Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    موجودہ دور میں ہر جگہ بگاڑ ہے۔ عام آدمی سے لیکر اعلیٰ سطح تک ہر جگہ اور ہر کوئی ذاتی فرائض کی انجام دہی کی بجائے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کو باعث ثواب سمجھتا ہے۔ کلینک میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق پر ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔میں متاثر ہوا ۔لیکن کلینک میں دوسروں کا چمڑا ادھیڑ لی جاتی ہے۔ بے جا ادویات کی لمبی چوڑی فہرست، مختلف ٹیسٹ، اور مخصوص سٹور سے ادویات کی خریداری کی تلقین بھی باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ تبلیغ میں دن رات گزارنے کے بعد امیر صاحب ‘دنیاوی’ کمائی کی خاطر ہر چیز کی اضافی قیمت وصول کر رہا تھا۔ استفسار پر بتایا کہ یہی تجارت ہے۔ مولوی صاحب فروٹ فروش ہیں۔ مسجد کے سامنے کھوکھا کھولا ہے۔ خوب دینی اور دنیاوی کمائی کررہے ہیں۔ بازار سے چالیس فیصد زیادہ قیمت پر فروٹ فروخت کرتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ غیر اسلامی ملک میں اس طرح کی تجارت کی اجازت ہے۔ (ان کے بقول پاکستان اسلامی ملک نہیں)۔ تاجر رہنما نے تاجروں کے حقوق پر لیکچر دیا۔جب ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمیں پہلے حقوق دیں تب ہم ٹیکس دیں گے۔ مولوی صاحب ہر جمعہ مساوات کا درس دیتے ہیں لیکن بچوں کو قاعدہ پڑھاتے وقت توجہ صرف امیر بچوں کو دیتے ہیں۔ اساتذہ کرام کلاسز میں صرف سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ اور کلاس کے آخر میں ٹیوشن سنٹر کا پتہ بتاتے ہیں۔ٹیوشن سنٹرز سے پڑھائی کی صورت میں بہترین رزلٹ جبکہ سکول میں پڑھائی پر بدترین رزلٹ ۔سوزوکی سٹاپ پر سارے ڈرائیورز اور کنڈکٹروں کو ایک سوزوکی میں بیٹھا کر دن کا آغا ز کیا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس والے اور لوڈنگ اور غلط سٹاپ پر جرمانہ کریں تو حلال روزی اور محنت کی باتیں۔ اڈے پر اے سی گاڑی میں لگا کر سواریوں سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے تین کلومیٹر بعد اے سی بند کرکے نعتوں کی کیسٹ لگا کر سواریوں کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کو چند ہزار روپے پر رکھ کر سات کلاسز کی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔ صبح اسمبلی میں بچوں سے پہلے اساتذہ کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ اور انھی چند ہزار روپے میں امتحانات میں نقل کی درآمد وبرامد کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ المختصر ہر شعبہ زندگی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔حقوق وفرائض کی تجدید نو کی جائے۔تاکہ انسانیت کو نئی روح و زندگی دی جائے۔

  • آسٹریلیا: سونے کی تلاش میں کھدائی کے دوران 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم پتھر دریافت

    آسٹریلیا: سونے کی تلاش میں کھدائی کے دوران 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم پتھر دریافت

    کینبرا: دنیا میں‌پہاڑ کھودنے پر چوہے کے نکلنے کی ضرب المثل تو مشہور ہیں لیکن سونے کی تلاش کرتے کرتے سونے سے بھی قیمتی دھات کا نکل آنا بہت کم ہی سنا ہیے. ایسا ہی ایک وا قعہ آسٹریلیا میں سونا تلاش کرنے والے شخص نے چار ارب 60 کروڑ سال قدیم سرخ پتھر دریافت کرلیا۔ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہری ڈیوڈ ہول سونے کی تلاش میں اپنے گھر کے قریب کھدائی کررہے تھے کہ اُن کی نظر ایک عجیب سے سرخ رنگ کے پتھر پر پڑی۔

    آسٹریلوی میڈیا کے مطابق ڈیوڈ ہول پتھر اٹھا کر ماہرین ارضیات کے پاس گئے جنہوں نے اس پر تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ ٹکڑا دراصل شہابِ ثاقب ہے اور اتنا ہی قدیم ہے جتنی زمین کی عمر ہے۔ماہرین کے مطابق پتھر 4 ارب 60 کروڑ سال قدیم ہے، سائنسی تاریخ کے حساب سے بھی کرہ ارض کی عمر تقریباً اتنی ہی ہے۔

    ڈیوڈ ہول کے پاس پتھر کے حوالے سے ماہر ارضیات نے اس ایجاد پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پتھر دراصل ایچ 5 آرڈینری کونڈرائٹ نامی شہابِ ثاقب ہے، جس کا شمار اُن پتھروں میں ہوتا ہے جو ابتدائی نظام شمسی سے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔

    بل برچ کا کہنا تھا کہ زمین کے معرض وجود میں آنے کے وقت پتھر کی بھی پیدائش ہوئی، اس ٹکڑے کی تاثیر اور اجزا زمینی پتھروں سے بالکل مختلف ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ خلاء سے زمین پر اُس وقت گرا جب وہ تیار ہوئی‘‘۔

  • 18 جولائی کا دن ،نیلسن منڈیلا کے نام ،ساری زندگی نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی ،18 جولائی کو ہی پیدا ہوئے

    18 جولائی کا دن ،نیلسن منڈیلا کے نام ،ساری زندگی نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کی ،18 جولائی کو ہی پیدا ہوئے

    جنوبی افریقہ :انسانی حقوق کے علمبردار ،نیلسن منڈیلا کو کون نہیں‌جانتا جس نے ساری زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کردی،اسی نیلسن منڈیلا کی جدوجہد سے متعلق کہا جاتا ہے کہ گرنے کے بعد اٹھنا ہی عظمت کی نشانی ہے، یہ پیغام دینے والے دنیا کے عظیم سیاسی رہنما نیلسن منڈیلا آج ہی کے دن 18 جولائی سنہ 1918 کو پیدا ہوئے اور نسل پرستی کیخلاف ایسی جدوجہد کی کہ مزاحمت کی علامت کہلائے۔

    نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنے والے نیلسن منڈیلا نے جیلے کاٹی ، اپنوں سے دوری کا دکھ سہا، جلاوطنی بھی حصے میں آئی، لیکن رنگ اور نسل پرستی کیخلاف بھرپور آواز اٹھائی، سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے نیلسن منڈیلا کو دنیا سے رخصت ہوئے 6 برس بیت گئے مگر وہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔

    نیلسن منڈیلا کی جدوجہد کے نتیجے میں جنوبی افریقہ پر سفید فام نسل پرست حکومت کا خاتمہ ہوا تھا جس کے بعد وہ 1994 ءمیں ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے تھے۔امن کا نوبیل انعام پانے والے نیلسن منڈیلا نے اپنی زندگی کے 27 قیمتی سال قید میں گزارے۔ نسلی امتیاز کیخلاف اور جمہوریت کے حق میں انکی کاوشوں کے لئے انھیں 1993 میں نوبل انعام سے نوازا گیا، اُنھیں ’بھارت رتنا‘ تمغہ بھی دیا گیا تھا۔

    نسلی امتیاز کے خاتمے ، جمہوری اقدارکو فروغ اور نئی زندگی بخشنے والی عظیم شخصیت نیلسن منڈیلا کا 95 سال کی عمر میں 5 دسمبر 2013 کو جوہانسبرگ میں انتقال ہوا

  • میری نظر میں آج عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا نچوڑ۔۔۔(نعمان بھٹہ)

    میری نظر میں آج عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا نچوڑ۔۔۔(نعمان بھٹہ)

    کیا پاکستان عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوش کے حوالے سے مقدمہ جیت گیا؟؟؟
    ●جس طرح پاکستانی میڈیا پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کو پاکستانی موقف کی جیت بیان کیا جارہا ہے اسی طرح بھارتی میڈیا کلبھوش کیس کے فیصلے کو اپنی حکومت کی کامیابی بیان کررہا ہے۔
    ●اب آتے ہیں حقیقت کی جانب پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ آخر عالمی عدالت انصاف میں چلنے والا یہ مقدمہ ہے کیا ؟
    ●پاکستان نے اپنے ملک میں جاسوسی اور تحریب کاری کے الزام میں بھارتی نیوی کے ایک حاضر سروس آفیسر کو بلوچستان سے گرفتار کیا جس نے پاکستانی اداروں کے سامنے کئی راز اگلے۔
    ان رازوں میں بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسندوں کو بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کی تربیت اور انہیں پاکستان میں مختلف تحریب کاری کی کاروائیوں میں استعمال کرنا بھی شامل تھے ۔
    ●کلبھوشن نے اپنے کئی ویڈیو بیانات میں بھی پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا۔
    ●اب آجاتے ہیں انڈیا کے عالمی عدالت انصاف میں اپنائے گئے موقف پر ۔۔۔۔
    انڈیا کے عالمی عدالت انصاف میں جانے کی وجہ صرف اور صرف کلبھوشن تک کونسلررسائی حاصل کرنا تھی۔
    ●پاکستان بھارت کو کلبھوشن تک کونسلر رسائی دینے سے ہمیشہ انکاری رہا۔
    ●عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد پاکستانی میڈیا اسے اپنی کامیابی بیان کررہا ہے۔
    میڈیا کہ مطابق عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی رہائی کے بھارتی مطالبے کو مسترد کردیا جبکہ اصلیت یہ ہے کہ بھارت نے تو کبھی کلبھوشن کی رہائی کا مطالبہ کیا ہی نہیں وہ تو صرف کلبھوشن کے معاملہ پر کونسلر رسائی مانگ رہا تھا۔
    ●عالمی عدالت انصاف نے کونسلر رسائی کے بھارتی موقف کو تسلیم کر تے ہوئے ویانا کنونشن کے تحت بھارت کو کلبھوشن تک کونسلر رسائی دینے کا حکم دیا۔

    ●اس کے بعد سوچیں آج کا فیصلہ پاکستان کی جیت ہے یا انڈیا کی؟؟

  • نئی دنیا نیا فیچر،آئی فون صارفین کیلئے خوشخبری لے آیا

    نئی دنیا نیا فیچر،آئی فون صارفین کیلئے خوشخبری لے آیا

    لندن :آئی فون نے صارفین کو نئی خوشخبر سنا دی.آئی ٹی کمپنی ایپل Appleنے 59نئے ایموجیز کی جھلک جاری کردی ۔ یہ ایموجیز کچھ عرصہ بعد آئی فونز کے آئی او ایس سافٹ وئیر میں میسر ہونگے ۔ ان ایموجیز میں پہلے سے زیادہ آپشنز رکھے گئے ہیں ،مثال کے طور پر جلد کا رنگ ،جوڑے کی صورت میں بھی ایموجیز بنائے جاسکیں گے ۔ یہاں مزید کھانوں اور جانوروں آپشنر بھی رکھے گئے ہیں ۔

    ڈیلی میل کے مطابق یہ ایموجیز آئی او ایس IOS سافٹ وئیر اسی سال میسر ہوگا ۔ کمپنی ان ایموجیز کو عالمی ایموجی ڈے پر جاری کرے گی ۔ آئی فون صارفین کیلئے یہ بہترین سہولت ہوگی ۔اس سے پہلے بھی آئی فون کئی نئے فیچر متعارف کروا چکی ہے. حالیہ فیچر کے بارےمیں یوزرز کا خیال ہے کہ اس سے آئی فون کے استعمال کرنے والوں پر مثبت اثرات ہوں گے

  • چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    خوبصورت اور گھنے بال کرنا اب بس ایک خواب ہی نہیں اگر آپ مندرجہ ذیل طریقے استعمال کرتی ہیں تو آپ کے بال بھی گھنے اور لمبے ہو سکتے ہیں.

    بالوں کا کاٹنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کی بہتر نشوونما چاہتے ہیں تویہ اس کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر 4 سے 8 ہفتوں کے دوران بال کٹوانے سے ان کی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بالوں کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے جب کہ اس طریقے سے بال مضبوط اور گھنے بھی ہوتے ہیں۔

    نیم گرم تیل سے مالش کرنا:
    کمزور بالوں سے نجات کے لیے سر پر نیم گرم تیل کی مالش بھی انتہائی مفید ہے اس سے نہ صرف نئے بال تیزی سے اگتے ہیں بلکہ انسان گنج پن سے بھی محفوظ رہتا ہے جب کہ بالوں کی خشکی سے محفوظ رہنے کے لئے بھی یہ طریقہ کارگر ہے۔ سر کی مالش کے لیے زیتون اور کھوپرے کا تیل زیادہ مفید ہوتا ہے۔

    بالوں میں انڈے کی زردی لگانا:
    سر میں انڈے کی زردی لگانے سے نہ صرف بال گھنے اور مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے بالوں کی چمک اور خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔

    دن میں 50 بار کنگھا کرنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دن میں کم از کم 50 بار کنگھا ضرور کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سر میں کنگھا کرنے سے نہ صرف بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ بالوں کا گرنا بھی کم ہوجاتا ہے۔

    جسمانی صحت کے اثرات:
    خون کی کمی یا جسمانی طور پر کمزور شخص کے بال کبھی بھی صحت مند توانا اور گھنے و سیاہ نہیں ہوں گے اس لیے صحت کی طرف توجہ ضروری ہے جب کہ اس سلسلے میں غذا میں موسمی پھل، سبزیاں، دودھ اور دہی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔

  • حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    حافظ سعید محب وطن یا ملک دشمن ؟؟ صالح عبداللہ جتوئی

    خدمت انسانیت کی بدولت میں بچپن سے ایک بندے کا فین ہوں جس نے دین کی پرچار بھی خوب کی اور انسانیت کی خدمت بھی بلاتفریق سرانجام دی خواہ ہندو ہو یا سکھ عیسائی ہو یا مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا سب ان کی خدمت اور محبت کے گرویدہ ہیں.

    انہوں نے کبھی بھی فرقہ پرستی فتنہ و فساد کی لہر کو ہوا نہیں دی بلکہ ایسی چیزوں کا رد کیا ہے اور مسلمانوں کو ایک ہو کے اسلام کی تعلیمات پہ عمل پیرا ہونے کی تلقین کی ہے.

    سادہ لباس والے منہ پہ داڑھی سجاۓ یہ معصوم لوگ جن کے پاس انسانیت کی خدمت کے علاوہ کوئی پہچان نہیں ان کو محض دوسروں کی خوشنودی کے لیے بار بار بین کر دیا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنے رب پہ بھروسہ رکھتے ہوۓ صبر و استقامت کا دامن مضبوطی سے تھام لیتے ہیں.

    یہ واحد جماعت اور شخصیت ہے جنہوں نے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونکی اور اس تحریک کو جاری و ساری رکھتے ہوۓ مزید تقویت بخشی جس کی وجہ سے کشمیری بھی ان سے بے پناہ محبت کرنے لگ گئے.

    یہ وہ جماعت ہے جو تھر کے ریگستانوں میں بھی بلکتے بچوں کا سہارا بن جاتے ہیں اور ان کو راشن مہیا کرتے ہیں حالانکہ تمام وسائل ہونے کے باوجود وہاں کی گورنمنٹ تمام وسائل کو اپنی عیاشیوں اور مے کدوں کی نظر کر دیتے ہیں اور باتیں بناتے ہیں وہ خدمتگاروں پہ.

    مجھے اپنے انتخاب پہ فخر بھی وتا ہے اور حیرانگی بھی بہت ہوتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہے جن پہ جب بھی کوئی پابندی لگتی ہے الزام لگتے ہیں کیس بنتے ہیں یا نظر بندیاں اور پکڑ دھکڑ شروع ہو جاتی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی گالی گلوچ والا سین نہیں ہوتا اور نہ ہی سڑکیں بند ہوتی ہیں یہاں تک کہ وہ اپنا سامان بھی سرکاری تحویل میں لینے والوں کی گاڑیوں میں خود رکھواتے ہیں.

    اس ملک میں جو بھی مصائب آۓ چاہے زلزلہ ہو یا سیلاب آندھی ہو یا طوفان انہوں نے بغیر سرکاری وسائل کے قوم کی خوب اچھے طریقے سے خدمت کی اور ان کو راشن پہچانے کے ساتھ ساتھ ان کو گھر بھی تعمیر کر کے دیے.

    بلوچستان میں ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں حافظ سعید کا بہت بڑا کردار رہا ہے ان کی وجہ سے بلوچستان میں بھی پاکستان کا جھنڈا لہرایا گیا.

    یہ وہی حافظ سعید ہیں جنہوں نے سب سے پہلے فتنہ و فساد پھیلانے والے تکفیری طالبانوں (داعش و ٹی ٹی پی) کو دہشت گرد قرار دیا اور اس پہ کئی کتابوں کو بھی شائع کروایا.

    محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے انہوں نے کبھی بھی توڑ پھوڑ والا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اپنے تمام کارکنان کو بھی پرامن رہنے کی تربیت بھی دی اور کسی قسم کا کوئی جلاؤ گھیراؤ کرنے سے بھی منع کیا.

    ایک بے قصور آدمی جس کا جرم صرف اور صرف انسانیت کی خدمت ہے اور اسے بار بار بین کر دیا جاتا ہے لیکن پھر جب کوئی ثبوت نہیں ملتا تو عدالتیں کئی دفعہ اس کو کلین چٹ دے چکی ہیں کیونکہ ان کا کوئی جرم تو نہیں ہے کوئی تو پھر بار بار کیوں پابندی لگا دی جاتی ہے کیوں کفار کو خوش کر کے محب وطن پاکستانیوں کو تنگ کیا جاتا ہے ہم دوسروں سے بناتے بناتے اپنوں سے ہی بگاڑ رہے ہیں آخر کیوں؟

    گھر کی خاطر
    سو دکھ جھیلیں
    گھر تو آخر اپنا ہے

    بے قصور ہونے کے باوجود اس بندے نے کبھی بھی ریاست سے ٹکرانے توڑ پھوڑ فتنہ و فساد کا کبھی نہیں سوچا کیونکہ یہ محب وطن پاکستانی ہیں ان کا مقصد خدمت ہے اور یہ کام نہیں رکے گا اور پاکستان ترقی بھی کرے گا لیکن پھر بھی بتا دیں کیا جرم ہے ان کا؟

    زندگی کاٹی ہے جبر مسلسل میں
    نا جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

    خدمت انسانیت اپنا راستہ خود بنا لیتی ہے یہ پابندیاں پکڑ دھکڑ سب عارضی ہیں ان شاء اللہ یہ جماعت اور حافظ سعید ہمیشہ کی طرح عدالتوں سے رجوع کریں گے اور ہمیشہ کی طرح سرخرو بھی ہوں گے کیونکہ یہ ملک کو توڑنے والے اور ریاست سے ٹکرانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اپنی فوج کو للکارا ہے یہ تو امن کے داعی ہیں اور پاکستان کا نام روشن کرنے والے ہیں.

    دوسری طرف جو سیاستدان جیلوں میں قید ہیں انہوں نے اقتدار کی آڑ میں اس ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے کرپشن ہو یا غداری چوری ہو یا بغاوت سب جرم کیے ہیں انہوں نے کبھی یہ اداروں سے ٹکراتے ہیں کبھی عدالتوں سے اور کبھی اپنی ہی فوج پہ گولیاں چلا دیتے ہیں اور کونسا ایسا کام ہے جو انہوں نے اس ملک کے خلاف نہ کیا ہو؟

    کیا چوروں کرپٹ لوگوں اور غنڈوں کا انسانیت کے خدمتگاروں سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
    بالکل بھی نہیں کیونکہ ہمیں پاکستان سے محبت کرنے والوں سے محبت ہے اور اس کے دشمنوں سے سخت دشمنی ہے.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو آمین ثمہ آمین
    پاکستان پائندہ باد

  • نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    ہم ہر اس پاکستانی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں جنہوں نے ہمیں دیکھ کر یا ہماری دعوت پر نفاذ اردو کا جھنڈا اٹھایا ہے۔ ہم نے نفاذ اردو کی آواز عملی طور پر ایسے اجتماعات میں بلند کی جہاں انگریزی کی غلامی کے خلاف بات کرنا ” کفر ” سمجھا جاتا تھا۔ جب ہم پاکستان میں نفاذ اردو کی بات کرتے تھے لوگ ہمیں ہونق ہو کر دیکھتے تھے۔ ہمارا مذاق اڑاتے تھے’ ہم نے نفاذ اردو کا پیغام پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی غلامی کے علمبردار ایچی سن کالج سمیت پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت کو دیا۔ ہم نے آرمی چیف کو خط لکھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے براہ کرم اپنے عہدے کا حلف اردو میں لیں ۔الحمدللہ! آرمی چیف نے ہماری بات کی لاج رکھی اور پاکستان کے پہلے آرمی چیف بنے جنہوں نے اُردو میں حلف لیا!
    ہم نے موجودہ وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب کرنے کے لیے قائل کیا۔
    الحمداللہ! انہوں نے ہماری درخواست پر اقوام متحدہ میں پہلی مرتبہ اردو میں بات میں کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند کیا!
    ہم نے لاہور ‘ اسلام آباد میں نفاذ اردو کی ملک گیر کامیاب کانفرنسیں منعقد کی ہیں!
    ہم نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو آئین کی شق 251 جو پاکستان کی زبانوں کے حوالے سے ہے اس پر عملدرآمد کی طرف توجہ دلائی۔ اس سلسلے میں ان کو عملی طور پر ان کے مقدمے کے ترجمے بھی اردو میں کر کے دیے جس سے متاثر ہوکر چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک اسلام آباد کے وکیل کوکب اقبال کا پرانا مقدمہ جو 2003 میں مٹی کی گرد میں دبا ہوا تھا جس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کررہے تھے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بطور خاص درخواست دے کر اس کی سماعت شروع کی۔۔۔اور اپنی سبکدوشی کے آخری لمحوں میں نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے اپنا نام تاریخ میں رقم کر گئے۔ اور آج بھی وہ اس مقدمے کے نفاذ سے الگ نہیں ہیں ۔ گاہے بگاہے اس مقدمے کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ لمز یونیورسٹی جیسے انگریزی میڈیم ادارے سے وابستہ ہوکر وہاں طلباء اور اساتذہ میں نفاذاردو کا شعور بیدار کر رہے ہیں۔
    پورا پاکستان نفاذ اردو کے حوالے سے ہماری کوششوں سے واقف ہے۔ ہم نفاذ اردو کی جنگ عدالتوں’ سڑکوں’ ذرائع ابلاغ’ بازاروں’ ریستوران’ تعلیمی اداروں’ دفتروں غرض ہر جگہ لڑ رہے ہیں۔۔
    ہماری کانفرنس میں پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت ‘ تمام شعبہ زندگی’تمام سیاسی جماعتوں، سول و عسکری قیادت آتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان’ جنرل حمید گل مرحوم، جنرل راحت لطیف’ بریگیڈیئر حامد سعید’ جنرل غلام مصطفی ‘ اوریا مقبول جان’ عرفان صدیقی’ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ مجیب الرحمٰن شامی’ ڈاکٹر اجمل نیازی’ ڈاکٹر خواجہ ذکریا’ پروفیسر فتح ملک’ اعجاز چوہدری ‘ محمود الرشید’ سعدیہ سہیل’ بشری رحمن’ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘ڈاکٹر فاطمہ حسن’ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید’ ڈاکٹر جاوید منظر’ سابق وزیر تعلیم رانا مشہود’ سابق وزیر بلوچستان صالح بلوچ’ قیوم نظامی’ ابصار عبدالعلی ‘ ڈاکٹر افتخار بخاری’ جسٹس ناصرہ اقبال’ سمیعہ راحیل قاضی اور ایک لمبی فہرست ہے جو ہماری کوششوں سے واقف ہیں۔ ہم اپنی تحریک کے قائد عزیز ظفر آزاد کی قیادت میں دن رات نفاذ اردو کے لئے سر گرم ہیں۔ ان شاءاللہ اردو کو پاکستان کا نظام زندگی بنا کر ہی دم لیں گے!
    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اردو کو پاکستان کی عدالتی ‘ سرکاری اور تعلیمی زبان نہ بنادیں!
    ان شاءاللہ! اللہ کے فضل سے پاکستان میں نفاذاردو کی منزل بہت قریب ہے!
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • پلانک ورزش کے جادوئی اثرات

    پلانک ورزش کے جادوئی اثرات

    پلانک ایک جادوئی ورزش ہے جس کے اثرات انسانی جسم پر بہت زیادہ ہے یعنی کم وقت میں اپنا اثر دکھاتی ہے

    تفصیلات کے مطابق شروع سے سنتے آئے ہیں کہ ورزش نہایت اہم ہے اور یہ صحت کے لیے لازم ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے . اگر آپ اپنی مصروف ترین مصروفیت میں سے 20 سے 30 منٹ بھی ورزش کر لیں تو آپ میں لازمی واضح مثبت اثر پڑے گا.

    پلانک ایک ایسی ورزش کا نام ہے جس کو اپنی روٹین میں شامل کر لیں تو آپ پر اس کا بہت جلدی اور مثبت اثر آتا ہے، دفاتر میں 8 سے 10 گھنٹے بیٹھنے والوں کے لیے یہ ایک جادوئی ورزش ہے، پلانک کے بے حد فوائد ہیں جن میں کمر کے درد کا ختم ہو جانا، کمر کے پٹھوں کا مضبوط ہونا، پیٹ سمیت اضافی وزن کے کم ہونے کے ساتھ ساتھ برداشت بھی پیدا ہوتی ہے۔

    پلانک ایک محنت طلب ورزش ہے جس کے بہترین نتائج آپ کو دنوں میں ملتے ہیں، اسی لیے اسے چیلنج سمجھ کی بھی کیا جاتا ہے، پلانک نہ صرف آپ کے پیٹ کو دنوں میں کم کرتا ہے بلکہ ساتھ ہی سارے جسم کو بے ڈھنگی شکل سے ایک مناسب شکل بھی دیتا ہے، پلانک کمر کے درد کے لیے موزوں ورزش ہے۔

    دفتر کے کام کاج بالخصوص صرف ایک جگہ ہی بیٹھ کر کام کرنے والے فرصت ملتے ہی خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ، ایسے لوگوں کا پلانک کو انجام دینے سے موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے اور دماغی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے جس سے انسان خود کو چوکنا، خوش اور ہلکا محسوس کرنے لگتا ہے

  • س سیٹھ ص صحافی …

    س سیٹھ ص صحافی …

    کچھ دنوں سے ایک مشہور اینکر پرسن کی وڈیوز گردش میں ہیں جس میں وہ چیلنج کرتے نظر آتے ہیں کہ ‘آئو مجھے گرفتار کرو۔ میں پرویز مشرف نہیں کہ بھاگ جائوں گا وغیر ہ وغیرہ’ ۔۔۔ وہ اینکر سے سیاست دان زیادہ نظرآتے ہیں۔ورنہ اُنکا پرویز مشرف سے کیا لینا دینا. شائد سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اُن پر بھی سیاست دانوں کا رنگ چڑھ گیاہے۔
    مجھے حیرانی اس بات کی ہوئی کہ اتنے کھڑپینچ اینکر کو بھی اپنی بات کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارہ کیوں لینا پڑ رہاہے جبکہ وہ روز سیاست دانوں کے ساتھ ایک پرائیویٹ چینل پر ٹاک شو میں محفل سجاتاہے ۔ کیاوجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل کے لیے ٹاک شو کا پلیٹ فارم استعمال نہیں کرسکتے آخر وہ بھی تو بڑے صحافی ہیں اور کوئی اوراینکر بھی انہیں‌ بطور گیسٹ نہیں بلاتا ورنہ تو سوشل میڈیا کی کسی بھی ویڈیو پرٹاک شوز ہورہے ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ آداب صحافت کے خلاف ہے یا سیٹھ اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ۔۔؟؟؟
    وجہ کوئی بھی ہوچھوٹے موٹے صحافی یا میڈیا ورکرز سوچتے ہیں کہ جب اتنا تگڑا اینکر اپنی بات ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکتا تو اُنکی بات کون کرے گا جو ‘تبدیلی’ آنے کے بعد سب سے زیادہ سیٹھوں کے زیر عتاب ہیں ۔ وہ سیٹھ جنہوں نے انہی میڈیاورکرزکے خون پسینے سے بڑی بڑی ایمپائرز کھڑی کی ہیں ۔ایک چینل سے کئی چینل بنائے اور کئی کاروبار کھڑے کیے ۔جب اُنکا زرہ سا منافع کم ہوا تو سارا بوجھ میڈیا ورکرز پر ڈال دیاگیا۔ اخبار ہوں یا نیوز چینلز، سب نے بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز کو نکال باہرکیا۔ تنخواہیں تیس فیصد سے لیکر پچاس فیصد تک کم کردی گئیں.
    حد تو یہ ہے کہ حالات کا رونا روتے ہوئے میڈیا کے سیٹھوں نے دو دو تینن تین تنخواہیں نیچے لگادیں ۔۔۔ کوئی چھوڑ کر جانا چاہے تو کہاجاتا ہے شوق سے جائوگزشتہ تنخواہیں نہیں ملے گی… مگر یہ تو اینکرز کا مسئلہ ہی نہیں !
    یہی ویڈیو والے اینکر صاحب مزدور ڈے پر ٹائ کوٹ چڑھا کر ایک بھٹے پر مزدوروں سے سوال کرتے نظرآئے کہ اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے اور پھر کسی مزدور کی داد رسی کروا کر ٹوئیٹر پر خود داد بھی سمیٹے نظر آئے ۔۔لیکن کیا ان اینکر صاب کو شائد یہ پتہ نہیں کہ میڈیا ورکرز کی حالت بھٹہ مزدوروں جیسی ہے ۔ میڈیا ورکرز بھی سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ سیٹھ ڈٹھائی سے ورکرز کی کئی تنخواہیں نیچے لگا رکھتے ہیں . حد تویہ ہے ہمارے جوڈیشیل سسٹم سے ورکرز کی بجائے سیٹھوں کو زیادہ ریلیف ملتے دیکھاہے۔ ۔۔
    اینکرز سارا دن چینلوں پر بیٹھ کر سیاسی دنگل کرواتے ہیں لیکن کتنی بار ایساہوا کہ کبھی میڈیا ورکرز کے استحصال پر کوئی پروگرام کیا گیاہو۔
    اگرکبھی کوئی چینل بند ہوتاہے تو یہی ورکررز ہوتے ہیں جو سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اور سیٹھوں کے لیے آزادی اظہار کی جنگ لڑتے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہی سیٹھ ورکرز کے چولھے بند کردیتے ہیں تو اور ورکرز سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو کوئی بھی ٹی وی چینل ان کی آواز نہیں بنتا کوئی بھی اینکر ورکرز کا مقدمہ نہیں لڑتا۔کیونکہ سیٹھ اجازت نہیں دیتا۔ کئی میڈیا ورکرز جو کئی کئ سالوں سے سیٹھوں کے پاس کام کررہےتھے جھٹ میں فارغ کر دیے گئے۔ ان میں سے کچھ چھوٹے موٹے کام ڈھونڈ رہے ہیں۔ اور کچھ یوٹیوب پر طبع آزمائی کررہے ہیں ۔۔۔

    پرانے چینلوں سے جو لوگ نکالے گئے انہوں نے نئے آنے والے چینلوں کا رُخ کیا مگر وہاں بھی حالات ورکرز کے حق میں اچھے نہیں۔ یونیورسٹی سےڈگریاں لینے کے بعد جب سٹوڈنٹس نیوز چینلزکا رُخ کرتے ہیں توانہیں انٹرنشپ کے نام پر چھ چھ مہینے مفت کام کروایا جاتاہے ۔ اور پھر 15 ، 20 ہزار پر نوکری دے دی جاتی ہے ۔جو کئی کئی سال تک نہینں بڑھتی ۔ کئی ٹی وی چینل ایسے بھی ہیں جو اس سے بھی کم تنخواہ پر لوگوں کو رکتھے ہیں ۔مگر وہ بھی چھ چھ مہینے نہیں دیتے ۔ نہ میڈیکل نہ فیول اورنہ گریجوئٹی وغیرہ ۔
    اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے ‘تُھوک سے پکوڑے تلتے ہیں’ اورمیڈیا ورکرز اکلوتی سیلری پر لگے رہتے ہیں اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔

    جو حال ہمارے ملک کے میڈیا ہائوسز کاہے میرے خیال میں میڈیا کی تعلیم میں یہ سبق بھی ڈالاجائےکہ میڈیاکی چھوٹی موٹی نوکری وہ کرے جواس کے ساتھ کوئی دوسرا کاروبار بھی کررہاہو۔۔۔یاپھر شادی بیاہ ، بیوی بچوں کے جھنجھٹ میں نہ پڑے کیونکہ یہ نوکری کسی بھی وقت جاسکتی ہے ۔۔۔

    لیکن یہ مسائل چھوٹے موٹے صحافیوں اورمیڈیا ورکرز کے ہیں ۔ بڑے اینکروں کے نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو چینلوں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیتے ہیں اور سیٹھ بھی انہیں تنخواہیں وقت سے بھی پہلےدے دیتے ہیں۔ کچھ اینکرز ایسے بھی ہیں جنہیں نوکری سے نکالا نہیں جاتا بلکہ یہ خود نئی نوکری پر چلے جاتےہیں ۔ تو پھروہ اینکرز ان ایشوز پر بات کر کہ سیٹھ کو ناراض کیوں کریں گے ۔
    رہی بات صحافتی تنظیموں کی تویہ تنظیمیں سال کے آخرمیں الیکشن کے دنوں میں جاگتی ہیں ۔صحافیوں کے حقوق کے خوب نعرے لگائے جاتے ہیں اورپھر آپس میں لڑ بھڑ کر ہار جیت کر سب سال بھر کے لیے ٹھنڈے پڑے جاتے ہیں ۔ پیمرا کی نظر بھی صرف مواد پر ہوتی ہے ۔میڈیا ہاوءسز میں صحافیوں کے  ہونے والے استحصال پر نہیں

    لیکن ایک بات ہے ۔۔جبسے ‘تبدیلی’ کی گرم ہوا چلی ہے ۔۔اس کی تپش کچھ اینکرز کوبھی لپیٹ میں لے رہی ہے ۔۔ کچھ فارغ کردیے گئے اور وہ اب یوٹیوب پر اپنا منجن بیچ رہے ہیں اور کچھ خاموشی سے تنخواہ کٹوا کر کام کررہے ہیں ۔ لیکن سیٹھ کو کوئی فرق نہیں پڑاکیونکہ اُس کے ٹی وی چینلز کے علاوہ بھی کئی کاروبار ہیں ۔ اور تبدیلی کےاثرات صرف میڈیا ورکرز ہی جھیل رہے ہیں ۔
    آئے روز چینلوں سے لوگ نکالے جارہے ہیں ۔۔اوروہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں ۔۔۔جو فارغ ہوجاتے ہیں اپنی قسمت پر آنسو بہاتے ہیں اور بچ جانے والے شکر بجا لاتے ہیں ۔۔سیٹھ کے آگے سب بے بس ہیں
    آزادی اظہار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو میں اُس دن مانوں گا جب رپورٹر، کیمرہ مین ، ڈرائیور ، او بی وین آپریٹر، پی سی آر اور ایم سی آر سٹاف، نیوز روم ورکرز، رائٹرز، پروڈیوسرز، نان لینئر ایڈیٹرز اور دیگر ورکرز کے مسائل کے بارے میں بھی بولیں گے ! وہاں آزادی اظہار کے بھاشن اچھے نہیں لگتے جہا ں میڈیا ورکر یہ سوچ کر دفتر جائے کہ پتہ نہیں آج نوکری رہتی ہے یا پھر خدا حافظ کا پروانہ ملتا ہے ۔ یہاں سیٹھ کی چلتی ہے صحافی کی نہیں اور سیٹھ صرف کاروبار کرتا ہے اور اُسکی نظر صرف منافع پر ہوتی ہے صحافت جائے بھاڑ میں .