Baaghi TV

Category: بلاگ

  • واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    واقعۂ یادگارِ پاکستان اور شور کا طوفان…؟ تحریر:جویریہ بتول

    اقبال پارک کا گراؤنڈ وہ عظیم یادگار ہے کہ جہاں اسلامیانِ برصغیر نے جمع ہو کر آزاد وطن کے حصول کی انمٹ داستان رقم کی تھی…یہ ایک تاریخی اہمیت کا حامل پبلک مقام ہے… اس سے وابستہ وہ غیر متزلزل ارادے،نعرے،عزائم اور کردار تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا تھا اور الحمدللّٰــــہ آج ہم ایک آزاد وطن کے باسی ہیں…
    اُسی گراؤنڈ سے متعلقہ ایک واقعہ سوشل میڈیا پر گردش میں ہے…واقعی ایسے واقعات چاہے کچھ بھی پسِ منظر رکھتے ہوں کسی بھی معاشرے کا منفی امیج ہی تصور کیے جاتے ہیں…
    ایک ٹک ٹاکر خاتون اور سینکڑوں مردوں کی طرف سے رد عمل نے ہر ذی شعور کا سر شرم سے ضرور جھکایا ہے…اور یہ سب تربیت کی کمی کا گھناؤنا کھیل ہے…افسوس کی بات یہ ہے کہ اجتماعی طور پر بھی ہم اخلاقیات کے بلند معیار کو کھوئے جا رہے ہیں…انفرادی طور پر تو ہر ایک کی صورت حال جسے ذبح کرو،وہی لال ہے والی سے مختلف نہیں ہے لیکن اجتماعی طور پر اخلاقی گراوٹ ایک گھٹیا سوچ کی عکاس بن جاتی ہے…
    سیدھی اور صاف سی بات کی جائے تو اس کا واحد حل صرف اسلامی نظام اور قوانین کا نفاذ ہے جو ہر ایسی گھٹیا فکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے لیکن چند لمحوں کے لیے یہ مان لیا جائے کہ معاشرہ مختلف النوع ذہنیتوں کے مجموعے کا نام ہے… اسلام تو مسلمان مرد و خواتین کو غصِ بصر اور عزتوں کی حفاظت کا حکم دیتا ہے…
    تو جو لوگ ان تعلیمات کے قائل نہیں،اپنا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں…اپنا طرزِ رہن سہن اپناتے ہیں…اپنی پسند کا اخلاق باختہ لباس زیب تن کرتے ہیں…تو پھر کیا کیا جائے؟
    یہ سوال واقعی اپنی جگہ اہم ہے لیکن معاشرے سے برائی کے خاتمہ کے لیے پہلی بات تو قوانین کا فوری اطلاق اور عمل ہونا چاہیے جس کی ہمارے معاشرے میں رفتار انتہائی مایوس کن رہی ہے…نمبر دو مرد و خواتین معاشرے کا حصہ ہیں،سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کے لیے گھروں سے باہر جاتے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ ایسا قطعاً نہیں ہوتا…سارے کا سارا معاشرہ بے حس نہیں ہے…گردشِ حیاء ابھی رگوں میں باقی ہے…
    مسلمانوں کے لیے تو ایک زبردست نفسیاتی حل بتایا گیا ہے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھو…پھر کوئی پاس سے ناچنے گانے والی گزر رہی ہو یا مجرے کوٹھے والی یقینِ کامل ہے مرد کی فطری جبلت کو متاثر نہیں کرے گی…اور اگر مرد نگاہیں اُٹھا کر ہی چل رہا ہے تو ایک باپردہ اور باحیا انداز میں چلتی کوئی بھی خاتون بحفاظت بچ جائے گی…یہ تو ایک زبردست نسخہ ہمیں ساڑھے چودہ سو سال پہلے بتا دیا گیا ہے اور اِسی پر عمل آج بھی فلاح کا باعث ہے…!!!
    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اگر اس سے اُلٹ سوچ و کردار کا طبقہ کہیں نظر آئے…
    آپ کسی بازار کا ہی رُخ کر لیں…کسی بھی ادارے اور تعلیمی اداروں میں چلے جائیں ایسے انداز اور نمونے آپ بآسانی دیکھ سکتے ہیں تو کیا کسی کے انداز،لباس اور کردار کا پسِ منظر دیکھ کر انہیں چھیڑا جایا جانے لگے گا…یا انہیں ٹارگٹ کیا جائے گا…؟
    یقیناً ہر گز نہیں…!!!
    یہ واقعہ بھی ایسی ہی نیگیٹیویٹی کی مثال بن رہا ہے اس کے پیچھے محرکات جو بھی ہوں لیکن اُس ہجوم اور مجمع میں کوئی بھی رجل رشید نہیں تھا…جو اس واقعہ کو وقوع ہونے سے روک دیتا…؟
    عورت بہر حال عورت ہے…اِسے کھلونا اور سوفٹ ٹارگٹ سمجھ لینا بھی ایک معاشرتی بے حسی ہے… ایسے واقعات کے علاوہ بھی تعلیمی اداروں میں ہوس ناکیوں کا شکار کوئی بنتِ حوا ہو…یا معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعات…یہ سبھی معاشرے کا المیہ اور سیاہی و وبال ہیں…
    اصل محرک تربیت،سوچ اور معاشرتی اقدار ہوتی ہیں…
    جب ذہنوں میں گند بھر جائے تو لباس اور پردہ پوشی کی حدود بھی درندہ صفت انسان کہیں نہ کہیں روند ڈالتے ہیں…ہمیں اصل ضرورت تربیت کی اور معاشرے میں زہر کی طرح پھیلتی اس منفیت کو روکنے کی ہے… وہ کوئی سا بھی فورم ہو کوئی سا بھی مقام ہو…آج کے نوجوان کل کے والدین ہیں…اور آنے والی نسلوں کا مستقبل انہی کے کردار پر منحصر ہے…
    نیز حدود اور قوانین کا اطلاق فرضِ اوّل ہونا چاہیے…!
    حکومت اور عدلیہ کی جانب سے خواتین کے پردہ اور ذمہ داریوں کے حوالے سے احکامات صادر ہوں…
    پھر مجرم چھوٹا ہو یا بڑا اُسے اپنے کیے کا ڈر ہو…شکنجہ کسے جانے کا خوف ہو تو ہی اصلاح ممکن ہو سکتی ہے…
    سوشل میڈیا پر ایسی سرگرمیاں اور آزادی جو بے حیائی اور اخلاق باختگی کی ترویج کا باعث ہیں،ایک اسلامی مملکت میں انہیں مکمل بین کیا جانا چاہیے…یہ وقت کی ضرورت اور آنے والی نسلوں کے کردار و اخلاق کی بقاء کے لیے ازحد ضروری ہے…!
    پبلک اور مقدس مقامات پر جانے اور سرگرمیوں کے حوالے سے باقاعدہ اصول و ضوابط طے ہوں…بے حیائی کی عکس بندی کرتے مناظر اور سیلفیوں کی چنگاریاں جب آتش فشاں بن جاتی ہیں تو ہاتھ سروں پر رکھ کر بین شروع کر دیے جاتے ہیں اور ہر ایک ہی خود کو معصوم اور مظلوم جتاتا ہے…یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ایسے ناچ اور مجرے دیکھنے کے لیے آنے والے شرفاء نہیں بلکہ ہمیشہ شریر ذہن ہی ہوا کرتے ہیں…جن کی وجہ سے پورے معاشرے کے شرفاء پر انگلیاں نہیں اٹھائی جا سکتیں…
    ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں…اور ہر واقعہ میں کئی کردار ہوتے ہیں…ان سب چیزوں پر غور اور عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے…
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عورت تو وہ ہوتی ہے جسے میدانِ جنگ میں بھی قتل نہ کرنے کا استثناء ملا…عورت کی عزت اور رہ نمائی چاہے وہ کہیں بھی ہو کوئی بھی ہو…اس طرح کی جائے کہ وہ ایوان ریڈلے سے ہمیشہ کے لیے مریم بن جائے…ماضی قریب کی یہ شاندار مثال ہم سب کے لیے ایک سبق ہے…کوئی بھی محرک اس صنفِ نازک کے خلاف ایسا اقدام نہ اُٹھوائے جو وقتی ہی سہی ایک منفی امیج اور ایشو بن جائے…اور لبرل مافیا ہمیں عورت کی تعظیم اور حقوق کے درس دینے کے لیے کوؤں کی طرح چلچلانے لگے…
    عورت بھی اپنی حدود اور ذمہ داریوں کو گہرائی سے سمجھے اور جو یہ نہیں سمجھتیں تو میرے معاشرے کے مرد کی حیا اس قدر مضبوط ہو کہ کسی اور سوچ اور طبقہ سے تعلق رکھنے والی عورت کا لباس یا فیشن اُس سے حیا کی چادر نہ چھین سکے… اور آئے روز کے ایسے طوفانوں سے میرا یہ چمن محفوظ کہلائے…آمین…!
    ===============================

  • *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    *بہن گھر کی رونق تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    تربیت امت کے گلدستہ سے ایک پھول کو چنا ہے جس کی خوشبو آپ تک بکھیرنے کی کوشش ہے اللہ کریم مجھے حق لکھنے آپ کو پڑھنے سمجھنے اور ہم سب کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے.
    بہن احساس کا نام ہے جب بھائی روتا ہے تو اس کو اس کے زخم اپنے زخم محسوس ہوتے ہیں. اس کی تکلیف اپنی تکلیف محسوس ہوتی ہے. گھر میں کھلتی یہ کلیاں گھر کی رونق ہوتی ہیں بولتی ہیں تو جیسے آنگن چہچہاتا ہے. بھائی سے زد فرمائشیں ان بھر پورا ہونے پھ شکرانے کی وہ نظر کمال کا احساس ہوتا ہے.
    یہ محبت تو اللہ کریم کی دی ہوئی بے لوث نعمت ہے.
    سیرت کی کتاب سے مجھے ایک خوبصورت واقعہ ملا آپ کی سمانے گوش گزار کرتا چلوں تا کہ پتا چلے کہ ہمارے پیارے نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰ ﷺ کا اپنی بہن سے پیار کیسا تھا. اور بہن کا اپنے بھائی سے پیار کیسا تھا.
    عرب کے رواج کے مطابق نبی کریم خاتم النبیںن محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر پرورش فرما رہے تھے تو ساتھ میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی اپنی بیٹی اور حضور نبی کریم خاتم النبیںن محمد مصطفیٰﷺ کی بہن بھی پرورش فرما رہی تھیں. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ سے بڑی تھیں جب باہر سہیلیوں میں بھای ﷺ کو لیکر نکلتیں تو کہتیں لاؤ کوئی میرے بھائی جیسا سہنا بھائی لاؤ. اللّٰہ اللّٰہ بہنوں کے کمال لاڈ. آپ ﷺ کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتیں آپ ﷺ کے ساتھ کھیلتیں. بچپن کا زمانہ گزر گیا.
    وقت اور الفاظ کی قید کے پیش نظر اسی داستان کو مختصراً بیان کرتا ہوں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا اور دوسری جانب حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کی وہی رضائی بہن جو اس وقت تک ایمان نا لائی تھیں ان کی شادی ہو چکی تھی. جب اعلان نبوت کے بعد جنگوں اور فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک جنگ کے مال غنیمت میں کچھ قیدی لاے گئے. جن کا تعلق حضرت شیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبیلہ سے تھا. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبیلہ کے لوگوں نی بلایا اور کہا کل سنا کے محمدمصطفیٰﷺ رہبردوجہاں تمہارے بھائی ہیں اور ان کی قید میں ہمارے کچھ قیدی ہیں اگر تم انہیں چاہو تو چھڑا لاؤ. آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی سہیلیوں کی ساتھ آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں. صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کے باہر روکا اور پوچھا تو جواب ملا جاو اندر جا کر بولو محمدمصطفیٰﷺ کی بہن آئی ہے. وہی بڑی بہن والا انداز جواب آیا عزت سے لایا جاے آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر استقبال فرمایا چادر بچھائی اور بٹھایا. بچپن کی باتیں ہونے لگیں. سوال آیا بہن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے اے محمدمصطفیٰﷺ تجھے کبھی بڑی بہن ہاد نا آئی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آستین چڑھائی اور فرمایا بہن تجھے یاد ہے ایک بار تو نے یہاں میری بازو پر دانت کاٹا تھا. میں جب بھی تجھے یاد کرتا ہوں اپنی آستین پر تیرے دانت کا نشان دیکھ لیتا ہوں. تجھے کیسے لگا تیرا بھائی تجھے یاد نہیں کرتا. بہن بھائی کی محبت نے مسجد کے اندر مجمع اشک بار کر دیا. پوچھا کیسے آنا ہوا آج بھائی کیسے یاد آیا. کہنے لگیں ہمارے قبیلے کے کچھ قیدی مال غنیمت میں آے ہیں ان کے لیے آئی ہوں. جواب ملا بہن پیغام بھیج دیتی یا مجھے بلایا ہوتا اتنے سے کام کے لیے. جواب ملا تم ﷺ سے ملنے کا بھی دل تھا مدت ہوئی تھی دیکھے ہوے.
    کیا کمال ماحول ہو گا. آپ ﷺ نے کچھ مال بطور تحفہ عطا کیا اور قیدی بھی آزاد کیے. بہن نے بھی اسلام قبول کر لیا.
    سوال یہ ہے کبھی ہم نے بھی اہنی بہن سے اس طرح احساس والا معاملہ فرمایا ہے؟ بہن کے لیے اصول مال غنیمت ہی بدل ڈالا.
    بہنوں کی وراثت کھانے والوں سے سوال ہے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو عطا کرنے کا حکم فرمایا ہے. ہم کس رخ جا رہے ہیں.
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.
    جب تم اپنی بہن کے گھر جاؤ تو کچھ نا کچھ لے کر جایا کرو.
    بہنوں کو بھائیوں کا انتظار ہوتا ہے.
    فی زمانہ دوسروں کی بہنوں پر ڈورے ڈالنے والوں سے گزارش ہے خدارا وہی خرچ اپنی بہن پر کرو تم کسی کی بہن کے 32 دانتوں سے بات نکلنے سے پہلے پورءمی کرنے کا جزبہ لے کر بیٹے ہو. تمہاری اپنی بہن کس کا انتظار کرے. وہی پیسہ وہی محبت اپنی بہنوں کو دو تاکہ اسے یہ کمی نمباہر سے پوری نا کرنی پڑے ان سے پیار کرو.
    ان کا خیال رکھو انکی ضرورت پوری کرو ان سے خوشگپیاں کرو. ان کا احترام کرو ان لر شفقت کرو. یہ تمہارے گھر کی رونق ہیں خدارا اس رونق کو آباد کرو. بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ بھائی کو رازدار بنائیں تاکہ عزت اپنی بھی محفوظ رہے بھائی کی غیرت بھی باپ کا مان بھی. گھر کا ماحول بھی سکون بھی خوشیاں بھی قرار بھی

    @EngrMuddsairH

  • غصہ ۔اسباب و تدارک  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    غصہ ۔اسباب و تدارک تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    غصہ، غیظ یا غضب فطرت انسانی کاایک شدید جذبہ ہے جس کی وجہ سے اس حالت میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اورغصہ کا شکار ہونے والےمیں غیر دوستانہ رد عمل شروع ہوجاتا ہے جو اشتعال انگیزی، جذباتی مجروحیت یا دھمکی کی شکل میں نمودار ہوسکتاہے۔
    ماہرین کے مطابق غصہ معاشرے میں بگاڑ کا باعث بنتاہےاورغصے سے خاندانی زندگی بھی تباہ ہو سکتی ہے.غصہ ایک پریشر ککر کے مشابہ ہوتا ہے اگر وقت پر اس کی نوب کو کھولا نہ جائے تو پریشر پتہ نہیں کیا کر جائے۔
    یہ بات بھی سچ ہے کہ والدین کے لئےبچوں کی پرورش یقیناً ایک تھکادینے والا عمل ہے اور یہی تھکاوٹ غصے کا ایک بڑا سبب بن جاتی ہے لیکن ہم اپنی تھوڑی سی ذہنی اور عملی کوششوں سے اس پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کے لیے تربیت کا ایک اچھا ذریعہ بھی بناسکتےہیں۔ یادرکھیں کہ اگرگھر کے ماحول اور گھر کےکلیدی افراد میں اگرغصے کی لہریں جتنی زیادہ ہوں گی، بچوں کی سوچ اور عمل بھی اسی تناسب سے اسی سانچے میں ڈھلتی جائےگی۔
    یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہم سب ہی کبھی نہ کبھی غصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔کبھی ٹریفک میں پھنسنے پر، کبھی دفتر میں ترقی نہ ملنے پر، کبھی کام مقررہ وقت پر نہ ہونے پر یا پھر بچوں کے شور شرابے پر ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ ہم سب غصے کی کیفیت میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں؟
    اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں مسئلے کی جڑ تک جانا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمیں غصہ کن محرکات یا اسباب کی وجہ سے آتا ہے اور پھر ہمیں مسئلے کو حل کرنے کے لیے کون سے ممکنہ طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔
    گھر میں بچوں کا خراب رویہ رویہ،جھنجھلاہٹ کا شکار کر دینے والے واقعات جیسے کہیں پھنس جانا، دفتری تناؤ، مالی یا خاندانی تنازعات، حسد یا سازشیں اور اس کے ساتھ ساتھ بیماری و تھکن جیسے مسائل بڑوں میں غصہ کا باعث بنتے ہیں۔
    جبکہ بچوں میں غصے کے محرکات بھی عمومی طور پر بڑوں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں تاہم ان میں غصے کی بعض دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، جیسے دوسرے بچوں سے لڑائی،کسی کام کی اجازت نہ ملنا، ہم عمر بچوں کا نظر انداز کرنا، اسکول یا باہر تشدد کا شکار بننا، غنڈہ گردی کا شکار ہونا، سزا کا ملنا یا ڈانٹ پڑنا اور کبھی کبھی بچوں میں صحت کے مسائل بھی وجہ بن سکتی ہے۔
    غصے کی حالت میں فوری طور پر کسی بھی قسم کا ردعمل عام طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، خود کو پرسکون کرنے کے لیے مختلف ذہنی، جذباتی یا عملی تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں، مثلا۔
    جیسے ہی غصہ قابو سے باہر ہونے لگے تو کوئی رد عمل دینے سے پہلے دس منٹ کا وقفہ لیں گے، یوں تھوڑی دیر بعد، جب اعصاب پرسکون ہوجائیں تو آپ اپنی بات اچھے طریقے سے کر سکیں گے۔اس کے علاوہ ذہن کو مصروف رکھنے کے لیے کوئی بھی سرگرمی شروع کی جا سکتی ہے، اگر اور کچھ سمجھ نہ آرہا ہو تو فوری طور پر سو سے الٹی گنتی گننا شروع کر دیں، سو سے الٹی شروع کرکے ایک تک ختم کریں اور اس عمل کو بار بار دہرائیں۔
    علاوہ ازیں بالکل آہستگی سے دس یا بیس بار گہری سانسیں لیں، یہ عمل براہ راست غصے کو پیدا کرنے والے ذہنی کیمیکل ‘ایڈرینالائن’ کو نارمل کر دے گا۔
    اس کے علاوہ روحانی عمل کے طور پر دعا پر مبنی الفاظ کو مسلسل دہرانے سے بھی جذبات قابو میں آجاتے ہیں۔
    جسمانی ورزش کرنے، چہل قدمی کرنے یا صرف غصے کے مقام سے باہر چلےجانے سے بھی غصے کی کیفیت کو بہتر کیاجاسکتا ہے۔
    اسی طرح اگر غصے کے دوران ٹھنڈے پانی یا مشروب کےچند گلاس پی لئے جائیں تواس سے بھی اعصابی نظام بہتر ہوسکتا ہے۔
    غصے کا آنا ایک فطری عمل ہے لیکن اگر ہم مسلسل اس غصے کو دبانے یا چھپانے کی کوشش کرتے رہیں گے تو یہ ہمارے لیے کئی طرح کے دیگر ذاتی اور سماجی مسائل کا سبب بن سکتاہے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد جب آپ یا آپ کا مد مقابل غصے کی کیفیت سے نکل آئے تو اس سےغصے اور اس کی وجوہات سے متعلق بات کرلی جائے تو بہتر ہو جاتا ہے، آپ خود بھی کسی دوسرے فرد سے اس کے متعلق گفتگو کر سکتے ہیں جس کے بہتر نتائج برامد ہو سکتے ہیں۔
    غصے کی حالت میں سکون دینے والی مصروفیات تلاش کریں اور چونکہ غصے کی حالت ایسی توانائ پیدا کرتی ہے جس میں ذہنی حرکیات بہت تیز ہو جاتی ہیں اس لئے اس توانائ کو مثبت سمت میں موڑا جاسکتا ہے جیسے کچھ لکھنے، ڈرائنگ یا مصوری جیسی ذہنی سرگرمیوں کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے اوریقین جانئے یہ سرگرمی خاص طور پر بچوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اور خاص بات یہ بھی ہے کہ غصے میں لکھی گئی تحریریں مستقبل میں آنے والوں کے لئے سبق آموز نتائج فراہم کرتی ہیں . غصے کی حالت میں آپ کی جسمانی سرگرمی ، پیدا ہونے والی منفی توانائی کو مثبت صورت میں بدل دیتی ہے، اس کے لیے آپ ورزش کو اپنی عادت بنائیں، جسمانی مشقت کے بعد آنے والی پر سکون نیند کے ذریعے اپنے اعصاب اور جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
    آخری اور سب سے اہم بات یہ کہ غصے والے بچوں کے لیے والدین کو رول ماڈل بننا چاہیے، کیوں کہ بچے گھر کے ماحول کا عکس ہوتے ہیں اس لئے پہلے والدین اپنے غصے پر قابو پانے کی صلاحیتوں پر کام شروع کریں اس طرح نہ صرف یہ کہ بچوں کو غصہ کی کیفیت سے بچایا جاسکے کا بلکہ معاشرے میں بھی برداشت کا عنصر غالب ہو سکےگا اورپھر ایک بہتر معاشرے کے قیام میں مدد گار ہو گا۔

    @Azizsiddiqui100

  • فلاپ سکرپٹ  تحریر : فضیلت اجالہ

    فلاپ سکرپٹ تحریر : فضیلت اجالہ

    آزاد ملک کے 400آزاد باشندوں نے 14 اگست 2021 کو مینار پاکستان تلے جہاں آزادی کی بنیاد رکھی گئی تھی آزادی مناتے ہوئے عائشہ نامی لڑکی کو اسکی مرضی سے حراس کیا اسکا لباس تار تار کرتے ہوئے اسکی عزت و انا کو مٹی میں ملاتے ہؤئے اپنے آزاد ہونے کا ثبوت دیا یہ اور بات کہ وہ سب عائشہ ہی کی دعوت پہ وہاں جمع ہوئے تھے ، اور ایک بار پھر ملک پاکستان کا سر شرم سے جھکایا گیا ۔

    جی ہاں آزاد ، قانون کے ڈر سے آزاد ،ضمیر کی آواز سے آزاد ،احساسات سے آزاد، غیرت سے آزاد، اللہ کے خوف سے آزاد اور سب سے بڑھ کر مکافات عمل کے ڈر سے آزاد ان لوگوں نے یہ شرمناک کھیلا ، اور جلتی پہ تیل سستے چینلز کی ریٹنگ کی حوس نے ڈالہ ۔
    یہ سب لکھتے ہوئے میرا قلم شرمسار ہےلیکن میں مجبور ہوں لکھنے پہ کہ اگر آج نہیں بولیں گے تو کل یہ چار سو سے چار ہزار ہونگے اور وطن عزیز میں ان گدھوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور اس پاک دھرتی کو اپنی نحوست سے آلودہ کرتے رہیں گے ۔
    سوال یہ نہیں کہ وہ اکیلی کیوں تھی، سوال یہ بھی نہیں کہ اسکا محرم ساتھ نہیں تھا،مجھے اس کے نازیبا لباس پہ بھی کوئ اعتراض نہیں ہے سوال تو یہ ہے کہ 14 اگست کو یہ واقعہ پیش آتا ہے لیکن کہیں اسکا زکر نہیں ہوتا کوئ ویڈیوں سامنے نہیں آتی عائشہ اکرم نامی خاتون 15 اگست کو انسٹا گرام پر اپنی تصاویر شئیر کرتی ہیں لیکن اس واقعہ کا کوئ زکر نہیں ملتا کیوں؟؟؟
    17 اگست کو اچانک سے تمام مواد سوشل میڈیا پہ شائع ہوتا ہے اور عائشہ مظلومیت کی تصویر بنی آنسو ں بہاتی سستے چینلز کی ریٹنگ بڑھاتی نظر آتی ہیں کیوں؟ 14 اگست کو ہی یہ خبر کیوں نہیں پھیلی؟؟ کیوں ایف آی آر نہیں کٹوائ گئ ؟ چلے مان لیتی ہوں کہ لڑکی تھی عزت کے ڈر سے لوگوں کے ڈر سے خاموش تھی لیکن وہاں موجود تمام لوگ کیسے خاموش تھے ؟ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں موجود کافی لوگوں نے اپنے کیمروں میں اس گھناؤنے منظر کو قید کیا تھا 14 اگست سے لیکر سترہ اگست تک کیوں کوئ ویڈیوں منظر عام پہ نہیں آئ اور 17 اگست کو ایک دم سے ساری ویڈیوز اپ لوڈ کردی گئ اور معصوم عوام کو الو بنایا ،سستی شہرت کے نشے میں پاگل کچھ لبرلز اور صحافیوں نے تو عرض پاک کے باشندے ہونے کو ہی شرمنگی کا باعث قرار دے دیا ،سب سے پہلے تو ان دیسی لبرلز کو ملک بدر کرنا چاہیے جو جس مٹی کی بدولت آج دو لفظ بولنے کے قابل ہیں اسی کے خلاف ہرزہ سرائ کرتے ہیں

    ان تمام باتوں سے دو ہی پہلوں نکلتے ہیں کہ یا تو یہ سارا تماشہ سستی شہرت کیلیے رچایا گیا جس میں محترمہ خاصی کامیاب بھی رہی یا پھر اس تمام ڈرامے کے پیچھے ایسے ملک دشمن عناصر کا ہاتھ ہے جو اسی ملک کا کھاتے ہیں اور اسی ملک کا نام خراب کرتے ہیں
    جو خود تو باہر کے ملکوں میں عیاشیاں کرتے ہیں اور یہاں عورت کارڈ کھیلتے ہوئے مکل و قوم کا نام داغدار کرتے ہیں ۔ان دونوں مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے بھی صرف عورت قصور وار نہیں ہے اس میں ملوث تمام بے غیرت مرد بھی برابر کے قصور وار ہیں ،جو پیسے کے لالچ میں یا زاتی حوس میں اس بے ہودہ ڈرامے کا حصہ بنے ،دوسروں کی عورتوں پہ بری نظر رکھ کہ انہیں گدھ کی طرح نوچ کہ اپنی عورتوں کے متعلق یہ گمان کیوں رکھتے ہو کو ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا؟ دنیا مکافات عمل ہے آج کسی کی بیٹی کو ننگا کرتے ہو مقصد کوئ بھی ہو چاہے اس عورت کی رضامندی بھی شامل ہو پھر بھی کل اپنی بیٹی کواپنےہی جسے کسی اور نامرد کے ہاتھوں بے لباس ہوتے دیکھنے کیلیے تیار رہو۔
    بے شک یہ سارا ڈرامہ تھا وہ تمام مرد حضرات اس عورت کے کہنے پہ وہاں موجود تھے لیکن تمھاری غیرت تمھاری تربیت تمھارے ایمان کا کیا؟ کیا تمھاری اخلاقی اقدار اس قدر پست اور مادری تربیت اس قدر کمزور ہے کہ عورر کو دیکھتے ہی تمھارے اندر کا جانور تم پر غالب آجاتا ہے زرا سے پیسے کا لالچ تمہیں اچھے برے کی تمیز بھول جاتا ہے اور تم اس مملکت خداد جس کی بنیاد ہی لاالہ اللہ ہے کا نام خراب کرنے کیلیے تیار ہوجاتے ہو ۔

    اوع جو لوگ اس تمام معاملے میں عمران خان کے اسلام اور پردے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو گھسیٹ رہے ہیں انکو بتاتی چلوں کہ بے شک اسلام ہی راہ نجات ہے ،مکمل لباس اور حیا عورت کا زیور ہے ۔عمران خان نے مکمل لباس پہننے اور بے حیائ سے رکنے کی بات ضرور ہی جو صحیح بھی ثابت ہو رہی ہے
    لیکن عمران خان نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اسلام بے ہودہ کپڑے پہننے والی عورت کے کپڑے پھاڑنے کی اجازت دیتاہے ،
    درحقیقت اسلام تنہا عورت کو دیکھ کے بھوکے کتوں کی طرح لپکنے کا نہیں بلکہ نگاہ جھکا کہ راستہ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے ۔اگر اس تمام واقعہ کو سچ مان بھی لوں تو میرا دل نہیں مانتا کہ اتنے ہنجوم میں کسی کی ماں بہن بیٹی کو ان حالات میں پہنچاتے کسی ایک شخص کو بھی اپنے گھر میں موجود عورتوں کا خیال نہیں آیا ہوگا ،ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ان گِدھوں کی بھیڑ میں کسی ایک کو بھی اپنے ایمان کا خیال نہیں آیا ،اسکی چینخیں سنتے ہوئے ،ویڈیوں بناتے ہوئے مکافات عمل کے ڈر نے کسی ایک کے قدموں کو زنجیر نا کیا ہو ؟
    عام کہاوت ہے کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح وہاں موجود تمام مرد کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں ،اگر اس ملک میں جگہ جگہ بھیڑیے گھات لگائے بیٹھے ہیں تو وہیں کچھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جن کی بدولت یہ ملک قائم و دائم ہے
    آج یہ ایک واقعہ ہے لیکن اگر ٹک ٹاک جیسی فضولیات پہ پابندی نہیں لگائ جاتی ،والدین اپنی اولاد کو اس گھٹیا فعل سے نہی روکیں گے اور سارا الزام ریاست کے سر ڈالتے رہیں گے تو کل کئ عائشہ اور حریم شاہ ہونہی سر بازار اپنی اور مملکت خدادا اس سوھنی دھرتی کی عزت تار تار کرتی رہیں گی اور ان میں سے کوئ آپ کی بیٹی ہوگی تو کوئ بہن تو کسی کہ آپ شوہر ہونگے تب آنسو نا بہائیے گا ، بس پاکستان اور عمران خان کو قصور وار ٹھرائیے گا اور تمام عمل کا اسی طرح دفاع کیجیے گا ۔
    اس طرح کے فیک پراپگینڈے کی وجہ سے وہ تمام عورتیں جو واقع مظلوم ہوتی ہیں جن کے ساتھ واقع زیادتی ہوتی ہے وہ اپنا کیس لڑنے سے پہلے ہار جاتی ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنا وقار مجروح نا کریں نا کسی دوسرے کو اس کی اجازت دیں
    حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیق کریں اور اس میں ملوث تمام لوگوں کو لڑکی سمیت کڑی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کی جرات نا ہو کہ وہ زاتی مفادات کی خاطر ملک پاکستان کا نام خراب کرنے کا ناپاک خیال بھی اپنے دل میں لائیں ۔
    @_Ujala_R

  • ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    ففتھ جنریشن وار اور مینار پاکستان کا واقعہ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ ہجوم کی بد تمیزی سے ہم پر بطور معاشرہ کئی سوالات اُٹھ گئے ہیں۔
    اس عائشہ نامی لڑکی اور نور مقدم کیس میں کئی مماثلات ہیں۔
    دونوں لڑکیاں متنازعہ بیک گراونڈ کی تھیں۔
    دونوں مشرقی اور اسلامی روایات کی پاسداری نہ کرنے والی آزاد خیال خواتین تھیں۔
    نور مقدم تو دنیا سے چلی گئی،اُس پر زیادہ بات کرنا بھی ہماری روایات کے خلاف ہو گا۔
    نور مقدم کیس میں ملوث درندے ،مجرم اور قاتل کو عبرتناک سزا کادیا جانا بہت ضروری ہے۔
    جس وحشیانہ طریقے اور بر بریت سے اس خاتون کو قتل کر کے اسکا سر تن سے جدا کیا گیا۔
    اسکی مہذب معاشروں تو کیا جنگل کی دنیا میں بھی کوئ مثال نہیں ملتی۔
    مینار پاکستان والے کیس میں لڑکی کے متنازعہ کردار پر بہت سے سوالات اُٹھاۓ جا رہے ہیں۔
    ایک تو یہ کہ وہ وہاں رش اور بھیڑ والے دن ٹک ٹاک وڈیو بنانے کیوں آئ؟
    دوسرا یہ کہ اس نے بھارتی جھنڈا اُٹھا رکھا تھا،تاہم اس بات کی تصدیق پاکستان میں آزاد زرائع سے تو نہیں ہو سکی مگر ہمارے کچھ اندرونی دشمنوں کی وساطت سے بھارت تک جا پہچی ،
    جسے بھارتی میڈیا نے مرچ مصالحہ لگا کر خوب اُچھالا۔
    لڑکی پر تیسرا اعتراض یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ اس نے نامناسب لباس پہن رکھا تھا۔
    لڑکی پر لگاۓ گئے اعتراضات پر متفق ہونے کے بعد بھی کیا ان لوگوں کے گھناؤنے کام کو معاف کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح وہ ایک لڑکی پر جھپٹ پڑے۔
    کیا ان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ لڑکی کو لوٹ مار کا مال سمجھ کر اس پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑیں
    انہیں اس بر بریت کی معافی کبھی بھی نہیں دی جا سکتی۔
    کون کس طرح کا لباس پہنتا ہے۔کون کس طرح کا کام کرتا ہے۔
    اس کو دیکھنا لوگوں کا کام نہیں تھا۔
    اگر ان سب کو لڑکی کا وڈیو بنانا برا لگا تھا تو اسے لعن طعن کرتے۔
    اسے اس جگہ سے دفع دور ہونے کا کہہ دیتے۔
    مگر اُن کے لئے تو لڑکی کو دبوچنا ضروری تھا،جو انہوں نے کیا۔
    اگر اس قسم کے فیصلوں کی اجازت لوگوں کو دے دی گئی تو معاشرے میں پھیلےجاہل لوگ عام آدمی کا جینا دشوار کر دیں گے۔
    عورتوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو جاۓ گا۔
    اس واقعہ کو اقرار سید اور شامی نامی لڑکے نے سستی شہرت کے لئے استعمال کیا،جبکہ اقرار نے تو ہمیشہ کی طرح سارا ملبہ پاکستان پر بطور ملک ڈال دیا،
    تاکہ بھارت جسے وہ پاکستان سے بہتر سمجھتا ہے،
    خوش ہو اور بھارت خوش ہوا بھی۔
    بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے،وہ تو موقع کی تاک میں رہتا ہے۔
    اور اسے ایسے مواقع اقرار جیسے بندے اور ڈان جیسے اخبار گاہے بگاہے فراہم کرتے رہتے ہیں۔
    ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہر پہلو کو دیکھنا ہو گا۔ہمیں ہر زاویے سے پرکھنا ہو گا کہ کون کہاں پر غلط تھا۔
    اسی واقعہ میں جس طرح ہجوم نے لڑکی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا،اُسکی جان بھی جا سکتی تھی۔
    آپ سوچیں کہ اگر اس واقعے میں خدانخواستہ اس لڑکی کی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟
    ایک تو یہ بہت بڑا انسانی المیہ ہوتا
    دوسرا بین الاقوامی میڈیا اسے جس بری طرح ہمارے ملک کے خلاف استعمال کرتا،
    وہ سوچنا بھی محال ہے-
    ہم تو پہلے ہی اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے نرغے میں ہیں۔
    کوئ ایسا وقت نہیں،جب ہمارے خلاف سازشوں کے تانے بانے نہ بُنے جا رہے ہوں۔
    ایسے میں ہم اس طرح کے بے مقصد واقعات کے متحمل کیسے ہو سکتے ہیں؟
    اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہچے بغیر کوئ نتیجہ اخذ مت کریں۔
    کڑی سے کڑی ملنے کا انتظار کریں تاکہ بعد میں اپنے لکھے گئے الفاظ اور کہی گئی بات پر شرمندگی نہ ہو۔
    اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔
    شروع میں ہی کچھ لوگوں نے صرف ہجوم میں شامل ملزمان کو اپنا نشانہ بنایا۔بعد میں لڑکی کا کردار بھی کچھ مشکوک نظر آنے لگا،
    جس سے یہ تاثر ملنے لگا کہ یہ سب کچھ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا،
    جس کا مقصد شہرت اور فالوورز کا حصول تھا۔
    آجکل فالوورز اور ریٹننگ کے حصول کے لئے بھی ایسےایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
    لہذا فیصلہ کرنے میں کبھی بھی جلد بازی نہ کریں۔اور جب بھی کوئ فیصلہ کریں تو اس میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہم جانے انجانے میں کہیں پاکستان کے مفادات کو نقصان تو نہیں پہچا رہے؟
    کہیں ہم کسی شازشی گھن چکر میں آکر کہیں کوئ اپنا نقصان تو نہیں کر رہے-
    اس قسم کے واقعات ہمیں بعض دفعہ اتنا جذباتی کر دیتے ہیں کہ ہم بغیر سوچے سمجھے دشمنوں کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں،
    جسے ففتھ جنریشن وار کا نام دیا جاتا ہے۔
    ہم نادانی میں اس ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ کرنے کے بجاۓ اسی کا ایندھن بن جاتے ہیں،
    جو ہمارے لئے بطور معاشرہ اور بطور ایک ملک کے سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ہمیں اپنی کردار سازی کی ضرورت ہے۔معاشرے میں وہ چیزیں لیکر آئیں،جن کی اجازت دین اسلام بھی دیتا ہو۔ان چیزوں پر قانون سازی ہونی چاہیے،جو حکومت کی زمہ داری ہے۔لوگوں کو جج اور منصف کا حق نہیں دیا جا سکتا،ورنہ ہم جنگل کا معاشرہ بن جائیں گے،
    لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے معتدل رویہ اختیار کریں۔
    جھپٹ نہ پڑیں،اپنے اندر کے شیطان کی تسکین کے لئے۔
    پاکستان میں ہم اپنی اُن روایات کے باغی نہیں ہو سکتے،
    جن میں گھر کے بڑے چھوٹوں کو نصیحت کرتے ہیں۔
    جہاں باہر جانے کے لئےباپ ،بھائ اور خاوند کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
    جہاں شام کے بعد گھر کے نوجوانوں کو گھر سے باہر جانے سے روکا جاتا ہے۔
    جہاں مائیں اور گھر کی بڑی بوڑھیاں ہر وقت اپنے بچوں کو سمجھاتی رہتی ہیں کہ یہ پہنو،اس طرح بیٹھو،اس طرح بات کرو۔
    یہیں سے ہمیں وہ تربیت ملتی ہے،جو ہماری سوسائٹی کا خاصہ ہے۔انہیں طور طریقوں میں یہ خاصیت اور انفرادیت بھی ہوتی ہے،
    جہاں والد کسی بھی وقت اپنے بچوں کے موبائیل دیکھ سکتا ہے کہ بچے کونسی ویب سائیٹ یا مواد دیکھ رہے ہیں ؟
    ان چیزوں کے بڑے فائدے ہیں،مگر خونی لبرلز کے نزدیک یہ سب دقیانوسی سوچ اور آؤٹ آف فیشن چیزیں ہیں۔

    کسی بھی معاملے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیاز جیسے فتنوں کے جھانسے میں نہ آئیں،
    کیونکہ ان لوگوں کو تو ہڈی ہی اسی مقصد کے لئے ڈالی جاتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس معاشرے اور ہماری مذہبی درخشندہ روایات کو نقصان پہنچایا جاۓ۔
    لوگوں کو خوبصورت مشرقی روایات اور بے مثال اسلامی اقدار سے دور کیا جا سکے۔
    یہی ففتھ جنریشن وار ہے،جس کا مقابلہ ہم نے ایک اچھے مسلمان کے طور پہ
    ایک اچھے پاکستانی کے طور پہ
    اور سب سے بڑھ کر ایک اچھے انسان کے طور پر کرنا ہے۔
    کیونکہ ایک اچھا انسان بنے بغیر ہم نہ تو اچھے پاکستانی بن سکتے ہیں اور نہ ہی اچھے مسلمان #

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ اور مینار پاکستان تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)

    انٹرنیٹ ایک ایسا جھال ہے جس میں سب بچے، بوڑھے اور نوجوان سب پھنستے جارہے ہیں ۔کوئی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے کو تیار ہی نہیں کے انکا قیمتی وقت رشتے تعلیم اور دنیاوی کامیونیکیشن سے ہی کٹا ہوا ہے۔لوگ اکثر گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استمال کرتے ہیں۔گھر بیٹھے بزرگوں کی باتیں نظرانداز کرکے گھر کے کونے میں پورا دن بیٹھ کر گلوبل دنیا سے رابطہ کرلیتے ہیں پر بزرگوں بڑھوں اور بچوں کو ٹائم دینے سے گریز کرتے ہیں۔پہلے کے دؤر میں بچے بزرگوں کیساتھ بیٹھ کر اخلاقی روایات کی کہانیاں اور اقدار کے درس سنتے تھے جوکہ دؤر حاضر کے بچوں کو ہاتھ میں موبائیل تھما دیتے ہیں اور بچے دنیا میں قدم رکھتے ہی اس ٹیکنالاجی سے واسطہ پڑھ جاتا ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے آپکا ڈیٹا چوری ہو رہا ہے۔آپ کس بات سے خوش ہوتے ہیں اور آپکو کیا اچھا لگتا ہے سب شیئر ہورہا ہے۔
    آپ سیاست میں کیا پسند کرتے ہیں مذہب، کھیل میں آپ کو کیا پسند ہے تمام چیزیں آپ کے سامنے انٹرنیٹ کی دنیا میں شیئر ہورہی ہیں ۔انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال سے انسان معاشرے سے کٹ ہو کر لاشعوری خیالی دنیا میں رہنے پر مجبور ہورہاہے۔ اور رشتے داروں سے بھی دور تنہائی میں بیٹھنے کو ترجیع دیتے ہیں جس کی وجہ سے خود کشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ آج کی نوجوان نسل ڈپٹریشن کا شکار ہورہے ہیں جس سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
    والدین کو معلوم ہی نہی کہ انکے بچے کس ٹائم سوتے ہیں۔ان کی دوستی کس کے ساتھ ہے۔ بچوں کی اخلاقی معیار اور رواداری کا عمل کمزور ہوتا جارہا ہے جس سے معاشرے کا بگاڑ ثابت ہورہا ہے۔ والدین اپنے بچوں پر زیادہ تر اخلاقی،نفسیاتی رواداری کے تسلسل پر توجہ نہیں دیتے بلکہ ہیں کہ ان کا اسکول میں اچھے نمبرز لانا اور پوزیشن لانا ہی اولین مقصد سمجھتے ہیں۔ناکہ بچہ غلطی کرے تو ان کی حوصلہ افزائی کرنا غلطیوں سے سیکھنےکی عادت ڈالنے سے گریز کرتے ہیں۔بس وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کسی نہ کسی طرح پوزیشن لے کر گھر آئے۔
    اگرچہ پاکستان میں اخلاقی معیار کو دیکھنا ہو تو آپ آج کل کے واقعات دیکھ لیں جیسے زینب کا واقعہ، اسلام آباد میں مین ہائی وے پر ایک عورت کا اپنے بچوں کے سامنے کینگ ریپ، اور تازہ دل دھلانے والہ واقعہ مینار پاکستان میں ٹک ٹاکر کے ساتھ 400 لوگوں کی زیادتی ،،، یہ سب ٹک ٹاک اور سنیک چیٹ جیسی معاشرتی بگاڑ ایپ پر بین لگا کر نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچائیں اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر انکی سرگرمیوں کے متعلق باخبر رہیں اور اپنی بیٹیوں کو برقعہ پہننے پر زور دیں اور اسکول کالیج اور یونیورسٹی کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ اور اقدار کا مطالعہ کرنے پر زور دیں۔
    تحریر ایمن زاہد حسین (ملیر گڈاپ)
    #Ummeaeman

  • اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    اے قائد ھم شرمندہ ھیں ، تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    مینار پاکستان 14 اگست ایک عورت پر 200 سے زائد مرد بشمول ایک دس سالہ بچے نے مال غنیمت سمجھ کر حملہ کردیا اسکے کپڑے پھاڑ دیئے اسکو برھنہ کرکے ھوا میں اچھالا تین دن اس لڑکی نے کیس نھیں کیا اور پھر اچانک وہ ویڈیو وائرل ھوئ ایف آئ آر درج ھوگئ وزیراعظم نے نوٹس جو لیا تو پولیس بھی ھوش میں آگئ سوشل میڈیا پر عوام ماوں بہنوں بیٹیوں اور درد رکھنے والے لوگوں نے شدید غصہ دکھ کا اظہار کیا عورت نے آج ایک ویڈیو بنائ یوٹیوب پر اپلوڈ کی اور ویڈیو کے آخر میں سب سے کہا مجھے فالو کریں

    میں سوشل میڈیا فیس بک ٹیوٹر پر نا صرف کافی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے رابطہ میں رھتا ھوں بلکہ بھارت افغانستان سعودی عرب جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے ایکٹوسٹ بھی میرے قریبی دوستوں کی لسٹ میں رھتے ایسا کوی واقعہ سانحہ پیش آئے تو لازما ایک دوسرے سے رابطے ھوتے میں آج ان سب سے نظریں نھیں ملا سکا آج میں گھر میں آیا تو ایک عجب خوف ایک عجب ڈر کیساتھ داخل ھوا مجھے رہ رہ کر ایک خیال آتا جھر جھری ھوتی جھٹلا دیتا میرے جیسے کئی لوگ اپنی فیملیز ساتھ مینار پاکستان جیسے تاریخی مقامات کی سیر کو جاتے ھر لمحہ اس واقعہ کو میں ان یادگار لمحات ساتھ جوڑتا ڈر سا جاتا سہم سا جاتا کوی وجہ کوی توجیح کوی کہانی اس بدکاری بے غیرتی زیادتی گھٹیا پن کا جواز نھیں ھوسکتی بطور مسلمان بطور پاکستانی بطور انسان میں شرمندہ ھوں

    اب آتے اس بات پر کہ پولیس اسوقت کہاں تھی؟14 اگست کو جب دنیا گھروں سے نکلتی مینار پاکستان آتی ایسے وقت میں کوی 200 لوگ ایک عورت پر حملہ آور کیسے ھوگئے اگر وہ عورت مر جاتی تو؟اسکا مطلب کوئی فیملی کوئی شخص بھی اس اھم دن پر محفوظ نھیں تھا ابھی تک تو یہ معمہ بھی حل طلب ھے کہ وزیراعلی عثمان بزدار کی موجودگی میں ایک شادی کے فنکشن پر ذاتی دشمنی ھی سہی پر ایک قتل ھوگیا کیا یہ سکیورٹی لیپس نھیں تھا کیا اس ناکامی پر آئی جی پنجاب سے لیکر ایس ایچ او تک کی بازپرسی نھیں ھونی چاھیئے؟جانور ھر جگہ پائے جاتے یہ بے قابو تب ھوتے جب انکو یہ احساس ھوجاتا وہ جنگل میں ھیں سعودی عرب میں کوی ایسا کرکے دکھائے اگلے دن الٹا لٹکا دیں پولیس کو جوابدہ ھونا پڑیگا

    اب آخر میں آتے ھیں اس محترمہ پر جس پر ایسا حملہ ھوا کہ پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی ھوی وہ یوٹیوب پر اپنا چینل چلاتی ھیں اور آج بھی ایک ویڈیو بھی اپلوڈ کرکے سب سے سوالات پوچھ کر کہتی کہ مجھے فالو کریں یہ کیا دور ھے کیا زمانہ ھے ابھی سوشل میڈیا پر یہ بات بھی چل نکلی ھے کہ محترمہ نے خود ان لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا میں اس بات کو مانوں یا نا مانوں میں اس بات پر ضرور بولونگا کا کہ جو ھوا وہ درندگی تھی چلو ایف آئ آر نھیں کاٹی ماں لیتے معاشرہ ایسا مگر ایف آئ آر نھیں کٹوانی کے عزت پر حرج نا آجائے تو ویڈیو بناکر فالوور کی آواز لگانا یہ سمجھ سے بالاتر ھے حکومت سے درخواست اس معاملے کو غور سے دیکھیں کہیں ملک دشمن عناصر نے منصوبے کے تحت یہ سانحہ رونما تو نھیں کروایا بہرحال وجہ جو بھی ھو ظلم تو ھوا ھے زیادتی تو ھوی ھے ملک کی بدنامی تو ھی ھے سبکی الگ سے ھوی اب اسکا مداوا بھی کرنا ھوگا اور آئندہ ایسا نا جو اسکے لئے سدباب بھی کرنا پڑیگا

  • کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    کیا تم کسی یزید سے کم ہو! تحریر: مریم صدیقہ

    جو عبرت سے نہ سمجھے ، دلائل بھی نہ مانے تو
    قیامت خود بتائے گی، قیامت کیوں ضروری تھی!
    بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ مرد عورت کا محافظ ہوتا ہے پر آج میں یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کیسا محافظ ہے یہ مرد جس سے عورت خود کو محفوظ تصور نہیں کر پاتی۔ کیا محافظ ایسے ہوتے ہیں؟
    14 اگست ۔۔ آزادی کا دن۔۔ جشن کا سماں۔۔ جگہ بھی مینار پاکستان!!کیا دیکھنے کو ملتا ہے کہ حوا کی بیٹی کو دن کے وقت میں ایک نہیں ، دو نہیں ، سو نہیں بلکہ پورے 400 درندے یک دم گھیر لیتے ہیں ۔ معافی چاہتی مگر مرد تو دور کی بات میں انہیں جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین سمجھتی ہوں۔ پھر ! پھر کیا حوس کے یہ پجاری دل بھر کے اس کی عزت کا تماشہ بناتے ہیں، ہوا میں اچھالتے ہیں ا ور اس کی عصمت دری کرتے ہیں۔ اور حد یہاں ختم ہوتی کہ اس کو ان درندوں سے بچانے کی بجائے وہاں کچھ حیوان اس سب کی ویڈیوبنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔وہ بھی آزادی کے دن، اقبال پارک میں۔۔ کیا ہم سب پاکستانی واقعی آزاد ہیں!! یا اس ملک میں صرف یہ درندے آزاد ہیں جو جب چاہیں ، جہاں چاہیں، جسے چاہیں اپنی درندگی کا نشانہ بنا لیتے ہیں، جنہیں اب تک کی تمام حکومتیں اور تنظیمیں لگام ڈالنے میں ناکام رہیں۔
    چلیں اس بات کو بھی مان لیتے ہیں کہ لڑکی خراب تھی وہ ، ٹک ٹاکر تھی، ناچ رہی تھی ، بے حیا تھی اس لیے اس کے ساتھ یہ سب ہوا مان لیتے سوشل میڈیا پہ ان درندوں کو ڈیفنڈ کرنے والوں کی یہ بات بھی مان لیتے ہیں۔ مگر ابھی پچھلے ہی عرصے کی بات ہے جب راولپنڈی میں ایک لڑکی جو ٹیچرتھی مکمل عبائے میں یہاں تک کہ منہ بھی ڈھکا ہواہاتھ میں کچھ کتابیں لیے نظریں جھکائے صبح کے وقت سکول میں بچوں کو تعلیم دینے جارہی تھی کہ راستے میں ایک درندہ بائیک پہ آتے ہوئے اس کو عبائے سمیت زور سے کھینچتا ہوا گرا کہ چلا جاتا ہے۔ کیا یہ لڑکی بھی خراب تھی؟اس کا کیا قصور تھا۔ چلیں اسے بھی چھوڑیں پر یہ سوچیں کہ زینب جیسی ان ننھی بچیوں کا کیا قصو ر ہوتا جنہیں یہ درندے اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں اور پھر ساری زندگی وہ اس صدمے سے نکل نہیں پاتیں۔آج جو بھی سوشل میڈیا پہ کہہ رہا ہے کہ باحیا لڑکی کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا میں انہیں بتانا چاہتی جب انسان میں انسانیت کی جگہ درندگی لے لیتی ہے نہ تو اس کے لیے یہ حیا اور بے حیا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔یہ الفاظ اس کے لیے بےکار ہو جاتے ہیں۔۔ ایسے لوگ اپنی حوس کی تسکین کے لیے کسی بھی حد سے گزر سکتے ہیں۔
    بس ایک چیز جو مجھے بے چین کر رہی ہے اور ذہن کو سکون نہیں لینے دے رہی کہ وہاں موجود تمام لوگوں میں سےکوئی ایک بھی مرد نہ تھا یا سارے مرد ہی ایسے ہوتےہیں ! کیا کسی ایک کا بھی نہیں دہلا! کسی ایک کو بھی خیال نہ آیا کہ وہ اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے! اپنے نبی ﷺکا سامنا کیسے کریں گے! میں پوچھتی ہوں کہ کس منہ سےنبی کی بیٹیوں کی بے حرمتی پہ روتے ہو، کیا تم کسی یزید سے کم ہو؟
    عورت کو نچواتے ہیں بازار کی جنس بنواتے ہیں
    پھر اس کی عصمت کے غم میں تحریکیں بھی چلواتے ہیں
    ان ظالم اور بدکاروں سے بازار کے ان معماروں سے
    میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پہ ظلم کرو

    @MS_14_1

  • تاریخِ  افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں  کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    تاریخِ افغانستان ۔۔ماضی کے جھروکوں کی رسہ کشی۔۔تحریر: کرن خان

    علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ،
    افغان باقی، کہسار باقی
    الحکم اللّٰہ، الملک اللّٰہ!!
    ہم سب آج کل افغانستان پر بہت سے تجزیے، کہانیاں اور خبریں دیکھ رہے ہیں، افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے چرچے اب ہر گزرتے دن کے ساتھ معمول کے معاملات لگ رہے ہیں، بیس سالہ پرانے طالبان اب جدید معاشرے کے ماڈرن گُڈ لکنگ بوائز جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
    طالبان، کٹھ پتلی افغان حکومتین جن کے سربراہان جو پاؤں جلنے پر دم دبا کر بھاگ نکلے، ایک فریق امریکہ اور اتحادی، مزید برآں خطے کے باقی ممالک کی شوروغل بھری آوازوں میں کیا کسی نے افغان قوم کی بہادری وجرات کو بھی ایک نظر دیکھا کہ خطہ ایسی دلیر قوم سے بھرا پڑا ہے کہ یہاں ماضی میں جتنے بھی حکمران آئے، اگر وہ افغان عوام سے مخلص نہیں تھے تو ان کی کرسی زیادہ دیر نہیں چلی، کٹھ پتلی حکمرانوں کی کرسیاں گرانے کی افغان عوام کی ایک تاریخ ہے، آئیے آج دیکھتے ہیں کہ ماضی میں کس کس نے افغانستان پر حکمرانی کی اور پھر کس طرح اپنی کرسی سے ہاتھ دھوئے۔

    بیسویں صدی سے شروع ہوتے ہوئے سب سے پہلے بات کرتے ہیں بادشاہ ظاہر شاہ کی۔
    ظاہر شاہ تاریخِ أفغانستان میں اس خطے پر سب سے زیادہ عرصہ حکمرانی کرنے والاے حکمران کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 1973 میں جب یہ روم گئے ہوئے تھے اس دوران ان کے کزن داؤد خان نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا دیا۔انہیں 2002 تک جلاوطنی میں رہنا پڑا۔ ان کا چالیس سالہ دورِ حکومت پوری أفغان تاریخ کا سب سے پرامن عرصہ جانا جاتا ہے۔طویل علالت کے بعد ظاہر شاہ نے 2007 میں 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔

    داؤد خان۔۔
    ظاہر شاہ کے دورِحکومت میں دو مرتبہ وزیرِاعظم رہنے والے داؤد خان 1973 میں ظاہر شاہ کی حکومت گرانے کے بعد پہلے صدر بنے۔
    1978 میں سویت یونین کے بننے کے بعد افغان خطے میں آنے والے انقلابِ ثور کے بعد داؤد خان کو اپنے خاندان کے بیشتر افراد سمیت ظالمانہ حملے میں اس وقت کی انقلابی جماعت پی ڈی پی اے کے افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ انقلابِ ثور کی تنظیم میں شامل تین افراد نور محمد ترکئی ، حفیظ اللہ امین اور ببرک کمال کا کردار کلیدی تھا۔
    داؤد خان اور خاندان کی باقیات 2008 میں ایک اجتماعی قبر سے ملے تھے جنہیں بعد میں کابل میں دفنا دیا گیا تھا۔

    نور محمد ترکئی۔۔
    انقلابِ ثور کے تین مرکزی کرداروں میں سے ایک نور محمد ترکئی تھے۔ یہ بمشکل ایک سال کا عرصہ ہی صدارت کے عہدے پر رہ سکے۔ اس ایک سالہ دورِ حکومت میں نور محمد نے قتل و غارت کی ندیاں بہا دیں تھیں۔ انقلابِ چور کی مخالفت کرنے والے ہر افغان کو کونے کونے سے ڈھونڈ کر بدلے لینے میں نور محمد نے کوئی کسر نہیں اٹھائی تھی۔
    حیران کن بات یہ ہے کہ انقلاب کے ساتھی اور داؤد خان کے تختے کو الٹانے والے حفیظ اللہ نے ہی ستمبر 1979 میں تختہ الٹا اور 8 اکتوبر 1979 کو قتل کر دیا۔

    حفیظ اللہ امین۔۔

    ان کا انجام نور محمد ترکئی سے بھی بد تر نکلا۔سویت یونین کو شک تھا کہ حفیظ اللہ کے تانے بانے امریکی ایجنسی سی آئی اے سے ملتے ہیں، دسمبر 1979 میں مشہورِ زمانہ آپریشن سویت 333 میں انکو مار دیا گیا۔

    ببرک کرمال۔۔

    ببرک کرمال جو انقلابِ ثور کے تیسرے کردار تھے، انہوں نے جب قیادت سنبھالی تو انکا عرصہِ حکومت 7 سالہ تھا۔یہ سویت یونین کی کٹھ پتلی کے طور پر جانے جاتے تھے۔
    1980 کی دہائی میں جب افغان مجاہدین نے پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب کے تعاون سے سویت یونین سے لڑنا شروع کیا تو ببرک کرمال پر سویت پریشر بڑھنا شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں انکو استعفیٰ دینا پڑا اور 1996 میں کینسر سے وفات پائی۔

    نجیب اللہ ۔۔
    روسی جاسوس ایجنسی کے تربیت یافتہ نجیب اللہ نے ببرک کرمال کی جگہ جب حکومت سنبھالی تو یہ اس وقت کے اشرف غنی ثابت ہوئے، جب مجاہدین باقی سارا افغانستان اپنے نام کرتے جا رہے تھے تو نجیب نے کابل کو سنبھالنے میں بہت مزاحمت کی، آخر کار اپنے ہی دوست جنرل دوستم نے جب مجاہدین سے ہاتھ ملایا تو نجیب سے روسیوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا، بالآخر نجیب کو 1992 میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں پناہ لینا پڑی۔ بہت مزاحمت کے بعد نجیب نے طالبان کے کہنے پر استعفیٰ دیا اور بھارت بھاگنے کی کوشش میں ناکام ہوئے۔ 1996 میں طالبان نے انہیں اور ان کے بھائی کو اقوامِ متحدہ کی عمارت سے گھسیٹ کر نکالا اور پھانسی پر لٹکا دیااور کئی دنوں تک کابل کے مرکز میں لٹکے رہے۔
    ملا عمر نے اس وقت نجیب کے بارے میں کہا تھا کہ، "ہم نے اسے اس لئے مارا کیونکہ یہ ہمارے لوگوں کا قاتل تھا”

    برہان الدین ربانی۔۔۔
    1992 میں سویت یونین کے انخلا کے بعد یہ ایک سال تک افغانستان کے صدر رہے، ان کے دورِ حکومت میں کابل سمیت افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں طالبان بطور حکمران ابھر کر آئے، ستمبر 2011 میں برہان الدین ربانی کو ایک طالبان خود کش حملہ آور نے پگڑی میں بم رکھ کر ان کی رہائش گاہ پر مار دیا تھا۔

    ملا عمر۔۔۔
    90 کی دہائی اور برہان الدین کے خانہ جنگی کے دور کے بعد طالبان کے دور میں ملا عمر افغانستان کے حکمران بنے، انکی حکومت کو پاکستان نے تسلیم کیا جبکہ امریکہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔11/9 کے بعد اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوا۔ انکے مرنے کے دو سال بعد دنیا کو انکے مرنے کا پتہ چلا تھا۔

    حامد کرزئی۔۔۔
    2001 سے 2014 تک امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی تھے۔ جو اب بھی کابل میں طالبان کے ساتھ موجود ہیں جبکہ اشرف غنی سینکڑوں ملین ڈالروں سمیت ملک سے بھاگ چکے ہیں۔

    اشرف غنی۔۔
    اشرف غنی کو اب کون نہیں جانتا۔۔ حامد کرزئی کے بعد ڈالروں سمیت ملک سے بھاگنے والے اشرف غنی کو افغان تاریخ میں اب صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اگر گزشتہ 50 سالہ تاریخ کو ہی دیکھ لیا جائے تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ افغانستان کی مٹی ہی ایسی ہے کہ یہاں سے روسی بھی رسوا ہوئے اور امریکہ بھی بے سرو سامان نکلا، حالانکہ جو کوئی بھی حکمران عوام کی امنگوں سے نہیں آیا تو افغان عوام نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خطے میں امن و سلامتی کی فضا ہوگی اور جنوبی ایشیا سمیت دنیا ایک امن کا گہوارا بنے گی۔ آمین!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ:
    @Kirankhan9654

  • حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ ! تحریر: ناصرہ فیصل

    حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عظیم خلیفہ ! تحریر: ناصرہ فیصل

    عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام عمر بن خطاب، لقب ‘فاروق’ اور کنیت ‘ابو حفصہ’ تھی۔ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خسر اور تاریخ اسلام کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، ان کا شمار بہترین علما و زاہدین صحابہ میں ہوتا تھا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ اور پہلے مسلم لیڈر تھے جنہیں امیر المومنین کا خطاب دیا گیا۔ ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد ،آپ کے سب سے قریبی دوست ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا پہلا خلیفہ چنا گیا اور انہوں نے تقریباً دو سال تک مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی، جب ابوبکر صدیق کو اپنا آخری وقت قریب دکھائی دیا تو انہوں نے اپنے قریبی رفقاء کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ انکا ساتھ اب ختم ہونے کو ہے اس لیے اب وہ اپنا اگلا خلیفہ اپنے درمیان سے کسی کو چن لیں۔ لیکن بہت سی بحث اور مشوروں کے بعد بھی جب کی فیصلہ نہیں کر سکے تو انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کرنے کا اختیار سونپا ۔آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا۔۔

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آس پاس کے کچھ لوگوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ک چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت ہی سخت مزاج اور غصیل شخصیت کے حامل ہیں تو لوگوں پر بہت سختی کریں گے۔ جسکے جواب میں
    حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس وقت اُن سب میں سے بہترین انسان ہیں۔ حضرت عمر فاروق کو مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کے طور پر چن لیا گیا۔ آپ نے خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے اپنے لوگوں سے خطاب کیا اور خود سے اپنی توقعات کے بارے میں وضاحت کی۔۔ آپ کو اپنی سخت گیر طبیعت کے بارے میں لوگوں کی تشویش سے آگاہی تھی اس لیے اپنے خطاب میں اسکے متعلق فرمایا:

    لوگو! گواہ رہی کے مجھے آپ لوگوں کے معاملات دیکھنے کے لیے چنا گیا ہے اس لیے میری سختی آپ لوگوں کے لیے اب کمزور پڑ گئی ہے۔ لیکن میری سختی اور کھردرا پن ابھی بھی حد سے تجاوز کرنے اور جبر کرنے والوں کے لیے قائم ہے۔ اور انکے رخسار مٹی میں ملاؤں گا ۔۔ نیک اور پرہیز گار لوگوں کی حفاظت کے لیے میں اپنے رخسار بھی مٹی میں ملا ڈالوں گا۔
    ساتھ ہی ساتھ آپ نے لوگوں کو بتایا کہ وہ جو کچھ بھی کاشت کرتے ہیں یا جو بھی مال غنیمت انکا ہے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے ہاں مگر بس اتنا ہی جتنا کے اللہ کا حکم ہے۔ اور اس مال کو بھی وہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کریں گے۔ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ انکی تنخواہیں بڑھائیں گے اور انکی سرحدوں کی حفاظت کریں گے. آپ نے وعدہ کیا کے وہ اپنی فوج کو غیر ضروری خطرے میں نہیں ڈالیں گے اور انکو زیادہ لمبے عرصے تک اپنے خاندانوں سے دور نہیں رکھیں گے۔ اور انکی غیر موجودگی میں ریاست انکے بیوی بچوں کی ذمےداری لیے گی۔ آپ یقین رکھتے تھے کے لیڈر کا کام اپنی ریاست کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔

    آپ اتنی بڑی ریاست کے حکمران ہونے کے باوجود ،اپنے ساتھ کوئی محافظ نہی رکھتے تھے۔ مدینہ کی گلیوں میں آپ ایک عام انسان کی طرح گھومتے پھرتے تھے، حتٰی کہ رات کے وقت بھی۔ بلکہ رات کے وقت وہ جان بوجھ کر گلیوں میں گھومتے اور مجبور لاچار لوگوں کی مدد فرماتے۔

    آپ خود کو ایک معمولی انسان گردانتے لیکن تاریخ اور حقائق حمے یہی بتاتے ہیں کے آپ ایک عظیم الشان حکمران اور انسان تھے، آپ جسمانی اور روحانی دونوں لحاظ سے بہت مضبوط انسان تھے۔ آپ بہت سخی، نیکوکار اور عاجزی سے زندگی گزارنے والے انسان تھے۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح کاربند تھے۔ آپ حق اور باطل کی بخوبی پہچان کر سکتے تھے۔ آپ تکلیف محسوس کرتے تھے جب امت یا کوئی ایک فرد بھی کسی تکلیف میں ہوتا اور آپ خوش ہوتے تھے جب امت کو خوشحال اور مطمئن دیکھتے تھے۔ آپ چار خلفائے راشدین میں سے تھے۔ آج بھی آپ طاقت، انصاف، پیار اور رحم کرنے میں سب کے لیے ایک مثالی شخصیت ہیں۔آپ ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔
    @NiniYmz