Baaghi TV

Category: بلاگ

  • کعبے سے  غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    پیدائش: 17 56ء
    دہلی
    وفات:23 نومبر 1838ء
    حیدرآباد، دکن، ریاست حیدر آباد

    شاہ نصیر دہلوی یا محمد نصیر الدین ناصر (پیدائش: 1756ء— وفات: 23 نومبر 1838ء) اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کے ابتدائی چار عشروں تک اردو زبان کے مشہور شاعر، میر تقی میر، مرزا غالب اور اُستاد ابراہیم ذوق کے ہم عصر تھے۔تخلص نصیر تھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہ نصیر نے 23 نومبر 1838ء کو 81 یا 82 سال کی عمر میں حیدر آباد، دکن میں وفات پائی۔ حیدرآباد، دکن میں درگاہ حضرت موسیٰ قادری میں دفن ہوئے۔ مؤرخین نے مادۂ تاریخ ’’چراغ گل‘‘ سے نکالا ہے۔
    کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    اُن کے کلام کو خصوصی حیثیت طویل ردیفوں کے مربوط شکل اور ہم رِشتہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔وہ اِنتہائی مشکل زمین میں اِنتہائی خوبصورت شعر اور غزل کہنے میں ملکہ رکھتے تھے۔

    نصیرؔ :۔ سنگلاخ زمینوں اور مشکل ردیف و قوافی کی جو ابتدا ء سوداؔ کے زمانے سے شروع ہوچکی تھی وہ انشاؔ و مصحفیؔ سے گزر کرتا شاہ نصیرؔ کے کلام میں انتہا تک پہنچ گئی اور حقیقت یہ ہے کہ پرانے معیار پر اگر ان کا کلام جانچا جائے تو انھیں سرتاج الشعراء کہا جاسکتا ہے۔ طبیعت کی روانی، کثرتِ مشق اور زور و جوش نے ان کے کلام کو گرما گرم بنا دیا تھا ۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالاتھا، آواز الگ پاٹ دار چنانچہ مشاعروں میں دھوم دھام پیدا کردیتے تھے۔ مصحفیؔ نے ان کے کلام کا زور شور سنا تھا لیکن لکھنوی شعراء ان کی استادی کے زعم میں شریک تھے۔ (الخ) آزادؔ کی رائے میں ان کے کلام کے متعلق زیادہ صحیح ہے لکھتے ہیں : ان کے کلام کو اچھی طرح دیکھا گیا۔ زبان شکوہ الفاظ اور چستی تراکیب میں سوداؔ کی زبان تھی اور گرمی و لذت خدا داد تھی۔ انھیں اپنی نئی تشبیہوں اور استعاروں کا دعویٰ تھا اور یہ دعویٰ بجا تھا۔ نئی نئی زمینیں نہایت برجستہ اور پسندیدہ نکالتے تھے مگر ایسی سنگلاخ ہوتی تھیں کہ بڑے بڑے شہ سوار تقدم نہ مارتے تھے۔ تشبیہہ و استعار ے کو لیا ہے اور نہایت آسانی سے برتا ہے جسے اکثر زبست انشاء پرداز نا پسند کرکے کم استعدادی کا نتیجہ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تشبیہہ یا استعارہ شاعرانہ نہیں پھبتی ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو کلام سریع الفہم کیوں کر ہوتا اور ہم ایسی سنگلاخ زمینوں میں گرم گرم شعر کیوں کر سنتے۔ دہلی میں جو بوڑھے استاد مثلاً فراق، قاسم، عظیم بیگ وغیرہ رہ گئے تھے ان کے دعوؤں کو سنتے لیکن چپ نہ کرسکتے تھے۔ جن سنگلاخ زمینوں میں یہ دو غزلے کہتے، دوسروں کو غزل پوری کرنا مشکل ہوتی۔ غرض کہ نصیرؔ ایک زبردست شاعر تھے۔ وہ قدیم الفاظ جو انشاؔ و مصحفیؔ تک باقی تھے مثلاً ٹک وا چھڑے تس پر وغیرہ انھوں نے ترک کردیئے لیکن آئے ہے، جائے ہے وغیرہ افعال کو برقرار رکھا ہے مشکل ردیف قافیے میں بغیر تشبیہہ و استعارے کے بات نہیں بنتی۔ نصیرؔ کا تخیئل و تصور اس میں منجھا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت آسانی سے سنگلاخ زمینوں میں کامیاب رہتے ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    مشکل ہے روک آہ دل داغ دار کی
    کہتے ہیں سو سنار کی اور اک لہار کی

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    بوسۂ خال لب جاناں کی کیفیت نہ پوچھ
    نشۂ مے سے زیادہ نشۂ افیوں ہوا

    غرور حسن نہ کر جذبۂ زلیخا دیکھ
    کیا ہے عشق نے یوسف غلام عاشق کا

    خیال زلف دوتا میں نصیرؔ پیٹا کر
    گیا ہے سانپ نکل تو لکیر پیٹا کر

    جوں موج ہاتھ ماریے کیا بحر عشق میں
    ساحل نصیرؔ دور ہے اور دم نہیں رہا

    رکھ قدم ہشیار ہو کر عشق کی منزل میں آہ
    جو ہوا اس راہ میں غافل ٹھکانے لگ گیا

    نصیرؔ اس زلف کی یہ کج ادائی کوئی جاتی ہے
    مثل مشہور ہے رسی جلی لیکن نہ بل نکلا

    شیخ صاحب کی نماز سحری کو ہے سلام
    حسن نیت سے مصلے پہ وضو ٹوٹ گیا

    میں اس کی چشم کا بیمار ناتواں ہوں طبیب
    جو میرے حق میں مناسب ہو وہ دوا ٹھہرا

    سو بار بوسۂ لب شیریں وہ دے تو لوں
    کھانے سے دل مرا ابھی شکر نہیں پھرا

    آنکھوں سے تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز و شب
    بے دید مجھ سے کس لیے بیگانہ ہو گیا

    کیوں مے کے پینے سے کروں انکار ناصحا
    زاہد نہیں ولی نہیں کچھ پارسا نہیں

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر کے سوا اور ہے انسان میں کیا

    خیال ناف بتاں سے ہو کیوں کہ دل جاں بر
    نکلتے کوئی بھنور سے نہ ڈوبتا دیکھا

    عشق ہی دونوں طرف جلوۂ دلدار ہوا
    ورنہ اس ہیر کا رانجھے کو رجھانا کیا تھا

    دیکھ تو یار بادہ کش میں نے بھی کام کیا کیا
    دے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا

    جا بجا دشت میں خیمے ہیں بگولے کے کھڑے
    عرس مجنوں کی ہے دھوم آج بیابان میں کیا

    برقعہ کو الٹ مجھ سے جو کرتا ہے وہ باتیں
    اب میں ہمہ تن گوش بنوں یا ہمہ تن چشم

    چمن میں دیکھتے ہی پڑ گئی کچھ اوس غنچوں پر
    ترے بستاں پہ عالم ہے عجب شبنم کے محرم کا

    اک آبلہ تھا سو بھی گیا خار غم سے پھٹ
    تیری گرہ میں کیا دل اندوہ گیں رہا

    یہ ابر ہے یا فیل سیہ مست ہے ساقی
    بجلی کے جو ہے پاؤں میں زنجیر ہوا پر

    لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر
    سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا

    اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
    جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر

    ہم ہیں اور مجنوں ازل سے خانہ پرورد جنوں
    اس نے کی صحرا نوردی ہم نے گلیاں دیکھیاں

    یہ داغ نہیں تن پر میں دیکھنے کو تیرے
    اے رنگ گل خوبی آنکھیں ہوں لگا لایا

    لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں
    بہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میں

    آتا ہے تو آ وعدہ فراموش وگرنہ
    ہر روز کا یہ لیت و لعل جائے تو اچھا

    رواق چشم میں مت رہ کہ ہے مکان نزول
    ترے تو واسطے یہ قصر ہے بنا دل کا

    تیرے خیال ناف سے چکر میں کیا ہے دل
    گرداب سے نکل کے شناور نہیں پھرا

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر سے کھلے معنیٔ پنہاں ہم کو

    ترے ہی نام کی سمرن ہے مجھ کو اور تسبیح
    تو ہی ہے ورد ہر اک صبح و شام عاشق کا

    پوچھنے والوں کو کیا کہیے کہ دھوکے میں نہیں
    کفر و اسلام حقیقت میں ہیں یکساں ہم کو

    دن رات یہاں پتلیوں کا ناچ رہے ہے
    حیرت ہے کہ تو محو تماشا نہیں ہوتا

    متاع دل بہت ارزاں ہے کیوں نہیں لیتے
    کہ ایک بوسے پہ سودا ہے اب تو آ ٹھہرا

    لگا نہ دل کو تو اپنے کسی سے دیکھ نصیرؔ
    برا نہ مان کہ اس میں نہیں بھلا دل کا

    ہم وہ فلک ہیں اہل توکل کہ مثل ماہ
    رکھتے نہیں ہیں نان شبینہ برائے صبح

    دیکھو گے کہ میں کیسا پھر شور مچاتا ہوں
    تم اب کے نمک میرے زخموں پہ چھڑک دیکھو

    شراب لاؤ کباب لاؤ ہمارے دل کو نہ اب گھٹاؤ
    شروع دود قدح ہو جلدی کہ سر پہ ابر بہار آیا

    ملا کی دوڑ جیسے ہے مسجد تلک نصیرؔ
    ہے مست کی بھی خانۂ خمار تک پہنچ

    بنا کر من کو منکا اور رگ تن کے تئیں رشتہ
    اٹھا کر سنگ سے پھر ہم نے چکناچور کی تسبیح

    نہ ہاتھ رکھ مرے سینے پہ دل نہیں اس میں
    رکھا ہے آتش سوزاں کو داب کے گھر میں

    سر زمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا
    اک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیا

    دود آہ جگری کام نہ آیا یارو
    ورنہ روئے شب ہجر اور بھی کالا کرتا

    نصیرؔ اب ہم کو کیا ہے قصۂ کونین سے مطلب
    کہ چشم پر فسون یار کا افسانہ رکھتے ہیں

    ہوا پر ہے یہ بنیاد مسافر خانۂ ہستی
    نہ ٹھہرا ہے کوئی یاں اے دل محزوں نہ ٹھہرے گا

    نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا
    طریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا

    سپر رکھتا ہوں میں بھی آفتابی ساغر مے کی
    مجھے اے ابر تیغ برق کو چمکا کے مت دھمکا

    غرض نہ فرقت میں کفر سے تھی نہ کام اسلام سے رہا تھا
    خیال زلف بتاں ہی ہر دم ہمیں تو لیل و نہار آیا

    سب پہ روشن ہے کہ راہ عشق میں مانند شمع
    پاؤں پر سے ہم نے قرباں رفتہ رفتہ سر کیا

    مت پوچھ واردات شب ہجر اے نصیرؔ
    میں کیا کہوں جو کار نمایان نالہ تھا

    لے گیا دے ایک بوسہ عقل و دین و دل وہ شوخ
    کیا حساب اب کیجے کچھ اپنا ہی فاضل رہ گیا

    کیا دکھاتا ہے فلک گرم تو نان خورشید
    کھانا کھاتے ہیں سدا اہل توکل ٹھنڈا

    تشنگی خاک بجھے اشک کی طغیانی سے
    عین برسات میں بگڑے ہے مزا پانی کا

    میرے نالے کے نہ کیوں ہو چرخ اخضر زیر پا
    خطبہ خوان عشق ہے رکھتا ہے منبر زیر پا

    بسان آئنہ ہم نے تو چشم وا کر لی
    جدھر نگاہ کی صاف اس کو برملا دیکھا

    ریختہ کے قصر کی بنیاد اٹھائی اے نصیرؔ
    کام ہے ملک سخن میں صاحب مقدور کا

    یہ نگل جائے گی اک دن تری چوڑائی چرخ
    گر کبھو تجھ سے زمیں ہم نے بھی نپوائی چرخ

    اک پل میں جھڑی ابر تنک مایہ کی شیخی
    دیکھا جو مرا دیدۂ پر آب نہ ٹھہرا

    بجائے آب مے نرگسی پلا مجھ کو
    غذا کچھ اور نہ بادام کے سوا ٹھہرا

    مے کشی کا ہے یہ شوق اس کو کہ آئینے میں
    کان کے جھمکے کو انگور کا خوشا سمجھا

    ابر نیساں کی بھی جھڑ جائے گی پل میں شیخی
    دیدۂ تر کو اگر اشک فشاں کیجئے گا

    سرزمیں زلف کی جاگیر میں تھی اس دل کی
    ورنہ اک دام کا پھر اس میں ٹھکانا کیا تھا

    سیر کی ہم نے جو کل محفل خاموشاں کی
    نہ تو بیگانہ ہی بولا نہ پکارا اپنا

    چمن میں غنچہ منہ کھولے ہے جب کچھ دل کی کہنے کو
    نسیم صبح بھر رکھتی ہے باتوں میں لگا لپٹا

    پستاں کو تیرے دیکھ کے مٹ جائے پھر حباب
    دریا میں تا بہ سینہ اگر تو نہائے صبح

    گلے میں تو نے وہاں موتیوں کا پہنا ہار
    یہاں پہ اشک مسلسل گلے کا ہار رہا

    لب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا
    بھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی میں

    گردش چرخ نہیں کم بھی ہنڈولے سے کہ مہر
    شام کو ماہ سے اونچا ہے سحر ہے نیچا

    نہیں ہے فرصت اک دم پہ آہ اس کو نظر
    حباب دیکھے ہے آنکھیں نکال کے کیسا

    ہم دکھائیں گے تماشہ تجھ کو پھر سرو چمن
    دل سے گر سرزد ہمارے نالۂ موزوں ہوا

    آمد و شد کوچے میں ہم اس کے کیوں نہ کریں مانند نفس
    زندگی اپنی جانتے ہیں اس واسطے آتے جاتے ہیں

    جب کہ لے زلف تری مصحف رخ کا بوسہ
    پھر یہاں فرق ہو ہندو و مسلمان میں کیا

    دیر و کعبہ میں تفاوت خلق کے نزدیک ہے
    شاہد معنی کا ہر صورت ہے گھر دونوں طرف

    غزل اس بحر میں کیا تم نے لکھی ہے یہ نصیرؔ
    جس سے ہے رنگ گل معنیٔ مشکل ٹپکا

    صیاد کے جگر میں کرے تھا سناں کا کام
    مرغ قفس کے سر پہ یہ احسان نالہ تھا

    دے مجھ کو بھی اس دور میں ساقی سپر جام
    ہر موج ہوا کھینچے ہے شمشیر ہوا پر

    کم نہیں ہے افسر شاہی سے کچھ تاج گدا
    گر نہیں باور تجھے منعم تو دونوں تول تاج

    ہو گفتگو ہماری اور اب اس کی کیونکہ آہ
    اس کے دہاں نہیں تو ہماری زباں نہیں

    شوق کشتن ہے اسے ذوق شہادت ہے مجھے
    یاں سے میں جاؤں گا واں سے وہ ستم گر آئے گا

    تار نفس الجھ گیا میرے گلو میں آ کے جب
    ناخن تیغ یار کو میں نے گرہ کشا کیا

    سربلندی کو یہاں دل نے نہ چاہا منعم
    ورنہ یہ خیمۂ افلاک پرانا کیا تھا

    کوئی یہ شیخ سے پوچھے کہ بند کر آنکھیں
    مراقبے میں بتا صبح و شام کیا دیکھا

    یہ چرخ نیلگوں اک خانۂ پر دود ہے یارو
    نہ پوچھو ماجرا کچھ چشم سے آنسو بہانے کا

    وقت نماز ہے ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کماں
    بن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کماں

    دل پر آبلہ لایا ہوں دکھانے تم کو
    بند اے شیشہ گرو! اپنی دکاں کیجئے گا

    تار مژگاں پہ رواں یوں ہے مرا طفل سرشک
    نٹ رسن پر چلے ہے جیسے کوئی رکھ کر پاؤں

    تو تو اک پرچہ بھی واں سے نامہ بر لایا نہ آہ
    زندگی کیوں کر ہو گر ہم دل کو پر جاویں نہیں

    اسی مضمون سے معلوم اس کی سرد مہری ہے
    مجھے نامہ جو اس نے کاغذ کشمیر پر لکھا

    آ کے سلاسل اے جنوں کیوں نہ قدم لے بعد قیس
    اس کا بھی ہم نے سلسلہ از سر نو بپا کیا

    وصل کی رات ہم نشیں کیونکہ کٹی نہ پوچھ کچھ
    برسر صلح میں رہا اس پہ بھی وہ لڑا کیا

    دلا اس کی کاکل سے رکھ جمع خاطر
    پریشاں سے حاصل کب اک دام ہوگا

  • ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ ابھی تک باقیوں سے بہت بہتر ہے لیکن فلفور اس میں ریفارمز آنے چاہیں

    ایک سال پہلے 500 سیٹ آئی پی پی ایس سی جس پے دس ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہاں اگر یہ سیٹ آپ انجنئیرنگ کو دیں تو یہاں پچیس ہزار اور اگر کیمسٹری وغیرہ کو دیں تو ایک ایک لاکھ تک لوگ اپلائی کریں گے۔۔۔

    لیکن مسئلہ دیکھیں پی پی ایس سی ان 11000 لوگوں کے انٹرویو لے رہا ہے ٹیسٹ کی کوئی پالیسی نہیں پرانے خیالات پے جی رہے جب 100 سیٹ پے اسی لوگ اپلائی کرتے تھے

    سیٹیں یہاں منصفانہ نہیں جا رہی جس کا اثر رسوخ ہے وہ لے رہا ہے اگر یہ سیٹیں آپ انجنئیرنگ کو دیں تو ہم بہت خوش ہوں کیونکہ ہم ان سیٹوں پے بھی سیلکٹ ہوئے جو 10 آئی اور 4000 لوگوں نے اپلائی کیا الحمدللہ میں نے بھی بہت بار ان سیٹوں پے نا صرف ٹیسٹ دیا بلکہ ٹاپ بھی کیا۔۔۔۔

    آپ کے کنگ ایڈورڈ کے گریجوایٹ غیر منصفانہ تقسیم سے مارے مارے پھر رہے جبکہ بیرون ممالک یا کم نمبروں والے لوگ سفارشات پے مستقل ملازمت لے کر جا رہے ہیں.

    ایڈہاک کی سیٹیں فلفور ختم ہونی چاہیے اسکی جگہ کنٹریکٹ لاگو ہونا چاہیے ایڈہاک کا بنیادی مقصد مستقل سیٹوں کو کسی ملازم سے فلفور بھرنا تھا اور 2004 اور 2006 کی پالیسی ہے ایڈہاک پے ملازمین کو اچھی تنخواہ دی جاتی تھی تگنی جبکہ اب دیکھا جائے ایڈہاک کے انٹرویو تھے 10 سیٹوں پے چھ سو لوگ بلائے ہوئے تھے یہاں تذلیل الگ غیر منصفانہ تقسیم الگ اسکے بعد ہر چھ ماہ بعد دوبارہ کی خواری رینیوو کرواتے الگ۔۔۔

    اسکو ختم کر کے کنٹریکٹ لایا جائے اور پورے پنجاب میں پنجاب لیول پے یا ہر ڈسٹرکٹ کے ذمے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو لے کر جاب دی جائے 10 سیٹوں پے محض 50 لوگوں کا حق ہے اور پچاس بھی وہ جو قابل ترین ہوں۔۔۔۔

    اس وقت وائے ڈی اے و دیگران اپنے سروس سٹرکچر کے لیے بھی کوشاں نہیں سب مل جھل کر پرائیوٹ کالج چلانے میں مشغول ہیں اپنے اور رشتے داروں کی سفارشات میں۔۔۔۔

    تحریری طور پے یہ پیغام بہت جگہ پہنچا چکا ہوں کہ فوراً سے پہلے اگر ہم چاہتے ہیں ایم بی بی ایس بچ جائے تو ریفارمز کی فوراً ضرورت ہے وگرنہ آپ کریم آف نیشن کو تباہ کر رہے ہیں اور تباہ کرنے والے غیر نہیں انکی اپنی تنظیمیں ہیں.

    جنکے یہ نعرے لگاتے رہے ہیں کلاسوں سے نکلوا کر
    ” میرے کفن پے لکھنا وائے ڈی اے”

  • خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    خنثی لوگوں کو نارمل سمجھنے کا طریقہ!!! — عثمان ای ایم

    بہت سال قبل ہمارے جاننے والوں کے گاؤں میں ایک “عورت” کے بارے میں پتا چلا جو رشتے کروانے یعنی میریج بیورو کا کام کرتی تھی۔ رشتے کروانے کے بدلے میں علاقے کے لوگ اس کو کچھ پیسے دیا کرتے تھے، کچھ رشتہ ریفر کرنے پر، اور مزید رشتہ ہو جانے پر۔

    گاؤں والوں کے بقول حقیقت میں وہ عورت خنثی پیدا ہوئی تھی (جس کو عرف عام میں کھسرا یا خواجہ سرار کہہ دیا جاتا ہے)، اور اس کا زنانہ نام تھا۔ ظاہری طور پر بھی وہ سادہ سا لباس پہنتی تھی، جبکہ خنثی ہونے کی بنا پر ساری عمر شادی نہیں کروائی۔

    البتہ مشاہدے میں جو بات آئی کہ وہ ایک عام لوگوں کی طرح نارمل شخصیت ہی سمجھی جاتی تھی۔ کوئی اس پر نہ تو طنز کرتا تھا اور نہ ہی مذاق بناتا تھا۔

    اس کی بڑی وجہ یہ عورت خود تھی۔ نہ اس کو لوگوں سےتکلیف، نہ لوگوں کو اس سے تکلیف، نہ ہی اس کو رب سے گلہ۔

    وہ "مظلوم” بنے پھرنے یا بیہودہ حرکات کرنے کی بجائے عزت کی روزی کماتی تھی۔ لیکن وہ خوبی ، اس کی وہ خصلت جو پوری دنیا کے بدکاروں اور بدکاروں کے حمایتیوں کے چہروں پر زناٹے دار تھپڑ تھی وہ تھی اس عورت کا ایمان۔

    اس عورت نے میریج بیورو کے کام کے لیے لوگوں کے گھروں میں چکر لگا لگا کر جو حلال کی روزی کمائی ، اس روزی کو جوڑ جوڑ کر اس نے جو پیسے اکٹھے کیے ان پیسوں سے مسجد تعمیر کروا کر وقف کی۔

    اندازہ کریں، کہ لوگوں کی نظر میں اس خنثی عورت کی کیا عزت تھی، اور اس خنثی عورت کی اپنے رب کے بارے میں کیا عقیدت تھی کہ اس نے اپنی کل متاع مسجد بنانے پر خرچ کی؟
    نہ کوئی بیہودگی، نہ مظلومیت کا رونا، نہ ہی لوگوں کی طرف سے طنز، نہ ہی "حقوق حقوق” کی چیخ و پکار۔ اور نہ ہی رب کی بنائی گئی تقسیم پر شکوہ شکایت۔ ارے اس نے شکایت کیا کرنی تھی۔وہ تو رب کی رضا میں نہ صرف راضی تھی بلکہ اس نے تو مسجد بنا کر رب کو قرض دے دیا۔

    اللہ سبحان و تعالٰی اس کی قبر کو منور فرمائے۔ اس کا چہرہ اس دن روشن رکھے جس دن بدکاروں کے چہرے کالے سیاہ ہوں گے۔

    ہمارا رب عادل ہے۔ عدل پسند فرماتا ہے۔ دنیا میں آزمائش پر جس نے صبر کیا، ہمارا رب اس کو آخرت میں ایسا اجر عطا فرمانے والا ہے کہ جس پر سب رشک کریں گے۔

    یہی ہماری روایت ہے، اور یہی ہمارا طریقِ معاشرت، اور یہی ہمارا ایمان۔

    قدرتی طور پر کسی کا خنثی پیدا ہو جانا ایک نہایت ہی شاذ و نادر واقعہ ہوتا ہے۔ یعنی ایسا لاکھوں بچوں میں کوئی ایک ہوتا ہے۔ جب کہ ننانوے فیصد سے بھی زیادہ "خواجہ سرا” کہلانے والے لوگ پیدائشی خنثی نہیں ہوتے ، بلکہ اصل میں جعلی ہوتے ہیں، یعنی ان کی جنس مکمل مرد ہوتی ہے۔ یہ سب خنثی نہیں بلکہ ٹرانس جینڈر ہوتے ہیں، یعنی اپنی پیدائشی جنس کے برخلاف روپ دھارے پھرتے ہیں۔

    کروڑوں کی آبادی میں چند درجن حقیقی خنثیوں سے ہمدردی کے بڑے بڑے دعوے، جبکہ حقیقت میں ان ہی خنثیوں کی شناخت کو ایکسپلائٹ کر کے بیچ کھانے والے ٹرانسجینڈرز اور پھر ان ٹرانسجینڈرز کے حمایتیوں کا مسلہ خنثیوں کے حقوق ہرگز نہیں ہے۔ ہرگز نہیں ۔

    یہ خنثیوں کا عام انسانوں کی طرح سمجھنے کے قائل نہیں ۔ بلکہ یہ ٹرانس جینڈرز یعنی جعلی جنس اپنانے والوں کو عوام کے گلوں میں زبردستی اتارنے اور ان کو مقدس بنا کر پیش کرنے کے درپے ہیں۔

    معاشرہ خنثیوں کو اپنی معاشرت میں نارمل انسانوں کی طرح سمونے کا قائل ہے۔ جبکہ آپ ٹرانسجینڈرز کی طرف دیکھیں تو کوئی ناچنے گانے، تھرکنے، موت کے کنویں میں نیم برہنہ چھاتیوں سے تماشبینوں کا دل لبھانے اور دعوتِ گناہ دینے والی مخلوق ہے، اور س کا اس بدکاری کے سوا زندگی میں کوئی کام نہیں ہوتا؟

    Sexual objectification

    یعنی ان انسانوں کو محض جنسی لذت اور بدکاری کی شناخت تک ہی محدود کرنے کا کام ایک روایتی معاشرہ نہیں ، بلکہ وہی بدکار لوگ کر رہے ہیں جو ان کے حقوق کے ٹھیکیدار بنے پھر رہے ہیں۔

    اگر واقعی کسی کو خنثیوں کے حقوق کا غم کھائے جا رہا تھا تو ان خنثیوں کو معاشرے میں نارمل افراد کے طور دکھانے کا طریقہ کیا ہوتا؟ وہ یہ ہوتا کہ
    مثلا:

    ۱۔ خنثی بزنس بھی کر سکتے ہیں
    ۲۔ خنثی نوکری پیشہ بھی ہو سکتے ہیں
    ۳۔ خنثی ڈاکٹر اور انجینیر بھی ہو سکتے ہیں۔
    وغیرہ۔۔۔

    لیکن اصل میں کیا ہو رہا ہے؟
    اصل میں یہ واردات ڈالی جا رہی ہے کہ:

    ۱۔ دھوکے سے مخالف جنس اپنانے والے افراد یعنی ٹرانس جینڈرز کے بارے میں یوں تاثر دینا کہ جیسے یہ قدرتی خنثی ہیں۔
    ۲۔ پھر ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا رونا رونا۔
    ۳۔ٹرانس جینڈرز سے جنسی تعلق کا فروغ (یعنی ہم جنس پرستی)

    نتیجتاً ٹرانس جینڈرز کے شور میں حقیقی خنثی بیچارے کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ یہ بالکل وہی صورتِ حال ہے کہ جیسے کسی فائئو سٹار ہوٹل میں منرل واٹر پی پی اور پیزے کھا کھا کر غریبوں سے ہمدردی پر کانفرس منعقد کرنا، اور دروازے پر کوئی بھوکا غریب مدد طلب کر لے تو اس کو دھتکار کر “دفع” کر دینا۔

    یہ قدرتی خنثی بھی بیچارے وہی ہیں۔ ان کی شناخت کو بیچ کر کھا لیا گیا ہے۔

    مسلم معاشرے کی روایت خنثیوں کو نارمل انسان سمجھنا ہے۔

    جبکہ انسانیت کو مسخ کر کے رکھ دینے والی بدکاری کی منبع لبرل تہذیب خنثیوں کی شناخت کو ہائی جیک کر کے اس پر ان ٹرانس جینڈرز کا قبضہ کروا دیتی ہے جو خنثی ہوتے ہی نہیں، بلکہ پیدائشی مرد ہوتے ہیں۔

    اور پھر ان ٹرانس جینڈرز کو “پیار کی مستحق “ قرار دے کر مردوں کے ساتھ اس کے جنسی تعلق کی راہ ہموار کرنے پر زور لگایا جاتا ہے۔ (یعنی ہم جنس پرستی)

    اسی لیے ان کے میڈیا میں، ان کے احتجاجوں میں، ان کے ڈراموں اور فلموں میں سارا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ کسی مرد کو کسی ٹرانس جینڈر عورت (جو کہ حقیقت میں ایک مرد ہی ہے) سے پیار ہو سکتا اور وہ اس سے جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ اور یہ سب شیطانی کھیل پوری دنیا میں پائے جانے والے چند سو یا ہزار خنثیوں کے نام پر کھیلا جا رہا ہے۔

    وہی خنثی جو خود ایک جنسی پراڈکٹ کی بجائے عزت کی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی بھی عزت نفس رکھنے والا جسمانی معذور شخص یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کو معذور سمجھا جائے اور اس پر ترس کھایا جائے۔

  • زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین پر ہونے والی ممکنہ تباہی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانی نسل کو کئی قدرتی آفات کا سامنا صدیوں سے رہا ہے۔ ان میں زلزلے ، طوفان، سیلاب، آتش فشاں، وغیرہ سب شامل ہیں مگر دو قدرتی آفات ایسی ہیں جن سے روئے زمین پر پوری انسانیت کے مٹ جانے کا خطرہ ہے۔ ایک وہ جو خوردبین سے نظر آتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوربین سے۔

    لیڈیز اینڈ جینٹلمین !! میں بات کر رہا ہوں وائرسز کی اور شہابِ ثاقب کی۔ وائرسز سے پھیلنے والی وبائیں انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہیں جیسے کہ پچھلے برسوں میں آنے والی کرونا وائرس کی وبا جس سے لاکھوں انسان زندگی کی بازی ہار گئے۔ بھلا ہو سائنس کا کہ اتنے کم عرصے میں ویکسین تیار کر لی گئی اور اس وبا پر قابو پا لیا گیا اور اب زندگی دوبارہ سے معمول پر آ رہی ہے۔

    اور دوسری آفت ہیں شہابِ ثاقب۔ (ویسے تیسری آفت بیگم بھی ہو سکتی ہیں اگر ااُنکا موڈ خراب ہو) ہماری زمین پر ہر سال کروڑ شہابیے گرتے ہیں مگر ان میں سے کئی دس گرام سے بھی کم ہوتے ہیں جبکہ کئی ایسے جو کافی بڑے ہوتے ہیں مگر زمین کی اوپری فضا سے رگڑ کھا کر بھی اتنے رہ جاتے ہیں کہ زمین پر گریں۔ ایسے شہابیوں کی تعداد ہر روز تقریباً 17 ہوتی ہے جو اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ رگڑ کھانے کے باوجود زمین کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔

    زیرِ نظر تصویر میں آپ زمین کے گرد سیارچوں کو دیکھ سکتے ہیں جو اتنے بڑے ہیں کہ انہیں دوربین سے ماہرینِ فلکیات ٹریک کر سکتے ہیں۔ مگر کئی ایسے ہیں جو ہم زمین سے ٹکرانے کے شاید کچھ دن یا کچھ گھنٹے پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں ماہرین فلکیات اور فلکیات کے مشاہدات کا شوق رکھنے والے لوگ دوربینوں سے ایسے خطرناک سیارچوں کو ٹریک کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے ناسا کا 2002 سے چلنے والا پروگرام "سینٹری” یہ دیکھتا ہے کہ ٹریک کیے گئے سیارچوں میں کونسا اتنا بڑا ہے اور اسکا مدار زمین اور سورج کے درمیان کیسا ہے کہ یہ زمین پر گر کر ممکنا تباہی پھیلا سکے۔

    13 مارچ 2005 کو ایک ایسا ہی سیارچہ دریافت کیا گیا جسکا قطر تقریباً 50 میٹر تھا۔اسکا نام 2005 ED 224 رکھا گیا۔ سورج کے گرد اسکا مدار تقریباً 2.6 سال کا ہے۔ 2005 کی دریافت کے بعد اسے دوبارہ نہیں دیکھا جا سکا۔ لہذا اس بارے میں مکمل یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اس وقت زمین سے کتنا دور ہے۔

    کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ یہ 11 مارچ 2023 کو یہ سیارچہ زمین سے 400 ملین کلومیٹر دور سے گزرے گا مگر چونکہ سائنسدان اسکے مدار کے متعلق مکمل نہیں جانتے سو اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے ٹکرائے۔ کتنا امکان ؟ پانچ لاکھ میں سے ایک۔ یعنی 0.000002 فیصد۔ موازنے کے لیے امریکہ میں کار ایکسیڈنٹ میں مرنے کا امکان تقریبا سو میں سے ایک ہے۔

    لہذا” آپ نے گھبرانا بالکل نہیں ہے”.

    یہ محض اس لئے بتا رہا ہوں کہ دراصل مستقبل میں انسانیت کو کسی بڑے سیارچے کے زمین پر گرنے سے خطرہ ہے اور اسی لئے اسی سال ناسا کا ڈارٹ مشن ایک سیارچے کے چاند کو تجرباتی طور پر ٹکرایا ہے تاکہ اسکے مدار میں تبدیلی لائی جا سکے اور یہ مشن کامیاب رہا ہے۔ سو یہ اُمید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی تباہی سے زمین کو ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

  • اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    اسلام کا مزاج؟ — عبدالقدیر رامے

    کچھ جملے فیس بک اور یوٹیوب کی دنیا میں ویڈیو ٹائیٹل پر دیکھے تھے فلاں حضرت نے وہابیوں کی چھترول کی دی.. فلاں حضرت نے بریلویوں کی بینڈ بجا دی.. فلاں حضرت نے دیوبندیوں کے پھٹے اکھاڑ دیے.. فلاں حضرت نے شیعوں کی کلاس لگا دی.. حیاتی ممامتی ایک دوسرے پر چڑھ گئے وغیرہ وغیرہ

    وقت گزرنے کے ساتھ اسی مزاج کو اسلام کا مزاج سمجھ لیا گیا لیکن حقیقت میں اس کا اسلام سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا کہ ہمارے ہاں رائج فرقوں کا اسلام سے تعلق ہے

    اسی سلسلے کا ایک جملہ..

    فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا.. مغرب اور لبرلز کے منہ پر طمانچہ..

    یہ جملہ کوئی چھ سو مرتبہ پڑھ چکا ہوں.. سوچ رہا ہوں کہ اس ملائیت زدہ معاشرے کے نزدیک قرآن کی کیا حیثیت ہے؟ ان کے نزدیک قرآن مجید کا مقصد طمانچے لگانا ہے؟

    آئیے قرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں

    قرآن کے نزول کا مقصد

    ذٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ

    یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی بھی شک نہیں، پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔

    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ.

    ’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘۔

    نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی بعثت کا مقصد

    وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَٰلَمِينَ
    اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے ۔

    امت مسلمہ کا مقصد

    كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ

    تم بہترین امت ہو جو لوگوں (نفع رسانی) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو

    تبلیغ کا طریقہ

    قُلۡ ہٰذِہٖ سَبِیۡلِیۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ ۟ ؔ عَلٰی بَصِیۡرَۃٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیۡ ؕ وَ سُبۡحٰنَ اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ

    آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے میں اور جو میری اتباع کرنے والے ہیں ـ اللہ کی طرف بلا رہے ہیں بصیرت کے ساتھ ۔ اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں نہیں ۔

    حکمت اور بصیرت اول ہے اگر قطر میں فیفا کپ کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا اور شائقینِ فٹبال لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں تو بہت اچھا ہے یہی حکمت اور بصیرت ہے جس کا مظاہرہ قطر کے عوام اور وہاں کی انتظامیہ کر رہی ہے

    لیکن پاکستانیوں کے اس طمانچے والے رویے سے کتنے ہی لوگ ہیں جو بدظن ہوتے ہیں اور مزید ہٹ دھرمی پر اترتے ہیں ان کی کیلکولیشن بھی کرتے جائیں..

    اپنے رویے کو تبدیل کریں.. انسان سے نفرت کو دل سے نکالیں..

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنگ کے دوران ایک دشمن کو گرایا اس کا سر کاٹنے لگے تو اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر تھوک دیا.. آپ رضی اللہ عنہ اسے وہیں چھوڑ کر واپس چل دیے.. اس نے اٹھ کر پیچھے بھاگ کر روک کر پوچھا کہ مجھے قتل کیوں نہیں کیا؟ فرمایا جب تو نے مجھ پر تھوکا تو مجھے غصہ آ گیا.. میں تجھے اللہ کیلئے قتل کرنا چاہتا تھا لیکن جب میرا ذاتی غصہ شامل ہو گیا تو میں نے تجھے قتل نہیں کیا.. اس شخص نے کہا چلیں پھر یہی بات ہے تو مجھے بھی اس دین میں شامل کر لیں جس کے آپ ماننے والے ہیں..

    جنگ کیلئے آئے شخص کو کلمہ پڑھا دیا.. یہ ہوتی ہے حکمت اور بصیرت..

    وہ نہیں جو ہمارے فیس بک اور یوٹیوب کے مجاہدین لکھتے ہیں قرآن کی تلاوت سے آغاز اور زناٹے دار طمانچہ.. اسلام کی بات کرنے کیلئے الفاظ کا انتخاب درست کریں تاکہ آپ کی باتوں میں اثر پیدا ہو..

  • اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    سور یا خنزیر بنا ایسا ہے کہ وہ اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا ایسے ہی رشتوں میں کچھ ناسور ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے یا دیکھنا نہیں چاہتے. سور پر تو قطعیت سے حرام کا حکم ہے اس لئے اس پر تحقیق کی ضرورت نہیں. لیکن اپنے تعلقات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے تعلق ہی ہوتے ہیں جو ہمیں یا تو بناتے ہیں یا بگاڑتے ہیں.

    کچھ لوگ آپ کو تکلیف بھی دیں گے اور آپ کو باور بھی کرائیں گے کہ غلطی بھی آپ کی ہے کیونکہ آپ زیادہ حساس ہیں.

    آپ کی یادداشت اور آپ کی عقل کو مشکوک بنا کر خود پر اعتماد کمزور اور اپنی ذات پر آپکا اعتماد لے کر جائیں گے.

    آپ کبھی ان کو اپنا کوئی مسئلہ بتائیں یہ فوری اس سے بڑا کوئی اپنا مسئلہ بتائیں گے. یہ نہیں چاہیں گے آپ کی توجہ خود پر جائے.

    یہ آپ کو احساس جرم میں رکھیں گے. اپنے چھوٹے چھوٹے احسانات کو بڑا بتا کر آپ سے بڑی قربانی کا تقاضا کریں گے.

    یہ آپ کو موٹیویٹ بھی کریں گے. مثلاً آپ بہت خوبصورت دل والے بہت خاص اور مہربان شخصیت ہیں. کیونکہ یہ اپنے لئے آپ کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں.

    انکا رویہ سب کے سامنے آپ کے ساتھ الگ اور تنہائی میں یہ الگ شخصیت رکھیں گے. کیونکہ ایسے لوگ اپنی شخصیت کو بہت سے نقابوں میں چھپا کر رکھتے ہیں.

    کبھی آپ تنگ آکر لڑ بھی لیں تو یہ آپ کو مکمل نظر انداز کریں گے. جیسے مچھلی کا شکاری مچھلی کی مزاحمت پر ڈور چھوڑ دیتا ہے کہ کہیں کانٹا ہی نہ نکل جائے.

    یہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں ان کی کامیابیوں کی داستانیں سب من گھڑت ہوتی ہیں ان کی مہربانیوں ان کی سٹرگل کی ساری داستانیں ان کی ذہنی پیداوار ہوتی ہیں اور آپ ایک نئی کہانی ایک نئے کردار سے زیادہ اس میں کچھ نہیں ہوتے.

    لیکن آپ کی ایک اپنی کہانی ہے. بجائے دوسروں کی کسی کہانی میں ایک غلام کردار بننے کے اپنی کہانی میں ہی رہیں. ایسی ڈبہ فلموں سے فاصلہ رکھیں. ورنہ اپنی کہانی فلاپ کر لیں گے.

  • جارج ایلیٹ  ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    لفظ Pop Music کی خالق
    22 نومبر 1819 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قلمی نام جارج ایلیٹ سے شہرت حاصل کرنے والی ناولن نگار، شاعرہ اور مترجم "میری این ایوینز” کی زندگی میں خواتین مصنفین اپنے ہی ناموں کے تحت اپنا کام شائع کروانا شروع کر چکی تھیں، لیکن وہ خواتین کی تحریروں کو دقیانوسی رومانویت تک محدود سمجھنے کی شکل سے بچنا چاہتی تھیں۔ ان کے قلمی نام کے استعمال کی دوسری وجہ اپنی نجی زندگی کو عوامی جانچ سے بچانے کی خواہش تھی، جس کی وجہ شادی شدہ جارج ہنری لیوس کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات تھے۔

    مارٹن ایمس اور جولین بارنز کے مطابق ایلیٹ کا ناول "مڈل مارچ” Middlemarch انگریزی ادب کا عظیم ترین ناول ہے۔

    وہ اپنے عہد کی کامیاب ترین ادیب تھیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ناول رومولا Romola کی اشاعت کے لیئے دس ہزار پاونڈ وصول کیئے تھے ۔

    جارج ایلیٹ نے اپنی زندگی کے آخری سال, اپنے سے 20 سال چھوٹے” جان کراس” سے شادی کی تھی۔

    میوزک کے لیئے استعمال ہونے والی اصطلاح پاپ pop کا لفظ سب سے پہلے استعمال انہوں نے اپنے خطوط میں کیا (بمطابق: آکسفورڈ ڈکشنری)۔

    انہوں نے 22 دسمبر 1880 کو وفات پائی۔

    جارج ایلیٹ کے مشہور ناول درج ذیل ہیں:
    Adam Bede, 1859
    The Mill on the Floss, 1860
    Silas Marner, 1861
    Romola, 1863
    Felix Holt, the radical, 1866
    Middlemarch, 1871–72
    Daniel Deronda 1876

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    پت جھڑ کی رت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامان تار تار سیے جا رہی ہوں میں

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کلکتہ میں 22 نومبر 1969ء کو ،سید غلام محی الدین وارثی (مرحوم) اور گہر جان (مرحومہ) کے ہاں پیدا ہوئیں انہوں نے ایم اے، پی ایچ ڈی کی اور خدمتِ خلق میں لگ گئیں ان کی تصانیف میں جاگتی آنکھوں کا سپنا (شعری مجموعہ) زیرِ ترتیب ہیں جس نے ان کو شناخت دی-

    ان کی خدمات کی بدولت انہیں کئی ملکی و بین الاقوامی انعامات و اعزازات سے نواز اگیا جن میں (1)جھانسی کی رانی لکشمی بائی استری شکتی ایوارڈ (حکومت ہند) ، (2) ویمنس آف دی ایئر انٹرنیشنل ایوارڈ (حکومت ہند)، (3)رول ماڈل (حکومت ہند)، (4)فخرِ ہندوستان (حکومت ہند)، (5)مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت ہند)، (6)ملینیم مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (7)ٹیلنٹیڈ لیڈیز ایوارڈ (8)ٹیلنٹیڈ لیڈیز نیشنل ایوارڈ، ویمنس آف دی ایئر (امریکن بائیوگرافیکل انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا)، (10)دی ٹیلی گراف ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (11)بیگم رقیہ ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال) مکمل پتا:پریم آشا، 41/C، جان نگر روڈ کلکتہ-700017 شامل ہیں-

    غزل

    دادِ جفا وفا ہے دیے جارہی ہوں میں
    اُن سے مگر نباہ کیے جارہی ہوں میں
    خونِ دل و جگر ہو کہ ہوں میرے اشکِ غم
    اُن کا ہی نام لے کے پیے جارہی ہوں میں
    پت جھڑ کی رُت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامانِ تارتار سیے جارہی ہوں میں
    وارفتگی کہوں اِسے یا بے خودی کہوں
    بس آپ ہی کا نام لیے جارہی ہوں میں
    شاید کہ زندگی کے کسی موڑ پر ملوں
    یہ سوچتی ہوں اور جیے جارہی ہوں میں
    کیا رنگ لائے خدمتِ مخلوق دیکھیے
    خدمت کا حوصلہ ہے ، کیے جارہی ہوں میں
    مہنازؔ وہ بھی یاد کریں گے مری وفا
    دل دے کے اُن سے درد لیے جارہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حسرتوں کا مزار ہے سینہ
    دفن ہیں دل میں دل کے افسانے
    اس تبسم فروش دنیا میں
    غم کے ماروں کو کون پہچانے
    تم حقیقت کو کیسے سمجھو گے
    جب سمجھتے نہیں ہو افسانے
    میں تو پیاسی ہی لوٹ آئی ہوں
    پوچھ مت کیا کہا ہے دریا نے
    مجھ کو مہنازؔ یہ پتا بھی نہیں
    ڈھونڈتے ہیں کسے یہ پروانے

    اشعار

    زندگی بھر بلندی نہ ملتی ہمیں
    ہار جاتے اگر حوصلے آپ ہم
    کچھ نہ کچھ ہاتھ اس میں پڑوسی کا ہے
    ورنہ کل تک تھے اچھے بھلے آپ ہم
    دوستی کے ہیں انجام سے آشنا
    چونکہ مہنازؔ ہیں دل جلے آپ ہم

    آغا نیازمگسی

  • امریکی ادیب،ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار جیک لندن کا یوم وفات

    امریکی ادیب،ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار جیک لندن کا یوم وفات

    جیک لندن (انگریزی: Jack London) (پیدائش: 12 جنوری 1876ء – وفات: 22 نومبر 1916ء) امریکی ادیب، اپنے دور کے مقبول ترین ناول نگار، افسانہ نگار، صحافی اور مضمون نگار تھے۔

    حالات زندگی

    جیک لندن 12 جنوری 1876ء کو سان فرانسسکو، کیلیفورنیا، ریاستہائے متحدہ امریکا میں پیدا ہوئے۔ لڑکپن سے ہی بڑے مہم جو تھے۔ 17 سال کی عمر می جہازوں کے عملے میں بھرتی ہو گئے اور جاپان چلے گئے۔ سمندر سے چوری چھپے موتی نکالتے رہے۔ ملک میں سونے کی دوڑ مچی تو اس میں بھی شریک ہو گئے۔ روس اور جاپان کی جنگ کے دوران اخباری نمائندہ بن کر پہنچ گئے اور 1914ء میں جنگی خبر رساں بن کر میکسیکو گئے۔

    جنک لندن کی کہانیوں میں ان ہی مہموں اور تجربات کی عکاسی ہے۔ 1900ء سےاس کی کہانیاں چھپنی شروع ہوئیں۔ پہلے یہ رسالوں میں چھپیں۔ شروع کی کہانیوں میں سن آف وی وولف (Son of the Wolf) اور ٹیلس آف دی فار نارتھ (Tales of the Far North) کافی مشہور ہوئیں۔ کال آف دی وائلڈ (Call of the Wild) ان کی کتوں کے بارے میں کہانیاں ہیں۔ کتوں پر اتنی عمدہ کہانیاں اور کہیں نہیں ملتی ہیں۔ ان کی بعض کہانیان اس کی اپنی زندگی کے واقعات پر مبنی ہیں، ان میں اسموک بلو (Smoke Bellew)، مارٹن ایڈن (Martin Eden) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

    جیک لندن کو کہانیوں کے لیے اس زمانے میں سب سے زیادہ ماوضہ ملتا تھا لیکن وہ ادیب کےعلاوہ سوشلسٹ بھی تھےاور اس کے نزدیک اپنے لکھے ہوئے رسالوں کی افسانوں اور ناولوں کے مقابلہ میں زیادہ قدر تھی۔ جیک لندن نے ایک پچاس فٹ لمبی کشتی پر پورے کرہ ارض کا چکر بھی لگایا تھا۔

    دی کروز آف دی اسمارک (The Cruise of the Smark) میں انہوں نےاس سفر کی تفصیل بڑےدلچسپ انداز میں لکھی ہے ان کی تصنیفات کے علاوہ اس کی سوانح عمری بھی شائع ہوئی ہے۔ جیک لندن 22 نومبر 1916ء کو گلین ایلن، کیلیفورنیا میں انتقال کر گئے۔

    آغا نیاز مگسی

  • مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی (22 نومبر 1884ء — 22 نومبر 1953ء) اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم: مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم سید ابو الحسن ایک صوفی منش انسان تھے۔ تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربھنگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔ 1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔ 1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔

    علمی خدمات:

    عالمِ اسلام کو جن علما پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ ان کی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر، 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ، معارف جاری کیا۔

    تصانیف:

    سیرت النبی
    عرب و ہند کے تعلقات
    حیات شبلی
    رحمت عالم
    نقوش سلیمان
    حیات امام مالک
    اہل السنہ والجماعہ
    یاد رفتگاں
    سیر افغانستان
    مقالات سلیمان
    خیام
    دروس الادب
    خطبات مدراس
    ارض القرآن
    ہندوؤں کی علمی و تعلیم ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں
    بہائیت اور اسلام

    ہجرت و وفات:

    تقسیم ہند کے بعد جون 1950ء میں ساری املاک ہندوستان میں چھوڑ کر ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں مقیم ہوئے۔ یہاں مذہبی و علمی مشاغل جاری رکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے تعلیمات اسلامی بورڈ کے صدر مقرر ہوئے۔ 69 سال کی عمر میں کراچی میں ہی 22 نومبر 1953ء کو انتقال کیا۔

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی