Baaghi TV

Category: بلاگ

  • محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    محمد مصدق کی برطرفی تیل، طاقت اور 1953 کی بغاوت،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    (پاکستانیوں کے لیے ایک چشم کشا حقیقت)

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدیدیت پر تخصص رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    اگست 1953 میں محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا سرد جنگ کے دور کی سب سے اہم خفیہ مداخلتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایران کی سیاسی سمت کو بدل دیا، محمد رضا شاہ پہلوی کے تحت بادشاہت کو مضبوط کیا اور مغرب کے ساتھ ایران کے تعلقات میں عدم اعتماد کی ایسی میراث چھوڑ دی جو آج تک محسوس کی جاتی ہے۔

    مصدق کا عروج: قوم پرستی اور تیل کی خودمختاری
    1940 کی دہائی کے آخر اور 1950 کی دہائی کے آغاز میں ایران کی تیل کی صنعت پر عملاً برطانیہ کے زیرِ کنٹرول اینگلو ایرانی آئل کمپنی (AIOC) کا قبضہ تھا، جسے بعد میں بی پی (BP) کا نام دیا گیا۔1951 سے پہلے ایران کے تیل کی پیداوار اور منافع کا تقریباً 85 فیصد حصہ برطانوی مفادات کے قبضے میں تھا، جبکہ ایران کو اس آمدنی کا نسبتاً بہت کم حصہ ملتا تھا۔

    یہ عدم توازن ایرانی قوم پرستوں کے لیے ایک بڑا نعرہ بن گیا۔
    محمد مصدق، جو ایک بااثر اور کرشماتی سیاسی رہنما تھے اور جنہیں پارلیمنٹ کی مضبوط حمایت حاصل تھی، اقتصادی خودمختاری اور قومی وقار کی تحریک کی علامت بن کر سامنے آئے۔1951 میں وزیرِ اعظم بننے کے بعد انہوں نے ایران کی تیل کی صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس اقدام نے ایرانی عوام میں زبردست جوش پیدا کیا لیکن برطانیہ کو شدید غصہ دلایا۔

    برطانوی حکومت نے اس کے جواب میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں، ایرانی تیل کا عالمی بائیکاٹ کروایا اور بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی جنگ شروع کر دی۔ان دباؤ کے باعث ایران کی معیشت متاثر ہونے لگی، مگر مصدق اپنے ملک میں غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر مقبول رہے۔

    سرد جنگ کے حساب کتاب اور مغربی خدشات
    ابتدائی طور پر برطانیہ نے مصدق کو سفارتی اور معاشی دباؤ کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی، لیکن جب یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو لندن نے واشنگٹن سے مدد طلب کی۔اس وقت سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور سوویت یونین کے پھیلاؤ کا خوف مغربی دنیا کو مسلسل پریشان رکھتا تھا۔ اس تناظر میں ایران ایک انتہائی اہم اسٹریٹیجک ملک سمجھا جاتا تھا۔اگرچہ مصدق کمیونسٹ نہیں تھے، مگر مغربی پالیسی سازوں کو خدشہ تھا کہ سیاسی عدم استحکام سے ایران کی کمیونسٹ تودہ پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ خدشات، تیل کے مفادات اور جغرافیائی سیاسی حساب کتاب نے مل کر ایک خفیہ مداخلت کی بنیاد رکھ دی۔

    آپریشن ایجیکسOperationAjax
    (سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی بغاوت)
    اگست 1953 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانیہ کی ایم آئی سکس نے ایک مشترکہ خفیہ آپریشن شروع کیا۔ اسے تاریخ میں 1953 کا ایرانی فوجی انقلاب یا آپریشن ایجیکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس منصوبے کا مقصد مصدق کو اقتدار سے ہٹانا اور شاہ ایران کی طاقت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
    اس منصوبے کے اہم عناصر یہ تھے:
    ہنگامہ آرائی پیدا کرنے کے لیے سڑکوں پر احتجاج اور مظاہرے منظم کرنا
    سیاستدانوں، صحافیوں اور فوجی افسران کو رشوت دینا
    پروپیگنڈا کے ذریعے مصدق کو غیر مستحکم اور کمیونسٹ نواز ظاہر کرنا
    ایرانی فوج کے بعض حصوں کے ساتھ مل کر اہم سرکاری مقامات پر قبضہ کرنا
    ابتدائی کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ مصدق کو سازش کی خبر ہو گئی اور شاہ کو عارضی طور پر ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

    تاہم 19 اگست 1953 کو مظاہروں اور فوجی کارروائیوں کی ایک دوسری منظم لہر کامیاب ہو گئی۔ شاہ کے وفادار ٹینکوں اور مسلح دستوں نے مصدق کی رہائش گاہ کو گھیر لیا۔ شدید جھڑپوں کے بعد ان کی حکومت گر گئی۔
    شاہ ایران فاتحانہ انداز میں تہران واپس آئے اور ان کی حکمرانی اب بڑی حد تک امریکی حمایت سے جڑی ہوئی تھی۔

    مصدق کا انجام
    محمد مصدق کو گرفتار کر لیا گیا، ان پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں تین سال قیدِ تنہائی کی سزا سنائی گئی۔
    رہائی کے بعد انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سخت نظر بندی میں رکھا گیا، جہاں وہ سیاسی طور پر مکمل طور پر الگ تھلگ رہے اور 1967 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

    وہ دوبارہ کبھی عوامی عہدے پر واپس نہیں آئے، لیکن ایرانی عوام کی یادداشت میں وہ ایک قومی ہیرو بن گئے—خودمختاری اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف مزاحمت کی علامت۔
    اسٹریٹیجک نتائج
    اس بغاوت کے گہرے اثرات مرتب ہوئے:

    بادشاہت کا استحکام:
    شاہ کی حکومت مزید آمرانہ ہوتی گئی اور اس نے مغربی حمایت اور خفیہ سکیورٹی اداروں پر انحصار بڑھا دیا۔

    مغرب مخالف جذبات:
    غیر ملکی مداخلت کے تاثر نے ایرانی معاشرے میں شدید مغرب مخالف جذبات کو جنم دیا، جو بعد میں 1979 کے ایرانی انقلاب کی ایک اہم وجہ بنے۔

    سرد جنگ کی مثال
    آپریشن ایجیکس بعد میں دنیا کے دیگر حصوں میں خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے لیے ایک ماڈل بن گیا۔
    کئی مورخین کے مطابق 1953 کی بغاوت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اقتصادی مفادات، جغرافیائی سیاست اور خفیہ کارروائیاں مل کر کسی ملک کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔

    نتیجہ
    محمد مصدق کی کہانی صرف تیل کی نہیں بلکہ خودمختاری، طاقت کی سیاست اور غیر ملکی مداخلت کے دیرپا اثرات کی کہانی ہے۔1953 میں ان کی برطرفی نے ایران کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دیا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم باب بن گئی۔

    سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس بغاوت کا سایہ آج بھی علاقائی اتحادوں، اسٹریٹیجک عدم اعتماد اور خفیہ طور پر حکومتیں تبدیل کرنے کے اخلاقی و سیاسی مباحث میں نمایاں طور پر موجود ہے۔

  • "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    "آپریشن غضب للحق” ، سرحد پار گونجتی شاہینوں کی پرواز اور فیصلہ کن پیغام،تحریر:جان محمد رمضان

    ایک بار پھر عسکری تاریخ اہم باب کی شاہد بنی جب "آپریشن غضب للحق” کے عنوان سے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتار کارروائیاں انجام دیں۔ یہ محض ایک عسکری پیش قدمی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے باب میں ایک دوٹوک اعلان تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا مرکز تاریخی شہر قندھار تھا، جہاں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر کو تباہ کیا گیا، جب کہ متعدد کالعدم تنظیموں سے وابستہ شدت پسند مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں ان عناصر کو نشانہ بنایا گیا جو القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان سے منسلک تھے۔ بعض تنصیبات کو شدت پسندوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاکہ انہیں ممکنہ فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ فضائی کارروائیوں کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی۔ یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری، سرحدی وقار اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ عسکری ماہرین کے نزدیک یہ کارروائیاں نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں بلکہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہیں کہ خطے میں امن کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب سرحد پار موجود شدت پسند ڈھانچوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔

    یہ تمام تر پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن اور امن کی کوششوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور وہ توقع رکھتا ہے کہ ہمسایہ ممالک بھی اسی اصول کی پاسداری کریں۔”آپریشن غضب للحق” اسی اصول کا عملی اظہار قرار دیا جا رہا ہے، ایک ایسا اعلان جو بتاتا ہے کہ شاہین جب پرواز کرتے ہیں تو وہ محض فضا نہیں چیرتے، بلکہ قومی عزم کی لکیر بھی کھینچ دیتے ہیں۔

    برِصغیر کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات نہیں بلکہ قومی غیرت اور خودمختاری کی علامت بن جاتے ہیں۔ "آپریشن غضب للحق” بھی ایسا ہی ایک باب ہے جس میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں برق رفتاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔اس موقع پر پوری قوم اپنی مسلح افواج، بالخصوص پاک فوج اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ وہ سپوت ہیں جو سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کی شبانہ روز محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی دیوار ناقابلِ تسخیر ہے۔پاک فوج کے جوان برف پوش چوٹیوں سے لے کر تپتے ریگزاروں تک وطن کی حرمت کے نگہبان ہیں۔ ان کی قربانیاں ہماری آزادی کی ضمانت اور ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے، اور یہ اعتماد ہے کہ وہ ہر چیلنج کا مردانہ وار مقابلہ کرتے رہیں گے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رہیں گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔”آپریشن غضب للحق” صرف ایک عسکری کارروائی نہیں، بلکہ عزم و استقلال کی علامت ہے ، ایک ایسا اعلان کہ جب وطن کی حرمت کا سوال ہو تو شاہینوں کی پروازیں تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں، اور قوم اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔

  • دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہر طرف گولیوں کی ترتراہٹ،خوف کی فضاء،دنیا میں امن کب ہوگا؟
    طاقتوراندھے،کمزور دہائیوں تک محدود،بارود برسانے والوں کاہاتھ کون روکےگا؟
    انسان نے چاند اور جدید ٹیکنالوجی دیکھ لی ،نفرت اور آگ کا دریا عبورنہ کرسکا ،کیوں؟
    زمین اللہ کی ملکیت،تنازعات کا حل مذاکرات،پھر جنگ کیسی،ذمہ داری کون لےگا
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    لکھیں تو کیا لکھیں؟ جب فضا ءمیں بارود کی بو ہو، معصوم جانیں مٹی تلے دب رہی ہوں اور دنیا بھر میں عام آدمی خوف کے سائے میں جی رہا ہو تو الفاظ بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں، آج ہر طرف جنگی ماحول نے دلوں کو بوجھل کر دیا ہے، سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ امن کہاں ہے؟دنیا میں اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے ادارے موجود ہیں، قراردادیں بھی منظور ہوتی ہیں، بیانات بھی جاری ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ، گولیاں رکتی نہیں، بم گرتے رہتے ہیں اور عام آدمی سسکتا رہتا ہے،مسئلہ اداروں کی موجودگی کا نہیں، ان کے مؤثر اور غیر جانبدار کردار کا ہے،جب عالمی فیصلے طاقتور ممالک کے مفادات کے تابع ہو جائیں تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے اور انسانی حقوق محض کاغذی الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے صرف مذمت تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں، بڑی طاقتیں اپنی انا اور مفادات سے بالاتر ہو کر جنگ بندی کو یقینی بنائیں، اسلحے کی دوڑ کو روکا جائے اور تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے،

    میڈیا بھی اپنی ذمہ داری سمجھے اور جنگ کو سنسنی خیزی کے بجائے انسانی المیے کے طور پر پیش کرے، سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام اجتماعی آواز کو اتنا مضبوط بنائیں کہ حکمرانوں کو امن کا راستہ اختیار کرنا پڑے،یہ زمین خدا کی امانت ہے، اسے نفرت اور آگ کا میدان بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، اگر طاقت انصاف کے تابع ہو جائے تو جنگیں رک سکتی ہیں، اگر قیادت میں اخلاص آ جائے تو خون بہنا بند ہو سکتا ہے،ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ انسان چاند پر پہنچ گیا، سمندروں کی گہرائیاں ناپ لیں، ٹیکنالوجی کی بلندیاں چھو لیں، مگر اپنی ہی زمین پر امن قائم نہ کر سکا اور اپنے ہی جیسے انسان کو تحفظ نہ دے سکا،بقول شاعر، دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے،لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

  • علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    علمبردارِ فکرِ حسینؑ، سید علی حسینی خامنہ ایؒ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    فرمانِ امامِ عالی مقام سیدنا حسینؑ ابن علی علیہ السلام ہے؛
    ”مجھ (حسینؑ) جیسا کسی (یزید) جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔“

    سیاہ عمامہ اور ہاتھ میں عقیق پہنے ، باوقار مسکراہٹ، پُرنور روحانی باریش چہرے اور دور اندیشی و فکری شعور سے روشن آنکھوں والے مشفق رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینیؒ خامنہ ای شہید وہ حق پرست شخصیت تھے جنہوں نے اول دن سے راہِ حق کے امامؑ کے اس قولِ مبارک کو اپنے لئیے مشعلِ راہ بنائے رکھا اور شہادت تک اسی راہ پر ثابت‌ قدم رہے۔ آپ مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام اور کئی کتب کے مؤلف تھے۔ "علمبردارِ فکرِ حسینی ہونا آپ کا وصف تھا۔

    ملتِ اسلامیہ کی ہر دل عزیز شخصیت اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ 19 اپریل 1939ء کو ایک علمی و دینی سادات گھرانے میں ایرانی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب جناب سیدنا امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ سید علی خامنہ ایؒ نے قم اور نجف سے علمی و دینی تربیت پائی۔ اور 1963ء اسلامی انقلاب میں بھرپور شرکت کی ۔ آپ کو آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

    اسلامی انقلاب سے قبل آپ مشہد مقدس کے مؤثر ترین علمائے دین میں شمار ہوتے تھے۔ ایران کے رہبرِ اعلی منتخب ہونے سے قبل آپ مجلس شورائے اسلامی کے رکن بھی رہے۔ اور اکتوبر 1981ء سے 1989ء تک دو بار ایرانی صدر منتخب ہوئے۔ 1989ء میں امام خمینی کی رحلت کے بعد آپ ایرانی سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ اور 36 سال 6 ماہ ایران کے رہبرِ معظم رہے۔ آپ کو ریاستی پالیسی میں اہم و فیصلہ کن کردار حاصل تھا۔ آپ کسی بھی حکومتی معاملے کو ویٹو کرنے اور ملٹری و عدلیہ اعلیٰ حکام کی تقرری میں اہم مشاورت دینے کا اختیار رکھتے تھے۔ آپ 4 دہائیوں تک یہود و نصارٰی کے لئیے آہنی دیوار بنے رہے۔ 28 فروری 2026ء کو دو سو امریکی طیاروں نے سید علی خامنہ ای کے آفس پہ حملہ کر کے آپ کو اپنے بیٹے، بہو، بیٹی ، داماد ، نواسی اور اہم اعلی ملٹری حکام اور ساتھیوں کے ہمراہ شہید کر دیا۔ اور مسلم امہ ایک دلیر رہنما اور عالمِ دین سے محروم ہو گئی ۔ آہ! مولا علیؑ کا شیر چلا گیا۔

    اک وہ شخصیت جن سے ملنے کی، میرے دل نے ہمیشہ ارادہ و امید رکھی۔ جن کی حق گوئی ہمیشہ محترم رہی ، جن کے عمل و استقامت میں خونِ سادات کا جلال دکھائی دیتا، جن کی جرات نےعلمِ جہاد کو سربلند رکھا ، جہنوں نے ثابت کیا۔ کہ زندگی کسی مقصد کے لئیے جہدوجہد کا نام ہے۔ اور موت اس مقصد کو سیراب کر دینے کی منزل، وہ شیر تھا امت کا شیر ۔۔۔ایسے شیر کی موت کبھی بھی عام ہو ہی نہیں سکتی۔ جسے شہادت بھی سلامی دینے آتی ہے۔ مجھے تو عرصہ دراز پہلے ہی ان کی بایو گرافی پڑھنے کے بعد معلوم ہو چکا تھا۔ کہ ان کا شمار شہداء میں ہو گا۔ عام موت تو ان کو چھو بھی نہیں سکتی۔

    مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گرد غیر قانونی ریاست اسرائیل کی طرف سے ایک طویل سے جاری جارحیت کے خلاف سید علی حسینی خامنہ ایؒ مردِ آہن ثابت ہوتے رہے۔ دہشت گرد صہیونی و امریکی مسلم دشمن پروپیگنڈے کی راہ میں سید کو مقاومت و مزاحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے۔ کہ آپ کی شخصیت سرحدوں سے بالاتر ہو کر پوری مسلم دنیا بالخصوص فلسطین میں انتہائی محترم سمجھی جاتی تھی۔

    یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ امریکہ ہمیشہ سے صیہونی دہشت گردی کا سہولت کار رہا ہے۔ 2015ء سے ایٹمی ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر امریکہ ایران سے کشیدگی کو بڑھاوا دیتا آیا ہے۔ اور اب ایرانی رجیم کو بدلنے کے نام پہ ایران پہ جارحیت کی انتہاء ڈھا دی گئی۔ امریکی و اسرائیلی مشترکہ مشن ایپک فیوری کا نام سے دہشت گردی و جارحیت کا آغاز کیا گیا۔ جس میں ایران کے 24 صوبوں میں اہم وزارتوں ، تنصیبات، اسپتالوں ، سکولوں اور آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف میناب میں ہی لڑکیوں کے ایک سکول پہ حملے میں 148 سے زائد بچیاں شہید ہو گئیں۔ ان معصوم بچیوں کی شہادت پہ مجھے ملالہ یوسفزئی یاد ائی۔ ان معصوموں میں زندگی چھیننے والے نام نہاد "مہذبوں” کو کوئی ایک بھی ملالہ نظر نہ آئی ۔۔۔

    سوال یہ ہے۔ کہ جب ایک ملک ایٹمی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔ تو کوئی دوسرا ملک وہ ٹیکنالوجی کیوں نہیں رکھ سکتا۔ ؟ صرف اس لئیے کہ ایسا ہونے سے جارحیت کے دلدادہ ممالک کی راہ میں رکاوٹ آ جائے گی۔ دنیا کا کونسا مہذب اصول اسے درست مانتا ہے۔ کہ ایک ملک کا سربراہ میڈیا پہ آ کر دوسرے آزاد ملک کی رجیم ختم کرنے کا دعویٰ کرے۔ اور باقاعدہ اپنی فورسز بھیج کر اس ملک کے سربراہ کا قتل کروا دے۔

    آج ایک اہم اور نڈر مسلم رہنما و عالم دین کے ناحق قتل پہ ہر باضمیر سراپا احتجاج اور غم و غصہ میں مبتلا ہے۔ وہیں برادران یوسفؑ کی طرح کئی خلیجی ممالک بھی سہولت کار ہیں ۔ جنہوں نے اپنی سرزمین امریکی اڈوں کے لئیے فراہم کی ہوئی ہے۔ ایران نے جب جوابی کارروائی میں ان اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تو خبر بنا دی گئی کہ ایران نے عرب ممالک پہ حملہ کیا ہے۔ عقل کے اندھوں کو یہ نہیں معلوم کہ ایران، عرب ممالک پہ نہیں۔ بلکہ ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ سوال تو یہ بھی ہے۔ کہ ان عرب ممالک نے اسلام دشمن کفار کو بیسز کے لئیے جگہ کیوں فراہم کی ہے ؟؟؟ منافقت کون کر رہا ہے۔
    گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے!!

    کچھ زندہ رہ کے بھی مردہ ہی رہتے ہیں۔ اور کچھ مر کے بھی سوچ و فکر اور دلوں میں ہمیشہ کے لئیے بس کے امر ہو جاتے ہیں۔ ایک درویش صفت انسان جن کی آخری دعا ہی یہ تھی۔”یا اللہ ہمیں شہیدوں کے ساتھ ملا دے”, جو اکیلے نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم امہ کے لئیے لڑتے رہے، اپنے ساتھیوں کے لاشے اٹھاتے رہے، جنازے پڑھاتے رہے، یتیموں کے سر پہ دستِ شفقت رکھتے رہے، مگر تنہا ڈٹے رہے۔۔۔ آج ہر مسلک و مکتبِ فکر سے آزاد ہو کر ہر آنکھ ایک عظیم مسلم رہنما کے ناحق قتل پہ اشک بار ہے۔ آغا خامنہ ایؒ کو ان جرات ، مقاومت اور حق پرستی کے نظریے کے سبب آج تاریخ اپنے سینے میں تمغے کے طور پہ سجا رہی ہے۔ یہی وہ عزت ہے۔ جو میرا رب اپنے محبوب بندوں جو صرف اس کی رضا کے طالب ہوں، کو عنایت فرماتا ہے۔

    محترم سید علی حسینی خامنہ ایؒ شہید نے اپنے سید و مومن ہونے کا حق ادا کر دیا۔ آپ نے ثابت کر دیا۔ کہ حق کے متوالے باطل و طاغوتی طاقتوں سے ڈرا نہیں کرتے۔ بلکہ ان سے نبرد آزما ہو جاتے ہیں۔ آپ کے نظریات و فکر اور مقاومت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
    اللہ پاک آپ کے درجات بلند فرمائیں۔ اور آپ کے مشن کو کامیابی عطا فرمائیں ۔
    آمین
    ؂
    ہم کو حسینؑ ایسا بہادر بنا گئے
    سر کٹ گئے یزید کی بیعت مگر نہ کی

  • پاکستان صہیونی طاقتوں کا اگلا ہدف،تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان صہیونی طاقتوں کا اگلا ہدف،تحریر:میجر (ر) ہارون رشید

    توجہ برائے اراکین

    پاکستان اپنی تاریخ کے نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں شدید مالی، سیاسی اور تزویراتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ میری محتاط رائے میں آئندہ دو سے تین سال ہمارے وطن کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
    اس اہم موقع پر ہمیں فوری قومی مفاہمت کی ضرورت ہے — سیاسی، مذہبی اور مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر۔ ہمارے اختلافات ہمیں مزید کمزور کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ایک اصول پر متحد ہونا ہوگا: سب سے پہلے پاکستان۔
    Iran میں کسی بھی قسم کی عدم استحکام — خواہ نظام کی تبدیلی ہو یا خانہ جنگی — پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ United States اور Israel کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و تزویراتی حکمتِ عملی ہمارے گرد غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہی ہے۔
    اس بابرکت ماہِ رمضان میں تمام اراکین سے عاجزانہ گزارش ہے کہ پاکستان کی سلامتی، اتحاد، خوشحالی اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو اندرونی انتشار اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں بصیرت، قوت اور اتفاق عطا فرمائے۔
    خلوص کے ساتھ،

  • اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اختلاف رائے جمہوریت کاحسن،قومی سلامتی پر اتحاد ناگزیر!
    پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت
    یہ وقت جذباتی نعرےنہیں، بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے،داخلی محاذ مضبوط رکھنا ہوگا
    خامنہ ای کی شہادت ہرمسلمان دکھی،جذباتی بیانات اورانتشار سے گریزکرنا ہوگا

    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیوں کے تناظر میں پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، خطے میں کشیدگی، سفارتی دباؤ اور طاقت کے توازن کی نئی کوششوں کے درمیان پاکستان نے جس احتیاط، تدبر اور توازن کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے،پاکستان نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی جائے،اس وقت بھی وزارتِ خارجہ، مسلح افواج اور دیگر قومی ادارے ملکی سلامتی اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت محتاط انداز میں فیصلے کر رہے ہیں، ایسے حالات میں جذباتی بیانات، اندرونی انتشار یا غیر ذمہ دارانہ تنقید نہ صرف قومی اتحاد کو کمزور کر سکتی ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے،علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر مسلم دنیا میں غم اور افسوس کی فضا ءہے، کسی بھی بڑے رہنما کی شہادت خطے میں جذبات کو بھڑکا سکتی ہے، لیکن ایسے وقت میں دانشمندی اور بردباری ہی قوموں کو بحران سے نکالتی ہے، دکھ اور غم اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور داخلی استحکام ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے،پاکستان اس وقت جس حکمت اور توازن کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہ دراصل اپنی سرزمین، اپنی عوام اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لئے ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن قومی سلامتی جیسے معاملات میں ذمہ داری، احتیاط اور اتحاد ناگزیر ہوتے ہیں،یہ وقت انتشار کا نہیں، اتحاد کا ہے، یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، بلکہ بصیرت، صبر اور قومی یکجہتی کا ہے، اگر ہم اپنے داخلی محاذ کو مضبوط رکھیں گے تو بیرونی دباؤ خود بخود کمزور ہو جائے گا، پاکستان کو اس نازک دور میں استحکام، تدبر اور قومی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

  • امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کمزوری نہیں،ترجیح مذاکرات ہونی چاہئے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ ہے، اور دوسری طرف جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ یوکرین ہو، فلسطین اور اسرائیل کی کشیدگی ہو یا سوڈان کی خانہ جنگی—ہر جگہ جدید اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور اس کے دھماکوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں فضا، مٹی اور پانی کو آلودہ کر رہا ہے۔

    جنگ اب صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ اس کے اثرات بیماریوں، ماحولیاتی تباہی اور نفسیاتی صدمات کی صورت میں نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ باریک زہریلے ذرات ہواؤں کے ذریعے سرحدوں سے پار جا سکتے ہیں، اس لیے نقصان کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کو متاثر کرتا ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے موجود ہیں، مگر طاقتور ممالک کے مفادات اکثر امن کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی پائیدار حل نہیں دیتی۔ یہ لاشیں، بیمار معاشرے اور آلودہ فضا چھوڑتی ہے۔ اللہ پاک نے یہ زمین انسانوں کے رہنے کے لیے بنائی، اسے پاک صاف فضا عطا کی، تاکہ انسان سکون اور امن سے زندگی گزار سکے۔ خدا کے لیے اسی خدا کی زمین پر انسانوں کی زندگیاں اس طرح ختم نہ کی جائیں۔ بے گناہوں کا خون بہانا اور زمین کو بارود سے بھر دینا اللہ کی ناراضی کا سبب بنتا ہے۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہتھیاروں کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ امن کمزوری نہیں، بلکہ انسانیت کی بقا اور اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔

  • پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    پاک افغان جنگ۔۔۔ذرا فکر نہیں ،تحریر:ملک سلمان

    گذشتہ روز سے ہونے والی پاک افغان کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خطرے کے باوجود میرے سمیت سارا پاکستان بہت سکون اور اطمینان میں ہے۔ سحری افطاری، فرینڈز گیدرنگ، کاروبار اور کھیل کے میدان سب ویسے ہی آباد ہیں۔
    ابھی سحری کی تیاری ہے اور رات کی افطاری کے لیے دوستوں کو انوائٹ کر چکے ہیں۔ کسی کو بھی جنگ کی فکر نہیں سب روٹین کے کاموں میں مشغول ہیں کیونکہ سارے پاکستان کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ہماری بہادر افواج افغان دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
    مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے اپنے سے 10 گنا بڑی بھارتی فوج کو جس طرح سے شکست دی پوری دنیا اس کی معترف ہے۔ جنگی بخار میں مبتلا بھارت کے سات سے زائد رافیل طیارے اور ان کا ناقابل تسخیر ایس 400 ڈیفنس سسٹم تباہ کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔
    افواج پاکستان پر قوم کا اعتماد اور یقین یہی وہ طاقت ہے جو افواج کے جوانوں کو ہر طرح کے خطرے سے ٹکرا جانے کا جذبہ دیتی ہے۔

    سارا پاکستان روٹین لائف انجوائے کر رہا ہے کیونکہ انکو معلوم ہے کہ جب بھی وطن کو ضرورت ہوگی تو پاک آرمی کے جوان و افسران خود ٹینکوں کے نیچے لیٹ جائیں گے لیکن عوام پاکستان کو خراش بھی نہیں آنے دیں گے۔ پاکستانی عوام تاریخ سے اگاہ ہے کہ وطن عزیز کیلئے راشد منہاس بن کر موت کو ترجیح دیں گے لیکن اس کی ایک انچ پر بھی دشمن کے ناپاک قدم نہیں پڑنے دیں گے۔
    افواج پاکستان کا سالانہ بجٹ صرف ساڑھے سات ارب ڈالر ہے۔

    مسلح افواج کیلئے سالانہ بجٹ کے لحاظ سے امریکہ، چائنہ اور روس کے بعد بھارت چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر ہے۔ چالیسویں نمبر پر کم ترین بجٹ رکھنے والا پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی موسٹ پاورفل افواج میں ٹاپ تھری میں ہے۔ بلوچستان ٹرین ہائی جیکنگ کو جس طرح ناکام بنا کر تمام مسافروں کو محفوظ رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، ایسا کامیاب آپریشن دنیا کی تاریخ میں پہلے نہیں دیکھا گیا، اس لیے پاکستان آرمی کے اس کامیاب آپریشن کو درجنوں ممالک کی "وارسٹڈی” کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بیسوں ممالک کی آرمی کے سنئیر افسران جنہوں نے ملکی کمانڈ کرنی ہوتی ہے وہ "وارکورس” کیلئے نیشنل ڈفینس یونیورسٹی اسلام آباد آتے ہیں۔ پاکستان کی بہادر افواج کی صلاحیتوں کا زمانہ معترف ہے۔

    میں خود بھی روٹین معاملات میں مگن ہوں اور آپ سے بھی یہی کہوں گا کہ آپ اپنی روزمرہ لائف کو انجوائے کریں لیکن اس خود اعتمادی، سکون اور تحفظ کا باعث بننے والی افواج پاکستان کیلئے دل سے شکریہ افواج پاکستان ضرور کہیں، فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ہیش ٹیگ میں دشمن ممالک بھارت اور افغانستان کو مینشن کرکے بتائیں کہ ہم بے فکر ہیں، یہ دیکھو کھیل کی میدانوں میں، ریسٹورنٹ اور تفریح گاہوں میں میں انجوائے کررہے ہیں کیونکہ ہم افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور افواج پاکستان ہماری محافظ ہے۔
    افواج پاکستان کے افسر اور جوان ہمہ وقت وطن عزیز کی سربلندی، دفاع اور استحکام کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں، فوجی افسروں اور جوانوں نے ہر مشکل موقع پر وطن عزیز کیلئے جان قربان کرنا اعزاز جانا، ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے اگلے مورچوں پر چوکس اور چوکنا افواج پاکستان کی بدولت ہی ہم چین کی نیند سوتے ہیں۔ نا گہانی صورت حال یا آفت میں فوج ہی حرکت میں آتی ہے اور اس کے جوان دور دراز اور کٹھن راستوں والے علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچتے ہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدد اور خدمت کی ہے۔ زلزلہ، سیلاب ہو یا کوئی بھی آفت ومصیبت یا ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا اور کچلنا ہو، افواج پاکستان نے قوم کو کبھی مایوس نہیں کیا۔ کورونا کی وبا، غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سمیت قدرتی آفات سے نمٹنے اور مشکلات کا شکار لوگوں کے لئے امدادی سرگرمیوں میں ان کا فوری بروقت اور موثر کردار نمایاں ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے اس کردار کی معترف ہے اور اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔

    maliksalman2008@gmail.com

  • افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر غیر یقینی کے بادلوں تلے کھڑی ہے۔ اگر علاقائی کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ آگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کون زیادہ ذمہ دار ہے اور کون آگے بڑھ کر قیادت کا کردار ادا کرتا ہے۔

    2021 کے بعد قائم ہونے والی افغان عبوری حکومت کو عالمی سطح پر مکمل تسلیم تو نہیں کیا گیا، مگر عملی سطح پر مختلف ممالک اس کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط رکھتے ہیں۔ سرمایہ کاری، تجارتی تعلقات اور سیاسی رابطے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہی اثر و رسوخ خطے میں امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا؟ اگر معاشی تعاون جاری رہ سکتا ہے تو سیکیورٹی ضمانتوں اور انسدادِ دہشت گردی کے واضح اقدامات کو اس سے مشروط کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

    علاقائی سطح پر سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور ترکی ایسے بااثر ممالک ہیں جو نہ صرف معاشی طاقت رکھتے ہیں بلکہ سفارتی محاذ پر ثالثی کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ دوحہ سے لے کر دیگر علاقائی تنازعات تک، یہ ممالک بارہا مذاکرات کی میز سجانے میں کردار ادا کر چکے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ ریاستیں محض تماشائی یا سرمایہ کار نہ رہیں بلکہ ضامنِ امن بن کر سامنے آئیں، مشترکہ علاقائی کانفرنس بلائیں، سرحدی سلامتی اور غیر ریاستی عناصر کے خلاف مربوط حکمت عملی طے کریں اور واضح پیغام دیں کہ خطے کو کسی نئی جنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دوسری طرف پاکستان کی صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑتا آیا ہے۔ بے شمار جانوں کی قربانی اور بھاری معاشی نقصانات کے باوجود اس نے اپنی دفاعی صلاحیت اور ریاستی عزم کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، مگر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اصل ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ کشیدگی کو سفارت کاری، انٹیلی جنس تعاون اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کم کیا جائے۔

    بین الاقوامی تناظر میں اگر افغانستان میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے۔ وسط ایشیا کی ریاستیں، خلیجی ممالک، حتیٰ کہ یورپی خطہ بھی مہاجرین کے نئے بحران، انتہا پسند عناصر کی نقل و حرکت اور تجارتی و توانائی راہداریوں پر دباؤ کی صورت میں اس کے اثرات محسوس کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ معاملہ کسی ایک سرحد یا دو طرفہ کشیدگی کا نہیں بلکہ عالمی امن اور معیشت کا سوال بن چکا ہے۔
    آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ علاقائی قیادت فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اپنائے، اقتصادی تعاون کو سیکیورٹی اقدامات سے جوڑے، اور عالمی طاقتوں کو بھی فعال سفارتی کردار ادا کرنے پر آمادہ کرے۔ اگر خلا پیدا ہوا تو شدت پسند قوتیں اسے پُر کرنے میں دیر نہیں لگائیں گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں بروقت فیصلہ نہیں کرتیں تو حالات ان کے لیے فیصلے کر دیتے ہیں۔

    جنگ کی گونج سرحدوں کی محتاج نہیں ہوتی، مگر دانشمندانہ قیادت تاریخ کا رخ موڑ سکتی ہے۔ آج خطے کو اسلحے کی نمائش نہیں، بصیرت، تدبر اور مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ فیصلہ طاقت کا نہیں، قیادت کا ہے،اور یہی قیادت آنے والی نسلوں کے امن کی ضامن بن سکتی ہے۔

  • قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    قلم کی حرمت اور مجبور خاموشیاں،تحریر: آمنہ خواجہ

    معاشرے میں صحافت کو ہمیشہ سچ کی آواز اور مظلوم کی ڈھال سمجھا گیا ہے۔ اخبار کے صفحات کو وہ مقدس جگہ مانا جاتا ہے جہاں حقائق بولتے ہیں اور انصاف کی امید جاگتی ہے۔ مگر جب یہی صفحات کچھ لوگوں کے لیے ذاتی مفادات اور ناجائز تقاضوں کا ذریعہ بن جائیں تو نہ صرف صحافت کی روح مجروح ہوتی ہے بلکہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
    آج بھی ہمارے معاشرے میں کئی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں خبریں شائع کروانے کے خواہشمند افراد خصوصاً خواتین کو غیر اخلاقی تعلقات یا ناجائز مطالبات ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا المیہ ہے۔ خبر شائع کروانا ایک حق ہے کوئی سودا نہیں۔ مگر جب اس حق کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنا دیا جائے تو متاثرہ شخص کی عزت خودداری اور اعتماد سب کچھ داؤ پر لگ جاتا ہے۔

    سوچیے، ایک بیوہ ماں اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے اخبار کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، ایک طالبہ ہراسانی کے خلاف ثبوت لے کر آتی ہے یا ایک غریب مزدور اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داستان سنانا چاہتا ہے۔ایک قلم کار اپنے قلم سے عوام میں شعور اجاگر کرنا چاہتی ہے اسکو اپنی حوس مٹانے پر مجبور کرنے کی آبیتی بیان کرنا چاہتی ہے یہ لوگ انصاف کی امید لے کر آتے ہیں مگر اگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان کی مجبوریوں کا سودا کیا جائے تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کی شکست ہے۔

    یہ مسئلہ صرف اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی جرم ہے۔ ایسے رویے متاثرہ افراد کو خاموشی پر مجبور کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر انصاف مانگنے کی قیمت عزت ہو تو پھر خاموشی ہی بہتر ہے۔ یوں ظلم بڑھتا جاتا ہے اور سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

    صحافت کا اصل مقصد طاقتور کو جوابدہ بنانا اور کمزور کو آواز دینا ہے۔ ایک سچا صحافی اپنے قلم کو امانت سمجھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔ جو لوگ اس مقدس پیشے کو بدنام کرتے ہیں، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے شعبے کا اعتماد کھو دیتے ہیں۔ ان کے سبب وہ بے شمار دیانتدار صحافی بھی مشکوک نگاہوں سے دیکھے جانے لگتے ہیں جو واقعی حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ادارے اپنے اندر سخت احتسابی نظام قائم کریں۔ شکایات کے لیے محفوظ اور خفیہ راستے فراہم کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد بلا خوف اپنی بات رکھ سکیں۔ ساتھ ہی عوام کو بھی یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی ناجائز مطالبے کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں۔
    یہ وقت ہے کہ ہم قلم کی حرمت کو بچائیں سچ کی آواز کو مضبوط کریں اور ان مجبور خاموشیوں کو زبان دیں جو خوف اور بلیک میلنگ کے سبب دب جاتی ہیں۔ کیونکہ جب خبر چھپتی نہیں بلکہ بیچی جانے لگے تو صرف صحافت نہیں مرتی، معاشرہ بھی اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
    آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے:
    کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں انصاف کی قیمت عزت ہو؟
    جہاں عورت کو حوس بجھانے کا نا سمجھا جائے ؟
    یا ایسا جہاں سچ بولنا جرم نہ ہو اور خبر شائع کروانا کسی کی خودداری کا سودا نہ بنے؟
    فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔