Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    دماغ کی خاموش چیخ،تحریر:صدف ابرار

    ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جسمانی تکلیف کو فوراً بیماری مان لیا جاتا ہے مگر ذہنی اذیت کو آج بھی کمزوری، وہم یا ڈرامہ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دماغ بھی جسم کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا دل، گردے یا پھیپھڑے، بلکہ اگر سچ کہا جائے تو پوری باڈی کا کنٹرول ہی دماغ کے ہاتھ میں ہے، ہماری نیند، ہماری سوچ، ہمارے فیصلے، ہمارے جذبات، سب کچھ وہیں سے جڑا ہوا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ جب یہی دماغ تھک جائے، الجھ جائے یا دباؤ میں آ جائے تو ہم اسے ماننے کے بجائے چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں، پاکستان جیسے معاشرے میں ذہنی بیماری کو آج بھی ایمان کی کمی، کمزور اعصاب یا زیادہ سوچنے کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ شخص مزید تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

    یہ مسئلہ صرف رویوں تک محدود نہیں بلکہ سہولیات کی کمی اسے اور سنگین بنا دیتی ہے، پاکستان کی آبادی تقریباً چوبیس کروڑ ہے مگر اس پوری آبادی کے لیے صرف پانچ سو کے قریب سائیکاٹرسٹ دستیاب ہیں، یعنی ہر ایک لاکھ افراد کے لیے صرف صفر اعشاریہ دو سے صفر اعشاریہ پچیس ماہرِ نفسیات، سادہ الفاظ میں ایک ڈاکٹر لاکھوں لوگوں کے مسائل سننے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ ہر مریض کو بروقت اور معیاری علاج مل جائے، خود ایک خام خیالی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو ذہنی صحت کی سہولت کا تصور ہی موجود نہیں۔

    جو چند ماہرین دستیاب ہیں، ان کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے علاج کروانا آسان نہیں، ایک ایسا شخص جو پہلے ہی ذہنی دباؤ، بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہو، وہ مہنگے سیشنز اور مسلسل علاج کا خرچ کیسے برداشت کرے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ یا تو خود ہی خاموشی سے لڑتے رہتے ہیں یا پھر ایسے مشوروں کا سہارا لیتے ہیں جو بظاہر ہمدردی لگتے ہیں مگر حقیقت میں زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔ان تمام وجوہات کی بنا پر پاکستان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا 80 فیصد سے زیادہ افراد کسی بھی قسم کے پیشہ ورانہ علاج تک پہنچ ہی نہیں پاتے، اور یہی وہ خاموش المیہ ہے جس پر ہم بات کرنے سے گھبراتے ہیں، حالانکہ ذہنی صحت کوئی لگژری نہیں، یہ بھی اتنی ہی بنیادی ضرورت ہے جتنی جسمانی صحت، جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ دماغ بھی بیمار ہو سکتا ہے، جب تک ہم علاج کو شرمندگی کے بجائے حق نہیں سمجھیں گے، اور جب تک ہم انسان کو پاگل کا لیبل لگانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک یہ مسئلہ ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرتا رہے گا۔وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، کیونکہ دماغ بھی بیمار ہوتا ہے، اور اس کا علاج بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی اور بیماری کا۔

  • جنید صفدر کی شادی ، وزیراعلی پنجاب کی شاہ خرچیاں . تحریر: عائشہ اسحاق

    جنید صفدر کی شادی ، وزیراعلی پنجاب کی شاہ خرچیاں . تحریر: عائشہ اسحاق

    گزشتہ دنوں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوسری شادی نہایت شان و شوکت سے ہوئی۔ جو وزیراعلی صاحبہ کی اپنی ہی عائد کردہ ون ڈش پا لیسی کے بیان پر طمانچہ ثابت ہوئی۔ اس سے واضح ہے کہ یا تو وزیراعلی صاحبہ کی یاداشت کمزور ہے یا وہ اپنی طاقت کے نشے میں ہیں اور اس قدر پر اعتماد ہے کہ انہیں ان کی ایسی من مانیوں پر کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔ مغلیہ دور کی شاہانہ طرز زندگی اپنائے ہوئے بھارتی ڈریس ڈیزائنرز کے ڈیزائن کردہ قیمتی ملبوسات، بیش بہا قیمتی زیورات، دیگر غیر ملکی برانڈز پہنے ہوئے خاتون کی یہ تیاری انڈین اداکارہ سے کم نہیں یہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ ہیں جو اپنے ہی بیان میں کہتی رہیں کہ ان کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں۔ اس کے علاوہ ان کے باقی ٹولے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔

    ان سے پوچھا جائے کہ اخر یہ شاہ خرچیاں کہاں سے ہوئی ہیں ؟ایسے سیاست دان اندھی، لولی اور بہری عوام کو کہتے ہیں کہ پاکستان نازک حالات سے گزر رہا ہے ملکی خزانہ خالی ہے جب کہ خود عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور عوام بھوک و افلاس اور دیگر مسائل میں سسک رہی ہے بات وہی ا جاتی ہے کہ ایک مخصوص ٹولہ 25 کروڑ عوام کے حقوق کو دبائے ہوئے ہے اور عوام غفلت کا شکار ہے ان کے مکاریاں عیاریاں اور دھوکے بازیاں مکمل طور پر عیاں ہیں عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

  • خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    خاموش آنکھیں، بولتا ہوا کرب،تحریر:اقصیٰ جبار

    آنکھیں کبھی جھوٹ نہیں بولتیں، چاہے زبان خاموش رہ جائے۔
    معاشرتی زندگی کی سب سے بڑی سچائی شاید آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔ زبان کبھی مصلحت کی قید میں آ جاتی ہے، مگر آنکھیں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ وہ ہر درد، ہر کرب اور ہر خاموشی کو ظاہر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی خبر صرف سرخیوں یا خبروں میں نہیں، بلکہ انسانی آنکھوں میں چھپی ہوتی ہے۔

    آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں ہر طرف بولی اور شور ہے، مگر سچائی سننے والا کم ہے۔ ہنسی مذاق، مصروفیت اور سوشل میڈیا کے ہنگامے کے بیچ، وہ آنکھیں جو دن بھر کے دکھ کو سہہ کر بھی خاموش رہتی ہیں، سب کچھ کہہ جاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی آنکھ میں خوف، والدین کی نگاہ میں فکر، مزدور کی تھکن اور بزرگ کی تنہائی،یہ سب خبریں ہیں جو کسی اخبار کے صفحے پر نہیں آتیں، مگر معاشرت کی اصل تصویر یہی ہیں۔

    دکھ انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ خوشی ہمیں غافل رکھتی ہے، لیکن کرب ہمارے وجود کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ صوفیانہ روایت میں دکھ عبادت اور بیداری کا ذریعہ ہے، سزا یا مایوسی نہیں۔ جو انسان دکھ کے باوجود خاموش رہتا ہے، وہ سب سے مضبوط اور باشعور ہوتا ہے۔ہمارا سماج اکثر آنکھوں کے غم کو کمزوری سمجھتا ہے اور اسے چھپانے کا مشورہ دیتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ خاموش آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں۔ والدین جو دن بھر محنت کرتے ہیں، اکثر اپنی تھکن چھپاتے ہیں۔ بزرگ جو تنہائی میں بیٹھ کر زندگی کے لمحے یاد کرتے ہیں، ان کی آنکھیں ہر کہانی سناتی ہیں۔

    یہ آنکھیں کبھی شکایت نہیں کرتیں، نہ کوئی رونا دھونا کرتی ہیں، مگر ہر سچائی کا آئینہ ہوتی ہیں۔ شاید یہی خاموشی کا جادو ہے، جو لفظوں سے کہیں زیادہ اثر کرتی ہے۔قاری سے سوال یہ ہے کہ اگر خاموش آنکھیں اتنا کچھ کہہ سکتی ہیں، تو کیا ہم واقعی سننے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوال معاشرت کے لیے نہیں، بلکہ ہر فرد کے لیے ہے۔ جو آنکھیں بول سکتی ہیں اور ہم نہیں سنتے، وہ سچائی کبھی چھپ نہیں سکتی۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنے اندر سننے کی طاقت کو جگانا ہوگا، تاکہ یہ خاموش کرب، خاموش محبت، اور خاموش حقیقت ہمیں صرف دیکھنے والے نہیں، بلکہ سمجھنے والے بھی بنا سکے۔

  • شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    شیشہ گر،تحریر:پارس کیانی

    الیگزے شیشہ بنانے والا تھا، مگر یہ پیشہ اس کی پہلی پسند نہیں تھا۔ حالات نے اسے "شیشہ گر” بنا دیا تھا۔ شہر کے پرانے حصے میں تنگ گلیوں والے بازار میں اس کی دکان تھی، ایک عام سی دکان جسے لوگ "شیشہ گھر” کہتے تھے۔ شفاف دیواریں، قطار اندر قطار آئینے، اور ان کے بیچوں بیچ ایک خاموش آدمی جو برسوں سے دوسروں کو خود سے ملواتا آ رہا تھا۔
    صبح سے شام تک لوگ آتے۔ کوئی اپنے چہرے کی جھریاں دیکھتا، کوئی اپنی آنکھوں میں جھانک کر چونکتا، کوئی شیشے پر انگلی رکھ کر مسکرا دیتا جیسے اسے اپنا آپ مل گیا ہو۔ شیشہ گر سب کو دیکھتا، سب کی بات سنتا، مگر خود بولتا کم تھا۔ وہ جانتا تھا کہ شیشہ بولتا ہے، آدمی نہیں۔ آدمی اگر بولنے لگے تو شیشہ ٹوٹ جاتا ہے۔

    اس کی زندگی اسی ترتیب سے گزرتی رہی۔ دن، مہینے، ،سال سب ایک جیسے۔ اس نے بڑے بڑے لوگوں کے لیے آئینے بنائے تھے۔ ایسے آئینے جن میں سچ چھپ نہیں سکتا تھا۔ کئی بار لوگ ناراض ہو کر لوٹے، کئی بار تعریف کر کے۔ مگر کسی نے کبھی اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ خود کیا دیکھتا ہے، یا دیکھتا بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔؟

    رات کو جب دکان بند ہو جاتی تو الیگزے دیر تک وہیں بیٹھا رہتا۔ شیشوں کے درمیان۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ایک ہجوم میں اکیلا بیٹھا ہو۔ ہر طرف عکس تھے، مگر ان عکسوں میں اس کی اپنی صورت کہیں گم ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ شاید اس نے خود کو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ شاید اسے ڈر تھا، اس بات کا کہ اگر اس نے خود کو دیکھا تو سوال اٹھیں گے، اور سوال زندگی کا سکون چھین لیتے ہیں۔

    وہ یاد کرنے لگا کہ کبھی اس نے بھی کچھ اور بننے کا خواب دیکھا تھا۔ شاید کسی اور ہنر کی خواہش تھی، یا محض یہ آرزو کہ وہ بھی کسی دن بے فکر ہو کر اپنے آپ سے بات کر سکے۔ مگر یہ سب خیال ذمہ داریوں کے شور میں دب گئے تھے۔ گھر، وقت، ضرورت، سب نے مل کر اسے ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا جہاں وہ انسان کم اور مشین زیادہ بن گیا تھا۔

    ایک دن ایک لڑکا دکان میں داخل ہوا۔ اس کی آنکھوں میں تجسس تھا، انے والی زندگی کے خواب تھے، اس نے بے دھڑک شیشے میں خود کو دیکھنا شروع کیا۔ اس کم سن لڑکے نے خود کو سر سے پاؤں تک دیکھا اسے اپنے جسم میں جو نقص نظر آیا اس نے فوری طور پر اس کو درست کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔ "الیگزے” اس کی جرأت پر حیران تھا لڑکا شیشوں میں اپنا بغور جائزہ لینے کے بعد اس سے گویا ہوا؛

    کیا آپ نے کبھی خود کو ان شیشوں میں دیکھا ہے؟
    یہ سوال غیر متوقع تھا الیگزے چونکا۔ برسوں میں پہلی بار کسی نے آئینے کے پار نہیں، آئینہ بنانے والے کی طرف دیکھا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر سچ بول دیا:
    “نہیں۔”
    لڑکا مسکرایا، جیسے اسے یہی جواب درکار تھا۔ اس نے کہا:
    "پھر شاید یہ شیشے ابھی مکمل نہیں ہوئے۔”
    وہ لڑکا چلا گیا، مگر اس کا جملہ دکان میں رہ گیا۔ اس رات الیگزے حسبِ معمول بیٹھا رہا، مگر اس بار خاموشی مختلف تھی۔ اس نے ایک شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھا۔ پہلی بار۔ کوئی وہم نہیں، کوئی خوف نہیں، بس ایک تھکا ہوا انسان، جس کی آنکھوں میں سوال تھے، مگر جواب کی خواہش بھی تھی۔
    اگلے دن اس نے دکان کی ترتیب بدل دی۔ ایک آئینے کا رخ اس نے اپنی طرف رکھ لیا، ایسا نہیں کہ لوگ اسے نہ دیکھ سکیں، بلکہ ایسا کہ وہ خود ہر دن اس کے سامنے سے گزرے۔ وہ جان گیا تھا کہ شیشہ گر ہونا برا نہیں، برا یہ ہے کہ آدمی خود کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔

    اب بھی لوگ آتے ہیں، شیشے دیکھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ دکان اب بھی شیشہ گر کی ہی کہلاتی ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ اب وہاں ایک انسان بھی رہتا ہے،جو دوسروں کو سچ دکھاتے ہوئے، خود کو دیکھنا نہیں بھولتا۔
    اور یہی شاید کسی بھی شیشہ گر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔اس کی سوچ کی سوئی ایک جگہ اٹک گئی ۔۔۔۔

    میں نے شیشہ گر ہوتے ہوئے صرف دوسروں کو شیشہ دکھایا میں عیب جو بن گیا لوگوں کے عیب لوگوں کو دکھانے لگا اور لوگوں نے میرے آئینے میں خود کو دیکھا، میرے بنائے گئے شیشوں کی زبانی سن سن کر اپنے نقص دور کرنے شروع کر دئیے۔ اب میرے سامنے شفاف چہرے، شفاف جسم تھے لیکن آج جب وہی شیشہ میرے سامنے آیا تو مجھے اپنے چہرے پہ داغ دھبے، جھریاں، زخم خوردہ جلد، تھکی خشک آنکھیں اترا ہوا چہرہ نظر ا رہا ہے۔ میں نے اتنے سال تک خود کو کیوں نہ دیکھا۔ اپنی تھکن اپنے بدنمائی دور کیوں نہیں کی ۔۔۔۔؟
    شیشہ گر ہوں ۔۔۔جب میں نے اپنے لیے کوئی شیشہ نہیں بنایا تو میں
    "شیشہ گر” کیسے تھا ۔۔۔۔۔۔؟
    میں صرف عیب جو تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سوچتے ہوئے اس نے سامنے شیشے میں دیکھا۔
    الیگزے خود سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ۔

  • گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

    گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

    گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    کراچی کے گُل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا المناک واقعہ محض ایک اور “حادثہ” قرار دے کر فائلوں میں دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ کسی اچانک اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط ریاستی غفلت، مجرمانہ لاپرواہی اور کمزور عملداری کا کھلا ثبوت ہے۔ اگر اسے محض حادثہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تو یہ ناانصافی صرف متاثرین ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی ہوگی۔

    یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر کیوں پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں واقع کمرشل پلازے آگ لگنے کی صورت میں موت کے پھندے بن جاتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہر سانحے کے بعد انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر چند ہفتوں بعد سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے؟

    ہمارے ہاں کمرشل عمارتیں تعمیر کرتے وقت سرمایہ کار، بلڈر اور نقشہ پاس کرنے والے ادارے تو پوری طرح متحرک ہوتے ہیں، مگر جب بات فائر سیفٹی کی آتی ہے تو سب کی آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے۔ ناقص اور پرانی الیکٹریکل وائرنگ، اوورلوڈنگ، غیر معیاری تاریں اور غیر تربیت یافتہ الیکٹریشنز معمول بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو یہ سب نظر نہیں آتا، یا سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی دانستہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ اگر فائر سیفٹی قوانین پر واقعی عمل درآمد ہوتا تو گُل پلازہ جیسے سانحات شاید جنم ہی نہ لیتے۔

    زیادہ تر کمرشل عمارتوں میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر اور اسپرنکلر سسٹم یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے یا صرف نقشوں اور فائلوں تک محدود رہتے ہیں۔ اگر کہیں نصب بھی ہوں تو ان کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی، بیٹریاں ختم، سسٹم خراب اور الارم خاموش رہتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کئی پلازہ مالکان فائر سیفٹی آلات کو غیر ضروری خرچ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی آلات قیمتی انسانی جانوں کے محافظ ہوتے ہیں، اور متعلقہ ادارے اس مجرمانہ غفلت پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

    گُل پلازہ جیسے سانحات میں سب سے تشویشناک پہلو ایمرجنسی ایگزٹس کا غیر مؤثر ہونا ہے۔ کئی عمارتوں میں یہ راستے یا تو تالہ بند ہوتے ہیں یا اضافی سامان سے بھرے ہوتے ہیں۔ واضح نشانات کی عدم موجودگی میں ایمرجنسی کے وقت لوگ گھبراہٹ میں غلط سمتوں میں بھاگتے ہیں اور یہی گھبراہٹ جان لیوا ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ عمارتوں کی منظوری دیتے وقت ایمرجنسی راستوں کا عملی معائنہ کیا جاتا ہے یا صرف کاغذی نقشوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

    ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ دکانداروں اور عملے کو فائر سیفٹی سے متعلق بنیادی تربیت تک نہیں دی جاتی۔ فائر ایکسٹینگشر کی موجودگی اس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب استعمال کا طریقہ ہی معلوم نہ ہو۔ نہ فائر ڈرل ہوتی ہے، نہ عملی مشق، نہ آگاہی، پھر بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ بحران کے وقت سب کچھ خودبخود درست ہو جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ اور فائر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہونے والے معائنے اکثر محض رسمی کارروائی ثابت ہوتے ہیں۔ فائلوں میں “اطمینان بخش” رپورٹ درج ہو جاتی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان انسپکشنز کا مقصد جان بچانا ہے یا صرف کاغذی ذمہ داری پوری کرنا؟

    ہر بڑے سانحے کے بعد وہی پرانا ڈرامہ دہرایا جاتا ہے۔ میڈیا شور مچاتا ہے، سیاست دان مذمتی بیانات دیتے ہیں، اعلانات ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ نہ کسی افسر کو سزا ملتی ہے، نہ کسی بلڈر کا احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں کوئی بنیادی اصلاح کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سانحات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔

    اب سوالات مزید نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ کیا انسانی جانوں کا تحفظ واقعی ہماری ریاست کی ترجیح ہے؟ فائر سیفٹی قوانین پر عمل نہ کرانے والوں کا احتساب کب ہوگا؟ غیر معیاری تعمیرات کی اجازت دینے والے افسران کب قانون کے کٹہرے میں آئیں گے؟ اور کب تک ہم ایسے سانحات کو “قدرتی آفت” قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوتے رہیں گے؟

    حل کوئی انوکھے نہیں۔ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کو حقیقی معنوں میں لازمی بنانا ہوگا، ناقص عمارتوں کو سیل کرنا ہوگا، بلڈر مافیا کو لگام دینا ہوگی اور انسپکشن کے نظام کو محض رسمی نہیں بلکہ مؤثر اور عملی بنانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر، انسانی جان کو کاروبار اور منافع سے بالاتر سمجھنا ہوگا۔

    ہم برسوں سے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چل رہے ہیں اور ہر سال سینکڑوں افراد اس کی قیمت اپنی جانوں سے چکا رہے ہیں۔ گُل پلازہ کا سانحہ ہمیں آئینہ دکھا گیا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آئینے کو توڑ دیتے ہیں یا اپنے چہرے کی اصلاح کرتے ہیں۔ اگر آج بھی سنجیدہ اور سخت فیصلے نہ کیے گئے تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور مارکیٹ اور کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔
    یہ صرف تنقید نہیں، ایک انتباہ ہے…………..آخر کب تک؟

  • "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    شمالی علاقہ جات کی وادیاں صرف خوبصورت مناظر نہیں،
    یہ ایک زندہ تہذیب، ایک حساس ماحولیاتی نظام اور صدیوں پر محیط ثقافت کی امین ہیں۔
    مگر افسوس کہ آج جاری سیاحت فطرت دوست ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ ماحول دشمن بنتی جا رہی ہے۔

    غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم سیاحت کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ہوٹلز اور ریزورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں،جس کے باعث سرسبز وادیاں کنکریٹ کے ڈھانچوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔یہ ترقی نہیں، فطرت سے بغاوت ہے۔

    سیاحت کے ساتھ آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، پلاسٹک شاپرز اور ریپرز اس بات کی گواہی دیتے ہیں،کہ ہم وادیوں کو سیرگاہ نہیں بلکہ استعمال کی جگہ سمجھنے لگے ہیں۔شور شرابا، اونچی آواز میں میوزک اور ہنگامہ آرائی،فضا کو شدید صوتی آلودگی سے دوچار کر رہی ہے،جس سے انسان، فطرت اور جنگلی حیات تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی ہوٹلز نے اپنی سیوریج اور گٹر لائنیں دریاؤں کی طرف موڑ رکھی ہیں۔وہ دریا جو ہماری زندگی، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امید ہے،آج کچرے اور گندگی کی نذر ہو رہے ہیں ۔یہ صرف غفلت نہیں، یہ کھلا ماحولیاتی جرم ہے۔

    سیاحت کے منفی اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے۔مقامی ثقافت اور روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔لباس، رویّوں اور طرزِ عمل میں عدم توازن ،مقامی معاشرے، اقدار اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی کیفیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ وہ نقصان ہے جو خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے۔

    آج کی سیاحت سے اصل فائدہ صرف کمرشل ازم کو ہو رہا ہے،جبکہ نقصان پوری وادی، پوری ثقافت اور پورا ماحول اٹھا رہا ہے۔

    اس بحران کا واحد پائیدار حلایکو ٹورازم (Eco-Tourism) ہے۔ایسی سیاحت جو ماحول کو نقصان نہ پہنچائے
    ، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرے، فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، ترقی کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنائے
    سیاحوں کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وادیوں میں آ کر مقامی روایات کا خیال رکھیں، مقامی لوگوں سے میل جول رکھیں، مقامی ٹور گائیڈز، جیپس اور سروسز استعمال کریں، اپنے ساتھ لایا گیا کچرا واپس بیگ میں رکھیں یا ڈسٹ بن میں ڈالیں

    سیاحت ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے،
    جس سے جُڑ کر ہم سب رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔

  • فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    فضائل ومناقب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،تحریر : ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وہ نام ہے جو تاریخ کے صفحات پر نور کی مانند چمکتا ہے اور جس کی عظمت کا اعتراف وہی دل کرتا ہے جوایمان کی مٹھاس وحلاوت سے لبریز ، انصاف شناس اور علم دوست ہو۔ ان کے ذکر کے بغیر تاریخِ اسلام مکمل نہیں ہوتی اور ان کے بغیر صحابہ کا قافلہ ادھورا ہے۔ یہ وہ ہیں جن کے بارے میرے رب نے فرمایا کہ اللہ ان سے اور و ہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ صرف ایک صحابی نہ تھے، وہ ایک کاتبِ وحی، ایک مدبر حکمران، ایک بے مثال مفاہمت کرنے والے، ایک بے نظیر مصلح اور امت محمدیہ علی صاحبھاالصلاۃ والسلام کو اتحاد کی لڑی میں پرو دینے والے ایک باوقار قائد اور خلفاء اربعہ کے جانشین تھے۔

    جب مکہ فتح ہوا اور کفارِ قریش کے سرداروں کے دل جھکنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دل بھی نورِ ایمان سے روشن ہوا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیعت کی اور دینِ حق میں داخل ہو کر اپنی زندگی کو اسلام کے لیے وقف کر دیا۔ رسول مقبول ﷺ نے ان پر اعتماد کیا،اتنا اعتماد کیا کہ انہیں مقربین میں شامل کرلیا ، یہاں تک کہ انہیں کاتبِ وحی مقرر کردیا۔ یہ کوئی عام منصب نہ تھا، یہ وہ ذمہ داری تھی جو اللہ کے کلام کو زمین پر محفوظ کرنے کے لیے سونپی جاتی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ شخص جس کے ہاتھ سے وحیِ الٰہی لکھی جائے،سبحان اللہ اس کے دل کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کا ایمان کس اعلیٰ درجے کا ہوگا ،اس کی امانت، دیانت اور پاکیزگی کیسی ہوگی؟اور ان کے دل میں رسول اللہ اور اہل بیت اطہار کی کیا عظمت ومقام ہوگا۔؟

    رسول مقبول ﷺ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہ صرف کاتب وحی مقرر فرمایا بلکہ انھیں اپنے مقرب ترین صحابہ میں شامل کیا اور ان کے لیے دعا بھی فرمائی۔ دعا کیا تھی؟ کوئی دعا نہ تھی بلکہ ایک عطا۔۔۔ ایک سند۔۔۔اورایک گواہی تھی : "اللھم الجعلہ ھادیا مھدیا واھد ب یعنی اے اللہ! اسے ہدایت یافتہ اور ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔ یہ دعا بتاتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ۔۔۔اللہ تعالیٰ اور پیغمبر آخر الزمان جناب محمد رسول ﷺ کے محبوب تھے اور امت کے لیے ذریعہ ہدایت تھے۔

    جب امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو آپ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا۔ وہ دن اور پھر ان کا 20 سالہ گورنری کا دور — سب تاریخ کا روشن باب بن گئے۔ جب حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو آپ نے بھی کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اسی منصب پر برقرار رکھا جس پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فائز کیا تھا ۔جب انہیں خلافت کی خلعت پہنائی گئی اورامیر المومنین کے منصب پر فائز ہوئے تو امت میں مثالی امن، سکون اور ترقی لائے۔ شام، جو کبھی رومیوں کی سرزمین تھی، اسلامی تمدن، علم، طاقت، اور عدل کا مرکز بن گیا۔ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں صرف زمین ہی نہیں سنواری بلکہ امت کے دل بھی جوڑے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت کے لیے خدمات تاریخ کا ایک شاندار ، ایمان افروز اور سنہرا باب ہے۔یہ باب اپنے اندر فتوحات اور جرأت وبہادری کے اسباق لیے ہوئے ہے۔ ان کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک عظیم خدمت یہ تھی کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی پہلی بحری فوج بنائی۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان سمندروں میں جانے سے گھبراتے تھے، لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے دلوں سے یہ خوف نکالا اور انہیں یہ بتایا کہ اسلام نہ صرف خشکی پر بلکہ سمندر پر بھی غالب آ سکتا ہے۔ انہوں نے قبرص فتح کیا، بحری بیڑے کو مضبوط کیا اور دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی دانائی ، صلح جوئی اور فہم وفراست کا سب سے اہم باب اس وقت کھلا جب داماد رسول امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بحران پیدا ہوا۔ امت دو حصوں میں بٹنے کو تھی خونریزی جاری تھی ۔ ایسے نازک وقت میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں امت ایک بار پھر متحد ہو گئی۔ یہ واقعہ ’’ عام الجماعۃ ‘‘ کہلاتا ہے۔۔۔۔یعنی وہ وقت جب امت میں ایک بار پھر اتحاد قائم ہوا۔ نواسہ رسول جگر گوشہ بتول سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے "سید” کہا ا ور فرمایا کہ اللہ ان کے ذریعے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔ یہ صلح۔۔۔۔۔۔سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ رعنہ کی عظمت، حلم اور حکمت کی علامت ہے۔
    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حلم و بردباری تھی۔ ان کے دشمن گالی دیتے، مگر وہ خاموش رہتے۔ ایک بار کسی نے ان سے بد زبانی کی تو آپ نے فرمایا : اگر میں بدلہ لوں تو تم خوش ہو جاو گے، اگر میں معاف کر دوں تو میرا رب راضی ہو جائے گا اور میں اپنے رب کی رضا کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ وہ جواب تھا جو صرف وہی دے سکتا ہے جس کا دل معرفت ومحبت الٰہی اور تقویٰ سے لبریز ہو اور جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر امت کے نفع کے بارے میں سوچتا ہو۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کادور خلافت۔۔۔۔ تاریخ اسلام کا مستحکم، طاقتور اور پرامن دور مانا جاتا ہے۔ آپ کے دور خلافت میں اسلامی ریاست کی حدود مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ رعایا مطمئن، عدالتیں فعال اور دشمن خاموش تھے۔ آپ نے شریعت کی روشنی میں نظام حکومت چلایا اور اہل علم کو عزت دی۔ ان کا طرزِ حکمرانی آج بھی حکمرانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔

    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات 60 ہجری میں دمشق میں ہوئی۔ ان کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہ تھی بلکہ ایک دور کا اختتام تھا۔۔۔۔ایک ایسا دور جو عدل، حکمت، حلم، اور فہم سے مزین تھا۔ علماء کرام و محدثین عظام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی تعریف کی ہے۔ امام احمد بن حنبل، امام ذہبی، امام ابن کثیر، امام ابن تیمیہ، امام غزالی سب نے ان کی مدح کی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے امت کو علم کے نور سے روشن کیا اور ان کی گواہی آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

    سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ایمان پر ایمان رکھنا، ان سے محبت کرنا، ان کے مناقب بیان کرنا صرف محبت نہیں ایک مسلمان کے عقیدہ کا جزو لازم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے ا صحاب کو گالی نہ دو، کیونکہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرو، ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد امت کے داعی ، کاتب وحی ، رسول اللہ کے مقرب ، اہل ایمان کے خال ( ماموں ) فتنوں کو دبانے والے ،آپ کی زندگی قرآن و سنت کی روشنی سے منور اور آپ کی حکمرانی امت کے لیے باعثِ رحمت تھی۔ آپ پر اعتراض تبصرے یا تجزیے کرنے والا عالم نہیں، جاہل اور متعصب ہے, اس کا ایمان مشکوک ہے۔ اور آپ سے محبت کرنے والا صاحب ایمان ہے،

    اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت اطہار، تمام صحابہ کرام ، بالخصوص سیدنا علی ابی طالب ، سیدنا امیر معاویہ، سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان فتنہ انگیز زبانوں سے محفوظ رکھے جو صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ یہی عقیدہِ اہل سنت ہے، یہی راہِ اعتدال ہے، اور یہی راستہ ایمان کی خوشبو سے لبریز ہے۔

  • نیاز احساس، تحریر:پارس کیانی

    نیاز احساس، تحریر:پارس کیانی

    نیاز احساس یا احساساتی ضرورت جسے (Emotional Need)بھی کہا جاتا ہے۔انسانی رشتوں کی بنیاد میں ایک خفیہ مگر بنیادی ضرورت کے طور پر چھپی ہوئی ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ صرف محبت یا توجہ کی معمولی خواہش نہیں، بلکہ ایک گہری نفسیاتی ضرورت ہے جو انسانی جذبات، ذہنی سکون، اور رشتوں کی مضبوطی سے جڑی ہے۔ بچے کی طرح بالغ انسان بھی اس ضرورت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ جب یہ پوری نہیں ہوتی تو دل میں خالی پن پیدا ہوتا ہے، اور زندگی کے ہر تعلق میں خلا محسوس ہوتا ہے۔

    ہر فرد کے لیے تعلق، محبت، توجہ اور جذباتی تصدیق کی ضرورت ضروری ہے۔ اگر یہ فراہم نہ کی جائے، تو انسان اندر سے تنہا، کمزور اور بے سکون محسوس کرتا ہے۔ یہ خلا مال و دولت یا دنیاوی آرام سے کبھی نہیں بھرا جا سکتا۔ چاہے انسان کے پاس سب سہولتیں ہوں، مگر نیازِ احساس پوری نہ ہو تو اندرونی خالی پن اور بےچینی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے بعض لوگ زندگی میں ناکامی، جذباتی دباؤ یا ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    رشتوں میں جذبات کی تسکین نہ ہونا صرف فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ تعلقات کی مضبوطی اور پائیداری پر بھی اثر ڈال دیتا ہے۔ والدین، بچے، شریک حیات، دوست یا استاد، ہر تعلق میں اگر دوسرے فرد کی جذباتی ضرورت کو نظرانداز کیا جائے، تو رشتے کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ والدین اگر بچوں کی ضرورت کو صرف جسمانی یا مالی حوالے تک محدود رکھیں، تو اعتماد اور جذباتی سکون متاثر ہوتا ہے۔ بالغ افراد میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے: شریک حیات یا دوست کی جذباتی تصدیق، توجہ اور احترام کی کمی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔

    انسان جب اپنے جذبات کی قدر محسوس کرتا ہے، اسے سننے والا ملتا ہے اور یہ یقین ہو کہ اس کی قدر کی جا رہی ہے، تو وہ زیادہ پرسکون، مثبت اور متوازن رویہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر یہ ضرورت رد یا نظر انداز کی جائے تو اندرونی خلا اور تنہائی بڑھتی ہے، جو معاشرتی تعلقات میں غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا کرتی ہے۔نیازِ احساس صرف محبت یا جذباتی تعلق تک محدود نہیں۔ یہ ہر انسانی جذبے، خواہش اور تعلق کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ چاہے یہ احترام کی خواہش ہو، تعریف کی ضرورت ہو، یا یہ کہ کوئی آپ کے جذبات کو سمجھے، یہ سب زندگی میں اہمیت رکھتے ہیں۔ رشتوں کی حقیقت تبھی مکمل ہوتی ہے جب ہم اس ضرورت کو پہچانیں اور پورا کریں۔

    انسانی زندگی میں نیازِ احساس کو نظرانداز کرنا یا کم سمجھنا ایک خامی ہے جو نہ صرف فرد کو اندر سے خالی کرتی ہے بلکہ رشتوں کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ ہر تعلق اور انسانی تعامل اسی وقت مکمل اور صحت مند رہتا ہے جب اس میں جذبات کی تسکین اور احساس کی تصدیق شامل ہو۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو دنیاوی کامیابی یا مال و دولت سے کبھی خریدا نہیں جا سکتا۔جب ہم اپنے رشتوں میں جذبات کی قدر اور احساس کی اہمیت سمجھتے ہیں، تو نہ صرف رشتے مضبوط ہوتے ہیں بلکہ انسانیت بھی مکمل اور پرامن رہتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو زندگی کو معنی اور سکون سے بھر دیتا ہے، اور انسانی تعلقات کو وہ گہرائی دیتا ہے جس کے بغیر محبت یا رشتہ محض رسمی لفظ رہ جاتا ہے۔نیاز احساس، (Emotional need) شدت سے چاہے جانے کی خواہش نہیں، بلکہ کسی بھی رشتے میں انسانی ذات کو پوری شدت سے تسلیم کیے جانے کا نام ہے۔

  • ٹرمپ، معدنیات اور مشرقِ وسطیٰ  ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ٹرمپ، معدنیات اور مشرقِ وسطیٰ ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    پاکستانی حکام بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستان کے پاس 60 کھرب ڈالر کی نایاب معدنیات موجود ہیں۔ التجا ہے کہ دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کی طرح آپ نے یہ نقطہ یاد ر کھنا ہے کیونکہ عنقریب پاکستان کے 60 کھرب ڈالر اور بلوچستان ، خیبر پختونخواہ ، پنجاب ، سندھ حتی کہ کشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ میں آپ کو چند اسٹرٹیجک معاملات کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے حوالے دے کر بات سمجھاتا ہوں
    حنا ربانی کھر ایک پاکستانی سیاست دان ہیں، جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ اور پہلی خاتون رکن اسمبلی رہیں جو قومی بجٹ پیش کرنے کا اعزاز رکھتی ہیں، ان کے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے ان کو جانا جاتا ہے کیونکہ وہ سابق گورنر غلام مصطفیٰ کھر کی بھتیجی ہیں، سال 2002 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تھیں لہذا طویل سیاسی کیرئیر کی وجہ سے ان کے تجزیہ ، بیانات اور خبروں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مستند سمجھا جاتا ہے
    گزشتہ روز حنا ربانی کھر نے ایک سلجھے ہوئے انداز میں الجھا ہوا بیان دیا جس نے مجھے اور چند تاریخی پسِ منظر پر نظر رکھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا، میں حیران تھا کہ پیپلز پارٹی سے بڑے قد کے سیاستدان ہمیشہ بڑی بات پر توجہ مرکوز کرواتے ہیں لیکن ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ بیان اس لیے بھی اہم تھا کہ اس میں پاکستان کی تمام معدنیا ت اور مستقبل کی پالیسیوں کا نچوڑ موجود تھا، ان کا یہ تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان کی تعریف کرنا پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ دوسری جانب آج ایک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی، پاکستان دفتر خارجہ کیمطابق امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں وزیر اعظم شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

    میں پریشان ہوں کہ یہ تعریفیں ہمیشہ نقصان دیتی ہیں ، تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو جب جب امریکہ نے تعریف کی ہمیں مشکل حالات اور امتحان میں ڈالا گیا۔ آج ٹرمپ اگر تعریف کر رہے ہیں تو یقیناً ہمیں بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ موجودہ دور میں ٹرمپ غزہ پر حکمرانی، ایران پر چڑھائی، کمبوڈیا پر قبضے ، وینزویلا پر حکومت ، گرین لینڈ کی ملکیت اور درجنوں امریکی مفادات کی پالیسیوں پر کام شروع کر چکا ہے۔
    سولہ جنوری 2025 کو ایک امریکی جریدے نے خود لکھا تھا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک مستقل پیٹرن یہ ہے کہ وہ غیر ملکی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے مگر فیصلہ کن وقت پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکا کی وعدہ شکنی،بغاوت پر اکسانا، پھر پیچھے ہٹ جانا ہے۔

    چیچنیا ، بوسنیا، ہوائے، عراق، ہنگری، کردستان، شام اور اب ایران تک، تاریخ گواہ ہے کہ امریکی قیادت آزادی اور حمایت کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ان تحریکوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہےجس کا خمیازہ لاکھوں جانوں، مہاجرت اور تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ خدشہ ہے کہ ہمیں بھی ایران، افغانستان ، بھارت کے سامنے تنہا نہ کر دیا جائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سُپر پاور کی تعریفوں پر ننگے پاؤں ناچنے سے پہلے حنا ربانی کھر جیسی خواتین سے حکومت کو مدد ضرور لے لینی چاہیے۔ ماضی گواہ ہے کہ 1991میں صدر جارج بش نے عراقی عوام کو صدام حسین کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دی۔امریکی اتحادی افواج نے عراق میں بغاوت پر اکسانے والے پمفلٹس بھی گرائے۔۔بغاوت کے عروج پر عراق کے 18 میں سے 14 صوبے حکومتی کنٹرول سے نکل گئے تھے۔اس کے باوجود امریکا نے باغیوں کی عملی مدد سے انکار کیا اور صدام کو انہیں کچلنے دیا۔اس کریک ڈاؤن میں 50 ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور 15 لاکھ کرد بے گھر ہوئے۔

    یہی کام آج مڈل ایسٹ میں امریکہ کر رہا ہے لیکن شاید سمجھدار سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر سونے کے انڈے کے چکر میں مرغی ذبح کر رہے ہیں۔ جنگ تو جنگ معدنیات نکالنے کے منصوبوں کے ذریعے پورے پورے خطے پر قابض ہو رہا ہے۔ جہاں بس نہ چلے وہاں صدر اٹھا لیے جاتے ہیں۔ زمانہ جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں سٹریٹیجک معدنیات کے حصول کے لیے چین کے مقابلے پر صف آرا ہے۔

    جب جب ہماری تعریفیں شروع ہوئیں مخالفین زیادہ ہوئے، بجا کہ مئی 2025 کی بھارت جنگ کے بعد بہت سے لوگ پاکستان کے شیدائی ہیں۔ مگر حیران کن طور پر چین کے بعد امریکہ بھی بلوچستان کی معدنیات کے میدان میں شامل ہو چکا ہوا ہے۔ چین پہلے ہی چاغی میں معدنیات کی کان کنی کر رہا ہے، 11 دسمبر 2025 کو بتایا گیا کہ امریکہ نے بھی ریکوڈک منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کرے گا ۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بتایا تھا کہ امریکہ کا ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایکسم) ریکوڈک پروجیکٹ میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔بتا یا گیا تھا کہ آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری بڑھ کر دو ارب ڈالر ہو جائے گی جس سے چھ ہزار امریکیوں اور ساڑھے سات ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کا مزدور اور پسماندہ شخص روزگار کا مستحق ہو گا؟

    یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریکوڈک کیا ہے ،ریکوڈک دراصل بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع کان ہے جس کا شمار دنیا میں تانبے اور سونے کی بڑی کانوں میں ہوتا ہے۔ یہ کان گوادر سے آٹھ سو کلومیٹر اور کراچی سے تقریباً 13 سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں تک رسائی دشوار گزار علاقے کے باعث بےحد مشکل ہے۔ ریکوڈک کا منصوبہ دہائیوں پرانا ہے مگر اس دوران قانونی تنازعات اور سکیورٹی خدشات کی بنا پر اس پر باقاعدہ کام شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقت ہے کہ عسکریت پسندوں نے بلوچستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو بارہا نشانہ بنایا جس کی وجہ ہے کہ یہاں غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

    ابھی تک ریکوڈک منصوبے میں کان کنی کے حقوق بیرک گولڈ کمپنی کے پاس ہیں۔ اس کمپنی کا صدر دفتر کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں واقع ہے اور یہ دنیا بھر میں تانبے اور سونے کی کان کنی میں مہارت رکھتی ہے ۔بیرک گولڈ ریکوڈک کان میں50 فیصد حصے کی مالک ہے جب کہ 25 فیصد پاکستان کی وفاقی حکومت اور بقیہ 25 فیصد بلوچستان کی صوبائی حکومت کے پاس ہے۔

    چین ریکوڈک کان میں براہِ راست شراکت دار نہیں مگر چاغی ضلعے ہی میں واقع تانبے کی ایک اور کان سینڈک میں چینی کمپنی ایم سی سی کھدائی کر رہی ہے۔ ماضی میں یہی چینی کمپنی ریکوڈک میں بھی دلچسپی رکھتی تھی مگر یہ بیرک گولڈ کے پاس چلا گیا تھا ۔ چین دنیا بھر میں پیدا ہونے والا 54 فیصد تانبہ استعمال کرتا ہے۔جبکہ امریکہ ہر سال آٹھ ہزار ٹن سٹریٹیجک معدنیات درآمد کرتا ہے جن کا 70 فیصد حصہ چین سے آتا ہے۔ امریکہ کو اسی بات کی تشویش ہے کہ اگر چین اپنی سپلائی روک دے تو اس کی ہائی ٹیک امریکی صنعت بحران کا شکار ہو جائے گی۔ امریکہ اپنی صنعت کو بحران سے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ امریکی صدر کی تعریفیں اسی دورِ حکومت میں بہت بڑی مشکلات میں ڈالنے جا رہی ہیں۔لہذا اب سوچنے کا وقت ہے کہ ہمیں اپنا معاشی قبلہ کونسا رکھنا ہے ۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • گوجرخان ترقی کی شاہراہ پر بکھرتا ایک خواب،تحریر :  قمرشہزاد مغل

    گوجرخان ترقی کی شاہراہ پر بکھرتا ایک خواب،تحریر : قمرشہزاد مغل

    مصلحت کوش مفسر! مری جرات تو دیکھ
    جس کو سب کہتے ہیں اندھیر، اسے رات تو دیکھ
    شہر در شہر بکھرتی ہوئی اس خلقِ خدا
    کی تباہی میں ذرا اپنے بھی حالات تو دیکھ

    کہنے کو تو گوجرخان پوٹھوہار کا دل ہے، لیکن آج یہ دل حکومتی بے حسی، انتظامی نااہلی اور سیاسی یتیمی کے باعث سسک رہا ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع یہ اہم ترین تحصیل، جو لاکھوں کی آبادی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، آج اپنے بنیادی حقوق کے لیے پکار رہی ہے۔ کیا یہ وہی پاکستان ہے جسے ہم 2026 میں ایک جدید ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے؟ تحصیل گوجرخان کی آٹھ سے دس لاکھ کی آبادی کے لیے ایک مکمل ہسپتال تک موجود نہیں۔ گوجرخان کے وسط سے گزرنے والی جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بے ہنگم اژدھام اب صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع بن چکا ہے۔ فلائی اوور کی عدم موجودگی کسی المیہ سے کم نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں شہروں کے بیچ سے گزرنے والی شاہراہوں پر سگنل فری کوریڈورز اور فلائی اوورز دہائیوں پہلے بنائے جا چکے ہیں، مگر یہاں کی عوامی ضرورت کو فائلوں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ کیا حکمران کسی بڑے حادثے کے منتظر ہیں؟ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے لب پر واقع اس ہسپتال میں، جہاں ہر لمحہ حادثات کا خدشہ رہتا ہے، ایک نیورو سرجن تک میسر نہیں۔ ہیڈ انجری کا مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑتا ہوا پونے گھنٹے کی مسافت طے کر کے راولپنڈی جانے پر مجبور ہے، اور اکثر یہ سفر آخری سفر ثابت ہوتا ہے۔ شعبہ صحت کا منہ چڑاتی یہ حقیقت کہ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کلاس فور ملازمین کے رحم و کرم پر ہے جبکہ دو بجے کے بعد ایکسرے ڈیپارٹمنٹ عموما بند ملتا ہے جو صحت کے نظام پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

    مزید برآں یہاں کے باسیوں کا خون اتنا سستا ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات میسر نہیں محض چار لیب ٹیکنیشنز پر بلڈ بینک اور لیبارٹری کا چوبیس گھنٹے بوجھ ڈالنا انسانیت سوز رویہ ہے۔ جو او پی ڈی کے علاوہ لیبر روم، آپریشن تھیٹر سمیت دیگر ٹیسٹ 24 گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔جدید دور میں جہاں دنیا سمندر کے پانی کو میٹھا بنا کر گھر گھر پہنچا رہی ہے، گوجرخان کے شہری بھاری بھرکم بل بھرنے کے باوجود پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ سرکاری پانی کی سپلائی کا کئی کئی روز غائب رہنا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے۔ پانی زندگی ہے، اور گوجرخان کے عوام سے یہ زندگی چھینی جا رہی ہے۔

    تحصیل گوجرخان میں ہنرمند نوجوانوں کی فوج موجود ہے، لیکن حکومتی سطح پر صنعتی فروغ نہ ہونے کی وجہ سے بیروزگاری کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔ یہاں صنعتی زونز کا قیام وقت کی ضرورت ہے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار ملے۔ جب تک یہاں بڑے صنعتی پلانٹس نہیں لگیں گے، یہاں کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہی رہے گی۔ آراضی ریکارڈ سینٹر کی حالتِ زار یہ ہے کہ عوام اپنے ہی حق کے لیے سارا دن ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ متعدد کاؤنٹرز خالی پڑے ہیں اور ایک دو اہلکار کچھوے کی چال سے کام کر رہے ہیں۔ کیا ڈیجیٹل پاکستان کا خواب یہی ہے؟ اہلیان گوجرخان مطالبہ کرتے ہیں کہ گوجرخان جی ٹی روڈ پر فوری طور پر فلائی اوور کی تعمیر شروع کی جائے۔ ہسپتال میں نیورو سرجن، ایکسرے ٹیکنیشنز اور لیب عملے کی کمی فوری پوری کی جائے۔ پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔ گوجرخان کو صنعتی زون قرار دے کر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جائے۔

    بقول شاعر
    اب بھی وقت ہے بدلو اپنا چلن ورنہ
    تاریخ کی زد میں آؤ گے تو مٹ جاؤ گے
    نہ تمہاری داستاں ہوگی نہ تمہارا نام ہوگا
    جب حق کے متلاشی سرعام نکل آئیں گے