Baaghi TV

Category: بلاگ

  • جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    جونیئر افسر، سینئرماتحت ،میرٹ کہاں گیا ؟وفاداری قابلیت ٹھہری۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرا افسر ،تیرا افسر،ہرادارے میں ذاتی مفادات کو تقرری کی بنیاد بنادیا گیا
    ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے سیاسی مداخلت بند کرنا ہوگی،میرٹ ناگزیر
    ترقی یافتہ دنیا میں نظام شخصیات کے گرد نہیں ،قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    میرٹ کے بغیر نظام، نظام کے بغیر ریاست،پاکستان میں ریاستی اداروں کی کمزوری، انتظامی انتشار اور عوامی بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ میرٹ کی مسلسل پامالی ہے،بیوروکریسی ہو یا پولیس، سول انتظامیہ ہو یا دیگر ریاستی ادارے،تقریباً ہر جگہ تقرریوں اور تبادلوں میں اصولوں کے بجائے پسند و ناپسند، سیاسی وابستگی اور ذاتی تعلقات کو فوقیت دی جا رہی ہے،یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں نہ سینئر افسر کے تجربے اور سروس ریکارڈ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی جونیئر افسر کی پیشہ ورانہ اہلیت کو، جب ایک سینئر افسر کو نظرانداز کر کے اس کے ماتحت کو محض من پسند بنیادوں پر اس کے اوپر تعینات کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے ادارے کو پہنچتا ہے، ایسے فیصلے ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مجروح کرتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد کو کمزور نہیں بلکہ عملاً ختم کر دیتے ہیں،دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ ریاستوں میں ادارے افراد سے بالاتر ہوتے ہیں، وہاں نظام شخصیات کے گرد نہیں بلکہ قوانین اور اصولوں کے تحت چلتا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں ’’یہ میرا افسر‘‘ اور ’’وہ تیرا افسر‘‘ کی سوچ نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کا میدان بنا دیا ہے، نتیجتاً پولیس غیر مؤثر، بیوروکریسی دباؤ کا شکار اور عوام انصاف سے مایوس دکھائی دیتے ہیں،اس صورتحال کو جمہوریت کا نام دینا خود جمہوریت کے ساتھ ناانصافی ہے، جمہوریت کا بنیادی تقاضا اداروں کی خودمختاری، شفافیت اور میرٹ کی بالادستی ہے، اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں، وفاداری کو قابلیت پر ترجیح دی جائے اور قانون کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو یہ طرزِ حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر ایک بدنما دھبہ ہے،پاکستان کو درپیش انتظامی اور حکومتی بحرانوں کا حل مزید دعوئوں یا بیانات میں نہیں بلکہ عملی اصلاحات میں مضمر ہے، جب تک اقربا پروری کو ریاستی سطح پر مسترد نہیں کیا جاتا، جب تک سیاسی مداخلت سے پاک اور آئین و قانون کے مطابق نظام نافذ نہیں ہوتا، اور جب تک میرٹ کو واقعی قومی پالیسی کا درجہ نہیں دیا جاتا،تب تک ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا،اب وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات اور گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ریاست کو ایک منظم نظام کے تحت چلایا جائے، میرٹ کے بغیر ادارے نہیں چلتے، اداروں کے بغیر ریاست نہیں بنتی، اور ریاست کے بغیر قومیں ترقی نہیں کرتیں

  • خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    وہ دونوں ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
    ایک ہاتھ میں لرزتی ہوئی دعا
    اور دوسرے میں عمر بھر کی تھکن۔
    سفید داڑھی میں الجھی ہوئی سسکیاں جھریوں میں قید برسوں کے دکھ اور آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ جیسے دنیا کی روشنی سے نہیں، اپنی قسمت کی سختی سے آنکھیں چرا رہا ہو۔
    یہ وہ ہاتھ تھے جنہوں نے کبھی کسی کے سامنے نہیں پھیلے تھے مگر آج رب کے حضور خالی تھے۔
    اس نے پوری زندگی محنت کی۔
    دھوپ میں جلتا رہا سردیوں میں ٹھٹھرتا رہا۔
    اولاد کے خوابوں کو اپنے خوابوں پر ترجیح دی۔
    ماں باپ کے لیے سہارا بنا بچوں کے لیے سایہ۔
    مگر جب وہ خود سہارا مانگنے کے قابل ہوا، تو سب مصروف نکلے۔
    آج اس کے پاس نہ شکوہ تھا، نہ شکایت۔
    بس ایک سوال تھا جو آنسوؤں میں ڈوبا ہوا تھا:
    “یا اللہ میں نے کسی کا حق نہیں مارا، پھر یہ تنہائی کیوں؟”
    ہوا نے اس کی کانپتی انگلیوں کو چھوا۔
    لب ہلے، آواز نہ نکلی۔
    صرف آنکھوں سے وہ آنسو گرے جو لفظوں سے زیادہ سچے تھے۔
    شاید یہ دعا کسی اخبار کے صفحے پر خبر نہ بنے
    مگر عرش تک ضرور پہنچی ہو گی۔
    کیونکہ جب انسان سب دروازے کھٹکھٹا کر تھک جائے،
    تب جو آخری دستک ہوتی ہے
    وہ سیدھی خدا کے دل پر پڑتی ہے۔
    اور خدا
    خالی ہاتھوں کو کبھی خالی نہیں لوٹاتا

  • کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    کیا مرنا ضروری ہے؟تحریر:ملک سلمان

    بھاٹی گیٹ حادثہ والی جگہ پر سڑک تنگ کر کے، پیدل گزرگاہ ختم کرکے غیرقانونی پارکنگ چلائی جارہی تھی۔ ایسی ہی سینکڑوں غیر قانونی پارکنگ لاہور سمیت دیگر شہروں کی ہر سڑک پر قائم ہیں۔ انتظامیہ کی رشوت ستانی کی وجہ سے تمام اہم شاہراؤں پر کار شورومز اور ورکشاپ سڑکوں پر قائم ہیں، تجاوزات کے خاتمے کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا گیا ہے۔

    شدید دھند کے دنوں میں گھروں کے باہر اور بازاروں میں بنائے گئے غیر قانونی ریمپ، گھروں کے باہر سڑک پر رکھے گئے پتھر، اضافی گرین بیلٹ اور غیر قانونی گارڈ رومز سے ٹکرا کر سینکڑوں حادثات ہوئے لیکن ان تجاوزات کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیونکہ صرف زخمی ہونا کافی نہیں تھا، حکمرانوں تک آواز پہنچانے کیلئے مرنا ضروری ہے۔واسا، ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور میونسپل کارپوریشن کے افسران کی اربوں روپے کے بجٹ میں ڈاکہ ذنی کے راستے تلاش کرنے کے علاوہ دوسری سوچ ہی نہیں۔واسا، پی ایچ اے اور ڈی سیز نے چائنہ کی رنگ برنگی بتیوں کے ساتھ ایک ویڈیو بنا کر چیف منسٹر کو ٹیگ کر کے شاباش بھی لے لینی ہوتی ہے اور کروڑوں روپے کی گیم بھی ڈال لینی ہوتی ہے جبکہ اسی جگہ سمیت باقی سارا شہر اور ضلع کھنڈر بنا ہوتا ہے۔سرکاری میلوں، سیمینارز اور جشن بہاراں جیسی سرگرمیاں کمائی کا اہم زریعہ ہیں۔

    شعبہ صحت کا بیڑا غرق ہوچکا ہے لوگ مر رہے ہیں اور افسران جیبیں بھر رہے ہیں۔سرکاری طور پر تقسیم کیے گئے مفت ہیلمٹ اور موٹر بائک راڈز کے بل دیکھ کر آپ چکرا جائیں گے کہ ہزار فیصد ایکسٹرا ریٹ لگائے جاتے ہیں اور اگر تعداد ایک لاکھ بتائی جاتی ہے تو حقیقت میں بیس ہزار تقسیم کی جاتی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے بیس ہزار والی ریڑھی ساٹھ کی اور ساٹھ ہزار والی ایک لاکھ ساٹھ میں تیار کروا کر ریڑھی بازاروں کے نام پر خوب کمائی کی، پھر وہی ریڑھی دینے کیلئے بھی بیس سے تیس ہزار کی دھیاڑی لگائی گئی۔ پھر انہی ریڑھیوں سے روزانہ بھتہ بھی لیا جاتا ہے۔ سرکاری ریڑھی بازار کے بالکل سامنے سڑک پر پرائیویٹ ریڑھیوں اور ٹھیلوں کو بھی رشوت کے عوض دکانداری کی اجازت ہے۔ یعنی سرکاری ملازمین کی ساری توجہ فراڈ سکیموں اور پیسہ بنانے پر ہوتی ہے عوام مرتی ہے تو مرجائے انکی دھیاری لگنی چاہئے۔

    انکروچمنٹ کے خاتمے کی بجائے تجاوزات کی سرپرستی کی جارہی ہے۔ تجاوزات مافیہ سرعام کہتا ہے کہ ہم مفت میں نہیں بیٹھے ضلعی انتظامیہ، ایل ڈی اے، ایم سی ایل، ٹریفک پولیس اور PERA کو ”پروٹیکشن منی“ دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر لاقانونیت اور شرمناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ جس فورس کو قانون کی عملداری کیلئے بنایا جاتاہے وہ خود قانون شکنی کی ساری حدیں پار کر رہی ہوتی ہے۔ گھر کے باہر زیادہ سے زیادہ 2 فٹ تک گرین بیلٹ ہوتا ہے لیکن لاہور سمیت تمام شہروں میں پانچ سے پندرہ فٹ تک گرین بیلٹ، پارکنگ اور گارڈ روم کی نام پر جگہ پر قبضہ کیا گیا ہے۔ گارڈ روم والی بدمعاشی سرکاری کن ٹٹوں نے کی ہوئی ہے۔ ہر سرکاری افسر گھر کے باہر سڑک پر گارڈ روم بنانا، بدمعاشی دکھانا اپنا استحقاق سمجھتا ہے۔ بہت سارے افسران نے جی او آر کی تصاویر اور ویڈیوز بھیجی ہیں کہ انکے ساتھی افسران کس طرح بدمعاشی کرکے راستہ بند کردیتے ہیں اور گلی پر قبضہ کرکے پختہ تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ جو اپنے گھر سرکاری کالونی سے تجاوزات ختم نہیں کروا سکتے وہ باہر کیا کریں گے۔

    سب سے بدترین تجاوزات لاہور میں ہیں جہاں سڑکوں پر گاڑی چلانا جبکہ بازاروں میں پیدل چلنا بھی محال ہے۔ خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جا رہی۔ صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے سرکاری افسران نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کر ماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات ماہانہ کروڑوں کی انڈسٹری ہے۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز، رپئیرنگ ورکشاپ اور ریسٹورنٹ مافیا نے ”پروٹیکشن منی“ دے کر سڑکوں پر قبضہ کررکھا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگا کر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔ گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔سرکاری گاڑیوں کی اکثریت بنا نمبر پلیٹ ہے یا نمبر کے آگے راڈ لگا کر چھپایا ہوتا ہے ، عام پبلک کا آن لائن چالان اور ان سرکاری بدمعاشوں کو کھلی چھٹی کیوں ؟رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دو ہزار روزانہ پر بلا نمبر پلیٹ چلانے کی اجازت ہے کیوں کہ مجموعی طور پر یہ رقم 60 کروڑ روزانہ سے زائد ہے۔عام شہریوں کو ان قانون شکن اور بدمعاش سرکاری و پرائیویٹ مافیا سے انصاف اور حق لینے کیلئے مرنا ضروری ہے کیا ؟

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟

    الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟

    الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    آج کے نوجوانوں میں الیکٹرک سگریٹ یا ویپ (Vape) ایک فیشن بن چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جدیدیت کا ایسا پہلو ہے جو صحت کے لیے سنگین خطرات رکھتا ہے۔ معاشرتی سطح پر اسے محفوظ متبادل اور سگریٹ چھوڑنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کے مطابق یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔

    الیکٹرک سگریٹ ایک بیٹری سے چلنے والا آلہ ہے جس میں E-liquid استعمال ہوتا ہے، جو گرم ہو کر بھاپ میں تبدیل ہوتی ہے اور سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچتی ہے۔ یہ مائع عموماً نکوٹین، خوشبو دار فلیورز اور دیگر کیمیائی مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگرچہ دھواں نہیں نکلتا، مگر بھاپ میں موجود باریک زہریلے ذرات پھیپھڑوں تک پہنچ کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

    نکوٹین سب سے خطرناک عنصر ہے، جو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ کئی الیکٹرک سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار عام سگریٹ سے زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل اس کی لت میں پھنس رہی ہے۔ نکوٹین وقتی سکون فراہم کرتی ہے، مگر ذہنی بے چینی، چڑچڑاپن اور ڈپریشن کو فروغ دیتی ہے۔

    پھیپھڑوں پر اثرات کے علاوہ نکوٹین دل اور خون کی نالیوں کو بھی متاثر کرتا ہے، دل کی دھڑکن تیز اور بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نوجوان، جو خود کو صحت مند سمجھتے ہیں، کم عمری میں دل کے مریض بن رہے ہیں۔

    الیکٹرک سگریٹ کے فلیورز بھی خطرناک ہیں۔ اسٹرابری، آم، چاکلیٹ اور منٹ کے نام پر استعمال شدہ کیمیکلز زیادہ حرارت پر فارملڈیہائیڈ جیسے عناصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ نوجوان دماغی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں، اور نکوٹین یادداشت، توجہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس سے تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

    منہ اور دانتوں کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہے۔ مسلسل استعمال سے منہ خشک رہتا ہے، دانت کمزور ہو جاتے ہیں، مسوڑھوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور سانس کی بدبو مستقل مسئلہ بن جاتی ہے۔ جلد کی رنگت متاثر ہوتی ہے اور قبل از وقت بڑھاپا ظاہر ہو سکتا ہے۔

    الیکٹرک سگریٹ کے پھٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، خاص طور پر غیر معیاری آلات سے ہاتھ، چہرہ اور جسم کے دیگر حصے جھلسنے کے حادثات ہوتے ہیں۔ یہ آلہ محض صحت ہی نہیں بلکہ جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) نوجوانوں اور غیر سگریٹ نوش افراد کو الیکٹرک سگریٹ سے دور رہنے کی سخت ہدایت دیتا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس کی فروخت اور تشہیر پر پابندیاں عائد ہیں، مگر ہمارے ہاں قانون سازی اور آگاہی کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ الیکٹرک سگریٹ ایک جدید فریب ہے، جو نوجوان نسل کو صحت کی تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ حکومت، والدین، تعلیمی ادارے اور میڈیا مل کر مؤثر آگاہی پھیلائیں تاکہ یہ خاموش خطرہ نوجوانوں کی زندگیوں کو متاثر نہ کرے۔ صحت کوئی فیشن نہیں اور زندگی کسی تجربے کا میدان نہیں۔

  • رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا تاثر عام کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ گلی محلوں میں موجود اسٹریٹ ڈاگز کو کھانا کھلاتے ہیں، زخمی جانوروں کا علاج کرواتے ہیں یا ان کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کوئی “ممی ڈیڈی” قسم کے لوگ ہیں جنہیں انسانوں سے زیادہ کتوں کی فکر ہے۔ رحم کرنا جیسے کوئی جرم بن گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ذرا اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سی ڈی اے کی پالیسیوں پر تحقیق کریں تو حقیقت اس تاثر سے کہیں زیادہ خوفناک نظر آتی ہے۔ یہاں مسئلے کا حل ویکسینیشن، نیوٹرنگ یا بہتر شیلٹرز نہیں بلکہ گولیاں، زہر اور اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔ کتوں کو پکڑ کر مار دیا جاتا ہے، زہر دے کر ہلاک کیا جاتا ہے، ماؤں کو ان کے بچوں سے جدا کر دیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں انہیں نام نہاد شیلٹرز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں نہ مناسب خوراک ہے، نہ صاف پانی، نہ چھت اور نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کا کوئی انتظام۔ یہاں تک کہ پانی تک میسر نہیں ہے اور جانور پیاس سے تڑپتے رہتے ہیں۔ یہ شیلٹر نہیں بلکہ اذیت گاہیں ہیں۔

    سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ نومولود پلے جب ماں سے جدا کیے جاتے ہیں تو یا تو بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں یا بڑے کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کئی زخمی ہو کر سڑتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم روز اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ ریبیز کے باعث کتوں نے لوگوں کو کاٹا اور اسپتالوں میں ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کتا ہے یا ہمارا ناکام ہیلتھ سسٹم؟ ریبیز ویکسین مہیا کرنا حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ہر گلی کے کتے کو گولی مار دینا۔ ایک جانور کی غلطی کی سزا پورے علاقے کے تمام جانوروں کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟

    یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ “کتا نظر آئے تو پتھر مار دو، ڈنڈا اٹھاؤ، بھگا دو۔” ظاہر ہے جب جانور کو خطرہ محسوس ہوگا تو وہ اپنے دفاع میں بھونکے گا یا کاٹے گا۔ زیادہ تر واقعات جارحیت نہیں بلکہ خوف کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جانور بھی زندہ مخلوق ہیں، ان میں بھی درد، خوف اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔ جو لوگ انہیں کھانا کھلاتے ہیں، وہ شوقیہ نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی جینے کا حق دیتے ہیں۔ کیونکہ ماں، ماں ہوتی ہے، چاہے انسان کی ہو یا کسی جانور کی۔ ذرا سوچئے اگر کسی انسان کے بچے کو زہر دے کر مار دیا جائے تو والدین پر کیا گزرے گی؟ تو پھر ایک بے زبان جانور کی ماں کا درد ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟

    افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالتیں بھی واضح احکامات دے چکی ہیں کہ کتوں کو مارنے کے بجائے نیوٹر کیا جائے، ویکسینیشن کی جائے اور آبادی کو انسانی طریقے سے کنٹرول کیا جائے، مگر ان احکامات پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ گولی چلانا آسان ہے، نظام بنانا مشکل۔ دنیا بھر میں کامیاب ماڈلز موجود ہیں جہاں نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کے ذریعے مسئلہ حل کیا گیا، لیکن ہم اب بھی قتل عام کو حل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے کتے مارے جائیں گے، اتنی ہی تیزی سے نئے پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ مسئلہ قتل سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے حل ہوتا ہے۔

    سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین صرف انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ کیا باقی مخلوق کو جینے کا حق نہیں؟ ہمارا مذہب بھی ہمیں بے زبان جانوروں پر رحم کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم پورے ملک سے تمام کتوں کا خاتمہ بھی کر دیں تو کیا ہمارے اسپتال بہتر ہو جائیں گے؟ کیا ویکسین دستیاب ہو جائے گی؟ کیا ہمارا نظام ٹھیک ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ہم صرف مزید بے حس ہو جائیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے میں رحم ختم ہو جائے، وہاں انسانیت بھی مر جاتی ہے۔

  • واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف  پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    واشنگٹن کی توجہ، اسلام آباد کا مؤقف پاکستان کی نئی اسٹریٹجک موجودگی۔تجزیہ : شہزاد قریشی

    عالمی سیاست میں توجہ حاصل کرنا اکثر طاقت کے مظاہرے یا جارحانہ سفارت کاری کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے، مگر بعض اوقات مستقل مزاجی، ادارہ جاتی ضبط اور حقیقت پسندانہ مؤقف بھی عالمی طاقتوں کو متوجہ کر لیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جہاں واشنگٹن میں پاکستان ایک بار پھر سنجیدہ غور و فکر کا موضوع بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی خارجہ پالیسی میں روایتی سفارتی آداب کے بجائے براہِ راست مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی توجہ حاصل کرنا کسی بھی ملک کے لیے ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا دوبارہ امریکی پالیسی ڈسکورس میں جگہ بنانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے بیانیے کو محض دفاعی دائرے سے نکال کر اسٹریٹجک شراکت داری کے فریم میں پیش کیا ہے۔

    یہ پیش رفت آسان نہیں تھی۔ پاکستان کو ایک طویل عرصے سے کئی محاذوں پر سوالات اور دباؤ کا سامنا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیاں اکثر عالمی بیانیے میں پس منظر میں چلی گئیں، افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے کردار کو مسلسل جانچ کے عمل میں رکھا، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی فعال سفارت کاری نے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان سب کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی اور معاشی عدم استحکام نے بھی پاکستان کے مؤقف کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا۔
    ان حالات میں جنرل عاصم منیر کی حکمت عملی نمایاں طور پر محتاط مگر مؤثر رہی۔ پاکستان نے خود کو کسی بحران کے ذمہ دار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست، علاقائی استحکام کے شراکت دار اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر فریق کے طور پر پیش کیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جس نے واشنگٹن میں دوبارہ سنجیدہ مکالمے کی گنجائش پیدا کی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا پاکستان کی جانب مبذول ہونا محض علامتی واقعہ نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عالمی طاقتیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں—خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ جنوبی و وسطی ایشیا ایک بار پھر عالمی اسٹریٹجک مقابلے کا مرکز بن رہا ہے۔

    تاہم یہ لمحہ پاکستان کے لیے صرف سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک امتحان بھی ہے۔ عالمی توجہ عارضی ہوتی ہے، اگر اسے واضح پالیسی اہداف، معاشی اصلاحات اور علاقائی استحکام کی عملی کوششوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب اس اسٹریٹجک موقع کو دیرپا شراکت داری میں ڈھالنا ہے، نہ کہ اسے محض ایک وقتی سفارتی کامیابی تک محدود رکھا جائے۔
    اگر پاکستان اس موقع سے دانشمندی سے فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ نہ صرف واشنگٹن بلکہ دیگر عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس کی پوزیشن کو مستحکم کر سکتا ہے۔ اور یہی کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی کی اصل کامیابی ہوتی ہے—خاموش، مستحکم اور دیرپا۔

  • غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک طرف دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور دوسری طرف ہم آج بھی الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری اور لاحاصل مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی رسم، جسے کبھی بسنت اور کبھی روایت کا نام دے دیا جاتا ہے، اس پر گھنٹوں کی بحث قوم کی ترجیحات پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کے مباحث پہلے بھی ہمارے فکری زوال کا سبب بنے،کبھی “کوا حلال ہے یا حرام” جیسے موضوعات نے ذہنوں کو الجھائے رکھا، اور آج وہی روش نئے عنوانات کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا شوق درست ہے یا غلط، اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں؟ کیا دنیا پتنگیں اڑا کر آگے بڑھی ہے، یا تعلیم، تحقیق، صنعت اور مضبوط معیشت کے ذریعے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک میں آج بھی عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور تعلیمی نظام اور ناقص صحت کی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں قومی مکالمہ اصل مسائل کے بجائے غیر سنجیدہ موضوعات کے گرد گھوم رہا ہو۔

    میڈیا کا کردار قوم کی رہنمائی اور شعور کی بیداری ہے، مگر جب توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے تو عوامی سوچ بھی منتشر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت اور توجہ قیمتی قومی سرمایہ ہیں۔ اگر یہ سرمایہ غیر ضروری بحثوں میں ضائع ہوتا رہا تو نقصان صرف آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، درست ترجیحات طے کریں اور قومی بیانیے کو ترقی، اصلاحات اور عوامی فلاح کی سمت موڑیں۔ بصورت دیگر افسوس کے سوا ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔

  • جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    تعارف
    جھیلِ طبریہ—جسے بحرِ طبریہ، سی آف گلیل یا کنیرت بھی کہا جاتا ہے—شمالی فلسطین/اسرائیل میں واقع ایک میٹھے پانی کی جھیل ہے جو یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں میں غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ روحانی علامت سے بڑھ کر، آج یہ جھیل مذہب، قومی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے نازک امتزاج پر واقع ہے، جس کے باعث یہ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ زیرِ نگرانی آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔

    یہودی مذہبی اہمیت
    یہودیت میں جھیلِ طبریہ یہودی تاریخ اور علمی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
    جھیل کے مغربی کنارے واقع شہر طبریہ، دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد یہودی تعلیم و فقہ کا ایک مرکزی مرکز بن گیا۔
    متعدد جلیل القدر یہودی علماء اور بزرگ اس کے اطرافی علاقوں میں مدفون ہیں۔
    تاریخی طور پر یہ جھیل ایک اہم میٹھے پانی کا ذریعہ رہی ہے، جس نے شمالی فلسطین میں زراعت اور آبادیوں کو سہارا دیا۔
    یہودی روایت میں جھیلِ طبریہ وراثت، تسلسل اور بقا کی علامت ہے۔

    عیسائی مذہبی اہمیت
    عیسائیوں کے نزدیک بحرِ طبریہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اور تبلیغی مشن سے وابستہ مقدس ترین مقامات میں شامل ہے:
    حضرت عیسیٰؑ نے اس کے کناروں پر واقع بستیوں—کفرناحوم، بیت صیدا اور مگدلہ—میں وسیع پیمانے پر تبلیغ کی۔
    اس جھیل سے منسوب کئی عظیم معجزات بیان کیے جاتے ہیں:
    پانی پر چلنا
    طوفان کو پرسکون کرنا
    مچھلیوں کا معجزاتی شکار
    حواریوں کی دعوت
    یہ علاقہ حضرت عیسیٰؑ کی عوامی دعوت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اسی لیے جھیلِ طبریہ آج بھی دنیا بھر کے عیسائیوں کے لیے ایک بڑا زیارتی مقام ہے۔

    اسلامی نقطۂ نظر اور نبوی اہمیت
    اسلام میں جھیلِ طبریہ—جسے صحیح احادیث میں بحیرۂ طبریہ کہا گیا ہے—قیامت سے پہلے کے حالات (علاماتِ قیامت) میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور دجال کے ظہور سے براہِ راست منسلک ہے۔
    صحیح حدیث کا حوالہ
    حضرت فاطمہ بنت قیسؓ سے مروی ایک معروف روایت، جو صحیح مسلم میں مذکور ہے، میں حضرت تمیم داریؓ کا ایک جزیرے پر ایک زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص سے سامنا بیان کیا گیا، جسے بعد ازاں نبی اکرم ﷺ نے دجال قرار دیا۔
    صحیح مسلم، حدیث 2942
    دجال کے سوالات میں ایک سوال یہ تھا:
    کیا بحیرۂ طبریہ میں پانی موجود ہے؟
    جب بتایا گیا کہ ابھی پانی موجود ہے تو اس نے کہا:
    “قریب ہے کہ یہ خشک ہو جائے گا۔”
    نبی کریم ﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی، یوں بحیرۂ طبریہ کا خشک ہو جانا دجال کے ظہور سے قبل کی بڑی علامات میں شامل قرار پایا۔
    علمائے اسلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عارضی کمی یا موسمی اتار چڑھاؤ اس پیش گوئی کے مصداق نہیں؛ بلکہ اس سے مراد جھیل کا مکمل طور پر خشک ہو جانا ہے۔
    دجال کی جسمانی علامات (جیسا کہ صحیح احادیث میں بیان ہوا)
    نبی اکرم ﷺ نے امت کو فتنۂ دجال سے بچانے کے لیے اس کی واضح نشانیاں بیان فرمائیں:
    دجال کانا ہوگا
    اس کی دائیں آنکھ اندھی ہوگی، جسے یوں بیان کیا گیا:
    “گویا ابھرا ہوا انگور” (صحیح بخاری 3438؛ صحیح مسلم 2933)
    اس کی پیشانی پر لفظ “کافر” (كافر) لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا
    وہ جھوٹا دعویٰٔ الوہیت کرے گا اور فریب پر مبنی کرتب دکھائے گا
    اس کا فتنہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔

    جدید اسٹریٹجک اور سلامتی کا پہلو
    موجودہ دور میں جھیلِ طبریہ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک اہمیت بھی اختیار کر چکی ہے:
    اسرائیل قومی آبی نظم و نسق اور ماحولیاتی توازن کے باعث جھیلِ طبریہ کی سطحِ آب کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
    جھیل کے گرد بعض علاقوں میں رسائی محدود ہے، اور اطراف کے کچھ حصوں کو وقتاً فوقتاً حساس یا عسکری کنٹرولڈ زون قرار دیا جاتا رہا ہے۔
    شہری نقل و حرکت، ماہی گیری اور تعمیراتی سرگرمیاں، خصوصاً اسٹریٹجک تنصیبات کے قریب، سخت ضوابط کے تحت ہیں۔
    گزشتہ دہائیوں میں پانی کی سطح میں کمی نے اس جھیل کو محض مذہبی مقام سے بڑھا کر ایک اسٹریٹجک اثاثہ بنا دیا ہے، جس پر ریاستی ادارے کڑی نظر رکھتے ہیں۔
    یہ نگرانی نہ صرف ماحولیاتی خدشات کی عکاس ہے بلکہ پانی کی قلت کے شکار خطے میں میٹھے پانی کی جغرافیائی سیاست کی حساسیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

    اسلامی عقیدے میں حضرت عیسیٰؑ کا کردار
    اسلامی عقیدے کے مطابق دجال کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے قریب نزول فرمائیں گے اور بالآخر دجال کو قتل کریں گے، جس کے نتیجے میں عدل، حق اور اخلاقی نظام بحال ہوگا—اس سے قبل کہ انسانی تاریخ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو۔

    خلاصہ
    جھیلِ طبریہ ایمان، نبوت اور سلامتی کے ایک منفرد سنگم کی حیثیت رکھتی ہے۔
    یہودیوں کے لیے یہ علمی وراثت کی علامت ہے؛ عیسائیوں کے لیے حضرت عیسیٰؑ کی دعوت کی زندہ سرزمین؛ اور مسلمانوں کے لیے انسانیت کے آخری امتحانات سے جڑی ایک واضح نبوی نشانی۔
    جدید دور میں اس کی سخت نگرانی اور محدود حیثیت اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ جھیلِ طبریہ محض ایک مذہبی یادگار نہیں—بلکہ ایک اسٹریٹجک، علامتی اور نبوی مرکز ہے، جس کی اہمیت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔

  • انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    ادب کی تاریخ میں بعض لمحات محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتے بلکہ روایت، شناخت اور فکری تسلسل کی علامت بن جاتے ہیں۔ انجمن ترویجِ زبان و ادب کے قیام کو مکمل ہونے والا پہلا برس بھی ایسا ہی ایک یادگار اور بامعنی لمحہ تھا، جسے انجمن کے اراکین نے محبت، وقار اور اعلیٰ ادبی شعور کے ساتھ منایا۔ اولین یومِ تاسیس کی یہ تقریب دراصل لفظ، احساس اور رفاقت کا جشن تھی، جہاں قلم نے دلوں سے مکالمہ کیا اور ادب نے روحوں کو یکجا کر دیا۔

    تقریب کا آغاز شکرگزاری، دعا اور اس پختہ عزم کے ساتھ ہوا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب اردو زبان و ادب کے فروغ کا وہ چراغ ہے جو اخلاص، محنت اور فکری دیانت سے روشن کیا گیا ہے۔ اسی روحانی فضا میں محمد اویس کی دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرتی حمد و نعت پیش کی گئی، جس نے انجمن کو روحانی و نورانی حرارت سے سرور بخشا۔ ان کی مترنم آواز، خلوصِ عقیدت اور اثرانگیز انداز نے حاضرین کے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے گرمایا اور محفل کو روحانی سکون سے ہمکنار کیا۔

    اس موقع پر انجمن کی بانی و سرپرست پارس کیانی کو پُرخلوص خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے فکری وژن، گہرے ادبی شعور اور سنجیدہ رہنمائی نے اس خواب کو عملی صورت عطا کی۔ ان کا قلم اور ان کی قیادت انجمن کی فکری بنیاد اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔منتظم اعلیٰ سلیم خان اور بانی و سرپرست پارس کیانی نے تقریب میں موقع کی مناسبت سے روح کی غذایت کا اہتمام خوبصورت گیتوں کے انتخاب کی صورت میں کیا اور ثابت کیا کہ ایسے برمحل انتخاب محفل کو توازن، لطافت اور داخلی سکون عطا کرتے ہیں۔

    منتظمِ اعلیٰ سلیم خان کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کی بے لوث قیادت، ادب نوازی، انسان دوستی اور مسلسل عملی تعاون نے انجمن کو استحکام بخشا۔ وہ محض نظم و نسق کے نگران نہیں بلکہ محبتوں کے سفیر اور ادب کے سچے خادم ہیں۔ انہوں نے بھی روح کو سرشار کرنے والے گیتوں کے انتخاب سے انجمن کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

    تقریب میں سابق منتظمِ ثانی احمد منیب کا تذکرہ نہایت عقیدت اور احترام سے کیا گیا، جو اپنی نجی مصروفیات کے باعث اس وقت انجمن سے رخصت پر ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی، علمی ذوق اور ادبی وابستگی کو انجمن کی تاریخ کا قیمتی حوالہ قرار دیا گیا۔انتظامی ٹیم میں منتظمہ عمارہ کنول چوہدری، منتظم خان عبداللہ ایلیاء اور منتظمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی منظم، مخلص اور فعال خدمات کو انجمن کے تسلسل اور استحکام کی ضمانت قرار دیا گیا۔ ان کی انتھک محنت نے انجمن کو ایک مربوط، شائستہ اور باوقار ادبی پلیٹ فارم بنایا۔فعال اراکینِ انجمن کی خدمات تقریب کا روشن اور قابلِ فخر باب رہیں۔ ڈاکٹر ارشاد خان کو قادرالکلام شاعر و نثر نگار کی حیثیت سے فکری گہرائی اور ادبی وقار کی علامت قرار دیا گیا۔ خواجہ ثقلین سمیط کی بذلہ سنجی، شعری مہارت اور لفظوں کے برمحل استعمال نے محفل کو تازگی اور توانائی بخشی۔ رانا طارق بلال کے روزانہ سلامتی اور خیرسگالی پر مبنی پیغامات کو روحانی خوشبو سے تعبیر کیا گیا۔ عبدالرحمان واصف کے کلام میں سچائی اور اثر پذیری کو نمایاں طور پر سراہا گیا، جبکہ سید عارف لکھنوی کی حمد، نعت اور منقبت کو عقیدت اور فن کا حسین امتزاج قرار دیا گیا۔

    ڈاکٹر شگفتہ کی غزل گوئی کو نسائی حساسیت اور شعری لطافت کی نمائندہ کہا گیا۔ پروفیسر محمد صدیق بزمی کی علمی بصیرت، ادبی وقار اور وقیع انتخاب کو انجمن کا قیمتی علمی سرمایہ قرار دیا گیا۔ ثاقب قریشی، چٹکلوں کے بادشاہ، نے اپنی بذلہ سنجی سے محفل میں مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ ملک عدیل عاصم کی ادبی خدمات، محمد ساجد کی سنجیدہ اور معیاری ادبی ترسیلات، محمد عتیق الرحمن کی علمی جستجو اور فضل کریم کے قرآن و سنت پر مبنی اصلاحی و فکری پیغامات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

    تقریب کا ایک نہایت قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا پہلو انجمن کی جانب سے بہترین کارکردگی کے حامل اراکین کو اسنادِ اعزاز جاری کرنے کی روایت کا آغاز تھا۔ اس اقدام کو اراکین کی حوصلہ افزائی، ادبی خدمات کے اعتراف اور مثبت مسابقت کے فروغ کی عمدہ مثال قرار دیا گیا۔اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب آئندہ بھی شائستگی، برداشت، اخلاص اور فکری دیانت کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہے گی۔ دعا کی گئی کہ یہ ادبی قافلہ یوں ہی علم، محبت اور خیر بانٹتا رہے اور آنے والے برس اس کی تاریخ میں مزید روشن اور یادگار ابواب کا اضافہ کریں۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    الحمدللہ اس ارض پاک پاکستان کے باشندوں کو میرے رب نے بہت کشادہ قلب عطاء کیا ہے جس میں امت کا درد موجود ہے،الحمدللہ اس ارض پاک نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر امت کے مفلسوں،مظلوموں اور مصیبت زدگان کی مدد کی ہے جس کاماضی بھی گواہ ہے اور حال بھی گواہ ہے،1990 کی دہائی انسانی تاریخ کے اُن المناک ادوار میں شمار ہوتی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، ظلم اور جبر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا،یورپ میں بوسنیا کے مسلمان نسل کشی کا شکار ہوئے تو خطے میں پہلے سے جاری افغان جنگ نے بھی کروڑوں افراد کو دربدر کر رکھا تھا،دوسری سمت چیچنیا میں بھی جنگ نے لاکھوں چیچن لوگوں کو سخت پریشان کر دیا تھا،ایسے حالات میں پاکستان وہ ملک بن کر سامنے آیا جس نے نسل، زبان اور جغرافیہ سے بالاتر ہو کر مظلوم انسانوں کو گلے لگایا،1994 کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں ظالم درندہ صفت سرب افواج کے ہاتھوں قتلِ عام، اجتماعی قبروں کی دریافت اور جبری ہجرت نے عالمی ضمیر کو ہلا دیا

    6 اپریل 1992 کو بوسنیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا تو سرب فورسز نے جنگ شروع کر دی جس سے بوسنیا کے مختلف شہروں پر حملے شروع ہوئے،1992 تا 1993 میں بوسنیا کے شہر سرایوو، موستار، برچکو میں شدید لڑائیاں جاری رہیں اور شہری علاقوں میں محاصرے اور تباہی جاری ہو گئی،1993 میں اقوام متحدہ نے بوسنیا میں امن زونز کا اعلان کیا لیکن بہت سے علاقے محصور اور غیر محفوظ ہو گئے تو 1994 میں بوسنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے،کچھ ممالک نے انہیں پناہ دی تھی جن میں پاکستان بھی شامل ہے جس نے مہاجرین کو عارضی پناہ دی تھی،یہ مہاجرین اسلام آباد اور گردونواح میں مقیم رہے تھے

    11 سے 31 جولائی 1995 کو سربرینیتسا نسل کشی میں تقریباً 8,000 بوسنیائی مسلمان مرد اور جوان لڑکے شہید ہوئے تھے
    نومبر 1995 کو امریکی ثالثی کے تحت ڈیتون امن معاہدہ پر مذاکرات شروع ہوئے،دسمبر 1995 کو Dayton Peace Accords پر دستخط ہوئے اور جنگ رسمی طور پر ختم ہو گئی اور بوسنیا کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا جس کے بعد
    1996 تا 1997 تک مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا ، اس نازک وقت میں پاکستان نے نہ صرف بوسنیا کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی تھی بلکہ ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو پاکستان لا کر عارضی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ دی جنہیں اسلام آباد اور دیگر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں میں عزت، تحفظ، خوراک، علاج اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں،جواب میں بوسنیائی باشندے آج بھی پاکستان کو خاص عزت دیتے ہیں

    یہی وہ پاکستان ہے جو اس سے قبل اور اس کے ساتھ ساتھ افغان پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان بھی بن چکا تھا
    سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان خاندان پاکستان آئے اور دہائیوں تک یہاں مقیم رہے،پاکستان کی عوام نے اپنی محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجرین کو اپنے شہروں، دیہات، بازاروں اور گھروں میں جگہ دی، افغان پناہ گزینوں نے بھی پاکستان کی معیشت، مزدوری، تعمیرات، تجارت اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بن کر رہے،وقت گزرتا گیا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گی جسکی بڑی حد تک اسلامی نظام سے مماثلت تھی تاہم اس کے باوجود بھی افغان باشندے اپنے وطن جانے کو تیار نا ہوئے کیونکہ ان کو علم تھا یہ امن بھی عارضی ہو گا،وقت گزرتا گیا اور افغان پناہ گزین جعلی طریقے سے شناختی کارڈ بنوا کر باقاعدہ پاکستان کے شہری بننا شروع ہو گئے،نیز ان افغان لوگ نے مختلف قسم کے جرائم کیساتھ ساتھ جنگی جرائم میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا جس سے پاکستان کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑانیز افغان گورنمنٹ نے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو کھلے عام پناہ دینا شروع کر دی جس کو پاکستان نے عالمی سطح پر درجنوں بار ثابت بھی کی مگر افعان اپنے میزبان پر بھاری ہوتا چلا گیا ہے مجبوراً پاکستان کو سختی سے ان کو نکالنا پڑا جو سلسلہ آج دن تک جاری ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب افغان باشندے موجود ہیں جس میں سے محض 20 فیصد سے بھی کم واپس گئے ہیں

    چیچنیا میں 1994 تا 1996 اور 1999 تا 2009 تک جنگی حالات،خانہ جنگی کے باعث کئی ہزار چیچن شہری جنگ اور تباہی سے بچنے کے لئے پاکستان آئے،یہ تعداد افغان یا بوسنیائی مہاجرین کے مقابلے میں بہت محدود تھی، ان مہاجرین کو بھی زیادہ تر اسلام آباد، راولپنڈی اور شمالی علاقوں میں عارضی رہائش اور امداد دی گئی،پاکستانی اسلامی تنظیموں اور خیراتی گروہوں نے انہیں خوراک، رہائش اور تعلیم کے مواقع فراہم کئے اور انہیں بلکل احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک غیر ملک میں ہیں بلکہ افغان و بوسنیائی پناہ گزینوں کی طرح انہیں بھی وہی ہسپتال ،سکول،کالجز و دیگر سہولیات مہیا کی گئیں جو ہر پاکستانی کے پاس تھیں مطلب ان کو ہر لحاظ سے ایک پاکستانی شہری کے برابر سہولیات حاصل تھیں، زیادہ تر چیچن مہاجرین نے جنگ کے بعد یا یورپ کے دیگر ممالک کی طرف واپس جانے یا منتقل ہونے کا راستہ اختیار کیا
    اور پاکستان کو بڑے باعزت طریقے سے خیر آباد کہا اور آج بھی وہ اس پاکستانی قربانی پر فطرت جذبات سے لبریز ہو کر پاکستان کو بڑی عزت و تکریم سے پکارتے ہیں

    ان تین ممالک کے مہاجرین کے علاوہ مملکت پاکستان نے پاک بھارت جنگ 1971 کے بعد بہت سے بنگلہ دیشیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی جن میں سے بیشتر آج بھی پاکستان بھر خاص کر کراچی میں آباد ہیں،اسی طرح ایران میں 1979 کے رجیم چینج کے بعد سیاسی مخالفین اور اقلیتی شورش کے بعد بہت سے ایرانیوں نے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں پناہ لی ،عراق کی خلیجی جنگ 1991 کے بعد بیشتر عراقیوں نے پناہ کیلئے پاکستان کا رخ کیا جنہیں پاکستان نے خوش آمدید کہا ،ارض انبیاء مملکت شام میں 2011 کی خانہ جنگی میں بہت سے شامی مہاجر پاکستان میں پوری آزادی اور عزت سے رہے،قبلہ اول فلسطین کے باسی بھی مختلف ادوار میں خاص کر 1967 کے بعد پاکستان میں پناہ لینے پہنچے جہاں ان کو شاندار پروٹوکول کیساتھ مرحبا کہا گیا،اسی بناء پر وہ آج بھی پاکستان کو خاص پیار اور محبت سے نوازتے ہیں

    تاجکستان میں 1992 تا 1997 کے دوران تاجک خانہ جنگی کے نتیجے میں،پاکستان نے مظلوموں کے لئے اپنی مملکت کے دروازے کھولے اور انہیں عارضی پناہ فراخ دلی سے دی گئی تھی،2012 میں برما میں خانہ جنگی اور مسلم کشی کے دوران میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے باعث بہت سے افراد پاکستان آئے تو انہیں عارضی رہائش، خوراک اور ابتدائی تعلیم فراہم کی گئی تھی، زیادہ تر یہ مہاجرین بعد میں دیگر ممالک منتقل ہو گئے تھے،جو کہ آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں پوری عزت کیساتھ قبول کیا گیا تھا،نیز آج بھی انڈین مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں خاندان ہجرت کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں مکمل آزادی اور پوری عزت کیساتھ سکونت پذیر ہیں

    دنیا بھر کے مہاجرین کو پناہ دینے کے یہ واقعات پاکستان کی انسانیت اور مہمان نوازی کی مثال ہیں جہاں محدود تعداد کے مہاجرین کو بھی محفوظ پناہ دی گئی اور افغانستان کے بے یارو مددگار اور بے سروساماں کی بہت بڑی تعداد کو بھی گلے سے لگائے رکھا،آج جب مہاجرین کے مسئلے کو محض بوجھ سمجھا جاتا ہے، تو بوسنیا،چیچنیا اور افغان و دنیا بھر کے مسلمان مہاجرین کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کے لئے دروازے کھولیں ہیں چاہے وہ یورپ کے مسلمان ہوں یا ہمسایہ افغان بھائی یاپھر روس کی ریاست چیچنیا کے مسلمان ،پاکستان ہمیشہ حاضر رہا ہے