Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گلوکار راجہ رپسٹارنے "غزوہ ہند” کا گانا گا کرجزبے گرما دئیے ،

    گلوکار راجہ رپسٹارنے "غزوہ ہند” کا گانا گا کرجزبے گرما دئیے ،

    لاہور:پاکستان کے معروف گلوکار راجہ رپسٹار نے ایک نیا گانا گاکر پاکستانیوں کے خون گرما دیئے،راجہ رپسٹآر نے اپنا یہ گانا غزوہ ہند کے نام سے متعارف کروایا ہے. اپنے اس نیشنل گانے میں بھارت میں‌ اس غزوہ کی یادیں تازہ کردی ہیں جس کا ذکر احادیث میں بھی آیا ہے.

    راجہ رپسٹار نے اپنے اس گانے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میں ہونے والی ممکنہ جنگ کا منظر بھی پیش کیا ہے جس میں پاکستان افواج بھارتی پر ٹوٹ کر حملے کررہی ہوتی ہیں، اس میں پاک فضائیہ ،پاک بحریہ اور پاک آرمی کی جہادی کارروائیوں‌ کی عکس بندی کی ہے.

    یاد رہے کہ غزوہ ہند کے برپا ہونے کے حوالے سے علما کا کہنا ہے کہ نبی رحمت نے بھارت میں اس غزوہ کی پشین گوئی کی تھی اور مسلمانوں پر بھارت میں‌ہونے والے مظالم کے بعد اب اس حدیث کی صداقت کے آثار نظر آنا ہونے شروع ہوگئے ہیں.ان حالات میں‌راجہ رپسٹار کا یہ گانا بڑا معروف ہورہا ہے.

  • یہ برطانیہ ہے جہاں سڑک کا نام بھی  گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوگیا

    یہ برطانیہ ہے جہاں سڑک کا نام بھی گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوگیا

    لندن:گینیز ورلڈ ریکارڈ میں‌برطانیہ کی سڑکیں اپنی جگہ بنانے لگیں.حال ہی میں‌ایک برطانوی سڑک کا نام گینیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا۔ برطانیہ میں واقع ویلز کی اس سڑک چڑھنے کا سوچ کر ہی ہمت جواب دے جاتی ہے،اپنی اسی انفرادیت کی بنا پر اس سڑک کانام نہ صرف گنیز بک میں شامل کرلیا گیا ہے بلکہ یہ سڑک لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔

    برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق ویلز کے ہارلیک ٹاؤن میں دنیا کی سب سے ڈھلوان سڑک 2.86 میٹر کے بعد ایک میٹر اونچی ہے جس کے باعث سڑک پر چلنے والوں کیلئے یہ سفر مزید دشوار ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل یہ ریکارڈ نیوزی لینڈ کے شہر ڈنیڈن کی سڑک کے پاس تھا جو 2.67 میٹر کے بعد ایک میٹر اونچی ہے۔

  • بوڑھا دیکھانے والی "فیس ایپ” کتنی خطرناک،جان لیں تو ہوش اڑ جائیں

    بوڑھا دیکھانے والی "فیس ایپ” کتنی خطرناک،جان لیں تو ہوش اڑ جائیں

    فیس ایپ کی کارستانی جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں اور اسکو انسٹال کرنے سے توبہ کر لیں اورکبھی انسٹال نہ کریں.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر نئی ایپ نے تہلکہ مچا رکھا ہے ، روسی انجینئرز کی تیار کردہ نئی ایپلی کیشن مشہور ہونے کے ساتھ متنازع بھی ہوگئ ہے یہ اہپلی کیشن کتنی خطرناک ہے اگر آپ جان لیں تو شاید کبھی اس کو استعمال نہ کریں.اس ایپلی کیشن میں آپ کا تمام ڈیٹا ایپلی کیشن کے منتظمین چرا لیتے ہیں.آپ کی ہر حرکت اور ایکٹیوٹی کی جاسوسی ہوتی ہیں.ایپلی کیشن کے قوائد و ضوابط میں واضح لکھا ہے کہ ۔اس ایپلی کیشن کے انسٹال کرنے کے بعد آپ اس ایپ کو اجازت دے دیں گے کہ وہ آپ کی پسند نا پسند، شخصیت کا میلان ،آواز ، کونٹیکٹ نمبرز اور اس ڈیٹا پر رسائی حاصل کر لیں گے جو آپ کے موبائل فون میں ہے.

    اس ایپ کو امریکا میں بھی خطرناک قرار دے دیا گیا ہے امریکی جریدے کے مطابق ایپ کو گوگل پلے سے 10 کروڑ سے زیادہ لوگ ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں جبکہ دنیا کے 121 ممالک میں یہ ٹاپ رینکنگ ایپ بن چکی ہے۔امریکی بزنس جریدے نے خبردار کیا ہے کہ ایپ کے ذریعے کمپنی کو دنیا میں تقریباً 15 کروڑ لوگوں کی تصاویر کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگئی ہے
    یہ ایپ اسے استعمال کرنے والے صارفین کی تصاویر اپنے کلاؤڈ میں اپ لوڈ کرتی ہے اور صارفین سے ان کی نجی تصاویر اور ڈیٹا تک مکمل اور ناقابل تنسیخ رسائی کا تقاضہ کرتی ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی اپنی یادداشت میں محفوظ ان تصاویر کو جب چاہے جس مقصد کیلئے چاہے استعمال کرسکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپ میں محفوظ ڈیٹا کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر پروگرام کو چہرہ کی شناخت کی تربیت دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • محمکہ تعلیم پنجاب کی نئی پیشکش ، گھربیٹھے داخلہ فارم جمع کروائیں

    محمکہ تعلیم پنجاب کی نئی پیشکش ، گھربیٹھے داخلہ فارم جمع کروائیں

    لاہور:تعلیم کے میدان میں‌ بھی تبدیلی آنے لگی ،محکمہ تعلیم حکومت پنجاب نے آن لائن داخلہ کروانے کی سہولت متعارت کروا دی، اطلاعات کے مطابق میٹرک امتحانات میں پاس ہونیوالے طلباکیلئے سرکاری کالجوں میں آن لائن داخلوں کا اجراء ہوگیا، طلباء گھر بیٹھے فرسٹ ایئر میں داخلوں کے فارم جمع کراسکتے ہیں۔

    محکمہ تعلیم کےذرائع کے مطابق صوبے بھر میں‌ میٹرک پاس کرنے والے طلباء کیلئے فرسٹ ائیر میں آن لائن داخلوں کا آغاز ہوگیا ہے، پنجاب کے 730 سرکاری کالجوں میں انٹرمیڈیٹ داخلوں کی درخواستوں کی وصولی جاری ہے، آن لائن کالج ایڈمشن سسٹم کے نام سے ویب سائٹ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب ، پی آئی ٹی بی اور پنجاب بینک کے اشتراک سے چل رہی ہے۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق داخلے کے خواہش مند طلبا سرکاری کالجوں کی لمبی قطاروں کی بجائے گھر بیٹھے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں، طلبا ایف اے، ایف ایس سی اور آئی سی ایس میں داخلوں کی درخواست دے سکتے ہیں، ویب سائٹ پر 2011 سے اب تک 16لاکھ درخواستیں وصول کی جاچکی ہیں۔

  • اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    اک منظر فلسطین کا … غنی محمود قصوری

    منظر فلسطین کے شہر غزہ کا ہے رات کا سناٹا چھایا ہے اسرائیلی فوج نے کرفیوں لگا رکھا ہے جو کہ چار دن سے جاری ہے کسی کو باہر آنے جانے کی اجازت نہیں ام عبداللہ اپنے دو بیٹوں عبداللہ جس کی عمر 12 سال اور عبدالہادی جس کی عمر 6 سال ہے کو لئے گھر میں بغیر مرد کے بیٹھی ہے کیونکہ چھ ماہ پہلے اسرائیلی فورسز نے ام عبداللہ کے شوہر محمد خالد کو شہید کر دیا تھا رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو رہی ہے اتنے میں عبدالہادی چلانے لگتا ہے ماما رات بھی آپ نے کھانا نہیں دیا مجھے بھوک لگی ہے کھانا دو ماما مجھے کھانا دو ماں کی ممتا ٹرپ جاتی ہے اپنے لخت جگر کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور کہتی ہے میرے لال تمہارا ماموں کھانا لے کر آ رہا ہے تو فکر نا کر سو جا صبح ہونے والی ہے صبح ہوتے ہی تیرے ماموں جان ضرور آئینگے عبدالہادی چیخ پڑا ماما جی آپ روز یہی کہتی ہیں مگر ماموں جان نہیں آتے پاس بیٹھا عبداللہ بولا ماما جی اجازت دیجئے میں خود ہی نانی اماں کے گھر سے کھانا لے آتا ہوں ام عبداللہ نے جب اپنے لخت جگر کی بات سنی تو ٹرپ کر بولی میرے جگر باہر صیہونی فوج کرفیو لگائے بیٹھے ہیں وہ تو ہم سب کی جان کے پیاسے ہیں میرے لال میں تمہیں ہرگز نا جانے دونگی عبداللہ بولا ماما جی چار دن سے کچھ نہیں کھایا اگر اب کھانا نا ملا تو ہم تینوں مر جائینگے لہذہ میری ماں مجھے جانے دیجئے صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر ہی تو نانی جان کا گھر ہے میں ابھی گیا اور ابھی آیا مجھ سے عبدالہادی کا رونا نہیں دیکھا جاتا ماں خاموش ہو گئی اور اپنے جگر گوشے کا ماتھا چوما اور دل میں ہزاروں وسوسے چھپائے بولی جا بیٹا احتیاط سے جانا اور نانی جان کو میرا سلام کہنا ام عبداللہ اپنے جگر کو دروازے تک چھوڑنے گئی اور ڈورتے ہوئے عبداللہ کو حسرت سے دیکھتی رہی
    دوسری طرف ستر سالہ ام جعفر اپنے نواسے کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور سینے سے لگا کر بولی میرے پیارے تو اتنے خطرے میں کیوں گھر سے نکلا تو عبداللہ نے سارا ماجرا بیان کیا ام جعفر عبداللہ کی باتیں سن کر پریشان ہوگئی کیونکہ یہی ماجرہ ان کے اپنے ساتھ بھی تھا خیر ام جعفر نے پوتے کو تسلی دی اور خود کچن میں جا کر دیکھنے لگی آخر سوکھی ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے ملے اور اپنے نواسے کو دیتے ہوئے بولی لے میرے جگر ان سے گزارہ کرنا ابھی دن کا اجالا نمودار نہیں ہوا جا اجالا ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ جا اور یہ ڈبل روٹی کھا کر اللہ کو یاد کرنا اللہ مدد فرمائینگے
    12 سالہ عبداللہ ہاتھ میں سوکھی روٹی کے ٹکڑے اٹھائے گھر کی جانب بھاگ رہا تھا جب گھر کی چوکھٹ کے قریب پہنچا تو اپنے سامنے صیہونی فوج کو دیکھا ابھی عبداللہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اسرائیلی فوجی کی گولی عبداللہ کے عین دل کے اوپر لگی اور بیچارہ عبداللہ اپنے اور اپنے بھائی کے پیٹ کا سامان جہنم ہاتھ میں پکڑے رب کی جنت کا مہمان بن گیا ادھر کمرے میں بند ام عبداللہ نے تشویش سے گھر سے باہر جھانکا تو اپنے لخت جگر عبداللہ کو خون میں لت پت دیکھا تو فوری اپنے لال کے اوپر اپنی مامتا کی آغوش کا سایہ کرکے رونے لگی کہ اتنے میں ظالم فوجی کی دوسری گولی آئی اور ام عبداللہ بھی اپنے لخت جگر کے اوپر گر کر رب کی جنت کی مہمان بن گئی ادھر یہ دونوں ماں بیٹا صیہونی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تو اندر ننھا عبدالہادی بھوک کیساتھ ٹرپ ٹرپ کر رب کی جنتوں کا مہمان ٹھہرا
    آہ بھوک کیسی ظالم چیز ہے پاکستانیوں ان بے کسوں سے پوچھو

  • 19 جولائی  1947 : دنیا بھر کے کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں

    19 جولائی 1947 : دنیا بھر کے کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں

    اسلام آباد: پاکستان سے کشمیریوں کی لازوال محبت کا ہر وقت اظہار ہوتا ہی رہتا ہے. کشمیریوں کو پاکستان سے بچھڑ جانے کی یاد بہت ستاتی ہے. اسی وجہ سے دنیا بھر میں کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں، اس اہم دن کے موقع پر پوری دنیا میں مقیم کشمیری ریلیاں نکالیں گے اور بھارتی جارحیت کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

    آج کے دن 19 جولائی 1947 کے دن کو کشمیریوں نے نظریاتی طور پر پاکستان سے رشتہ جوڑ لیا تھا، جسے بھارتی تسلط نے کچلنے کی کوشش کی لیکن انہتر سال بعد بھی وہ اس مضبوط ڈوری کو توڑ نہ سکا۔19 جولائی 1947 پاکستان کے قیام سے ایک ماہ پہلے کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا جس پر وہ انہتر سال بعد بھی قائم ہیں کشمیر پر بھارتی قبضے کو انہتر سال گزر گئے ۔

    بھارت نے کشمیریوں کا پاکستان سے رشتہ توڑنے کے لیے تمام تر مظالم بھی آزما لیے .یہی وجہ ہے کہ بھارت نے نصف صدی میں نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے لاکھوں کشمیری آزادی کا نعرہ لگاتے جام شہادت نوش کر گئے۔لیکن آج بھی کشمیری عوام ہر سال کی طرح یوم الحاق پاکستان منارہی ہے، قیام پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم کردیا ۔

    بھارت نے کشمیریوں کے نعرہ آزادی بارود کی گونج میں دبانے کی کوشش کی لیکن جذبہ آزادی سے سرشار کشمیریوں کا آج بھی یہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔کشمیری ہر احتجاج میں پاکستانی پرچم لہرا دُنیا بھر کو ثبوت پیش کرتے ہیں کہ کشمیر کل بھی پاکستان تھا ۔ آج بھی ہے اور رہے گا۔

  • ماڈلنگ یا ماڈل بکری ،ملائیشیا کےشہری نے اپنی بکری کو دنیا کی خوبصورت بکری قراردیا

    ماڈلنگ یا ماڈل بکری ،ملائیشیا کےشہری نے اپنی بکری کو دنیا کی خوبصورت بکری قراردیا

    کوالالمپور:بکریوں کی بھی ماڈلنگ ہونے لگی ،ملائیشیا میں دنیا کی خوبصورت ترین بکری کے مالک نے اسے فروخت کے لیے پیش کردیا۔تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کے دارالحکومت کے رہائشی کسان احمد محمد فیدزیر کے گھر بکری کے بچے کی پیدائش ہوئی جس کی تصاویر انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو صارفین نے اسے دنیا کی خوبصورت ترین بکری کا اعزاز دیا۔

    ملائیشیا کے اس شہری کی سفید رنگ کی بکری کا قد زیادہ بڑا نہیں البتہ اُس کے چہرے کے نیچے داڑھی اور سر پر خوبصورت ریشمی بال ہیں، احمد محمد بکری کے حسن کو مزید بڑھانے کے لیے اُن کی مانگ نکال کر رکھتا ہے۔احمد کے مطابق انہوں نے گزشتہ دنوں بکری کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر شیئر کی تو ہر کسی نے اس کی تعریف کی اور یہ مشہور ہوئی، کچھ نے تو اسے بکریوں میں ماڈل قرار دیا۔

    بکری کے مالک کا کہنا تھا کہ جب بکری کی پیدائش ہوئی تو یہ انہیں دیگر سے منفرد اور خوبصورت لگتی ہے کیونکہ اس کے سرپر خوبصورت بال ہیں جو کسی کے بھی نہیں ہیں۔احمد کا کہنا تھا کہ میرا فی الحال اسے فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں البتہ اگر کوئی اسے خریدنا چاہتا ہے تو وہ 150 یورو ادا کر کے لے جاسکتا ہے۔ (پاکستانی کرنسی کے حساب سے مالیت 27 ہزار روپے کے قریب بنتی ہے)

    Comments

  • پنجاب حکومت نے اساتذہ کی تقرریوں کیلئے نئی پالیسی جاری کردی ، تفصیلات خبر میں جانیئے

    پنجاب حکومت نے اساتذہ کی تقرریوں کیلئے نئی پالیسی جاری کردی ، تفصیلات خبر میں جانیئے

    لاہور :حکومت پنجاب نے سرکاری کالجوں کے اساتذہ کے تقرر و تبادلوں کی نئی پالیسی جاری کردی، کسی کالج میں‌پڑھانےکی مدت 3 سال کر دی گئی، ایک ہی کالج میں تین سال سروس کرنے کے بعد اساتذہ کا دوسرے ضلع میں تبادلہ کر دیا جائے گا۔

    نئی پالیسی کے مطابق محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے نئی پالیسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ اکیڈمک سیشن کے دوران اساتذہ کے تبادلے نہیں کیے جائیں گے، تبادلوں کیلئے درخواستیں جون سے لے کر 15 اگست تک وصول کی جائیں گی۔ نئی پالیسی کی دستاویز کے مطابق لیکچرر کی پہلی تقرری کے تین سال تک کالج سے تبادلہ نہیں‌ ہوسکے گا، تین سال کے بعد استاد کو خالی نشست پر کسی دوسرے ضلع میں تبادلے کے لیے اہل تصور کیا جائے گا۔

    حکومت پنجاب کی طرف سے جاری ہونے والی پالیسی کے مطابق دوسری تقرری پانچ سال کے عرصے کے لیے ہوگی، دوسری پوسٹنگ کے پانچ سال کے بعد متعلقہ ڈویژن کے دوسرے ضلع میں ایک سال کیلئے ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ معذوری اور خاوند یا بیوی کے انتقال کی صورت میں کسی بھی دوسرے ضلع میں خالی نشست پر بغیر کسی دوسری شرط کے تبادلہ کر دیا جائے گا۔ میڈیکل کے انتہائی سنجیدہ نوعیت کے کیسز میں میڈیکل بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں دوسرے کالج یا ضلع میں تبادلہ کیا جاسکے گا،

    اس پالیسی میں‌کہا گیا ہے کہ جن اساتذہ کے‌ خلاف ڈسپلنری کارروائی عمل میں‌ لائی جائے گی انھیں دو سال کے لیے کسی دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کر دیا جائے گا تاہم یہ ضلع دوسری ڈویژن سے ہوگا۔

    انٹر ڈسٹرکٹ تبادلوں کے لیے صرف خواتین کو اہل تصور کیا جائے گا جبکہ میوچل تبادلوں کے لیے متعلقہ کالج میں نشست کا خالی ہونا ضروری ہے۔

  • ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
    یوں تو ففتھ جنریشن وار ہر زبان زد عام ہے مگریہ جاننا ناازحد ضروری ہے کہ یہ ہے کیا؟
    جس طرح فورتھ جنریشن وار فیصلہ کن اور ایک مہلک جنگی حکمت عملی تھی۔اس میں بھاری اور قیمتی اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو زیر کیا جاتا تھا جیسے عراق کا کویت پر حملہ پھر سویت یونین اورافغانستان کی جنگ کے بعد سویت یونین کاٹوٹ کر بکھر جانا اور امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا قابل پر قبضہ۔
    پھر امریکہ کا ہی افغانستان پر حملہ کرکےدوبارہ جنگ میں دھکیلنا وغیرہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں طاقت اور قوت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا جاتا اور بہت جلد اس کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح اب روایتی ہتھیاروں کی جنگ کی جگہ ایک نئی حکمت عملی نے لے لی ہے جو آج کل ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام سے مشہور ہے۔
    نوے کی دہائی میں عراق کو مسلسل اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اندر سے کھوکھلا کرنا اور کیمیائی و حیاتیاتی اسلحہ اور وسیع تر تباہی والے ہتھیاروں کے ذخیرے اور صلاحیت کے متعلق انتہائی مبالغہ آمیز پراپیگنڈوں کے ذریعے عالمی سطح پر تنہا کرنا اور پھر شدید بمباری کرتے ہوئے مختلف شہروں کو تباہ کردینا بغداد اور دوسرے علاقوں کے اندر امریکی اور امفوج کو داخل کرکےبہت جلد مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ففتھ جنریشن وار کا ہی شاخسانہ ہے۔
    یہ طریقہ جنگ کم خرچ بالا نشیں کے مصداق سمجھاجاتا ہے۔
    اور کم خرچ میں میں بہت زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی مہربانی کی بدولت القاعدہ سے داعش کوپیدا کیا اور ففتھ جنریشن وار کے ذریعے مسلمانوں کے اندر زہر قاتل کی صورت اس کو بڑھاوا دیا تاکہ اس شدت پسند تنظیم کی مدد سے دنیا میں اسلام کو دہشت گرد مذہب گردانہ جائے اور اسی کی مدد سے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے لگا۔ الغرض
    مختلف متحارب گروہوں اور عوام کو انکی افواج کے خلاف کھڑا کیا گیا جیسا کہ شام لیبیا یمن اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ ہوا۔
    اسی طرح ففتھ جنریشن وار کو پاکستان میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے گمشدہ افراد کا واویلہ کیا جاتا ہے اور بیرونی این جی اوز موم بتی مافیہا کی مددسےاسکو ایک بڑا ایشو بنا دیتی ہیں۔جبکہ وہ لوگ انہی تنظیموں کے کارکن ہوتے ہیں۔
    اسکو سمجھنے کے لیے کراچی میں چائنہ کے سفارت خانے پر حملے کا ملزم جو گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا اسی طرح گزشتہ ماہ گوادر میں ایک ہوٹل پر ہوئےحملے کے ملزم بھی نام ونہاد گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے جو آپریشن کے دوران مارے گئے
    اسی طرح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے اندر مختلف لسانی صوبائی اور مسلکی تفرقات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
    اور دشمن قوتوں کی طرف سے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سکیورٹی کے مختلف اداروں کے خلاف پراپیگنڈا مہم لانچ کی گئی ہے جس کا مقصد اداروں اور عوام میں دوریاں پیدا کرنا ہے۔
    پی ٹی ایم۔ایم کیو مسلم لیگ ن اور ان جیسی بہت سی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں استعمال ہورہی ہیں۔
    تاکہ عوام کے اذہان کو تسخیر کرتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔
    موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم تمام قسم کے لسانی صوبائی اور مسلکی اختلافات کے ساتھ ساتھ شخصیت پرستی کے ناسور سے بھی بالاتر ہوکر ایک قوم بنیں اور اپنی مسلح افواج اور ایجنسیز کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنی بھر پور قوت کے ساتھ ملکی دفاع کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں یہ تبہی ممکن ہے جب ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
    ہر فورمز پر اپنے نظریات کا دفاع کریں۔
    اور منفی پروپیگنڈوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں مضبوط اور طاقتور پاکستان ہی ہماری بقا کا ضامن ہے اور اسی طرح اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر ممکن ہے۔

  • کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    کلبھوشن کیس : پاکستان کے ہاتھوں … بھارت ہوا رسوا …

    عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا کلبھوشن یادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات لگے ۔ کلبھوشن یادو عرف مبارک حسین پٹیل نے ان تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا۔ جس پر کلبھوشن کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ شروع میں تو بھارت کلبوشن کی گرفتاری پر لاتعلقی کا ظاہر کرتا رہا۔ اور اسے اپنا شہری تک تسلیم کرنے سے انکاری رہا۔ پھر جب پاکستان نے ٹھوس ثبوت پیش کیے ۔ کلبوشن کا ویڈو پیغام سامنے آیا کہ وہ بھارتی نیوی کا سرونگ افسر ہے اور را کے خفیہ مشن پر پاکستان کا امن و امان برباد کرنے کیلئے خفیہ طور پر جعلی نام سے پاکستان میں سرگرم ہے تو بھارت کو کوئلوں کی دلالی میں اپنا منہ کالا ہوتا نظر آیا ۔ پھر بھارت نے تسلیم کیا کہ ۔ کلبوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا سابق کارندہ ہے۔ اس کے بعد بھارت بھاگا بھاگا عالمی عدالت جا پہنچا ۔

    مزید پڑھیئے: بھارت … ذرا سوچ سمجھ کر …

    بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف تین اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہا ۔ جبکہ کلبوشن پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی کی کاروائیوں میں بھی ملوث رہا۔ اور ان واقعات میں کئی پاکستانی خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا موقف انتہائی مضبوط تھا۔ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کو 3/1 سے فتح حاصل ہوئی ہے۔ بھارت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن یادیو کیلئے مندرجہ ذیل چار چیزیں مانگی تھیں۔
    قونصلر رسائی
    جاسوسی اور دہشتگردی کے الزامات سے بریت
    سول کورٹ میں ٹرائل
    کلبھوشن کی بھارت کو حوالگی
    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں بھارت کو چار میں سے صرف ایک چیز دی ہے۔ عدالت نے کلبھوشن تک بھارت کو قونصلر رسائی کا حق دیا ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے کے بعد بھارتی جاسوس پاکستان کے پاس ہی رہے گا اور یہیں اس کے کیس پر نظر ثانی کی جائے گی جو کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار ہے۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی پھانسی پر نظر ثانی کا کہا ہے لیکن یہ حکم نہیں دیا کہ اس کا ٹرائل بھی دوبارہ ہوگا اور نہ ہی ری ٹرائل کیلئے سول کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ صرف اس کی سزائے موت پر نظر ثانی کا کہا ہے۔ آج عالمی عدالت کے فیصلے کے پوری دنیا کو پتہ چل چکا ہے کہ کلبوشن یادو ہندوستان کا جاسوس بیٹا ہے۔ جو امن پسند ملک پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہو ئے پکڑا گیا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑ ہے مانگا انھوں نے کچھ تھا اور ملا کچھ ہے ؟ آج ریاست پاکستان ۔ اداروں اور پاکستانی قوم کی فتح کا دن ہے۔

    ویسے تو بھارت کی مکاری کی مثالیں تاریخ کے صفحات پہ درج ہیں۔ بھارت ہمیشہ دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی کوششیں کرتا رہا ہے مگر اس بار اس کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں ۔ بھارتی حکومت اپنے ہی عوام کو بھی الو بنا رہی ہے ۔۔ کہ ہم کیس جیت گئے۔ جیت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    بھارتی میڈیا بھی فیصلے کو بھارت کی فتح قرار دیتے ہوئے بغلیں بجانے میں مصروف ہے ۔ جیسا پہلے وہ جھوٹی سرجیکل سٹرائکس میں خوشی سے پاگل ہو گئے تھے۔ پھر جب ہم نے ان کا ابھی نندن پکڑا تو عقل ٹھکانے آئی۔ اور بھارتی میڈیا نے رنگ بدلتے ہوئے انسانی ہمدردی کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اب ایک بار پھر بھارتی میڈیا نے مودی کو سر پر بیٹھا لیا ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اب سب پر عیاں ہوچکا ہے کہ بھارت ۔ اسکی ایجنسیاں اور ادارے دوسرے ملکوں میں دہشتگردی اور جاسوسی کاروائیوں میں ملوث ہیں ۔ بھارت پورے خطے اور ہمسائے ممالک کوdestablize کررہا ہے ۔
    We exposed india internationally & caught their monkey red handed
    آج پاکستان کو عالمی عدالت۔ اقوام عالم اور سفارتی سطح پر ایک بڑی فتح حاصل ہوئی ہے۔ انشااللہ وہ دن دور نہیں جب بھارت کو کشمیر کے مقدمہ میں بھی شکت فاش ہو گی ۔
    پاک فوج زندہ باد ۔۔۔
    پاکستان زندہ باد ۔۔۔
    دشمنان وطن مردہ باد ۔۔۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں

    ‎@naveedsheikh123