Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پرچی کلچر اور میرٹ کے بغیر کھلاڑیوں کی سلیکشن نے کرکٹ کو تباہ کردیا، شائقین برہم

    پرچی کلچر اور میرٹ کے بغیر کھلاڑیوں کی سلیکشن نے کرکٹ کو تباہ کردیا، شائقین برہم

    باغی ٹی وی.انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) چیمپئنز ٹرافی 2025 کے اہم میچ میں پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں 6 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد شائقین میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ کرکٹ مداحوں نے ٹیم کی ناقص کارکردگی، غیر معیاری سلیکشن اور کپتان محمد رضوان کی حکمت عملی پر کڑی تنقید کی۔

    اتوار کے روز دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 241 رنز بنائے، تاہم بھارتی ٹیم نے ویرات کوہلی کی نصف سنچری کی بدولت یہ ہدف صرف 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ پاکستانی باؤلرز بھارتی بیٹنگ لائن کے سامنے بے بس نظر آئے، جبکہ بیٹنگ میں بھی کوئی کھلاڑی بڑی اننگز نہ کھیل سکا۔

    پاکستان کی شکست کے بعد شائقین نے سوشل میڈیا اور عوامی مقامات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک مداح نے کہا کہ یہ کھلاڑی اپنی تنخواہ لیں اور کرکٹ چھوڑ دیں کیونکہ ان کی کارکردگی کسی کلب ٹیم سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ کچھ شائقین نے الزام لگایا کہ ٹیم میں پرچی کلچر عام ہو چکا ہے، اور میرٹ پر کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں کیا جا رہا، جس کی وجہ سے کرکٹ زوال پذیر ہے۔

    سابق کپتان بابر اعظم بھی شائقین کی تنقید کا شکار ہوئے۔ ایک مداح نے طنزیہ انداز میں کہا کہ لوگ بابر کو کنگ کہتے ہیں، مگر اس کی پرفارمنس کسی عام کھلاڑی جیسی بھی نہیں۔ ایک اور شائق نے کہا کہ بابر اعظم صرف کمزور ٹیموں کے خلاف رنز بناتا ہے اور بڑے میچوں میں ہمیشہ ناکام ہو جاتا ہے۔

    کپتان محمد رضوان کی قیادت پر بھی سوالات اٹھائے گئے اور ان کے فیصلوں کو ناقص قرار دیا گیا۔ شائقین نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں کوئی واضح حکمت عملی نظر نہیں آتی اور ٹیم بغیر کسی پلاننگ کے کھیل رہی ہے۔ باؤلنگ میں اہم مواقع پر شاہین شاہ آفریدی کو بروقت نہ لانے اور بیٹنگ آرڈر میں غیر ضروری تبدیلیوں کو شکست کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

    سلیکشن پالیسی پر بھی سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کرکٹ تجزیہ کاروں اور مداحوں کا کہنا ہے کہ جب تک پسند و ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے، پاکستان کی کارکردگی میں بہتری ممکن نہیں۔ ایک سابق کرکٹر نے تبصرہ کیا کہ اگر قومی ٹیم کو عالمی معیار پر واپس لانا ہے تو سلیکشن میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا ہوگا۔

    پاکستانی ٹیم کی اس شکست کے بعد کرکٹ ماہرین اور سابق کھلاڑی بھی ٹیم مینجمنٹ پر کڑی تنقید کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    برآمدات 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف خوش آئند ،تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی جانب سے 3 سے 5 سال کے دوران برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ یہ ہدف صنعتی شعبے کی ترقی اور ملکی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، مگر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کچھ اہم مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔پاکستان کی حکومت نے گزشتہ 12 سے 14 ماہ کے دوران معیشت کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں کمی کے فیصلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور دوہرے خسارے کو قابو کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ سرکاری نقصانات کو کم کرنے کے لیے اداروں کی رائٹ سائزنگ کی گئی ہے، جس سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی آئی ہے۔

    پاکستان کا صنعتی شعبہ ہمیشہ سے برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اگر حکومت پاکستان کی تجارتی شراکت داریوں کو بڑھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہو گا۔ تاہم، پاکستانی معیشت کو ایک بڑی پریشانی کا سامنا برآمدات میں جمود کی صورت میں ہے۔ پاکستان کو اپنے تجارتی خسارے کو پورا کرنے، بیرونی شعبے کو بہتر بنانے اور مالیاتی ترقی کے لیے برآمدات کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔حکومت کے حالیہ اقدامات کے برخلاف، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے، جو کہ صنعتی شعبے کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ صنعتی مقاصد کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ماہانہ، سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ اور نئے ٹیکسوں کی بھرمار نے صنعتی شعبے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل ملز اور بڑی فیکٹریوں کا بند ہونا ہزاروں مزدوروں کی بے روزگاری کا سبب بن رہا ہے۔آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں، جس کا اثر بیرون ملک ان کی مانگ پر پڑتا ہے۔ نتیجتاً، برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں تنزلی کا سامنا ہوتا ہے۔

    اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو فوری طور پر صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، فیول ایڈجسٹمنٹ کے نظام میں اصلاحات اور صنعتوں کو سہولت دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی ضروری ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو اور 60 ارب ڈالر تک برآمدات کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔پاکستان کی حکومت کو صنعتی شعبے کی حمایت میں فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ وہ 60 ارب ڈالر کے برآمداتی ہدف کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔ اگر ان چیلنجز پر قابو پایا جاتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں بہتری ممکن ہو گی اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا۔

  • ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کے زیر اہتمام امریکہ سے تشریف لائیں منفرد لہجے کی خوش الحان شاعرہ محترمہ قانع ادا کے اعزاز میں سجی ایک ست رنگی شعری نشست جس کی صدارت فرزند لاہور عالی جناب خواجہ جمشید امام نے کی،تقریب کی میزبانی چئیرمین سپریم کونسل ملی ادبی پنچائیت عزت مآب چوہدری رضوان کاہلوں کا مقدر بنی اور نظامت کے فرائض ریاض احمد احسان نے نبھائے- ادب،صحافت،تجارت اور سیاست کے میدان سے تعلق رکھنے والے پانچ درجن سے زائد معززین شہر اور سفیران ادب کی شرکت سے تقریب معتبر ہوئی-

    سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق لاہور عظیم البرکت محمد نواز کھرل کی خصوصی آمد اور گفتگو نے ماحول معطر کیا،ولائت احمد فاروقی نے نعت رسول ﷺ مقبول اس انداز سے پیش کی کہ ساری محفل سبحان اللہ سبحان اللہ کہتی رہی،استاد نذر عباس کی پرفارمنس نے قلب ونگاہ ہی نہیں روح کو بھی سرشار کیا،استاد محترم ممتاز راشد لاہوری نے خوب داد پائی،ڈاکٹر طارق حسین طارق نے فیاضی بانٹی،پروفیسر ضیغم عباس گوندل نے خوشبو بکھیری،فارحہ نوید نے سخن کے پھول نچھاور کیے،سعدیہ ہما شیخ نے مملو و مرصع نظم پیش کی،ڈیوڈ پرسی نے دلوں میں اترنے والا کلام پیش کیا،محترمہ عتیقہ اشرف نے عارفانہ کلام پیش کیا،”بلبل سخن” سجاد بھنڈر نے ولولہ انگیز خطاب فرمایا،طارق حسین لک ایڈووکیٹ نے کلاسیکی لہجے کی خوب ترجمانی کی،چوہدری رضوان کاہلوں نے موٹیویشنل خطاب کیا،گل بات ود چوہدری اسداللہ کاہلوں کے میزبان چوہدری اسد اللہ کاہلوں اور چوہدری ذیشان کاہلوں کی آمد پر ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا،یوسف نثر محترم ناصف اعوان،کیپٹن ر صماد گریوال،معروف سیاسی و سماجی رہنما اسد علی خان،معروف کاروباری شخصیت ہمایوں یوسف کھچی،پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن کے ممبر اشفاق حسین،قومی چیمپئن عبداللہ باکسر اور درجنوں خواتین و حضرات نے داد و تحسین کے وہ پھول نچھاور کیے کہ تخلیق کاروں کی آنکھوں کی مقدس جھالریں بار بار شبنمی ہوتی رہیں-

    شہزادہ علی ذوالقرنین نے مختصر اور جامع گفتگو کرتے ہوئے صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا کے فن اور شخصیت پر گفتگو کی- صاحب صدر خواجہ جمشید امام نے خطبہ صدارت میں صاحبہ جشن کی تخلیقات اور ملی ادبی پنچائیت کے کردار پر خوب روشنی ڈالی—– آخر میں صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا نے خوشگوار ماحول میں سازگار گفتگو کرتے ہوئے ملی ادبی پنچائیت کا شکریہ ادا کیا اور شاعری سنائی- محترمہ قانع ادا نے حاضرین کی فرمائش پر ترنم میں پنجابی کلام بھی سنایا جسے خوب پذیرائی ملی-

    ملی ادبی پنچائیت کسی فرد یا ادارے سے کسی قسم کی مالی مدد یا سہولت نہیں لیتی سو ملی ادبی پنچائیت اپنی مدد آپکے تحت معززین شہر سخن کے اعزاز میں اُن کی زندگی میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبات کا اہتمام کرتی رہے گی- ان شاءللہ

    ہم ملی ادبی پنچائیت کی تقریبات میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں،عظیم حافیوں،سیاستدانوں،شاعروں،ادیبوں،دانش وروں،خطیبوں اور صنعت و تجارت کی نمائندگی کرنے والے عظیم پاکستانیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں-
    ریاض احمد احسان
    بانی چیئرمین ملی ادبی پنچائیت

  • اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اکیس فروری کو آ واری ہوٹل کے خوبصورت ہال میں ایک منفرد اور یادگار اہل قلم کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست بہت ہی خاص تھی، جس کا اہتمام دو اہم شخصیات، منزہ سہام صاحبہ اور ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے کیا تھا۔ دونوں خواتین اپنی اپنی شعبوں میں انتہائی قابل اور فعال ہیں۔

    منزہ سہام صاحبہ، جو کہ معروف صحافی اور پچاس سال سے زائد عرصے سے شائع ہونے والے ماہنامہ "دوشیزہ ڈائجسٹ” کی چیف ایڈیٹر ہیں، اس محفل میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کی صحافت اور ادب میں خدمات کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔ منزہ صاحبہ نے ہمیشہ قلم کی طاقت کو فروغ دیا ہے اور ان کے والدین، سہام مرزا صاحب اور رخسانہ سہام مرزا کے میگزین نے کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہونے کے بجائے ہمیشہ ایک نئی روشنی کی کرن بن کر ادب کی خدمت کی ہے۔

    دوسری جانب، ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ جو آئرلینڈ سے پاکستان آئی ہوئی ہیں، نہ صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کی کتابوں میں "باد سموم”، "ایک تھی ستارہ”، اور "زرد پتوں کی بارش” شامل ہیں، جن میں سے "باد سموم” پر خاصی توجہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب کا دیباچہ بھی معروف مصنفہ سلمہ اعوان صاحبہ نے لکھا ہے۔

    اس نشست میں سلمہ اعوان صاحبہ کی شرکت نے محفل کو مزید پر رونق بنا دیا۔ سلمہ اعوان صاحبہ جو کہ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت یاب ہو کر آئی تھیں، ان کی موجودگی نے سب کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ ان کے علاوہ مسرت کلانچوی صاحبہ بھی اس محفل میں شریک ہوئیں اور اپنی نئی کتاب "تیرگی میں تارہ” کا تحفہ پیش کیا۔ یہ کتاب ایک نیا سنگ میل ہے اور ادب میں ان کی کامیاب کوششوں کا ثبوت ہے۔اس محفل میں بہت سی اہم شخصیات بھی شریک تھیں جن میں شاہین اشرف علی، فرح ہاشمی، کنول بہزاد، نسیم سکینہ صدف، حبیبہ عمیر، غزالہ فرخ، سعدیہ سیٹھی اور دیگر قلمکار شامل تھے۔ ان تمام اہل قلم نے اس نشست کو کامیاب بنانے میں اپنی اہمیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    اس نشست میں مختلف موضوعات پر گہری گفتگو ہوئی۔ منزہ سہام صاحبہ جو کہ کراچی سے آئی تھیں، نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی۔ ان کی باتوں میں کراچی کی مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی حالت کے بارے میں آگاہی تھی۔ ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے آئرلینڈ اور پاکستان کے مابین صحت کے شعبے میں فرق پر بھی روشنی ڈالی اور وہاں کی پریکٹسنگ ڈاکٹری کے تجربات کو شیئر کیا۔محفل کے اختتام پر ایک شاندار اور مزیدار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ اس ڈنر میں اہل قلم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ ڈنر کی تکمیل نے محفل کو ایک خوشگوار یادگار لمحے میں تبدیل کر دیا۔

    یہ نشست ایک بھرپور اور کامیاب محفل تھی جہاں اہل قلم نے ایک دوسرے سے ملاقات کی، مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور اپنے تخلیقی کاموں میں مزید ترقی کی دعا کی۔ منزہ سہام صاحبہ کی شخصیت واقعی متاثر کن ہے، جنہوں نے کم عمری میں ہی بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت اور ادب کی دنیا میں ایک نیا مقام بنایا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور ان کے تخلیقی کاموں میں کامیابی دے۔ آمین۔

     

  • کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شاعر ی وہ لطیف اور حساس اظہار ہے جو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، خیالات، خوابوں اور حقیقتوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس فن میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ سرگودھا کی تاریخی تحصیل بھیرہ کے نوجوان شاعر کامران حسانی بھی ایسے ہی خوش نصیب اور باصلاحیت شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام بنایا ہے۔
    کامران حسانی کا نام ادب کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام "احساس” ایک خوبصورت تجربہ تھا جسے قارئین نے بے حد سراہا، اور اب ان کی دوسری کتاب "گل تازہ” کی رونمائی ہونے جا رہی ہے۔ یہ تقریب 23 فروری 2025، بروز اتوار، شام پانچ بجے بلوچ میرج ہال بھیرہ میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں مشہور شاعر علی زریون مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ یہ ایک یادگار ادبی محفل ہوگی، جہاں سخن کے متوالے ایک اور خوبصورت شعری مجموعے کو خوش آمدید کہیں گے۔کامران حسانی – ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔کامران حسانی کی شاعری ایک نئے انداز کی نمائندگی کرتی ہے۔
    مری زندگی ہے چراغ سی مجھے روشنی پہ کمال ہے
    مری دشمنی ہے ہواؤں سے مرا زندہ رہنا محال ہے
    مجھے خوف کیا ہو بلاؤں کا ترے ہاتھ ہیں جو اٹھے ہوئے
    تری خیر ہو مری والدہ تری یہ دعا مری ڈھال ہے
    تجھے روکنے کا جواز تو مرے پاس تھا ہی نہیں مگر
    تجھے کہ دیا ہے جو الوداع مری حسرتوں کا زوال ہے
    وہ جذبات کے گہرے سمندر میں اتر کر الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر انہیں ایسے ترتیب دیتے ہیں کہ قاری ایک ہی نشست میں ان کے اشعار کو پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ بھی ہے اور جدید رجحانات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ نہ صرف محبت، حسن اور وفا جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں بلکہ سماجی مسائل، انسانی نفسیات اور جدید دور کی بے حسی کو بھی اپنے اشعار میں بیان کرتے ہیں۔
    دل نشیں دل ربا محبت ہے
    میرا تو مدعا محبت ہے
    اور دوں گا جہاں تلک پہنچے
    یار میری صدا محبت ہے
    ایک درویش نے کہا تھا مجھے
    دل محبت ، دعا محبت ہے
    تجھ کو آنا ہے گر مرے دل تک
    ایک ہی راستہ محبت ہے
    اس نے غصے سے پوچھا کیا ہے تمھیں ؟
    میں نے بھی کہہ دیا محبت ہے
    نام دونوں نے ریت پہ لکھے
    اور یہ بھی لکھا محبت ہے
    ایک مدت کے بعد جیون کا
    راز مجھ پر کھلا ، محبت ہے
    سارے الزام سہہ لیئے لیکن
    میں یہ کہتا رہا محبت ہے
    حل نکالے گا کوئی کیا اس کا
    مسئلہ آپ کا محبت ہے
    کاش تم یہ سمجھ سکو اے دوست
    آدمی کی بقا محبت ہے
    چاہتا ہوں جسے میں حسانی
    یار وہ سر تا پا محبت ہے
    کامران کی شاعری میں ایک خاص کشش ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کا اندازِ بیاں منفرد اور سادہ ہے، جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ روایتی غزل کے ساتھ ساتھ آزاد نظم اور جدید انداز میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد، امید، خواہش، بے قراری، وصل، ہجر، خواب اور حقیقت کی حسین آمیزش ملتی ہے، جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔”گل تازہ” – ایک خوبصورت پیشکش ہے۔”گل تازہ” کامران حسانی کے جذبات، احساسات اور تخلیقی سفر کا نچوڑ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ان کے شعری سفر کا ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی کسی تحفے سے کم نہیں ہوگی۔ اس کتاب میں موجود اشعار میں محبت کی خوشبو، ہجر کی تپش، زندگی کی حقیقتیں اور خوابوں کی نرمی یکجا ملے گی۔کتاب کا عنوان "گل تازہ” ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ شاعری کی دنیا میں ایک تازگی اور خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ کامران حسانی نے اپنے تخلیقی فن سے اس کتاب میں وہ رنگ بھرے ہیں جو کسی بھی ادب دوست کو اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ادبی منظرنامے پر کامران حسانی کی اہمیت موجود ہے۔پاکستان میں نوجوان شعراء کی کمی نہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کے زینے طے کرتے ہیں۔ کامران حسانی بھی انہی خوش نصیب شاعروں میں شامل ہیں جو اپنی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف جذباتی اور رومانی شاعری میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ ان کے اشعار میں فکری گہرائی بھی ہوتی ہے۔ وہ روایتی موضوعات کو ایک نئے انداز میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں، اور یہی چیز انہیں دوسرے شعرا سے منفرد بناتی ہے۔
    فقط اتنی کہانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    جہاں تک زندگانی ہے ، محبت جاودانی کے
    ہمیں موسم بدلنے ہیں ، فلک کے دوش پر مل کر
    دھنک ہم نے سجانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    ابھی کھویا نہیں کچھ بھی ابھی سے تم پریشاں ہو
    ابھی تو جاں گنوانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    فنا ہونے کو اس دنیا کے میلے میں سنو یارو
    بھلے ہر چیز فانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    محبت مر نہیں سکتی تمھیں اتنا بتانا ہے
    محبت جاودانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    اسی صحرا کے آخر پر تمھیں دریا ملے گا دوست
    ذرا ہمت بڑھانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    تمھارے بعد بھی ہم کو ملے ہیں لوگ ڈھیروں پر
    تمھارا کون ثانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    سنو نفرت خسارا ہے جو سب کچھ لوٹ لیتی ہے
    مگر جو کامرانی ہے ،محبت جاودانی ہے
    ان کے اشعار میں محبت کی خوشبو بھی ہے، فراق کا کرب بھی، زندگی کی حقیقتیں بھی اور خوابوں کی حسین دنیا بھی۔ یہی تنوع ان کی شاعری کو مزید دلکش بناتا ہے۔تقریبِ رونمائی – 23 فروری 2025 کا دن بھیرہ کے ادبی حلقوں کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ بلوچ میرج ہال بھیرہ میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستان کے نامور شاعر علی زریون بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ علی زریون کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شاعری نے نوجوان نسل کو ایک نئی سوچ دی ہے، اور ان کا موجود ہونا اس تقریب کو مزید یادگار بنا دے گا۔یہ تقریب نہ صرف "گل تازہ” کی رونمائی ہوگی بلکہ ایک مشاعرہ بھی ہوگا جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے شعراء شرکت کریں گے۔ اس محفل میں سخن کے رنگ بکھریں گے، خوبصورت اشعار کی گونج ہوگی، اور سامعین ایک منفرد ادبی تجربہ حاصل کریں گے۔کامران حسانی جیسے نوجوان شعراء اردو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ان کی شاعری میں جو خلوص، سچائی اور گہرائی ہے، وہ انہیں ایک بڑا شاعر بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ "گل تازہ” نہ صرف ان کے ادبی سفر کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ اردو شاعری کے دامن میں بھی ایک خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کتاب نہ صرف قارئین کے دلوں کو چھوئے گی بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گی۔ کامران حسانی کی یہ کامرانی قابلِ ستائش ہے، اور ہم ان کے روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ اسی جذبے، محنت اور لگن سے اردو شاعری کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں۔
    یوں تری بزم سے اٹھوں گا چلا جاؤں گا
    تلخیاں دل کی سمیٹوں گا چلا جاؤں گا
    میں بھی اس فکر کی منڈی کا بیوپاری ہوں
    جو بکامال،وہ بیچوں گا چلا چاؤں

  • کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر  :  ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    کشمیریوں کا حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کا کردار .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    اے دنیا کے منصفو ، سلامتی کے ضامنو
    کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو

    27 اکتوبر 1947 ء کو نام نہاد بھارت نے تقسیم ہند کی مخالفت کرتے ہوئے کشمیر میں اپنی فوجیں اتار کر غاصبانہ قبضہ کیا ۔ اسی قبضے کے تناظر میں کشمیری عوام ہر سال 5 فروری کو اپنا حقِ خودارادیت استعمال کرتے ہوئے یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں ۔
    78 سال قبل 5 جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی ، جس میں کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کی حمایت کی گئی ، تاہم اس قرارداد پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ آج اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے لئے کردار ادا کرے ۔
    آج 2025 ء میں 78 سال گزرنے کے باوجود کشمیری عوام پر بھارت نے ظلم و ستم اور درندگی کی ہر حد پار کر لی ، نہ ہی کسی کی بزرگی کا خیال کیا اور نہ ہی عورتوں کا اور نہ ہی بھوک اور پیاس سے سسکتے بلکتے معصوم بچوں کا ، بس اپنی ہی دھن میں مگن بھارت نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہیں ، بارود اور گولیوں کی وحشت سے کشمیریوں کے دل دہلائے ہیں ۔
    سفاک اور انتہا پسند بھارت ، کشمیر پر جتنے مرضی ظلم کے پہاڑ توڑ دے ، جتنا مرضی پابند سلاسل کردے ، لیکن جلد یا بدیر فتح انشاء اللہ حق کی ہوگی اور کشمیری عوام ظلمت کی تاریک رات کو مٹا کر آزادی کے سورج کو خوش آمدید کہیں گے اور کشمیری عوام ایک بار پھر اس روشن صبح کو طلوع اسلام کا سورج قرار دیں گے ۔
    (انشاء اللہ)
    یارانِ جہاں یہ کہتے ہیں کہ کشمیر ہے جنت
    جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

  • قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قوم کے معمار،ظلم وجبر کا شکار

    قصہ درد:حکومت پاکستان، چیف منسٹر اور وزیر تعلیم کے نام
    تحریر:مبشرحسن شاہ
    ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
    قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    جب سے ہوش سنبھالا ہے، شعبۂ تعلیم کے بیڑے کو طلاطم خیز موجوں سے نبرد آزما پایا۔ بہرحال، چلتے، گرتے، لڑکھڑاتے 2011 میں سولہ سالہ تعلیم مکمل کر لی اور بزعم خود نکلے تیری تلاش میں (سفرنامہ مستنصر حسین تارڑ، "سفر یورپ”) کے مصداق کام کاج یعنی نوکری کی تلاش میں نکلے تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ حقیقی معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوا۔ ویسے تو یہ محاورہ ہے، لیکن عملی زندگی کی پہلی 10 ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض نوائے وقت کے ہاتھ لگے تو پہلی ہی اسائنمنٹ بازار سے اشیائے خور و نوش کے دام معلوم کرنا تھی اور پھر اس پر خبر نگاری کہ مہنگائی کے مارے عوام کی حالت کیسی ہے۔

    خیر وقت کی ایک خوبی ہے کہ وہ رکتا نہیں۔ 2017 میں ایک پروانۂ تقرری گھر پر بذریعہ ڈاک موصول ہوا، جب کہ ہم تو "چڑی بیچاری کی کرے، ٹھنڈا پانی پی مرے” پر عمل کرتے ہوئے ایمان لا چکے تھے کہ سرکاری ملازمت کا صرف ٹیسٹ ہوتا ہے، بھرتی نہیں۔ خیر طوالت سے اختصار کی جانب چلتے ہیں۔ یکم اگست 2017 کو 22 ہزار 380 روپے کے عوض سرکار نے ہماری خدمات بسلسلۂ تدریس حاصل کر لیں۔ تقرری کا پروانہ تھما کر 35 کلومیٹر کے فاصلے کی مدد سے ہماری خطیر تنخواہ کو مینج کیا گیا چونکہ تنخواہ کی زیادتی سے افراطِ زر کا خدشہ تھا۔

    بھنور میں گھری ناؤ کے پتوار تھامنے کا موقع 2019 میں ملا جب پرائمری اسکول کی ہیڈ شپ کے نام پر دو کنال رقبے پر ہمارے نام کا سکہ چلنے لگا۔ نوکری کبھی بھی ہمارے لیے باعثِ آمدن نہ رہی لیکن اب وجۂ عزت بھی نہ رہی کیونکہ ہیڈ ماسٹری میں عزتِ سادات بھی گئی۔

    حکم ہوا مچھروں کا قلع قمع کرو، ارشاد پر کورنش بجا لا کر تلاشِ دشمنِ نمرود شروع کی۔ شام کو ایک عدد مچھر گرفتار ہوا۔ "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی” لہٰذا مچھر کو قتل کیا، ہتھیلی پر لیے پھرتے، جو جان وہ بچانے کے لیے مقتول کی لاش کا فوٹو بھیجا اور لگے متوقع توصیف پر اظہارِ عاجزی کی مشق کرنے کہ اتنے میں تختِ لاہور سے بگڑے تیور تختِ بابری سے ہوتے دو سے ضرب کھاتے ہم پر ایسے تقسیم ہوئے کہ سب خساروں کو جمع کر کے یہ حاصل نکلا کہ دلِ نادان کی کوئی بات نہ مانی جائے۔

    پھر تو ایک طوفان تھا جس کی زد میں آئے۔ نوکری کے دیے کو جلانے کے لیے سانسوں کی مالا پر "جی سر” کہتے 7 سال ایسے گزرے جیسے کسی شہرِ ویران پر وقت گزرے۔

    2024 میں بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا کہ "میاں! تیرے آن تے کھڑاک بڑے ہون گے” (لاہور انارکلی 2024 میں لگا بینر)۔ دل نے تسلی دی کہ معاملات بہتر ہوں گے۔ تختِ لاہور پر بنتِ خاتونِ اول براجمان ہوئیں تو مراد راس کے محاذ پر رانا سکندر حیات کو تعینات کیا گیا۔ اب سمجھ آئی کہ سکندر نوجوانی میں کیوں قتل ہوا تھا۔

    علم ہوا کہ وزیرِ اعلیٰ و ادنیٰ دونوں تعلیمی میدان میں کودے ہیں، لیکن یہ کودنا وہ کودنا نہیں جو عشق آتشِ نمرود میں کودا تھا، بلکہ یہ تو "کھیل سکتے نہیں، اب ہمیں بھی نہیں کھیلنے دیں گے” والا کودنا ہے۔ ایس ایس ایز، اے ای اوز دو کیس، جو انتہائی آسانی سے ایک پُرسکون ماحول میں ایڈریس کیے جا سکتے تھے، ان کو ہر حکومت نے ایسے خراب طریقے سے ڈیل کیا گویا یہ لوگ انسان نہ ہوں۔

    سال کا کنٹریکٹ، ہر 365 دن کے بعد کیا ہوگا کی غیر یقینی، کسی بھی سرکاری ملازمت میں پہلے سے سرکاری ملازم ہونے کا فائدہ صفر، حکومتی پروگرامز (نظامت حج ایک مثال) کے لیے اہل نہیں کہ کنٹریکٹ پر ہیں۔ اے ای اوز کو 2017 میں بھرتی کیا تو یہ شق احکاماتِ تقرری میں شامل تھی کہ اے ای اوز اسکولوں میں بطور ٹیچر ٹرانسفر نہیں ہوں گے، یہ انتظامی عہدہ ہے، اس پر ہی رہیں گے۔ پھر کسی نے صلاح دی کہ ان کا سروس اسٹرکچر تو بنا لیتے، یہ ساری زندگی اے ای او ہی رہیں گے؟ اس کا سکہ شاہی حل یہ نکلا کہ کچھ کو سکولوں میں بطور ٹیچر بھیجا، کوئی مرضی سے گیا، کوئی سکول سے نکال کر نواز دیا گیا۔

    ایم ای ایز کو مسلط کرنے والے گجرات سے کبھی رائے ونڈ تو کبھی بنی گالا، اور ان کی نازل شدہ مخلوق کے ستائے اساتذہ کبھی معطل تو کبھی پیڈا۔ حد یہ ہے کہ ایم ای ایز کے حوصلے اتنے بڑھے کہ خواتین اساتذہ محکمۂ تعلیم کے مجاز افسران سے چھٹی مانگیں تو جواب ملا: "ایم ای اے صاحب سے خود پوچھو پہلے”۔

    بندہ پوچھے، یہ سکیل و تعلیم میں کم (محکمہ زراعت) کے نیم خواندہ، "یس سر، آرڈر از آرڈر” کے پروردہ اپنی ذات میں ہیرو کس اتھارٹی کے تحت چھٹیاں منظور کر رہے؟

    اوپر سے کبھی ایک لایعنی بات بصورتِ حکم، کبھی دوسری۔ اب ملکۂ معظمہ نے کہا پودے لگانے، "کلین اینڈ گرین ایپ” اساتذہ کے سر میں دے ماری۔ سڑکوں پر زیبرا کراسنگ، اساتذہ رنگ لے کر ہر اس رنگ میں ڈوبیں، جس نے جس رنگ میں چاہا انہیں رسوا کرنا…

    گندم خریداری، ووٹر لسٹس، کورونا ڈیوٹیز، پولیو مہم۔ یو پی ای ٹارگٹ (یونیورسل پرائمری ایجوکیشن ) اس کی مزید شاخیں، انرولمنٹ ڈرائیو، اینرجنسی انرولمنٹ کمپین،وژن 2025 ( پاکستان برینڈ اشتہاروں والا) ہر سکول ہر روز داخلہ فروری و مارچ، مردم شماری،پوسٹ اینموریشن سروے، آؤٹ آف سکول چلڈرن۔ زراعت شماری ۔ سٹوڈنٹ ہیلتھ پروفائل(بچوں کو ہسپتال لے کر جانا واپس آنا ) فروری یوم یکجہتی کشمیر پر اساتذہ انگیج، 15 فروری جشن بہاراں و شجر کاری ہر بچہ ہر استاد ایک پودا، مارچ کلچر ڈے، افسران بالا کے مزید بالا افسران کو خوش کرنے کے لیے فرمائشی پروگرامز، اب ڈے ٹائم Meal اساتذہ کے ذمے وصولی و تقسیم( پائلٹ پراجیکٹ ابھی چند اضلاع تک محدود) یوم مزدور، یوم آزادی ( کون سی؟)
    یومِ قائد، یومِ اقبال، یومِ پاکستان دیگر اہم ایام، سب پر اساتذہ کو پابند کیا جاتا کہ تصویر بھیجیں مکمل انتظامات کے ساتھ فنکشن کر کے۔

    ادھر 2018 کے بعد سے اب تک ٹیچر جابز نہ دے کر پہلے موجود اساتذہ سے کام لیا جاتا ہے ،آدھے ریٹائر، کچھ فوت، کچھ مستعفی ،کچھ معطل، کچھ کو ریموول فرام سروس کا تمغہ۔ ابھی چند یوم قبل ایک انوکھا حکم نامہ بھی جاری ہوا قحط سالی حالیہ خشک موسم میں مسائل پر میٹنگ، اساتذہ و بچوں سے نماز استسقاء پڑھوائی گئی ، ایک ایپ ہے ایس آئی ایس اس سے اساتذہ واقف ہوں گے اس ہربچہ داخل کرتے وقت آن لائن کوائف میں غیر ضروری طوالت، PMIU, PITB کے درمیان مالی تنازعات ،اساتذہ کی اے سی آر چھٹیاں وغیرہ اکثر زیر التوا،کارپورل پنیشمنٹ کے جھوٹے کیس، پاکستانی پرچم کے ساتھ کشمیر کا پرچم ( اب لگتا آیا فلسطین کا بھی) سکول میں کریکٹر بلڈنگ کونسل، واش کلب، ڈے ماسٹر، ( اساتذہ الگ بچے الگ) اس سب میں آپ سوچ رہے ہوں گے پڑھائی کدھر ہے؟؟؟؟؟؟ جی میں بھی یہی رونا رو رہا ہوں کہ ہڑھانے دیں۔

    اب میڈیم چیف منسٹر نے ویژن 2025 میں ارشاد فرمایا ہے’ پڑھتا پنجاب، بڑھتا پنجاب، ادھر وزیر کم گینگسٹر جٹ کو قلم مل گئی اس نے تباہی تو تعلیم کی، کیا تباہ شدہ کو مزید تباہ بچہ بھی کر لیتا ،یہاں منتری صاحب نے نیا کام شروع کیا کہ اساتذہ مفت میں اتنی تنخواہیں لیتے، چور، نکمے جس وقت جو دل کیا کہہ دیا ،اپنی تنخواہ 900 فیصد بڑھا کر بھی کم ہماری ہر طرف سے کاٹ کر بھی زیادہ۔ ساتھ ہی سکولوں کی نجکاری، اساتذہ کو ایسے ڈیل کرنا جیسے یہ اساتذہ نہیں بھارتی جاسوس ہیں ۔

    وزیر تعلیم جناب عزت مآب سر سکندر کی ڈکشنری بھی نئی نکلی۔ سرکاری ٹویوٹا ویگو کو "ڈالا” کہتے ہیں اور ہر روز کسی نہ کسی محکمے کے افسر کو تڑی لگاتے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ "میں ریفرنس ٹھوکیا تے پنشن بند۔ بدھ نوں میٹنگ اے ہوم منسٹر نال، جمعرات نوں میں کڑاکا کڈھاں گا۔ سی او صاحب تہانوں سی او میں لایا اے۔” اللہ کرے کہ کہیں بوری بند لاش یا "نامعلوم افراد” والی دھمکی نہ آ جائے۔

    لکھنے کو بہت کچھ ہے، کہنے کو ہزار شکوے، لیکن ہم فقیروں کی طبیعت بھی غنی ہوتی ہے۔ سرکاری سکول نجی نہ کریں، ملازمین کو مستقل کریں اور پنشن قوانین کے حوالے سے کوئی درمیانی راستہ نکال لیں۔ باقی جو جوتے اور پیاز ہم کھا رہے ہیں، کھاتے رہیں گے۔ بلکہ اگر واقعی جوتے مارنے کی نوبت آئی تو دو کا حکم ہوگا، افسران بالا احتیاطاً چار ماریں گے اور ہم عادتاً دو مزید کھا لیں گے تاکہ کوئی کمی نہ رہ جائے۔

    تعلیم کو سنجیدگی سے نہ لینا آپ کی مرضی، ہم اساتذہ کافی ہیں، کچھ نہ کچھ کر لیں گے۔ بس آپ ذرا ہاتھ ہلکا رکھیں۔ کیا کسی دن کوئی استاد یا استانی خودکشی کرے گا تو تب آپ کو ہماری بات سمجھ آئے گی؟

    کتنے اساتذہ کو صرف اپنا حق مانگنے پر گرفتار کریں گے؟ کتنوں کو پولیس کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرائیں گے؟ تھانوں میں مار، دھکے، گالیاں… کل رات سے حکومت اساتذہ کے مطالبات کے جواب میں انکار اور احتجاج کے ردعمل میں تادیبی کارروائیاں کر رہی ہے۔ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔

    بہرحال، 21 فروری سے اساتذہ ایک بار پھر سڑکوں پر ہیں۔
    سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے،
    چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے۔

    ہم لوگ تو کچھ گزاری، کچھ گزری، باقی جو قیدِ حیات بچی ہے وہ بھی کاٹ لیں گے۔ لیکن سوچیں! تعلیمی نظام کو برباد اور غیر فعال کر کے آنے والے سالوں میں نقصان کس کا ہوگا؟ ملک کا!

    خدارا، کنٹریکٹ بیسڈ سیاست دانوں! پانچ سالہ مدت کے لیے کسی اور محکمے پر تجربات کر لو۔ یہاں تو جسے نشانہ لگانے کی مشق کرنی ہو، سیب ہمارے ہی سر پر رکھا جاتا ہے۔

    عام پاکستانی جو یہ تحریر پڑھے، وہ اسے سمجھے اور دوسروں کو بھی بتائے، کیونکہ یہ نیرو نما حکمران چند سال بعد بانسری بجاتے بیرونِ ملک ہوں گے، جبکہ یہاں رُل جانا ہم نے ہے۔

    ہم نے کچھ زیادہ نہیں مانگا—بس نوکری کی مستقلی اور پنشن قوانین پر نظرثانی۔ اگر یہ بھی کر دیں تو بھلا، نہ کریں تو بھی خیر! لیکن کم از کم ہمیں پڑھانے تو دیں، سکول تو نہ بیچیں!

    ہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے، اللہ مدد کرے گا، ملکی حالات بہتر ہوں گے اور یہی نظام بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔ بچوں سے بنیادی، سستی اور معیاری تعلیم نہ چھینیں۔ غریب کا بچہ بمشکل ہی افسر بنتا ہے، لیکن اگر تعلیم چھین لی گئی تو یہ واحد راستہ بھی بند ہو جائے گا۔

    صاحب! آپ کی کرسی سلامت، یہ بیچارے کمپیٹیشن میں نہیں آتے۔ یہ تو زیادہ سے زیادہ 10ویں کے بعد فوج میں، 12ویں کے بعد بیرونِ ملک، یا بی اے/ایم اے کے بعد معمولی نوکری کے خواب دیکھتے ہیں۔ اب ہماری جیب پہلے ہی بہت وزنی ہو چکی ہے، اب بس کر دیں!

    کل آپ ہی کے بچوں نے آپ کی کرسیاں سنبھالنی ہیں، مگر تب تک حکمرانی کے لیے رعایا ہی باقی نہیں رہے گی۔

    جلوسِ اہلِ وفا کس کے در پر پہنچا ہے؟
    (اساتذہ، حکومتی ایوان کے باہر وعدہ وفا ہونے کے منتظر)
    نشانِ طوقِ وفا زینتِ گلو کر کے
    (کنٹریکٹ ختم ہونے کو ہے، مگر پھر بھی فکرِ تعلیم باقی ہے)

    کوئی تو حبسِ ہوا سے یہ پوچھتا، محسنؔ
    ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے؟

  • 21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل

    21 فروری: مادری زبانوں کا عالمی دن اور سرائیکی کا درخشاں مستقبل
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    21 فروری کو "مادری زبانوں کے عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد دنیا بھر میں مختلف زبانوں کی اہمیت،افادیت اور تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانا ہے۔خاص طور پر دنیا کی ان کی کمزور زبانوں کے وجود کی حفاظت کرنا ہے،جوخطرے میں ہیں۔اس دن کی بنیاد 1999ء میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے یونیسکو (UNESCO) نے رکھی تھی۔تاکہ زبانوں کی تنوع،علم وادب،عرفان وحکمت،روحانیت اور ثقافتی ورثے کی حفاظت کی جاسکے۔ماہرین لسانیات کے مطابق مادری زبان ایک فرد کی وہ زبان ہوتی ہے،جسے اس نے بچپن میں اپنے والدین یا قریبی لوگوں سے سیکھا ہو۔اور جو اُس کی روح، ثقافت،وجدان،شعور،تہذیب وتمدن اور شناخت کا لازمی حصہ ہوتی ہے۔مادری زبان کا تحفظ اس بات کی ضمانت ہے کہ قدیم انسانی نسل در نسل والدین کی دانش،اعلی اخلاق،تعلیم وتربیت،رسوم رواج،ادب،ثقافتی ورثہ اور تاریخ محفوظ رہیں گے۔

    21 فروری کو اس دن کا تعین اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ 1952 میں بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) کے دارالحکومت ڈھاکہ میں حکومت کے ذریعے بنگالی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر تسلیم نہ کیے جانے پر طلباء نے احتجاج کیا تھا۔جس میں پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد شہید ہوگئے تھے۔اس واقعے کی یاد میں 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منانے کی شروعات ہوئی۔اس دن کا مرکزی مقصد مادری زبانوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔کلچر اگر ایک جسم ہے تو اس کی روح روشنی زبان ہی ہوتی ہے۔ماں کا احترام دنیا کے ہر مذہب کا خوبصورت فلسفہ ہے۔انسانوں کی مختلف زبانیں،ثقافتیں اور روایات خوبصورت رنگ برنگے پھولوں کی مانند ہیں۔جس سے آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و خلوص کی خوشبو مہکتی ہے۔

    کائنات کے خالق حقیقی رب العزت جلال کریم نے انسانوں کی ہدایت کے لیے عملی مثالی کردار والے ہر عہد میں برگزیدہ انبیاء کرام علیہم السلام اجمعین کو ان کی مادری زبانوں میں تبلیغ کی اجازت فرمائی۔انسان میں اعلی ترین ذریعہ ابلاغ زبان ہے۔مادری زبان بہترین و آسان ترین کلیہ ہدایت وتربیت ہے۔بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے چھ ہزار سے 7ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک بھر میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

    سال2010ء کی ہایئر ایجوکیشن کمیشن رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔لفط سرائیکی سرسوتی سے نکلا ہے۔علم آثارقدیمہ ریسرچ مطابق موجودہ روہی چولستان کا ایک گمشدہ شہر گنویری والا دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کا تقریبا آٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر ہے۔سرائیکی زبان کی ادبی روایت کئی صدیوں پر محیط ہے۔ حضرت بہاالدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی رحمۃاللہ علیہ کی سرائیکی شاعری دراصل کلاسک سرائیکی مادری زبان کی شناخت و عظمت کی گواہی ہے۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سرائیکی زبان کا لازوال عروج ہے۔”میں تے یار فرید منیسوں رل مل شہر بھنبھور” سرائیکی خطے کے قدیم ہزار سالہ ادبی و ثقافتی دستاویز ہے۔لیکن صد افسوس کہ آج تک اس زبان کو وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا ۔جو اس کا اولین حق تھا۔یہ ادبی اعتبار سے کسی بھی دوسری زبان سے پیچھے نہیں ہے۔اس میں ہمارے مذہب اسلام،دین،فقہ،علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا بیش قیمت سرمایہ موجود ہے۔

    پاکستان کے ہر صوبے اور ہرضلع میں سرائیکی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔انڈیا میں کثیر تعداد میں سرائیکی زبان بولنے افراد رہتے ہیں۔سرائیکی زبان اب عالمی شہرت یافتہ زبان کا اعزاز حاصل کرچکی ہے۔سرائیکی وسیب میں ہر حملہ آور نے اس کے زرخیز خطے پر قبضہ کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی زبان اور ثقافت پر شدید حملہ کیا۔مگر دھرتی واسیوں نے مکمل اعتماد و یقین سے ان کے عزائم خاک میں ملا دئیے۔سرائیکی علاقہ محبت و احترام آدمیت اور تصوف سے مالا مال ہے۔سرائیکی آکھان جو "مٹھاس تے وفا دا ڈوجھا ناں سرائیکی ہے”۔سندھ میں جس کو سرائیکی نہیں آتی اس کو ڈھگو کہا جاتا ہے۔

    انگریز نے فاتحانِ عالم کی طرح ہمت اور بہادری کے ساتھ برصغیر کو فتح نہیں کیا۔بلکہ تاجروں کا بھیس بدل کر روٹی کی بھیک مانگتے ہوئے بھارت میں آیا اور مغلیہ حکمرانوں کے سامنے دامن پھیلا کر تجارتی سہولیات حاصل کیں۔لیکن موقع ملتے ہی لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح اپنے ہی محسنوں کے گھر پرقبضہ کر لیا۔انگریزنے قدم جمانے کے بعد مقامی زبانوں کو نظر انداز کر دیا۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو‘‘ تو قوم کی روایات، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور اس کی قومیت غرض سب کچھ مٹ جائے گا۔

    مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے۔کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان اور زود اثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن انگریزوں نے سرائیکی وسیب میں رائج نظامِ تعلیم کو ختم کرتے ہوئے پرائمری تک تعلیم کے لیے مقامی زبانوں سرائیکی،بلوچی،پنجابی،سندھی،پشتو، بلتی،گلگتی وغیرہ کی جگہ اردو زبان کو لازمی قرار دیا۔جبکہ فارسی کی جگہ انگریزی سرکاری زبان بنا دی گئی۔ انگریزی بولنے اور پڑھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلانے لگے۔جب کہ مقامی مادری زبانوں سے محبت کرنے والے مہذب اہل علم جاہل،جانگلی،ان پڑھ اور گنوار کہلانے لگے۔

    مادری زبان انسان میں احساس عزت و توقیر،غیرت، اخلاقی اقدار، سلیقہ،وفا، دلیری، ثقافت و تہذیب وتمدن اور وطن عزیز سے بے پناہ عقیدت پیدا کرتی ہے۔مگر انگریز نے غلامی کا وار اس انداز میں کیا کہ مسلمانوں کا صدیوں سے رائج نصاب بے وقعت ہو گیا۔ایک طرف مسلمان معاشی و سماجی طور پر دلد ل میں پھنستے چلے گئے تو دوسری طرف تعلیمی میدان میں انگریزی زبان کے فروغ کا زور و شور ان کو لے ڈوبا۔علم و عمل کی بنیاد پر برصغیر پر ہزار سال حکومت کرنے والی مسلم قوم کو ایک دم جاہل گنوار بنا کر رکھ دیا گیا۔انگریز کی اس کاری ضرب کی وجہ سے مسلمان اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔

    سرائیکی دھرتی کے عظیم ہیرو احمد خان کھرل شہید اور نواب مظفر خان شہید کو ڈاکو اور لٹیرے بنا کر پیش کیا گیا۔اِس طرح سرائیکی وسیب کی نئی نسل اپنی ہی مادری زبان اور ثقافت پر نازاں ہونے کی بجائے شرمندگی محسوس کرنے لگے۔انگریز نے ملتان پر قبضہ کیا۔ ملتان جو ہزاروں سال پرانی سرائیکی ریت وثقافت اور شناخت کا مرکز رہا۔جس کی گواہی آج کے ضرب المثل ہیں۔جو صدیوں سے سینہ بہ سینہ سرائیکی قوم میں منتقل ہورہے ہیں۔جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان”۔آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر”۔ناجائز قبضہ گیری نے یہاں کے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا اور انگریزی و اردو زبان کو اتنا اونچا درجہ دے دیا گ،عوام دیسی زبانیں بولنے میں شرمندگی محسوس کرنے لگے۔

    مگر آج بھی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی ہرشعبہ ہائے زندگی میں انگریزی کو ہی اہمیت دی جا رہی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی ایک ترقی یافتہ اور جدید سائنسی علوم کے ذخیرے سے مالا مال زبان ہے۔لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اپنی زبان اور روایات چھوڑ کر کسی غیر کی زبان اور تہذیب و تمدن کو اپنا کر کبھی ترقی نہیں کی۔کیونکہ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تصوف،تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اسکے ساتھ ثقافتوں اور روایات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔جس سوسائٹی میں دانشور اپنی دھرتی کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں اور ان کا تعلق اپنی مٹی کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے تو ان ممالک کی عوام اپنی ثقافت،زبان اور اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہیں۔لہٰذا ہمیں ہر صورت اپنی ماں بولی کا بغیر کسی تعصب کے ضرورتحفظ کرنا چاہیے۔

    حکومتِ وقت مادری و علاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعراء اور محققین کی سرپرستی کرے۔ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی زبانوں کی کتب کو قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے۔تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منوا سکے۔سرائیکی مادری زبان کا مستقبل روشن ہے کہ پاکستان میں مقامی زبانوں میں سب سے زیادہ کتابیں سرائیکی میں شائع ہورہی ہیں۔الحمداللہ 2011ء سے سرائیکی زبان کالجز سطح پر نصاب کا حصہ ہے۔یونیورسٹیوں میں سندھی،بلوچی،پنجابی
    ،پشتون زبانوں میں اے ڈی پی،بی ایس،ایم فِل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کی طرح اب سرائیکی میں بھی یونیورسٹی سطح پر اعلی تعلیم وتربیت دی جاری ہے۔سرائیکی مضمون فرسٹ ائیر کے پہلے سٹوڈنٹس راقم الحروف کے بہاولنگر کالج کے ہی تھے۔اب پرائمری و مڈل اور میٹرک میں سرائیکی نصاب سازی کا خواب حقیقت رواں دواں ہے۔تاہم ان ڈگریوں کی معاشی اہمیت و افادیت کو محدود سمجھا جارہاہے۔ کیونکہ ماں بولی کے احترام کے سوا عملاً کچھ نہیں ملتا۔میرے نزدیک جو قوم آپنی ماں بولی،والدین اور وطن عزیز کی ہمیشہ خیر و سلامتی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کرتی رہے گی۔وہ قوم ہمیشہ عزت و وقار سے جیتی رہے گی۔ورنہ خود کسی غلام ہوکر خاک میں مل خاک بن صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔

    سرائیکی زبان وادب کی آبیاری کے لیے جدید کلاسک شعراء کرام میں رفعت عباس،عاشق بزدار،جہانگیر مخلص،عزیز شاہد،ثاقب قریشی،شاہد عالم شاہد،سلیم صابر اورشاکر شجاع آبادی جیسے عظیم شاعر اہم کردار ادا کررہے ہیں۔نوجوان طبقہ اپنی زبان و ثقافت کے فروغ کیلئے عملی جدوجہد کررہے ہیں۔یہ اشارے شاندار مستقبل کی روشن دلیل ہیں۔ہر انسان اور ہر مادری زبان کا تحفظ ہم سب انسانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سرائیکی زبان کو فوری دیگر زبانوں کی طرح پی ایس سی،سی ایس ایس امتحانات میں شامل کیا جائے۔سکولوں میں فوری سرائیکی سیٹوں کا اشتہار دیا جائے۔سرائیکی خطے میں سرائیکی بنک اور سرائیکی یونیورسٹی کے قیام سے مقامی سرائیکی مادری زبان بولنے والا کا اعتماد بلند ہوگا۔معاشی ترقی کا نیا پہیہ چلے گا۔اردو بھی عملاً سرکاری زبان نہیں اور اسے بھی انگریزی کی ضرورت کے سبب علاقائی زبانوں کے خیمے میں پناہ لینی پڑ گئی ہے۔

    حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ابتدائی کلاسز میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنائے۔پارلیمنٹ و نادرا میں بھی سندھی زبان کی طرح قومی شناختی کارڈ بھی سرائیکی میں جاری کیے جائیں۔سرائیکی وسیب کی ہر یونیورسٹی میں سرائیکی شعبے لازمی قائم ہوں۔دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبانوں کی ضرورت و اہمیت کو مانتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق حاصل ہے اور تمام زبانوں کی بلا امتیاز ترویج و ترقی شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی فرائض کا حصہ ہے۔لیکن پاکستان میں آج بھی علاقائی زبانوں کی اہمیت اور مقام و مرتبے پر بحث جاری ہے۔سندھ میں سندھی کی طرح سرائیکی زبان کو شامل کیاجائے،خیبر پختونخوا میں پشتو کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان گومل یونیورسٹی میں سرائیکی زبان کے شعبے کو ہزارہ ڈویژن میں سرائیکی کو شروع کیا جائےاور بلوچستان میں بلوچی ابتدائی تعلیمی درجات میں پڑھائی کے ساتھ سرائیکی زبان بھی شامل کی جائے۔

    حکومت پنجاب ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،پنجاب کری کولم ٹکسٹ بک بورڈ لاہور نے سرائیکی گیارہویں جماعت کی کتاب چھاپ کر سرائیکی مادری زبان کی ترویج کو تاریخی اہمیت دی ہے۔اس سے آپس میں مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کو محفوظ فروغ ملے گا۔مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلد نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں اور اس سے بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جس سے زبان کی آبیاری ہوتی ہے۔اس کے برعکس جن اقوام کا اپنی ہی مٹی سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔شکست اور ذلت و پستی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ پرائمری سے تمام صوبوں میں مقامی زبانوں کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے۔مادری زبان انسان کی پہلی زبان ہی نہیں بلکہ پہلی ابتدائی درسگاہ،ثقافت، شناخت،تاریخ اور تعلقات کی بنیادی جڑ ہے۔

    مادری زبان کی اہمیت کا ادراک انسانی ترقی،معاشرتی ہم آہنگی اور عالمی سطح پر اثرات کے حوالے سے بے حد ضروری ہے۔مادری زبان انسان کی پہچان اور کلچرل تنوع کی علامت ہے۔ایک شخص کی مادری زبان اس کی نسلی علم ودانش،ثقافتی اقدار اور جغرافیائی تاریخ کو ظاہر کرتی ہے۔اس زبان کے ذریعے فرد اپنی تہذیب وتمدن،کلچر،فہیم،ادب،روایات اور رسوم و رواج کو زندہ رکھتا ہے اور اپنے آباؤ اجداد کے تجربات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرتا ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو زیادہ قدرتی اور حقیقی انداز میں اظہار خیال کرتا ہے۔مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنا طالب علم کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔جب بچوں کو اپنی مادری زبان میں پڑھایا جاتا ہے، تو ان کی تفہیمی صلاحیت اور سیکھنے کی رفتار بہتر ہوتی ہے۔ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے زیادہ خود اعتماد، دلیر،وفادار، تخلیقی اور سیکھنے میں فعال ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بچوں میں نئے تصورات،فنون لطیفہ،خیالات اور مہارتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم ہوتی ہے۔

    سماجی اور ثقافتی روابط ہمیشہ مادری زبان سے ہی مضبوط ہوتےہیں۔افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے اور ان کے درمیان بہتر سماجی تعلقات قائم کرتی ہے۔ یہ زبان افراد کو اپنے خاندان، دوستوں اور کمیونٹی کے ساتھ جڑنے کا ایک قدرتی طریقہ فراہم کرتی ہے۔مادری زبان میں گفتگو کرتے وقت لوگ زیادہ آرام دہ اور اعتماد محسوس کرتے ہیں۔جس سے معاشرتی ہم آہنگی اور تعاون بڑھتا ہے۔ مادری زبان انسان کی جذباتی اور نفسیاتی حالت پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔جب انسان اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے تو وہ اپنے خیالات اور جذبات کو زیادہ بہتر انداز میں ظاہر کر سکتا ہے۔مادری زبان میں انسان زیادہ کھل کر اپنی باتوں کو شیئر کرتا ہے،جو اس کے ذہنی سکون اور جذباتی خوشی کے لیے ضروری ہے۔

    فطرت کا دوسرا خوبصورت نظارہ مادری زبان ہے۔اگر ایک زبان ختم ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ اس زبان میں چھپی سماجی و ثقافتی معلومات،ادب،حکمت ودانش،روایات اور علم بھی ضائع ہو جاتا ہے۔مادری زبانوں کا تحفظ اور ترقی عالمی سطح پر انسانوں کی متنوع شناخت اور ثقافتوں کے احترام کی علامت ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر دنیا میں مختلف زبانوں کا ہونے کے باوجود مادری زبانوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جانا عالمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔عالمی تنظیمیں اور ادارے مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے سرگرم ہیں۔

    مادری زبان نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ یہ ایک فرد کی ثقافتی شناخت، تعلیمی ترقی،جذباتی سکون،روحانی وابستگی اور عالمی سطح پر تعلقات کو مستحکم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہم اپنی نسلوں کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکیں۔مادری زبان کا تحفظ اور اس کا فروغ ایک روشن اور ہم آہنگ دنیا کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔مادری زبان میں ہی انسان مکمل طور اپنے دکھ سکھ کا قصہ بیان کرتاہے۔سرائیکی کلاسک شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔
    کیا حال سنڑاواں دل دا
    کوئی محرم راز نہ ملدا

    سرائیکی ماں بولی سرائیکی ماں بولی
    سبھ توں مٹھی سبھ توں چسولی۔

  • باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    باغی ٹی وی پاکستان کا سب سے بڑا ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک ہے، جس کی شہرت اس کی بے باک اور سچی صحافت کی بدولت ہے۔ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے باغی ٹی وی کی نمائندگی لینے کا فیصلہ کیا اور قصور سے باغی ٹی وی کا حصہ بننے کی سعادت حاصل کی۔ باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب، جو کہ سچائی اور حقائق پر مبنی تجزیے اور تبصروں کے لیے جانے جاتے ہیں، میرے لئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پہچان "کھرا سچ” ہے، اور یہی وہ فلسفہ ہے جس پر باغی ٹی وی کا پورا نیٹ ورک قائم ہے۔ مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کے حوصلہ افزائی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، میں نے ہمیشہ سچائی کی راہ اپنائی اور مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کی کوشش کی۔

    اگرچہ باغی ٹی وی کی نمائندگی کرتے ہوئے مجھے چار سال ہو چکے ہیں، لیکن میری مبشر لقمان صاحب سے پہلی ملاقات تقریباً ایک ماہ قبل ہوئی۔ وہ ملاقات میرے لئے ایک بہت اہم موقع تھی میں نے ان سے کہا کہ میں قصور میں باغی ٹی وی کا دفتر قائم کرنا چاہتا ہوں۔ مبشر لقمان صاحب نے نہ صرف میری خواہش کو سراہا بلکہ مجھے بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ "آپ دفتر بنائیں، اور میں خود آ کر اس کا افتتاح کروں گا۔” ان کی یہ بات میرے لئے ایک تحریک کا باعث بنی اور یہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا کہ ایک دن وہ خود ہمارے دفتر کا افتتاح کرنے کے لئے قصور آئیں گے۔

    بالآخر وہ دن آیا جب مبشر لقمان صاحب نے قصور آ کر ہمارے دفتر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ موقع نہ صرف ہمارے لئے بلکہ قصور کے صحافیوں اور عوام کے لئے بھی ایک خاص لمحہ تھا۔ افتتاحی تقریب میں باغی ٹی وی اور روزنامہ قدامت کے دفتر کا افتتاح کیا گیا، جس میں وکلا، صحافیوں، اور مقامی دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ تقریب نہایت پروقار اور یادگار تھی جہاں پھولوں کی پتیوں کو نچھاور کر کے دوستوں کا استقبال کیا گیا اور مالا پہنا کر انہیں عزت دی گئی۔

    افتتاحی تقریب کے دوران، مبشر لقمان صاحب نے قصور کے صحافیوں کو اہم نصیحتیں دیں اور انہیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت کا مقصد صرف سچ کو اجاگر کرنا اور عوام کی خدمت کرنا ہے، خواہ وہ کسی بھی رائے یا طاقتور طبقے کے خلاف ہو۔ ان کی باتوں نے ہم سب کو نئی توانائی اور حوصلہ دیا کہ ہم سچائی کو ہمیشہ مقدم رکھیں اور اپنے ضمیر کے مطابق کام کریں۔

    میں باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور انچارج نمائندگان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کا بھی شکر گزار ہوں۔ ان دونوں کی رہنمائی اور حمایت کی بدولت ہی میں نے اپنا کام بہتر طور پر انجام دیا ہے۔ جب بھی کسی خبر کی اشاعت کی ضرورت ہوتی، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی نے اسے بروقت شائع کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی محنت اور ٹیم ورک کی بدولت، باغی ٹی وی کی کامیابی کو مزید جلا ملی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ قصور کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور انہیں حل کروانے میں اہم کردار ادا کرنا ہمارا فرض ہے۔ باغی ٹی وی کے ذریعے ہم عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو اٹھائیں گے اور مبشر لقمان صاحب کی نصیحت کے مطابق، مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ ہمیں اس بات کا پختہ عزم ہے کہ ہم اپنے شہر اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے، سچ اور حق کی طرف قدم بڑھائیں گے۔

    ایک بار پھر میں باغی ٹی وی کے سی ای او، سینئر صحافی اور اینکر پرسن، مبشر لقمان صاحب کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں اپنے دفتر کے افتتاح کے لیے قصور آنے کا وقت دیا۔ ان کی موجودگی نے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کیا اور ہمیں یہ باور کرایا کہ سچائی کی راہ پر چلنا ہی صحافت کا اصل مقصد ہے۔باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان صاحب کی رہنمائی اور ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ، ہم نے اپنے کام کا آغاز کیا اور آگے بھی اسی جذبے کے ساتھ عوام کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ ان کی نصیحتوں کے مطابق، ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیں گے اور مظلوموں کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کے افتتاحی موقع پر ملنے والے حوصلے اور اعتماد کو ہم ہمیشہ یاد رکھیں گے اور اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

    baaghitv

  • اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی

    ایک بار پھر اللہ کریم کا ہزار ہا شکر گزار ہوں جس نے مجھ نا چیز پر قلم اور قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو سراہنے کی ذمہ داری ڈالی۔جسے میں اور اپووا کی پوری ٹیم جانفشانی کے ساتھ نبھانے کی کوشش کر رہی ہے۔اپووا نے اس بار ادبی کانفرنس کے لئے شہر ِ شاعر مشرق(سیالکوٹ) کا انتخاب کیا ۔اس کانفرنس کی میزبانی معروف شاعرہ ثوبیہ راجپوت نے اپنے ذمہ لی اور میزبانی کی ذمہ داری خوب نبھائی بھی …

    ہمیشہ کی طرح اپووا ٹیم کی یہ خواہش تھی کہ ایسے لوگوں کو بطور مہمان بلایا جائے جو اپنے تجربات کی روشنی میں نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔۔اپووا کی بنیاد رکھتے ہوئے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اتنی جلدی اپنی گرہیں مضبوط کر لے گی۔چیئرمین سر زبیر احمد انصاری کی سر پرستی میں ہماری تنظیم ملکی اور غیر ملکی سطح پر اپنی کام یابی کا لوہا منوا چکی ہے۔زبیر بھائی سماجی اور سیاسی شخصیت تو ہیں ہی مگر ادب سے بھی بے پناہ لگاو رکھتے ہیں۔۔ایک مخلص اور ادب دوست انسان ہیں جنہوں نے ہمیشہ مجھے اور اپووا ٹیم کو سپورٹ کیامیں ان کی محبتوں کا ہمیشہ مقروض رہوں گا۔کانفرنس سے تقریباً ایک ماہ پہلے زبیر صاحب ہی کی قیادت میں اپووا ٹیم نے سیالکوٹ کا دورہ کیا تھا جہاں سی ای او اللہ مالک ہوٹل گروپ محترم نواز انصاری صاحب نے پھر پور مہمان نوازی کی تھی اور تب ہی یہ طے ہوا تھا کہ سیالکوٹ میں ادبی کانفرنس اللہ مالک ایوینٹ کملیکس میں ہوگی۔

    بات ہو رہی تھی اپووا کی تواپووا کا مقصد یہ نہیں کہ صرف بڑے بڑے نامور لکھاریوں کو اعزازات سے نوازے۔ بلکہ اپووا کا مقصد دور دراز کے چھوٹے اور گمنام علاقوں سے ٹیلنٹ کھوج کر سامنے لانابھی ہے۔اور ان نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہی ہمارا حقیقی مقصد ہے۔بات ہو رہی تھی سیالکوٹ کانفرنس کی تو اپنے شہر سے دور جا کر کوئی بھی ایوینٹ کرنا یقیناً ایک مشکل کام ہوتا ہے اور کافی چیلنجز درپیش ہوتے ہیں ۔ایسے میں ثوبیہ راجپوت نے اپنی ذمہ داریاں بااحسن نبھائیں اور ان ہی کی تواسط سے گھوئنکی لائن کلب کے صدر محترم عمر سلیم گھمن صاحب نے بھی بھر پور معاونت فراہم کرکے ادب دوست ہونے کا عملی ثبوت دیا ۔اس کے علاوہ بہت ہی پیاری آپی فرظینہ مقصودبٹ(USA) جو اپووا صدر ثمینہ طاہر بٹ کی چھوٹی بہن بھی ہیں انہوں نے اس بار بھی اپنی بھر پور محبتوں سے نوازاآپ دیار غیر میں بیٹھ کر بھی اپنے وطن کی مٹی اور اپنے وطن سے جڑے لوگوں سے بہت انسیت رکھتی ہیں جو آپ کے اعلی ظرف ہونے کا ثبوت ہے۔ ان کے علاوہ میں شکر گزار ہوں دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کا جنہوں کانفرنس کے موقع پر فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا اور دیا ویلفیئر آرگنائزیشن کی وائس چیئر پرسن راحیلہ اشرف صاحبہ مصروفیات کے باوجود کانفرنس کے اختتام تک میڈیکل کیمپ میں موجود رہیں۔عین ضرورت کے وقت ہمیشہ کام آنے والے میرے دیرینہ دوست اور نائب صدر اسلم بھائی اور میں کانفرنس سے ایک روز قبل سیالکوٹ پہنچے۔ہمارا لنچ ثوبیہ راجپوت صاحبہ کے گھر تھا ثوبیہ کے گھر سے پرتکلف لنچ کرنے کے بعد ہم کاروان قلم کی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اور کانفرنس کی تیاریوں کو حتمی شکل دی ۔رات کا ڈنر سیالکوٹ کے معروف صحافی و لکھاری مہر اشتیاق نے اللہ ملک ہوٹل میں دیا اور ہماری رہائش بھی مہر اشتیاق کے دولت خانہ میں تھی اشتیاق بھائی نے بھی میزبانی کا خوب حق ادا کیا اگلے دن صبح انہوں نے ہمیں پائے کا بھر پور ناشتہ کروایا اور اس کے بعد ہم اللہ مالک ہوٹل پہنچے تو مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا… سب سےپہلے،فاکہہ قمر اس کے بعد قرۃ العین خالد اور ان کی بہن الماس العین خالد ان کے ساتھ ہی ڈاکٹر ندیم ملک اور امین رضا مغل ڈسکہ سے اپنی ٹیم کے ہمراہ ہوٹل پہنچے اس کے بعد سرگودھا سے معروف ادبی شخصیت اور انتہائی محبت اور شفقت کرنے والے ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم صاحب تشریف لائے ان کے ہمراہ معروف براڈ کاسٹر ممتاز عارف صاحب بھی موجود تھے ممتاز عارف صاحب کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا ۔

    کھاریاں سے معروف قانون دان سعدیہ ہماشیخ بھی تشریف لائیں۔لاہور سے وائس چیئرمین حافظ محمد زاہد کی زیر نگرانی ،لیجینڈاداکار راشد محمودصاحب ،معروف شاعر شہزد نیئر صاحب،سنئیر صحافی ندیم نظرصاحب،معروف براڈ کاسٹر اور شاعرہ ریحانہ عثمانی ڈرامہ نگار ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول،معروف ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری،معروف لکھاری اظہر حسین بھٹی ،محترم نادر فہمی،نائب صدر و مصنف سفیان علی فاروقی،فاطمہ طاہر بٹ ،سوشل ایکٹیوسٹ ساجدہ اصغر صاحبہ اور کینڈا سے ان کی صاحبزادی ۔معروف صحافی سجاد علی بھنڈر،معروف لکھاری و صحافی نبیلہ اکبر،نوجوان لکھاریہ لاریب اقراء اور بالخصوص رشنا اختر جو اپووا ویب کی ایڈیٹر بھی ہیں وہ محمود کوٹ سے طویل سفر طے کر کے پہلے لاہور اور پھر لاہور سے کارواں کے ساتھ سیالکوٹ پہنچیں ۔معروف سیاسی و سماجی رہنما ریاض احمد احسان ،معروف شاعرہ عروج درانی،معروف شاعر ضیغم عباس گوندل بھی لاہور سے تشریف لے آئے سیالکوٹ سے بھی مہمانوں کی آمد کا سلسہ جاری رہا ۔جن میں گھوئینکی لائن کلب کے عہدیدرارن و ممبران کے علا وہ سمیرا ساجد،مقبول شاکر،ڈاکٹر نصیر احمد اسد،عاصمہ فراز،ڈاکٹر الیاس عاجز،اعجاز عزائی ،سید زاہد حسین بخاری،ملک ساجد اعوان ،ڈاکٹرمحمد خرم ،عبدالشکور,ڈاکٹر اکبر غازی،آصفہ مریم اور دیگر بڑے بڑے نام شامل تھے .

    مدیحہ کنول نے حسب روایت اپنی کمپرئینگ کی ذمہ داریاں بہت احسن طریقے سے نبھائیں۔ہمیشہ کی طرح تقریب کا اآغاز زاہد بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا اور حفصہ خالد نے نعت رسول صلی اللہ وسلم پڑھ کر سماء باندھ دیا ،گجر انولہ سے تشریف لائی معروف شاعرہ فرحانہ عنبر نے اپووا پر لکھی خوبصورت غزل سنا کر خوب داد سمیٹی ۔سبز صحافت تنظیم کی طرف سے چئیرمین زبیر انصاری،وائس چئیرمین حافظ محمد زاہد ،صدر ثمینہ طاہر بٹ ،جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول اور راقم کو نشان صحافت دیا گیا جس پر میں فیصل افضل بھائی کا طے دل سے مشکور ہوں۔تقریب میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کے علاوہ وہ تمام دوست احباب اور ٹیم ممبرز جنہوں نے پوری محنت سے اس کانفرنس کو کامیاب کروانے میں مدد کی ان سب کا بھی شکر گزار ہوں چونکہ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کے نام بہت زیادہ ہیں اس لئے سب کے نام نہیں لکھ پایا جن کے نام رہ گئے ان سے دلی طور پر معزرت خواہ ہوں۔اپووا سے جڑے ایک ایک فرد کی میرے دل میں جگہ اور عزت ہے اور ہمیشہ رہے گی۔الحمد للہ مجھے مخلص لوگوں کا ساتھ ملا۔اس کام یابی میں اپووا ٹیم کا پورا ساتھ اور پورا ہاتھ ہے۔

    کانفرنس کے بعد سیالکوٹ سے واپسی پر قرۃ العین خالد کے دولت خانے پر مختصر قیام کے بعد کا رواں رات گئے لاہور پہنچ گیا ۔ذہنوں پر انمنٹ نقوش لئے یہ پر وقار تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔سیالکوٹ کے ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں منفرد نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی ۔اور ہماری حوصلہ آفزائی کے لئے یہ بات ہی کافی ہے۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا مقصد ہی یہی ہے کہ ہم ادب کو فروغ دیں اور ادب پر محنت کی جائے تا کہ ادب اور بالخصوص اردو ادب کا لوہا ملکی اور غیر ملکی سطح پر منوایا جا سکے۔۔نئے لکھنے والوں کو سیکھنے کے مواقع دئیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ ہم اردو زبان کو عالمی سطح پر ایک خاص مقام پے دیکھنا چاہتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ایسی کانفرنسز کو بیرون ملک تک لے جایا جائے۔اور میرا ایک بڑا خواب ہے کہ لکھاریوں کے لئے ایک الگ ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جا سکے،جس میں لکھاریوں اور ان فیملیز کو علاج کی مفت سہولت میسر آسکے۔ جسے میں پورا کرنا چاہتا ہوں۔مجھے امید ہے، بلکہ یقین ہے کہ میرا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا(ان شاء اللہ) میرے ہوتے نہ سہی میرے بعد سہی۔۔ آخر میں نئے لوگوں سے اتنا ضرور کہوں گا ہم اپنے حصے کی شمع روشن کر چکے ہیں۔اب مزید مشعلیں روشن کرنا آپ کا کام ہے۔میں تمام شرکا کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جو سیالکوٹ یا سیالکوٹ سے باہر دور دراز سے تشریف لائے۔ اپووا ٹیم نے کانفرنس کو کام یابی سے ہمکنار کروانے میں دن رات محنت کی اگر کہیں کوئی کمی کوتائی رہ گئی ہو تو درگزر کیجئے گا۔۔میری یہ دعا ہے کہ ہماری اس چھوٹی سی کاوش کو مدتوں یاد رکھا جائے اور اپووا ٹیم کے حوصلے ہمیشہ یوں ہی بلند،رہیں۔۔۔۔۔۔آمین