Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین

    🇵🇰 پاکستانی فوج کو خراجِ تحسین 🇵🇰
    تحریر:محمد عرفان ڈسٹرکٹ بہاولنگر
    پاکستان کی افواج ہمارے وطن کا فخر اور ہماری سلامتی کی ضامن ہیں۔ یہ وہ بہادر ادارہ ہے جو ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب ہو یا دشمن کی جارحیت، ہماری فوج نے ہمیشہ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ملک و قوم کا دفاع کیا ہے۔

    یہ وہ نڈر سپاہی ہیں جو سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں برف پوش چوٹیوں پر اور گرمیوں کی تپتی وادیوں میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کے حوصلے فولاد سے زیادہ مضبوط، نیتیں پاکیزہ اور جذبے ایمان سے لبریز ہیں۔

    پاکستانی فوج محض ایک عسکری قوت نہیں بلکہ ایک منظم، بااخلاق اور انسان دوست ادارہ ہے جو ہر آفت اور آزمائش کے وقت عوام کی خدمت میں پیش پیش رہتا ہے۔ قوم کو اپنی فوج پر بجا طور پر فخر ہے، اور پوری دنیا ان کے نظم و ضبط، بہادری اور قربانیوں کو سلام کرتی ہے۔

    اللّٰہ ربّ العزت ہماری افواج کو ہمیشہ محفوظ رکھے، انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز پاکستان کو تا قیامت امن، استحکام اور سربلندی سے نوازے۔ آمین۔

  • جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوری عمل کمزور ہونے کی مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں

    پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے

    سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی

    سیاسی و مذہبی جماعتوں کا قومی اداروں پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے جس کی تازہ مثال وزیر اعلٰی کے پی کے کی جذباتی تقریر ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    جنوبی ایشیائی ملک خاص طور پر بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پچھلے چند سالوں میں جمہوری عمل کمزور ہوتا دیکھا جا رہا ہے۔ یہ مثالیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے وارننگ ہے۔ اگر ملک کی سیاسی جماعتوں نے منظم طریقے سے نیچے تک مضبوط اندرونی جمہوریت پر توجہ نہ دی تو قومی سیاست میں ان کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ کسی زمانے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی جماعتیں ہوا کرتی تھیں آج صوبوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال ایک دہائی میں عوامی حکمرانوں کے سیاسی خلا، اظہار رائے اور انتخابی مقابلے جیسے عناصر ظاہر ہوئے جن کے باعث جمہوریت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ انتخابات میں تنازع اور شفافیت کے الزامات لگے۔ سری لنکا کی بھی یہی صورتحال ہے معاشی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی احتجاج اور اس کے نتیجے میں طرز حکمرانی میں دیکھی گئی اقتصادی بد انتظامی اور سیاسی مرکزیت جمہوری اداروں کو تیزی سے کمزور کرتی گئی۔ یہی صورتحال نیپال میں دیکھی گئی مسلسل سیاسی عدم استحکام بار بار کابینہ میں تبدیلیاں اور آئینی جمہوری خامیوں نے جمہوری تسلسل کو متاثر کیا۔ اگرچہ بعض اوقات عدلیہ یا پارلیمانی طریقے سے بحال بھی ہوئی، ان ممالک میں مرکزی قیادت اور قائدانہ مرکزیت طاقت کا حد سے زیادہ مرکزیت میں جمع ہونا، ادارہ جاتی کمزوری، آزاد عدلیہ، میڈیا اور سیکیورٹی اداروں میں توازن کمزور ہونا معاشی بد انتظامی، عوامی ناراضگی اور سیاسی بحران نے جنم لیا۔ موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کی موجودہ حالیہ سیاسی تاریخ میں الگ الگ انداز میں ظاہر ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اگر جمہوریت کو پائیدار بنانا ہے تو تنظیم سازی، ضلعی ڈویژن اور تحصیل سطح پر باضابطہ تربیت اور شفاف انتخابی عمل کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کی خراب صورتحال، سیاسی عدم استحکام پاکستان کے ملکی نوجوانوں جو پاکستان کا مستقبل ہیں ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ہر جماعت کے آئین میں شفاف امیدوار چننے کے ضوابط، شکایات کے میکنزم اور مدت طے کرنی ہوگی۔ مقامی لیڈرز، ووٹر، رجسٹریشن، انتخابی ضوابط فورم اور ورکشاپس کے انتظامات کرنے ہوں گے۔ پارٹی فنڈنگ کے اخراجات کے باقاعدہ آڈٹ اور عوامی خلاصے پر توجہ دینی ہوگی۔ سیاسی جماعتوں کو پالیسی سازی، امیدواروں کی نشاندہی اور شفاف الیکشن کرانا ہوں گے۔ نوجوان و خواتین لیڈر شپ پروگرام اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوں گے۔ صرف طاقت حاصل کرنے کے بجائے واضح پالیسی پر ایجنڈا بنائیں اور اس کی پیمائش کریں۔ سیاسی جماعتیں قومی کہلانے کے قابل تب ہوں گی جب ان کی تنظیمیں تمام صوبوں اور ضلعوں میں فعال ہوں گی۔ قیادتوں کو بااختیار بنانے سے عوامی نمائندگی بہتر ہوگی۔ سیاسی جماعتیں صرف حکومت حاصل کرنے پر مرتکز رہیں گی جو تنظیمی کمزوریاں، جمہوریت کے بحران میں بدل سکتی ہیں۔ پارٹی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ساتھ شراکت ضروری ہے۔ قطع تعلقی ہمیشہ جنگ زدہ لسانیت مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اندرونی اصلاحات کے بجائے صرف زبانی دعوے کریں تو عوام کا اعتماد کمزور ہوگا جس کے اثرات جمہوریت پر پڑھیں گے۔ تمام سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں تو صوبائی، ضلعی سطح کی شاخیں، خود مختار فنڈ ریزنگ اور مقامی نمائندگی کو مضبوط کریں۔ نوجوان و خواتین کی قیادت کی مضبوطی اور پالیسی بیسڈ سیاست قائم کریں تاکہ پاکستان جمہوری تسلسل میں مستحکم رہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مستحکم کرنے میں تبھی کامیاب ہوں گی جب وہ عملی اقدامات کریں گی ورنہ پاکستان کی جمہوریت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کا اپنے قومی اداروں جس میں پاک فوج جملہ اداروں اور پولیس پر چڑھ دوڑنا جمہوریت کو کمزور تو کر سکتا ہے مضبوط نہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال وزیراعلٰی خیبر پختون خواہ کی تازہ ترین تقریر ہے جسے ایک جذباتی تقریر کہا جا سکتا ہے۔

  • اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسرائیل ،فلسطین جنگ بندی معاہدے کی امریکی حمایت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ٹرمپ کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا

    نیتن یاہو کو آگاہ کیا گیا اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا

    امریکی صدر کا پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کرنا پاکستان کی عوام اور عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے

    تجزیہ : شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی باہمی رہائی اور امن معاہدے پر مصر میں دستخط ہو گئے ہیں۔ یہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سفارتی اور بڑی کامیابی ہے۔ علاقائی استحکام میں اضافہ ہوگا ارد گرد کے ممالک کے لیے بھی امن و خوشحالی لائے گا اور سب سے بڑھ کر یہ انسانیت کی جیت ہے، جنگ کی نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ماضی میں ایک مجوزہ معاہدے کی بنیاد پر قرارداد 2735 منظور کی تھی۔ جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی پر زور دیا گیا تھا مگر اس کی عملی پیش رفت ہمیشہ محدود رہی اور نقصان کا دائرہ وسیع ہوا۔ موجودہ معاہدے کی امریکہ، مصر، ترکی، قطر اور دیگر ممالک معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں جو ایک مثبت بین الاقوامی ڈھانچہ فراہم کرنا ہے۔ امید ہے غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع ملے گا اور خوراک، پانی، دوائیں وغیرہ کی فراہمی بہتر ہوگی۔ امریکہ نے اس معاہدے کی بہت شدت سے حمایت کی ہے اور اس معاہدے کو تاریخی کامیابی کہا ہے۔ مصر نے ثالث کا کردار نبھایا ہے اور اجلاس کی میزبانی کی۔ عرب ممالک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے اسے استحکام کا راستہ قرار دیا ہے یہ معاہدہ ایک ابتدائی نقطہ عروج ہے۔ امید ہے امریکہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر ممالک جو اس معاہدہ میں شامل ہیں وہ کسی کو خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔ تاہم اس کا کریڈٹ عالمی مبصرین امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو دے رہے ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کھیلتا ہے، تدبیریں کرتا ہے، پیش قدمی کرتا ہے، پیچھے ہٹتا ہے، گولی چلاتا ہے، یاد کرتا ہے اور راستہ بدلتا ہے، ساری دنیا اس کی حرکات و سکنات کو دیکھتی ہے، وہ عالمی سطح کا رونالڈو ہے، وہ بالی وڈ کے سٹارز سے زیادہ پرجوش ہے، وہ خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے اور یقین دلاتا ہے، وہ دھمکی دیتا ہے پھر معاہدہ کرتا ہے، وہ انتہائی حد تک جانے کا بہانہ کرتا ہے پھر کم سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے، عالمی مبصرین کے مطابق دنیا اس کے مزاج کے مطابق اپنی رفتار طے کر رہی ہے، وہ سوشل میڈیا میں ہلچل مچانے کے لیے کافی ہے، وہ ایک شعلہ بیاں خطرے کی گھنٹی بجانے کے لیے کافی ہے، اس کے موڈ میں تبدیلیاں غیر متوقع ہیں، وہ مشکل فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتا، وہ ٹھوکر کھاتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے، مگر کبھی شکست محسوس نہیں کرتا۔ مبصرین نے کہا ہے کہ ان کے معاونین انکی لامتنائی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کی تاریخ کے عظیم ترین صدر ہیں کیونکہ وہ ناممکن کو ممکن کر دکھاتا ہے۔ غزہ کی جنگ کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے، کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی، مغربی کنارے کا کوئی الحاق نہیں ہوگا۔ حماس اپنے ہتھیاروں اور سرنگوں کو الوداع کہہ دے گی اور غزہ پر حکمرانی بند کر دے گی۔ فلسطینی اتھارٹی کا انحصار ان اصلاحات پر منحصر ہے جو وہ انجام دے گی۔ صورتحال ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا باعث بن سکتی ہے۔ نیتن یاہو کو اگاہ کیا کہ اسرائیل تنہا دنیا سے نہیں لڑ سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کوئی آسان کہانی نہیں تھی جس کہانی کو امریکی صدر نے مکمل کیا۔ امید ہے اس کا نتیجہ بھی کامیاب رہے گا۔ دوسری طرف امریکی صدر جو پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا نام لے لے کر تعریف کر رہے ہیں جو پاکستان کی عوام اور پاک فوج کی عسکری قیادت کے لیے باعث عزت ہے اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارت حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

  • بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کے پارٹی گروپ .تحریر:ملک سلمان

    سرکاری افسران اور بیوروکریسی میں مذہبی رسم و رواج کو زور و شور سے منانے اور ہر وقت مذہبی گفتگو کا منجن بیچنے والوں میں اکثریت اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کیلئے مذہبی ٹچ کو ”فیس سیونگ ٹول“ استعمال کرتے ہیں۔چاہے کوئی بھی فرقہ ہو، مذہبی ٹچ ہر طرح کی کمیونٹی میں بکتا ہے اس لیے سب سے کارآمد طریقہ واردات کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    مذہبی ٹچ کی جعل سازیاں، مذہب اور فرقوں کا پرچار کرنا قابلیت نہیں بلکہ اس حلف کی خلاف ورزی ہے جس میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ سرکاری فرائض میں مذہب، فرقہ اور رشتہ داری کو ترجیح نہیں دینی بلکہ میرٹ اور انصاف کرنا ہے۔
    اصل گیم تو پارٹی گروپ کی ہے۔ جہاں ساری طبقاتی تقسیم ختم ہے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، پی ایم ایس اور دیگر سروس گروپ کی باہمی عداوت کی بجائے اس بزم(پارٹی گروپ) میں برابری اور بھائی چارے کا عظیم مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سخت گیر اور معزز افسران کی کہانی لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی رقاصاؤں کی زلفوں اور قدموں کی چھنکارکے گرد گھومتی ہے، حسین زلفوں کے اسیر ہونے والے بڑے ناموں کے چھوٹے کرتوت سن کر یہ چکڑ چوہدری نما مخلوق انتہائی حقیر لگنے لگتی ہے۔

    منشیات کے استعمال اور دیگر حرکات پر”اہم ادارے“سے نکالا گیا بچہ بھی صوبائی سول سروس میں آچکا ہے اور ناصرف خود منہ کالا کرتا پھرتا ہے بلکہ دیگر افسران کا سہولت کار بھی بنا ہوا ہے۔ مذہبی ٹچ والے اور پارٹی گروپ جو بھی کرتے ہیں یہ انکا ذاتی معاملہ ہے جو مرضی کریں لیکن ذاتی اس لیے نہیں رہتا کہ اسی گروپنگ کی بنیاد پر اپنے مذہبی ٹچ اور پارٹی گروپ کو اہم سیٹوں اورعہدوں پر نوازا جاتا ہے۔ گندہ ہے پر دھندہ ہے۔ پولیس اور بیوروکریسی کے کم از کم ایک تہائی افسران شراب نوشی اور منشیات کے عادی ہیں جبکہ دو تہائی یعنی ڈبل تعداد شیشہ، سگریٹ نوشی اور مجرہ پارٹیوں کے رسیا ہیں۔

    چند سال قبل کی بات ہے کہ اس وقت کے اے ڈی سی آر لاہور کے سٹاف آفیسرکی لیٹ نائٹ کال آئی سر معذرت آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔۔۔۔صاحب نے زیادہ پی لی ہے۔ اور اپنے کپڑے پھاڑ کر عجیب حرکتیں کر رہے ہیں ایسی حالت میں انکو گھر کیسے لیکر جاؤں۔ میں نے اس سے لوکیشن پوچھی اور وہاں پہنچا تو موصوف اپنے کپڑے پھاڑ اور اتار کر دوسرے افسران کو کہہ رہا تھا کہ مجھے اپنی گود میں بیٹھاؤ، خیر اسے بامشکل گاڑی میں بیٹھایا اور رات گئے وہاں سے ریسکیو کیا۔ جب اسے ریسکیو کرنے گیا تو اس محفل میں بیوروکریسی کے افسران ہول سیل میں موجود تھے۔ پولیس افسران، بیوروکریسی اور سیاستدان ریگولر بنیادوں پر ایسی پارٹیوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں جہاں شراب و شباب اور ہر طرح کا نشہ کرتے ہیں، لائنیں کھینچتے ہیں۔

    سرکاری افسران اور سیاستدانوں میں پارٹی گروپ جوائن کرنا کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں پارٹی گروپ کی گیم بہت بلند ہے، ”پاور کاریڈور“ میں داخل ہونے کا ”شارٹ کٹ“ لگانے والے افسران فوری ”کی پوسٹ“ پر ہوتے ہیں۔انتہائی دکھ اور شرم کا مقام ہے کہ اسی دیکھا دیکھی میں کچھ خواتین افسران بھی پارٹی گروپ کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ سنئیر افسر، تگڑے سیاستدان کی گرل فرینڈ کی دعویدار خواتین افسران محکمے میں سیاہ و سفید کی مالک ہوتی ہیں۔ کچھ سرکاری جوڑوں کی ماضی میں ویڈیوز بھی لیک ہوچکی ہیں۔

    بیوروکریسی شدید زوال کا شکار ہے جہاں نئے افسران کی اکثریت شدید کرپٹ اور بدنسلی ہیں وہیں یہ نئے بچے کہیں بلیک میلر اور کہیں سپلائر کا کردار ادا کررہے ہیں۔لاہور کے چند نوجوان افسران نے گینگ بنا رکھا ہے جو اپنے سنئیر افسران کی مخصوص لڑکیوں سے دوستیاں کرواتے ہیں اور بعد میں انکے زیعے اہم پوسٹنگ لیتے اور اپنے کام نکلواتے ہیں۔ انہی محرکات اور”سپلائی چین“ والے خفیہ تعلقات کی وجہ سے نئے افسران کی اکثریت ناصرف عام عوام کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں بلکہ اپنے سنئیر افسران کو بھی "فار گرانٹڈ” لیتے ہیں۔ اہم سیٹوں پر تعیناتی والے ان کماؤ اور پلاؤ پتر بچوں نے ابھی وقت کا پہیہ گھومتا نہیں دیکھا، وقت بدلتے ہی جب یہ او ایس ڈی ہوں گے تو اوقات میں آجائیں گے اور بندہ شناسی کا ہنر بھی جان جائیں گے۔

    پرتگالی گروپ سمیت دیگر ممالک میں ”سیٹنگ“ والے افسران بھی ٹولیوں کی صورت میں بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنی آل اولاد کی نیشنیلٹی کرواتے ہیں۔
    ملک سلمان

  • اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم

    اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم

    اب افغانوں کی مہمان نوازی کا وقت ختم
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    اس وقت پاکستان ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں اسے اپنی قومی سلامتی اور داخلی امن کے تحفظ کے لیے سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ، اس کے فوراً بعد پاکستانی چیک پوسٹوں پر افغان فورسز کے حملےاور پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی نے سرحدی کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

    9 اکتوبر 2025 کو امیر خان متقی نے ہندوستانی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی، اور دونوں ممالک نے معاشی روابط مضبوط کرنے کا اعلان کیا۔ اسی دوران پاکستان نے افغان سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں افغان فورسز نے 11 اکتوبر کی رات پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا۔ پاکستان آرمی نے فوری جوابی کارروائی کی، جس میں متعدد افغان سرحدی پوسٹیں تباہ ہوئیں اور کئی افغان فوجی ہلاک ہوئے۔

    یہ حملے محض "جوابی” نہیں تھے بلکہ یہ بھارت کی سرپرستی میں افغان حکومت کی طرف سے پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کا حصہ تھے، کیونکہ طالبان بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ تمام واقعات ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر رہے ہیں کہ پاکستان نے 1979 سے لے کر آج تک افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین پر کیوں سہارا دیا؟ جب یہ "مہمان” پاکستان کی ازلی دشمن بھارت کے اشاروں پر دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث ہو چکے ہیں تو انہیں بغیر کسی رعایت کے پاکستان سے نکالنے کا وقت کیوں نہیں آ گیا؟

    پاکستان نے طویل عرصے سے لاکھوں نمک حرام افغانوں کی مہمان نوازی کی۔پاکستانی عوام نے اپنے وسائل میں سے ان کی کفالت کی، انہیں روزگار اور رہائش فراہم کی اور یہ امید کی کہ یہ لوگ امن قائم ہوتے ہی عزت کے ساتھ اپنے وطن لوٹ جائیں گے۔ تاہم جب انہی مہمانوں کی میں سے ہمارے فوجیوں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی گئیں اور شواہد نے دکھا دیا کہ ان کارروائیوں میں افغانی نژاد عناصر ملوث پائے گئے ہیں، تو ریاست کا اولین فرض اپنے شہریوں کا تحفظ بن جاتا ہے۔

    اس پس منظر میں یہ حقیقت واضح کی جانی چاہیے کہ پاکستان نےکسی بھی بین الاقوامی کنونشن (Convention on Refugees, 1951) یا اس کے 1967 کے پروٹوکول پرآج تک دستخط نہیں کئے اور یہاں کے پناہ گزینوں کا معاملہ پاکستان کے اپنے قوانین، مثلاً Foreigners Act, 1946 کے مطابق طے ہوتا ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (UNHCR) کی معلومات میں بھی درج ہے۔

    پاکستان قانونی طور پر پابند نہیں کہ وہ افغان پناہ گزینوں کو ہمیشہ کے لیے رکھے۔ ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہوتاہے کہ وہ اپنے داخلے، قیام اور غیر ملکیوں کے اخراج کے معاملات خود طے کرے۔ مگر بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ملک کی قومی سلامتی اور عوامی مفادات سب سے پہلے مقدم ہوتے ہیں اور اگر کوئی فرد یا گروہ سیکیورٹی رسک ثابت ہوتا ہے تو اسے واپس بھیجنے کے لیے ریاست کا قانونی اختیار موجود ہے۔

    موجودہ تناظر میں صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں شدت، سرحد پار سے دہشت گردی کی پشت پناہی اور ان واقعات کے پس منظر میں بھارت کے ساتھ افغان حکام کے بڑھتے تعلقات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر موجود یہ مہاجرین اب صرف "مہمان” نہیں رہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بن چکے ہیں۔

    1979 کے سوویت حملے سے لے کر آج تک پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان کی نسلوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات فراہم کیں۔ بدلے میں کیا ملا؟ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، اسلحہ اور بدامنی! پاکستانی انٹیلی جنس رپورٹس اور خبروں کے مطابق پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں افغانی ملوث ہیں۔

    سوشل میڈیا پر ان کی نفرت کھلے عام نظر آ رہی ہے ، پاک فوج اور پاکستان کے خلاف زہریلے پیغامات، جہاں وہ بھارتی پروپیگنڈے کی بازگشت کر رہے ہیں۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں میں بھی افغان حملوں کے پیچھے بھارتی ہتھیاروں اور را کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ پاکستان نے افغانیوں کو کھلایا، ان کی اولاد پالی، مگر اب یہی لوگ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) جیسے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے ہیں اور پاکستان میں خودکش حملے کرتے ہیں۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ برسوں سے شکایات موجود ہیں کہ افغان مہاجر کیمپ اور شہری آبادیوں میں رہائش پذیر رجسٹر اورغیر رجسٹرڈ افغانی پاکستان میں دہشت گردی، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ جیسے غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستانی حکام کی جانب سے بارہا یہ انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں افغان سرزمین اور پاکستان میں مقیم بعض افغان باشندوں کا کردار شامل رہا ہے۔

    بعض افغان مہاجرین کا براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان گروہوں کی مدد کرنا جنہوں نے پاکستان پر حملہ کیا، کسی بھی میزبان ملک کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ یہ مہاجرین اب "مہمان” نہیں رہے بلکہ اب یہ پاکستان کے کھلےدشمن بن چکے ہیں۔ بھارت جو ہمیشہ سے پاکستان کا ازلی دشمن ہے، اب افغان حکومت اور اس کے مہاجرین کو اپنا آلۂ کار بنا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا کے اس دور میں یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ پاکستانی عوام اور پاک فوج کے خلاف افغان باشندوں کی جانب سے نفرت انگیز مواد شیئر کیا جاتا ہےاور کیا جارہا ہے۔ ایسے افراد جو پاکستان میں رہتے ہیں، اس کا کھاتے ہیں اور پھر اسی کے خلاف زہر اگلتے ہیں، کسی بھی صورت مہمان نوازی کے حقدار نہیں سمجھے جا سکتے۔ ان کا عمل واضح طور پر دشمن کے ایما پر قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

    ایک حالیہ ایکس (ٹویٹر)کی پوسٹوں میں دیکھا گیا کہ سرحدی تنازعات اور فوج کے خلاف نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے، جو تقسیم کی سازش کا حصہ ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی نے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس کی نوجوان نسل بھی تباہ ہو رہی ہے۔

    یہ اسمگلنگ نہ صرف اقتصادی طور پر نقصان دہ ہے بلکہ دہشت گردی کو فنڈنگ بھی فراہم کرتی ہے، جیسا کہ بین الاقوامی رپورٹس میں درج ہے کہ طالبان اور دہشت گرد گروہ منشیات کی تجارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ مہاجرین پاکستان کی کمر توڑنے والے "مہمان” بن چکے ہیں۔

    1979 سے اب تک ان افغان مہاجرین نے پاکستان کا کھایا اور اب پاکستان کی ازلی دشمن بھارت کے ایما پر پاکستان میں دہشت گردی اور بدامنی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اب اچھے برے کی تمیز کیے بغیر ان افغان باشندوں سے پاکستان کو پاک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ جب افغان نہیں ہوں گے تو دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔

    پاکستان اور پاکستانی قوم اب مزید ان افغانوں کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جب کسی مہمان کی وفاداری پر سوال اٹھ جائے اور اس کا عمل میزبان کے مفادات کو نقصان پہنچانے لگے، تو مہمان نوازی کا فلسفہ ختم ہو جاتا ہے۔ افغان باشندوں کی پاکستان سے واپسی کے بعد دہشت گردی، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس خود بخود کمزور پڑ جائیں گے۔

    داخلی سلامتی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی اور پاک فوج اپنی توجہ صرف سرحدوں کے دفاع پر مرکوز کر سکے گی۔ حالیہ سرحدی جھڑپوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ داخلی اور خارجی خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور افغان مہاجرین کی موجودگی انہیں مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

    دہائیوں سے افغان مہاجرین پاکستان کے محدود وسائل پر بوجھ ہیں۔ ان کی واپسی سے ملکی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا اور پاکستانی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ نہ صرف مالی بوجھ کم کرے گا بلکہ سمگلنگ نیٹ ورکس کی کمر توڑ دے گا جو پاکستان کی معیشت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کے لیے اس کی قومی سلامتی سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی۔ پاکستان نے جتنا بڑا دل دکھایا ہے، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ لیکن اگر یہ مہمان اپنے میزبان کے ازلی دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل کر اسی کے خلاف کارروائیاں کریں تو یہ عمل ناقابلِ معافی ہے۔ افغان عوام کی مدد اور ہمدردی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب وقت ہے "سب سے پہلے پاکستان” کے اصول پر عمل کیا جائے۔

    یہ ایک سخت لیکن قومی مفاد میں ناگزیر فیصلہ ہے جو پاکستان کو بحفاظت آگے لے جا سکتا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر تمام افغان باشندوں کی رجسٹریشن ختم کر کے انہیں سرحد پار دھکیلنا چاہیے اور یہ افغانی کسی قسم کی مزید رعائت کے حقدار نہیں ہیں ۔ پاک فوج اور حکومت، پاکستان کو افغان باشندوں سے پاک کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں امن، عزت اور خوشحالی کے ساتھ جی سکیں!

  • بھارت کی افغانستان  میں دلچسپی پاکستان  کے لئے براہ راست سلامتی  کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اور دہشت گردی کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان کے ذکر نے ہلاکر رکھ دیا تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط شدہ اس دستاویز پر عمل نہ کرنا بقول شاعر:
    مجروح قافلے کی میری داستان یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
    سیاسی جماعتیں اپنے کردار پر توجہ دیں پھر جمہوریت اور آئین کی بات کریں ،مکانوں کا حُسن سنگ وخشت سے نہیں اُن میں مقیم انسانوں کے کردار سے ہوتا ہے۔ ذرا سوچئے ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ کیوں یہ آگ بھڑک اُٹھتی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ بات تو طے ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث رہا ہے اور آج بھی ملوث ہے ۔ علاقائی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے نہ صرف خطے میں نئی صف بندیاں پیدا کی ہیں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے بھارت کی افغانستان میں دلچسپی کوئی نہیں بات نہیں۔ 2001 کے بعد بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جن میں سے ،سلم ڈیم ، افغان پارلیمنٹ بلڈنگ اور مختلف سڑکوں وتعلیمی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے ۔ یعنی بھارت وسط ایشیا تک اپنی رسائی بڑھانا اور پاکستان کے مغربی اثر کو محدود کرنا ہے ۔ طالبان حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بھارت پھر افغانستان کے ساتھ رابطے بڑھا رہا ہے جو ظاہرکرتا ہے کہ دہلی اپنی نرم طاقت کی حکمت عملی دوبارہ فعال کررہا ہے ۔ بھارت کی افغانستان میں دلچسپی پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی کا خطرہ ہے۔ خاص طورپر کے پی کے اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں۔ بھارت افغانستان تعاون علاقائی تجارت، مفادات خصوصا سی پیک اور وسط ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے منصوبوں پر بالواسطہ اثر ڈال سکتا ہے۔ چین ، ایران اورروس افغانستان میں استحکام کے خواہاں ہیں لیکن ان کے اپنے مفادات ہیں۔

    چین پاکستان کے ساتھ سی پیک کے ذریعے معاشی راہداری قائم کرنا چاہتاہے ۔ ایران چاہتا ہے کہ بھارت کی سرمایہ کاری اس کے راستوں سے ہو جیسے چاہ بہار پورٹ ۔ اس پیچیدہ ماحول میں پاکستان کو محتاط مگر متحرک سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی ۔ پاکستان کو اپنے مفادات کویقینی بنانا ہوگا۔ چین، ایران ، ترکی اور روس جیسے ملک کے ساتھ پالیسی ہم آہنگی بڑھانا ناگزیر ہے ۔ عالمی فورمز پر پاکستان کو شواہد کے ساتھ بھارت کے کردار کو پیش کرنا چاہیئے۔ اندرونی استحکام کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا اصل مضبوط داخلی نظام ، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی یکجہتی میں پوشیدہ ہے ۔ بھارت افغانستان کے تعلقات کا بڑھانا خطے کے لئے نیا منظر نامہ تخلیق کررہا ہے ۔ پاکستان کے لئے یہ چیلنج ضرور ہے مگر خطرہ تب بنتا ہے جب وہ محض رد عمل میں پالیسی بنا ئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان حکمت عملی ، سفارتی کاری اور داخلی استحکام تینوں محاذوں پر متوازن اور سنجیدہ کردار ادا کرے۔ خطے میں امن و استحکام کادارومدار اسی بات پر ہے کہ ہر ملک اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دے یہی امن کی بنیاد ہے۔

  • نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتحاد ، امن کی شاہراہ پر عزم و وفا کا سفر

    پاکستان کی سرزمین ہمیشہ سے قربانی، ایثار اور ایمان کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس نے اپنے سپوتوں کے خون سے وفا کے چراغ جلائے، اور ہر دور میں دشمن کے سامنے سربلند رہی۔ آج جب فتنۂ خوارج اور دہشت گردی کے سائے ایک بار پھر امن کی روشنی کو گہنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو وطنِ عزیز کے فرزندانِ توحید پھر سے ایک عزمِ نو کے ساتھ میدان میں صف بستہ دکھائی دیتے ہیں۔نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں قوم کے پاس ایک ایسی حکمتِ عملی موجود ہے جو محض قانون نہیں بلکہ ایک عہد، ایک پیمان، اور ایک عزم ہے—کہ وطن کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔پاک فوج کے ترجمان کی حالیہ پریس کانفرنس میں جو پیغام قوم کے نام آیا، وہ دراصل ریاستی عزم کی گونج تھی۔نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد ہی امن و امان کی ضمانت ہیں،

    قوم جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سنگلاخ وادیوں میں جو جوان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے ہیں، وہ محض سپاہی نہیں، بلکہ اس قوم کی غیرت اور ایمان کے امین ہیں۔ ان کی شہادتیں، ان کی قربانیاں کسی فرد یا ادارے کی نہیں، بلکہ پورے وطن کی اجتماعی میراث ہیں۔یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں روشنی بن کر جلتے ہیں، اور جن کے دم سے وطن کے افق پر امید کے دیے روشن رہتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت میں انتشار، منافقت یا خوف پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، فتنۂ خوارج نے ہی اس کی بنیاد رکھی۔آج بھی وہی ذہنیت، وہی زہر، نئے چہروں اور نئے ناموں سے وطنِ عزیز میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے یہ عناصر کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اور کبھی آزادی کے نام پر قوم کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔انہی کے تعاقب میں افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، اور یہ قربانیاں اس بات کی ضمانت ہیں کہ قوم دہشت گردی کے اس اندھیرے کو ہمیشہ کے لیے مٹا کر دم لے گی۔

    یہ کوئی راز نہیں کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ازلی دشمن بھارت کا ہاتھ ہے۔ایک طرف وہ دہشت گردی کو فروغ دے کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے امن کا علمبردار بننے کا ناٹک کرتا ہے۔مزید افسوس کا مقام یہ ہے کہ افغانستان، جو کبھی برادر اسلامی ملک کہلاتا تھا، آج خاموش تماشائی بن کر دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔کیا ایک اسلامی ہمسایہ ملک کا یہ شایانِ شان رویہ ہے؟کیا یہ امتِ مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ وہ امن کے دشمنوں کے خلاف صف بستہ ہو جائے؟یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے، پاکستان کا صبر کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہے، اور اس کی خاموشی تدبر کا مظہر۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان صرف ایک سرکاری پالیسی نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کا اجتماعی عہد ہے۔یہ پلان اُس فلسفے پر قائم ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ صرف گولی سے نہیں بلکہ تعلیم، انصاف، روزگار، گورننس، اور قومی یکجہتی سے ممکن ہے۔جب خیبر پختونخوا میں گورننس بہتر ہوگی، جب بلوچستان کے نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں گے، جب قانون سب کے لیے برابر ہوگا، تب ہی وہ خواب حقیقت بنے گا جس میں امن ایک نعمت نہیں بلکہ ایک فطری حق بن جائے گا۔

    یہ وقت تماشائی بننے کا نہیں، بلکہ تاریخ کے دھارے میں کردار ادا کرنے کا ہے۔ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، فرقہ واریت اور سیاسی تقسیم کے زہر کو ترک کرنا ہوگا۔قوم کے ہر طبقے، ہر فرد اور ہر ادارے کو یہ عہد دہرانا ہوگا کہ یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم نہ ماضی میں جھکی ہے، نہ آج جھکے گی۔یہ قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے، جس کے پیچھے ایمان کی قوت اور قربانی کا عزم ہے۔افواجِ پاکستان کے بہادر سپوت اور عوام کے مخلص دل ایک ساتھ کھڑے ہیں ایک ہی مقصد کے لیےمامن، استحکام اور مادرِ وطن کی حفاظت۔

    تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہ قومیں کبھی فنا نہیں ہوتیں جو اپنے شہداء کا خون ضائع نہیں جانے دیتیں۔
    آج جب دشمن چاروں جانب سے نفسیاتی، فکری اور عسکری حملے کر رہا ہے، تو ہمیں ایک ایسی صف میں کھڑا ہونا ہوگا جہاں کوئی کمزور کڑی نہ ہو۔یہی قومی یکجہتی، یہی ایمان، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل ہماری کامیابی کی کنجی ہے۔یہ وطن ہمارا ہے، اور ہم اس کے محافظ ہیں۔ہم اپنی جانوں سے زیادہ اپنے پرچم کو عزیز رکھتے ہیں۔ہم اس سرزمین کے ہر ذرے کی حفاظت کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کو تیار ہیں۔ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی فضاؤں میں امن کا پرچم پھر سے پوری آب و تاب کے ساتھ لہرا رہا ہوگا،اور شہداء کے خون سے سینچی گئی یہ دھرتی ہمیشہ کے لیے دہشت کے سائے سے آزاد ہو جائے گی۔

  • امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی صبح دور نہیں،تحریر:نور فاطمہ

    کبھی کبھی قوموں پر ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب وہ اپنے وجود، اپنی بقا اور اپنی سمت کے تعین کے لیے خود سے سوال کرتی ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑا ہے ، ایک ایسا موڑ جہاں دشمن صرف سرحدوں کے پار نہیں بلکہ ہمارے اندرونی امن اور یکجہتی کو بھی للکار رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نعرہ ہمیں متحد کر سکتا ہے تو وہ ہے: نیشنل ایکشن پلان پر عمل اور قومی اتحاد،ترجمانِ پاک فوج کی حالیہ پریس کانفرنس میں یہی پیغام پوری وضاحت سے سامنے آیا۔سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے نکات قومی منشور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسا منشور جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بندوقوں سے زیادہ، ارادوں اور اتحاد سے جیتی جاتی ہے۔

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر ہمارے زخم ہرے کر دیے ہیں۔ ہمارے نوجوان شہید ہو رہے ہیں، ماؤں کے آنچل لہو سے تر ہو رہے ہیں، اور دشمن اپنی ناپاک سازشوں میں مصروف ہے۔ان حملوں کے پیچھے ازلی دشمن بھارت ہے، جو “فتنۂ خوارج” کے ذریعے وطنِ عزیز کو عدم استحکام میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔کیا برادر اسلامی ملک کا یہ رویہ زیب دیتا ہے کہ پاکستان کے صبر اور بارہا احتجاج کے باوجود وہ ان عناصر کو روکنے میں ناکام رہے جو پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کا خون بہا رہے ہیں؟یہ صرف پاکستان نہیں، پوری امتِ مسلمہ کا اخلاقی امتحان ہے۔

    نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات صرف ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنی کمزوریاں اور ترجیحات دیکھ سکتے ہیں۔ ان نکات پر عملدرآمد ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پلان سیاسی ترجیحات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کہیں فرقہ واریت کا زہر، کہیں صوبائی تعصب کی دیوار، اور کہیں مصلحت کی دبیز تہہ نے اس پلان کی روح کو ماند کر دیا۔اب وقت آگیا ہے کہ اس بھولی ہوئی ترجیح کو ازسرنو زندہ کیا جائے۔نیشنل ایکشن پلان کو محض کاغذی خاکہ نہیں بلکہ ریاستی عزم اور عوامی اعتماد کا استعارہ بنانا ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ہمارے بہادر سپاہی اور جوان دراصل اس قوم کے وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں بھی روشنی بانٹتے ہیں۔ ان کی شہادتیں محض تاریخ کے اوراق نہیں بلکہ عہدِ وفا کی داستانیں ہیں۔یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری ملتِ پاکستان کی مشترکہ میراث ہیں۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وطن کی حفاظت کسی ایک فورس یا طبقے کی ذمہ داری نہیں ، یہ ہم سب کا اجتماعی فریضہ ہے۔

    دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، اس کا مقصد ایک ہی ہے، انتشار، خوف اور بداعتمادی پھیلانا۔ لیکن یہ قوم وہی ہے جو بارہا لہو میں نہا کر بھی سر اٹھا کر کھڑی ہوئی۔افواجِ پاکستان اور عوام آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذبات سے نہیں، عزم اور تدبر سے کام لیں۔پاکستان کی سیکورٹی کی ضمانت ہماری افواج ہیں، مگر پائیدار امن کی بنیاد عوامی یکجہتی ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد، صوبوں میں بہتر گورننس، انصاف تک عام رسائی، اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی ہی وہ راستہ ہے جو قوم کو دوبارہ اعتماد اور سکون کی فضا مہیا کر سکتا ہے۔

    دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ محض بندوقوں کی گھن گرج سے نہیں جیتی جا سکتی؛ اس کے لیے فکری بیداری، قومی شعور اور اجتماعی نظم و ضبط کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "یہ وطن ہمارا ہے، اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے” محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے اور یہ عہد ہم سب کو نبھانا ہے۔آج جب دشمن ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے، ہمیں اپنے گھر کے چراغ مضبوطی سے تھامنے ہیں۔یہی قومی اتحاد، یہی نیشنل ایکشن پلان پر خلوصِ نیت سے عمل، یہی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ یکجہتی ہمارا ہتھیار ہے، ہماری ڈھال ہے، ہمارا فخر ہے۔امن کی صبح دور نہیں، بس شرط یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کر لیں، اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک بار پھر متحد قوم بن جائیں،پاکستان کے دشمنوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ یہ قوم کبھی جھکنے والی نہیں، اور یہ وطن ہمیشہ اپنے شہیدوں کے لہو سے زندہ رہے گا۔ یہ وقت قوم کے اتحاد، نیشنل ایکشن پلان کے احیاء اور افواجِ پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا ہے۔ کیونکہ جب قوم اور فوج ایک ہو جائیں تو کوئی دشمن چاہے اندرونی ہو یا بیرونی، پاکستان کے امن کو پامال نہیں کر سکتا۔

  • خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر

    خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر

    خون کی قیمت پر مہمان نوازی، اب افغانوں کی واپسی ناگزیر
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا حالیہ بیان ایک طویل عرصے سے جاری دیرینہ تکلیف کو کھول کر سامنے لے آتا ہے۔ اُنہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ افغان مہاجرین کی ستر سالہ مہمان نوازی کی قیمت ہم اپنے خون سے ادا کر رہے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس جائیں۔ یہ صرف جذبات نہیں بلکہ ایک سادہ اور سخت پیغام ہے کہ برداشت کی حد پار ہو چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں اُن کی تنبیہ تھی کہ دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ ناقابلِ قبول ہوگا اور پناہ دینے والوں کو حساب دینا پڑے گا۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری "اپنے شہریوں کا تحفظ سب سے اوّل ہے”۔

    2021 کے بعد ٹی ٹی پی نے اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں کیونکہ انہیں افغان سرزمین پر محفوظ ٹھکانے میسر آئے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت ٹی ٹی پی کو بھائی سمجھتی ہے، انہیں ہتھیار، تربیت اور پناہ گاہیں فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی روکی جائے، مگر عملی نتائج ناکافی رہے۔ اس تناظر میں بھارتی عنصر کا ذکر بھی سامنے آتا ہے کیونکہ پاکستانی انٹیلی جنس اور حکام بعض کارروائیوں کے پیچھے بھارتی مداخلت یا پراکسی وار کی نشاندہی کرتے ہیں، دعویٰ کرتے ہوئے کہ بھارت "را” کے ذریعے مالی امداد، ہتھیار اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے تاکہ اندرونی کمزوری پیدا کی جا سکے۔

    2025 میں حملوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان نے یہ محسوس کیا کہ بھارت اور افغانستان "انسانی حقوق” کے پردے تلے اپنی حکمتِ عملی چلاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ جو 9 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی پہنچ کر چھ روزہ قیام پر ہیں اور جہاں وہ بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملے ،جو دہشت گردی اور گٹھ جوڑ کی ایک کڑی محسوس ہوتا ہے۔ 2021 کے بعد یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے اور اس کا پیغام پاکستان کے لیے کوئی اچھا نہیں، خصوصاً جب اسی عرصے میں پاکستان نے افغان مہاجرین کے خلاف "بڑی کارروائی” کا عندیہ دیا۔ متقی کا روس کے بعد پاکستان آنے کے بجائے بھارت جانا پاکستان کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ خواجہ آصف کا پیغام کال ٹو ایکشن بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بیانات، گذشتہ دورِ حکومتوں کی پالیسیاں اور مباحث بھی اس بحث کا حصہ ہیں کہ عمران خان کے دور میں ہونے والے اقدامات، پی ٹی آئی کی بعض پالیسیوں پر تنقید اور مذاکراتی رویے کے تضاد نے ماحول کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

    اس دوران ایک اور خطرناک پہلو سامنے آتا ہے کہ بعض چھوٹے چھوٹے کاروبار، جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، اصل میں دہشت گردوں کے رابطے یا مالیاتی راستے ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ملک بھر میں کئی شہروں میں ایسے چائے خانے ہیں جو عام لوگوں کے لیے "کوئٹہ ہوٹل” کے نام سے معروف ہیں۔ بظاہر معمولی کاروبار دکھائی دیتے ہیں، مگر سیکیورٹی ذرائع اور مقامی رپورٹس کے مطابق یہ بہت سی صورتوں میں سلیپر سیلز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی چائے خانے اور لنڈا کے کاروباروں کی آڑ میں منشیات، اسلحہ، دہشت گردی اور اسمگلنگ کے سلسلے چلتے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں نظرانداز شدہ رابطے، رقم کی ترسیل اور چھوٹے چھوٹے سامان کے ذریعے غیرقانونی نقل و حمل کا جال بنتا ہے۔

    ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان چھوٹے کاروباروں پر فوکس کریں، ان کا ڈیٹا اکٹھا کریں، کاروباری لائسنس اور شناختی کارڈ چیک کریں، کرایہ داروں اور مالکان کا پس منظر دیکھیں اور اگر ضرورت ہو تو مقامی سطح پر ڈیٹا بیس بنائیں تاکہ شناختی روابط سامنے آ سکیں۔ جب ان چائے خانوں اور لنڈا کے ٹھیکوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے گا تو اکثر صورتوں میں افغان شہریوں اور ان سے جُڑے عناصر کی کڑیاں ملنا مشکل نہیں رہے گی۔اس وقت اہم کام یہ ہے کہ ادارے مل کر ایک واضح لائحہ عمل بنائیں، مقامی سطح پر کوئٹہ ہوٹل جیسے مشکوک تجارتوں کا نقشہ تیار کیا جائے، ریڈ کے مطابق کارروائیاں ہوں.

    اس کے علاوہ سفارتی محاذ پر بھی متحرک ہونا پڑے گا ، افغان حکومت سے واضح مطالبات، سرحدی نگرانی میں اضافہ اور بین الاقوامی دباؤ کے ذریعے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ لازمی ہے۔بھارت اور کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت کے الزامات کو سنجیدہ لینا چاہیے اور مناسب ثبوت کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر پوری توانائی کے ساتھ آواز اٹھانا چاہیے،

    دوسری طرف اگر مہمان نوازی قومی جان و مال پر بجلی کی ننگی تار بن جائے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ مہمان نوازی آخر کس قیمت پر جاری رکھی جائے؟ وزیرِ دفاع کا بیان دراصل بیداری کا پیغام ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم اور ریاست مل کر یہ فیصلہ کریں کہ وہ اپنے گھر، اپنی سرحد اور اپنی عوام کا تحفظ کس طرح یقینی بنائیں۔ میزبان کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی حفاظت کرے، لیکن خون کی قیمت پر مزید مہمان نوازی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

    جنہوں نے 1979 سے اب تک پاکستان کا کھایا، یہاں پناہ لی اور پھر اسی ملک کے ازلی دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا کر ہمارے ہی خون سے زمین سرخ کی، وہ اب کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انسانی حقوق کا راگ بہت الاپا جا چکا مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانیوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں؟ کیا انسانی حقوق صرف ان افغان دہشت گردوں کے لیے ہیں جو بھارت کے ایماء پر پاکستان میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں؟ اب خون کی قیمت پر مہمان نوازی ناقابلِ برداشت ہے اور افغانوں کی واپسی ناگزیر ہو چکی ہے۔

  • گوگل کا پاکستانی طلبا کو  مفت جیمینائی اے آئی پرو پلان دینے کا اعلان

    گوگل کا پاکستانی طلبا کو مفت جیمینائی اے آئی پرو پلان دینے کا اعلان

    گوگل نے پاکستانی طلبا کے لیے خصوصی تعلیمی اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طالبعلم ایک سال تک جیمینائی اے آئی پرو پلان مفت حاصل کر سکیں گے۔

    اس کا مقصد طلبا کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کر کے ان کی تعلیم، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔واضح رہے کہ اس پلان کی قیمت پاکستان میں تقریباً 5,600 روپے ماہانہ ہے، تاہم یہ سبسکرپشن اہل طلبا کو بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔

    طلبا کو حاصل ہونے والے فیچرز

    جیمینائی 2.5 ماڈل تک رسائی: ریسرچ، اسائنمنٹس اور پراجیکٹس میں آسانی۔گوگل ایپس میں انٹیگریشن: جی میل، ڈاکس، شیٹس، سلائیڈز اور میٹ میں اے آئی فیچرز۔نوٹ بک ایل ایم: ذاتی تحقیقی اور تحریری ٹول، اضافی آڈیو اوورویوز اور نوٹس کے ساتھ۔ویڈیو تخلیق: ٹیکسٹ اور تصاویر سے جدید ویڈیوز بنانے کی سہولت۔2 ٹی بی کلاؤڈ اسٹوریج: گوگل ڈرائیو، جی میل اور فوٹوز میں وافر اسٹوریج۔ی

    ونیورسٹی کے طلبا اس مفت سبسکرپشن کے لیے سائن اپ کر سکتے ہیں: یہ پیشکش گوگل کے اس عالمی مشن کا حصہ ہے، جس کا مقصد طلبا کو جدید ترین تعلیمی و تخلیقی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    بھارت کے لیے ویزا قوانین میں نرمی نہیں ہوگی،برطانوی وزیراعظم

    افغان حکومت کی پاکستان میں سرگرم افراد کو بسانے کی پیشکش، 10 ارب روپے طلب