Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں
    آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں
    مریم نواز گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپناتے ہوئے پنجاب ہی نہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں
    یورپی یونین کی جانب سے مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کرنے کیساتھ انکے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی گلیاروں میں موجود بعض سیاست دان فوج کے خلاف بیانیہ بنا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ کرتے ہیں انہیں حقیقی ہیرو نہیں کہا جا سکتا۔ اصل ہیرو وہ ہے جو ملکی اداروں کو آئین کے مطابق چلائے اداروں میں توازن قائم کرے اور عوام کو تقسیم نہ کرے۔ اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو فوج اور عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے ٹکراؤ نہیں۔ فوج کسی فرد واحد کا نام نہیں یہ ایک ادارہ ہے فوج سمیت تمام ادارے آئین کے تابع ہیں۔ سیاست دانوں کو بھی اپنے اختلافات آئینی اور پارلیمانی راستوں سے حل کرنے چاہیں۔ قومی سلامتی کے ادارے فوج، رینجرز، پولیس، انٹیلیجنس اور دیگر ملک و قوم کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی سیاستدان یا گروہ سیاسی اختلاف کو دشمنی بنا کر فوج یا دیگر اداروں کو کمزور کرے تو وہ ملک کو کمزور کرتا ہے۔ کچھ سیاستدان مغربی ممالک اور اداروں کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جمہوریت پسند ہیں اور فوجی اثر و رسوخ کے خلاف ہیں تاکہ انہیں سیاسی یا سفارتی مدد مل سکے۔ ماضی میں ملک و قوم کو مارشل لاء کا سامنا رہا کچھ سیاست دان آمریت کو کندھا بھی دیتے رہے۔ آمریت کو کندھا دینے والے جمہوریت کے محافظ بھی بنتے نظر آتے ہیں۔ تاہم ملکی سیاست میں فوج کے کردار پر بیانیہ ہمیشہ ایک مرکزی اور متنازع موضوع رہا ہے۔ اس وقت صوبوں میں سیاسی حکومتیں موجود ہیں۔ پنجاب میں ایک خاتون وزیراعلٰی ہے۔ اُس خاتون وزیراعلٰی جن کا نام مریم نواز ہے اس نے اپنی گُڈ گورنس میرٹ کی پالیسی اپنائی اور صوبہ پنجاب ہی نہیں ملکی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز ٹھہریں۔ مریم نواز شریف انسانی حقوق، قانون کی بالادستی، جمہوریت اور کمزور طبقات، خواتین، یتیم بچے، معذور افراد وغیرہ کے حقوق کے حوالے سے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی و ملکی تنظیمیں یورپی یونین سمیت ان سے مل رہے ہیں۔ یورپی یونین مریم نواز کے طرز حکمرانی کی تعریف کر رہی ہے۔ جرمنی سمیت یورپی ممالک کے سفارت خانے ماحول، زرعی ٹیکنالوجی، معاشی تعاون، سبز توانائی، خواتین کی بااختیاری، مریم نواز کے اقدامات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین امید ہے پنجاب میں اعلٰی درجے کی طرز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں تعلیم، صحت، آئی ٹی، گرین انرجی میں سرمایہ کاری کرے۔ مریم نواز شریف کو صوبے میں باخبر نگرانی اور جواب دہی کے نظام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    بقول شاعر
    وہی ہے اصل سیاست جو ہو عوام کے نام
    یہی ہے شانِ قیادت یہی ہے خدمت کا کام

  • اسنیپ چیٹ نے مفت اسٹوریج ختم کرنے کا اعلان، فیس لاگو ہوگی

    اسنیپ چیٹ نے مفت اسٹوریج ختم کرنے کا اعلان، فیس لاگو ہوگی

    انسٹنٹ میسیجنگ ایپ اسنیپ چیٹ نے اعلان کیا ہے کہ اب صارفین پرانی تصاویر اور ویڈیوز محفوظ کرنے کے لیے ادائیگی کریں گے۔

    کمپنی کے مطابق ’میموریز‘ فیچر کے تحت 2016 سے محفوظ تمام تصاویر اور ویڈیوز تک رسائی تو ممکن ہوگی، لیکن جن صارفین کے پاس 5 جی بی سے زیادہ ڈیٹا ہوگا، انہیں اضافی اسٹوریج کے لیے فیس ادا کرنا پڑے گی۔اسنیپ نے بی بی سی کو برطانیہ میں لاگو ہونے والے اسٹوریج پلانز کی قیمت نہیں بتائی، تاہم کہا کہ یہ تبدیلی بتدریج دنیا بھر میں نافذ کی جائے گی۔26 ستمبر کو کیے گئے اعلان میں کمپنی نے بتایا کہ 2016 کے بعد سے اب تک صارفین نے ایک کھرب سے زیادہ میموریز محفوظ کی ہیں۔

    اسنیپ کے مطابق زیادہ تر صارفین، جن کا ڈیٹا 5 جی بی سے کم ہے، ان پر اس تبدیلی کا اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن جن کے پاس ہزاروں سنیپس محفوظ ہیں، انہیں اسٹوریج اپ گریڈ کرنے کے آپشنز فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی پلانز میں 100 جی بی، 250 جی بی اسنیپ چیٹ+ اور 5 ٹی بی اسنیپ چیٹ پلاٹینم شامل ہیں۔

    کمپنی نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ 5 جی بی اسٹوریج سے زائد محفوظ میموریز کو 12 ماہ کی عارضی اسٹوریج فراہم کی جائے گی تاکہ صارفین فیصلہ کر سکیں کہ وہ انہیں اپ گریڈ کریں یا حذف۔

    سندھ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور سخت سزائیں نافذ

    ٹرمپ کی حماس کو سخت وارننگ، وائٹ ہاؤس نے "سرخ لکیر” کھینچ دی

    پشاور میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا، 4 اہلکار زخمی

  • وقارِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں،تحریر: نعیم اشرف

    وقارِ وطن پر کوئی سمجھوتہ نہیں،تحریر: نعیم اشرف

    جو معاملات ریاستِ پاکستان کے وقار سے وابستہ ہوں، وہاں ذاتی پسند و ناپسند، سیاسی وابستگیوں یا انفرادی رائے کو بالائے طاق رکھنا قومی فرض بن جاتا ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ بعض طبقات نے حب الوطنی کے اس بنیادی اصول کو فراموش کر دیا ہے۔ حالیہ ایشیا کپ کی اختتامی تقریب میں پیش آنے والے واقعے کو جس انداز سے موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے، اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک قوم کی صورت میں سوچنے کے قابل رہ گئے ہیں؟ اس تقریب میں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ، محسن نقوی، صرف ایک شخص نہیں تھے۔وہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انکے ہاتھ میں موجود ٹرافی محض ایک کرکٹ سیریز کا انعام نہیں، بلکہ اس ریاست کے وقار کی علامت تھی جس کی بنیاد قربانیوں پر رکھی گئی۔ جب بھارتی ٹیم نے ان سے ٹرافی لینے سے انکار کیا، تو یہ انکار کسی فرد کا نہیں، ایک ریاست کے وقار کا انکار تھا۔ یہ عمل نہ صرف سفارتی آداب کے منافی تھا بلکہ کرکٹ جیسے شائستہ کھیل کی روح کے بھی برخلاف تھا۔ایسے میں چیئرمین پی سی بی نے جو ردعمل دیا، وہ کسی ہنگامی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک اصولی مؤقف تھا۔ "اگر آپ ہم سے ٹرافی نہیں لینا چاہتے، تو پھر یہ آپ کو کسی اور سے بھی نہیں ملے گی” یہ ایک سادہ سی بات نہیں، بلکہ وہ جملہ تھا جس نے برصغیر میں روایتی طور پر بھارتی بالا دستی کے تصور کو چیلنج کیا۔

    برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ بھارت جو چاہے،جیسے چاہے، ویسا کرے اور باقی ممالک اس کے فیصلے کو خاموشی سے تسلیم کر لیں۔ مگر اس بار ایک پاکستانی نمائندے نے، اپنے ادارے کی سطح پر، غیرتِ قومی اور ریاستی وقار کو پہلی ترجیح دیتے ہوئے روایت کو توڑا۔بدقسمتی سے، داخلی سطح پر بعض عناصر نے اس جرات مندانہ اقدام کو ذاتی انا سے تعبیر کیا۔ کچھ نے اسے محض "محسن نقوی کے خلاف احتجاج” کا رنگ دے کر معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی۔ کیا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ بین الاقوامی فورمز پر شخصیات کے پیچھے ریاستیں کھڑی ہوتی ہیں؟ کیا ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت نہیں کہ اگر آج ایک پاکستانی نمائندے کو نظرانداز کرنا آسان سمجھا گیا تو کل یہ طرزِ عمل پاکستان کے صدر یا وزیراعظم کے ساتھ بھی دہرایا جا سکتا ہے؟ یہ وہ موقع تھا جب قوم کو ایک آواز میں بولنا چاہیے تھا، اورکہنا چاہیے تھا کہ "نہیں، یہ پاکستان کی توہین ہے اور ہم اسے برداشت نہیں کریں گے”۔ جو لوگ اس وقت محسن نقوی کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں، اگر یہی ٹرافی کسی غیر ملکی نمائندے کے ذریعے دی جاتی اور محسن نقوی پیچھے ہٹ جاتے تو یہی حلقے اسے کمزوری اور غلامانہ ذہنیت سے تعبیر کرتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار خاموشی اور نرمی کے بجائے، ایک واضح اور دوٹوک پیغام دیا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ علامت اس تبدیلی کی، جس کی اس قوم کو مدتوں سے ضرورت تھی۔ وہ تبدیلی جو ہمیں اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا حوصلہ دے، جو ہمیں بتائے کہ وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اب ہر محفل میں صرف ان کی مرضی نہیں چلے گی۔ یہ وقت قوم کی پشت پر کھڑے ہونے کا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی قیادت، اپنے اداروں اور اپنے فیصلوں کا دفاع نہ کیا تو کل کو ہمیں ہر سطح پر پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔ دنیا صرف ان کا احترام کرتی ہے جو اپنی خودداری کا بھرم رکھتے ہیں، اور یہی وہ پیغام ہے جو پاکستان نے اس چھوٹے سے واقعے کے ذریعے دیا ہے۔محسن نقوی کی ذات اس تحریر کا محور نہیں۔ اصل نقطہ یہ ہے کہ اگر ایک ادارہ ملکی وقار کے لیے کھڑا ہو، تو ہم سب کو اس کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمیں ان رویوں کو ترک کرنا ہوگا جو ہر قومی عمل کو تنقید، تمسخر یا تعصب کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔

    اب وقت ہے کہ ہم اپنی فکری آزادی کو ریاستی وقار سے ہم آہنگ کریں۔ یہ کوئی سیاست کا سوال نہیں، یہ حب الوطنی کا تقاضا ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہر موقع پر مخالف سمت کھڑے ہو کر صرف تنقید کا چراغ جلاتے رہیں گے یا پھر ایک قوم کی طرح، ایک جھنڈے کے نیچے، ایک مؤقف کے ساتھ دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ پاکستان کا پرچم سرنگوں نہیں ہوتا اور نہ ہی ہم کسی قیمت پر وقارِ وطن پر سمجھوتہ کریں گے۔

  • تبصرہ کتب،نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    تبصرہ کتب،نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    پیش نظر کتاب ” نوجوان نسل کےلئے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ عبدالمالک مجاہد کی نئی تالیف ہے جسے دینی کتابوں کے ادارہ دارالسلام انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے ۔یہ کتاب کتب ِ سیرت میں ایک خوبصورت موتی کی طرح گرانقدراضافہ ہے ۔ موضوع جس قدر عظیم ہے عبدالمالک مجاہد نے اسی قدر بہتر طریقے سے اسے لکھنے کاحق ادا کیا ہے ۔ کتاب میں کوئی ایسا واقعہ نہیں جو بغیر سند کے مذکور ہویاجس کی صحت مشکوک ہو ۔ یہ کتاب آپ ﷺ کی حیات مبارک کو مختصر طور پر پڑھنے کی خواہشمند نوجوان نسل کے لئے لاجواب اور بےمثال تحفہ ہے ۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود سیرت النبی کے تمام پہلوﺅں کا مکمل احاطہ کرتی ہے اس میں نبی ﷺ کی مبارک زندگی کے تمام گوشے خوبصورت طریقے سے بیان کئے گئے ہیں ۔کتاب کااسلوب نہایت دلچسپ اورعام فہم ہے جوکہ بطور خاص نوجوان نسل کالجوں ، یونیورسٹیز اوردینی اداروں کے طلبہ وطالبات کے لئے نہایت مفید ہے۔

    انداز بیاں میں سادگی اورروانی ہے تاکہ نوجوان نسل اسے دلچسپی سے پڑھے ۔ اس لئے کہ یہ محبوب الہیٰ کا تذکرہ ہے ۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے دنیا میں بسایا اس کے بعد بیشمار ادوار گزرتے چلے گئے تاآنکہ انسانی جذبات واحساسات نے تحریرکی شکل اختیار کی اول اول انسان نے پتھروں پر لکھنا شروع کیا تب سے اب تک جتنے ادور بھی گزرے، لوگ لکھتے رہے اور لکھتے چلے جائیں گے لیکن سیرت رسول پر لکھنے کا حق ادا نہیں کرسکیں گے سیرت طیبہ کے ہدی خوانوں میں عبدالمالک مجاہد بھی ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ”پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت “ میں تمام واقعات مستند اور صحیح ہیں ۔ یہ واقعات سیرت کی قابل اعتماد کتب سے نقل کئے گئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث اور دیگر عربی عبارات کے ترجمے کو لفظی ترجمے کی بجائے آسان ترین اوربامحاورہ ترجمے کی صورت میں لکھا گیاہے ۔کتاب اللہ کے نبی ﷺ کی روشن زندگی کے روشن اور سبق آموز واقعات پر مشتمل ہے جس کے مطالعہ سے ہم دین ودنیا کی کامیابیاں سمیٹ سکتے اوردنیا کو بھی انسانیت، امن ، سلامتی کاایک امیدافزا پیغام دے سکتے ہیں ۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لوئر مال لاہور پر دستیاب ہے۔ یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کےلئے درج ذیل فون نمبر042-37324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔ 416صفحات پر مشتمل اس کتاب کے لوکل ایڈیشن کی قیمت 1000روپے ، آرٹ پیپر دو کلر ایڈیشن کی قیمت 1300روپے ہے جبکہ امپورٹڈ پیپر پر طبع شدہ ایڈیشن کی قیمت 1900روپے ہے ۔

  • بیوروکریسی کا سوشل میڈیا کا غلط استعمال،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کا سوشل میڈیا کا غلط استعمال،تحریر:ملک سلمان

    گزشتہ برس میں نے سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی جعل سازیوں اور واحیات حرکات پر تفصیلی کالمز لکھے اور وزیراعظم کو اسکی سنگینی سے اگاہ کیا تو وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے فوری طور پر اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن اور غیرضروری مشہوری پر پابندی کا نوٹیفیکیشن کرنے کا حکم دیا۔

    2ستمبر2024کے وزیراعظم شہباز شریف کے حکم کے باوجود پولیس سمیت پنجاب کے افسران ٹک ٹاک سٹار بنے ہوئے تھے میں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی توجہ مبذول کروائی تو انہوں نے بھی سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کو روکنے کے احکامات جاری کر دیے۔سیلابی صورت حال میں سرکاری ملازمین نے پھر سے وہی جعل سازی شروع کردی جس پر میں نے گزشتہ ہفتے دوبارہ کالمز لکھے کہ سرکاری ملازمین اپنا اصل کام چھوڑ کر سیلف پروجیکشن اور سوشل میڈیا پر ایکٹنگ اور اینکرنگ میں لگے ہوئے ہیں الحمدللہ آج وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر ایک دفعہ پھر سے پنجاب بھر کے سرکاری ملازمین کو ناصرف غیر قانونی سیلف پروجیکشن سے روکنے بلکہ غیر ضروری تشہیر اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تجزیہ کاری اور تبصروں سے بھی دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا دور ایک طرف افسران کو سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے سے روکنے میں ناکام رہا وہیں پر بیسوں افسران کو ترقیوں سے محروم کرنے کی وجہ سے بھی متنازع رہا۔ موجودہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کی تعیناتی سے میرٹ پر یقین رکھنے والے افسران بہت خوش اور پرامید ہیں کہ اب انہیں انکا جائز حق یعنی اگلے گریڈ میں ترقی ضرور مل جائے گی۔ جہاں افسران کو ان سے انصاف اور میرٹ کی یقین ہے وہیں میرے جیسے رول آف لاء کی بات کرنے والے بھی یقین کامل رکھے ہوئے ہیں کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ہوگا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے گزارش ہے اس اہم ترین سیٹ بطور سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ ’’افسروں کا افسر“ والی سیٹ پر آپ افسران کو انکا جائز حق اگلے گریڈ میں ترقی ضرور دیں گے لیکن اس کے ساتھ ساتھ افسران کی جعل سازیوں اور سیلف پروجیکشن کی غیرقانونی حرکات پر محاسبہ بھی کریں گے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان سے گزارش ہے کہ انتہائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فوری ایکشن لیا جائے اور سیلف پروجیکشن پر پابندی کا واضح اور نیا نوٹیفیکشن جاری کی جائے کیونکہ سابق سیکرٹری اسٹیشمنٹ نے ”گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے“والا کام کرتے ہوئے 2020میں پی ٹی آئی حکومت میں ہونے والے نوٹیفیکیشن کو ہی دوبارہ جاری کر دیا تھا۔ یاد رہے پی ٹی آئی دور حکومت میں بھی میں نے ہی کالمز لکھے تھے جس پر اس وقت کی حکومت نے جولائی 2020میں سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے ناصرف پالیسی بنائی بلکہ درجنوں افسران کو نوٹس جاری کیے۔

    موجودہ صورت حال میں بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کے سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے نئے نوٹیفیکیشن میں واضح پابندی لگائی جاتی کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔ سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔ سرکاری افسران میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کی پیش نظر ہر طرح کی ذاتی پروجیکشن پر واضح پابندی عائد کی جائے ،بدقسمتی سے سرکاری افسران شہرت کی دوڑ میں اپنی بنیادی ذمہ داری بھول بیٹھے ہیں۔ عوام لٹتی رہے لیکن سوشل میڈیا پر ”صاحب“ کا اقبال بلند رہنا چاہئے۔
    وزیراعظم اور تمام وزراء اعلیٰ کو چاہئے افسران کی ذاتی پروجیکشن اور سوشل میڈیا ماڈلنگ پر پابندی لگائی جائے۔ عوامی خدمت کی بجائے ذاتی پروجیکشن میں مصروف افسران کو فی الفور عہدوں سے فارغ کیا جائے اور انکے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے۔ عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم کون ہو ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔بہت سارے پراجیکٹس کی افتتاحی پلیٹ پر بھی افسران نے اپنے نام کنندہ کیے ہوئے ہیں جو کہ سرا سر اختیارات سے تجاوز ہے۔ عوامی فلاح و بہبود کے تمام تر پراجیکٹس سمیت ہر طرح کی میڈیا پروجیکشن صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا حق ہے۔جہاں تک سیاستدانوں کا تعلق ہے وہ ہمارے منتخب نمائندے ہیں۔انہیں ہم اپنے ووٹ اور مرضی سے سلیکٹ کرتے ہیں۔اس لیے وہ وسائل کے امین ہیں۔ سرکاری افسران کا کام حکومتی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے حکومت وقت کی مثبت تشہیر کرنا ہے نہ کہ ذاتی پروجیکشن۔

    حکومت وقت کو چاہئے کہ اس لاقانونیت کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹیں اور کسی بھی سرکاری ملازم کو میڈیا پروجیکشن کی اجازت نہ دی جائے۔

  • جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں .تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ ہردور میں امن معاہدے لایا،عمل نہ دارد !
    ٹرمپ منصوبے کا یہ مطلب نہیں،پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا
    پاکستان میں کئی مقبول لیڈر اقتدار میں آئے،قوم کیلئے صرف نواز شریف فکرمند
    تجزیہ ،شہزاد قریشی

    موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل، فلسطین 20 نکاتی منصوبہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، ٹرمپ سے قبل بھی، بل کلنٹن، بش اور اوباما نے بھی اپنے اپنے ادوار میں امن معاہدے دنیا میں پیش کئے، 1993 میں اوسلو معاہدہ، پھر بش دور میں امریکہ، یورپی یونین ،روس اور اقوام متحدہ نے پیش کیا اوباما دور میں مذاکرات متعدد بار ہوئے، اب امریکی صدر ٹرمپ نے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس منصوبے کا مستقبل کیا ہوگا یہ ایک سوالیہ نشان ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا یا کرنے جا رہا ہے، پاکستان دیگر اسلامی ممالک کی طرح اسرائیل، فلسطین امن معاہدے میں شامل ہیں،

    پاکستان میں اس وقت سیاسی لیڈرشپ کا فقدان ہے، سیاسی جماعتوں میں موجود علاقائی سیاستدان مسخرے پن کی حدوں کو کراس کر رہے ہیں،جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کب تھی کس کا کیا کردار رہا، اس سلسلے میں پاکستان سمیت ایک عالم گواہ ہے،کیا انہی سیاست دانوں کی وجہ سے آئین کا قتل عام نہیں ہوا؟ کیا آئین کے قتل عام میں ملوث یہ سیاستدان نہیں تھے؟ کہا جاتا ہے کہ عمران خان مقبول لیڈر ہے چلیے مان لیا عمران خان مقبول لیڈر ہیں، کیا وہ جس کشتی میں سوار ہو کر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تھے، اس کشتی کے ملاح کون تھے؟ جمہور کے مسائل کا کسی کو ادراک ہے، نہ تھا، نہ ہے، کس طرح اقتدار حاصل کیا جائے اور کیسے کیا جائے اقتدار کی فکر سب کو ہے اس ملک کو اس عوام کی فکر کسی کو نہیں،سوچیے اور غور کیجئے،

    نواز شریف ملکی سیاسی تاریخ میں ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے ملکی دفاع مضبوط کرنے کے بعد 2013 اور 2017 جب وزیراعظم بنے تو ان کی توجہ کا مرکز معاشی ترقی تھی آج کے وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار گواہ ہیں، ان کے خلاف پانامہ سے قبل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور نااہلی جیسے مقدمات انہی سیاستدانوں کے سامنے بنائے گئے، خدا کی پناہ اعلیٰ ججوں کا ایک گروپ بھی اس سازش میں ملوث نہیں تھا؟ بحیثیت قوم ہم نے اپنے سیاسی لیڈرشپ کی قدر نہیں کی، جس کا خمیازہ آج ملک و قوم دونوں بھگت رہے ہیں، جمہوریت آئین اور قانون کی بالادستی کی آڑ لیکر سیاستدانوں کی اکثریت نے عوام اور اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، آج کی بین الاقوامی سیاسی شطرنج کھیلے جانے والی گیم میں پاکستان درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ملکی معیشت کو سنبھالنا ایک چیلنج ہے، پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وفاقی وزیر خارجہ کی سیاسی حکمت عملی درست راستوں پر چل رہی ہے،

    پاک فوج کسی ایک فرد کا نام نہیں پاک فوج اور جملہ اداروں کو اس ملک کی سرحدوں کی فکر تھی اور یہ جاری ہے، تاہم ہم نے بحیثیت قوم، سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا،،بقول شاعر ،،
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے ان کا بیان کریں
    کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرےدیوان کریں

  • جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    جرائم کی تشہیر کے سائے ،تحریر:یوسف صدیقی

    گزشتہ چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں یہ رجحان شدت سے بڑھا ہے کہ جیسے ہی کوئی بڑا جرم رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا اسے اپنی اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے طوفان برپا ہو جاتے ہیں، اخبارات کی سرخیاں سنسنی خیز انداز میں لکھی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس کے ساتھ تصویریں اور ویڈیوز شیئر کی جاتی ہیں۔ بظاہر یہ اطلاع رسانی کا عمل ہے مگر اصل میں یہ ایک ایسا طرزِ عمل ہے جو معاشرتی اقدار، نفسیات اور قانون پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

    جب کسی شہر یا علاقے میں جرم ہوتا ہے اور اسے بار بار نشر یا شیئر کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر یقینی اور خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عام آدمی یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جرم ہر جگہ ہے اور وہ کسی وقت بھی نشانہ بن سکتا ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے بلکہ اجتماعی طور پر معاشرے کو غیر محفوظ بنا کر پیش کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور بڑا نقصان یہ ہے کہ میڈیا اکثر مجرم کے نام، تصویر اور تفصیلات ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جیسے وہ کوئی غیر معمولی شخصیت ہو۔ اس عمل سے نادانستہ طور پر مجرم کو شہرت ملتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جرم سے زیادہ مجرم کی جرأت یا "کارنامے” کو یاد رکھنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے تاثر سے دوسرے افراد کو بھی یہ ترغیب ملتی ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں تاکہ انہیں بھی پہچان مل سکے۔

    جرائم کی خبر دیتے ہوئے بعض اوقات میڈیا اس حد تک تفصیل بیان کرتا ہے کہ مجرم کے طریقۂ واردات کی مکمل کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ اس سے وہ افراد جو جرم کی طرف میلان رکھتے ہیں، انہیں عملی "رہنمائی” مل جاتی ہے۔ یہ رجحان بالخصوص بینک ڈکیتی، اغوا یا انٹرنیٹ فراڈ جیسے جرائم میں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس سب کے ساتھ ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ جرائم کی مسلسل تشہیر نوجوان نسل پر نہایت برا اثر ڈالتی ہے۔ جب وہ روزانہ قتل، چوری، ڈاکہ یا زیادتی جیسے واقعات دیکھتے اور سنتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں یہ تاثر بیٹھنے لگتا ہے کہ یہ سب "عام” باتیں ہیں۔ یوں جرائم کے خلاف حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے اور برائی کے خلاف اجتماعی ردِ عمل دھندلا جاتا ہے۔

    میڈیا کا کام حقیقت بیان کرنا ہے، لیکن خبر کو اس انداز میں پیش کرنا کہ وہ خوف و ہراس یا سنسنی پھیلائے، صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایک ذمہ دار میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کی اطلاع دے مگر اس کو تفریح یا ڈرامے کا رنگ نہ دے۔ بدقسمتی سے آج زیادہ تر میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا چینلز ریٹنگ اور ویوز کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خبر کو زیادہ دلچسپ بنانے کے لیے غیر ضروری تفصیلات اور جذباتی تجزیے شامل کیے جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں صحافتی اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔ میڈیا کو اپنی زبان، الفاظ اور انداز پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ سخت الفاظ، ڈرامائی بیانات اور خوفناک تصاویر استعمال کرنے سے خبر ایک "تفریحی پیکیج” بن جاتی ہے۔ صحافتی اصول یہ کہتے ہیں کہ جرم کی خبر سادہ، مؤثر اور غیر جانبدار انداز میں دی جائے۔

    ریاست پر لازم ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا کے لیے ایک واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرے۔ ایسا ضابطہ جو بتائے کہ کون سی معلومات عوام تک پہنچانی ضروری ہیں اور کون سی معلومات جرم کو بڑھا سکتی ہیں۔ صرف ضابطہ بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ اداروں کو سختی کے ساتھ نگرانی کرنی ہوگی تاکہ میڈیا ریٹنگ کی خاطر قانون کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اگر کوئی چینل یا پلیٹ فارم جرم کی غیر ضروری تشہیر کرے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

    اگر جرم کی خبر دینی ہی ہے تو اسے اس طرح پیش کیا جائے کہ عوام کو اس سے سبق ملے۔ مثال کے طور پر اگر کسی علاقے میں ڈکیتی ہوئی ہے تو اس کے ساتھ عوام کو حفاظتی تدابیر سے بھی آگاہ کیا جائے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ جرم کے طریقۂ واردات پر نہیں بلکہ اس کے اسباب پر بات کرے۔ مثلاً بے روزگاری، غربت، منشیات یا سماجی ناانصافی جیسے عوامل پر روشنی ڈالی جائے تاکہ اصل بیماری کا علاج ہو سکے۔ جرائم کی خبر کے ساتھ عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ جرم سے کیسے بچا جا سکتا ہے اور اگر جرم ہو جائے تو کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کیا جائے۔

    آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جرم کی خبر دینا ایک صحافتی ضرورت ہے، مگر اس خبر کو اس انداز میں پھیلانا کہ معاشرہ خوف زدہ ہو یا مجرم ہیرو بن جائے، نہایت خطرناک ہے۔ خبر کا مقصد عوامی شعور بیدار کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ریٹنگ بڑھانا یا سنسنی خیزی پھیلانا۔ اگر میڈیا اور ریاست دونوں اپنی ذمہ داری پوری کریں تو جرائم کی تشہیر کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور خبر کو معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔

  • تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور

    تعلیم سب کے لیے، مگر غریب دور
    تحریر: ملک ظفر اقبال
    تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھا اور یہی وجہ ہے کہ آج وہ دنیا میں معاشی، سائنسی اور معاشرتی میدانوں میں آگے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا حق بس ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ کتابوں اور تقاریر میں تو کہا جاتا ہے کہ "تعلیم سب کے لیے”، مگر حقیقت میں یہ سہولت غریب کے لیے دن بدن دور ہوتی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں تعلیم ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے اور کاروباری لوگ ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے بزنس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگی پرائیویٹ تعلیم عام والدین کی پہنچ سے باہر ہے۔ شہروں میں اچھے معیار کے اسکول اور کالجز زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں ہیں جہاں فیسیں ہزاروں اور لاکھوں میں ہیں۔ ایک مزدور یا کم آمدنی والا والد اپنے بچوں کو ان اداروں میں پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

    اگر ہم سرکاری اداروں کی کارکردگی کی بات کریں تو فائلوں کی حد تک تو کامیابی حاصل ہے، مگر فیلڈ رپورٹ کے مطابق اس میں بہت کچھ جھوٹ لکھا ہوتا ہے۔ سرکاری اداروں کی زبوں حالی خود وزیرِ تعلیم بیان کر چکے ہیں کہ کس طرح سرکاری استاد سرکار کو چونا لگاتے ہیں۔ جہاں غریب کے بچے پڑھتے ہیں وہاں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ اکثر اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کی نایابی اور دیگر مسائل طلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کئی اسکولوں میں بجلی، پانی اور بیت الخلاء تک موجود نہیں۔

    کتابوں اور اسٹیشنری کا بوجھ بھی غریب والدین کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ سرکاری اداروں میں بچوں کو بروقت کتب میسر نہیں آتیں جبکہ مہنگائی کے اس دور میں کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مزید بوجھ ڈال دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غریب بچے اکثر تعلیم کی بجائے مزدوری پر لگ جاتے ہیں تاکہ گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔ یوں تعلیم ان کے لیے خواب اور مشقت حقیقت بن جاتی ہے۔

    ہمارے نظامِ تعلیم نے معاشرے کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے جس سے امیر کے بچے مہنگے سکولوں میں انگلش میڈیم تعلیم پاتے ہیں اور آگے جا کر اعلیٰ عہدوں پر قابض ہو جاتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب غریب کے بچے یا تو سرکاری سکولوں کی کمزور تعلیم تک محدود رہتے ہیں یا غربت کی وجہ سے پڑھائی ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی طبقاتی فرق معاشرے میں ناانصافی، احساسِ محرومی اور جرائم کو جنم دیتا ہے۔

    پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ 5 سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم دے۔ لیکن افسوس کہ یہ شق آج تک مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی۔ اگر حکومت واقعی تعلیم کو سب کے لیے ممکن بنانا چاہتی ہے تو اسے:

    * سرکاری اسکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا ہوگا،
    * پرائیویٹ اداروں کی فیسوں پر کنٹرول رکھنا ہوگا،
    * کتابیں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ مفت فراہم کرنا ہوں گے،
    * اور سب سے بڑھ کر والدین کو معاشی سہارا دینا ہوگا تاکہ بچے مزدوری کے بجائے اسکول جا سکیں۔

    مناسب اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے والدین مجبوراً بچوں کو پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجتے ہیں۔ *تعلیم سب کے لیے* کا نعرہ اُس وقت حقیقت بن سکتا ہے جب غریب اور امیر کے بچوں کے درمیان تفریق ختم ہو۔ اگر غریب کا بچہ تعلیم سے دور رہے گا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔ تعلیم کو طبقاتی نہیں بلکہ قومی بنیادوں پر عام کرنا ہوگا، ورنہ یہ نعرہ صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود رہے گا۔

    آخر کب تک؟

  • ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں ایک جانب بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسلسل دھچکے دیے ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان کے ساتھ روابط میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں یہ ’’ری بیلنسنگ‘‘ وقتی حکمت عملی ہے یا طویل المدتی پالیسی، اس پر ابھی واضح نہیں کہا جا سکتا۔

    ٹرمپ نے بھارت کو تجارتی محاذ پر سخت نشانہ بنایا ہے۔ امریکی زرعی اور ڈیری لابیوں کے دباؤ پر وہ بھارت کی سرخ لکیریں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس میں کسی اصولی موقف کے بجائے امریکی طاقت کا مظاہرہ شامل ہے۔ یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا سے یک طرفہ رعایتیں حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ اسی نوعیت کی کامیابی بھارت کے خلاف دکھانا چاہتے ہیں، مگر نئی دہلی اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔روس سے رعایتی نرخوں پر تیل کی خریداری روکنے کے لیے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جسے صرف تجارتی نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔امریکہ نے ایران کی بندرگاہ چابہار پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں، جہاں بھارت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر چین اور پاکستان کے گوادر پورٹ کے حق میں جا رہا ہے۔ یہی گوادر ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کا اہم حصہ ہے جو چین کو خلیجی خطے تک رسائی دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ بھارت سے اس وقت ناخوش ہوئے جب اس نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد جنگ بندی کا سہرا انہیں دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان نے نہ صرف ٹرمپ کو اس جنگ بندی کا کریڈٹ دیا بلکہ باضابطہ طور پر انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ اس سے ٹرمپ کا جھکاؤ مزید اسلام آباد کی جانب بڑھ گیا۔ٹرمپ بارہا کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے بھارت مسترد کرتا آیا ہے۔ تاہم یہ بیانات پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی امریکی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔امریکی صدر کی نئی پالیسی میں سعودی عرب بھی شامل ہے، جہاں پاکستان کو سکیورٹی پارٹنر بنانے کے لیے ایک دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے پیچھے امریکی رضامندی لازمی شامل ہے کیونکہ سعودی سلامتی ہمیشہ امریکی ہتھیاروں اور اڈوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی فنڈنگ سے مزید بڑھ سکتی ہیں۔

    پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں نجی دعوت دینا اور امریکی جنرل کا پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کو سراہنا اسی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو ’’ایٹمی تحفظ‘‘ کی پیشکش پر بھی واشنگٹن نے خاموشی اختیار کی ہے۔معاشی محاذ پر پاکستان نے بلوچستان میں رئیراَرتھ (Rare Earths) دھاتوں کی کان کنی کے حقوق امریکا کو دینے کی پیشکش کی ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ منصوبہ ہے، لیکن امریکی کمپنی کے ساتھ ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’پاکستان کرپٹو کونسل‘‘ اور وائٹ ہاؤس کے قریبی کاروباری حلقوں کے درمیان کرپٹو کرنسی کے معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ٹرمپ نے سیاسی، عسکری اور معاشی کارڈز کو دوبارہ ترتیب دے کر جنوبی ایشیا میں ایک نئی سفارتی بساط بچھائی ہے، جس سے بھارت کے مفادات کو زبردست چیلنج لاحق ہے جبکہ پاکستان کو ایک نئی بین الاقوامی اہمیت مل رہی ہے۔

  • میٹا کی برطانیہ میں  اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    میٹا کی برطانیہ میں اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف

    ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں برطانیہ میں فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اشتہارات سے پاک سبسکرپشن متعارف کرا رہی ہے۔

    کمپنی کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت صارفین کے پاس دو آپشن ہوں گے: یا تو وہ ماہانہ فیس ادا کرکے بغیر اشتہارات کے سروس استعمال کریں یا پھر مفت پلیٹ فارمز استعمال کرتے رہیں جن میں ٹارگٹڈ اشتہارات دکھائے جائیں گے۔میٹا نے بتایا کہ سبسکرپشن فیس ویب ورژن کے لیے تقریباً 3 پاؤنڈ اور آئی او ایس و اینڈرائیڈ پر 3.99 پاؤنڈ ماہانہ ہوگی۔ یہ ماڈل یورپی یونین میں متعارف کرائے گئے سبسکرپشن جیسا ہے، جو ڈیٹا پرائیویسی قوانین کی تعمیل کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اشتہارات سے پاک سروسز صارفین کو اپنے آن لائن تجربے پر زیادہ کنٹرول فراہم کریں گی، جبکہ مفت سروسز کو اشتہارات کے ذریعے چلانے کا نظام بھی برقرار رہے گا۔ ادائیگی کرنے والے صارفین کو اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے اور ان کا ذاتی ڈیٹا اشتہارات کے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ یورپی ریگولیٹرز کی بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کے بعد یہ ماڈل مستقبل میں دیگر ممالک میں بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

    پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس: اراکین بانی سے شکایات پر آمنے سامنے آگئے

    ٹرمپ کا غیر ملکی فلموں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    بانی پی ٹی آئی کی بدتمیزی،رپورٹرز کا قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران پر پابندیوں کے بعد سفارتی رابطے رکھنے کا اعلان