اس پہ اپنا ایک واضح و اٹل موقف اور دلیرانہ مزاحمتی جہدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ ایران نے کبھی امریکی و اسرائیلی گھٹ جوڑ کے دباؤ کو اقتصادی و تجارتی پابندیوں کی صورت جھیلا ۔ تو کبھی اپنے اہم رہنماؤں کی شہادتیں دیکھیں۔ مگر ایرانی استقامت و عزمِ حریت میں کبھی کوئی لغزش نہ آ سکی ۔ یہی وجہ ہے۔ کہ مسلم اُمہ میں ایران اور ایرانی سپریم لیڈر محترم سید علی خامنہ ای کو قدر و محبت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

    اگر ہم حالات و واقعات کا بغور جائز لیں۔ تو واضح نظر آتا ہے۔ کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کو شہ کس کی حاصل ہے۔”نو وار” (کوئی جنگ نہیں) کے سلوگن سے اقتدار پہ براجمان ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے بظاہر پر امن ہونے کا لبادہ اوڑھا۔ اور پچھلے دنوں مشرقِ وسطیٰ کا کچھ مبہم سا دورہ بھی کیا۔ طویل عرصہ سے خطے کے دہشت گرد ملک اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی آزادی کی بات بھی کی ۔ مگر صرف "بات” ہی کی۔ ورنہ تو فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت کی بندش کے لئیے اقوامِ متحدہ میں پیش ہونے والی کسی بھی قرارداد کو امریکہ ہی پاس نہیں ہونے دیتا۔ دوسری طرف ٹرمپ نے پرامن ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے ۔ ایران کو بھی مذکرات کی پیشکش کی ۔ جسے ایران نے قبول بھی کر لیا۔

    انہی مذاکرات کا سلسلہ پیر سے عمان میں شروع ہونا تھا۔ اب اگر مذاکرات شروع ہو چکے تھے۔ تو اسرائیل کے کے پاس حملوں کا کیا جواز بنتا تھا۔ یعنی آپ ایک ہی وقت میں وقت و مقام طے کر کے مذاکرات بھی کر رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی حملے بھی کر رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ۔ کہ کفار کا پلان تیار تھا۔ اور محض مذاکرات کا جھانسا دے کر اپنے پلان پہ عمل کیا گیا۔

    یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے ۔ کہ امریکہ نےاسرائیلی جارحیت سے دو دن قبل سے ہی مشرقِ وسطی سے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو انخلاء کی ہدایات جاری کی تھیں۔ امریکہ نے بظاہر ایران پہ حملے سے لاتعلقی کا اظہار تو کیا۔ مگر ساتھ ہی اسرائیل کا ناصرف ساتھ دینے کا واضح عندیہ دے دیا ۔ بلکہ ایران پہ دھمکیوں کی بوچھاڑ بھی کر دی گئی۔ کہ اس سے پہلے کچھ نہ بچے ایران اسرائیل سے معاہدہ کرلے ۔ ورنہ مستقبل میں ہونے والے حملے اور بھی وحشیانہ ہوں گے۔ یعنی کفار کے گھٹ جوڑ نے حالات و واقعات ایسے بنا دیئے ۔ کہ ایران مذکرات سے ہاتھ اٹھا لے۔

    اگر اس پورے منظر نامے کو بصیرت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ تو صاف نظر آتا ہے۔ کہ ایران کے خلاف کفار کا یہ شیطانی اتحاد محض اس لیے قائم ہے۔ کہ ایران نے مسلم اُمّہ کے ضمیر کی ترجمانی کرتے ہوئے ہمیشہ ایک واضح اسلامی و دینی عقیدے کی بنیاد پر صیہونی جارحیت کے خلاف علمِ مزاحمت بلند کیا، اور باطل کی تمام تر دھمکیوں، سازشوں اور اتحادوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے فلسطین کے مظلوموں کا ساتھ دیا ہے۔

    ایران پہ صہیونی جارحیت کے بعد ایرانی شہر قم کی مسجدِ جمکران (Jamkaran Mosque) کے گنبد پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا۔ جسے انتقامی پرچم یا "علامتِ انتقام” قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مردِ آہن محترم سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل نے اپنے لئیے تکلیف دہ قسمت کا انتخاب کیا ہے ۔ اور بدلہ لینے کا واضح عندیہ دیا۔ جس کی توقع ناصرف ایرانی بلکہ ہر مسلمان کر رہا تھا۔
    سپریم لیڈر کی ہدایت کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے "وعدہِ صادق 3″( الوعد الصادق-3) کے نام سے اسرائیل پہ آپریشن آغاز کیا ہے۔ ایرانی بلیسٹک میزائلوں نے تل ابیب کو روشنیاں گل کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔
    ایران نے اپنے دفاع میں جو قدم اٹھایا ہے۔ بلکل درست اٹھایا ہے۔ ہر خودمختار ملک کو اپنے دفاع اور اپنی خود مختاری کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل مسلم ممالک کی خود مختاری میں مسلسل دخل اندازی کرتا آیا ہے۔ خود دہشت گرد صہیونی قابض ریاست ، موساد کی ایران میں موجودگی کا اعتراف کر چکی ہے۔ ایسی دہشت گرد ریاست اور اس کے دہشت گرد حکمرانوں کی بربریت کا منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ صہیونی صدر نتین یاہو کا ذہن جنگی جنون میں مفلوج ہو چکا ہے۔ جو مکمل امریکی پشت پناہی میں اقوامِ متحدہ کے قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس وقت مسلم اُمہ کو کفار کے اس گھٹ جوڑ کے خلاف متحد ہونے اور ایک متفقہ موقف اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
    اور آخر میں جنرل باقری آپ کی شہادت کا دلی دکھ ہوا۔۔۔۔۔
    بطور مسلم و پاکستانی ہم ہر طرح سے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اللہ رب العزت تمام ایرانی شہداء کے درجات بلند فرمائیں۔ اور ایران کو کفار کے خلاف فتح یاب فرمائیں۔
    اللّٰهُمَّ انصُرِ الإسلامَ والمسلمينَ۔
    آمین اللھم آمین

    یہ درس کربلا کا ہے
    کہ خوف بس خدا کا ہے

  • بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    بجٹ 26ـ2025، عوامی ریلیف یا مہنگائی کا بوجھ ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ماہِ جون کے آغاز کیساتھ ہی عوام کی نظریں نئے مالی سال کے بجٹ پہر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ بجٹ دراصل ایک ایسا میزانیہ ہے۔ کہ جس میں نئے مالیاتی سال کے لئیے تمام تر اخراجات اور کلی آمدنی کے بارے میں تخمینہ سازی کی جاتی ہے۔ اور آمدنی کو مختلف ملکی شعبہ جات کے لئیے مختص کیا جاتا ہے۔
    امسال بھی پاکستان کا وفاقی بجٹ 2 جون کو پیش کرنے کی شنوائی تھی۔ جسے آئی۔ایم۔ایف سے کچھ اہم معاملات طے نہ ہونے کے سبب اجازت نہ مل سکی ۔ جس کی وجہ سے نیاء مالیاتی بجٹ تاخیر سے 10 جون 2025 کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت اجلاس میں قائدِ ایوان میاں محمد شہباز شریف کی موجودگی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا۔ حسبِ معمول اپوزیشن کا ہنگامہ بھی جاری رہا ۔ اور وزیرِ خزانہ اپنا کام کر کے روانہ ہو گئے۔

    اس بجٹ میں عوام کو حقیقت میں ریلیف حاصل ہوا ہے۔ یا محض اعدادوشمار سے بہلا کر مطمئن کر دیا گیا ؟ جائزہ لیتے ہیں۔
    وزیرِ خزانہ نے پاکستان کا مالی سال 26ـ2025 کے لئیے 17573 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا۔ جس میں گروس فیڈرل آمدن کا ہدف 19298 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ نیٹ فیڈرل ریونیو کا تخمینہ 11072 ارب روپے اور اس طرح بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے یعنی ٹوٹل GDP کا 5٪ ہے ۔ ایف ۔بی ۔آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14130 ارب روپے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ قرضوں اور ان پہ سود کی ادائیگی کے لئیے قریبا آدھے سے زیادہ بجٹ کا حصہ یعنی 8207 ارب مختص کئے گئے ہیں۔

    تنخواہ در و پنشنر طبقہ جو اسوقت مہنگائی کے بوجھ تلے سب سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ بجٹ سے خاصی توقعات وابستہ کئیے بیٹھا تھا۔ اس کو یہ ریلیف دیا گیا۔ کہ فیڈرل ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ کیا گیا پے۔ جبکہ پنشن میں اضافے کو کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط ء زر کی شرح سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جبکہ بجٹ تخمینے میں افراطِ زر کی شرح 7.5 فی صد رکھی گئی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔ کہ کیا واقعی مہنگائی کی شرح اس وقت 7.5 فی صد ہی ہے۔؟؟ گراؤنڈ رییئیلٹیز تو بہت آگے کی بات کر رہی ہیں۔ پیش کردہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پنشنز میں 7 ٪ اضافہ انتہائی کم ہے۔ مزید نئی پنشن اصلاحات بھی متعارف کروائی گئیں ہیں۔ جن کے مطابق پنشنر کی وفات کے بعد فیملی پنشن 10 سال تک محدود کرنا اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ ایک سخت فیصلہ ہے۔ جب کہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ اور ری ٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب ،ملکی خزانے کے لئیے بہتر تجویز ہے۔

    تخواہوں میں اضافے کی بات کی جائے تو 10 ٪ اضافہ بہت ہی کم ہے۔ اس مہنگائی میں کم سے کم اجرت میں بھی کوئی اضافہ نہ کرنا بھی تکلیف دہ ہے۔ اور وجہ صنعت کو ریلیف دینا بتایا گیا۔ مگر یہ کیسا ریلیف ہے۔ جو صنعتوں کو غریب مزدور و محنت کش سے دلوایا جا رہا ہے۔!!
    وہی ایوان کہ جہاں یہ بجٹ پیش کیا گیا اور جس کی سربراہی اسپیکر صاحب کر رہے ہیں۔ ابھی کچھ ہی دنوں پہلے ان کی اپنی اور چیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں 600 گنا اضافہ کیا گیا ہے اور 2 لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ کر دی گئیں ہیں۔ کیا مہنگائی صرف ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لئیے ہی پریشان کن ہے۔؟ یا تنخواہوں میں اس قدر اضافے کی ضرورت صرف انہی کو ہے۔؟؟؟ یا پھر ملازمین و پنشنرز کے صبر کا درجہ زیادہ ہے۔ یا پھر قربانی کی توقع صرف اسی طبقے سے ہی ہے۔ !!!

    وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے۔ "انفراسٹرکچرل ریفارمز کہنا آسان ہے۔ کرنا مشکل ۔” اور آئی۔ایم۔ایف کی ہدایت کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا حجم کم کر کے 1 ہزار ارب روپے کر دیا گیا۔ مزید ایچ ۔ای ۔سی کے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لئیے بھی 1 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ جبکہ ارکانِ پارلیمان کی ترقیاتی اسکیموں کے لئیے 70 ارب روپے مختص کئیے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچرل ریفارمز مشکل ضرور ہوتی ہیں۔ مگر کرنا لازم ہوتی ہیں۔ معاشی ترقی کی طرف آپ تبی جا سکتے ہیں۔ جب آپ کا انفراسٹرکچر بہتر ہو گا۔
    ارکانِ پارلیمان کے جو ہر سال فنڈز مختص کئیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈویلپمنٹ بھی نظر آنی چاہئیے۔ مگر فنڈز کہاں جاتے ہیں اور انفراسٹرکچر کیوں نہیں بہتر ہو رہا ، یہ نہیں معلوم!!

    ہیلتھ کی بات کی جائے تو اس کے لئیے 14.3 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جو کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت جاری مشترکہ منصوبوں کے لئیے ہیں۔ جبکہ کوئی بھی نیا منصوبہ یا پروگرام شروع نہیں کیا گیا۔
    تعلیم اور صحت کسی بھی ملک کے اہم شعبہ جات ہیں۔ ان کی ترقی و بہتری کے نئے منصوبے شروع کرنا اور جاری منصوبوں کو مکمل کرنا لازم و ملزوم ہے۔

    اگر ٹیکسوں کی بات کی جائے ۔ تو ٹیکسوں کا حجم بڑھا دیا گیا ہے۔ اور 600 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ۔312 ارب روپے کے براہ راست نئے ٹیکس نافذ کئیے جائیں گے۔ سولر پہ 18 فی صد درآمدی ٹیکس ،فون پہ 25 فی صد ، فروزن اشیاء چپس ، آئس کریم ، کولڈ ڈرنکس پہ 5 فی صد ایکسائز ڈیوٹی ،ای کامرس پہ 18 فی صد ٹیکس جبکہ پیٹرول پر 2.50 فی لیٹر لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ بجلی کے سرچارجز میں اضافہ کی کی بھی تجویز ہے۔ یعنی جنرل سیل ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کا بوجھ متوسط و نچلے طبقے پہ پڑے گا۔ ایک طرف صنعت میں گروتھ بڑھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ تو دوسری طرف انرجی و پیٹرول پہ محصولات لگا کر
    قیمتیں بڑھائی جا رہیں ہیں۔ جب صنعت کے لئیے بجلی و پیٹرول ہی مہنگا دستیاب ہو گا۔ تو لازم عنصر ہے۔ کہ پیداوار بھی مہنگی ہو گی۔ جس سے افراطِ زر میں اضافہ ہو گا۔

    عام پروفٹ آن ڈیٹ (Profit on Debt)، یعنی بینک ڈپازٹ اور سیونگ سرٹیفیکیٹس سے حاصل ہونے والے منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15% سے بڑھا کر 20% کر دی گئی ہے ۔ مزید انکم ٹیکس اور سیل ٹیکس کے لئیے
    Artificial Intelligence Audit Selection System
    کو متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پہ ٹیکس کی شرح 0.6٪ سے بڑھا کر 1٪ کر دی گئی ہے۔ جس سے روزانہ کے لین دین کو مہنگا کر دیا گیا ہے۔

    مزید میزانیہ 26ـ2025 میں زراعت کا حجم 4.5 ٪ رکھا گیا ہے۔ مگر زرعی آلات ، بیج و فرٹیلائزرز پہ GGT کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ زراعت کے لئیے نئی اصلاحات بھی نہیں جاری گئیں۔ جو اس وقت کی ضرورت ہیں۔ جیسے زرخیز زرعی زمین کی بے دریغ فروخت اور اس پہ رہائشی کالونیوں کی کنسٹریکشن کی روک تھام وغیرہ۔

    اس وقت پاکستان میں افراطِ زر کیساتھ تعلیمی یافتہ و سکلڈ بیروزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ اور برین ڈرین کی وجہ بن رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 میں قریباً 727,000 افراد جبکہ 2لاکھ ہنر مند و پڑھے لکھے افراد نے وطن کو خیر آباد کہہ دیا۔ مگر بجٹ میں نہ تو پڑھی لکھی افرادی قوت کو کھپانے کی کوئی تجویز زیر ء غور آئی ۔ نہ ہی برین ڈیرین کے خاتمے کے لئیے کوئی منصوبہ بتایا گیا۔
    پورے بجٹ کا جائزہ اور ادارہ شماریات کی رپورٹس بتا رہی ہیں۔ کہ قریباً تمام ضروریاتِ زندگی پہ ٹیکس لگا ہے۔ اور اشیاء عوام خاص طور پہ متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوئی ہیں۔ درحقیقت جو افراطِ زر کے حالات ہیں اس کے مطابق عوام بلخصوص تنخواہ دار و پنشنر طبقے کو ریلیف نہیں مل سکا۔

  • شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    شکریہ وزیراعلیٰ مریم نواز، شکریہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم،تحریر:نورفاطمہ

    عید الاضحیٰ کا تہوار جہاں قربانی، ایثار اور محبت کا پیغام لے کر آتا ہے، وہیں یہ صفائی و ستھرائی کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج بھی بن جاتا ہے۔ لاکھوں جانوروں کی قربانی کے بعد آلائشوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں ٹھکانے لگانا ایک ایسی ذمہ داری ہے جس سے عموماً کئی شہری ادارے نمٹنے میں ناکام رہتے ہیں۔ مگر سال 2025 میں، پنجاب حکومت اور خصوصاً وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی ہدایات پر قائم کی گئی "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی انتھک محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔

    لاہور جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر آلائشوں کا ٹھکانے لگانا ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ لیکن اس بار "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی جانفشانی سے نہ صرف بروقت آلائشیں اٹھائیں بلکہ گلی گلی، محلہ محلہ جا کر جراثیم کش اسپرے بھی کیا، جس سے نہ صرف بدبو سے نجات ملی بلکہ بیماریوں سے بھی بچاؤ ممکن ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اس بار لاہور کی گلیاں، بازار، چوراہے اور پارکس عید کے ایام میں بھی صاف ستھرے، خوشبودار اور قابل دید رہے۔ لاہور کی عوام نے اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم نے اپنی عید کی خوشیاں ہمارے لیے قربان کر دیں۔

    یہ صرف لاہور تک محدود نہیں تھا۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں صفائی کے غیرمعمولی انتظامات دیکھنے کو ملے۔ ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، بہاولپور، سیالکوٹ، سرگودھا سمیت ہر علاقے میں "صاف ستھرا پنجاب” کی ٹیمیں دن رات متحرک رہیں۔ ہر کال پر فوری رسپانس، ہر گلی میں حاضری، اور ہر شکایت پر فوری ایکشن نے اس پروگرام کو عوام میں بے حد مقبول کر دیا۔

    صفائی صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر شہری کی بھی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے۔ "صاف ستھرا پنجاب” کی کامیابی اسی وقت دیرپا اور مؤثر ہو سکتی ہے جب عوام بھی اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ گندگی سڑک پر پھینکنے، نالیاں بند کرنے، اور کچرا عوامی مقامات پر ڈالنے کی عادت ترک کرنا ہوگی۔عوامی شعور کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ میڈیا، تعلیمی ادارے، اور مقامی تنظیمیں صفائی کے موضوع پر مسلسل آگاہی مہمات چلائیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ کچرے کو ری سائیکلنگ اور واٹر ٹریٹمنٹ کے جدید طریقوں سے ٹھکانے لگایا جائے۔کچرا جلانے یا زمین میں دبانے کی بجائے ماحول دوست طریقے اپنائے جائیں۔شہری علاقوں کے قریب ڈمپنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔

    "صاف ستھرا پنجاب” پروگرام اب صرف ایک صفائی مہم نہیں رہا بلکہ یہ ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکا ہے جس پر دیگر صوبوں کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ اس کی کامیابی کا سہرا وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت، ٹیم کے اخلاص، اور عوام کے تعاون کو جاتا ہے۔ہم بحیثیتِ شہری دل کی گہرائیوں سے "صاف ستھرا پنجاب” ٹیم، حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ محترمہ مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں ایک صاف، ستھرا اور صحت مند عید کا تحفہ دیا۔

  • قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    قربانی کا پیغام اور غزہ کی پکار ،تحریر: اقصیٰ جبار

    Email; jabbaraqsa2@gmail.com

    عید الاضحی، جسے "بڑی عید” بھی کہا جاتا ہے، اسلامی تقویم میں ایک اہم تہوار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف قربانی کی علامت ہے بلکہ ایمان، ایثار، اور اللہ کی رضا کے لیے خود کو وقف کرنے کا مظہر بھی ہے۔

    اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعے میں، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دینے کے لیے تیاری کی۔ یہ واقعہ اللہ کی رضا کے لیے مکمل اطاعت کا ایک اعلیٰ نمونہ پیش کرتا ہے۔ اللہ نے ان کی نیت کو قبول کیا اور قربانی کے بدلے ایک مینڈھا بھیج دیا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی سب سے عزیز چیز قربان کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

    آج کے دور میں، جب دنیا مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، عید الاضحی کا پیغام مزید اہم ہو جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات، سماجی عدم مساوات، اور انسانی ہمدردی کی کمی جیسے مسائل کے بیچ یہ تہوار ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ غزہ کے موجودہ حالات، جہاں معصوم لوگ ظلم و ستم کا شکار ہیں، ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قربانی کے جذبے کو محض رسم تک محدود نہ رکھیں بلکہ مظلوموں کی مدد اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔

    عید الاضحی کے موقع پر مسلمان قربانی کرتے ہیں، جو صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے۔ اس عمل کے ذریعے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی اطاعت کریں اور اپنے مال و دولت کو معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ بانٹیں۔ قربانی کا گوشت تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے، اور تیسرا غریبوں اور محتاجوں کے لیے۔ یہ عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق مساوات، اخوت، اور دوسروں کے حقوق کی یاد دہانی ہے۔

    معاشرتی طور پر، یہ تہوار ہمیں اتحاد اور محبت کا درس دیتا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور محدود وسائل کے باوجود ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شامل کریں۔ غزہ کے معصوم بچوں اور ان کے خاندانوں کی مشکلات ہمیں اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی دعاؤں، مالی تعاون، اور اخلاقی حمایت کے ذریعے ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔

    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عید الاضحی کا حقیقی مقصد قربانی کے ظاہری عمل سے زیادہ دل کی حالت اور نیت کی پاکیزگی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، لیکن اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (سورۂ حج: 37)۔ لہٰذا، ہمیں اپنی نیت کو خالص رکھنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہماری قربانی صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

    آج کے حالات میں، عید الاضحی ہمیں یہ عزم کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر قربانی، ایثار، اور خدمت خلق کی صفات پیدا کریں گے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں عملی تبدیلی لاتے ہوئے دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ غزہ کے مظلوم عوام کی حالت پر غور کرتے ہوئے، ہمیں یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم ان کے لیے دعا کے ساتھ عملی اقدامات بھی کریں گے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ آخرت کی تیاری بھی ضروری ہے۔ اگر ہم عید الاضحی کے حقیقی پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں شامل کریں، تو نہ صرف ہماری زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی ایک مثالی معاشرہ بن سکے گا۔

    عید الاضحی کے اس بابرکت موقع پر، ہم سب کو چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں قربانی کے اسباق کو نافذ کریں اور اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کریں۔ دعا ہے کہ یہ عید ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں کا باعث بنے اور غزہ کے مظلوموں کے لیے امید اور سکون کا پیغام لے کر آئے۔ عید مبارک!

  • خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    خاموش اُمت… زندہ لاشیں،تحریر : اقصیٰ جبار

    لفظوں کی پکار

    غزہ کی زمین سرخ ہو چکی ہے۔ ملبے کے نیچے دبی ہوئی ننھی لاشیں، ماؤں کی سسکیاں، اور ویران مسجدیں… یہ سب ایک سوال بن کر اُمت مسلمہ کے ضمیر پر دستک دے رہی ہیں، مگر افسوس! یہ ضمیر شاید سو چکا ہے — یا بدتر، مر چکا ہے۔

    اسرائیلی بمباری صرف عمارتوں کو نہیں گرا رہی، بلکہ انسانیت کے دعووں کو بھی خاک میں ملا رہی ہے۔ عالمی ادارے، حقوقِ انسانی کی تنظیمیں، اور نام نہاد مہذب دنیا سب تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ افسوسناک کردار خود اسلامی دنیا کا ہے، جو محض بیانات، قرار دادوں اور تصویری مذمتوں تک محدود ہو چکی ہے۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

    "المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله”
    یعنی: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ ہی اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
    (صحیح بخاری)

    مگر ہم نے اپنے بھائیوں کو چھوڑ دیا۔ ہم نے اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے خاموشی اوڑھ لی۔ ہماری زبانیں مصلحت کے تالے میں بند ہیں، اور دل مفاد کی زنجیروں میں قید ہیں۔

    آج اسلامی ممالک کی طاقت صرف عسکری نمائشوں تک محدود ہے۔ اتحاد صرف کانفرنس ہالز کی میزوں پر موجود ہے۔ اور بیت المقدس کی اذیت…؟ وہ چیخ چیخ کر ہمیں پکارتی ہے، مگر ہم تجارتی معاہدوں اور سفارتی توازن کے نشے میں بے حس ہو چکے ہیں۔

    یہ کیفیت نئی نہیں۔ جب تک صلاح الدین ایوبی کی آنکھوں میں بیت المقدس کی غلامی کا دکھ تھا، وہ سکون سے سو نہیں سکتا تھا۔ مگر ہم…؟ ہم ہنستے ہیں، خریداری کرتے ہیں، تفریح کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں… ہم زندہ ہیں۔

    نہیں!
    ہم زندہ لاشیں ہیں، جو نہ بولتی ہیں، نہ تڑپتی ہیں، اور نہ ہی اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم اس نیند سے جاگیں۔ عملی اقدامات کی طرف بڑھیں۔ فلسطینی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ ظالموں کی معیشت کو کمزور کریں۔ دعائیں کریں، شعور پھیلائیں، اور اپنی نسلوں کو سچ سکھائیں۔

    ورنہ وہ دن دور نہیں جب تاریخ ہمیں اسی عنوان سے پکارے گی:
    "خاموش اُمت… زندہ لاشیں!”

    jabbaraqsa2@gmail.com