Baaghi TV

Category: بلاگ

  • خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    خیر الدین زرکلی،شام کے مشہور قومی شاعر

    پیدائش:25 جون 1893ء
    بیروت
    وفات:25 نومبر 1976ء
    قاہرہ
    شہریت:سوریہ
    مناصب
    سعودی سفیر برائے مصر
    دفتر میں
    ۔۔۔ 1934 – 1946
    زبان:عربی

    خیر الدین زرکلی انیسویں صدی کے شام کے مشہور قومی شاعر، مؤرخ اور مصنف تھے۔ عموماً اپنے اشعار میں فرانسیسی سامراج پر تنقید کرتے تھے۔ فرانسیسیوں کے مقابلے کے لیے مجاہدین کی مدد کرتے تھے اسی وجہ سے کئی بار فرانسیسیوں نے انھیں سزائے موت سنائی لیکن ہر بار وہ ان سے بھاگ کر بچ نکلنے میں کامیاب رہتے۔

    خیر الدین زرکلی 25 جون 1893ء میں بیروت میں پیدا ہوئے، ان کے والد محمود بن محمد بن علی بن فاس زرکلی دمشق کے مشہور تاجر تھے۔ ابتدائی تعلیم دمشق میں اپنے وطن میں حاصل کی، اس کے علاوہ مکہ، ریاض، مدینہ منورہ، عمان، بیروت اور قاہرہ کا سفر کیا۔ انھوں نے سعودی عرب سفارت میں بھی کام کیا ہے اور عرب لیگ میں بطور وزیر اور سعودی عرب کا ترجمان ہونے کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ سنہ 1957ء میں مغربی ممالک میں سعودی سفیر مقرر ہوئے، یہ ان کا آخری عہدہ تھا۔ کئی اخبار و رسائل بھی جاری کیے مثلاً: ”الحیاۃ فی القدس“، ”لسان العرب“، ”الاصمعی“ اور ”الفقید فی دمشق“ وغیرہ۔ علاوہ ازیں قاہرہ میں ان کا ایک عربی مطبع بھی تھا۔ ان کی مشہور کتابوں میں سے: ”الاعلام للزرکلی“ (موجودہ زمانے میں شخصیات کی تاریخ و تراجم پر سب سے بڑی کتاب) ہے جس کی تالیف و ترتیب میں 60 سال لگے۔ اس کے علاوہ دس اور دوسری تالیفات ہیں۔ ان میں ایک دیوان بھی ہے جو ان کی نظموں اور شعری کلام کا مجموعہ ہے اور ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ ان کی وفات 25 نومبر 1976ء کو قاہرہ، مصر میں ہوئی

  • بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ کا یوم پیدائش

    بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ کا یوم پیدائش

    بلبل پنجاب کے نام سے مشہور ہونے والی پنجابی زبان کی نامور گلوکارہ اور شاعرہ سریندر کور کا آج جنم دن ہے.
    تحریر؛ آغا نیاز مگسی
    سریندر کور 25 نومبر 1929 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ وہ پنجابی لوک گیت کی صنف میں اپنی شراکت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے نے کئی مشہور اشعار گائے ہیں جن میں نند لال نورپوری، موہن سنگھ، امریتا پریتم اور دیگر نے لکھا ہےجبکہ کئی گیت اور اشعار خود ان کے اپنے لکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے بلھے شاہ کے پنجابی صوفی کافیاں بھی گائیں اور خوب پذیرائی حاصل کی۔ ان کے چند مقبول گانوں میں ‘جتی قصوری ۔پڑیاں نہ غریبی’، ‘گھمن دی رات لمی ہے جان میرے گیت لمے نے’، ‘اہنا آکھیاں’ ‘چ پون کیون کالرا’، ‘ماونتے دھیان’، ‘لٹھے دی چادر’، ‘کالا’ شامل ہیں۔ ڈوریا اور بہت کچھ۔ وہ اپنی بڑی بہن پرکاش کور کے ساتھ جوڑی کے ساتھ ملک بھر میں مشہور ہوگئیں۔

    انہوں نے آسا سنگھ مستانہ، رنگیلا جٹ، کرنیل گل، دیدار سندھو اور یہاں تک کہ اپنی بیٹی ڈولی گلیریا اور پوتی سنائی کے ساتھ گایا ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1943 میں لاہور ریڈیو اسٹیشن سے کیا جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 2,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔ سال 1984 میں، انہیں پنجابی لوک موسیقی کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں 2006 میں حکومت ہند کی طرف سے چوتھا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم شری بھی ملا۔ انہیں ملینیم پنجابی سنگر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں 2002 میں گرو نانک دیو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ سریندر کور کا انتقال 14 جون 2006 کو 77 سال کی عمر میں نیو جرسی، امریکہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سریندر کور کو ان کی وفات کے بعد بلبل پنجاب کا خطاب دیا۔

    سریندر کور تقسیم ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ غازی پور ہندوستان منتقل ہو گئیں ۔ 1948 میں ان کی شادی دہلی یونیورسٹی کے پنجابی شعبہ کے سربراہ پروفیسر جوگندر سنگھ سوڈھی سے ہوئی تھی، جنہوں نے بعد میں ہندی فلم انڈسٹری میں ان کا کیریئر بنانے میں بہت بڑی مدد کی۔ یہ جوڑے پنجاب میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے۔ 2006 میں دور درشن پر ان کی زندگی اور شراکت پر ایک دستاویزی فلم، ’پنجاب دی کوئل‘۔ نشر کی گئی ان کی بہن پرکاش کور اور بڑی بیٹی ڈولی گلیریا بھی گلوکارہ ہیں۔ سریندر کور کی 3 بیٹیاں ہیں ۔ بڑی بیٹی ڈولی گلیریا پنجکولہ امریکہ میں رہتی ہیں جبکہ نندینی سنگھ اور پرمودنی نیو جرسی امریکہ میں آباد ہیں ۔

  • کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام — ضیغم قدیر

    کراس کلچرل احترام دیکھنے کے لئے آپ کو ہالی وڈ کی ایک فلم سیریز دیکھنا پڑے گی جس کا نام Star Wars ہے۔ اس کے انڈر دس موویز اور چار سیزن ہیں۔

    اس سیریز میں آپ صرف مختلف کلچرز کو نہیں دیکھیں گے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ کیسے بائیولوجیکلی مختلف سپی شیز ایک دوسرے کیساتھ امن و امان کیساتھ رہ رہی ہے۔ اور مختلف مواقعوں پہ کیسے ایک دوسرے کے کلچر کا احترام کر رہی ہیں۔

    اگر آپ کو یہ لگاتا ہے کہ آپ دنیا کی سب سے خاص قوم میں پیدا ہوئے ہیں یا آپ کا کلچر حد سے زیادہ اہم ہے یا کسی اور قوم کا آپ سے بہتر ہے اور آپ کے کلچر کا اظہار غلط ہے تو آپ کو اپنے ذہنی علاج کے لئے ایسی فکشن ضرور دیکھنی چاہیے وہیں پر اپنا کلچرل ایکسپوژر وسیع کرنا چاہیے۔

    ہندوستان یا عرب کے کلچر میں کسی بدیسی کو مکمل شارٹ لباس پہن کر نہیں گھومنا چاہیے وہیں پر یورپ میں برقعے پہن کر گھومنا بھی انکے کلچر کی خلاف ورزی ہے سو ان چیزوں کو اپنی جگہ رکھ کر ہر جگہ کے کلچر اور روایات کا احترام کرکے زندگی انجوائے کرنی چاہیے۔

    ہماری قوم سمیت پوری دنیا میں موجود وسیع آبادی کا مسئلہ یہی ہے کہ انہوں نے ایک سے دوسری سٹیٹ نہیں دیکھی 9/5 جاب کر کر کے زندگی ختم کرنیوالوں کو چھوٹی چھوٹی بات بھی چبھتی ہے۔

    حالانکہ

    قطر میں لباس پہ لگی ممانعت سمیت کسی اور ملک میں چہرہ ڈھانپنے والے حجاب پہ لگی ممانعت تک سب کچھ مقامی کلچرل ویلیوز کے لحاظ سے درست ہے اور وہاں وزٹ کے دوران انکا احترام کرنا چاہیے اور اگر اپنا کلچرل زیادہ عزیز ہے تو ایسی جگہوں کو وزٹ ہی نہیں کرنا چاہیے ۔

  • باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں یا The call of the void ہماری نفسیات کا ایک حصہ ہیں. کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں نیچے اتھاہ گہرائی ہے. ایک قدم اور آپ نیچے گر سکتے ہیں. آپ کے دل میں خیال آتا ہے یہ ایک قدم اٹھا کر دیکھ نہ لوں.؟

    سڑک کنارے تیز رفتار آتی گاڑی کے سامنے خواہش ہوئی سامنے نہ چلا جاوں. ہجوم میں اچانک ایک تیز چیخ مارنے کی خواہش کبھی ہوئی ہے؟ . بہت سے لوگ اس کیفیت سے روشناس نہ ہوں گے. بہت سے یاد کریں گے تو ان کو یہ اندر کی آواز یاد آجاتی ہے.

    ہم سب کے پاس فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے. ہمارا دماغ نہ صرف ایک ہی وقت بہت سے فیصلے کر سکتا ہے بلکہ اسے اپنی اس صلاحیت کا بخوبی پتہ بھی ہوتا ہے. ہم اچھے فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور برے فیصلے بھی. ایک پہاڑ کی چوٹی پر دماغ جب نیچے کا منظر دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہتا کہ چھلانگ لگا لو بلکہ گھبرا کر کہتا ہے ” کہیں چھلانگ ہی نہ لگا لو”

    ہر ایک کا اپنا اینزائٹی لیول ہوتا ہے. کچھ لوگ فیصلوں میں کلئیر ہوتے ہیں کچھ نہیں. کچھ کا دماغ فوری تجزیہ کرتا ہے کچھ گومگو رہتے ہیں. جو جتنا کنفیوز ہوتا ہے اتنا ہی وہ ادھوری بات لیتا ہے. اسے لگتا ہے جیسے دماغ نے خواہش کی ہو چھلانگ لگا دو. اچھے برے اعمال میں بھی یہی باطل آوازیں دماغ اٹھاتا ہے. جس کا ایمان اور یقین جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کم وہ یہ باطل آوازیں سنتا ہے اور جس کا جتنا کمزور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کی باطل خواہشات پیدا ہوں گی.

  • ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    ایران میں خواتین کا احتجاج!!! — ابو بکر قدوسی

    دو ماہ سے ایران میں خواتین کا احتجاج بلکہ خونی احتجاج جاری ہے جس میں ابھی تک بیسیوں شہری جان ہار گئے ہیں۔۔۔۔

    نوجوان خاتون "مہسا امینی” کے مظلومانہ قتل سے شروع ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے ۔اور آج ایران کے مذہبی رہنما اور رہبر خمینی کی سابقہ رہائش گاہ پر مظاہرین چڑھ دوڑے اور وہاں کچھ حصے کو آگ لگا دی ،اگرچہ ایرانی حکومت نے کسی نقصان کی تردید کی ہے ۔۔۔۔۔

    دو ماہ سے جاری اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا آغاز خواتین کے مظاہروں سے ہوا جو "زن ، زمین ، آزادی” کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہیں ۔ یہ خواتین مظاہروں میں اپنے حجاب جلاتی ہیں اور بال کاٹتی ہیں ، اور یوں ایران میں عائد مذہبی پابندیوں کی خلاف ورزی کر کے حکومتی احکامات سے بغاوت کا اظہار کرتی ہیں ۔

    بظاہر یہ لبرل ایران اور سخت گیر مذہبی انتظامیہ کا مقابلہ ہے ، لیکن حقیقتاً یہ لوگوں کا غبار ہے کہ جو سخت پابندیوں کا ردعمل ہے ۔

    گو دو ماہ سے حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں ، لیکن نہتے مظاہرین کے مقابل حکومتی مشینری کی کامیابی کے امکانات ہمیشہ زیادہ ہوتے لیکن کبھی کبھی عوامی جدوجہد پچھاڑ بھی دیا کرتی ہیں جس کی موجودہ دور میں بیسیووں مثالیں موجود ہیں ۔۔۔ایرانی حکومت کے لیے اس میں ابھی تک طمانیت کا پہلو صرف یہ ہے کہ قلیل واقعات کے سوا مظاہرین کی طرف سے مسلح بغاوت کے انداز میں کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی اور نہ ہی ابھی تک اس احتجاج میں ایران مخالف طاقتوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے ۔۔

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آس پاس کی آمریتیں ساری ایران دشمنی کے باوجود چاہتی ہیں کہ عوامی بغاوت کی کامیابی کا پیغام ان کے ملکوں کے عوام کو نہ جائے ۔

    اگر ایران اس عوامی بغاوت پر قابو بھی پا لیتا ہے تو بھی اس کے لیے اس میں سبق ہے کہ اب اس کی قیادت انقلاب دوسرے ملکوں میں ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اپنی جنگوں کو سمیٹنا شروع کرے۔ اور ملک میں موجود اپنے عوام کی اقتصادی اور معاشی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دے ۔۔۔۔کہ ملکوں کی بقاء عوام کے اطمینان میں ہوتی ہے۔۔۔۔

  • ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کا آرٹیمیس پراجیکٹ جسکا مقصد 2024 میں دوبارہ سے انسان کو چاند پر بھیجنا ہے۔اس پراجیکٹ کے کئی مراحل ہیں جن میں سے پہلا مرحلہ اس ٹیکنالوجی کا ٹیسٹ ہے جسکے ذریعے مستقبل میں انسانوں کو چاند اور دیگر سیاروں پر بھیجا جائے گا۔ اس پہلے مرحلے میں پچھلے ہفتے 15 نومبر 2022 کو چاند کیطرف ایک راکٹ کے ذریعے ایک سپیسکرافٹ بھیجا گیا۔ اس سپیسکرافٹ کانام اورآئن ہے۔ یہ سپیسکرافٹ زمین کے گرد چکر لگا کر تیزی سے چاند کیطرف گیا اور اب یہ چاند کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ سپیسکرافٹ چاند کے گرد مدار میں گھومے گا اور پھر کچھ دن بعد واپس زمین کی طرف لوٹے گا۔ اس سپیسکرافٹ میں کیمرے بھی لگے ہوئے ہیں جنکی مدد سے اسکا سفر دیکھا جا سکتا ہے۔

    زیرِ نظر تصویر ناسا نے چند گھنٹے پہلے شائع کی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سپیس کرافٹ چاند سے تقریباً 1700 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ پسِ منظر میں ہماری زمین ہے۔ نیلی شفاف زمین ، سورج کی روشنی میں نہاتی ہوئی اور سامنے چاند ہے۔ ایک نقطے سی دکھتی اس زمین پر ہم سب رہتے ہیں، ایک چھوٹا سا سیارہ، خلاؤں میں ایک ادنی سے ستارے جسے ہم انسان سورج کہتے ہیں کے گرد گھومتا ہوا۔

    مستقبل میں ہم انسان چاند کے علاوہ مریخ اور نجانے کون کون سی دنیاؤں پر بسیں گے۔ وہ نسلیں جو ہمارے بعد آئیں گی وہ شاید یہ جان ہی نہ پائیں کہ ہم نے کبھی اپنا سفر اس جگمگاتی زمین سے شروع کیا۔ ان میں سے کئی نے شاید اپنے اباؤ اجداد سے محض زمین کا نام ہی سنا ہو۔ انسان زمین سے نکل کر خلاؤں کی وسعتوں میں انسانیت کے بیج بوئے گا۔ یہ تصور کتنا خوابناک ہے اور رومانوی بھی۔

    ہمارا گھر زمین، ہماری منزل آسمان

  • کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔ (الانعام 06:115)

    اس آیت سے آپ نے کیا سمجھا ہے ؟

    یقیناً آپ کو اس میں قرآن پاک کی تعریف نظر آئے گی ، لیکن میں آپ کو یہ آیت ایک اور رخ سے دکھاؤں ؟

    یہ بات سنہ 627ء کی ہے جب آپ ﷺ خندقیں کھدوا رہے تھے تو زمین سے ایک بڑی سی چٹان نکلی جو صحابیوں سے نہیں ٹوٹ رہی تھی ۔

    اس پر آپؐ خود اٹھے ، اپنی چادر کو مٹی پر رکھا اور اس چٹان پر کدال ماری اور فوراً یہ آیت پڑھی کہ تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔

    صحابہ کہتے ہیں کہ ہم کھڑے آپؐ کو دیکھ رہے تھے اور ہم نے دیکھا کہ آپکی ضرب سے ایک چمک پیدا ہوئی ، پھر آپؐ نے دوبارہ ضرب لگائی اور ایکبار پھر چنگاری نکلی اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی ، اور جب آپؐ نے تیسری ضرب لگائی تو ہم نے ایک بار پھر چمک دیکھی اور وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی ۔

    لیکن جب آپؐ خندق سے باہر نکلے ، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے تو سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ …

    یا رسول اللہؐ ! جب آپ ضرب لگا رہے تھے تب ہمیں ایک چمک نظر آئی تھی ، اس پر آپؐ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے وہ چمک دیکھی تھی ؟ صحابی نے کہا کہ جی اور اس پر آپؐ نے فرمایا کہ …

    جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے کسریٰ اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی پرشین امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی رومن امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے اردگرد کے شہر دکھائے گئے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن سنو ! حبشیوں کو ان کے حال پر رہنے دینا یہاں تک کہ وہ تمہیں کچھ نہ کہیں (سنن نسائی 3178)

    اس واقعے کے بعد آپؐ نے تین بادشاہوں کو خط لکھنا چاہا جس پر آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ لوگ صرف وہ خط قبول کرتے ہیں جن پر مہر لگی ہو اور تب آپؐ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی تھی جس پر محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا اور تین خط لکھے اور میں آپ کو پہلے خط کے متعلق بتانا چاہتا ہوں ۔

    یہ خط پرشین امپائر کے بادشاہ کسریٰ کی طرف تھا اور اسکی دوسری لائن میں لکھا ہوا تھا کہ محمد کی طرف سے جو اللہ کے نبی ہیں ، کسریٰ کے لیے جو فارس کا بادشاہ ہے ۔

    آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی ڈاکیومنٹری کے دوسرے چیپٹر میں نویں صدی کی ایک فارسی کتاب شاہنامہ کے متعلق آپ کو بتایا تھا ؟

    یہ کتاب پرشین امپائر کے بادشاہوں کی داستانوں پر مبنی ہے اور گیارہ صدیوں پہلے لکھی اس کتاب میں اس خط کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب کسریٰ نے یہ خط پڑھا تو وہ شدید غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ میری رعایا میں سے ایک غلام نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام لکھنے کی جرأت کی ؟ اور یہ کہہ کر اس نے آپؐ کا خط پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا ۔

    جب آپؐ تک اس واقعے کی خبر پہنچی تو آپؐ نے کہا کہ وہ لوگ بھی اس خط کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے (بخاری 64) آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسریٰ ہلاک ہو گا اور پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا ، قیصر(رومن بادشاہ ceaser) بھی ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بھی بعد کوئی قیصر پیدا نہیں ہو گا (بخاری 3618)

    اس کے علاوہ بھی آپؐ نے ایک بات بتائی تھی جو میں تھوڑا آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد واقعات کا ایک سلسلہ کیسے چلا ؟

    کسریٰ بیسکلی خسرو ii کا نام تھا ، فارس کا ایک بہت بڑا بادشاہ جس نے اپنا نام ایک ایرانی لفظ haosrauuah سے أخذ کیا تھا جس کا مطلب تھا ’’عظیم الشان‘‘ …

    لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کے اپنے ہی بیٹے نے راتوں رات اس کا تختہ الٹ کرخسرو اور اپنے سارے بھائیوں کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ خسرو کے پسندیدہ بیٹے اور ولی عہد کو بھی بلکہ پرشین امپائر کی تاریخ میں اس پاگل پن کے دور کو mad rampage لکھا گیا ہے ۔

    خسرو کے بعد اس کی ایک بیٹی کو پرشین امپائر کی ملکہ بنایا گیا تھا اور جب آپؐ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنا حکمران ایک عورت کو بنا لیا ہو (بخاری 7099)

    لوگ عموماً اس پوائنٹ پر آ کر بادشاہ اور ملکہ کی بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام لیکن اس وقت boston یعنی امیرکہ کے ایک میوزیم میں سونے اور چاندی کے دو سکے رکھے ہیں جن کے متعلق ہمیں پتہ ہے کہ یہ وہ سکے ہیں جنہیں اس ملکہ نے ایشو کرایا تھا کیوں کہ ان پر اس کا نام بھی لکھا ہے اور اس کی تصویر بھی کھدی ہے جہاں اس کی بالوں کی لٹوں میں ہیرے اور جواہرات جڑے نظر آرہے ہیں ۔

    لیکن میں اس ملکہ کے متعلق آپ کو کیوں بتا رہا ہوں ؟

    خسرو کے تختہ الٹنے اور قتل کے بعد پرشین امپائر سِول وار کا شکار ہو گئی تھی ، پاورفل خاندان ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور شاہنامہ میں ہی لکھا ہے کہ ان لڑائیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک طاقتور خاندان نے ہماری نئی ملکہ بوران کو اپنے ساتھ شادی کی آفر کی ، ملکہ نے لڑائی سے بچنے کے لیے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن خاموشی سے اپنے ایک جنرل کے ہاتھوں شادی کا پیغام بھیجنے والے کا قتل کروا دیا اور امپائر ایک دفعہ پھر لڑائیوں میں ڈوب گئی ۔

    اور یہی وہ ملکہ بوران تھی جس کے متعلق آپؐ کو بتایا گیا تھا کیوں کہ ان سکوں پر اس ملکہ کا نام بھی لکھا ہے ’’بوران دخت‘‘ یعنی وہ شہزادی جس کے پاس بہت سے گھوڑے ہوں ۔اور جس کے اس شخص کو قتل کرانے کے بعد امپائر ایک بار پھر خانہ جنگی میں ڈوب گئی ۔

    لیکن خانہ جنگی میں ڈوبی پرشین امپائر ابھی بھی کمزور نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی بھی آدھی دنیا کے لیے ایک سوپر پاور تھی اور یہ آپ ابھی دیکھ لیں گے ۔

    آپؐ کے چار سال بعد عمر بن خطابؓ نے پرشین امپائر کے ساتھ ٹکر لی اور ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی جسے قادسیہ کہتے ہیں ، نومبر 636ء میں لڑی جانے والی قادسیہ جس میں پرشین امپائر کی طرف سے بوران کا وہی جنرل رستم فرخ زاد تھا جس نے رشتہ بھیجنے والے کا قتل کیا تھا ۔

    اور مسلمانوں کی طرف سے سعد بن وقاصؓ تھے ۔ لڑائی سے پہلے دونوں طرف کے بڑوں کے درمیان کچھ میٹنگز ہوئی تھیں ۔

    ایسی ہی ایک میٹنگ سے پہلے امپائر کے بادشاہ جو بوران کے بعد اس کا چھوٹا سا دس سالہ بھتیجہ یزدگرد تھا ، نے اپنے غلاموں کو کہا کہ اس دفعہ جب عرب آئیں تو اس کے سر پر مٹی سے بھری ایک بالٹی ڈال دینا اور یونہی ہوا ، غلاموں نے عربوں کی طرف سے آئے عاصم تمیمی کے سر پر مٹی سے بھری بالٹی ڈال دی لیکن اس پر وہ لوگ غصہ نہیں ہوئے بلکہ عربوں میں سے ایک نے کہا کہ …

    مبارک ہو ، دشمن نے اپنی مٹی اپنی خوشی سے ہمارے حوالے کر دی
    اور جنرل رستم جو ایک سمجھدار شخص تھا اس نےغلاموں کو کہا کہ یہ تم لوگوں نے کیا کیا ، خود ہی اپنی مٹی انہیں دے دی ۔

    اس واقعے کے بعد عمرؓ نے مزید کسی میٹنگ سے منع کر دیا اور قادسیہ کی لڑائی کا باقاعدہ آغاز ہوا جو پانچ دن تک لڑی جاتی رہی تھی ۔

    لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ پرشین امپائر کمزور نہیں تھی ، ان کے پاس انڈیا سے لائے گئے war elephants کی پوری پوری corps تھیں ۔
    جن کے مقابلے میں سعد بن وقاصؓ نے ایک بڑی خاص سٹریٹجی اپنائی تھی ، جس کے متعلق پھر کبھی لیکن پانچ دن تک ایک سوپر پاور کے ساتھ یہ خونریز لڑائی چلتی رہی اور تیسرے دن دونوں سائیڈز تھکان اور زخموں سے چور چور ہو کر breaking point تک پہنچ چکی تھیں یہاں تک کہ لڑائی کی تیسری رات کا نام ہی لیلۃ الحریر یعنی کراہوں کی رات رکھا گیا تھا ، زخموں سے چور لوگوں کی کراہوں کی رات ، اور اب یہ لڑائی تلوار سے زیادہ stamena کی لڑائی بن چکی تھی ۔

    اگلے دن یہ حال تھا کہ مسلمان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور پرشین امپائر انہیں جیتنے نہیں دے رہی تھی کیوں کہ ان کا رستم فرخ زاد ابھی زندہ تھا لیکن پانچویں دن … ایک بہت ہی خاص بات ہوئی ۔

    ریت کا ایک طوفان آیا جس کے بعد رستم زمین پر مرا ہوا پڑا ملا ، کچھ پتہ نہیں کہ اس کی موت کیسے ہوئی تھی ، کوئی لکھتا ہے کہ وہ اونٹوں پر تلواریں ، کلہاڑے اور تیر لے کر جا رہا تھا اور وہی اس کے اوپر گر گئے ، کوئی کچھ اور لکھتا ہے لیکن ریت کے اس طوفان میں اس کی موت کیسے ہوئی ، کوئی نہیں جانتا ۔

    لیکن رستم کی موت کے بعد پرشین امپائر نے ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمان قادسیہ جیت گئے اور اب حدیث کا وہ باقی حصہ جس میں آپؐ نے کسریٰ کے ہلاک ہونے کے بعد کا بتایا تھا کہ اللہ کی قسم تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے (مسلم 7329)

    پرشین امپائر کی آرمی کا صرف war flag جس کا نام درفش کیوین تھا اور جس کی بیک گراؤنڈ سٹوری بہت ہی حیرت انگیز ہے ، صرف اس وار فلیگ کو ہی ضرار بن کتب نے مدینہ میں تیس ہزار دینار کا بیچا تھا ۔

    میں جانتا ہوں کہ یہ ایک طویل تھریڈ تھا اور ابھی میں اس میں سے بہت کچھ skip کر گیا ہوں مثلاً سعد بن وقاصؓ کی ہاتھیوں کے خلاف سٹریٹجی یا پرشین امپائر کے وار فلیگ کی داستان یا پھر اس شہزادی کے متعلق ڈیٹیلز جس کے پاس بہت سے گھوڑے تھے لیکن ان تمام واقعات کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی ؟

    وہ کیا چیزیں تھیں جنہوں نے عمر بن خطابؓ کو وقت کی سوپر پاور سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا ؟ وہ کیا چیز تھی جس نے مسلمانوں کو آلموسٹ بریکنگ پوائنٹ پرپہنچ جانے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹنے دیا ؟ اور وہ کیا چیز تھی جس نے قادسیہ کے پانچویں دن ایک ریت کا طوفان پیدا کر کہ رستم کی پراسرار موت کے بعد پرشین امپائر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا ؟

    خندق کی وہ چٹان توڑتے ہوئے آپؐ کو پرشین امپائر کا دکھا دیئے جانا جسے صحابیوں نے صرف ایک چمک کی طرح دیکھا ، اور جسے دیکھتے ہی آپؐ نے الانعام کی وہ آیت پڑھی تھی کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا (الانعام 06:115)

    جس آیت کو ہم نارملی ایک تعریفی آیت کے طور پر لیتے ہیں اس کی گہری سٹڈی مجھے یہ بتاتی ہے کہ آپؐ نے اس آیت کے ذریعے آنے والے واقعات کی تہہ در تہہ پوری کی پوری chronology سمجھا دی تھی کہ دیکھنا ، خسرو ٹکڑے ٹکڑے ہو گا ، بوران کی کمانڈ میں امپائر کامیاب نہیں ہو سکے گی ، رستم کی ریت میں طوفان سے موت کے بعد پرشین امپائر تمہارے پاس آ کر رہے گی اور تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ۔

    اور یہ سب باتیں ہمیں کیسے پتہ ؟ کیوں کہ وہ چمک دیکھ کر آپؐ نے پڑھ لیا تھا کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔

    اور یہ وہ واقعہ تھا جو آج سے ٹھیک 1386 سال پہلے ، ٹھیک آج کے دن یعنی 16 نومبر 636ء کواس وقت قادسیہ میں ہو رہا تھا ۔

  • دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    اوپر والی تصویر میں ایک طرف میرے ماموں انور علی (ائیر فورس ریٹائرڈ) ہیں۔ دوسری طرف انکا صاحبزادہ میرا ماموں ذاد معظم علی ہے۔ معظم علی مجھ سے چار سال بڑا ہے۔ ماموں جی اپنی سروس کے آخری سالوں میں کراچی تھے تو ڈاکٹروں نے کہا آپکا اکلوتا بیٹا مائلڈ لیول کا ذہنی معذور ہے۔ اسکا آئی کیو 50 سے 70 کے درمیان ہے۔ زبان میں بھی شدید لکنت تھی۔ جسے آپ ہکلانہ کہتے ہیں۔ ایورج آئی کیو 90 سے 120 ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا معظم علی نارمل بچوں کے سکول نہیں پڑھ سکے گا۔ زرا سوچ کے دیکھیں کسی کی کل کائنات ایک بیٹا ہو اور وہ بھی ذہنی معذور تو والدین پر کیا گزرے گی؟ مامی نے اتنی ٹینشن لی کہ دائمی تیز فشار خون و شوگر کی جوانی میں مریضہ بن گئیں۔ رشتہ داروں میں کیا کہا جائے گا کہ میرا بچہ پاگل ہے۔ یہی تو دیہاتوں میں کہا جاتا ہے۔ اور سپیشل بچے کو والدین کے ہی ماضی کے برے اعمال کی سزا سمجھا جاتا ہے۔

    ماموں جی فوجی تھی۔۔ اعصابی طور پر ایک مضبوط شخص تھے۔ ماموں کہتے ہیں خطیب احمد بیٹا میں نے سب سے پہلا جو کام کیا۔ اس سچائی کو قبول کر لیا۔ اور کراچی کے ایک سپیشل ایجوکیشن سکول میں سنہ 1992 میں معظم علی کو 7 سال کی عمر میں داخل کرا دیا۔ جہاں سپیچ تھراپی اور تعلیم شروع ہو گئی۔ ماموں کہتے ہیں میں معظم کو خود انگلش اور اردو کے حروف تہجی پڑھاتا تھا۔ 92 کے سال پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ سارے ملک میں جشن تھا کراچی اس رات کو پہلے سے بھی روشن ہو چکا تھا۔ اور ہمارے جیسے ساری خوشیاں ختم ہو چکی تھیں۔ میں نے معظم کو لیا اور ساحل سمندر پر ہم باپ بیٹا چلے گئے۔ ہم نے خوب موج مستی کی۔ ماموں کہتے میں نے بیٹے کی معذوری کو اپنی زندگی جینے کا مقصد بنا لیا۔ مجھے اب باقی زندگی مختلف طریقے سے جینا تھی۔ جس کے لیے میں خود کو تیار کر چکا تھا۔

    1994 میں ماموں ریٹائر ہوئے۔ 280 ہزار روپے پنشن و گریجویٹی کے ملے۔ اب ماموں کی نظر میں بیٹے کی تعلیم تھی۔ اپنے آبائی شہر حافظ آباد آئے سپیشل بچوں کے سکول کا پتا کیا۔ کوئی نہیں تھا یہ تو اس وقت ضلع بھی نہیں تھا گوجرانولہ کی تحصیل تھی۔ گوجرانولہ گئے گل روڑ پر ایک ادارہ تھا جس سے ماموں مطمئن نہ ہوئے۔ لاہور گئے اور لاہور میں موجود ادارے وزٹ کیے جن کی حالت کچھ قابل قبول تھی۔ ماموں جی نے نشاط کالونی آر اے بازار میں 5 مرلہ کا پلاٹ لیا اور لاہور بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے شفٹ ہوگئے۔ میری مامی گاؤں رہنا چاہتی تھیں مگر ماموں کے ذہن میں کچھ اور تھا انہوں نے اپنی مرضی کی۔

    معظم کچھ سکولوں سے ہوتا ہوا ڈاکٹر عبدالتواب مرحوم اور ان کی اہلیہ کے گھر میں شروع کیے گئے سپیشل بچوں کے سکول رائزنگ سن ڈیفنس سکول لاہور داخل ہوگیا۔ تب تک معظم کافی بہتر ہوچکا تھا۔ کئی سال کی سپیچ تھراپی معظم کی زبان کی لکنت قدرے کم کر چکی تھی۔ رویے میں قدرے بہتری آچکی تھی۔ لرننگ کا موڈ بن چکا تھا۔ عمر 15 سال ہوچکی تھی جب معظم رائزنگ سن میں داخل ہوا۔ ماموں کہتے ہیں اس سکول میں ایک بڑی پیاری سی گوری چٹی ٹیچر تھی معظم نے ضد کی کہ وہ پڑھے گا تو اسی ٹیچر سے ورنہ پرانے سکول چھوڑ آئیں۔۔معظم کی بات سکول انتظامیہ نے مان لی۔ اس بہن کا میں نے پتا کرنا ہے جس نے میرے بھائی کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ ماموں کہتے اس ٹیچر سے اس کا انٹریکشن بہت اچھا ہو گیا۔ وہ ایک انتہائی محنتی ٹیچر تھی۔ اس کا میں نے شکریہ ادا کرنا ہے۔۔ اسے بتانا کہ دیکھیں آپ کی محنت کا رنگ اللہ نے کیسا چڑھایا ہے معظم پر۔ اور اس کے سکول بھی جا کر انتظامیہ کو معظم سے ملوانا ہے۔

    معظم نے اس ٹیچر سے الحمدللہ اردو انگلش پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ بنیادی حساب سیکھا۔ صاف رہنا سیکھا۔ نماز سیکھی۔ بڑوں کا ادب سیکھا۔ اپنے کام خود کرنا سیکھا۔ معظم اپنے سب کاموں میں آزاد صرف چھ ماہ میں ہوگیا۔ اس خدا کی بندی نے معظم کو بازار سے سودا سلف خریدنا سکھایا۔ معظم دوکان سے سبزی سودا سلف دودھ تندور سے روٹی لانے لگا۔ فلٹر سے پانی بھر کے لانے لگا۔ معظم کو گانے کا بہت شوق تھا۔ ماموں مولوی تھے تو اسکا یہ شوق گھریلو مذہبی رجحان کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔ آج بھی معظم کو کئی گانے پورے پورے یاد ہیں۔ کبھی ویڈیو ریکارڈ کروں گا۔

    معظم کو سپیشل کوٹے پر سیفائر کپڑے کی فیکٹری میں اوور لاک مشین پر ملازمت بھی ملی تھی۔ تین ماہ گیا ماشاءاللہ بہت اچھا کام کرتا تھا۔ نظر کافی کمزور ہونے کی وجہ سے وہ جاب نہ کر سکا۔ اور چھوڑ دی جاب۔

    آج الحمدللہ معظم علی اپنے سب کام خود کر لیتا ہے۔ اپنے ماموں کی سبزی کریانہ کی دوکان پر ملازمت کرتا ہے۔ گھر کے سب کام کرتا ہے۔ اردو انگلش ماشاءاللہ لکھ اور پڑھ لیتا ہے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسے اچھی طرح تعارف ہے۔ اہل بیت کا پتہ ہے۔ بنیادی جنرل نالج بھی ہے۔ سارے خاندان کے بچے بچے کا نام پتا ہے۔

    میں معظم سے ایک بار کہا آئی لو یو یار۔ تو وہ مجھے کہنے لگا یار توں میری ورگے بالاں نوں پڑھان آلی ڈگری جو کیتی اے۔تینوں پتا اے میں سپیشل بچہ واں، تاں توں میرے نال بڑا پیار کرنا ایں۔ جنہاں نوں میرا نئیں پتا اوہ مینوں پاگل کملا رملا شیدائی کہندے نیں۔ مینوں وٹے ماردے نیں۔ مینوں چھیڑدے نیں۔ میرے ابو نوں پتا سی تاں مینوں لہور لے آئے سی۔ میں پنڈ ہندا تے واقعی پاگل ہو چکیا ہندا۔ اس کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسکا ماتھا چوما اور گلے لگا لیا۔

    نیچے والی تصویر میں معظم جیسا ہی ایک لڑکا ہے۔ میرے گاؤں کے پاس رہتا ہے۔ سارا گاؤں اسے سائیں کہتا ہے۔ جو کبھی سکول نہیں گیا۔ گھر والے صبح گھر سے نکال دیتے ہیں۔ شام کو واپس آجاتا ہے۔ اسے میں نے کبھی شلوار پہنے نہیں دیکھا کیونکہ ٹائلٹ ٹرینڈ نہیں ہے تو گھر والے شلوار پہناتے ہی نہیں۔ ایسا ایک آدھ سائیں آپکے گاؤں محلے شہر میں بھی ہوگا؟ جسے بچے پتھر مارتے ہونگے۔ اسے چھیڑ کر اس سے گالیاں لیتے ہونگے؟ بڑے بھی اس سے ٹھٹھہ کرتے ہونگے؟ اسے تنگ کرتے ہونگے؟ شاید آپ بھی ایسا کرتے ہونگے؟ پلیز ایسا نہ کریں۔ نہ کسی کو کرنے دیں۔

    اپنے آس پاس کوئی چھوٹا بچہ دیکھیں تو اسے سکول داخل کروانے میں والدین کی مدد کریں۔ والدین کو گائیڈ کریں کہ سکول جانے کے بعد آپکا معظم علی طرح ہوسکتا ہے اور نہ جا کر گلی محلوں میں آوارہ پھرتا آگے جا کر سائیں آپکا بچہ ہو سکتا ہے۔

    پنجاب کے ہر ضلع ہر تحصیل ہر ٹاؤن میں الحمدللہ سرکاری سپیشل ایجوکیشن سکول ہیں۔ آپ ہماری ہیلپ لائن 1162 پر کال کرکے ہمارے تمام اداروں کی معلومات لے سکتے ہیں۔ مجھے پوچھ سکتے ہیں ایک میسج کال کی دوری پر ہوں۔ پورے پنجاب کے سب سکولوں کا مجھے پتا ہے۔ بلکل فری تعلیم ہے۔ آئیں ہم سب مل کر عہد کریں اگلی پیڑھی میں ہم ملک پاکستان میں انشاء اللہ کسی کو گلی محلوں میں لوگوں کے تماشے کا سامان بننے والا سائیں نہیں بننے دیں گے۔

    معظم علی کو ایسا معظم بنانے میں میرے ماموں جی نے ایک ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے گمنام ہیروز کو ضرور ٹرائی بیوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔ میری کوشش ہے لاہور میں ایک اچھا پروگرام ارینج کروں۔ جس کے چیف گیسٹ میرے ماموں اور ان کا صاحب زادہ ہو۔ ان کی اس 32 سالہ بے لوث سروس پر انہیں سلام پیش کیا جائے۔ وہ اپنے تجربات سب سے شئیر کریں۔ سپیشل بچوں کے والدین کو یقینا میرے ماموں جان بہت آسانی دے سکتے ہیں۔ ماموں جی آپ کا بھانجا ہونے پر مجھے فخر ہے۔ معظم یار تم نے مجھے ہمیشہ موٹی ویشن دی ہے۔ تمہاری وجہ سے ہاں صرف تمہاری وجہ سے میں سرکاری سکول کا ماسٹر ہو کر بھی روایتی ماسٹر نہیں ہوں۔ نہ ہی کبھی بن سکوں گا۔ جیو میرے شہزادے بہت خوشیاں مانو۔

  • اروندھتی رائے

    اروندھتی رائے

    اروندھتی رائے
    پیدائش:24 نومبر 1961ء
    شیلانگ
    شہریت:بھارت
    شریک حیات:پرادیپ کرشن
    والدہ:میری رائے
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    پیشہ:ناول نگار، مصنفہ، منظر نویس، مضمون نگار
    زبان:انگریزی، ہندی ، اردو
    شعبۂ عمل:مضمون
    کارہائے نمایاں:سسکتے لوگ
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ٹائم 100 – (2014)
    ۔ (2)سڈنی امن انعام – (2004)
    ۔ (3)مین بکر پرائز
    ۔ (برائے:سسکتے لوگ) – (1997)

    سوزننا اروندھتی رائے بھارتی مصنفہ ہیں جو اپنی شاہکار ناول سسکتے لوگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اس ناول کے لیے ان کو 1997ء میں مین بکر پرائز اعزاز سے نوازا گیا اور یہ کتاب کسی بھی بھارتی کی سب سے زیادہ بکنے والی کتاب بن گئی تھی۔ وہ ایک سیاسی فعال پسند بھی ہیں جو انسانی حقوق اور ماحولیاتی شعور کے لیے کام کرتی ہیں۔
    ابتدائی حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اروندھتی رائے کی پیدائش شیلانگ، میگھالیہ، بھارت میں ہوئی۔ ان کی والدہ میری رائے ایک ملیالی نسل کی مار توما مسیحی مذہب کو ماننے والی اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تھیں۔ ان کا تعلق کیرالا سے تھا۔ اروندھتی رائے کے والد ایک بنگالی ہندو تھے اور کولکاتا میں چائے کی کھیتی میں منیجر تھے۔ رائے محض دو سال کی تھیں جب ان کے والدین کا طلاق ہوگیا اور وہ اپنے بھائی کے ساتھ کیرلا میں آ بسیں۔ ایک وقت تک ان کا خاندان نانا کے یہاں اوٹی، تمل ناڈو میں رہا پھر جب وہ پانچ سال کی تھیں تب کیرلا واپس چلی گئیں جہاں ان کی والدہ نے اپنا ایک اسکول کھول لیا تھا۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رائے دہلی آگئیں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اربن افیرز میں ان کو ایک عہدہ مل گیا۔ 1984ء میں ان کی ملاقات ایک آزاد فلم ساز پردیپ کرشن سے ہوئی جنھوں نے رائے کو اپنی انعام یافتہ فلم ماسے صاحب میں گودر کا رول دیا۔ بعد میں دونوں نے شادی کرلی۔ ان دونوں تحریک آزادی پر ایک ٹی وی سلسلہ میں ساتھ کام کیا اور دو فلمیں بھی ساتھ میں کیں۔ بعد میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔
    ان کی ناول دی گاڈ آف اسمال تھنگز (سسکتے لوگ) کی کامیابی کے بعد ان کی معاشی حالت سدھر گئی۔ اس کی اشاعت 1997ء میں ہوئی تھی۔ بھارت کے نامی خبر رساں ٹی وی میڈیا گروپ این ڈی ٹی وی کے صدر پرینوئے رائے کی کزن ہیں۔ اور فی الحال دہلی میں مقیم ہیں۔

    ابتداءا رائے نے ٹی وی اور فلموں میں کام کیا۔ انہوں نے ان وچ اینی گرز اٹ دوز ہنز 1989ء فلم میں منظرنامہ لکھا۔ یہ فلم فن تعمیر کے طالبعلم کے تجربوں پر مبنی تھی اور اس میں رائے نے بھی کردار نبھایا تھا۔ ان کی دوسری فلم الیکٹرک مون 1992ء تھی۔ دونوں ان کے شوہر نے ڈائریکٹ کیں۔ رائے کو اول الذکر فلم کے لیے 1988ء میں نیشنل فلم اوارڈ فار بیسٹ اسکرین پلے سے نوازا گیا۔ 1994ء میں ان کو اس وقت خوب شہرت ملی جب انہوں نے پھولن دیوی کی زندگی پر مبنی شیکھر کپور کی فلم بنڈت کوین کی تنقید کی۔ انہوں نے اپنے تنقید نامے کو ‘‘بھارت میں عصمت دری کی عظیم چال‘‘ کا نام دیا اور ایک زندہ عورت کی عصمت دری کو اس کی اجازت کے بغیر اس طرح دکھائے جانے پر سوال اٹھایا اور کپور پر دیوی پر استحصال کا الزام بھی لگا دیا۔

  • 24 نومبر معروف شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش

    24 نومبر معروف شاعرہ پروین شاکر کا یوم پیدائش

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق لے لی۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔26 دسمبر 1994 میں وہ اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
    ان کے لوحِ مزار پر انہیں کے یہ اشعار کنندہ ہیں :-

    یارب میرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
    زخمِ ہُنر کو حوصلہء لب کشائی دے

    شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
    آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے