Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    یوٹیوب کی سیاست اور قومی سلامتی،ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    قومی سلامتی اور یوٹیوب کی سیاست یہ کیسا المیہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی سیاست کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے کی روایت پھر سے زندہ ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جماعت اور اس کے ہم نوا چند یوٹیوبرز نے ایک کالم کو بنیاد بنا کر وہ بحث چھیڑ دی ہے جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ ریاستی مفاد کے بھی سراسر خلاف ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ یہاں قومی سلامتی محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ریاست کی بقا کا ضامن ہے۔ مگر افسوس، ہمارے ہاں سوشل میڈیا کے مائیک نے ہر اس شخص کو دانشور بنا دیا ہے جس کے پاس کیمرہ، انٹرنیٹ اور کچھ منٹ کی جذباتی تقریر موجود ہو۔ دنیا کے کسی بھی مہذب اور ذمہ دار ملک میں قومی سلامتی کے اداروں کو اس طرح سرِبازار موضوعِ تماشا نہیں بنایا جاتا۔ امریکہ ہو یا یورپ، ترکی ہو یا چین وہاں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے مگر اداروں کو متنازع بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ وہاں یہ شعور موجود ہے کہ ادارے کمزور ہوں تو ریاست بھی کمزور ہو جاتی ہے۔پاکستان میں مگر صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار میں ہوتے ہوئے یہی حلقے انہی اداروں کو سلام پیش کرتے نہیں تھکتے تھے، آج اقتدار ہاتھ سے نکلتے ہی وہی ادارے تنقید کا آسان ہدف بن گئے۔ یہ تضاد محض سیاسی نہیں، بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ کسی کالم یا تجزیے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کرنا، پھر اس پر یوٹیوب عدالتیں لگانا، دراصل اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سوال اٹھائے جائیں یا نہیں،

    سوال یہ ہے کہ کس نیت، کس فورم اور کس حد تک؟ قومی سلامتی کے معاملات جذبات نہیں، ہوش مانگتے ہیں۔ یہ لائکس، سبسکرائبرز اور ویوز کا ایندھن نہیں ہوتے۔ جو لوگ آج غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر رہے ہیں، وہ شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ایسے بیانیے دشمن قوتیں کتنی تیزی سے استعمال کرتی ہیں۔ ریاست اور سیاست میں فرق نہ کرنا ہی ہمارے مسائل کی جڑ ہے۔ سیاست حکومت کے لیے ہوتی ہے، مگر سلامتی ریاست کے لیے۔ جو قوم اس فرق کو مٹا دیتی ہے، تاریخ اس کے ساتھ نرمی نہیں برتتی۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی اختلاف کو سیاسی دائرے میں رکھا جائے اور قومی اداروں کو سیاسی اکھاڑے سے باہر رکھا جائے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی اداروں کی تضحیک جمہوریت نہیں، خودکشی کے مترادف ہے۔ پاکستان کو اس وقت شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جن کندھوں پر اس ملک کی سلامتی کا بوجھ ہے، انہیں کمزور کرنے کا مطلب اپنے ہی مستقبل کو غیر محفوظ کرنا ہے۔
    بقول شاعر
    یہ خاک و خوں کا سفر یوں ہی رائیگاں نہ گیا
    وطن کی آن پر جب بھی آنچ آئی، ہم نے جان دی

  • مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا سفر،تحریر:پروفیسر سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا سفر،تحریر:پروفیسر سیف اللہ قصوری

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض لمحات محض تقاریب نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے عہد کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ تھی، جہاں ماضی کی جدوجہد، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی سمت ایک ہی فکری دھارے میں بہتی دکھائی دی۔ یہ اجتماع محض عہدوں کی تقسیم نہیں تھا بلکہ ایک نظریے کی تجدید، ایک تحریک کی یاد دہانی اور ایک قومی عزم کی تجدیدِ نو تھا۔

    اس موقع پر دل بے اختیار اللہ رب العزت کے شکر سے لبریز ہو گیا کہ اس نے ہمیں ایک روشن اور باوقار ماضی عطا کیا، ایک بامقصد اور متحرک حال سے نوازا اور ہم اس سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ایک ایماندار، خوددار اور نظریاتی مستقبل بھی عطا فرمائے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو برصغیر کے مسلمانوں کی حالتِ زار 1906ء میں بھی کچھ مختلف نہ تھی، جب نواب سلیم اللہ خان کے گھر ڈھاکہ میں مسلم قیادت اکٹھی ہوئی اور آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی۔

    قرآنِ حکیم کا یہ فرمان اُس دور کی پوری تصویر پیش کرتا ہے "یاد کرو جب تم تعداد میں کم اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے، تمہیں ہر وقت اس بات کا خوف رہتا تھا کہ لوگ تمہیں اچک لیں گے، پھر اللہ نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری مدد فرمائی”۔یہی کیفیت اُس وقت مسلمانوں کی تھی اور افسوس کہ آج امتِ مسلمہ مجموعی طور پر ایک مرتبہ پھر اسی آزمائش سے گزر رہی ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے وقتی مفادات کے بجائے نظریے کو تھاما، اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہوئی۔ہم آج 2025 کو رخصت اور 2026 کا استقبال کرنے جا رہے ہیں۔ پورے یقین، ایمان اور مشاہدے کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ 2025 میں مرکزی مسلم لیگ کو جو عزت، پذیرائی اور عوامی قبولیت ملی، وہ کسی اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، خاموش اور مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ یہ سفر عزتوں، فتوحات اور غلبۂ حق کا سفر ہے، جو ان شاء اللہ رکے گا نہیں بلکہ مزید وسعت اختیار کرے گا۔

    میرا ایمان گواہی دیتا ہے کہ اس خطے میں مرکزی مسلم لیگ محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ اللہ کی مشیت کے ایک مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے سیاست کو کبھی اقتدار کی ہوس، ذاتی مفادات یا وقتی فائدے کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ہم نے دہائیوں تک خاموشی سے دعوت کا کام کیا، خدمت کی، مظلوموں کا سہارا بنے، سیلابوں، زلزلوں اور دیگر آفات میں بلاامتیاز عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ پینتیس برس تک یہ جدوجہد بغیر کسی صلے اور شہرت کے جاری رہی، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا؛ اس نے ایسے حالات پیدا کیے کہ یہ تحریک ملکی سیاست کے مرکز میں لا کھڑی ہوئی۔

    پاکستان کے گزشتہ 78برسوں کی تاریخ کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس ملک کو جتنے زخم اندرونی حکمران طبقات نے دیے، شاید بیرونی دشمن بھی اتنے کاری وار نہ کر سکے۔ اقتدار کی ہوس، خاندانی سیاست، ذاتی مفادات اور بدعنوانی نے قومی مفادات کو مسلسل پامال کیا، حتیٰ کہ ملک دولخت ہو گیا۔ یہ سب کچھ نظریاتی انحراف کا نتیجہ تھا۔ایسے نازک موڑ پر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ ایک ایسی قیادت کو ابھارا جائے جو لالچ، حرص اور ذاتی مفادات سے پاک ہو، جو نظریاتی قوت سے مالا مال ہو۔ مرکزی مسلم لیگ اسی نظریاتی سیاست کی علامت ہے۔ ہم کسی فرد، کسی خاندان یا کسی مخصوص گروہ کی سیاست نہیں کرتے۔ ہم ایک نظریے کی دعوت دیتے ہیں، اور وہ نظریہ ہے: لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ محمدٌ رسولُ اللّٰہ ﷺ۔ یہی اسلام کا جوہر ہے اور یہی نظریۂ پاکستان کی اساس ہے۔

    پاکستان کو آج مزید جماعتوں، مزید نعروں یا مزید چہروں کی ضرورت نہیں، بلکہ نظریاتی استقامت اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔ یہی نظریہ سب کے لیے ہے۔ اس ملک میں بسنے والے تمام مذاہب، مسالک اور برادریوں کے افراد اس نظریاتی ریاست میں برابر کے شہری ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحاد، رواداری، ہم آہنگی اور ملی وحدت کو فروغ دیا ہے، نفرت اور تقسیم کی سیاست سے خود کو دور رکھا ہے۔1980ء کی دہائی میں، جب ایک طرف جہادِ افغانستان کا آغاز ہوا تو دوسری جانب فرقہ واریت کا زہر بھی معاشرے میں پھیلایا گیا۔ مسلمان، مسلمان کے خلاف صف آراء ہو گیا۔ اس نازک اور خطرناک دور میں مرکزی مسلم لیگ اور اس سے وابستہ قیادت نے دفاعِ پاکستان کونسل اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے اتحادِ امت کا عملی نمونہ پیش کیا اور خونریزی و انتشار کے آگے مضبوط بند باندھا۔

    آج ہم پورے اعتماد سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ جیسے جیسے مرکزی مسلم لیگ کی سیاست آگے بڑھے گی، ملک میں فرقہ واریت، نفرت اور انتشار میں کمی آئے گی، اور ایک نظریے پر متحد قوم کی تشکیل کا عمل تیز ہو گا۔ پاکستان کو آج ایک بار پھر علامہ اقبالؒ کے تصورِ خودی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن کی اشد ضرورت ہے، جو تمام شہریوں کو ایک قوم کی لڑی میں پرو سکے۔مرکزی مسلم لیگ کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ ہم نے کبھی عوام کی امانت میں خیانت نہیں کی۔ ہم نے لوٹ مار کے بجائے وسائل جمع کیے اور انہیں مصیبت زدہ عوام تک پہنچایا۔ یہی خدمت، یہی اخوت اور یہی مؤاخات پاکستان کی نشاۃِ ثانیہ کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔ہم سودی نظام کے بجائے اسلامی اخوت، زکوٰۃ و عشر، اور باہمی تعاون پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر قوم ایک دوسرے کا سہارا بن جائے تو مہینوں نہیں بلکہ چند برسوں میں پاکستان خود کفیل، مستحکم اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

    برصغیر کی تقسیم کے وقت انگریز اور ہندو گٹھ جوڑ نے پاکستان کے ساتھ تاریخی ناانصافی کی۔ مسلم اکثریتی ریاستوں کو غاصبانہ اور منافقانہ طریقوں سے ہتھیا لیا گیا۔ بھارت نے کبھی پاکستان کی آئینی حیثیت کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ جوناگڑھ، مناوادر، حیدرآباد دکن، گورداسپور اور دیگر علاقوں پر قبضہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ ہم پرامن ہیں، مگر اپنے حق سے دستبردار نہیں۔ یہ مطالبات ہم دنیا کے ہر فورم پر دلیل، وقار اور امن کے ساتھ پیش کرتے رہیں گے۔یہی نظریاتی استقامت، یہی اخلاقی سیاست اور یہی خدمتِ خلق وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر منزلِ مقصود تک پہنچا سکتا ہے۔

  • تحفظ آئین یا تحفظ اقتدار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحفظ آئین یا تحفظ اقتدار.تجزیہ:شہزاد قریشی

    تحفظِ آئین یا تحفظِ اقتدار؟ ایک بنیادی تضاد پاکستان میں آج کل “تحفظِ آئین” ایک مقبول نعرہ بن چکا ہے۔ جلسوں میں، بیانات میں اور ٹاک شوز میں آئین کی بالادستی کا شور ہے، مگر یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت سے موجود ہے کہ جو لوگ آج آئین کے محافظ بنے کھڑے ہیں، وہ خود ماضی میں اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رہے تو اُس وقت انہیں آئین کیوں یاد نہ آیا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ آئین کو سب سے زیادہ نقصان انہی ادوار میں پہنچا جب سیاسی قوتیں اقتدار میں تھیں۔ آئین کبھی ذاتی مفاد کے لیے موڑا گیا، کبھی خاموشی اختیار کر لی گئی، اور کبھی “مصلحت” کے نام پر اس کی خلاف ورزی کو نظرانداز کیا گیا۔ اقتدار کے مزے لیتے ہوئے آئینی اصولوں پر سمجھوتے معمول بنے رہے۔ جب وسائل، اختیارات اور طاقت میسر تھی تو آئین محض ایک دستاویز بن کر رہ گیا؛ مگر جیسے ہی اقتدار ہاتھ سے گیا، وہی آئین یکدم مقدس کتاب بن گیا۔ یہ طرزِ عمل دراصل اصول پسندی نہیں بلکہ سیاسی سہولت کاری ہے، جس میں آئین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے—کبھی ڈھال کے طور پر اور کبھی تلوار کے طور پر۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آج کون آئین کی بات کر رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کون اقتدار میں رہتے ہوئے بھی آئین پر کھڑا رہا؟

    اگر ماضی میں آئین کو مضبوط کیا جاتا، اداروں کو آئینی حدود میں رکھا جاتا اور ذاتی اقتدار کو آئینی تقاضوں پر قربان کیا جاتا، تو آج “تحفظِ آئین” کے نعرے کی شاید اتنی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ قوم کو اب نعروں سے نہیں، کردار سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ آئین کا اصل محافظ وہ ہے جو اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، ہر حال میں آئین کی بالادستی تسلیم کرے۔ بصورتِ دیگر یہ سوالیہ نشان مزید گہرا ہوتا جائے گا کہ آئین واقعی محترم ہے یا صرف اقتدار چھن جانے کے بعد یاد آنے والی ایک سیاسی دستاویز۔

  • یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    تاریخ کے کچھ دن محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے، وہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، فکری اساس اور نظریاتی شناخت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ 30 دسمبر بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں نے ڈھاکہ کی سرزمین پر آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر غلامی کی تاریکیوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔ یہی شمع وقت کے طویل سفر کے بعد پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی، اور آج اسی تسلسل کی فکری و نظریاتی وارث کے طور پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ قوم کے سامنے موجود ہے۔مرکزی مسلم لیگ نے 30 دسمبر کو اپنے یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جس فکری ولولے، نظریاتی شعور اور تنظیمی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، وہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نظریۂ پاکستان محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کرنے والی زندہ حقیقت ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ اس یقینِ محکم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ جس طرح آل انڈیا مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں منتشر مسلمانوں کو ایک قیادت، ایک نصب العین اور ایک پرچم تلے جمع کیا، اسی طرح آج مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں قوم کو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر متحد کرنے، انتشار و افتراق کی سیاست کے خاتمے اور احیائے نظریۂ پاکستان کی عملی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر یومِ تاسیس کے موقع پر ملک کے طول و عرض میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر پروقار تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں یوتھ لیگ، ویمن لیگ، مرکزی کسان لیگ، ملی لیبر، شعبہ اساتذہ اور دیگر ذیلی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اجتماعات فکری بیداری اور نظریاتی تجدید کے مراکز تھے۔یومِ تاسیس کی تقریبات سے مرکزی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاست کو ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اشرافی تسلط سے پاک کر کے خدمت، اصول اور نظریے کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔
    سیف اللہ قصوری، حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، قاری یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک، شفیق الرحمان وڑائچ، انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم، محمد سرور چوہدری، حمیدالحسن، فیصل ندیم، یاور آفتاب اور دیگر رہنماؤں کے خطابات نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی امید، نیا حوصلہ اور نئی فکری توانائی پیدا کی۔ ان مواقع پر انٹرا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نمائندوں سے حلف بھی لیا گیا، جو جمہوری روایات سے وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔

    یومِ تاسیس کی تقریبات کی کوریج کے لیے مرکزی ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کی زیر نگرانی سنٹرل میڈیا سیل نے ایک منظم، ہمہ گیر اور مؤثر مہم چلائی، جس نے الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھرپور اثر چھوڑا،ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ طہٰ منیب کی قیادت میں مرکزی صدر خالد مسعود سندھو، حافظ طلحہ سعید، قاری یعقوب شیخ، عفت سعید، عطاء اللہ غلزئی اور دیگر رہنماؤں کے خصوصی پوڈکاسٹس ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے، جنہوں نے نوجوان نسل میں نظریاتی شعور کو تازہ کیا،ولولہ انگیز ترانے، فکری گرافکس، بامعنی پوسٹرز، مرکزی صدر کا خصوصی کالم اور سینئر صحافیوں و معروف اینکر پرسنز کے پیغامات نے یومِ تاسیس کو ایک تحریک بنا دیا۔

    ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ مرکزی پروگرام میں پیش کی گئی قرارداد درحقیقت قوم کے ضمیر کی آواز تھی۔ اس قرارداد میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان مسلمانوں کی شعوری، نظریاتی اور قربانیوں سے مزین جدوجہد کا ثمر ہے،مرکزی مسلم لیگ خود کو آل انڈیا مسلم لیگ کی فکری، سیاسی اور اخلاقی وارث سمجھتی ہے،شخصیات نہیں، اصول ہماری سیاست کا محور ہوں گے،کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کی غیر مشروط حمایت کی جائے گی،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،سود سے پاک معیشت، عوامی ریلیف اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا عملی ایجنڈا اپنایا جائے گا،یہ قرارداد اس عزم کا اظہار تھی کہ پاکستان کو ایک باوقار، مضبوط اور ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر استوار اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ نے تحریکِ بقائے پاکستان کے آغاز کا اعلان کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جماعت محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ قوم کی فکری تشکیلِ نو، نظریاتی بیداری اور جدید چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ جدوجہد کا عزم رکھتی ہے۔خطے کے بدلتے حالات، بالخصوص بنگلہ دیش کی صورتحال، اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، اور جن بنیادوں پر یہ ملک وجود میں آیا تھا، وہی بنیادیں آج بھی قوم کو جوڑنے کی قوت رکھتی ہیں۔ یومِ تاسیس مرکزی مسلم لیگ مستقبل کا وعدہ ہے، یہ وعدہ کہ پاکستان کو نظریاتی کمزوری، معاشی غلامی اور فکری انتشار سے نکال کر ایک خوددار، خودمختار اور بااصول ریاست بنایا جائے گا۔یہی وہ خواب ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو دیکھا گیا تھا، اور یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے مرکزی مسلم لیگ آج بھی میدانِ عمل میں موجود ہے۔

  • ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ستاروں کے سہارے قومیں نہیں بنتیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام نے انسان کو توہمات، جادو، نجوم اور غیب فروشی سے سختی سے روکا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی واضح اور دو ٹوک ہدایت ہے کہ نجومیوں، کاہنوں اور غیب بتانے والوں کے پاس نہ جایا کرو۔ احادیثِ مبارکہ میں یہاں تک آیا ہے کہ جو شخص کسی نجومی کے پاس جا کر اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے گویا اللہ کی نازل کردہ ہدایت سے انحراف کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان، جو ایک اسلامی نظریے پر قائم ہونے والی ریاست ہے، یہاں آج یہ مناظر عام ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے ٹاک شوز میں باقاعدہ نجومی بٹھائے جاتے ہیں، اینکر حضرات سنجیدہ چہروں کے ساتھ آنے والے سال، سیاسی مستقبل، حکومتوں کی عمر اور حتیٰ کہ قومی سلامتی تک کے سوالات ان سے پوچھتے ہیں۔ یہ سب کچھ براہِ راست اس عقیدے کی نفی ہے کہ غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ قرآنِ کریم واضح اعلان کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں غیب کا علم کسی کے پاس نہیں سوائے اللہ کے۔ اس کے باوجود ہم خود کو مسلمان کہلوانے کے باوجود ان لوگوں کے سامنے بیٹھے نظر آتے ہیں جو ستاروں، تاریخِ پیدائش یا فرضی حساب کتاب کے ذریعے مستقبل کا سودا بیچتے ہیں۔ یہ صرف دینی گمراہی نہیں بلکہ فکری دیوالیہ پن بھی ہے۔ زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس روش کو عام آدمی نہیں بلکہ بڑے سیاستدان، نام نہاد دانشور اور میڈیا کے بااثر چہرے فروغ دے رہے ہیں۔ جب قوم کی رہنمائی کرنے والے خود اس قسم کی لغزشوں میں مبتلا ہوں تو عام آدمی سے کیا شکوہ کیا جائے؟

    یوں لگتا ہے کہ ہم نے تدبر، محنت، منصوبہ بندی اور اللہ پر توکل کی جگہ قسمت کے فال ناموں اور نجومیوں کے تجزیوں کو اپنا لیا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مستقبل کی فکر اللہ پر چھوڑ کر حال کو بہتر بنایا جائے، اعمال درست کیے جائیں، انصاف، دیانت اور محنت کو شعار بنایا جائے۔ مگر ہم ایک ایسی سمت جا رہے ہیں جہاں ناکامی کا الزام کبھی ستاروں پر ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی کسی نجومی کے “کہے” پر قوم کی امیدیں باندھ دی جاتی ہیں۔ یہ روش نہ صرف گناہ ہے بلکہ قوموں کی تباہی کی علامت بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو سمجھے، علما حق بات کہنے میں مصلحت کا شکار نہ ہوں، اور عوام خود بھی یہ طے کریں کہ وہ غیب کے سوداگر بنیں گے یا اللہ پر کامل یقین رکھنے والی قوم۔ سوال یہ نہیں کہ نجومی کیا کہتا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات کو کب سنجیدگی سے لیں گے؟

  • آل انڈیا مسلم لیگ   سے  مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    آل انڈیا مسلم لیگ سے مرکزی مسلم لیگ تک کا سفر،تحریر:خالد مسعود سندھو

    30 دسمبر کا دن برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا سنگ میل ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکہ میں قائم ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کو وہ سیاسی شعور عطا کیا جس نے بالآخر قیامِ پاکستان کی صورت ایک آزاد مملکت کی بنیاد رکھی۔ مسلم لیگ کی جدوجہد کا مقصدصرف اقتدار کا حصول نہیں تھا بلکہ اپنی شناخت، وقار کو زندہ رکھنا تھا جو اسلامی تہذیب ، دینی ثقافت اور اسلاف کے تمدن سے مستعار تھا۔

    مسلم لیگ کی قیادت نے اس دور میں جس بصیرت، قربانی اور اصول پسندی کا مظاہرہ کیا، وہ آج بھی ہماری سیاسی تاریخ کا روشن باب ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے دلیل، قانون اور اخلاقی قوت کے ذریعے ایک ناممکن کو ممکن بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کا نام آج بھی نظریۂ پاکستان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    افسوس کے ساتھ ہمیں یہ کہنا پڑ رہا ہے بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد رفتہ رفتہ سیاست نظریے سے ہٹ کر مفادات، گروہ بندیوں اور وقتی مصلحتوں کی نذر ہوتی چلی گئی۔ مسلم لیگ کا وہ فکرجو قوم کو ایک نصب العین پر جمع کرتا تھا، پس منظر میں چلا گیا۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظریات دب تو سکتے ہیں، ختم نہیں ہوتےوہ نئے ناموں اور نئی صفوں کے ساتھ دوبارہ ابھرتے ہیں۔

    اسی تناظر میں مرکزی مسلم لیگ کو دیکھا جائے تو یہ بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ یہ جماعت مسلم لیگ کے اسی اصل نظریاتی ورثے کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ اسلامی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری سمجھتی ہے۔وہی تصور جو مسلم لیگ کی بنیاد میں شامل تھا۔آج اگر ہم مرکزی مسلم لیگ کو دیکھیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جماعت مسلم لیگ کی اصل روح یعنی مسلمانوں کی اجتماعی خدمت، اتحاد، خودداری اور قومی بقاکو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو محض اقتدار کی دوڑ نہیں بلکہ خدمتِ خلق، عوامی فلاح اور قومی یکجہتی کا ذریعہ سمجھتی ہے، جو کہ مسلم لیگ کے ابتدائی نظریے سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ نے قدرتی آفات، سیلابوں، زلزلوں اور سماجی بحرانوں میں جس منظم، بے لوث اور فوری کردار کا مظاہرہ کیا، وہ ہمیں مسلم لیگ کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب قیادت عوام کے درمیان رہ کر ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی تھی۔ یہ عملی خدمت دراصل اسی فکری تسلسل کا اظہار ہے جس کی بنیاد مسلم لیگ نے رکھی تھی۔

    سیاست کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی، اصلاح اور خدمت ہے۔ اگر مسلم لیگ نے ہمیں آزادی کا راستہ دکھایا، تو مرکزی مسلم لیگ اسی آزادی کو بامقصد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ایک ایسی ریاست کی تشکیل جہاں سیاست اخلاقیات سے جڑی ہو اور قیادت عوام کی خادم ہو۔
    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ناموں سے آگے بڑھ کر نظریات کو دیکھیں۔ مسلم لیگ ایک نظریہ تھی، اور مرکزی مسلم لیگ اسی نظریے کی عملی تصویرہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے غلامی کے دور میں قوم کو آزادی دلائی، اور دوسری آزادی کے بعد قوم کو خوددار، باخبر اور متحد بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔
    ہمیں نیا یا پرانا پاکستان نہیں بلکہ قائد کا پاکستان چاہیے، 78 برسوں میں پاکستان میں جو مسائل سامنے آئے، وہ صرف اور صرف ہمارے ذاتی مقاصد اور ملک کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے چلانے کی وجہ سے آئے ،مسائل کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کا عہد کریں ،ہم ان مقاصد کی طرف آ جائیں جس مقصد کے لیے یہ پاکستان بنایا گیا تھا تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو، ہم طبقاتی اور لسانی کشمکش سے باہر نکل کر نظریے کی بنا پر ایک قوم بن کر اس ملک کو سنوار سکتے ہیں ۔ ایک قوم بن کر وطن عزیز پاکستان کی ترقی کے لیے کام کریں، تاکہ یہاں سے غربت ،افراتفری ،دہشت گردی ختم ہو،پاکستان امن کا گہوارہ بنے،معاشی طور پر مضبوط ہو اور آگے بڑھتے ہوئےعالم اسلام کی قیادت کرے.
    یومِ تاسیس مسلم لیگ کے موقع پر اگر ہم اس فکری ربط کو سمجھ لیں، تو یہی شعور ہماری سیاست کو ایک نئی سمت دے سکتا ہے—وہی سمت جس کا خواب علامہ اقبال اورقائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔

  • قومی شناخت  پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    قومی شناخت پی آئی اے فروخت.تحریر: عائشہ اسحاق

    19 مئی 2013 کو شہباز شریف صاحب کے دیے گئے بیان پر نظر ڈالیں جب مسلم لیگ ن اپوزیشن میں ہوا کرتی تھی۔
    ” V will unveil a plan to steer national institutions ( PIA , Pakistan Railways and Pakistan steel Mills etc ) out of crisis soon ”
    آج پاکستان کے موجودہ وزیراعظم کی حیثیت سے پی آئی اے فروخت کرنے کے بعد کا بیان: "قوم سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا قوم کو مبارکباد ہو” واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ یہ نہ صرف قوم کے ساتھ وعدہ خلافی ہے بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ پی آئی اےسمیت ریلوے اور اسٹیل ملزکو بحران سے نکالنے کا دعوی کرنے والے شہباز شریف صاحب نے آج پی آئی اے کے 30 جہاز 64 بین الاقوامی روٹس 8 بلڈنگز 10 ارب کے سپیئر پارٹس 20 ارب کا فنڈ محض 10 ارب روپے میں پیج ڈالے ۔

    135 ارب کا شور کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کو صرف 10 ارب موصول ہوئے 125 ارب خریدنے والی کمپنی کے مرضی ہے کہ وہ پی آئی اے کی بحالی پر اسے استعمال کریں یا نہ کریں اور بات یہیں پر ختم نہیں ہے بلکہ پونے 700 ارب روپے کا قرضہ بھی حکومت ادا کرے گی جو کہ عوام کی رگوں سے خون نچوڑ کر ادا کیا جائے گا ،پی آئی اے بیچ کر قوم کو مبارک ہو! مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ قومی شناخت بیچنے پر کون سی مبارکباد بنتی ہے؟
    جس ادارے نے کبھی دنیا میں پاکستان کا نام روشَن کیا، آج اسے یوں بیچ دیا گیا جیسے کوئی بھٹکا ہوا شخص اپنی باپ دادا کی نشانی کو چند ٹکوں کے لیے گروی رکھ دے۔

    یہ وہی پاکستان ہے جسے بنانے میں لاکھوں لوگوں نے جانیں دی تھیں… مگر چلانے والوں نے اسے بازار کی دکان بنا دیا۔ کبھی اسٹیل مل بکتی ہے، کبھی ایئرپورٹ، اب قومی ایئرلائن بھی۔ کل کو شاید ہم بھی بیچ دیے جائیں ۔کیونکہ جو قوم اپنی پہچان بیچنے پر خاموش رہتی ہے، اس کے شہریوں کی کوئی قیمت نہیں بچتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ سودا صرف پی آئی اے کا نہیں، قوم کے اعتماد، ٹیکس، خون پسینے اور مستقبل کا سودا ہے۔ جب عوام بھوکی ہو، مہنگائی گلے تک پہنچ جائے، ٹیکس جیب کا آخری سکہ بھی نگل جائے اور حکمران جشن منائیں تو یہ خوشخبری نہیں، قوم سے دشمنی ہے۔

    آپ بتائیں: پی آئی اے کی فروخت قوم کی جیت ہے یا حکمرانوں کی بے ایمانی؟
    اپنی شناخت اپنی پہچان کے لیے آواز اٹھائیں کیونکہ خاموشی بھی ایک جرم ہے۔

  • سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    چکوال میں ہلکی پھلکی بوندا باندی جارہی ہے۔ ہاسٹل کے قدرے روشن ایک کمرے میں بیٹھا ہوں۔ باہر صحن گیلا ہے۔ کبھی کبھار مٹی کی خوشبو نتھنوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔اور دل کسی پرانی کہانی کو لے کر بیٹھا جارہا ہے۔ بارش جیسے ہی تیز ہوتی ہے، تو کھڑکی کے شیشے پر لکیریں سی بن جاتی ہیں۔ یہ لکیریں کسی بد بخت آدم زاد کے نصیب سی لگتی ہیں، آڑی ترچھی، الجھی ہوئی۔
    آج دسمبر کی آخری تاریخ ہے۔ میرے حلقہ احباب کے ایک بزرگ ادیب اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ دسمبر کے آخری دن حساب مانگتے ہیں۔اور یہ حساب مجھے مشکلات میں ڈالے بیٹھا ہے ۔ نئی دیوار پر لگے پرانے کیلنڈر کا آخری ورق چند گھنٹوں بعد اپنا وجود کھو بیٹھے گا۔ 2025 کا واحد دسمبر ہے جو چکوال میں گزرا ہے۔ ابن آدم کی خود کو بے حد مصروف رکھنے کی کوشش کے باوجود بھی، خنک راتوں میں کلیجہ چیرتی یادوں کی ادھ بجھی آگ کی راکھ کریدتے ہوئے کئی بار دل بے قرار کو قرار دینے کی سر توڑ کوششیں کرتا رہا، مگر یہ ابن آدم ناکام رہا۔ مزاجا تو ہم آوارہ گرد ہیں، مگر جاڑے میں مجبورا۔۔۔۔۔ بقول شاعر

    ؎یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں
    کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

    دسمبر نہ جانے کب اور کیسے اداسی کی علامت بن گیا۔ حالانکہ اسی ماہ، کئی خوش نصیب نئے سال سے پہلے نئے سفر کی شروعات کرتے ہیں۔ ڈھول بجتے ہیں،خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ مگر یہ دسمبر ہم جیسوں کے لیے ہر دور میں بھری رہا۔ ہمارے محبوب شاعر امجد اسلام امجد نے بھی،دسمبر کے آخری دنوں کے بارے میں کچھ یونہی کہا تھا۔
    وہ آخری چند دن دسمبر کے
    ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
    خواہشوں کے نگار خانے سے
    کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
    رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
    ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
    فون کی ڈائری کے صفحوں سے
    کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
    جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
    اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
    کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
    رینگتی بدنُما لکیریں سی
    میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
    دوریاں دائرے بناتی ہیں
    نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
    ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
    حادثے کے مقام پر جیسے
    خون کے سوکھے نشانوں پر
    چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
    پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
    ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
    ڈائری ایک سوال کرتی ہے
    کیا خبر اس برس کے آخر تک
    میرے ان بے چراغ صفحوں سے
    کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
    کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
    گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
    خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
    کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
    ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
    اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
    رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
    اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
    ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
    اُن کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
    ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
    اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
    نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
    سائنسی بنیادوں پر بھی سردیوں اور اداسی کا گہرا تعلق ہے۔ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے والا کیمیائی مادہ (Neurotransmitter) سیروٹونن (Serotonin) بھی اس موسم میں کم پیدا ہوتا ہے، جو کہ اداسی کا سبب بنتا ہے۔ساتھ ہی، کم دھوپ کی وجہ سے دوسرا کیمیائی مادہ میلاٹونن (Melatonin) بھی متاثر ہوتا ہے، جو ہمارے موڈ اور نیند کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور اس اداسی کو ماہرین "سیزنل ایفکٹو ڈس آرڈر” کہتے ہیں۔ اور یہ موسمی اداسی حساس لوگوں کو قدرے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ خیر بارش جاری ہے، چپ ہے، 31 دسمبر ہے، رات کے 10 بج چکے ہیں،بقول سیماب سحر ، "سال کا اختتام اچھا ہے”-
    ؎سال کا اختتام اچھا ہے
    سرد موسم تمام اچھا ہے

    کہر میں چھپ چکی ہے باد سموم
    موسموں کا نظام اچھا ہے

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    جیسے ہی سال 2025 اختتام کی جانب بڑھا، پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا، جس میں عسکریت پسند گروہوں نے دوبارہ منظم ہو کر تازہ حملوں کی کوشش کی۔ تاہم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مضبوط اور پُرعزم قیادت میں، پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے اللہ کے فضل و کرم سے اس سال کو دہشت گردوں کے لیے ’’سالِ احتساب‘‘ میں تبدیل کر دیا۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن عزمِ استحکام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی جامع حکمتِ عملی جس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ، فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشنز شامل ہیں،نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی اور بھارت کی پشت پناہی یافتہ گروہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کامیابیوں سے نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی مضبوط ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بڑھا۔

    ایک اہم سنگِ میل پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی غیر مستقل رکنیت کے لیے 2025-2026 کی مدت کے لیے انتخاب ہے، جو جون 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں 182 ووٹ حاصل کر کے ممکن ہوا۔ یہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی آٹھویں مدت ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور کاوشوں کا عالمی اعتراف ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے نمایاں کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی 2025 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی، جس کے ذریعے فیلڈ مارشل منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ اس منصب نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی پالیسی سازی اور ابھرتے خطرات سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، جو ان کی حکمتِ عملی کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔

    دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور ثابت قدم جنگ لڑ رہا ہے۔ بے پناہ چیلنجز کے باوجود، سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور فوج و عوام کے درمیان ناقابلِ شکست رشتہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا رہا ہے۔سال 2025 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تاہم حملوں میں اضافے کے باوجود دہشت گردوں کو پہنچنے والا نقصان تین گنا بڑھ گیا، جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران تقریباً 1,118 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 68 فیصد واقعات خیبر پختونخوا جبکہ 28 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2024 کے مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 2,115 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ شاندار کامیابی فیلڈ مارشل منیر کی عملی اور انٹیلی جنس برتری کو واضح کرتی ہے۔اس کے علاوہ 497 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہے۔

    بدقسمتی سے، تقریباً 664 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 1,025 زخمی ہوئے۔ شہری جانی نقصان میں 580 شہدا اور 982 زخمی شامل ہیں۔یہ قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کے سیکڑوں ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور بارودی مواد تباہ کیا۔خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ (26 واقعات) دیکھا گیا، تاہم 80 فیصد سے زائد حملے ناکام بنا دیے گئے۔ بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آپریشن عزمِ استحکام (جون 2024 میں آغاز) کو ترجیح دی، جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سماجی و معاشی ترقی اور سرحدی سیکیورٹی کو بھی مربوط کیا گیا۔یہ جامع حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم اور رسد کی لائنیں منقطع کی گئیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کاچھی جیسے اضلاع میں ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔ فروری 2025 تک 706 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے تھے۔ صرف بنوں میں 168 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے 170 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جو جدید جنگی مہارت پر فیلڈ مارشل منیر کی دسترس کو ظاہر کرتا ہے۔

    اہم جھلکیاں

    قلات آپریشن (28 دسمبر 2025): بھارت کی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں، 1,500 سے زائد واقعات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔یرہ اسماعیل خان میں دسمبر کے آپریشنز میں 13 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے

    30 دسمبر 2025، افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 45 خوارج کو ناکام بنا دیا گیا۔

    مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران، جو انسدادِ دہشت گردی کی وسیع کوششوں سے جڑی تھی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس پر عالمی سطح پر اسٹریٹجک مہارت کو سراہا گیا۔اس کامیابی سے سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔

    2,115 ہلاک دہشت گردوں میں اکثریت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی، جنہیں مالی وسائل، بھرتی اور لاجسٹکس کو ہدف بنا کر ختم کیا گیا، جو طویل المدتی کامیابی کی بنیاد ہے۔مجموعی طور پر، اگرچہ دہشت گرد سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے دشمن کو 134 فیصد زیادہ نقصان پہنچایا۔ ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، جن میں افغانستان سے سرحد پار دراندازی، ڈیجیٹل دہشت گردی اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکاپاکستان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے دوران امریکا نے بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔

    سعودی عرب نے فیلڈ مارشل منیر کو شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ سلامتی کونسل کی رکنیت کو ان کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا، جس سے عالمی امن میں پاکستان کے کردار کو مزید وسعت ملی۔آنے والے وقت میں ترجیحات میں غیر قانونی افغان باشندوں کی بے دخلی، سوشل میڈیا کی نگرانی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل شامل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رہنمائی میں مضبوط سرحدی باڑ، ڈرون ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پروگرامز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کریں گے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہو کر، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ حملوں میں اضافہ دشمن کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ اندرونی و بیرونی گھیراؤ کی تمام کوششوں کے باوجود، پاکستان کی دانا قیادت اور شہدا کی قربانیوں نے دشمن کے منصوبے چکناچور کر دیے ہیں۔ اللہ کے فضل سے دشمن ہمیشہ شکست خوردہ رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد!

  • عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی حکمرانی اور عوامی توقعات پنجاب اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکمرانی کے دعوے اب محض تقاریر سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی کے متقاضی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں صوبائی حکومت نے جس طرزِ حکمرانی کا آغاز کیا ہے، اس کے خدوخال واضح ہیں اور ترجیحات بھی سامنے آ چکی ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا کہا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کتنا کیا جا رہا ہے اور کتنا مستقل ہوگا۔ امن و امان کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سیف سٹی اتھارٹی کی توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت شہری تحفظ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ کیمروں اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملی ہے، تاہم اس نظام کی شفافیت اور پرائیویسی کے تقاضوں کو نظرانداز کرنا مستقبل میں نئے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ نگرانی کے ساتھ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط کرے۔ صحت کے شعبے میں مفت ادویات، جدید تشخیصی سہولیات اور بنیادی صحت مراکز کی بحالی خوش آئند اقدامات ہیں، مگر سرکاری اسپتالوں میں انتظامی کمزوریاں اور عملے کی قلت تاحال ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ اگر اصلاحات کا دائرہ محض انفراسٹرکچر تک محدود رہا اور انسانی وسائل کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی توقعات کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ تعلیم کے میدان میں سرکاری اسکولوں کی بہتری اور ڈیجیٹل سہولیات مستقبل کی طرف ایک درست قدم ہیں۔ تاہم معیارِ تعلیم صرف عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے بہتر نہیں ہوتا، اس کے لیے اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری اور یکساں تعلیمی پالیسی ناگزیر ہے۔ بچیوں کی تعلیم پر زور قابلِ تحسین ہے، مگر اس کے نتائج تب ہی سامنے آئیں گے جب یہ پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے۔

    نوجوانوں کے لیے اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار سے متعلق پروگرام ایک ضرورت تھے، جنہیں تاخیر سے ہی سہی، تسلیم کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبے وقتی اشتہارات تک محدود رہیں گے یا واقعی نوجوانوں کو باعزت روزگار کی طرف لے جائیں گے؟ اس کا فیصلہ اعداد و شمار اور زمینی حقائق ہی کریں گے۔ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائیوں اور سماجی تحفظ کے منصوبوں نے عوامی سطح پر امید ضرور پیدا کی ہے، مگر پاکستان جیسے معاشرے میں اصل امتحان طاقتور طبقات کے خلاف بلاامتیاز عملدرآمد ہوتا ہے۔ اگر قانون کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف رہا تو اصلاحات محض فائلوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گی۔ مریم نواز حکومت نے درست سمت کا تعین کیا ہے، مگر یہ سمت نتائج سے مشروط ہے۔ عوام اب وعدے نہیں، کارکردگی چاہتے ہیں۔ پنجاب کو ایک جدید، محفوظ اور فلاحی صوبہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ گورننس کو شخصیت نہیں بلکہ ادارے کے گرد منظم کیا جائے۔ اگر حکومت اس اصول پر کاربند رہی تو 2025 محض ایک عددی سال نہیں بلکہ پنجاب کی حکمرانی میں ایک حقیقی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے