Baaghi TV

Category: بلاگ

  • غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غزہ میں قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ، جنگ بندی انسانیت کیلئے امید کی نئی کرن،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن کی ان کوششوں سے ثابت ہوا کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے

    پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے

    عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں سیاسی کھینچا تانیوں میں دب گئیں سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے

    مریم نواز عوامی خدمت کے ذریعے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں مگر کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    غزہ میں امن کی جانب پیش رفت اور قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ ایک انسانی سطح پر بڑی کامیابی ہے خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے جو برسوں سے درد، جدائی اور خوف میں جی رہے تھے۔ غزہ میں جنگ بندی کی خبریں انسانیت کے لیے امید کی نئی کرن ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی انتظامیہ، یورپی ممالک، اسلامی دنیا اور تمام ان ممالک کا جنہوں نے اس امن میں مثبت کردار ادا کیا۔ امن کی یہ کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ جب دنیا ایک ساتھ انسانیت کے لیے کھڑی ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ امن دیر پا ہو گا اور غزہ سمیت پوری دنیا میں انصاف، احترام اور بھائی چارہ قائم ہوگا۔ دوسری جانب پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ جب ملک کے لیے ہمارے جوان اپنی جان قربان کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سیاسی رہنما اپنے ذاتی مفادات، اقتدار کی کشمکش اور ایک دوسرے پر الزامات میں مصروف ہوتے ہیں۔ عوام کے دکھ، مہنگائی اور سکیورٹی جیسے اصل مسائل اکثر پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کی عوام میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ سیاست خدمت کے بجائے ایک کھیل یا تماشہ بن چکی ہے۔ جب تک سیاستدان قوم کے حقیقی مفاد کو اپنی انا اور مفادات سے اوپر نہیں رکھیں گے تب تک دورِ ابتلاء جاری رہے گا۔ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے ایک طرف ملک کی بہادر فوج روزانہ اپنی جانیں قربان کر کے وطن کے امن، سلامتی کی حفاظت کر رہی ہے، اور دوسری طرف سیاسی محاذ پر انتشار، الزام تراشی اور مفاد پرستی کا بازار گرم ہے۔ عوام کے دکھ، مسائل اور امیدیں ان سیاسی کھینچا تانیوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ وعدے تو کرتی ہیں مگر عملی طور پر اکثر ان کے فیصلے ذاتی مفاد، طاقت اور انتقام کے گرد گھومتے ہیں۔ پارلیمان کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے مباحثوں تک شائستگی اور دلیل کی جگہ طنز، الزام اور شور و غوغا نے لے لی ہے۔ عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے وہ سیاست دانوں کی تقاریر میں امید ڈھونڈتا ہے مگر ہر بار اسے مایوسی ہی ہاتھ آتی ہے۔ عوام کے نزدیک سیاست اب خدمت کا نہیں بلکہ مفاد کے تحفظ کا کھیل بن چکی ہے ایک ایسا کھیل جس میں ہار ہمیشہ عوام کی ہوتی ہے۔ عجب تماشہ ہے جو سیاست دان عوام کی خدمت کے راستوں پر چلتا ہے اس کے خلاف سازش شروع ہو جاتی ہے اس کی مثال مریم نواز ہے۔ بلاشبہ وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب میں عوام کی خدمت کرتے ہوئے عام آدمی کے دکھوں کا مداوا کر رہی ہیں حیرت ہے کہ اپنی ناکامی کو دیکھتے ہوئے کچھ سیاستدان اس کے خلاف سازش میں مصروف ہو گئے ہیں جو عوام کے حقوق پر ایک ڈاکے کے مترادف ہے۔ ملک کو اس وقت اتفاق، انصاف اور حقیقی قیادت، ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قوم کے زخموں پر مرہم رکھ سکے نہ کہ انہیں مزید گہرا کرے۔ جب تک سیاست میں اخلاقیات، شفافیت اور قومی مفاد کو ترجیح نہیں دی جاتی پاکستان اپنی حقیقی ترقی اور استحکام کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

  • واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ

    واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ

    واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس حکومتی اداروں کی ناکامی کا آئینہ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    زیرِ زمین پانی کا کڑوا اور کھارا پن ہونا ایک ایسا المیہ ہے جسے ہم سب آنکھیں بند کرکے دیکھ رہے ہیں۔ جی ہاں، میری مراد اُن سرکاری اداروں سے ہے جو اس کے ذمے دار ہیں لیکن ان کا کردار آٹے میں نمک کے برابر رہ گیا ہے۔ جہاں جہاں صنعتی علاقے (انڈسٹریل ایریاز) ہیں، وہاں زیرِ زمین پانی کڑوا اور آلودہ ہو چکا ہے اور مزید ہوتا جا رہا ہے۔ ادارے موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    سب سے بڑی وجہ سرکاری اداروں کی نااہلی اور کرپشن ہے، جنہوں نے اس پورے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ قومی مفاد کے بجائے انفرادی سوچ نے ہمیں ڈبو دیا ہے۔ پانی زندگی کی بنیاد ہے، مگر افسوس کہ پاکستان میں یہی زندگی کا سرچشمہ زہر بن چکا ہے۔

    ہمارے شہروں اور صنعتی علاقوں میں آلودہ پانی کا مسئلہ دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ کے لیے بنائے گئے حکومتی منصوبے ناکامی کی داستان بن چکے ہیں۔ اربوں روپے کے منصوبے صرف کاغذوں میں کامیاب نظر آتے ہیں، مگر زمین پر ان کی حالت بدترین ناکامی کی مثال ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتوں کے پھیلاؤ کے ساتھ صاف پانی کی فراہمی ایک نازک مسئلہ بن چکی ہے۔

    حکومت نے مختلف شہروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، فلٹریشن پلانٹس اور سیوریج ٹریٹمنٹ یونٹس کے قیام کے منصوبے شروع کیے تاکہ شہریوں کو آلودگی سے پاک پانی فراہم کیا جا سکے۔ مگر عملی طور پر یہ پلانٹس یا تو بند پڑے ہیں، یا غیر فعال مشینری کا ڈھیر بن چکے ہیں، اور بعض تو کبھی مکمل ہی نہیں ہوئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہری نکاسی آب کے نالوں اور زہریلے مادوں سے ملا ہوا پانی پینے پر مجبور ہیں۔

    سرکاری و نجی شعبے میں اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے جاتے ہیں مگر نتیجہ صفر۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری اداروں کی عدم دلچسپی ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں پچھلے دس برسوں کے دوران واٹر ٹریٹمنٹ پر اربوں روپے خرچ کیے گئے مگر ان منصوبوں کا حال مایوس کن ہے۔ لاہور میں واسا (WASA) کے زیرِ انتظام کئی ٹریٹمنٹ پلانٹس مشینوں کے پرزے خراب ہونے کے باعث بند ہیں۔ کراچی میں کئی یونٹس مکمل ہونے کے باوجود کام نہیں کر رہے جبکہ جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ میں واٹر سپلائی اسکیمیں ناقص میٹریل کے باعث چند ماہ میں ناکارہ ہو جاتی ہیں۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں بدعنوانی، ناقص منصوبہ بندی اور غیر تربیت یافتہ عملہ واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم کو مکمل طور پر ناکام بنا دیتا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ کا نظام واسا، ٹی ایم ایز، لوکل گورنمنٹ اور انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ ذمہ داری ہے مگر ان اداروں میں نہ کوآرڈینیشن ہے، نہ پلاننگ اور نہ ہی احتساب۔ واسا کے پاس جدید لیبارٹریز نہیں، انوائرمنٹ ڈیپارٹمنٹ صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود ہے، لوکل گورنمنٹ کے پاس فنڈز نہ ہونے کا بہانہ ہمیشہ تیار رہتا ہے، اور سیاست دان ان منصوبوں کو صرف فیتہ کاٹنے کی حد تک یاد رکھتے ہیں۔

    یوں صاف پانی کے منصوبے کاغذی فائلوں اور افتتاحی تختیوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور نتیجے میں عوام زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ناکامی نے عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے، جبکہ آبی حیات بھی شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ شہروں میں نلکوں سے بدبو دار، نمکین اور زنگ آلود پانی آ رہا ہے۔ دیہاتوں میں نکاسی آب کے جوہڑ ہی پینے کے پانی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔

    ہسپتالوں میں گردے، جگر اور آنتوں کی بیماریوں کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ آلودہ پانی سے بچوں کی اموات اور حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کی شرح بڑھ چکی ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسی ریاست میں ہو رہا ہے جو خود کو اسلامی فلاحی ریاست کہتی ہے۔ ہر حکومت اپنے منشور میں صاف پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کرتی ہے، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    “صاف پانی اسکیم” کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، مگر اکثر فلٹریشن پلانٹس بند پڑے ہیں۔ اوور بلنگ، ناقص انتظام اور کرپشن نے نظام تباہ کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں شہریوں نے اپنے خرچے پر فلٹریشن یونٹس لگائے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پینے کے پانی میں ٹوٹل ڈیزالو سالڈز (TDS) 500 ppm سے کم ہونے چاہئیں، مگر پاکستان کے بیشتر شہروں میں یہ 1500 سے 2500 ppm تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

    صاف پانی بنیادی انسانی حق ہے، مگر پاکستان میں یہ حق ایک عیاشی بنتا جا رہا ہے۔ حکومتی ادارے اپنی نااہلی، بدعنوانی اور بے حسی کے باعث عوام کو زہر پینے پر مجبور کر چکے ہیں۔ اگر اب بھی اصلاحِ احوال نہ کی گئی تو آنے والے وقت میں صرف قحط نہیں، بلکہ آلودہ پانی سے ہونے والی اموات سب سے بڑا قومی المیہ بن جائیں گی۔

    سوال یہ ہے کہ آخر اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟

  • گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ . امن پر حملہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ . امن پر حملہ،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    غیر قانونی ریاست اسرائیل نے ایک طویل عرصے سے مشرق وسطی میں دہشت و بد امنی کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ دہشت گرد ریاست روز امن اور انسانی حقوق کے اصولوں کی دھجیاں بکھیرتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی ملک یا مزاحمتی تنظیمیں جیسے حماس اور حزب اللہ مزاحمت کرتی ہے۔ تو امریکہ ، غیر قانونی ریاست اسرائیل کی پشت پناہی کے لئیے حاضر پایا جاتا ہے۔ فلسطینی علاقوں پہ اسرائیلی جارحیت روز کا معمول بن چکا ہے۔ دہشت گرد اسرائیل کا غزہ پر زمینی، بحری اور فضائی محاصرہ جاری ہے۔ جس سے وہاں امداد و خوراک کی شدید قلت واقع ہو چکی ہے۔ اسرائیلی بمباری و دہشت گردی سے روز فلسطینی مسلمان شہید ہو رہے ہیں۔ جو بچے ہیں۔ وہ بھوک اور ادویات کی کمی سے مر رہے ہیں۔ اب تک 66 ہزار سے زائد مظلوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ادارے محض بے بس نظر آتے ہیں۔

    اس سنگین صورتحال میں مختلف ممالک نے غزہ کی جانب ایک پرامن بحری سفر کا آغاز کیا۔ تاکہ غیر قانونی اسرائیل کا غزہ پر بحری محاصرہ پر امن طریقے سے توڑا جا سکے۔ اور غزہ کے محصور عوام کو امداد پہنچائی جا سکے۔ مگر اس پرامن قافلے پہ بھی اسرائیلی جارحیت نہ رک سکی۔

    31اگست 2025ء کو بارسلونا (اسپین) سے اس بحری امدادی قافلے کا آغاز ہوا۔ جسے گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا گیا۔فلوٹیلا بحری اصطلاح میں چھوٹے جہازوں یا کشتیوں کے قافلے کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ صمود عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ڈٹ جانے،مزاحمت، استقامت اور ثابت قدم رہنے کے ہیں۔ اس قافلے میں اہم جہازوں میں Handala, Mavi Marmara ll, Marinette, Akdeniz, Freedom, Hope, Naji Al_Ali، Solidarity اور justice شامل تھے۔ جبکہ کئی اہم تنظیموں نے اس میں شرکت کی۔

    اس فلوٹیلا میں 44 سے زائد ممالک کے 500 سے زائد اہم اراکین، جن میں ڈاکٹر، انسانی حقوق کے کارکنان، پارلیمنٹیرینز، مذہبی رہنما اور صحافی وغیرہ سوار تھے۔ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جبکہ اس فلوٹیلا میں الجزیرہ ٹی وی کے صحافی حسن مسعود اور نیلسن منڈیلا کے پوتے زویلی ویلی منڈیلا بھی شامل تھے۔

    گلوبل صمود فلوٹیلا یعنی "عالمی استقامت کا بحری قافلہ” دراصل 30 مئی 2010ء غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کے لئیے جانے والے بحری قافلے Freedom Flotilla Coalition کا ہی تسلسل ہے۔ جس کے اہم مقاصد میں غزہ کے بحری محاصرے کو توڑنے کی علامتی کوشش کرنا ، وہاں کے محصور عوام تک امداد، ادویات اور خوراک کی فراہمی نیز مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار ء یکجہتی تھا۔ نیز عالمی میڈیا اور اداروں کی توجہ غزہ کی سنگین صورتحال کی طرف دلانا بھی مقصود تھا۔ اس لحاظ سے گلوبل صمود فلوٹیلا انسانی ، اخلاقی اور سیاسی تینوں حوالوں سے ایک پُرامن اور مضبوط مشن تھا۔

    بدقسمتی سے امدادی کارکنوں کے اس پر امن مشن کو بھی اسرائیلی جارحیت سے استثنیٰ حاصل نہ رہا۔ اور مختلف مقامات پہ اس پہ ڈرون حکمت جاری رہے۔ پہلا ڈرون حملہ 8 ستمبر کو تیونس کے قریب ،دوسرا 24 ستمبر اور تیسرا 28 ستمبر 2025ء کو ہوا۔ بالآخر 2 اکتوبر 2025ء کو اسرائیلی نیوی نے فلوٹیلا کے بیشتر جہازوں اور کشتیوں کو قبضہ میں لے لیا۔ 3 اکتوبر 2025ء کو آخری جہاز Marinette کو بھی غزہ سے 42.5 بحری میل کے فاصلے پہ روک کر قبضے میں لے لیا۔ امدادی کارکنوں کو گرفتار اشدود کی بندرگاہ منتقل کر دیا گیا۔ اور ان کے فونز کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کچھ ممالک کے امدادی کارکنوں کو استنبول ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔

    ڈاکٹروں اور صحافیوں پر مشتمل ایک امن امدادی فلوٹیلا پر حملہ درحقیقت امن پہ حملہ ہے۔ اسوقت جبکہ امریکی صدر جنگ بندی کے لیے اپنی مرضی کے پلان دے کے حماس کو دھمکیوں سے آمادہ کرنے کی کوشش میں تھے۔ اسرائیل تب بھی اپنے دہشت گردی جاری رکھے ہوئے تھا۔ اب جبکہ حماس نے بھی ٹرمپ کے 20 نکاتی پلان پہ آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ جس کی رو سے غزہ کا انتظام غیر فلسطینی ٹیکنوکریٹس ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ نہ تو فلسطینی علاقوں پہ اسرائیلی بمباری رکی ہے۔ نہ ہی غزہ میں امداد کے لئیے محاصرہ ختم کیا گیا ہے۔ 4 تا 5 اکتوبر یعنی صرف 24 گھنٹوں 66 فلسطینی شہید کر دیئے گئے ۔ جن میں بچے بھی شامل تھے ۔

    اقوا متحدہ میں ہونے والی حالیہ کانفرنس میں قریباً ہر ملک اسرائیلی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔ اور اسے حل کی طرف لے جانے کے لئیے ایپل کی ہے۔ یہاں تک کہ جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک نے عالمی عدالت (IJC) میں اسرائیل پہ فلسطینیوں کی نسل کشی کو مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

    پاکستان نے فلسطین پہ ہمیشہ ایک واضح موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان جلد آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا ہے۔ جس کا دارالحکومت القدس شریف تسلیم کیا جائے۔ یہی وقت ہے۔ کہ اب مسلم امہ کو متحد ہو کر اس مطالبے پہ عمل درآمد کروانا ہو گا۔ تاکہ خطے میں غیر قانونی ریاست اسرائیل کی دہشت گردی کو روکا جا سکے۔
    ظلم کے خلاف مزاحمت نہ کبھی رکی ہے۔ نہ رکے گی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق10 کشتیوں پر مشتمل "ضمیر” نامی ایک اور امدادی فلوٹیلا غزہ کی جانب محو سفر ہو چکا ہے۔
    ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں جب مظلوم فلسطینیوں کو کفار کے تسلط سے آزادی حاصل ہو گی ۔ اللہ رب العزت جلد فلسطین کے عوام کو امن اور آزادی عطا فرمائے۔ آمین

    اے ارضِ فلسطین کے جانباز سپوتو!
    ہمت نہ کبھی جہد کے میدان میں ہارو!

    تم اصل میں ہو مسجدِ اقصیٰ کے نگہبان
    رہنا ہے تمھیں شام و سحر بر سرِ پیکار

  • بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریٹس کی اقسام .تحریر:ملک سلمان

    ”سدا بہار افسر“
    ’باس از آلویز رائٹ اور یس باس“ کی تسبیح کرتے یہ افسران سنئیر افسران، وزراء اور چیف منسٹر کے درباری بنے ہوتے ہیں۔ جی حضوری کے چیمپئین ہونے کی وجہ سے ہر حکومت میں ”فٹ“ ہو جاتے ہیں اور من مرضی کی پوسٹنگ لیتے ہیں۔ یہ باس اور طاقتور کے سامنے لیٹ جاتے ہیں مگر ماتحت اور عام لوگوں کے سامنے انتہائی سخت گیر۔

    ”ٹک ٹاکر افسران“
    ان کی مثال ”جِنا لُچا اونا اُچا“ والی ہے جو جتنا زیادہ قانون شکن، کرپٹ اور واحیات ہوتا ہے وہ سوشل میڈیا پر اتنا زیادہ اچھا دکھنے کی ایکٹنگ کرتا ہے بلکہ اگر صحیح تشریح کی جائے تو ان افسران میں لُچے اور ٹُچے والی دونوں خصوصیات پائی جاتی ہیں. پہلے افسران اپنی عظیم الشانی کی وجہ سے مشہور ہوتے تھے اب ذلیل الشانی سے۔
    ٹک ٹاکر افسران کی ذلیل ترین قسم والے افسران کی ویڈیو سامنے آتے ہی منہ سے بے ساختہ گالیاں نکل جاتی ہیں کیونکہ یہ اس قدر بے حس اور غیرت سے عاری ہوچکے ہیں کہ اپنی ویڈیو ایکٹنگ کیلئے معزز شہریوں کی پرائیویسی خراب کر رہے ہوتے ہیں۔

    سستے ایکٹر:
    اکثر دفتر اور سرکاری گاڑی کی ویڈیوز لگاتے ہیں تو کبھی انصاف کی بروقت فراہمی کی فیک اور پلانٹڈ ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔
    ایسے افسران اپنی سستی ایکٹنگ سے ناصرف اپنا گھٹیا پن ثابت کرتے ہیں بلکہ افسری کو داغدار کرتے ہوئے ساری سول سروس کیلئے گالی بنے ہوتے ہیں۔ تمام مرد افسران کی سستی ایکٹنگ اتنی بری اور گھٹیا نہیں ہوسکتی جتنی چند خواتین افسران خاص طور پر خواتین پولیس افسران کی ہے۔ خواتین افسران تو باقی خواتین کیلئے قابل تقلید حد تک مہذب ہوتی تھیں لیکن نئی افسران نے شوبز انڈسٹری کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    مجبور ٹک ٹاکر:
    کچھ افسران پہلے والی اقسام کی اوورایکٹنگ اور سنئیرز کی ڈیمانڈ کے ہاتھوں مجبور ہوکر بھی ٹک ٹاکر بنے ہوئے ہیں کہ اگر ویڈیوز نہ بنائی تو سیٹ چھن جائے گی۔

    ”ادیب افسر“
    پہلی بات تو یہ ہے کہ سرکاری افسر کا ادیب ہونا کوئی فخر والی بات نہیں ہے اسے جس کام کیلئے سرکار نے بھرتی کیا ہے وہی کرنا چاہئے۔ادب کا سہارا لینے والوں میں اکثریت نہ ادیب ہوتے ہیں اور نہ اچھے افسر۔

    کاروباری افسرگروپ:
    یہ اپنی سرکاری نوکری اور عہدوں کے مطابق جس محکمے میں بھی جاتے ہیں وہاں کاروباری لائن سیدھی کرلیتے ہیں۔ یہ اپنے مخصوص کاروباری گروپ کے علاوہ نہ تو کسی کی سفارش مانتے ہیں اور نہ ہی کوئی لین دین کرتے ہیں۔

    ”دیانت دار افسر“
    افسروں کی ایک ناپید قسم ہے، انہیں زیادہ تر کھڈے لائن پوسٹنگ ہی ملتی ہے، کبھی یہاں کبھی وہاں ”رولر کوسٹر“ کی طرح دھکے کھاتے رہتے ہیں۔جب ہر طرف پیسوں کی لین دین سے پوسٹنگ کا بازار گرم ہوتا ہے تو چیف سیکرٹری اور آئی جی حضرات ایسے دو، چار ایماندار افسران کو بھی پوسٹ کردیتے ہیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ اگر میرٹ پر پوسٹنگ نہیں ہورہی تو فلاں افسرکا تو سب کو پتا ہے کہ انتہائی دیانتدار ہے وہ کیسے لگ گیا۔

    ”کنسیپٹ کلئیر افسران“
    ایسے افسران کا مائنڈ سیٹ کلئیر ہوتا ہے کہ دونوں ہاتھوں سے اور جھولیاں بھر بھر کے سمیٹنا ہے۔شدید کرپٹ ہونے کی وجہ سے کسی کی کال رسیو نہیں کرتے کہ کہیں کسی سفارشی کال پر مفت میں کام نہ کرنا پڑ جائے۔ سگے باپ کی بھی بات نہیں مانتے جبکہ اپنے ٹاؤٹ کی کال کہیں بھی کسی بھی حالت میں فوراً سے پہلے رسپانس کرتے ہیں۔

    بچے افسران:
    بیوروکریسی میں بچہ کلچر عام اور زبان زد عام ہوچکا ہے کہ یہ فلاں افسر کا بچہ ہے۔ فلاں کا کماؤ پتر اور فلاں کا ”پلاؤ پتر“ہے۔بچے بننے کے مختلف مراحل ہے کمائی کے لحاظ سے کماؤ بچوں کی اکثریت بطور سیکشن آفیسر اور سب رجسٹرار کلک ہوتے ہیں۔ کنسیپٹ کلئیر افسران ان سیٹوں پر سنئیر افسران کے مُنشی بن کر پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور یوں صاحب کا بچہ بن جاتے ہیں اور سارا کیرئیر اس سنئیرز کا بچہ بن کر گزار دیتے ہیں وہی سنئیر نہ صرف اس کیلئے پوسٹنگ مینج کرتا ہے بلکہ شیلٹر بھی فراہم کرتا ہے۔ سنئیر افسر اور بچہ دونوں جہاں بھی بیٹھیں گے ایک دوسرے کے سو کالڈ کارنامے اور فضائل بیان کریں گے۔

    جو افسران جونئیر لیول پر کلک نہیں ہوتے جب گریڈ 18اور انیس میں سسٹم کو سمجھ لیتے ہیں تو جس آفسر کا دامن وہ بچہ بن کر تھامتے ہیں وہ پھر اس کو پوسٹنگ کیلئے ایسے انٹرڈیوس کرواتا ہے کہ سر آپ کو دی بیسٹ بچہ دے رہا ہوں، قابل اور ”ریاضی“ کا ماہر ہے لیکن کمٹمنٹ کا پکا ہے اُس کی طرح نہیں کہ ہر جگہ منہ مارتا ہے۔ بیوروکریسی کے بچہ کلچر میں اس بات کو معیوب بھی سمجھا جاتا ہے انکا بچہ ہر کسی کا بچہ نا بنے، بلکہ ”لو پروفائل” اور ”نان سوشل” رہنا ہے تاکہ بچہ کوئی غلطی نہ کرجائے، بچے تو بچے ہوتے ہیں بعض اوقات نہ بتانے والی بات بھی منہ سے نکال دیتے ہیں اس لیے بچے کو جتنا سنبھال کے رکھا جاسکتا ہو رکھا جاتا ہے۔
    چالیس پینتالیس سال کا افسر بھی بچہ کہلانا فخر محسوس کرتا ہے۔
    بات صرف اتنی ہے جب بچہ بننا فائدے کا سودا ہو تو پھر بچہ بننا اور کہلانا فخر اور شیلٹر محسوس کرتے ہیں۔ جس قدر تیزی سے یہ بچہ کلچر پروان چڑھ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ بیوروکریسی کی عزت اور وقار بالکل ختم ہوجائے اور ہر کوئی بچہ بننے اور کہلانے کی ڈور میں لگ جائے۔

  • امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امن منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلیے مودی حکومت، اسٹیبلشمنٹ کی پاکستان کو دھمکی ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے

    امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں

    پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے

    بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا

    بھارتی حکومت، بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    توجہ برائے امریکی صدر ٹرمپ، توجہ برائے یورپی یونین، توجہ برائے اقوام متحدہ، جب وائٹ ہاؤس سے امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ سے دنیا میں صدائیں بلند ہونے لگی ہیں جنگ نہیں امن۔ دنیا میں اس پر عملی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں اس کی تازہ مثال اسرائیل اور فلسطین کے لیے بیس نکاتی فارمولا پیش کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے دنیا میں امن منصوبے کو سبوتاز کرنے کے لیے بھارت کی مودی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ ثابت ہوا بھارت ایک ملک کے ساتھ ساتھ دہشت گرد ملک ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف سرحدی مسلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکی صدر اپنی سفارتی قیادت استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن و مذاکرات کا فریم ورک قائم کریں۔ بالکل ویسا ہی جیسے فلسطین اسرائیل کے تنازعے کے لیے پیش کیا۔ تاریخ کا مطالعہ کریں پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جانی و مالی نقصان اٹھایا۔ پاک فوج پولیس اور عوام نے قربانیاں دیں جس کا ایک عالم گواہ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا رہا انہیں مالی سپورٹ بھی کرتا رہا۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کراچی اور دیگر شہروں میں دہشت گردی میں ملوث رہا جس کے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار رہا نہ کہ دہشت گردی کا ذمہ دار، دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان میں بھارت ہے جس کی ثبوت عالمی دنیا کے پاس موجود ہیں۔ ہماری پاک فوج جملہ اداروں، پولیس اور عوام نے لہو سے امن کا چراغ جلایا۔ آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد اس بات کا ثبوت ہیں پاکستان نے بھارت کی جانب سے بھیجے گئے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک و قوم کو بچایا۔ یعنی بھیجے گئے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا اور اپنے ملک کو قوم کو بچایا بھارت اب بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وقت آگیا ہے تاریخ کا مطالعہ کیا جائے دنیا سچ کا ساتھ دے پاکستان امن چاہتا ہے جنگ نہیں چاہتا۔ امریکہ مغربی ممالک اور دیگر عالمی قوتیں جنوبی ایشیا میں ایک ایسا خطرہ ابھر رہا ہے جو صرف پاکستان بھارت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام، انسانی المیے اور ممکنہ وسیع البنیاد تنازع میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ خطرہ اگر بروقت، معقول اور غیر جانبدار سفارتی مداخلت سے نہ روکا گیا تو بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع، ماجرین کے ہجوم اور خطے میں بین الاقوامی کشیدگی کے اضافے کا سبب بن سکتا ہے جو عالمی سلامتی اور اقتصادی استحکام دونوں کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ بھارتی حکومت اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور بھارتی عوام ہوش کے ناخن لیں ورنہ تمہاری داستان نہ ہوگی داستانوں میں۔

  • اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،تحریر:نور فاطمہ

    کمرے کی دیواروں پر وقت کے سائے رینگ رہے تھے۔ کھڑکی کے پردے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے، جیسے ہوا بھی کسی انجانی بےچینی کا اظہار کر رہی ہو،شگفتہ آئینے کے سامنے بیٹھی تھی۔آئینہ اُس کا چہرہ نہیں، اُس کی تنہائی دکھا رہا تھا،اس کے ہاتھوں میں کنگھی تھی، مگر وہ بالوں کو نہیں، خیالوں کو سلجھا رہی تھی،خیالات جو برسوں سے الجھے پڑے تھ، کبھی محبت کی نمی میں، کبھی نظراندازی کی دھول میں۔

    ناصر، اس کا شوہر، ہمیشہ کی طرح اخبار کے سمندر میں غرق تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے حروف ناچتے، خبریں چیختیں، تصویریں لہراتیں ، مگر ان سب میں کہیں شگفتہ نہیں تھی،اسی اثنا،شگفتہ نے دھیرے سے کہا،ناصر، آج چاند بہت خوبصورت ہے ناں،ناصر نے اخبار کے اوپر سے سرسری سی نگاہ ڈالی، اور بنا توجہ کئے بولا، ہوں… شاید،اور پھر حروف کی دنیا میں واپس چلا گیا۔

    یہ شاید کا لفظ شگفتہ کے دل میں کسی خنجر کی طرح اتر گیا۔کیا کسی کی توجہ بھی اب شاید ہو گئی ہے؟رات کے وقت وہ اکثر خود سے باتیں کرتی،کبھی آئینے سے، کبھی دیوار سے، کبھی چاند سے،میں تو کچھ نہیں مانگتی، وہ کہتی، نہ تحفے، نہ وعدے،بس ایک لمحے کی نگاہ ایک سنجیدہ لمسِ توجہ،مگر یہ چھوٹی سی خواہش بھی اب دنیا کے شور میں دب چکی تھی،عورت کی آواز اکثر نرم ہوتی ہے، مگر جب وہ دب جاتی ہے تو صدیوں گونجتی رہتی ہے۔

    شگفتہ کی نگاہیں اب کمرے کے ہر کونے میں بھٹکنے لگیں،دریچے، میز، دیوار پر لٹکا کیلنڈر ، ہر شے خاموش تھی،مگر ان خاموشیوں میں ایک طنز چھپا تھا، جیسے کہہ رہی ہوں تمہیں توجہ چاہیے، مگر تمہارا وجود اب معمول بن چکا ہے،کبھی کبھی اسے یاد آتا وہ دن جب ناصر کی نگاہیں اُس پر ٹکی رہتی تھیں،جب ایک چائے کے کپ میں مسکراہٹ گھول دی جاتی تھی،جب خاموشی میں بھی ایک مکالمہ ہوتا تھالیکن….اب تو سب کچھ بدل چکا تھا،توجہ ایک رسمِ ماضی بن گئی تھی،وہ چاہتی تھی کہ کوئی اُس کے چہرے کی لکیروں میں وقت کی تھکن نہ دیکھے، بلکہ اُس کے دل میں باقی رہ جانے والے احساس کو پہچانے۔

    شگفتہ اکثر سوچتی،یہ دنیا عورت سے محبت تو مانگتی ہے، مگر اسے سننا نہیں جانتی،عورت جب بولتی ہے، تو لوگ کہتے ہیں ‘خاموش رہو،اور جب خاموش رہتی ہے، تو کہتے ہیں ‘تم بدل گئی ہو۔کیا عورت کی توجہ کی خواہش کوئی گناہ ہے،یا یہ فطرت کی وہ صدائے خموش ہے جسے مرد سننے سے قاصر ہے؟ایک رات وہ دیر تک جاگتی رہی،
    چاند کھڑکی سے اندر جھانک رہا تھا،اور چاندنی نے کمرے کے ہر کونے کو چھو لیا تھا،اس نے آہستہ سے کہا، چاند، تم بھی تو ہر رات آتے ہو، مگر کوئی تمہیں دیکھتا کب ہے،تمہاری روشنی سب کے لیے ہے، مگر تمہاری تنہائی تمہاری اپنی ہے۔میں تمہاری طرح ہوں شاید، چمکتی ہوئی، مگر غیرمحسوس

    چاند جیسے سن رہا تھا،روشنی کی ایک لہر اس کے چہرے پر گری،اور وہ مسکرا دی ،وہ مسکراہٹ جو دل کی تھکن سے جنم لیتی ہے، مگر شکستگی میں بھی حسن رکھتی ہے۔شگفتہ نے خود سے کہا،شاید عورت کو توجہ کے لیے دوسروں کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔توجہ ایک کیفیت ہے، جو اندر سے پیدا ہوتی ہے،اگر دل بیدار ہو، تو پوری کائنات اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے،اور تب پہلی بار، اس نے خود کو محسوس کیا ،اپنے سانسوں کی نرمی، اپنی آواز کی گہرائی، اپنی مسکراہٹ کی موجودگی،

    کمرے میں اب ویسا سنّاٹا نہیں تھا،دیواریں جیسے سانس لے رہی تھیں،شگفتہ نے کھڑکی کھولی ، ہوا کے نرم جھونکے نے اس کے بالوں کو چھوا،وہ لمحہ گویا کائنات کی خاموش اعترافی نگاہ تھی ،ایک خاموش مگر بھرپور توجہ،ناصر اب بھی اخبار پڑھ رہا تھا،مگر اس رات شگفتہ نے اُس کی طرف نہیں دیکھا۔وہ آئینے میں دیکھ رہی تھی ، خود کو،اور شاید پہلی بار،اسے لگا کہ وہ دیکھی جا رہی ہے ،کسی انسان کی نہیں،بلکہ اپنے وجود کی نگاہ سے

  • لیبر ڈیپارٹمنٹ: مزدوروں کے حقوق کا محافظ یا سرمایہ داروں کا سہولت کار؟

    لیبر ڈیپارٹمنٹ: مزدوروں کے حقوق کا محافظ یا سرمایہ داروں کا سہولت کار؟

    لیبر ڈیپارٹمنٹ: مزدوروں کے حقوق کا محافظ یا سرمایہ داروں کا سہولت کار؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال

    سرکاری اداروں کی جانب سے جب مزدوروں کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو مزدور کے دل میں خوشی کی ایک کرن جاگتی ہے، وہ بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے کہ شاید اب اس کی تنخواہ بڑھے گی، سہولتیں بہتر ہوں گی اور زندگی آسان ہو جائے گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سرکاری اداروں میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو حکومتی اعلانات کو کبھی عملی جامہ نہیں پہننے دیتے۔ یہ ایک منظم مافیا ہے جو ہر دفتر میں اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

    آئیے آج لیبر ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی اور کردار پر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں مزدور طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کارخانے، صنعتیں اور تعمیراتی منصوبے انہی مزدوروں کے خون پسینے سے رواں دواں ہیں۔ مگر افسوس کہ جن اداروں کو مزدوروں کے حقوق کا محافظ بننا تھا، وہی آج سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کے سہولت کار بن چکے ہیں، اور ان میں لیبر ڈیپارٹمنٹ سرفہرست ہے۔

    اگر لیبر ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داریوں پر نظر ڈالیں تو ان میں شامل ہیں:
    ×مزدوروں کی تنخواہوں اور اجرتوں کا تحفظ
    ×کام کے اوقات، حفاظتی اقدامات اور سہولیات کی نگرانی
    ×سوشل سکیورٹی اور EOBI جیسے اداروں کو فعال بنانا
    ×خواتین و بچوں کے حقوق کی حفاظت
    ×حادثات کی صورت میں معاوضہ اور سہولتوں کی فراہمی

    مگر افسوس کہ یہ سب کچھ کتابوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ عملی طور پر مزدوروں کی آواز دبائی جاتی ہے اور مالکان کو قانون توڑنے کی کھلی اجازت دی جاتی ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ کرپشن کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ انسپکشن کے نام پر افسران فیکٹری مالکان سے رشوت وصول کرتے ہیں اور اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ مزدوروں کی تعداد ریکارڈ میں کم ظاہر کی جاتی ہے تاکہ سوشل سکیورٹی اور ٹیکس ادائیگیوں سے بچا جا سکے۔ لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کے بجائے ’’سیٹلمنٹ‘‘ کا طریقہ اپنایا جاتا ہے جبکہ مزدور یونینز کو جان بوجھ کر کاغذی کارروائی میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ وہ غیر فعال رہیں۔

    نتیجہ یہ ہے کہ یہ محکمہ مزدوروں کے تحفظ کے بجائے سرمایہ داروں کا محافظ بن چکا ہے۔ اکثر فیکٹریوں میں آج بھی مزدور کم از کم اجرت سے محروم ہیں۔ حالیہ سرکاری اعلان کے مطابق 8 گھنٹے یومیہ مزدوری پر 40 ہزار روپے تنخواہ مقرر ہے مگر بیشتر مالکان یہ تنخواہ دینے سے انکاری ہیں۔ مزدور سوشل سکیورٹی اور پنشن کے حق سے لاعلم ہیں، حادثات کی صورت میں نہ معاوضہ ملتا ہے نہ علاج، جبکہ یونین سازی کی آزادی محض کاغذوں تک محدود ہے۔

    لیبر ڈیپارٹمنٹ کو ان سب معاملات کا علم ہونے کے باوجود آنکھیں بند رکھنا اس کی پالیسی بن چکی ہے۔ اس نااہلی اور کرپشن کے باعث مزدوروں کا اعتماد ریاستی اداروں سے ختم ہوتا جا رہا ہے، صنعتکار کھلے عام قوانین توڑ رہے ہیں، اور رشوت کا نظام مزدور کے استحصال کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ نتیجتاً سماجی انصاف ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟
    سب سے پہلے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر کرپشن فری بنایا جائے۔ مزدور تنظیموں کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائے، قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہو، انسپکشن سسٹم کو ڈیجیٹل اور شفاف بنایا جائے، مزدوروں کو شکایات کے لیے آسان اور فوری پلیٹ فارم فراہم کیا جائے اور کرپٹ افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

    فی الوقت لیبر ڈیپارٹمنٹ مزدوروں کا سہارا نہیں بلکہ سرمایہ داروں کا سہولت کار بن چکا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو نہ صرف مزدور کا استحصال بڑھے گا بلکہ معیشت بھی غیر متوازن ہو جائے گی۔ ریاست کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ترقی کی بنیاد سرمایہ دار نہیں بلکہ مزدور ہے، اور مزدور کے حقوق کا تحفظ ہی حقیقی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو ادارے کرپشن ختم کرنے کے لیے بنائے گئے، وہ خود کرپشن کا گڑھ کیوں بن گئے؟ کیا یہ ناسور کبھی ختم ہوگا، یا قوم کو مزید 78 سال انتظار کرنا پڑے گا؟ بہرحال، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

  • کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    کیا تم نے دل چیر کر دیکھا ہے؟تحریر:قرۃالعین خالد

    زندگی بہت مختصر ہے اور سب کو اپنے اپنے حصے کی ملی ہے۔ کوئی انسان کسی دوسرے کی زندگی نہیں کی سکتا نہ کسی کی قسمت میں لکھے غموں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے نہ کسی کو ملی خوشیوں کو جی سکتا ہے۔ کوئی انسان کسی کے سکھ اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا اور نہ کسی کے دکھ بانٹ سکتا ہے۔ جو جس کا ہے وہ اسی کا ہے پھر پتہ نہیں کیوں کچھ لوگ اپنے حصے کی زندگی جینے کی بجائے دوسروں کی زندگی میں ذیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
    الحمدللہ! مجھے میرے پیارے رب نے بہت سے ممالک دیکھنے کا موقع نصیب کیا اور تقریباً پیارے وطن کے تمام شمالی علاقہ جات بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ بے شک یہ میرے رب کا فضل ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر طرف ایک گہما گہمی ہے وہاں ہر طرح کے رابطوں کا ذریعہ بھی یہی میڈیم ہے۔ آج سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ایک کلک کے ساتھ آپ اپنی زندگی کے یادگار لمحات کو ہمیشہ کے لیے اپنی یادوں میں قید کر سکتے ہیں ان کو اپنے پیاروں کے ساتھ شئیر بھی کر سکتے ہیں۔ میں سوشل میڈیا پر بہت ذیادہ ایکٹیو بھی نہیں ہوں لیکن ابھی چند دن ہوئے میں نے چند تصاویر پوسٹ کیں اور میں حیران رہ گئی کہ
    لوگ کیسے دوسروں کو دین سکھاتے ہیں۔
    فتوے جاری کرتے ہیں۔
    تو چلیں کچھ باتیں کرتے ہیں!
    ان لوگوں سے جو مجھ سے محبت کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو صرف محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو مجھے دین سکھانا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے بھی جو مجھے غلط اور صحیح کا درس دینا چاہتے ہیں۔
    ان لوگوں سے جو میری فرینڈ لسٹ میں ہیں لیکن فرینڈ نہیں۔
    ان لوگوں سے جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان لوگوں سے بھی جو۔۔۔۔۔۔

    اللّٰہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ میں نے تقویٰ اور فجور انسان کے دل میں ڈال دیا ہے اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں کوئی انسان امریکہ جائے، انگلینڈ جائے، دبئی جائے یا دنیا کے کسی کونے میں جائے اس پر تصویر بنانے اور سیلفی لینے میں کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوتا لیکن حرم جو سب سے قیمتی، پیاری، پاک جگہ ہے جہاں کا ایک ایک لمحہ محفوظ کرنا ہر مسلمان کی اولین خواہش ہو سکتا ہے وہاں پر تصویر لینے میں فوراً فتویٰ جاری۔۔۔۔۔میرا سوال اہل علم و دانش سے ہے تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر لگانا غلط ہے یا حرم میں تصویر بنا کر لگانا غلط۔۔۔۔؟ کیونکہ جہاں تک میری ناقص عقل ہے تو غلط تو ہر جگہ غلط ہی ہوتا ہے۔

    میری عبادت، میرا اللّٰہ سے تعلق، میں اس کی خود ذمہ دار ہوں عام عوام کو میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر میں حرم سے ہر روز ایک سیلفی لے کر پوسٹ کر رہی ہوں تو بھی میری مرضی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی لوگوں کے اعتراضات کی، کوئی صاحب علم و دانش مجھے سمجھا دے کہ گلے میں دوپٹہ ڈال کر یا کبھی بغیر دوپٹے کے بال کھول کر دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی اپنی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالے تو لوگ ماشاءاللہ کی لائن لگا دیتے ہیں لیکن پردے اور خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے کوئی اپنی تصویر لگا دے تو اس کا جینا مشکل کر دیتے ہیں لوگ۔
    لوگ بغیر جانے دوسروں کو کیوں جج کرتے ہیں؟
    کسی کے لباس سے کوئی کیسے کسی کا تعلق باللہ جانچ سکتا ہے؟
    کیا اللہ اور بندے کے درمیان کی محبت ماپنے کا کوئی پیمانہ انسانوں کے پاس ہے؟

    اسی لیے ۔۔۔۔اسی لیے۔۔۔۔اسی تنگ نظری کی وجہ سے ہماری نئی نسل دین سے دور ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ اگر ہم پردہ کریں گے تو زندگی کے دروازے ہم پر تنگ ہو جائیں گے۔ میں ان کو بتانا چاہتی ہوں دین اسلام میں بہت وسعت ہے بس خدود اللّٰہ کا خیال رکھتے ہوئے اپنی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق جئیں اور دوسروں کو جینے دیں۔ اگر کسی کی عبادت قبول نہیں ہو رہی تو پلیز آپ لوگ ٹینشن نہ لیں۔۔۔۔۔اگر اچھا نہیں بول سکتے تو برا بھی نہ بولیں۔۔۔۔۔اتنے تو ہم سب مسلمان ہیں نا کہ حطبہ حجہ الوداع میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔
    "لوگو! تمھارے خون، تمھارے مال، تمھاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسے کہ تم پر آج کا دن اور اس شہر کی حرمت، دیکھو عنقریب تمھیں اللّٰہ کے سامنے حاضر ہونا ہے وہ تم سے تمھارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔”

    غور سے پڑھیے گا تمھارے اعمال کے بارے میں سوال ۔۔۔۔۔۔میرے نہیں ۔۔۔۔۔ کسی اور کے اعمال کے بارے میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے اعمال کے بارے میں اللہ نے پوچھنا ہے۔
    "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔” یہاں تو زبان اور ہاتھ رکتے ہی نہیں۔ جب جس کا دل چاہتا ہے ہاتھ کی انگلیوں سے بٹن دبایا اور تنقید اپنا حق سمجھ لیا۔ اگر تنقید برائے اصلاح ہو تو وہ ان باکس میں کرنی چاہیے کمینٹ باکس میں اصلاح نہیں بلکہ بے عزتی ہوتی ہے۔ صحن حرم میں لی گئی ایک تصویر پر مجھ سے دوستی کے دعوے داروں کا کمینٹ آتا ہے کہ حرم میں جوتا پہنا ہے۔ مجھے بتایا جاتا ہے کہ جوتا اتارتی تو زیادہ عاجزی نظر آتی۔ پھر ایک کمینٹ آتا ہے کہ یہی جوتا واش روم میں لے کر گئیں اور یہی صحن حرم میں، مجھے کوئی ان سے پوچھ کر یہ بتائے جب میں حرم میں واش روم گئی تھی تو یہ میرے ساتھ تھے انہوں نے دیکھا تھا کہ میں نے یہی جوتا پہنا ہے؟ یہاں بھی کوئی سعودی گورنمنٹ کا فتویٰ ہے تو ضرور کوئی مجھے بتائے ورنہ میں نے تو حرم میں ہر سوئیپر کو، ہر پولیس والے کو، ہر ملازم کو ہر ایک کو جوتوں نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ مٹی لگے ہوئے بھاری بھرکم بوٹوں میں دیکھا ہے۔ خدارا دین کو تنگ نہ بنائیں۔
    حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "دین میں آسانی پیدا کرو مشکل میں نہ ڈالو، خوشخبری دو اور متنفر نہ کرو۔”
    دین کے ٹھیکے دار بننے کی بجائے اپنے اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں۔ دور نبوت میں سیدنا اسامہ رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ہم نے ایک سریہ کے دوران ایسے شخص کو پایا جس نے تلوار دیکھ کر فوراً لا الہ الا اللہ پڑھ لیا مجھے لگا اس نے تلوار اور موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے جب یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا: "اسامہ! کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ تمھیں کیسے پتہ کہ اس نے سچ میں کلمہ پڑھا یا موت کے ڈر سے۔” پھر رسول اللّٰہ بار بار یہ بات دہراتے گئے اور میں نے سوچا کاش میں نے آج اسلام قبول کیا ہوتا اور میرے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے۔(حوالہ صحیح مسلم:7)
    کسی کا اللہ سے کیا تعلق ہے؟
    وہ حرم میں تصویر بنائے یا ننگے پاؤں چلے۔۔۔۔وہ فرمان نبوی ہے نا کہ "اللہ بندے کی قربانی کا گوشت یا خون نہیں بلکہ اس کے دل کا تقویٰ دیکھتا ہے۔”
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق:”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔”
    اور جہاں تک میری ناقص معلومات ہیں تو ابھی تک سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ دلوں اور نیتوں کو جانچنے والا کوئی آلہ بنا لیا ہو۔ دوسروں کی نیتوں پر نہیں اپنی نیتوں پر غور کریں۔ خدارا دین میں آسانیاں پیدا کریں جیں اور جینے دیں۔ اللہ پاک ہم سب کی مدد فرمائے آمین!

  • آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں احتجاج: غیر ضروری ہنگامہ،تحریر:یوسف صدیقی

    آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاج کے مظاہرے انتظامیہ اور عوام دونوں کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں یہ مظاہرے شروع میں پرامن تھے، مگر کچھ مقامات پر صورتحال پرتشدد بھی ہو گئی۔ تین پولیس اہلکار اور ایک شہری جاں بحق ہوئے جبکہ سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے۔ یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ احتجاج قابو سے باہر ہے اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔

    مظاہرین کے 38 نکاتی مطالبات میں بجلی، گندم اور دیگر ضروری اشیاء پر سبسڈی شامل تھی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے کر دیے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں آج بجلی اور آٹا سستی دستیاب ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل بنیادی طور پر قانون سازی کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، جس کے لیے وقت درکار ہے۔ اس کے باوجود، کچھ لوگ سیاسی مقاصد کے تحت احتجاج میں حصہ لے رہے ہیں، جس سے عوامی مسائل کا اصل مقصد دھندلا گیا ہے۔

    اس احتجاج میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تنظیم کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا موقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے اور پاکستان یا بھارت دونوں کی مداخلت سے بچنا چاہیے۔ JKLF کے رہنما عوامی ایکشن کمیٹی کے ذریعے مظاہروں کی قیادت کر رہے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ عوامی مفاد کے اصل مسائل پہلے ہی حل ہو چکے ہیں۔ باقی رہ جانے والے مسائل قانون سازی کے ذریعے حل ہوں گے۔ بعض حلقے JKLF کی قیادت میں احتجاج کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ JKLF اور دیگر سیاسی گروہ پرامن اور قانونی راستے اپنائیں تاکہ احتجاج صرف ہنگامہ یا سیاسی مفاد کا ذریعہ نہ بنے۔

    مظاہرین میں شامل کچھ گروہ عوام کو بلیک میل کر کے احتجاج میں شامل کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام کے حقیقی مسائل پس پشت رہ گئے ہیں۔ سڑکوں پر شور مچانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پرامن مذاکرات اور قانونی طریقے ہی اصل حل ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ وہ عوامی مفاد میں سنجیدہ اقدامات پر توجہ دیں۔

    حکومت پاکستان نے فوری اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی، متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کی اور مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی۔ حکومت کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے نوے فیصد مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور باقی پر بات کے لیے بھی تیار ہیں۔ آزاد کشمیر کی حکومت نے بھی پرامن مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی خبروں سے عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ احتجاج صرف ہنگامہ پیدا کر رہا ہے اور عوام کے مسائل حل نہیں کر رہا۔

    بھارتی میڈیا نے مظاہروں کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی اور جعلی ویڈیوز کے ذریعے حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ پاکستانی حکام نے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں اور پروپیگنڈے پر دھیان نہ دیں اور حکومت کی اقدامات پر اعتماد رکھیں۔

    زیادہ تر مطالبات پہلے ہی پورے ہو چکے ہیں اور باقی مسائل قانون سازی اور عملی اقدامات سے حل ہو سکتے ہیں۔ انسانی جانوں کے ضیاع اور علاقے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ احتجاج نے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مظاہرین اور سیاسی گروہ پرامن، قانونی اور شفاف طریقے اپنائیں۔

    آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہرے وقت کا ضیاع اور عوام کے مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ حکومت اور مظاہرین کو چاہیے کہ پرامن مذاکرات اور قانونی اقدامات پر توجہ دیں۔ یہی واحد راستہ ہے جو انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے اور علاقے میں دیرپا امن قائم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

  • اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں
    آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں
    مریم نواز گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپناتے ہوئے پنجاب ہی نہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں
    یورپی یونین کی جانب سے مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کرنے کیساتھ انکے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی گلیاروں میں موجود بعض سیاست دان فوج کے خلاف بیانیہ بنا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ کرتے ہیں انہیں حقیقی ہیرو نہیں کہا جا سکتا۔ اصل ہیرو وہ ہے جو ملکی اداروں کو آئین کے مطابق چلائے اداروں میں توازن قائم کرے اور عوام کو تقسیم نہ کرے۔ اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں۔ فوج کسی فرد واحد کا نام نہیں یہ ایک ادارہ ہے فوج سمیت تمام ادارے آئین کے تابع ہیں۔ سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں۔ قومی سلامتی کے ادارے فوج، رینجرز، پولیس، انٹیلیجنس اور دیگر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی سیاستدان یا گروہ سیاسی اختلاف کو دشمنی بنا کر فوج یا دیگر اداروں کو کمزور کرے تو وہ ملک کو کمزور کرتا ہے۔ کچھ سیاستدان مغربی ممالک اور اداروں کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جمہوریت پسند ہیں اور فوجی اثر و رسوخ کے خلاف ہیں تاکہ انہیں سیاسی یا سفارتی مدد مل سکے۔ ماضی میں ملک و قوم کو مارشل لاء کا سامنا رہا کچھ سیاست دان آمریت کو کندھا بھی دیتے رہے۔ آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں۔ تاہم ملکی سیاست میں فوج کے کردار پر بیانیہ ہمیشہ ایک مرکزی اور متنازع موضوع رہا ہے۔ اس وقت صوبوں میں سیاسی حکومتیں موجود ہیں۔ پنجاب میں ایک خاتون وزیراعلٰی ہے۔ اُس خاتون وزیراعلٰی جن کا نام مریم نواز ہے اس نے اپنی گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپنائی اور صوبہ پنجاب ہی نہیں ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں۔ مریم نواز شریف انسانی حقوق، قانون کی بالادستی، جمہوریت اور کمزور طبقات، خواتین، یتیم بچے، معذور افراد وغیرہ کے حقوق کے حوالے سے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی و ملکی تنظیمیں یورپی یونین سمیت ان سے مل رہے ہیں۔ یورپی یونین مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کر رہی ہے۔ جرمنی سمیت یورپی ممالک کے سفارت خانے ماحول، زرعی ٹیکنالوجی، معاشی تعاون، سبز توانائی، خواتین کی بااختیاری، مریم نواز کے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین امید ہے پنجاب میں اعلٰی درجے کی طرز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں تعلیم، صحت، آئی ٹی، گرین انرجی میں سرمایہ کاری کرے۔ مریم نواز شریف کو صوبے میں باخبر نگرانی اور جواب دہی کے نظام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    بقول شاعر
    وہی ہے اصل سیاست جو ہو عوام کے نام
    یہی ہے شانِ قیادت یہی ہے خدمت کا کام