Baaghi TV

Category: بلاگ

  • بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر    :   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    بابائے سندھی صحافت مولانا دین محمد وفائی. تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ علوی

    مولانا دین محمد وفائی 14اپریل 1894ءکو سندھ مردم خیز ضلع شکار پور کے گوٹھ بنی آباد میں پیدا ہوئے ۔
    ابتدائی تعلیم و تربیت ان کے والد حکیم گل محمد نے کی ۔جب مولانا نو برس کے ہوئے تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔والد کے انتقال کے بعد مزید تعلیم کی ذمّہ داری قریبی مدرسے کے استاد محمد اسلم کو سونپی گئی ان کی زیر نگرانی مولانا نے صرف 12سال کی عمر میں فارسی زبان میں مہارت حاصل کرلی ۔عربی زبان سیکھنے کے لئے انہوں نے لاڑکانہ کے علاقے سونو جتوئی میں واقع مدرسے کا رخ کیا ۔18 سال کی عمر میں آپ نے رسمی تعلیم مکمل کر لی۔اور اپنے کیریئر کا آغاز سکول ٹیچر سے کیا ۔کچھ ہی عرصے میں ان کی شہرت ایک بہترین استاد کی حیثیت سے پورے سندھ میں پھیل گئی ۔یہی وجہ تھی کہ رانی پور کے پیر نے اپنے بیٹوں کی تعلیم کے لئے آپ کو استاد مقرر کیا ۔اس کے بعد امام الدین راشدی نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے آپ کی خدمات حاصل کیں ۔

    مولانا دین محمد وفائی کا شمار سندھ کے ان بہادر سپوتوں میں ہوتا ہے جن پر یہ دھرتی ہمیشہ ناز کرتی رہے گی ۔
    مولانا صاحب ایک عالم فاضل شخص تھے ۔انہوں نے اگرچہ مغربی فلسفے سے بھی استفادہ کیا لیکن ان کی فکر کی اساس دانش مشرقی اور علوم دینیہ پر رکھی گئی تھی ۔ انہوں نے نثر اور نظم دونوں میں اپنے قلم کو آزمایا ۔ان کی تحریر کردہ کتب کی تعداد پانچ درجن سے زائد ہے ۔مولانا نے دنیائے صحافت سے اپنے جوہر منواۓ اور "توحید”کے عنوان سے سندھی پرچہ جاری کیا۔اس کے علاوہ انہوں نے تحریک خلافت کے دوران بھی مجاہدانہ کردار ادا کیا ۔ پہلی عالم گیر جنگ کے دوران ترکی کے عثمانی خلیفہ نے جرمنی کا ساتھ دیا ۔اس دور میں خلافت عثمانیہ کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی نمائندہ حکومت سمجھا جاتا تھا ۔جب عثمانی خلیفہ نے سلطنت برطانیہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو بر صغیر کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کے خلاف مہم تیز کر دی ۔1918ءمیں ترکی کو جنگ میں شکست حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں اتحادیوں نے عثمانی سلطنت کے حصے کر دئیے اور خلیفہ کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا ۔اسی پس منظر میں بر صغیر کے مسلمانوں نے "تحریک خلافت”چلائی تھی ۔
    1919ءمیں مولانا صاحب نے فیصلہ کیا کہ وہ ان حالات میں سیاست سے لا تعلقی اختیار نہیں کر سکتے اور یہ ان کی مذہبی ذمّہ داری ہے کہ وہ خلافت کے تحفظ کی عملی جدو جہد میں شریک ہوں ۔اس طرح انہوں نے تحریک خلافت کے سر گرم کارکن کے طور پر طویل اور صبر آزما جدو جہد کا آغاز کیا ۔جس کے نتیجے میں ان کا شمار سندھ کے قابل احترام سیاسی رہنماؤں میں ہونے لگا ۔
    انگریزوں نے جیسے ہی ہندوستان میں بڑھتے ہوئے سیاسی خطرے کی بو سونگھی فوراً ہی چند زر خرید علماء سے "تحریک خلافت”کی مخالفت میں فتویٰ دلا دیا ۔مولانا نے اس فتویٰ کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ تحریک بھی چلائی ۔اس حوالے سے انہوں نے مولانا تاج محمد امروٹی کی رہنمائی میں ایک کتاب بھی تحریر کی جو مارچ 1920ءمیں لاڑکانہ میں منعقدہ”خلافت کانفرنس”کے دوران تقسیم کی گئیں ۔اس کتاب کو خراجِ تحسین پیش کرنے والوں میں ابوالکلام آزاد ،مولانا شوکت علی اور مولانا عبد الباری لکھنوی جیسے جید علمائے کرام شامل تھے ۔
    مذکورہ کانفرنس کے بعد مولانا صاحب کو جمعیت العلمائے سندھ کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ۔
    مولانا کی شخصیت کا ایک پہلو سندھی صحافت کے لیے ان کی گراں قدر خدمات بھی ہیں ۔1918ءمیں انہوں نے "الکاشف”کے نام سے ایک سندھی جریدے کی اشاعت شروع کی ۔1920ءمیں انہیں سندھی روز نامہ "الوحید”کی اشاعت اور مقبولیت بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ان کے مضامین کو سندھی زبان وادب کے بہترین نمونوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔مولانا صاحب کی صحافتی صلاحیتوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے کراچی سے سندھی زبان میں ایک ماہنامہ "توحید”کے نام سے جاری کیا اس پرچے کا سلوگن تھا
    توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
    آساں نہیں مٹانا ، نام ونشان ہمارا
    علمی ،ادبی،تاریخی،مذہبی،سماجی اور تعلیمی نوعیت کے مضامین اس پرچے کی زینت بنتے تھے ۔1943ءمیں مولانا صاحب نے ایک ہفت روزہ اخبار "آزاد”کے نام سے جاری کیا جو کراچی میں واقع ان کے پرنٹنگ پریس میں ہی چھپا کرتا تھا ۔بعد میں ان کے بیٹے علی نواز وفائی نے اس اخبار کی ذمّہ داریاں سنبھالیں ۔
    برٹش راج کے دنوں میں نصابی کتب کا آغاز ملکہ وکٹوریا کی تاجپوشی کے تذکرے سے اور اختتام اس وقت کے برطانوی حکمران شاہ جارج پنجم کی صحت اور درازی عمر کے لیے دعا پر ہوا کرتا تھا ۔مولانا نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی سنہری تاریخ سے واقف کرانے کے لیے بھرپور جد و جہد کی کیونکہ ان کا موقف تھا کہ جو قوم اپنی تاریخ سے ناواقف ہو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کی یاد داشت کھو گئی ہو اور جب تک افراد ملت اپنے سنہرے ماضی سے بے خبر رہیں گے ان میں مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے درکار خود اعتمادی پیدا نہ ہو سکے گی ۔
    مولانا سے متاثر ہوکر پیر علی محمد راشدی، پیر حسام الدین راشدی اور دیگر دانشوروں نے سندھ کی تاریخ کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ۔
    مولانا نے تاریخی موضوعات پر جو کام کیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ
    پیر حسام الدین راشدی نے انہیں "سندھی مورخین”کا امام قرار دیا ۔
    سندھ کے ممتاز ماہر تعلیم ،شمس العلماء ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ انہیں "زندہ ڈکشنری”کہا کرتے تھے ۔
    جبکہ پیر علی محمد راشدی انہیں "چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا”کہا کرتے تھے ۔
    مولانا صاحب محض مذہبی علوم میں ملکہ نہ رکھتے تھے بلکہ انہیں تاریخ ،عمرانیات،جغرافیہ،لسانیات اور قدیم سندھی شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے کلام میں انہیں ممتاز مقام حاصل ہے ۔
    انہوں نے شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے حوالے سے دو کتب تحریر کیں ۔جن میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی تعلیم و تربیت اور فکری ارتقاء کو موضوع بنایا گیا ہے ۔جبکہ دوسری کتاب میں تاریخ بیان کی گئی ہے ۔انہوں نے 60سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے بعض کی اشاعت کی نوبت ہی نہیں آئی ۔
    ان کی مشہور و معروف تصانیف میں مشاہیر سندھ ،تجریدبخاری اور تجرید صحیح بخاری شامل ہیں ۔
    جسے احادیث کی مستند ترین کتاب کا پہلا سندھی ترجمہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔
    مولانا صاحب کی دیگر کتب میں الہام باری ،محمد عربی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ،صدیق اکبر رضہ،فاروق اعظم رضہ ،سیدنا عثمان غنی رضہ ،حیدر قرار رضہ ،خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضہ ،اذکار حسین رضہ ،قرآنی صداقت،غوث اعظم ،ہندودھرم اور قربانی اور توحید اسلام جیسی کتب شامل ہیں ۔10اپریل1950ءکو سندھ کے اس عظیم مجاہد نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انہیں سکھر کے آدم شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین )

  • مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کی 41 ویں برسی ، ایک عزم، ایک جدوجہد .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مقبول بٹ شہید کا نام تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ ایک ایسے مجاہد تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کر دی اور بالآخر اسی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ان کی شہادت محض ایک واقعہ نہیں بلکہ تحریکِ آزادی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ان کی پھانسی نے کشمیر کے عوام میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کیا، جو آج بھی جاری ہے۔مقبول بٹ 18 فروری 1938 کو وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ترہگام گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک عام کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی سوچ غیر معمولی تھی۔ وہ بچپن سے ہی غلامی اور ناانصافی کے خلاف حساس تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے سری نگر اور پھر پاکستان کا رخ کیا، جہاں انہوں نے صحافت اور سیاست میں اپنی فکری نشوونما جاری رکھی۔

    ان کی سیاسی زندگی کا آغاز 1958 میں ہوا جب وہ کشمیریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہوئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ یہ لاکھوں کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ان کی سوچ واضح تھی: کشمیر کو ایک خودمختار، آزاد ریاست ہونا چاہیے جو کسی بھی بیرونی تسلط سے پاک ہو۔
    1965 میں مقبول بٹ نے "جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ” (JKLF) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔ یہ تنظیم کشمیری قوم پرستی اور آزادی کے نظریے پر قائم کی گئی تھی۔ مقبول بٹ نے عسکری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ طاقت کے بغیر کوئی قابض حکومت آزادی نہیں دیتی۔انہوں نے مسلح جدوجہد کے ذریعے بھارتی تسلط کے خلاف آواز بلند کی۔ 1966 میں وہ ایک اہم مشن کے دوران گرفتار ہوئے اور ان پر بغاوت، قتل اور غیر قانونی سرحد پار کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ بھارتی حکومت نے انہیں سزائے موت سنائی، لیکن وہ 1968 میں جیل سے فرار ہو کر پاکستان پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔پاکستان میں مقبول بٹ کو ایک اور چیلنج درپیش تھا۔ یہاں پر کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر موجود تھے۔ کچھ لوگ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے، جبکہ مقبول بٹ کشمیر کی مکمل خودمختاری پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے خیالات کو ہر جگہ مکمل حمایت نہ مل سکی۔ تاہم، انہوں نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور مسلسل اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔1976 میں وہ دوبارہ بھارت گئے، جہاں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی حکومت نے انہیں دوبارہ سزائے موت سنائی، اور طویل عرصے تک قید میں رکھا گیا۔ اس دوران ان کے نظریات اور مقاصد مزید واضح ہو گئے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہیں شہید کر دیا جائے تو ان کی قربانی کشمیری عوام کے لیے ایک نئی تحریک کو جنم دے گی۔

    11 فروری 1984 کو، بغیر کسی قانونی ضابطے کی تکمیل کے، بھارتی حکومت نے مقبول بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی۔ ان کی لاش کو بھی کشمیری عوام کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ جیل کے اندر ہی دفن کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پورے کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔مقبول بٹ کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں میں آزادی کی ایک نئی روح پھونکی۔ ان کی شہادت کے بعد کشمیر میں مسلح جدوجہد مزید شدت اختیار کر گئی، اور یہ تحریک آج بھی مختلف شکلوں میں جاری ہے۔مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیر کی جدوجہد کو مزید مضبوط کر دیا۔ آج بھی کشمیری عوام ہر سال 11 فروری کو "یومِ شہادت” کے طور پر مناتے ہیں۔ ان کا فلسفہ سادہ تھا: آزادی کی جدوجہد میں اگر جان بھی دینی پڑے تو یہ ایک معمولی قربانی ہے۔کشمیریوں کے لیے مقبول بٹ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔ وہ نظریاتی، فکری اور عملی جدوجہد کی علامت ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی کشمیری نوجوانوں کو متحرک کرتے ہیں اور آزادی کے حصول کی راہ میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔مقبول بٹ کی شہادت کے بعد بھی عالمی برادری نے کشمیر کے مسئلے پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔ بھارت نے ہمیشہ اس معاملے کو "داخلی مسئلہ” قرار دے کر دبانے کی کوشش کی، جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں انصاف کے اصولوں پر قائم ہیں یا صرف اپنے مفادات کے تابع ہیں؟ مقبول بٹ کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا اور آج بھی ان کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔مقبول بٹ کی قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ وہ ایک ایسا بیج بو گئے جو آج تناور درخت بن چکا ہے۔ کشمیر کے بچے، بوڑھے، جوان سبھی ان کی جدوجہد کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں۔ ان کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کا عکس نظر آتا ہے۔

    کیا کشمیری عوام کو وہ حق ملے گا جس کے لیے مقبول بٹ نے جان دی؟ کیا عالمی برادری انصاف کرے گی؟ یہ سوال آج بھی موجود ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ جب تک کشمیری عوام میں مقبول بٹ جیسے جذبے موجود ہیں، آزادی کی یہ شمع کبھی نہیں بجھے گی۔

  • چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    چولستان جیپ ریلی کا آغاز 2005 ء میں ہوا جو کہ اب ایک بین الاقوامی سطح کی سرگرمی بن چکی ہے، جس میں نامور ملکی و غیرملکی مرد ڈرائیورز کے ساتھ ساتھ اب خواتین ڈرائیورز بھی حصہ لیتی ہیں۔

    سرائیکی خطہ ہزاروں سال سے قدیم تہذیب وتمدن اور ثقافت کا مرکز بنتا آرہا ہے۔روہی چولستان اور سرائیکی وسیب جسم و روح کی مانند ہیں۔سابق سرائیکی ریاست موجودہ ڈویژن بہاولپور دنیا میں لینگؤیج ،لٹریچر،آرٹ،کلچر اور ایگری کلچر میں ایک منفرد اعزاز رکھتا ہے۔چولستان کا دل روایتی فنون لطیفہ کی علامت قلعہ ڈیراور کے مقام پر 20ویں انٹرنیشنل جیپ ریلی کا آغاز 12فروری تا 16 فروری 2025ء درحقیقت خوشحالی اور تعمیر نو کے نئے سفر کی نوید ہے۔قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے فرمایا "سِیْرُوا فِی الْأَرْضِ” (سَیْرُوا فِی الْأَرْضِ)جس کا مطلب ہے "زمین میں چل پھر کر دیکھو” یا "زمین میں سیر کرو” ۔ یہ آیت قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر آئی ہے، جیسے کہ سورۂ نمل (27:69)،سورۂ عنکبوت (29:20)، سورۂ محمد (47:10) اس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ زمین میں سیر و سیاحت کریں، تاریخ سے سبق سیکھیں،پچھلی قوموں کے انجام پر غور کریں اور اللہ کی نشانیوں کو دیکھیں تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔

    زمین کی سیر سے رزق ملتا ہے۔صدیوں سے انسان روٹی روزی اور قتل وغارت کے خوف سے ایک خطے سے دوسرے خطے تک ہجرت کرتا رہا ہے۔کل کی ہجرت آج موجودہ عہد میں سیرو سیاحت نے تجارت کو فروغ دیا۔اس دوران انسان نے مختلف علاقوں کی تہذیب و تمدن،لباس ،ثقافت،زبانیں، رسوم و رواج، ادب، فنون کو سیکھا اور آپنی نئی نسل تک منتقل کیا۔اب دنیا میں سیر و ساحت باقاعدہ ایک ثقافتی ،سماجی، معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن چکی ہے۔خوبصورت پہاڑ، دریا،جنگل،سمندر،میدان اور صحراء قدرتی مناظر مالی وسائل کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔سات سےآٹھ ہزار سال قدیم تاریخی شہر گنویری والا چولستان سرائیکی وسیب کی تمدنی عظمت کی گواہی دراصل پوری دنیا کے لیے انسانی امن ومحبت پیغام اور مشترکہ تہذیبی ورثے کا گہوارہ ہے۔قدیم آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے مطابق وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن،جس کو میں وادی سرائیکی تہذیب وتمدن مانتا ہوں۔کیونکہ حرف س سے سرسوتی،سرسوتی سے سرائیکی،سرائیکی زبان میں حرف س سے لفظ سنا، سنا کا مطلب پانی ہے۔پانی انسان، حیوان، نباتات و جمادات کی زندگی کی رونق ہے۔

    سرائیکی لفظ سنا سے سندھ بنا ہے۔پھر اس دریا کی نسبت سے وادی سندھ تہذیب وتمدن کی بنیاد بنی۔جس کی ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن روہی چولستان ہے۔آج بھی دریائے سندھ کو پاکستان میں ابا سین کہا جاتا ہے۔دراصل یہ لفظ اباسئیں ہے۔سب کا باپ۔اس پر ہزاروں صدیوں پرانا سرائیکی آکھان جیئں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ھندو نہ او مسلمان۔اردو ضرب المثل”آگرہ اگر دلی مگر ملتان سب کا پدر، سرائیکی دھرتی کی عظمت کا اعتراف ہے۔آج بھی سندھ میں سرائیکی زبان کو فوقیت حاصل ہے۔یونانی حملہ آوروں کی زبان میں حرف "س” کی جگہ "ا” الف یا "ہ” بولا جاتا ہے، جیسے سندھ سے "ہند” یا "اند” ہے۔لفظ سندھستان سے ہندوستان ہوگیا۔جس طرح سندھی زبان کے حروف تہجی میں ں نون غنہ کو لکھنے میں ن لکھا جاتا ہے۔پھر اباسئیں سے اباسین ہوگیا۔آج ہمارے پیارے ملک پاکستان میں سب سے میٹھی اور مرکزی زبان سرائیکی ہی ہے۔جو پاکستان کے ہر صوبے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔دریائے سرسوتی ندی کی بندرگاہ پتن منارہ صحراء چولستان میں موجود ہے۔قرآن مجید میں اصحاب الرس سے مراد بھی چولستان گنویری والا قدیم ترین شہر کی طرف گواہی ہے۔

    کل سے صحراء چولستان میں ثقافتی میلہ اور سپورٹس ایونٹ اہم مرحلہ جیپ ریلی کا آغاز ہوگا۔چولستان جیپ ریلی پاکستان کی ایک مشہور آٹو ریس ہے۔اس کی شروعات جکارتہ ڈاکار جیپ ریلی کی طرز 2005ء میں ہوا۔ اب ہر سال یہ انٹرنیشنل ایونٹ سرائیکی قلب محلوں کے شہر بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے سابق شاہی دارالحکومت ڈیرہ نواب صاحب سے تقریبا 50 کلو میٹر دور روہی چولستان میں منعقد ہوتا ہے۔ یہ ایونٹ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں ایک مشہور اور دلچسپ ریلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بین الاقوامی چولستان جیپ ریلی 2005ء سے اب تک مقامی سرائیکی وسیب کے ساتھ پاکستان سمیت عالمی شہرت یافتہ ایک اہم کلچرل ایونٹ بن چکا ہے۔خواب سے حقیقت کا یہ خوبصورت سماں جاری ہے۔جس میں دنیا بھر کے ڈرائیورز اور آٹوموبائل شوقین افراد شرکت کرتے ہیں۔اس کا پاکستان کے خوبصورت تصوف علاقے سرائیکی وسیب کے ورلڈ چولستانی صحرائی ماحول میں منعقد ہونا مقامی سطح پر روزگار فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔اس ایونٹ کا مقصد نہ صرف آٹو ریسنگ کو فروغ دینا ہے بلکہ چولستان کی قدیم تہذیب وتمدن،ثقافت،تاریخ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے لانا بھی ہے۔چولستان کے علاقے کی دلکش صحرا، روایتی دیہاتی زندگی اور تاریخی مقامات اس ایونٹ کو منفرد بناتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی کا روٹ سخت اور چیلنجنگ ہوتا ہے۔جس میں ریت کے ٹیلے، پتھریلی زمین اور تیز ہوا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایونٹ ڈرائیورز کے لیے اپنی مہارت، تجربے اور قوت ارادی کا امتحان ہوتا ہے۔ ریلی کے دوران ڈرائیورز کو مختلف مشکل راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ جن میں ریت کی چٹانیں،ٹیلے،دریائےسرسوتی کے خشک گمشدہ صحرائی راستے شامل ہیں۔ ریلی کے دوران مقامی ثقافت کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔سرائیکی لوک موسیقی،مشاعرہ، جھومر،روایتی لباس اور کھانوں کے سٹال بھی سجائے جاتے ہیں۔ یہ ایونٹ ایک موقع ہوتا ہے جہاں لوگ نہ صرف سپورٹس کا لطف اٹھاتے ہیں بلکہ مقامی ثقافت سے بھی روشناس ہوتے ہیں۔مختلف مقابلوں میں 4×4 جیپ ریسنگ، موٹر سائیکل ریسنگ اور کلاسک کار ریسنگ شامل ہیں۔ یہ مقابلے مختلف سطحوں پر ہوتے ہیں تاکہ ہر قسم کے شرکاء کی شرکت ممکن ہو۔اس موقع پر دنیا بھر سے سیر و سیاحت کے شوقین اور کلچرل ایکسپرٹ بھی ورلڈ ہیرٹیج قلعوں سمیت دیگر تاریخی مقامات کی سیر کرتے ہیں۔ورلڈ میگا ثقافتی و سپورٹس ایونٹ چولستان جیپ ریلی سے سیاحت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ملکی وقار و زر مبادلہ میں خاطر اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ریسرچرز مقامی چولستانی اقدار اور قدرتی خوبصورتی کا تجربہ بھی کرتے ہیں۔

    چولستان جیپ ریلی نہ صرف ایک سپورٹس ایونٹ ہے بلکہ یہ پاکستان کی ثقافت،تاریخی ورثہ اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ہرسال اس ایونٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے اور یہ دنیا بھر کے آٹو موبائل شوقین افراد کے لیے ایک بڑا موقع بن چکا ہے۔چولستان جیپ ریلی مقامی اور قومی سطح پر معاشی فوائد کا باعث بنتی جارہی ہے۔آرکیالوجی،ثقافتی،سماجی، تاریخی و معاشی فوائد میں آپس میں اتحاد ویکجہتی،رواداری، خلوص،فطرت شناسی جیسے عظیم جذبوں اور روزگار جیسے اقتصادی مواقعوں کو فروغ ملتا ہے۔اس سے مقامی ہوٹلوں،ریستورانوں اور دیگر سیاحتی سہولتوں کا کاروبار بڑھتا ہے۔مقامی کاروبار میں ترقی دیکھنےکو ملتی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، سامان، اور یادگاروں کی فروخت میں اضافہ ہوتا ہے۔ملازمت کے مواقع ملتے ہیں جیسے کہ گاڑیوں اور خیمہ بستیوں کی سیکیورٹی کے مقامی لوگوں کی بھرتی ہوتی ہے۔اسی طرح زرعی ترقی میں کلیدی اضافہ ہوتا ہے۔

    سیاحوں کی آمد سے چولستان کے اطراف کے کسانوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ ان کا مال مویشی اور زرعی مصنوعات کی فروخت میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔نیشنل و انٹرنیشنل مارکیٹنگ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر پارٹنرشپ میں لین دین بڑھ جاتا ہے۔مقامی سطح کی ثقافت اور قدرتی حسن کو عالمی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ملک کی نیک نامی اور برآمدات میں اضافے سے ترقی کا پہیہ چلتا ہے۔ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سرائیکی خطے میں معاشی خوشحالی اور ترقی کے لیے چولستان جیپ ریلی کے مرکزی مقام قلعہ ڈیراور پر ہاکڑہ میوزیم قائم کیا جائے، سرسوتی یونیورسٹی کے قیام کو عملی شکل دی جائے اور چولستانی دستکاریوں کے فروغ کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ گنویری والا میں بنایا جائے۔ مستقبل میں ان مستقل اداروں کے قیام سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ پورا سال جاری سیاحتی سرگرمیوں سے ملکی معیشت بھی مضبوط ہوگی۔ اس سے سرائیکی خطے کی ہزار سالہ ثقافت، تہذیب اور تمدن کو فروغ ملے گا اور ملک کو بے شمار معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔سرائیکی قومی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا کلام روہی چولستان کی شادابی کی عملی دستاویزات ہیں۔

    ہنڑ تھی فریدا شاد ول
    ڈکھڑیں کوں نہ کر یاد ول
    اجھو جھوک تھیسی آباد ول
    ایہ نیں نہ واہسی ہک منڑیں ۔

  • ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور

    ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور

    ویلفیئر سکول اور اوکاڑہ کا مزدور
    تحریر:ملک ظفراقبال
    اوکاڑہ ایک گنجان آباد شہر ہے۔ اوکاڑہ کے گردونواح میں سینکڑوں دیہات ہیں۔ اوکاڑہ پہلے لاہور ڈویژن کا حصہ تھا اور اب ساہیوال ڈویژن میں شامل ہے۔ اوکاڑہ کی سرزمین کئی وجوہات کی بنا پر توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اوکاڑہ کی سرزمین کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ تعلیم ہو یا سیاسی میدان، زراعت ہو یا کھیل کا میدان، اوکاڑہ کا ہمیشہ پنجاب میں نمایاں مقام رہا ہے۔

    اگر بات مزدور کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی جائے تو شاید اوکاڑہ ڈسٹرکٹ اس میدان میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے مزدوروں کے بچے احساس کمتری کا شکار ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ ویلفیئر سکول کا نہ ہونا ہے۔ ویلفیئر سکول خاص طور پر انڈسٹری میں کام کرنے والے ورکروں کے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ورکروں کے بچوں کو مفت تعلیم اور دوسری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

    اوکاڑہ میں ویلفیئر سکول نہ ہونا ورکروں کے لیے ذہنی اضطراب کا سبب بنا ہوا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے اس سلسلے میں کئی بار حکامِ بالا کو بذریعہ خط و کتابت آگاہ کیا جا چکا ہے اور اوکاڑہ کے سیاستدانوں اور انتظامیہ کو بھی مطلع کیا گیا ہے مگر آج بھی ورکر ویلفیئر سکول کا وجود اوکاڑہ میں نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ورکر ویلفیئر بورڈ کے چیئرمین کو بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔

    اوکاڑہ کے ورکروں کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے مطالبہ ہے کہ جلد از جلد دوسری سکیموں کی طرح ورکر ویلفیئر سکول کا افتتاح کیا جائے تاکہ ورکروں کے بچوں کو احساسِ محرومی سے بچایا جا سکے۔ ورکر ویلفیئر سکولز ان خاندانوں کے بچوں کے لیے ضروری ہیں جو مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے وسائل محدود ہوتے ہیں۔ یہ سکول نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ طلبہ کو وہ سہولیات بھی مہیا کرتے ہیں جو عام سرکاری یا نجی سکولوں میں مہنگی ہونے کی وجہ سے مزدوروں کے بچوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔

    ورکر ویلفیئر سکول کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ کچھ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سکول مزدوروں کے بچوں کو جدید اور معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ بھی دوسرے بچوں کے برابر ترقی کر سکیں۔
    ان سکولوں میں فری تعلیم، کتابیں، یونیفارم، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولیات دی جاتی ہیں تاکہ کم آمدنی والے والدین کا تعلیمی بوجھ کم ہو۔
    کئی ورکر ویلفیئر سکولز میں تکنیکی اور فنی تعلیم (vocational training) بھی دی جاتی ہے تاکہ طلبہ مستقبل میں ہنر سیکھ کر خود کفیل بن سکیں۔
    یہ سکول مزدوروں کے بچوں کو وہی مواقع فراہم کرتے ہیں جو دیگر اعلیٰ طبقے کے بچوں کو میسر ہوتے ہیں، جس سے معاشرتی ناہمواری کم ہوتی ہے۔
    کئی ورکر ویلفیئر سکولز میں میڈیکل چیک اپ، کھیل کود، اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر ہو۔
    یہ سکول دراصل مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہیں، کیونکہ تعلیم یافتہ نسل مستقبل میں اپنے والدین کے مسائل کو بہتر انداز میں حل کر سکتی ہے۔

    اوکاڑہ کے مزدور والدین کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ اوکاڑہ میں ورکر ویلفیئر سکول کا قیام عمل میں لایا جائے۔

    ورکر ویلفیئر سکول ایک معاشرتی اور تعلیمی ضرورت ہیں جو مزدور طبقے کے بچوں کو روشن مستقبل کی امید فراہم کرتے ہیں۔ حکومت اور نجی اداروں کو مل کر ان سکولوں کی تعداد بڑھانی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔

  • موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟

    موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی
    موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس سے نہ کوئی فرد بچ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم، ہر مذہب میں موت کے بعد کے مراحل اور آخری رسومات کا ایک خاص طریقہ رائج ہے۔ اسلام میں میت کو دفنانے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ ہندو مت میں جلانے کی رسم کو مقدس مانا جاتا ہے۔ لیکن اگر حقیقت پر نظر ڈالی جائے تو ہندو مت میں مردہ سوزی کا عمل ایک بھیانک اور تکلیف دہ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ خاص طور پر بنارس کے مانیکرنیکا گھاٹ پر ہونے والے مناظر انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔

    اسلام نے تدفین کو نہ صرف ایک فطری عمل قرار دیا بلکہ اسے انسانی عظمت اور پاکیزگی کے عین مطابق بھی قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں ہابیل اور قابیل کے واقعے میں اللہ تعالی نے تدفین کی ہدایت کو واضح فرمایا، "پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے”(سور المائدہ 31)۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسانی لاش کو مٹی میں دفنانا ایک الہی حکم اور فطری طریقہ ہے۔

    میت کو دفنانے کے کئی فوائد اور حکمتیں ہیں، سب سے پہلے یہ طریقہ پاکیزگی اور وقار کو یقینی بناتا ہے۔ میت کو غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے اور انتہائی احترام کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔ دوسرے تدفین ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کے عین مطابق ہے کیونکہ دفنانے سے زمین میں میت کے اجزا تحلیل ہو جاتے ہیں اور فطرت میں کوئی آلودگی پیدا نہیں ہوتی۔ مزید برآں قبر کی زندگی برزخ کی ایک شکل ہے، جہاں میت کے اعمال کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن میں بارہا ذکر ہے کہ"اسی(زمین)سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے”( سور طہ 55)۔

    ہندو مت میں میت کو جلانے کی رسم صدیوں سے جاری ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آگ میں جلنے سے روح مکتی (نجات) پا لیتی ہے اور گنگا میں راکھ بہانے سے پاپ دُھل جاتے ہیں۔ خاص طور پر بنارس کا مانیکرنیکا گھاٹ ہندوؤں کے نزدیک انتہائی مقدس مقام ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں لاشیں جلائی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شمشان گھاٹ پر روزانہ جلی ہوئی لاشوں کا دھواں فضا کو آلودہ کرتا ہے۔ لکڑی کی کمی کے باعث اکثر لاشیں مکمل طور پر نہیں جل پاتیں اور انہیں گنگا میں بہا دیا جاتا ہے۔ گنگا میں نہانے اور اس کا پانی پینے والے یہی نہیں جانتے کہ وہ پانی انسانی راکھ اور نجاست سے بھرا ہوتا ہے۔ قرآن کے مطابق انسان کی نجات صرف اللہ کی رضا اور اعمال صالحہ میں مضمر ہے نہ کہ کسی مخصوص مقام پر جلنے میں۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایاکہ"اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت د ی”(سورة الاسرا ،70)، یہ آیت انسان کی عظمت کو واضح کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اسلام میں ہر عمل انسانی شرف اور عزت کے مطابق ہوتا ہے۔ تدفین کا طریقہ اسلامی پاکیزگی، سادگی اور عزت نفس کے اصولوں پر مبنی ہے جبکہ جلانے کا عمل انسانی وقار کے برعکس اور وحشت ناک تصور ہے۔

    رات کے وقت بنارس کے شمشان گھاٹ کا منظر اور بھی زیادہ خوفناک ہوتا ہے۔ جلتی ہوئی چتائیں، ہر طرف دھواں، راکھ میں لپٹے انسانی سائے، بانسوں سے کھوپڑیوں کو توڑنے کی آوازیں اور گنگا میں بہتی ہوئی ادھ جلی لاشیں اور گنگا کنارے ان لاشوں کو بھنبھوڑ کتے اور دوسرے جانور،جہاں وحشت ہی وحشت ہو۔ کیا یہی وہ مقدس جگہ ہے جہاں مکتی حاصل ہوتی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جگہ زمین پر جہنم کے ایک منظر سے کم نہیں۔

    اسلام میں تدفین کا نظام اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے جو انسانی شرف اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ جبکہ ہندو مت میں چتا پر جلانے کا عمل نہ صرف بے رحمانہ ہے بلکہ ماحولیاتی اور انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہر عقل مند شخص اگر تدبر کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ قبر سکون، رحمت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے جبکہ آگ اور راکھ کی دنیا عذاب اور بے سکونی کی علامت ہے۔

    اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایاکہ "بے شک ہم نے ظالموں کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی.” (سور ةالکہف 29)۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ چتا کی یہ آگ اسی عذاب کی ایک جھلک ہو؟ ایک ایسی آگ جس میں ایک انسان کو جلتے ہوئے راکھ میں بدل دیا جاتا ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ جو لوگ دنیا میں اپنے پیاروں کو آگ میں جھونکنے کو مقدس سمجھتے ہیں، وہی آخرت میں بھی ایسی ہی آگ کے مستحق ٹھہریں؟

    ذرا سوچئے اور ان سوالات کا جواب دیجئے کہ موت کے بعد تدفین یا چتا، کون سا راستہ بہتر ہے؟ کیا عزت و وقار کے ساتھ زمین کی آغوش میں سپرد کرنا زیادہ مناسب نہیں یا پھر جلتی چتا کی نذر کر دینا؟ کیا پاکیزگی اور سکون کی راہ افضل نہیں یا پھر آگ اور دھوئیں کی ہولناکی؟ فیصلہ عقل اور فطرت کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ انسان کا شرف اور آخری منزل ایک مقدس حقیقت ہے جس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔

  • امجد اسلام امجد، لفظوں کےجادوگر، خیالوں کےمصور کو دنیا چھوڑے 2 برس بیت گئے

    امجد اسلام امجد، لفظوں کےجادوگر، خیالوں کےمصور کو دنیا چھوڑے 2 برس بیت گئے

    لاہور(باغی ٹی وی) اردو ادب کے درخشندہ ستارے، معروف شاعر اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد کو دنیا سے رخصت ہوئے دو برس بیت گئے۔ ان کی شاعری، نثر اور ڈراموں نے ایک ایسا تخلیقی جہان آباد کیا، جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔

    4 اگست 1944 کو لاہور میں پیدا ہونے والے امجد اسلام امجد نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ تدریس سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور ایم اے او کالج لاہور میں اردو کے استاد رہے۔ 1975 سے 1979 تک پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر رہے، بعد ازاں 1989 میں اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور چلڈرن لائبریری کمپلیکس میں بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی خدمات انجام دیں۔

    ان کی شاعری جذبات کی لطافت اور جدید حسیت کا حسین امتزاج تھی۔ ان کے تحریر کردہ ڈرامے "وارث”، "دہلیز”، "فشار”، "سمندر” اور "رات دن” کہانیوں سے زیادہ حقیقت کی تصویریں تھے، جن میں معاشرے کی دھڑکنیں محسوس کی جا سکتی ہیں۔

    پچاس سالہ ادبی کیریئر میں ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سمیت بے شمار ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی شخصیت پر دس سے زائد تنقیدی کتب بھی لکھی جا چکی ہیں۔

    10 فروری 2023 کو یہ درویش صفت شاعر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اس کی تحریریں آج بھی دلوں میں زندہ ہیں، اور رہیں گی۔

  • نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    بتاریخ 8 فروری 2025 بروزہفتہ ایکسپوسنٹر لاہور کتاب میلے میں محبت کرنے والوں کی طرف سے دعوت پر ڈاکٹر عمران مشتاق کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا موقع میسر آیا جہاں بچوں کے اکثر ادیبوں میں یہ نعرہ زبان زدعام نظر آیا ” نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” جس کا مفہوم و مطلب یہ بنتا ہے کہ کسی کام، خدمت یا مشن کو سراہے جانے یا اعزاز و اجرت ملنے کے بغیر خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے لیکن میری نظر میں یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے۔
    ہمارے یہاں ہر کسی کے کام کو سراہا بھی جاتا ہے، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں نوازا بھی جاتا ہے اور محبت و الفت کے نذرانے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اب گزشتہ روز کی تقریب کو ہی دیکھ لیا جائے تو راقم خود گواہی دے سکتا ہے کہ اس تقریب میں بہت سے اہلیان قلم کو ایوارڈز، شیلڈز و نقدی سے نوازا بھی گیا، ان کے کام کو سراہا بھی گیا حتی کہ جو خواتین و حضرات کسی مجبوری کے باعث تقریب میں شرکت کرنے سے قاصر تھے ان کا انعام و اعزاز، ایوارڈ و نقدی کی صورت میں کسی دوسرے ساتھی کو اس پابندی کے ساتھ تھمایا گیا کہ متلعقہ قلم کار تک امانت لازما پہنچ جائے۔

    اس کے باوجود اگر پھر بھی یہی کہا جائے کہ کوئی پذیرائی نہیں ہورہی، سراہا نہیں جارہا تو سراسر غلط ہے۔ جناب آپ کو تو ستائش و صلے کی ضرورت ہی نہیں تو پھر کیوں اعتراض کرتے ہیں کہ پذیرائی نہیں مل رہی۔بلکہ آپ کو تو ملنے والا ایوارڈ و نقدی بھی یہ کہہ کر واپس کردینی چاہیے کہ "نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” لیکن اگر آپ وصولی بھی ڈال لیتے ہیں اور ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں تو یہ آپ اپنے اس نعرے کے بھی الٹ سمعت میں جارہے ہیں اور جو لوگ محبت میں آپ کی پذیرائی کررہے ہیں، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں آپ کے کام کی قدر کررہے ہیں اور کھڑے ہو کر آپ کو ویلکم کرکے آپ کی عزت افزائی کررہے ہیں ان کے ساتھ بھی سراسر زیادتی ہے۔

    آج اس دور میں جو وقت نکال کر دور دراز کا سفر کرکے آپ کی محبت میں پہنچ جائےکوئی کم تو نہیں۔ بھئی جتنا آپ کو سراہا جا رہا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنا کام جاری و ساری رکھیں۔۔۔اور اگر آپ اپنے کام کے عوض تنخواہ چاہتے ہیں تو کوئی ملازمت اختیار کرلیں یا کوئی بزنس کرلیں۔۔۔۔۔اور دوسری بات کتابوں کے حوالے سے کہ آج کتاب کی قیمت پر بھی ذرا غور کریں۔۔۔۔آپ کتاب کو خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں یا کاروبار کےلیے؟ اکثر رائٹرز و پبلشرز نے تو کتاب کی قیمت اس قدر زیادہ رکھی ہوئی ہوتی ہے کہ کتاب قاری کی پہنچ سے ہی دور ہوچکی ہے۔ اگر آپ خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں تو کتاب پر معقول مارجن رکھیں۔۔۔۔اڑھائی سو کی قیمت میں تیار ہونے والی کتاب کی قیمت اڑھائی ہزار لکھ کر آپ خدمت نہیں کاروبار کررہے ہیں۔ تھوڑا نہیں پورا سوچیے !
    اور سب سے اہم بات کہ یہ میری ذاتی رائے ہے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں اختلاف کیا جاسکتا ہے مختلف لوگوں کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں۔کوئی لفظ ناگوار گزرے تو شمع کیجئے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو! آمین

  • قیدی نمبر804کی محبت میں امریکی رکن کانگریس کی فوج پر تنقید مداخلت.تجزیہ:شہز ادقریشی

    قیدی نمبر804کی محبت میں امریکی رکن کانگریس کی فوج پر تنقید مداخلت.تجزیہ:شہز ادقریشی

    یادرکھیں فوج ہے تو ملک ہے ،ورنہ منہ کھولے دشمن اور حواری کھاجاتے،ذرا نہیں پورا سوچیں
    جیل جانے والے ملاقاتیوں کے پاس ذرائع نہ جیل انتظامیہ کو پتہ،دوسرا خط کہاں سے آگیا

    سیاستدانوں میں مقبولیت کا نشہ اس قدر تیز اور تند ہوتا ہے کہ وہ تمام حدوں کو عبور کرجاتے ہیں پھر بعد میں اُس کو جوش خطابت کا نام دیا جاتا ہے، جمہوری عمل کو برقرا ر رکھنا سیاستدانوں کے مرہون منت ہوتا ہے، جلسوں ، چوراہوں ،گلی محلوں اور سوشل میڈیا پر پاک فوج جملہ اداروں اور عسکری قیادت پر جس طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں کیا کسی مہذ ب معاشرے میں اس طرح کی زبان اپنے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بولی جاتی ہے ؟ پاک فوج میں غازیوں اور شہیدوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے ، پولیس کے افسران اور پولیس کے نچلے درجے کے شہداء کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اس وطن عزیز کی سلامتی اور قوم کی سلامتی کی خاطر شہید ہوئے، تاد م تحریر پاک فوج اور جملہ ادارے ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے ہیں، حکمران اور اپوزیشن ہوش کے ناخن لے، جمہوریت کی چوکھٹ پر سجدہ ریز جمہور تھوڑا نہیں پواسوچے ،غور کریں فکر کریں ، سیاسی گلیاروں میں باکردار با اخلاق شخصیات کا قحط ہے،سیاسی گلیاروں میں عصر حاضر میں باکردار بااخلاق شخصیات کا ظہور ممکن نہیں اب سیاسی گلیاروں میں چند سیاسی شخصیات ہی نظر آتی ہیں ،

    افسوس حکمرانوں اور اپوزیشن پر ہے کہ گزشتہ دنوں امریکی کانگریس کے ایک رکن نے قیدی نمبر804 کی محبت میں پاک فوج اورجملہ اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا کیا یہ ایک خود مختار ریاست پر حملہ نہیں؟ چلیں امریکہ ،بھارت یا کوئی دوسرا ملک پاک فوج اور جملہ اداروں پر تنقید کرتا ہے تو سمجھ میں آتا ہے کیا جس ملک پر حکمرانی کررہے ہیں یا کرتے رہے آپ پر فرض نہیں کہ کسی بیرونی طاقت کو اس کا جواب دیں اگر آپ ان بیانات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو آپ اس وطن عزیز اور قوم کی خاطر شہید ہونے والوں کی کون سی خدمت کررہے ہیں؟ قیدی نمبر804 سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی منافع بخش انڈسٹری کا روپ دھار چکا ہے، جس پر وی لاگرز اور اینکر قوم کو مصروف رکھ کر ڈالرز کما رہے ہیں ، افسوس الیکٹرانک میڈیا بھی اب سوشل میڈیا پر انحصار کرنے لگا ہے، تمام میڈیا قیدی نمبر804 کے خط کے گرد گھوم رہا ہے، جس طرح امریکی صدر کے مشیر ایلون مسک بڑے یقین کے ساتھ لوگوں کو یقین دلاتا رہتا ہے کہ زمین ختم ہونے والی ہے اسی طرح ان خطوط کی داستان ہے خود الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا ،وکلاء اور جیل جانے والے صحافی دعویٰ کرتے ہیں کہ جیل کے اندر داخل ہونے پر ان کی تلاشی لی جاتی ہے ،لکھنا بھی ممکن نہیں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں سے موبائل لے لئے جاتے ہیں ایسی صورت میں خط کون لکھتا ہے ،کون باہر لاتا ہے بیرون ملک میں اخبارات میں مضمون کیسے شائع ہوتے ہیں تھوڑا نہیں پورا سوچئے؟

  • ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر

    ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر

    ڈاکٹروں کا مسیحائی سے ناجائز منافع خوری تک سفر
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق جنوری کے مہینے میں ملک بھر میں صحت کی سہولتوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا،ایک ماہ کے دوران میڈیکل ٹیسٹ کی فیسوں میں 5.36 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 15.16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کلینک، ڈینٹل سروسز، ہسپتالوں اور ادویات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے عام عوام کے لیے صحت کی سہولتوں تک رسائی مزید مشکل بنا دی ہے۔ جنوری میں کلینک کی قیمتوں میں 4.28 فیصد، ڈینٹل سروسز میں 2.22 فیصد اورہسپتالوں میں 0.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ادویات کی قیمتوں میں 0.52 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس صورتحال نے صحت کے شعبے میں ایک نئی مہنگائی کی لہر پیدا کی ہے جو عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔

    صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن پاکستان میں یہ حق عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔ شہریوں کو صحت کی سہولتوں تک رسائی میں جو رکاوٹیں ہیں وہ نہ صرف سماجی بلکہ اقتصادی اور سیاسی عوامل کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں صحت کا نظام ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے جہاں ایک طرف سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار ہے تو دوسری طرف نجی ہسپتالوں میں علاج معالجہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

    ڈاکٹروں کی ہوس زر میں مبتلا ہونے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ جب مریض ڈاکٹر سے اپنی بیماری کا چیک اپ کرانے جاتا ہے تو سب سے پہلے باہر کاؤنٹر پر فیس کے نام پر مریض سے بھاری رقم ہتھیائی جاتی ہے، اس پربس نہیں ہوجاتی بلکہ یہاں سے مریض جو کہ پہلے ہی بیماریوں کی وجہ سے بہت تنگ ہوتا ہے جب ڈاکٹرز کے کیبن میں پہنچتا ہے تو ڈاکٹر اسے تسلی دینے کی بجائے اسے ڈراتا ہے اور ڈاکٹر کا یہیں سے ڈر کا بزنس شروع ہوتا ہے اور مریض سے کہتا ہے میرے خیال میں آپ کی بیماری خطرناک سٹیج پر پہنچی ہوئی ہے، آپ کو لیبارٹری ٹیسٹ کرانے ہوں گے، ساتھ میں الٹراساؤنڈ اور ایکسرے بھی ضروری ہیں، کاؤنٹر پر لڑکا آپ کو سمجھا دے گا ،یہ تمام ٹیسٹ کراکر آئیں پھر دوائی لکھوں گا۔

    جب مریض کے لواحقین کاؤنٹر پر لڑکے کے پاس جاتے ہیں تو لڑکا کہتا ہے کہ یہ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ آپ نے فلاں لیبارٹری سے کرانے ہیں، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے فلاں سے کراکر لائیں اوراگر کوئی مریض دوسری لیبارٹری، الٹراسونوگرافکس، ایکسرے کے بارے میں کہتا ہے ہمارے اپنے جاننے والے ہیں ہم ان سے کراکر لاتے ہیں تو فوری طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کی رپورٹ ٹھیک نہیں ہوتی اور ڈاکٹر صاحب وہ رپورٹ نہیں مانیں گے لہذا آپ کو جہاں کا کہا گیا ہے صرف وہاں سے تمام ٹیسٹ کراکر لاؤ۔

    جب تمام رپورٹس آجاتی ہیں پھر دوائی لکھی جاتی ہے، دوائی بھی وہ لکھی جاتی ہے جو صرف ان کی کلینک یا ہسپتال کی اٹیچ فارمیسی سے ہی ملتی ہے، شہر کے بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر ڈاکٹر کے نسخے پر لکھی ہوئی ادویات نہیں مل پاتیں کیونکہ ڈاکٹر نے وہ کٹ ریٹ میڈیسن کمپنیوں سے اپنے برانڈ نیم بنوا کر پیک کرائی ہوئی ہوتی ہیں ،جن پر اپنی مرضی کی بھاری قیمت لکھوائی جاتی ہے۔ جس لیبارٹری ،الٹراساؤنڈ یا ایکسرے سنٹر سے ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں وہاں سے ڈاکٹر 50فیصدکمیشن لیتا ہے اور اس لیبارٹری کی رپورٹ بھی ٹھیک ہوتی ہے جو ڈاکٹر کو بھاری کمیشن نہ دیں ان کی رپورٹ غلط قرار دے دی جاتی ہیں۔

    اگر ایک متوسط اور غریب طبقے کے فرد کی بات کی جائے تو اسے صحت کی بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے سرکاری ہسپتالوں کا حال دیکھ لیں، جہاں مریضوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے لیکن ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور عملے کی تعداد اس کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہے، ایک عام شہری جب بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ سرکاری ہسپتال کا رخ کرتا ہے لیکن وہاں اسے لمبی قطاروں اور طبی عملے کی عدم موجودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹرز یا تو چھٹی پر ہوتے ہیں یا پھر ان کے آنے کاکوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال مریض کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوتی ہے۔

    دوسری طرف نجی ہسپتالوں کا منظرنامہ بالکل مختلف ہے۔ یہ ہسپتال جدید مشینری اور بہترین سہولتوں سے لیس ہوتے ہیں لیکن ان کی فیسیں عام شہریوں کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ شہری جو معاشی طور پر مستحکم نہیں ہیں، اپنے علاج کے لیے کہاں جائیں اور کیا کریں؟ انہیں کیا مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ علاج کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔
    پاکستان میں صحت کی سہولتوں تک رسائی کا ایک اور سنگین پہلو دیہی علاقوں کی حالت زار ہے۔ شہر میں رہنے والے لوگ شاید اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ دیہاتوں میں صحت کی سہولتیں کتنی ناقص ہیں۔ ان علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کی کمی، ڈاکٹرز کی عدم موجودگی اور سہولتوں کا فقدان ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے افراد کو اپنے علاج کے لیے میلوں سفر کرنا پڑتا ہے اور اکثر اوقات وہ اپنی بیماری کی سنگینی کو سمجھنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ حکومت کہاں ہے؟ حکومت نے صحت کی سہولتوں کے نام پر جو منصوبے بنائے تھے، وہ کہاں تک پہنچے؟ اگرچہ حکومت کی طرف سے ہر سال صحت کے شعبے میں بجٹ مختص کیا جاتا ہے لیکن اس کا زیادہ تر حصہ یا تو بدعنوانی کی نذر ہوجاتا ہے یا پھر ان منصوبوں پر خرچ ہوتا ہے جو عام آدمی کی رسائی میں نہیں ہوتے۔پاکستان کے صحت کے نظام میں ایک اور اہم مسئلہ ادویات کی عدم دستیابی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کا وعدہ تو کیا جاتا ہے لیکن مریضوں کو اکثر اوقات باہر سے مہنگی دوائیں خریدنی پڑتی ہیں۔ فارمیسیز میں ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے دوا خریدنا تقریباََ ناممکن ہوچکاہے۔ اس صورتحال میں لوگ عطائی ڈاکٹروں اور جعلی حکیموں کا سہارا لیتے ہیں جو ان کی بیماری کو مزید بگاڑ دیتے ہیں۔

    حکومت نے مختلف ادوار میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کے دعوے کیے ہیں۔ صحت کارڈ جیسے پروگرامز متعارف کروائے گئے تھے، جن کا مقصد یہ تھا کہ ہر شخص کو معیاری صحت کی سہولتوں تک رسائی حاصل ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان پروگرامز کا فائدہ صرف چند فیصد افراد تک پہنچ سکا۔ وہ لوگ جو ان پروگرامز سے مستفید ہو سکتے ہیں ان تک معلومات ہی نہیں پہنچ پاتیں اور جن کے پاس کارڈ موجود ہوتا ہے، انہیں مطلوبہ علاج نہیں ملتا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا صحت کا نظام ایک کھوکھلی عمارت کی طرح لگتا ہے، جس کی بنیادیں کمزور ہیں اور جسے کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔ عوام کا اعتماد سرکاری ہسپتالوں پر سے ختم ہو چکا ہے اور نجی ہسپتالوں میں جانے کی استطاعت صرف اشرافیہ کو حاصل ہے۔ اس ستم ظریفی کا شکار وہ عام شہری ہوتا ہے جو اپنی بیماری کا علاج کروانے کی سکت نہیں رکھتا۔

    بدقسمتی سے بیشتر ڈاکٹروں نے مسیحائی کے جذبے کو منافع خوری میں بدل دیا ہے۔ نجی ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج سے زیادہ کمائی کو ترجیح دی جانے لگی ہے اور مریضوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر اورفارما کمپنیوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے مریضوں کو زائد اور غیر ضروری ادویات کے نسخے تجویز کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر پرائیویٹ میڈیسن کمپنیوں سے ڈیل کر کے لاکھوں روپے کماتے ہیں۔ غریب عوام پر بہت بڑا ظلم ہو رہا ہے، جس میڈیسن کی ضرورت نہیں ہوتی وہ بھی مریض کو لکھ کر دے دیتے ہیں۔

    صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ہمیں اپنے نظام کو ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو سرکاری ہسپتالوں میں عملے کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔ دیہی علاقوں میں مراکز صحت کا قیام اور ان میں ضروری سہولتوں کی فراہمی لازمی ہے تاکہ دیہی عوام بھی معیاری علاج کی سہولت سے مستفید ہوسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس صورتحال کا سخت نوٹس لے اور مسیحائی کے روپ میں چھپے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والے ان ڈاکٹرز اور طبی اداروں کے خلاف قانونی کارروائیاں کی جائیں تاکہ غریب اور لاچار عوام کو ان سوٹڈ بوٹڈ ڈاکوئوں کی لوٹ مار سے بچایا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں ایک مثبت قدم ثابت ہوں گے اور معاشرتی انصاف کے قیام کے لیے اہم سنگ میل ہوں گے۔

  • صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات کو لے کر پی ٹی آئی نے احتجاج کی کال تو دی اور احتجاج بھی کیا تو خیبر پختونخوا میں،جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،تاہم پی ٹی آئی کی انتشار، نفرت، تقسیم کی سیاست کو اب خیبر پختونخوا کی عوام نے بھی مسترد کر دیا ہے.پی ٹی آئی کی جانب سے حالیہ جلسے میں عوام کی عدم دلچسپی اور خالی پنڈال نے واضح طور پر یہ ثابت کیا کہ پی ٹی آئی کی سیاست اب عوام کے درمیان کوئی اثر نہیں رکھتی۔ جلسے کی ناکامی نے پارٹی رہنماؤں میں مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی بحرانوں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے ساتھ عوامی تعلق کمزور ہوچکا ہے،درحقیقت پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک انتہا پسند گروپ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔نومئی، 26 نومبر کو جو کچھ ہوا وہ قوم کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں حکومت ہوتے ہوئے بھی پی ٹی آئی کی قیادت نے عوامی مسائل کو نظر انداز کر دیا ،وہاں کے شہری علاج کے لئے پنجاب کا رخ کر رہے ہیں، تعلیم کی سہولیات ناکافی ہیں، پی ٹی آئی صرف اور صرف اپنی ذاتی مفادات کی سیاست کر رہی ہے جس کی وجہ سے عوام مایوس ہو چکی ہے

    پی ٹی آئی احتجاج کی کال دے کر قوم کو بچوں کو استعمال کر رہی ہے تو وہیں معیار یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے بیٹے بیرون ملک میں آرام سے زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ عمران خان کی سیاسی جماعت اپنے ملک کے نوجوانوں کو فسادات اور عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ حقیقت عوام کے لیے باعث تشویش ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اپنی ذات کی سیاست میں مگن ہیں اور دوسروں کے بچوں کو ملک میں انتشار اور فسادات کی طرف اُکسا رہے ہیں۔ن تحریک انصاف نے مرکز میں 3.5 سال اور خیبر پختونخوا میں 11 سال حکومت کی، لیکن ان برسوں میں ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے کچھ خاص نہیں کیا گیا۔ عوام کو ترقی اور خوشحالی کی بجائے، صرف سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کے کھیل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان برسوں میں حکومت نے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے بجائے مسائل میں اضافہ کیا۔

    پی ٹی آئی کا ایجنڈا صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور انارکی پھیلانا ہے۔ 9 مئی کے واقعات نے پی ٹی آئی کے منفی ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے، جب اس کے کارکنوں نے ملک کے اہم ترین اداروں پر حملہ کیا۔ یہ حملے ملک کی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ ایک گروپ کی سیاسی مفاد کے لیے تھے، جس کا مقصد صرف اور صرف ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔9 مئی 2023 کو ہونے والے واقعات نے پی ٹی آئی کے سیاسی ایجنڈے کی حقیقت کو کھول کر رکھ دیا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کے مختلف اہم اداروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ملک کی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، جنہیں پی ٹی آئی کی طرف سے صوبے کی ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ جلسوں، احتجاجوں ، دھرنوں میں خیبر پختونخوا کے خزانے کا پیسہ لٹا رہے ہیں،عوامی مسائل کا حل انکی ترجیح نہیں ہے. خیبر پختونخوا کی عوام کو سڑکوں کی بہتر حالت، صحت کے بہتر نظام اور تعلیم کے شعبے میں ترقی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے بجائے، علی امین گنڈا پور عمران خان کی رہائی کا نعرہ لگا کر اور دھمکیاں دے کر اپنی سیاست کر رہے ہیں، وفاق کو دھمکیاں دینا علی امین گنڈا پور کی مستقل پالیسی بن چکی ہے جو خطرناک ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام پی ٹی آئی کو اب مسترد کر چکی، جلسے کی ناکامی، پارٹی کے اندر کی لڑائیاں، اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی ناکامیوں نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس جماعت کا ایجنڈا صرف اور صرف ذاتی مفادات پر مبنی ہے، نہ کہ ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی کے لیے۔خیبر پختونخوا کے عوام ترقی اور استحکام چاہتے ہیں، نہ کہ انتشار اور سیاسی لڑائیاں۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کے مسائل حل کرے، نہ کہ سیاسی نعروں میں وقت ضائع کیا جائے۔ پی ٹی آئی کا ایجنڈا اب عوام کے مفاد میں نہیں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ عوام نے اس جماعت کو مسترد کر دیا ہے۔