جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کے خلاف یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ گل پلازہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے المناک واقعات کے بعد بھی سندھ حکومت سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے وزیراعلیٰ سندھ کو اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر بڑے حادثے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان الزام تراشی اور نام نہاد سیاسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے، لیکن اس کا خمیازہ ہمیشہ کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق کراچی کے مسائل کا حل نہ وفاق کے کنٹرول میں ہے اور نہ صوبائی اختیارات میں، بلکہ اس کا واحد حل ایک بااختیار اور خودمختار سٹی گورنمنٹ کا قیام ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے باوجود آگ بجھانے کا مؤثر انتظام موجود نہیں تھا، جو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد متاثرہ افراد اور شہری شدید بے بسی کا شکار ہیں، جبکہ حکمران طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے عوام پر کرپٹ اور نااہل حکمران مسلط کیے گئے ہیں، جو شہر کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ “جینے دو کراچی” مارچ کے ذریعے عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچائی جائے گی اور کراچی کے حق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
Category: بلاگ
-

جماعت اسلامی کا یکم فروری کو “جینے دو کراچی” مارچ کا اعلان
-

گل پلازہ ۔۔۔زندہ انسانوں کا مدفن ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
نام تو اس کا’’ گل پلازہ ‘‘ تھایعنی پھول پلازہ ۔ ’’ گل ‘‘ ۔۔۔۔مطلب پھول جو دیکھنے میں بھی خوشنما ہوتا ہے لوگوں کے لئے خوشیاں بانٹتا اور خوشبو بکھیرتا ہے لیکن کراچی کا ’’ گل پلازہ ‘‘ لوگوں کے لیے موت کا کنواں اور دہکتا ہوا الاؤ بن گیا۔ ایسا الاؤ جس نے پھول نہیں، جس نے چشم زدن میں 80زندہ انسان جلائے۔گل پلازہ لوگوں کیلئے ایسا الاؤ بن گیا جس نے خوشبو نہیں، راکھ بکھیری۔ جس نے زندگی نہیں، موت بانٹی ۔ کراچی کے اس بدقسمت پلازے میں لگنے اور بھڑکنے والی آگ کوئی اچانک حادثہ نہ تھی، یہ برسوں سے سلگتی ریاستی بے حسی تھی جو اُس دن شعلوں کی صورت پھٹ پڑی۔ یہ آگ لکڑی، کپڑے یا کیمیکل سے نہیں لگی ۔ یہ آگ غفلت، لالچ، رشوت ، مجرمانہ خاموشی اور بدانتظامی سے لگی ہے ۔اب تک 80سے زائد زندگیاں اس الاؤ میں جل کر راکھ چکی ہیں۔لیکن اصل سانحہ اعداد و شمار نہیں بلکہ اصل سانحہ وہ 30 لاشوں کی باقیات ہیں جو ایک ہی دکان سے ملیں،وہ جلی ہوئی ہڈیاں، وہ ٹوٹے ہوئے دانت، وہ راکھ میں دبے سوختہ جسم جو اپنی شناخت اور پہچان تک کھو چکے ہیں ۔۔۔جن کا ڈی این اے تک بھی ممکن نہیں۔
سوچئے! جب اپنے بیٹے کی راہ تکتی ماں کو لاش نہیں صرف راکھ ملے ، جب باپ کو قبر نہیں صرف ایک تھیلی دی جائے۔ جب ورثا سے کہا جائے کہ شناخت ممکن نہیں تو اس ماں کے درد اور انتظار کیا کا نام کیا رکھا جائے؟ یہ کیسا نظام ہے ، جہاں انسان جل کر راکھ ہو جائے مگر فائلیں زندہ رہیں؟ چیخیں جو فائلوں میں دب گئیں ، آگ کے شعلوں میں گھرے وہ معصوم بچے، جو آخری لمحے میں ماں کو پکار رہے تھے، وہ بزرگ جو چل نہیں سکتے تھے، وہ محنت کش جو رزق کی تلاش میں آئے تھے، وہ خواتین جو زندگی کی امید لے کر گھروں سے نکلی تھیں۔۔۔۔سب کی چیخیں نظام کی بہری دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آئیں۔ کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ، کوئی فائر الارم نہیں ، کوئی اسپرنکلر نہیں ، کوئی راستہ نہیں ، بس شعلے تھے ۔۔۔۔۔۔اور موت کے بھیانک قہقہے تھے ۔
بلاشبہ یہ ایک درد ناک سانحہ اور المیہ ہے جس پر اب طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ۔ کوئی کہہ رہا ہے آگ شارٹ سرکٹ سے لگی اور کوئی کہہ رہا ہے کہ آگ اچانک لگ گئی ۔ کوئی کچھ کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ ۔ یہ تمام قیاس آرائیاں درحقیقت قاتل کو بچانے کی کوشش ہے۔ یہ آگ کسی دکان دار نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی مزدور نے نہیں لگائی ، یہ آگ کسی شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی ، یہ آگ اچانک نہیں بڑھکی یہ آگ ان بچوں نے بھی نہیں لگائی جو اس میں زندہ جل گئے بلکہ یہ آگ اُس نظام نے لگائی ہے ،جو پلازے بنانے کی اجازت تو دیتا ہے ، مگر انسان بچانے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ یہ آگ اس نظام نے لگائی ہے جو پلازے بنانے کی اجازت کو دیتا ہے لیکن پلازے کے مالکان کو سیفٹی فائر سسٹم کی تنصیب اور ہنگائی راستے بنانے کے احکامات جاری نہیں کرتا ۔
ہم سمجھتے ہیں سانحہ گل پلازہ۔۔۔۔۔ حادثہ نہیں بلکہ اجتماعی قتل عام ہے ، یہ حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت کا نوحہ ہے۔ وہ مرد و خواتین جو صبح گھروں سے نکلے کہ شام کو بچوں کے لیے روٹی لائیں گے وہ شام کو خود کفن بن گئے۔ زندگی بھر کی وہ جمع پونجی جو دکانوں میں لگی تھی خود بھی جل گئی اور اپنے مالکوں کو بھی جلا گئی ۔ آج ان گھروں میں نہ ہنسی ہے ، نہ چراغ اور نہ امید ہے ۔۔۔۔۔۔صرف بین ہیں ، آہیں ہیں اور سناٹا ہے ۔
گل پلازہ میں جلنے والوں میں کئی ایسے تھے جو آگ سے نہیں مرے بلکہ دم گھٹنے سے مرے ہیں ۔وہ لوگ جو سیڑھیوں کی طرف دوڑے مگر راستے بند تھے ، جو کھڑکیوں کی طرف لپکے مگر سلاخیں نصب تھیں، جو چھت کی طرف بھاگے مگر دروازہ مقفل تھا وہ سب آگ سے پہلے مایوسی میں مر گئے۔یہ کیسی عمارت تھی جس میں داخلہ تو آسان تھا مگر نکلنے کا راستہ نہیں تھا ؟ کراچی جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے معاشی شہ رگ ہے لیکن یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں بازار بنتے ہیںمگر زندگی کے لیے نہیں بلکہ موت کے لیے؟ آگ میں گھرے اور شعلوں میں لپٹے لوگوں نے یقینا باہر نکلنے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی ۔ انھوں نے مدد کیلئے اپنے پیاروں کوفون بھی کئے ہوں گے ۔ وہ آخری فون کالز جو کبھی نہیں ملیں ۔ اس سانحے میں کچھ موبائل فون جلے ہوئے ملے کچھ بجتے رہے مگر اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ کسی نے آخری لمحے ماں کو فون کیاہو گا کہ امی یہاں آگ لگ گئی ہے ! کسی نے دم آخریں بیوی کو پیغام بھیجا ہو گا کہ بچوں کا خیال رکھنا ۔ یہ وہ پیغامات ہیں جو موبائل میں محفوظ رہ گئے لیکن پیغام بھیجنے والے راکھ ہو گئے۔ کفن بھی پورا نہیں، قبر بھی ادھوری ہے یہ کیسا المیہ ہے کہ کچھ لاشوں کے لیے پورا کفن بھی میسر نہیں۔کہیں ہڈیوں کو کپڑے میں لپیٹا گیاکہیں راکھ کو ڈبوں میں رکھا گیااور ورثا سے کہا گیا یہی ہے جو بچ سکا ہے۔
سوچیے!
جس جسم نے عمر بھر مشقت کی جس ہاتھ نے بچوں کو پالا ، جس پیشانی نے سجدے کیے وہ اب چند ہڈیوں میں سمٹ گیااور ریاست کے ضمیر پر راکھ کی تہہ بن کر سوالیہ نشان بن گیا ۔اب تو تحقیقات نے بھی نظام کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ سانحے کے بعد تحقیقات ہوئیں تو سچ اور زیادہ بھیانک نکلا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے کمشنر کراچی کو سات فائلیں پیش کیں تین فائلیں گل پلازہ کے زیر التواء عدالتی مقدمات کی باقی فائلیں خلافِ ضابطہ تعمیرات کی جو اپنے دامن میں دولت کی ہوس کی کئی المناک اور شرمناک داستان لیے ہوئے ہے ۔ یعنی یہ پلازہ غیر قانونی تھا، متنازع تھا اور خطرناک تھا ۔ پھر بھی آباد رہا ، کاروبار ہوتا رہا اور آخرکار یہ پلازہ کتنے ہی زندہ انسانوں کا مقتل اور مدفن بن گیا ۔پلازے کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تو ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے صرف 5 فیصد حصے میں فائر سیفٹی سسٹم۔ ہنگامی اخراج کے راستے ناپید اور آگ بجھانے کے آلات غائب !
تو سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار کون ۔۔۔۔۔؟ سانحے کا سب سے لرزا دینے والا پہلو یہ ہے کہ کئی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں۔ ڈی این اے نہ ہونے کی وجہ سے باقیات ورثا کے حوالے کرنا بھی ایک کرب ناک مرحلہ بن چکا ہے۔ وہ ماں جو ہر روز دروازے پر بیٹھتی ہے وہ بیوی جو ہر فون کال پر چونک اٹھتی ہے وہ بچہ جو پوچھتا ہے ابو کب آئیں گے؟
ان سب کو کون جواب دے گا؟ آگ میں جل کر شہید ہونے والوں کے ورثا کا ایک ہی مطالبہ اور قوم کا بھی مطالبہ اور قوم کے ضمیر کی آواز بھی ہے کہ اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور بازار، کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔ یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں یہ پورے پاکستان کا المیہ ہے۔ہر شہر میں ایسے ہی جلتے ہوئے اور بارود کے ڈھیر پر کھڑے کمرشل اور رہائشی پلازے خاموشی سے ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔
سانحہ گل پلازہ میں ہمارے لیے سبق ہے کہ آئندہ کے لیے کمرشل اور رہائشی پلازوں کی تعمیر میں تمام تر حفاظتی اقدامات کئے جائیں ۔ اب صرف آنسو کافی نہیں، صرف بیانات کافی نہیںبلکہ فوری طور پر ملک گیر فائر سیفٹی ایمرجنسی، تمام کمرشل و رہائشی عمارتوں کافوری اور شفاف آڈٹ یقینی بنایا جائے ۔ بغیر سیفٹی عمارت بند کی جائیں ۔ اس لئے کہ سیفٹی کے بغیر پلازہ براہِ راست قتل گاہ ہے ۔ لہذا یسے تمام پلازے فوری سیل کیے جائیں اور ان کے مالکان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے ۔
-

کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی یہودی،سیاست ’’بازاری‘‘ کیوں؟ تجزیہ،شہزاد قریشی
پاکستانی سیاستدانوں نے ملکی وقار ،اقدار کا جنازہ نکال دیا،الزام تراشی جمہورٹھہری
ہر ریاست میں زمینی حقائق پر فیصلے ہوتے ہیں ،پاکستان کو استثنیٰ حاصل نہیں
سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت،معیشت کی مضبوطی اور بہترین خارجہ پالیسی ہونا چاہیے
مشکلات کے باوجود مملکت خداداد قائم،پاک فوج نے ہمیشہ دوام بخشا،خون سے آبیاری کی
تجزیہ،شہزاد قریشی
سیاست یا الزام تراشی؟پاکستانی سیاست ایک طویل عرصے سے ایک خطرناک روش پر گامزن ہے، جہاں دلیل، کارکردگی اور عوامی خدمت کی جگہ الزام تراشی، بہتان اور ایک دوسرے کو ’’ایجنٹ‘‘ قرار دینے کا چلن عام ہو چکا ہے، کوئی یہودی ایجنٹ ہےتوکوئی بھارتی،یہ وہ زبان ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے آ رہے ہیں، افسوس کہ اس روش نے قومی سیاست کو تماشا بنا دیا ہے،یہ طرزِ سیاست نہ صرف قومی وقار کے منافی ہے بلکہ عوامی شعور کی توہین بھی ہے، پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، جس کے اپنے مفادات، ترجیحات اور عالمی ذمہ داریاں ہیں،بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات میں ہر ریاست کو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا پڑتے ہیں، پاکستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں، ریاستی فیصلوں کو بیرونی ایجنڈے سے جوڑنا دراصل اپنی ہی ریاست کی کمزوری کا اعلان کرنے کے مترادف ہے،سیاست کا بنیادی مقصد عوامی مسائل کا حل، معیشت کی بہتری، خارجہ محاذ پر مؤثر کردار اور داخلی استحکام ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست ذاتی دشمنیوں اور وقتی فائدے کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے، اختلافِ رائے کو غداری اور سیاسی مقابلے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے، جس کا نقصان براہِ راست عوام اور ریاست دونوں کو ہو رہا ہے،حقیقت یہ ہے کہ اگر آج پاکستان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود قائم ہے تو اس کے پیچھے پاک فوج اور دیگر ریاستی اداروں کی قربانیاں، استقامت اور ذمہ دارانہ کردار شامل ہے،ان اداروں نے ہر مشکل وقت میں ریاست کو سہارا دیا،سیاسی قیادت اکثر باہمی لڑائیوں میں الجھی رہی، قوم اب اس تماشے سے اکتا چکی ہے، عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مہنگائی کیسے کم ہو گی،روزگار کیسے بڑھے گا، تعلیم اور صحت کے شعبے کیسے بہتر ہوں گے، اور پاکستان عالمی برادری میں ایک باوقار اور مضبوط کردار کیسے ادا کرے گا۔’’ایجنٹ‘‘ کے نعروں سے معیشت سنبھلتی ہے نہ ریاست مضبوط ہوتی ہے،وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، الزام تراشی ترک کریں، کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کریں اور اختلاف کو برداشت کرنا سیکھیں، اگر سیاست کا معیار یہی رہا تو تاریخ سخت سوال کرے گی کہ جب ملک کو سمت کی ضرورت تھی،تب رہنما تماشے میں مصروف کیوں تھے،پاکستان کو نعروں کی نہیں، وژن کی ضرورت ہے
-

مکافات عمل ، کائنات کا اٹل انصاف ،تحریر:پارس کیانی
انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک سوال ہمیشہ بے چین کرتا رہا ہے کہ اس کے کیے ہوئے اچھے یا برے کام کا نتیجہ آخر اسے کیوں اور کیسے ملتا ہے۔ اور وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کہیں یہ اس کی اپنے دماغ کی اختراع تو نہیں یا اس کی کوئی شخصی کمزوری تو نہیں جو اسے سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مکافات عمل (karma) جیسی بھی کوئی چیز ہے جس کے خوف کے تحت وہ زندگی گزارتا ہے۔
مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فلسفوں میں اس سوال کا جواب مختلف ناموں سے دیا گیاہے، کسی نے اسے "کرم” کہا، کسی نے "مکافاتِ عمل”، کسی نے "اخلاقی قانون”، کسی نے "فطری ردّعمل”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر ایک بات سب میں مشترک ہے: انسان جو کچھ کرتا ہے، وہی کسی نہ کسی صورت میں اس کے سامنے آ جاتا ہے۔ زندگی کے چلتے، وہ کائنات کے حوالے جو بھی قوتیں کرتا ہے کائنات پوری قوت سے اسے واپس کرتی ہے۔اگر کوئی مذہب یا خدا کو نہ بھی مانے، تب بھی کائنات کا نظام ایک سادہ اصول پر استوار ہے کہ ہر عمل ایک ردّعمل کو جنم دیتا ہے۔”اگر کوئی خدا کا انکار بھی کر دے تو کائنات کی توانائیوں کا انکار نہیں کر سکتا۔”ہر سوچ، ہر جذبہ، ہر عمل اپنے اندر ایک لہر رکھتا ہے۔ یہ لہر فضا میں چھوڑتے ہی اپنا سفر شروع کر دیتی ہے، اور سائنس کے مطابق electro magnetic field اور انسانی bio-field کی صورت میں گھوم کر واپس اسی انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی ردّ عمل کو مذہبی زبان میں مکافاتِ عمل کہا جاتا ہے، اور سائنسی زبان میں resonance vibration اور bio-energy کا اصول۔یہ صرف سائنسی حقیقت نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ جدید دماغی علوم ( مجموعی طور پر )( cognetive and behaveroul sciences esp.) کے مطابق جب انسان کوئی نیکی کرتا ہے، کسی کی مدد کرتا ہے، نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا سچائی پر قائم رہتا ہے تو انسان کے دماغ میں ایسے کیمیکلز پیدا ہوتے ہیں جو اس کے اندر اعتماد، سکون اور خوشی کی لہریں بیدار کرتے ہیں۔ یوں اس کے رویّے، فیصلے اور سوچ مثبت ہو جاتی ہے اور وہ بہتر حالات اپنی طرف کھینچنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس بددیانتی، نفرت، دھوکا اور ظلم وہ کیمیکلز بڑھاتے ہیں جو بے چینی، اضطراب اور بوجھل ذہنی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یعنی چاہے کوئی مانے یا نہ مانے، کائنات انسان کے ہر عمل کو ایک مخصوص توانائی کے طور پر قبول کرتی ہے اور اسی نوعیت کی لہریں کئی گنا اضافہ کے ساتھ واپس لوٹا دیتی ہے۔
انسانی ذہن کے ماہرین کا موقف یہ ہے کہ برائی کا سب سے پہلا عذاب انسان کے اپنے اندر پنپتا ہے۔ جو شخص ظلم کرتا ہے، دھوکا دیتا ہے یا کسی کا حق مارتا ہے، اس کے شعور کے کسی کونے میں خوف، بداعتمادی اور گناہ کا احساس جڑ پکڑ لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ احساس اس کے کردار کو کھوکھلا کرتا ہے، اس کے رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے اور زندگی میں مسلسل بے سکونی پھیلا دیتا ہے۔ نیکی کا اثر بالکل اُلٹ ہوتا ہے۔ اچھا کرنے والا فرد سب سے پہلے اپنے اندر ہلکا پن اور اعتماد محسوس کرتا ہے، اس کی سوچ میں وسعت آتی ہے اور اس کے رویے میں نرمی پیدا ہوتی ہے۔ یوں وہ خود کو بھی سنوارتا ہے اور ماحول کو بھی بہتر بناتا ہے۔سماجی علوم کی رو سے معاشرہ بھی انسان کے عمل کو دیر تک نظرانداز نہیں کرتا۔ جو شخص لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، انصاف کا خیال رکھتا ہے یا دوسروں کے ساتھ سچائی کا رویہ اختیار کرتا ہے، سماج اسے عزت دیتا ہے۔ لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے پذیرائی ملتی ہے اور اس کا دائرۂ اثر وسیع ہوتا ہے۔ مگر جو فرد دھوکا دینے والا، موقع پرست یا نقصان پہنچانے والا ہو، معاشرہ اسے کسی نہ کسی مرحلے پر ردّ بھی کر دیتا ہے اور اس رویے کا منفی انجام اس کی زندگی میں ضرور سامنے آتا ہے۔ دنیا کی تاریخ بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ظلم اور ناانصافی کی بنیاد پر کھڑی ہوئی کوئی طاقت دیرپا نہیں رہی، جبکہ انصاف، انسانی وقار اور خیرخواہی پر مبنی رویے ہمیشہ دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔
زمانہ گواہ ہے کہ بڑے بڑے ظالم وقت کے ایک موڑ پر شکست سے دوچار ہوئے۔ طاقت، دولت اور اختیار سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ داخلی خوف اور عدم تحفظ سے نہیں بچ سکے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جنہوں نے انسانیت، انصاف اور سچائی کو اختیار کیا، چاہے عارضی مشکلات کا شکار ہوئے، مگر وقت نے ان کا ساتھ دیا۔ یہ محض اخلاقی یا مذہبی بیانیہ نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے۔ مکافات عمل یا عمل کی واپسی یا فطری رد عمل ایک ایسا اصول ہے جسے ماننے کے لیے مذہب ضروری نہیں۔
یہ بالکل ایسے ہے جیسے کششِ ثقل کو ماننے سے انکار کر دیں، چاہے مانیں یا نہ مانیں، وہ پھر بھی اثر کرتی ہے۔
انسان کا ہر لفظ، ہر خیال، ہر ارادہ، ہر عمل ایک توانائی ہے جو کائنات میں گشت کرتی ہے اور اپنے جیسی توانائیوں کو کھینچ کر واپس لاتی ہے۔
Karma ( بدلے کا عمل )
آخر کیسے چلتا ہے؟
آپ محبت دیتے ہیں، محبت ملتی ہے
آپ دوسروں کے لیے راستے آسان کرتے ہیں، آپ کے راستے کھلتے ہیں
آپ حسد، بغض، نفرت پھیلاتے ہیں، یہی چیزیں کئی گنا ہو کر آپ تک پہنچتی ہیں
آپ رزق روکتے ہیں، رزق آپ سے روٹھ جاتا ہے
یہ کوئی روحانی نعرہ نہیں، یہ انسانی تعلقات، نفسیات، معاشرت اور فطرت کا جامع قانون ہے۔
اور کائنات کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہوتے
مکافاتِ عمل کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہ اندھا انصاف کرتا ہے۔
یہ ذات، مذہب، مقام، طاقت، دولت، ،شہرت کسی چیز کی رعایت نہیں کرتا۔
اسی لیے دانا کہتے ہیں:
"کائنات خاموش ہے، مگر حساب بہت باریک رکھتی ہے۔ انسان کا ہر لفظ، ہر ارادہ اور ہر عمل ایک توانائی بن کر فضا میں جاتا ہے اور پھر ایسا نہیں ہوتا کہ وہ کہیں گم ہو جائے۔ یہ واپس آتا ہے، مگر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ۔ یہی زندگی کا سب سے غیرجانبدار اصول ہے۔انسان جب محبت، خیرخواہی، آسانی یا نیکی بانٹتا ہے تو انہی خوبیوں کے دروازے اس کی اپنی زندگی میں کھلنے لگتے ہیں۔ اور جب وہ نفرت، حسد، بغض یا نقصان پھیلاتا ہے تو انہی چیزوں کا بوجھ اس کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے۔ رزق، عزت، سکون اور کامیابی بھی اسی اصول کے تابع چلتے ہیں۔ آسانیاں بانٹنے والا شخص آسانیوں کا مالک بنتا ہے، مگر دوسروں کے لیے مشکل پیدا کرنے والا فرد خود بھی مشکلات کے بھنور میں آ جاتا ہے۔
تاریخ کے صفحات بھی مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی شہادت ہیں۔ روم کی عظیم سلطنت ہو یا یونان کی فکری حکومت، عرب کی وسعتیں ہوں یا منگولوں اور عثمانیوں کی شہرت، جب تک یہ انصاف، نظم اور اعتدال پر قائم رہیں، دنیا نے ان کے سامنے سر جھکایا۔ اور جب ظلم، تکبر، بددیانتی اور انسانیت سے انحراف بڑھا تو انہی سلطنتوں کے ستون زمین بوس ہو گئے۔ فرعون کے پاس طاقت بےپناہ تھی مگر تکبر نے اسے ڈبو دیا۔ ہٹلر کے پاس لشکر تھے مگر نفرت نے اسے تباہ کر دیا۔ اس کے برعکس نیلسن منڈیلا جیسے لوگ جن کے پاس طاقت نہیں تھی، صرف سچائی اور انصاف کا اصول تھا، وقت نے انہیں عزت، وقار اور عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا۔ یہ کوئی مذہبی یا روحانی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔مکافاتِ عمل کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ کسی طاقت، دولت یا رتبے سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ کسی ذات، مذہب، علاقے یا حیثیت کے لحاظ سے فیصلہ نہیں کرتا۔ یہ صرف عمل کو دیکھتا ہے، نیت کو جانچتا ہے اور پھر وقت آنے پر اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے۔ انسان چاہے جتنا بڑا منصوبہ ساز بن جائے، کائنات کے باریک حساب سے نہیں بچ سکتا۔ انسان جو کچھ دیتا ہے، وہی ایک دن مجبوراً اس کے دروازے پر لوٹ کر کھڑا ہو جاتا ہےکبھی روشنی بن کر، کبھی اندھیرا بن کر.
-

ٹرمپ کے کلب میں خوش آمدید ،تحریر : علی ابن ِسلامت
انوار الحق کاکڑ 14 اگست 2023 سے 3 مارچ 2024 تک پاکستان کےآٹھویں نگراں وزیر اعظم رہے ،انوار الحق کاکڑ کو سمجھا جاتا ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے نمائندہ کے طور پر سامنے آتے ہیں، سب جانتے ہیں کہ نگران وزیر اعظم کیلئے ان کا نام شہباز شریف نے دیا تھا اور شہباز شریف کن کے آدمی ہیں آج اس حقیقت سے پوری دنیا واقف ہے۔ نگران وزیر اعظم کا نام اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے ذریعے دیا جانا تھا اور راجہ ریاض نے صادق سنجرانی سمیت 2 قریبی ساتھیوں کے نام دئیے تھے جبکہ شہباز شریف نے دوسری ملاقات میں راجہ ریاض کو انوارالحق کاکڑ کے نام کی پرچی دیکر کہا تھا کہ نام تجویز کریں، انوارالحق کاکڑ کے علاوہ شہباز شریف نے راجہ ریاض کو کوئی اور نام دیا ہی نہیں تھا، اب آپ کو واضح ہو جانا چاہیے کہ کاکڑ صاحب کتنے اہم ہیں اور کن کے اہم ہیں۔
چوبیس جنوری 2026 کو انوار الحق کاکڑ نے ایک سخت بیان دیا جو کہ ان کا اپنا تجزیہ یا موقف نہیں بلکہ انہی اہم لوگوں کا پیغام تھا جنہوں نے نگران وزیر اعظم بنوایا تھا، کاکڑ صاحب نے نرم لہجے میں گرم بات کر کے بتایا کہ ٹرمپ کے غزہ پیس پلان میں شامل ہونا حکومت کا فیصلہ ہے کل کو اس کے نتائج بھی حکومت کو ہی بھگتنے پڑیں گے، کاکڑ صاحب کا یہ بیان ایک دھماکہ ہے ان لوگوں کیلئے جو آج ٹرمپ اور امریکہ کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ 28 مئی 1998 کو جب پاکستان نے امریکہ کی مخالفت کر کے ایٹمی حملے کر دئیے تو جنگ نیوز کی شہہ سرخی تھی کہ پاکستان کی امریکہ کو جھنڈی۔آج کے منظر نامے کے بعد مجھے خدشہ ہے کہ دشمن ملک کو یہ موقع نہ مل جائے کہ اپنے اخبارات میں شہ سرخی لگائیں کہ امریکہ کی مشرقِ وسطی کو جھنڈی ۔ معذرت کہ ساتھ کہ عامر خان کی فلم پی کے کا یہ ڈائیلاگ تو نہیں کہہ سکتا کہ سرفراز دھوکہ دے گا لیکن یہ بات میں بہت سوچ سمجھ کہ کہہ رہا ہوں کہ امریکہ پاکستان کو دھوکہ دے گا۔ اور اسی بات کا خطرہ انوار الحق کاکڑ کو ہے دوسری جانب بڑوں نے انوارالحق کاکڑ کے ذریعے پیغام پہنچا کر خود کو بیچ میں سے نکال دیا ہے کہ یہ فیصلہ تو در اصل حکومت کا ہے مقتدرہ کا نہیں۔ کل جب اللہ نہ کرے بُرا وقت آئے گا تو بڑے بیچ میں سے نکل جائیں گے اور ووٹ کو عزت دینے والوں کا نعرہ واپس آ جائے گا اور عمران خان کی طرح کہہ رہے ہوں گہ ہمیں استعمال کیا گیا تھا۔
انوار الحق کاکڑ مارچ 2018 میں مسلم لیگ ن کی حمایت سے آزاد حیثیت سے چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے تھے تاہم اسی مہینے وہ مسلم لیگ ن سے منحرف ہونے والے اس گروپ کا حصہ بن گئے تھے جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی تھی ۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں کہ سیاست کی نگری میں احسان کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ طاقت اور طاقتوروں کی ہاں میں ہاں ہی کامیابی کا راز ہے کیو نکہ وہ کہتے ہیں ہو جا تو سب کچھ ہو جاتا ہے۔مجھے کبھی لگتا ہے کہ اُن کو بھی امریکہ کی چالوں کا پتہ ہے لیکن وہ نزلہ کبھی بھی خود پر نہیں آنے دیں گے۔
مسلم ممالک میں امن کے نام پر پچھلے 60 سالوں میں جو اُدھم مچا ہوا ہے اس کی کوئی بات نہیں کرتا ، امریکہ اور مغرب ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے نام پر آئے ، پچھلے چالیس سال سے امن کے نام پر سوا پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کو مار دیا ہے۔ مغرب کے کسی ملک میں ایسی کوئی جنگ نہیں ہوئی جہاں پچھلے چالیس سال میں جہاں امریکہ نے مداخلت کر کے کہا ہو کہ امن کیلئے ہم آئے ہیں پھر اسی ملک پر قبضہ کر لیا ہو۔ پہلے افغانستان، پھر شام، عراق اور ایران میں آج کچھ جاری ہے سب کے سامنے ہے۔ صر ف غزہ فلسطین میں 62 ہزار سے زائد لوگ شہید اور 31 لاکھ لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں لیکن تب امریکہ اور ان مغربی طاقتوں کو امن یا د نہیں آیا ، آج غزہ بورڈ آف پیس کے نام سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا ذاتی کلب بنا چکے ہیں جس میں 60 ہزار بچوں اور خواتین کا قاتل نیتن یاہو بھی شامل ہے۔
الجزیرہ نے پیس بورڈ تقریب کے دن ہی ٹرمپ کے اس ڈھونگ کا پردہ فاش کیا اور بتایا کہ ٹرمپ بورڈ آف پیس میں 11 صفحات کے چارٹر میں جس میں8 چیپٹر اور 13 آرٹیکل ہیں ، ایک بار بھی غزہ کا نام نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسا غزہ امن بورڈ ہے جس میں غزہ ہی شامل نہیں جبکہ ظلم کرنے والا اسرائیل اور اسکا حمایتی امریکہ شامل ہے۔ جس دن بورڈ پر دستخط کیلئے ایک میدان لگا اسی دن برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ ۔ جابر بادشاہوں اور قانون کو مطلوب مجرموں کا گروہ ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل ہو گیا ہے۔ غزہ میں جنگ بندی کی 8 قرار دادیں امریکہ نے جبکہ 6 اسرائیل نے ویٹو کیں اب وہی امریکہ غزہ میں امن لائے گا، کیسا انصاف اور نظام جبکہ اس کو ماننے والے اندھے، گھونگے اور بہرے بن چکے ہیں۔ نائب وزیر اعظم آئرلینڈ نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں سنگین خطرات کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں۔
دنیا میں یہودی آبادی کل ڈیڑھ کروڑ کے قریب جبکہ مسلمان دو ارب ہیں۔ یہودی حاکم اور غالب ہیں جبکہ مسلمان محکوم اور مغلوب۔ ایسا کیوں؟ یروشلم پوسٹ جو کہ اسرائیل کا اخبار ہے اس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی آذربائیجان سے تیل کی درآمد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اسرائیل ترک بندرگاہ کے ذریعے آذربائیجان سے تیل درآمد کرتا ہے، اسرائیل اپنے ضرورت کا 46% تیل آذربائیجان سے خریدتا ہے ۔میری نظر میں غزہ و فلسطین کو دھوکہ دینے والے سب سے بڑے منافق یہ مسلم ممالک ہیں ۔سب مسلم ملک ساتھ مل گئے اور کافر سمجھے جانے والے ممالک ظلم کے خلاف کھڑا ہونے سے انکاری ہیں۔
جس دن غزہ امن بورڈ پر دستخط ہو رہے تھے اس دن غزہ میں اسرائیل کے حملے سے 11 فلسطینی شہید ہوئے، غزہ میں چھ بہنوں کا 17 سالوں کے بعد پیدا ہونے والا والدین کا اکلوتا بیٹا شدید سردی سے جاں بحق ہو گیا۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ کونسا امن اور کونسا بورڈ؟ آپ اندازہ کریں صرف وہ ممالک جہاں ڈکٹیٹر شپ، آمرانہ نظام، شاہی حکومتیں، ہابرڈ نظام والا ڈرامہ ہے وہ ہی ٹرمپ کے ساتھ اس بورڈ میں شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان اسرائیل،اردن،آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، ویتنام،قازقستان،ارجنٹینا،بیلاروس، مراکش ۔تو کیا فرانس، برطانیہ، اٹلی میں اتنے بڑے غزہ کے حق میں جو مظاہرے ہوئے تھے وہ لوگ اور حکمران اسرائیل ، امریکہ کی چالوں سے واقف نہیں تھے ؟
کہتے ہیں کہ جب تک کوئی مشورہ نہ مانگے تو نہیں دینا چاہیے لیکن میں ملک کی محبت میں طاقتوروں کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ابھی وقت آپ کا ہے ۔سوچ لیں کہ مستقبل قریب میں یہ نہ کہنا پڑے کہ ہمیں ڈیووس میں زبردستی لے جا یا گیا تھا اور ہم مجبور تھے اور اگر مجبور ہیں تو انوارالحق کاکڑ کی بات کو سنجیدہ لیں۔ کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے اور پاکستانی معاشروں میں ماؤں کی عزت کیا ہے یہ لیکچر ہمیں آج سے 78 سال پہلے ایک سیاستدان نے دیا تھا۔ لہذا اگر مجبوری ہے تو بتائیں کہ مجبور کیوں ہوئے اور کس کے کہنے پر ؟ اور اگر اتنے مجبور ہیں کہ زبان پر کچھ نام آتے ہی پھسل جاتی ہے تو پھر آپ سب کو صدر ٹرمپ کے ذاتی کلب میں خوش آمدید۔
نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں
-

کیا پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث کوئی نئی نہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال مزید گہرا اور سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافہ، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوامی شکایات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا پاکستان کو واقعی نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ صوبے، خصوصاً پنجاب، آبادی اور رقبے کے لحاظ سے اتنے وسیع ہو چکے ہیں کہ ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر حکمرانی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور، سرائیکی خطہ اور کراچی جیسے علاقوں میں یہ احساس مسلسل بڑھ رہا ہے کہ فیصلے اُن کی ضروریات کے مطابق نہیں ہو پاتے۔ دور دراز علاقوں کے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور انصاف تک رسائی کے لیے غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بہتر گورننس کو یقینی بناتے ہیں۔ جب دارالحکومت قریب ہو، فیصلہ سازی مقامی سطح پر ہو اور وسائل کی تقسیم علاقائی ضروریات کے مطابق کی جائے تو عوامی مسائل زیادہ تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی کئی کامیاب ریاستیں اسی ماڈل پر چل رہی ہیں جہاں انتظامی تقسیم کو ترقی کا ذریعہ بنایا گیا۔
تاہم اس بحث کا دوسرا رخ بھی ہے۔ ناقدین کے مطابق نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی نہیں بلکہ ایک حساس آئینی اور سیاسی معاملہ ہے۔ اگر یہ عمل لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر کیا گیا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ نئے صوبوں کے قیام کے لیے بھاری مالی وسائل، نیا انتظامی ڈھانچہ اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے، جو اس وقت ایک مشکل مرحلہ دکھائی دیتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت بننے چاہئیں۔ اگر مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، محرومیوں کا ازالہ اور ریاستی نظام کو مؤثر بنانا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ مطالبہ صرف سیاسی نعرہ یا وقتی فائدے کے لیے ہو تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذبات کے بجائے قومی مفاد، آئینی تقاضوں اور زمینی حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ ایک غیر جانبدار قومی کمیشن کے ذریعے آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت اور عوامی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ وسیع سیاسی مکالمہ اور اتفاقِ رائے کے بغیر اس سمت میں کوئی بھی قدم ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے عوام کی زندگی آسان بنانے، ریاست کو مضبوط کرنے اور احساسِ محرومی کم کرنے کا ذریعہ بنیں، تو یہ ایک قابلِ غور آپشن ہے—لیکن شرط یہ ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی، سیاست یا تقسیم کے بجائے تدبر، شفافیت اور قومی وحدت کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ -

ایبٹ آباد کردار اکیڈمی ،صرف تعلیم نہیں کردار کی بھی تعمیر ،تحریر:ریحانہ جدون
تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تعمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے ،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے ،دین دنیا اور ڈسپلن ایک ہی منزل میں ، آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں انہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں بچے پڑھتے بھی ہیں اور حفظ بھی کرتے ہیں اور اچھے انسان بھی بنتے ہیں کردار اکیڈمی میں حفظ قرآن کا بہترین انتظام آپ کو ملے گا یہاں بچوں کی اخلاقی اور اسلامی تربیت بھی ہوتی ہے سپونگ انگلش اور تربیت یافتہ اساتذہ ،نظم و ضبط اور والدین کے تعاون کے ساتھ کردار اکیڈمی بہترین کام کررہا ہے
یہاں طلباء کے لئے کلاس رومز اور سہولیات مذید محفوظ اور بہتر ہیں تاکہ تعلیم کا ماحول بہترین اور موثر ہو،ایک منظم اور تجربہ کار قیادت میں کردار اکیڈمی ایسا ادارہ ہے جو آپ کے بچوں کو محفوظ دینی ماحول میں تعلیم دیتا ہے،روزانہ درس سے بچوں کی اخلاقی تربیت کے ساتھ بچوں کے اسلامی علوم میں بھی اضافہ ہوتا ہے ،عملی سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں جس میں بچے مختلف ڈیزائن اور پروجیکٹ بناتے ہیں ،ایک منفرد بات یہ بھی ہے کہ یہاں اساتذہ کے تربیتی سیشن بھی ہوتے ہیں،یہاں پروجیکٹ بیسڈ لرننگ کے ذریعے طلباء میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہے سیکھنے کے لئے سازگار ماحول ہے ،ایک اسکول کی نمایاں خصوصیات اور کامیابیوں پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک مربوط نظام ، متحرک قیادت ، تربیت یافتہ اساتذہ ، موثر پالیسی ، والدین کی شمولیت اور مسلسل بہتری کا عمل کارفرما ہوتا ہے،یہاں آپ کے بچوں کو علم کے ساتھ اخلاق بھی سیکھایا جاتا ہے
-

ٹرمپ امن بورڈ ، امید، خدشات اور عالمی سیاست،تجزیہ: شہزاد قریشی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیا گیا ’’ٹرمپ امن بورڈ‘‘ عالمی سیاست میں ایک نیا اور غیر روایتی اقدام ہے، جس میں مختلف ممالک کی شمولیت نے بین الاقوامی سطح پر بحث کو جنم دیا ہے۔ اس فورم کو بظاہر غزہ سمیت دیگر تنازعات میں جنگ بندی، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کے لیے ایک متبادل پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس اقدام کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ طویل عرصے سے جاری خونریزی اور عدم استحکام کے شکار خطوں میں امن کی کوششوں کے لیے ایک نیا مکالمہ شروع ہوا ہے۔ اگر مختلف ممالک خلوصِ نیت کے ساتھ اس فورم کے ذریعے عملی اقدامات کریں، انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں اور متاثرہ عوام کی آواز کو سنا جائے تو یہ کوشش قابلِ ستائش قرار دی جا سکتی ہے۔
تاہم، اس کے ساتھ سنجیدہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے پہلے ہی امن، ثالثی اور انسانی حقوق کے لیے موجود ہیں۔ ایسے میں ایک نیا بورڈ کہیں بین الاقوامی اتفاقِ رائے کو تقسیم نہ کر دے۔ مزید یہ کہ بعض بڑی عالمی طاقتوں اور یورپی ممالک کی عدم شمولیت اس فورم کی عالمی ساکھ اور مؤثریت پر سوالیہ نشان ہے۔
اصل کسوٹی یہ نہیں کہ کتنے ممالک اس بورڈ میں شامل ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ فورم عملی طور پر جنگ بندی، انصاف پر مبنی حل اور متاثرہ عوام کی بحالی میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ پلیٹ فارم محض سفارتی بیانات، سیاسی مفادات یا طاقت کے توازن تک محدود رہا تو امن ایک بار پھر ایک نعرہ ہی بن کر رہ جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں امن کو سیاسی برتری کا ہتھیار بنانے کے بجائے انسانیت کے مشترکہ مقصد کے طور پر اپنائیں۔ ٹرمپ امن بورڈ اسی صورت میں کامیاب کہلائے گا جب وہ طاقت کے بجائے انصاف، مفاد کے بجائے انسان اور سیاست کے بجائے پائیدار امن کو ترجیح دے۔ -

تبدیلی ، تحلل ، انقلاب،تحریر:پارس کیانی
زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ انسان کی سوچ کی بنیادیں بدل دیتے ہیں۔ میرے ساتھ ایسا ہی ایک واقعہ دورانِ ملازمت پیش آیا۔ ڈیوٹی سے فارغ ہو کر میں گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھی۔ راستے میں گاڑی ایک جگہ رکی اور سامنے ایک پرانی، عام سی ویگن کھڑی تھی۔ اس کے پیچھے لکھا ہوا جملہ میرے اندر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا "میں بڑی ہو کر ڈیؤ (DAEWOO) بنوں گی!”
اس وقت میں بے اختیار ہنس پڑی۔ برسوں گزر گئے، مگر اب میں سمجھتی ہوں کہ وہ محض مذاق نہیں تھا, یہ ایک علامت تھی۔ وہ ویگن اپنی موجودہ حالت میں "بڑی” نہیں ہو رہی تھی، بلکہ وہ بدلنے کا اعلان کر رہی تھی۔ وہ اپنی شکل، اپنی ساخت، اپنے معیار، اور اپنے اندر کی توانائی کو تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ اسی طرح انسان بھی کسی پیشہ، عمر یا مرتبے سے نہیں بڑھتا، وہ اپنے آپ کو بدل کر ہی کچھ بنتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہے جب میں نے پہلی بار یہ سمجھا کہ انسان کے اندر کا پرانا وجود مکمل طور پر ختم ہوتا ہے، تب ہی وہ نئی شکل اختیار کر پاتا ہے۔ اس مرحلے میں وہ جو پہلے تھا، وہ اپنے اندر مار دیا جاتا ہے، اور جو نیا جنم لیتا ہے، وہی اصل ٹرانسفارمیشن ہے۔
تبدیلی صرف ظاہری تبدیلی نہیں، بلکہ اندرونی انقلاب ہے۔ انسان کی شخصیت، اس کے رویے، اس کے خوف، اور اس کے ضمیر کی ساخت یہ سب ٹوٹ کر دوبارہ بناتے ہیں۔
کائنات کی ہر حرکت اسی قانون کے تابع ہے: ستارے ٹوٹتے ہیں، پہاڑ بلند ہوتے ہیں، دریا رخ بدل لیتے ہیں۔ ہر شے مستقل حرکت میں ہے۔ انسان بھی اسی نظام کی کڑی ہے۔ اگر وہ ساکن رہے تو جمود میں رک جاتا ہے، مگر اگر وہ بدل جائے تو نئی تخلیق پیدا کرتا ہے۔یہ داخلی انقلاب وہ لمحہ ہے جب انسان کے اندر کا پرانا انسان مر جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے پچھلے خوف، پرانی عادتوں، محدود سوچ، اور پرانے تصورِ خود کو مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ مکمل موت ہے تاکہ ایک نیا وجود جنم لے۔
یہی وہ لمحہ ہے جو فلسفیانہ اعتبار سے سب سے اہم ہے:
جیسے خزاں میں خشک پتّا درخت سے الگ ہو کر مٹی میں مل جاتا ہے، مگر اسی مٹی سے نئی کونپل جنم لیتی ہے؛
جیسے لوہار پُرانے لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نئی شکل دیتا ہے، مگر پہلے لوہے کی موت لازمی ہے؛
اور جیسے کیڑا اپنے خول کو توڑ کر تتلی بنتا ہے۔
یہ داخلی موت ہی انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے نئے آپ میں پیدا ہونے کے بعد واقعی کچھ بن سکے۔ یہی اصلی ٹرانسفارمیشن ہے۔تبدیلی نہ صرف نفسیاتی بلکہ ادبی اور علامتی سطح پر بھی واضح ہے۔
ویگن کا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، ادبی طور پر ایک علامت ہے۔ ویگن کا یہ دعویٰ، اس کی موجودہ حالت پر مبنی نہیں، بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیت اور اندرونی ارتقا پر مبنی ہے۔ انسان بھی ایسا ہی ہے:
وہ اپنی موجودہ حالت کو بدل کر بڑا انسان بنتا ہے۔
نفسیاتی مطالعے بھی یہی بات ثابت کرتے ہیں کہ انسان کی اصل تبدیلی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی پرانے انا کو فنا کر دیتا ہے۔ یونگ کے مطابق، "اندرونی خود کی موت” کے بغیر کوئی بھی شخص اپنی مکمل شخصیت کے بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا۔ "راجرز اور فرائیڈ” بھی یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی تبدیلی تب ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کے پرانے تصورات اور محدود یقینوں کو تحلیل کر دیتا ہے۔
علامتی سطح پر بھی ہم زندگی میں کئی مثالیں دیکھتے ہیں جیسے
بیج درخت بنتا ہے، مگر پہلے بیج کو مٹی میں تحلیل ہونا پڑتا ہے۔
دریا اپنی راکھ اور ریت کو توڑ کر نیا رخ اختیار کرتا ہے۔
ستارہ اپنی توانائی جلانے کے بعد روشنی میں بدل جاتا ہے۔
یہ سب مشاہدات انسان کی انقلاب ذات کے فلسفے کو ظاہر کرتے ہیں: انسان بھی اگر بدل جائے تو نئے وجود میں پیدا ہوتا ہے، اور اپنے پچھلے خود کو مکمل طور پر ختم کر کے نئی شکل اختیار کرتا ہے۔انقلاب ذات انسان کی زندگی کا سب سے گہرا راز ہے۔ وہ بڑے ہونے سے نہیں بنتا، بلکہ بدلنے سے بنتا ہے۔ اس بدلاؤ میں انسان کے اندر کا پرانا وجود ختم ہوتا ہے اور نئی شخصیت، نئی سوچ اور نئی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان واقعی زندگی کے اصولوں کو سمجھ پاتا ہے اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔
ویگن پر لکھا جملہ، "میں بڑی ہو کر ڈیؤ بنوں گی”، آج صرف مذاق یا سادگی نہیں لگتا۔ یہ علامتی اعلان ہے ہر انسان کے اندر چھپی ٹرانسفارمیشن کا۔ وہ “بڑی” نہیں ہونی تھی، وہ نئی ہونی تھی۔ اور نئی ہونے کے لیے ضروری تھا: اپنے پچھلے وجود کو دفن کرنا، اپنے اندر کے پرانے انسان کو مار دینا، اور اس جگہ ایک نیا وجود پیدا کرنا
یہی انسانی ترقی، ارتقا اور اصلی تبدیلی transformation ہے۔ اور یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے:
انسان سماجی طور پر بتدریج بڑا نہیں ہوتا
نہ موجودہ حقیقت سے بڑا بنتا ہے بلکہ اپنے اندر کے "ممکنہ خود” سے بڑا بنتا ہے۔ -

مریم نواز کی خوش قسمتی، تجزیہ:شہزاد قریشی
میرے نزدیک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں نہایت پیشہ ور، دیانتدار اور قوم سے مخلص پولیس افسران کی ٹیم ملی ہے۔ لاہور میں امن و امان، سیف سٹی کا مؤثر کردار اور رات گئے فیلڈ میں موجود اعلیٰ افسران اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اور پولیس ایک صفحے پر ہیں۔ یہی تسلسل رہا تو لاہور مزید ترقی کرے گا۔ میرے نزدیک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں پنجاب میں نہایت قابل، مخلص اور پیشہ ور پولیس افسران کی ٹیم میسر آئی ہے جو صوبے بالخصوص لاہور میں امن و امان کی صورتِ حال کو مؤثر انداز میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ افسران نہ صرف اپنی قوم سے خلوص رکھتے ہیں بلکہ نظم و ضبط، دیانت اور دینی اقدار کے بھی پابند ہیں۔ میں اس وقت لاہور میں موجود ہوں اور اگر عام شہری سے پوچھا جائے تو ایک واضح رائے سامنے آتی ہے کہ موجودہ دور میں لاہور میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کا کردار قابلِ تحسین ہے، جسے اب بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے اور غیر ملکی ماہرین آ کر اسے ماڈل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو پنجاب پولیس کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔
لاہور جیسے بڑے شہر میں رات بارہ بجے تک پولیس کے اعلیٰ افسران کا خود فیلڈ میں موجود ہو کر نگرانی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ قیادت اور عمل درآمد میں سنجیدگی پائی جاتی ہے۔ آئی جی پنجاب، ڈی جی سیف سٹی، ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر افسران اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔اگر یہی ٹیم اور یہی نظم و ضبط آئندہ دو برس برقرار رہا تو ان شاء اللہ لاہور نہ صرف امن کے اعتبار سے بلکہ ترقیاتی اور انتظامی لحاظ سے بھی ایک مثالی شہر بن کر ابھرے گا۔ بلاشبہ مریم نواز شریف خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسے افسران میسر آئے ہیں۔