Baaghi TV

Category: بلاگ

  • اسلام ہمارے تمام مسائل کا بہترین حل ہے تحریر:شمسہ بتول

    اسلام ہمارے تمام مسائل کا بہترین حل ہے تحریر:شمسہ بتول

    اسلام کا مطلب ہے تسلیم کر لینا یعنی کہ رب کی اطاعت کرنا اور اس کے ہر حکم کو دل و جان سے تسلیم کرنا اور اسکا ایک اور لفظی معنی ” سکون“ بھی ہے۔
    اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔اسلام ہمارے کردار کو اعلیٰ ، پاکیزہ اور عمدہ بناتا ہے اسلام ہمیں خدا سے خوفزدہ کرتا ہے۔ اسلام انسانی سرگرمیوں کے ہر شعبے میں تجارت ، سیاست ، ذاتی تعلقات ، تعلیم وغیرہ میں ایمانداری پر عمل کرنا ممکن بناتا ہے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔ یہ ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔
    ڈاکٹر اقبال شاہ نے درست کہا :
    "اسلام ایک سماجی ڈھانچہ ہے ، جو ایک قانونی نظام کے ذریعے باقاعدہ اور مخصوص اخلاقی نظریات کا نام ہے”۔
    اسلام اس دنیا میں ہمارے دنیاوی معاملات ، ہمارے اعمال اور اعمال کی بنیاد واضح کرتا ہے۔ یہ دنیاوی زندگی پھر ایک تیاری بن جاتی ہے دوسری دنیا کی ابدی زندگی کے لیے۔ اس جدید صدی میں اسلامی دنیا کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے ، جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ یہ مسائل آسانی سے حل نہیں ہو سکتے اور ان مسائل کو اسلامی قوانین اور ضابطوں کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔
    اسلام ہمارے تمام مسائل کو جواز کے ساتھ حل کرتا ہے ، لیکن دور حاضر میں مسلم اتحاد کی بھی اشد ضرورت ہے تا کہ مسلم ممالک کو درپیش مساٸل کو باہمی اتفاق راۓ سے حل کیا جا سکے۔
    لیکن افسوس مسلم اتحاد فرقوں ، نسلوں اور رنگوں کے فرق میں پھنس گیا ہے۔ اس طرح بہت سے مذہبی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہم آہنگی ، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا چاہیے۔ خدا نے قرآن پاک میں کہا ہے "اور تم لوگ اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو“
    ہمارے سیاسی مسائل بہت پیچیدہ ہیں۔ہمیں ایک منظم سیاسی نظام کی ضرورت ہے اور اسلام سے بہتر منظم سیاسی و معاشی نظام کی مثال کہیں نہیں ملتی مگر ہم اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں جسکی وجہ سے ہمیں دسواٸی و زلت کا سامنا ہے دیگر اقوام کے سامنے۔
    اسلامی ریاست میں اقتدار کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے اور تمام حکمران اللہ کے ایجنٹ ہیں اسلیے دیانتداری اور ایمانداری سے ریاست کے تمام فراٸض ادا کریں۔
    کشمیر ، فلسطین ، اور ہندو مسلم کے حالیہ سیاسی مسائل کو اسلامی قوانین اور اصولوں کی بنیاد پر انسانی حقوق کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ انسان ایک سماجی جانور ہے۔ وہ ایک معاشرے میں رہتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہو تو وہاں بہت سی دوسری برائیاں اور خطرناک مسائل ابھر سکتے ہیں ۔ اگرچہ اسلامی ممالک ماضی کے مقابلے میں جدید اور مہذب ہیں پھر بھی لوگ انتشار ، نفرت اور رنگ و نسل میں فرق، زات پات کا فرق، اور دیگر تباہ کن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مسائل خودغرضی ، منافقت، اقربا پروری ، رشوت ، بے حیائی اور فحاشی سے پیدا ہوتے ہیں اسلام لوگوں کو ان تمام منفی اقدار سے منع کرتا ہے۔ اگر لوگ اسلامی قوانین اور قوانین پر عمل کریں تو وہ ان تمام سماجی مسائل کو حل کر سکیں گے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ، لیکن بدقسمتی سے بہت سےاسلامی ممالک اپنے مذہبی تنازعات کی وجہ سے معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ اگرچہ بہت سے اسلامی ممالک خوشحال ہیں اور مضبوط معاشی اور انفرادی قوت رکھتے ہیں پھر بھی وہ معاشی مسائل کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جیسے کہ اسمگلنگ ، ذخیرہ اندوزی اور خام مال کی تجارت وغیرہ۔
    اسلام نے بین الاقوامی سطح پر بھی سیاسی ، سماجی اور معاشی مساٸل کو حل کرنے کے لیے ایک بہترین فریم ورک دیا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی اقتصادی بلاک کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ دوم ، ان تمام معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے بے لوث ، عقیدت مند اور تجربہ کار ماہر معاشیات کو فروغ دینا ہوگا۔
    آج کل ہمارا معاشرہ تعلیمی مسائل سے دوچار ہے۔ تعلیم دوسری قوموں کی نظر میں انسانی وقار کو فروغ دینے کی بنیادی وجہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے نئے اور جدید نصاب کی وجہ سے ہم اسلامی کتابوں میں دلچسپی نہیں لے رہے یہاں تک کہ بعض اوقات ہمارے اساتذہ اسلامی قوانین کی روشنی میں سماجی ، اقتصادی ، اخلاقی یا دیگر مسائل کے حل کی وضاحت نہیں کرتے۔ لہذا مذہبی اور عمومی علوم کے درمیان توازن ہونا چاہیے ۔اسلام نے ہمارے سائنسی مسائل حل کیے ہیں۔ ماضی میں مسلمان سائنسدان قرآن مجید کی بنیاد پر بہت سی سائنسی چیزیں ایجاد کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ مغربی سائنس دان بھی اسلامی الہامی کتابوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نئی ایجادات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہاں تک کے اسلام زندگی کے ہر پہلو کے متعلق راہنماٸی دیتا ہے۔
    محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا: ” کہ مجھے اخلاقیات کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے“
    اخلاقی رویے کا معاشرے پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردانہ اور عقیدت مند ہونا چاہیے۔ اسلام منع کرتا ہےلوگوں کو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے سے۔ اب ہمارے معاشرے میں سب سے بڑھتے ہوئے مسائل مغرب کی ثقافت اور آداب کی موافقت ہیں۔ اس طرح ہماری تعلیم ، سیاست ، معیشت ، معاشرہ ، فن وغیرہ بہت متاثر ہوئے ہیں۔ اس طرح اسلام مسلمانوں کو اسلامی روایات اور رسومات پر عمل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام حقیقی امن ، انصاف اور مساوات کا مذہب ہے ۔ یہ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کے حق کے احترام کے بارے میں واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ایک حقیقی اور ترقی یافتہ اسلامی ریاست کی مثال ہمیں حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم اور ان کے بعد چاروں خلفاۓ کرامؓ کی زندگی سے ملتی ہے اسلامی ریاست کے حکمرانوں کو ان ہستیوں کا مطالعہ کرنا ہو گا تا کہ وہ صحیح معنوں میں ایک ترقی یافتہ ریاست کی بنیاد رکھ سکیں ۔ یہ ہمیں اس دنیا کے ساتھ ساتھ اگلی دنیا میں بھی کمال کی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے✨

    ‎@b786_s

  • لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری تحریر: راجہ حشام صادق

    لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری تحریر: راجہ حشام صادق

    خوش قسمت ہیں ہم جنہیں اللّٰہ پاک نے ایک خوبصورت ملک دیا ہے جہاں ہم اپنی پوری آزادی اور شان و شوکت کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ اس ملک نے ہمیں صحیح معنوں میں تحفظ اور آزادی دی۔ کیا ہم سب واقف نہیں کے 74 سال قبل مسلمانوں کے ساتھ برصغیر ہندوستان اور انگریزوں کا کیسا رویہ تھا؟ یہ وہ وقت تھا جب ہر سوں مسلمانوں کا بےانتہاء خون بہایا جاتا تھا۔ جہاں مسلمانوں کو صرف پستی نے آگھیرا تھا۔

    جہاں مسلمان عورتوں کی عصمت دری عام ہوگئی تھی، جہاں ہندو اور انگریز ہمیشہ مسلمانوں سے ان کی شناخت چھیننے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے تھے ان کی یہی کوشش ہوتی کہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر ان کے مذہب سے دور کیا جائے۔ بے شک یہ وقت مسلمانوں پر انتہائی کٹھن تھا۔

    پھر ایسے میں اللّٰہ پاک کی ذات مسلمانوں پر مہربان ہوئی اور ان کے درمیان چند ایسے لوگ بھیجے جن میں سے ایک نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا خواب دیکھا جہاں وہ اپنی مرضی سے اور پوری آزادی سے اپنے دین اسلام کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ پھر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا اور انہیں بتایا کہ ان کے لیے الگ وطن حاصل کرنے کے لیے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اب انہیں آزادی جیسی نعمت حاصل کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔

    پھر قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے لیے ہندوؤں اور انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ انتھک محنت اور مقابلے کے بعد بالآخر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ اقبال کے خواب کو سچ کر دیکھایا اور جس کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست پاکستان کا قیام وجود میں آیا۔

    جس کی بنیاد کلمہء طیبہ پہ رکھی گئ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان زمین پر اس ایک خطے کا نام ہے جہاں آج نا صرف مسلمان بلکہ بلاتفریق ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والا انسان بھرپور آزادی اور حق کے ساتھ رہ رہا یے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج ہم جس ملک میں بڑی شان و شوکت سے بیٹھتے ہیں یہ وطن ہمیں ہمارے بزرگوں کی مرہونِ منت ملا۔ ان کی دن رات کی محنت، لگن، شوق اور لازوال قربانیاں ہی تھیں جن کے بل بوتے ہم آج آسائش سے بھرپور زندگی بسر کر رہے ہیں۔

    وہ کون سا سکھ ہے جو ہمیں اس دھرتی پر نصیب نہیں ہوا۔ بلکہ اس دھرتی نے جہاں اتنا احسان اپنے مکینوں پر کیا ہے وہیں ان کے لیے ایسے بہادر بیٹے بھی جنے ہیں جو ہر پل نا صرف وطن کے لیے بلکہ اپنی قوم کے لیے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں۔ تاکہ ہر اس دشمن کی آنکھ نوچ ڈالیں جو ہمارے ملک اور قوم کی طرف بدنیتی سے دیکھے۔

    ہم آج پاکستان اور اپنی افواج پاکستان کے بے حد مقروض ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی قوم کے لیے ایک ماں کا کردار ادا کیا ہے اور ہمیں ہر قسم کے حالات سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ دل سے ہمیشہ ایک ہی دعا نکلتی ہے کہ اللّٰہ پاک ہمارے ملک کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے اور اس ملک کے محافظوں پر اپنا کرم و فضل قائم رکھے۔ یہ ملک اور محافظ ہیں تو آج ہم ہیں یہ نا ہوتے تو ہم نا ہوتے۔

    ‎@No1Hasham

  • تمباکو نوشی اور کئی امراض  تحریر  : راجہ ارشد

    تمباکو نوشی اور کئی امراض تحریر : راجہ ارشد


    اسلام کے نزدیک تمباکو نوشی حرام ہے یا مکروہ ہے؟
    اس سے انسانی صحت اور مستقبل پر کیا اثرات ہیں؟
    لوگ اس کے عادی کیوں ہوتے ہیں؟
    یہ دنیا اور حکومتیں کیوں بے بس ہیں؟
    جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ عالمی ادارئے کیوں نہیں کر رہی؟
    سگریٹ کے کارخانداروں کے ہاتھ میں انسان یرغمال کیوں ہے؟

    علما حضرت کو تو چھوڑیں جن ڈاکٹروں نے مشاہدے، تجربات اور سالہا سال کے واضح ریکارڈ کے بعد یہ دیکھ لیا ہے کہ یہ کتنی جان لیوا عادت ہے، وہ بھی اس کو خیرباد کہنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
    انسان کا عمل ہلاکت خیز کیوں نہ ہو، عادت بن جانے کے بعد سوبہانے تراشتا لیتا ہے کہ جو کچھ کر رہا ہوں بالکل ٹھیک ہے۔

    1996 میں ملایشیا میں ڈاکٹروں کی کانفرنس ہوئی وہاں پروفیسر ڈاکٹر محمد علی بار، رائل کالج آف فزیشنز برطانیہ تمباکو نوشی پر خطاب کر رہے تھے انہوں نے سعودی عرب کی ایک بچی کا ذکر کیا جس کے والد نے اس کو بچپن سے شیشے "چلم” کا عادی بنایا تھا۔ عین جوانی میں 19 سال کی عمر میں سینے کے کینسر سے اس کا انتقال ہوا۔ الم ناک موت کا منظر تصاویر کی شکل میں دکھا بھی رہے تھے۔ اس وقت انھوں نے بتایا کہ 16 لاکھ افراد اسی طرح تمباکو نوشی سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔تمباکو نوشی کے نقصان دہ ہونے میں کوئی دو رائے نہیں، تمباکو نوشی کے صحت پر بُرے اثرات جذام، طاعون، چیچک،تپ دق اور ہیضے سب کے اکٹھے خطرات سے بھی زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر مضر اثرات بڑے خوف ناک ہوتے ہیں لاکھوں انسان ہر سال تمباکونوشی کی وجہ سے مر رہے ہیں، جب کہ کروڑوں انسان تمباکو نوشی کی وجہ سے کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہوکر کرب اور اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہورہے ہیں۔
    اس سے لاحق ہونے والے مختلف امراض میں
    "نظامِ تنفس میں”
    "پھیپھڑے کا کینسر”
    "گلے کا کینسر”
    "نمونیا”
    "ضیق دم”۔ دل و گردشِ خون کے نظام میں دل کا انجماد
    "اچانک موت” اعضا میں دورانِ خون کا انجماد۔ نظامِ ہضم میں۔
    منہ،ہونٹ، گلے، معدے،نرخرے اور آنتوں کا کینسر۔ "نظامِ بول” مثانے کے زخم اور کینسر "گردن کا سرطان”
    حاملہ عورت اور بچے میں حمل کا کثرت سے ساقط ہونا، بچے کا وزن کم ہونا، موت ہوجانا، نمونیا۔دیگر امراض میں آنکھوں کے عضلات میں سوزش، اندھاپن ، دمہ، جِلد کی سوزش، ناک، کان اور گلے کی بیماریاں، بلڈپریشر کے خطرات، شوگر، کولسٹرول کا اضافہ، موٹاپا وغیرہ شامل ہیں۔

    پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کہتے ہیں کہ پنڈلیوں کی شریانوں کے بیماروں میں 955 فیصد تمباکونوش ہوتے ہیں۔ امراض میں تمباکو نوشوں کا مبتلا ہونا 10گنا زیادہ ہے اور اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ ہرتین تمباکو نوشوں میں سے ایک کی موت تمباکو نوشی سے واقع ہوتی ہے۔
    پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز سامی پروفیسر امراضِ سینہ اور میڈیکل کالج قاہرہ یونی ورسٹی کے پرنسپل کہتے ہیں کہ تمباکو نوشوں کے ساتھ رہنے والا ایک گھنٹے میں جتنا تمباکو سونگھتا ہے، وہ ایک سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ انھوں نے درجنوں امراض کی ہلاکتوں کی توثیق کی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شریف عمر جراحتِ سرطان کے شعبے سے وابستہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ تمباکو نوش عورتوں میں بچوں کی پیدائش کے دوران اموات دوسری خواتین کی نسبت 68 فیصد زیادہ ہوتی ہیں۔ ناڑ کے ذریعے مضر اثرات بچوں میں منتقل ہوتے ہیں، اور یہ اثرات پیدائش کے بعد 11 سال تک رہتے ہیں۔

    دنیابھر کے طب کے ماہرین ان تمام اثرات کی تائید کرتے ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل نے سگریٹ نوشی کو ممنوع قرار دینے کے لیے فتویٰ 26 مئی 2000 کو جاری کیا۔ اس کے ساتھ تین آرڈی ننس جاری کیے گئے جو تشہیر اور عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی کی ممانعت سے متعلق ہیں۔پان، حقہ،نسوار اور سگریٹ وہ مشہور جانے پہچانے طریقے ہیں جن میں تمباکو استعمال کیا جاتا ہے۔ یا یوں کہ لیں کہ انسانی صحت کو تباہ کیا جاتا ہے۔

    تمباکو نوشی کی شرعی احکام کی پانچ نوعیتیں ہیں۔حُرمت، کراہت، استحباب،وجوب اور اباحت۔ ان میں سے کسی حکم کے تحت لانے سے متعلق کوئی صریح نص نہ ہونے کی وجہ سے فقہا میں اختلاف تھا۔ کچھ نے تمباکو نوشی کو حرام، کچھ نے مکروہ اور کچھ نے اس کو مباح کہا ہے۔ ایک موقف یہ بھی ہے کہ حکم کچھ بھی ہو، انسداد ضروری ہے۔
    تمباکو نوشی حرام ہے۔ حرام سے مراد ایک ایسا معاملہ ہے جس کے نہ کرنے کا بندے کو حکم ہے۔ اور اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اس کام کو چھوڑ دے۔ اس کی ممانعت کی گئی ہو اور اس کے کرنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہو۔ شرط یہ ہے کہ کتاب اللہ کی ایسی دلیل سے ثابت ہو جو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہو، یعنی اس سے کسی چیز کے حرام ہونے کے سوا کوئی دوسرا مفہوم لینے کا امکان نہ ہو۔ اس کے کرنے سے کئی خرابیاں اور نقصانات ہوتے ہوں، جیسے زنا، چوری، سود، شراب، خون کے پینے اور لوگوں کے مال کو ناجائز طریقے سے کھانے کی حُرمت ہے۔ ان کے بارے میں صریح احکامات قرآن میں موجود ہیں۔

    حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ خود کو ضرر دو اور نہ دوسرے کو ضرر دو
    "ابن ماجہ، دارقطنی، مرفوعاً، جب کہ مالک سے مرسل”
    لاضررا کا عام مفہوم یہ ہے کہ نقصان نہ پہنچاؤ۔ مریض کے لیے پانی مضر ہو تو وضو معاف، مسافر کے لیے روزہ معاف،احرام کی پابندیاں معاف، حلق "سرمنڈوانا” کے بجاے فدیہ دے دے۔ حضرت عباسؓ سے مرفوع روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا دین اللہ کو پسند ہے تو آپؐ ﷺ نے فرمایا: آسان حنفیت۔ ضرر کا شریعت میں وجود نہیں اور ممنوع ہے۔ اس لیے تمباکو نوشی سے جان کو نقصان دینا حرام ہوگا کیونکہ خود کو اور دوسروں کو ضرر دینا ممنوع ہے۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم امین

    ‎@RajaArshad56

  • وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    وقت ایک قیمتی چیز ہے تحریر آفاق حسین خان

    زندگی ایک ریل گاڑی کی مانند ہے جو ہمیشہ چلتی رہتی ہے کبھی ایک اسٹیشن سے دوسرے پر تو کبھی دوسرے سے تیسرے پر- بہت سے مسافر اس ریل گاڑی پر سفر کرتے ہیں کوئی اپنے مقررہ سٹیشن پر پہنچ چکا ہوتا ہے تو کوئی اپنے اسٹیشن کا انتظار کر رہا ہوتا ہے لیکن ریل گاڑی اپنا سفر جاری رکھتی ہے- جیسے ریل گاڑی اپنے آخری اسٹیشن پر جا کر ٹھہر جاتی ہے بالکل اسی طرح زندگی کا بھی آخری اسٹیشن آتا ہے جہاں زندگی رک جاتی ہے اور یہ ایسے لمحے ہوتے ہیں جب انسان کے جسم میں نہ طاقت رہتی ہے اور نہ باقی رہتی زندگی میں کچھ نیا حاصل کرنے کی خواہش رہتی ہے- یوں تو پوری زندگی انسان اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے جدوجہد میں گزار دیتا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگا رہتا ہے لیکن خود کے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نہیں نکال پاتا اور جب خود کے لیے وقت ملتا ہے تو تب انسان کی زندگی ریل گاڑی کی طرح اپنے آخری اسٹیشن پر کھڑی ہوتی ہے- بڑھاپے میں داخل ہونے کے بعد انسان کے پاس اپنی پوری زندگی میں گزارے وقت کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا- انسان کی زندگی میں بڑھاپا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انسان منہ نہیں موڑ سکتا اور بڑھاپے میں آنے کے بعد جب تک انسان اس دنیا میں حیات رہتا ہے تب تک وہ بوڑھا ہی رہتا ہے –
    دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے- اور یہ کب ہاتھ سے نکل جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا- یہ وقت ہی ہوتا ہے جو انسان کو گزری زندگی سے سبق دیتا ہے- اس دنیا میں کم لوگ ہوتے ہیں جو وقت کا وقت پر صحیح استعمال کر پاتے ہیں- وقت کی رفتار کو سمجھنا ایک انتہائی مشکل عمل ہے اور جو لوگ وقت کی رفتار سے بخوبی واقف ہوتے ہیں ان کے لئے کامیابی کی منزل تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے وہ لوگ اپنی زندگی کی خواہشات اور ارادوں کو مقررہ وقت پر ہی سرانجام دینے کی کوشش کرتے ہیں وقت ضائع نہیں کرتے- اور جو لوگ اس وقت کی اہمیت اور اس کی رفتار کی نوعیت کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس سے سبق حاصل کرتے ہیں تو ایسے لوگ زندگی میں سوائے وقت ضائع کرنے کے اور کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتے اور آج کے کام پر ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں اور کل پر ڈالتے ہیں اور روزانہ اسی سوچ کے ساتھ پورا دن گزار دیتے ہیں کہ اپنے کام کو کل پورا کریں گے- وقت کبھی کسی کے لیے نہیں ٹھہرتا اور نہ ہی زندگی کبھی روکتی ہے- زندگی گزر ہی جاتی ہے جیسے انسان اپنے بچپن کے دنوں میں سوچتا ہے کہ شاید وہ پوری زندگی بچہ ہی رہے گا اور کبھی جوان نہیں ہوگا لیکن بچپن گزر جاتا ہے اور انسان اپنی جوانی کے دور میں قدم رکھ لیتا ہے اور اس کے بعد انسان ایک بار پھر اپنی سوچ کو دہراتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ شاید وہ ہمیشہ اسی طرح تندرست اور جوان رہے گا لیکن بالآخر انسان کی یہ سوچ بھی غلط ثابت ہو جاتی ہے اور انسان اپنی زندگی کے آخری حصہ کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور وہ انسان کی زندگی کا آخری اسٹیشن ہوتا ہے جہاں زندگی کی ریل گاڑی ٹھہر جاتی ہے- انسانی زندگی میں صحت و تندرستی ایک نعمت ہے اور ہم سب کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی مصروف زندگی میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے وقت نکالیں اور جتنا ہوسکے دوسروں کی مدد کریں اور آسانیاں پیدا کریں- اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کریں اور اس کو ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا-

    Twitter: ‎@AfaqHussainKhan

  • پاکستانی مرد تحریر:حفصہ قاسم


    مصروف زندگی میں فراغت کے چند لمحات میں جب موبائل فون کو دیکھتی ہوں تو سوشل میڈیا پر ہر طرف ایک ہی داستان جنگل میں آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ مرد ! درندہ ہے جانور ہے، بےحس ہے بے غیرت ہے۔ ہر روز ایک نئی کہانی لیکن اسی عنوان کے ساتھ۔ یہ سب دیکھ کے میرا دل دکھتا ہے۔ ہاں میں خود تو ایک لڑکی ہوں لیکن مردوں کے خلاف کچھ برا سن کے اچھا محسوس نہیں کرتی۔

    کہنے والے کہتے ہیں کہ مرد کو صرف اپنے گھر کی عورت ہی قابل عزت لگتی ہے لیکن میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ کچھ دن پہلے ایک بیکری پر جانے کا اتفاق ہوا کاؤنٹر پر مردوں کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن ایک لڑکی کو دیکھتے ہی سب نے اسے آگے بڑھ کے چارجز ادا کرنے کا موقع دیا۔ وہاں سے نکل کے جب رکشہ لیا تو رکشے میں اگلی سیٹ پر ہم دو لڑکیاں تھیں راستے میں کئی لڑکے اور مرد ملے جن کو تیسری سیٹ پر بیٹھایا جا سکتا تھا لیکن معمولی رکشہ چلانے والے نے اپنا نقصان کر لیا لیکن کسی لڑکے کا لڑکیوں کے ساتھ بیٹھنا مناسب نہیں سمجھا۔ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے سڑک کو پار کرنا تھا۔ میں سڑک کے کنارے پریشان کھڑی تھی کیونکہ وقت کم اور رش بہت زیادہ تھا۔ جیسے ہی مجھے سڑک کے کنارے کھڑا دیکھا تو دور سے آنے والے مرد جن میں کچھ گاڑیوں پر اور کچھ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، سب نے اپنی سپیڈ آہستہ کر دی اور میں نے پر سکون ہو کر سڑک کو پار کیا۔

    اب بات کر لیتے ہیں تصویر کے دوسرے رخ کی۔
    تھوڑے سے فاصلے پر کچھ آدمی ایک لڑکے کو پیٹ رہے تھے وہ اسے تھپڑوں کے ساتھ گالیوں سے بھی نواز رہے تھے۔ مجمع بکھرا کچھ رش کم ہوا تو جاننے میں آیا صاحب کسی خاتون کو پریشان کر رہے تھے اسی وجہ سے انکی عزت افزائی تھپڑوں اور گالیوں سے کی جا رہی تھی۔ یہ میں اپنے گھر کے مردوں کی بات نہیں کر رہی اور نہ ہی ان مردوں میں سے کسی کے گھر کی عورت کی بات کر رہی ہوں۔

    میں پاکستان میں رہتی ہوں اور صرف پاکستانی مرد کو ہی جانتی ہوں ایک ہی دن میں مختلف جگہوں پر میں نے مختلف مردوں کو دیکھا میرا تجربہ ایسا ہی رہا کہ مرد عورت کی عزت کرتا ہے لیکن اس کے بعد کچھ ایسے آدمی بھی معاشرے کا حصہ ہیں جو ناقص تربیت اور شر پسند طبیعت کی وجہ سے عورت کو نشانہ بناتے ہیں ایسے حالات میں بھی اکثر دوسرے مرد عورت کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

    اچھے اور برے لوگ ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ہی جنس کو ٹارگٹ کرکے بار بار مرد کی غیرت کو للکارنے سے ہم انھیں بےحس بنانے میں اپنا کردار خوب ادا کررہے ہیں۔ عزت نفس ہر انسان کا اہم ترین اثاثہ ہوتا ہے جب کسی انسان کی عزت نفس کو مسلسل مجروح کرنے کی کوشش کی جائے تو بے غیرت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بےضمیر بھی ہوجاتا ہے۔

    ظلم وزیادتی کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ ایک دفعہ اپنے گریبان میں ضرور جھانک لیں کہ آپ ان حالات میں اپنا کردار کیسے نبھا رہے ہیں۔ اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو آغاز اپنی ذات سے کریں اور پھر اپنے گھر سے۔

    یاد رہے معاشرے میں کچھ ہوس پرست لوگ ضرور موجود ہیں لیکن سب کو نشانہ مت بنائیں۔ اپنی حفاظت خود کرنا سیکھیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    میں سلام پیش کرتی ہوں ان تمام مردوں کو جو ہوس پرستی کے اس دور میں بھی عورت کی عزت کرتے ہیں۔
    میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستانی مردوں کو۔

    ‎@hafsaaqasim

  • بلوچستان کے زمینداروں کے ان گنت مسائل۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان کے زمینداروں کے ان گنت مسائل۔ تحریر: حمیداللہ شاہین

    بلوچستان کے مسائل لکھنے میں اگر سارے ملک کے لکھاری مل کر بھی لکھتے رہے تو شاید یہ مسائل ختم نہ ہوں اور لکھاری تھک جائیں گے۔ مسائل دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن بلوچستان کے نہ حل ہونے والے مسائل روز بروز بڑھکر ان گنت ہوتے جارہے ہیں، مقامی لوگ اب حکومت سے مایوس ہوتے نظر آرہے ہیں۔ حال میں بلوچستان آئے ہوئے ایک نوجوان محمد اکبر کا کہنا ہے کہ میں نے ماضی میں بہت سفر کیا۔ میں نے جن مقامات پر جانا تھا ان میں سے ایک شمالی بلوچستان تھا جو بنیادی طور پر پشتون ہے۔
    میرے ماموں جو اپنی 80 کی دہائی کے آخر میں ہے نے اس علاقے میں کافی وقت گزارا ہے۔ ایک بار اس نے مجھ سے اپنے پرانے پشتون دوستوں کے ساتھ رہنے کو کہا جن میں سے اکثر کاکڑ تھے میں نے اس کی خواہش پوری کی۔
    میں نے اپنے چچا کے دیئے گئے تمام پتے دیکھے لیکن یہ جان کر دکھ ہوا کہ اس کے تمام دوست مر چکے ہیں۔ ان کے بچے خود اب بڑے ہو چکے تھے۔
    اس وقت فارم اور باغات بلوچستان کی شمالی پٹی پھلوں اور سبزیوں پر پھیلے تھے جو زمین کی تزئین کو سبز رنگ دیتے ہیں۔
    لیکن جب میں نے حال ہی میں اس خطے پر نظرثانی کی تو مجھے اپنی پسندیدہ جگہیں بنجر اداس نظر آنے پر دکھ ہوا۔
    ان مقامات میں سے ایک پشین ضلع کا ایک گاؤں زلند ہے۔زلند پشتو میں ‘چمکنے’ لو کہتے ہیں
    پشین کوئٹہ کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا ، لیکن 1975 میں اسے ضلع بنا دیا گیا۔ اسے 1990 کی دہائی میں پشین اور قلعہ عبداللہ ضلع میں تقسیم کر دیا گیا۔
    اگرچہ پشین صوبائی دارالحکومت سے زیادہ دور نہیں ہے ، بتہ یہاں بھی بنیادی سہولیات موجود ہیں،
    زلند کو پچھلے سال ٹڈیوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑا ، جو تقریبا کوویڈ 19 کے آغاز کے ساتھ ہی تھا۔ ایک سکول ٹیچر اور کسان عبدالحئی کاکڑ یاد کرتے ہیں ، "ہم نے اپنے طور پر سپرے کیے کیونکہ انتظامیہ نے ایسا کرنے کی زحمت نہیں کی۔” "ٹڈیوں کا حملہ اس وقت ہوا جب فصلیں تیار تھیں۔
    اگرچہ سیلف ہیلپ کی بنیاد پر کام قابل تحسین ہے ، لیکن یہ حکومت کی طرف سے چلائے جانے والے منصوبوں کا متبادل نہیں ہے۔ انتظامیہ کی بے حسی خطے کے زوال کا ذمہ دار ہے۔
    دوسری چیزوں کے علاوہ کچھ پرانے درخت مر رہے ہیں۔ "ہم نے جبرالک ایسڈ ، ایک گولی درختوں پر لگائی۔ میرے خیال میں ’’ علاج ‘‘ (ٹیبلٹ) ، ستم ظریفی یہ ہے کہ ان درختوں کی موت واقع ہوئی۔
    "زلینڈ میں پانی کی سطح گر گئی ہے ، جس سے ہمارے کھیت خشک ہو گئے ہیں۔”
    شمالی بلوچستان کے کئی مقامات کے دوروں کے دوران میں نے سیکھا کہ بارش اور برف کی کمی کی وجہ سے پانی کی قلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کے سبز دھبے خشک ہو رہے ہیں۔ پھلوں کے سوکھے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ ضلع پشین میں ایسے مناظر بہت زیادہ ہیں۔
    گھریلو استعمال کے لیے پانی لے جانے والے ٹینکر ایک عام منظر ہیں۔ "ہم ان ٹینکروں پر انحصار کر رہے ہیں ،” لورالائی وادی زنگیوال کے ایک نوجوان کسان آصف کاکڑ نے کہا۔ "میرا ٹیوب ویل جو بجلی پر چلتا ہے ، میری پانی کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا کیونکہ بجلی کی فراہمی عام طور پر صرف ایک گھنٹہ رہتی ہے۔”
    صوبائی دارالحکومت واپس آنے کے بعد میں نے کوئٹہ میں مقیم زراعت کے ماہر ڈاکٹر عزیز بڑیچ سے بات کی کہ اس ویرانی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کہ اب بلوچستان کے شمال کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کی طرح گلوبل وارمنگ بلوچستان میں تباہی مچا رہی ہے۔
    ان کے مطابق صوبے کی شمالی پٹی نے شاید ہی کبھی ایک یا دو دہائی قبل درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ دیکھا ہو۔ "لیکن ان دنوں یہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے عام ہے۔”
    اس کے نتیجے میں ، سیب جیسے پھل سخت گرمی میں مرجھا جاتے ہیں۔
    عزیز بڑیچ نے کہا کہ بارش اور برف کی کمی کی وجہ سے پانی کی سطح بہت نیچے چلی گئی ہے۔
    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قیمتی پانی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ لیکن این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) بلوچستان کے شمالی علاقوں میں حکومت سے زیادہ سرگرم ہیں۔

    اگر پانی اور بجلی کے یہی حالات رہے تو بلوچستان کے زمین دار باغات اکھاڑنے پر مجبور ہوجائیں گے اور اپنے اولاد کے لیے کمانے کا ذریعہ معاش بھی تباہ ہوجائے گا۔
    بلوچستان کے زمیندار کی حیثیت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے، یہاں کے سیب، انگور، تربوز، خربوز، زردآلو اور سبزیاں ملک بھر میں پسند کیجاتی ہیں۔
    حکومت وقت کو بے شک آپ کے ہر جگہ کی پہنچ نہیں ہے اور نہ ہی خبر ملتی ہے لیکن علاقائی سطح پر جو مسئلہ میڈیا کی زینت بن جاتا ہے اس کو تو کم از کم حل کردینا چاہئے۔ اور یہاں کے ہر ڈیپارٹمنٹ کے افسروں کو تنبیہ کیا جائے کہ جو بھی مسئلہ کسی بھی ضلع میں پیش آجائے ان سے حکومت کا اگاہ کیا جائے،
    وزیراعلٰی کو چاہئے کہ تمام ضلعوں کا وزٹ کرکے عوامی مسائل سن لے، اور بلوچستان بالخصوص پشتون بیلٹ میں بجلی اور پانی کے مسائل کا حل نکالے۔

    ‎@iHUSB

  • امارت اسلامیہ تحریر: یاسر خان بلوچ

    امارت اسلامیہ تحریر: یاسر خان بلوچ

    دنیا نے ایسے فاتح نہیں دیکھے ہوں گے۔ خدا کے سامنے جھکنے والی گردنوں کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں جھکا سکی۔ ان کی فتح کا راز یہ ہے کہ وہ دنیاوی طاقتوں کے سامنے سر کو جھکانے کی بجائے ایک اللہ وحدہ لا شریک کے سامنے جھکتے ہیں۔ اور پھر رب تعالیٰ بھی اپنے بندوں کی ایسی لاج رکھتا ہے کہ وقت کے فرعون صفت متکبر سُپر طاقت اپنا سامانِ جنگ چھوڑ چھاڑ کر اور دم دبا کر بھاگ کھڑی ہوئی ہے۔ اور صرف 15 دن میں پورا ملک فتح کرنے کے باوجود عاجزی کا یہ عالم ہے کہ زمین پر بے اختیار سجدہ ریز ہو گئے ہیں۔
    یہاں بات اس انٹرویو کی کرتے ہیں جو کہ ملا عمر نے وائس آف امریکہ کو دیا تھا۔ جس میں ملا عمر نے کہا تھا ” میرے سامنے دو وعدے ہیں ایک وعدہ بُش کا اور دوسرا وعدہ میرے اللہ کا۔ میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ میری زمین بہت بڑی ہے اگر تم اس زمین پر کسی بھی جگہ جاؤ وہاں سکونت اختیار کر سکتے ہو اور تمہاری حفاظت کی جائے گی۔ دوسری جانب بُش کا یہ وعدہ ہے کہ زمین پر ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں تم چھپ سکو اورہم تلاش نہ کر سکیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ان میں سے کون سا وعدہ پورا ہوتا ہے”۔ اور آج اللہ کا وعدہ پورا ہوا ور سُپر پاور بھی کچھ نہ کر سکی اور امارت اسلامیہ کا اعلان ہو گیا۔
    ایک اور سوال کے جواب میں ملا عمر نے کہا” ہم مسلمانوں کی مدد اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ کفار سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ پاور کے اعتبار سے امریکہ بہت پاور فل ہے۔ اگر وہ اس سے بھی دو گنا زیادہ پاور فل ہو جائے تو بھی ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارا مالک ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں کوئی بھی دنیا کی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی” اور آج یہ بات بھی ملا عمر کی سچ ثابت ہوئی جب دنیا کی سُپر پاور فوج نے بھی انکے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

    دنیا کو آخر طالبان سے ڈر کیوں ہے؟ کس وجہ سے امارت اسلامیہ سے ڈرتے ہیں؟ کیا یہ طالبان سے ڈرتے ہیں؟
    نہیں بلکل نہیں کیونکہ ہم گناہ کرنے سے نہیں بلکہ اس گناہ کی سزا سے ڈرتے ہیں۔ ہم زنا سے نہیں ڈرتے بلکہ کوئی اس کی سزا اسلامی نظام کے مطابق دے اس سے ڈرتے ہیں۔ ہم چوری کرنے سے نہیں ڈرتے بلکہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنے سے ڈرتے ہیں۔ ہماری عورتیں کم لباس پہننے سے نہیں ڈرتی بلکہ اسلامی نظام کے مطابق لباس پہننے سے ڈرتی ہیں۔ اور برملا طور پر کہتی ہیں کے اس سے ہمارا دم گھٹتا ہے اور ہمیں آزادی دو۔ ہم کسی کا قتل کرنے سے نہیں بلکہ اسلام میں قتل کے قصاص کی بات ہوئی اور اس قصاص کو دینے سے ڈرتے ہیں۔ ہم حرام کی کمائی کے خاتمے سے ڈرتے ہیں۔ ہم سنت کے مطابق اپنے چہرے بنانے سے ڈرتے ہیں۔ ہم داڑھی رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم اوقات نماز کاروبار بند کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم چھوٹے بچوں سے زیادتی سے نہیں ڈرتے بلکہ اسکی سزا اسلامی نظام سے ہو اس سے ڈرتے ہیں۔ الغرض ہم طالبان سے نہیں ڈرتے بلکہ اسلامی نظام سے ڈرتے ہیں جسمیں ہم سب کیلئے بھلائی ہے۔ اور جہاں تک بات امارت اسلامیہ کے حصول کی ہے تو یہ اسلامی نظام کے مطابق ساری سزائیں ہو گی جس وجہ دنیا پریشان ہے۔
    مگر میرے اللہ جسے چاہیں عزت دیں اور جسے میرے اللہ چاہیں ذلیل و خوار کریں مگر اب کی بار اللہ نے عزت مجاہدین کو دی اسلام کی فتح ہوئی اللہُ اکبر کی صدائیں بلند ہوئی۔
    جیسے ہر ملک کی اپنی پالیسی یہی ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کسی کی دخل اندازی نہیں برداشت کرتا تو پھر طالبان چاہیے زورِ بازو سے حکومت لے چکے لیکن یہ بات یاد رکھیں جب انہوں نے کابل لیا کسی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی اور اقتدار لینے کے بعد ذمہ واری کا ثبوت دیتے ہوئے عام معافی کا اعلان کیا۔ تو دنیا کو بھی چاہیے کہ وہ امارت اسلامیہ کو تسلیم کرے۔

  • دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    دنیا کی سب سے چھوٹی "گائے رانی” چل بسی

    ڈھاکہ: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دنیا کی سب سے چھوٹی گائے چل بسی۔

    باغی ٹی وی :مختلف نیوز پورٹل ، سوشل میڈیا پوسٹس اور ساور میں لائیو سٹاک آفس نے کہا ہے کہ رانی ، جسے اس کے مالکان نے دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ہونے کا دعویٰ کیا ہے ، ڈھاکا کے ساور صوبے میں فوت ہو گئی ہے۔

    صوبہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ لائیو سٹاک آفیسر عبدالمطلب نے اس کی موت کی خبر کی تصدیق کی کہا کہ "مویشی دو دن پہلے بیمار پڑا اور اسے ڈیڑھ بجے کے قریب لائیو سٹاک آفس لے جایا گیا اسے علاج دیا گیا لیکن بچایا نہیں جا سکا۔ بعد میں شکور ایگرو فارم کے اہلکارگائے کو واپس لے گئے-”

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گائے رانی کا پیٹ کافی زیادہ سوج گیا تھا جس کے بعد اسے علاج کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز اس کی جان نہیں بچا سکے اور وہ محض چند گھنٹوں میں ہی دنیا سے رخصت ہوگئی ڈاکٹرز نے بتایا کہ گائے کے پیٹ پر سوجن زیادہ کھانے اور گیس جمع ہوجانے کے باعث ہوئی۔

    واضح رہے کہ عید الضحیٰ سے قبل دنیا کی سب سے چھوٹی گائے ’میڈیا اسٹار‘ بن گئی تھی جسے دیکھنے روزانہ ہزاروں لوگ فارم کا رخ کر رہے تھےگائے کی عمر تقریباً دو سال تھی اور اس کا قد 20 انچ تھا جو اپنی معصومیت اور سب سے چھوٹا قد ہونے کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔

    گائے کے مالک کا کہنا تھا کہ اس گائے کا نام انہوں نے رانی رکھا گائے کے مالک کا دعویٰ تھا کہ اپنی عمر کے اعتبار سے رانی دنیا کی بونی ترین گائے تھی جس کا وزن ‏‏26 کلو تھا۔

  • معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافہ

    معروف کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا سلسلہ جاری ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : چین میں کریک ڈاؤن اور ایلون مسک کے ٹیسلا کی جانب سے اسے مزید ادائیگی کے طور پر قبول نہ کرنے کے فیصلے کے بعد مئی میں کرنسی کی قیمت تیزی سے گر گئی تھی لیکن اب تین ماہ بعد سرمایہ کاروں کے رجحان میں بہتری نظر آرہی ہے اور زیادہ مرکزی کمپنیاں ڈیجیٹل کرنسی کا استعمال شروع کر رہی ہیں۔

    جنوری سے اب تک بٹ کوائن کی قدر میں 81 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جنوری میں بٹ کوائن صرف 27ہزار ڈالر میں ٹریڈ کر رہا تھا میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز ٹریڈنگ کے دوران کرپٹو مارکیٹ میں ایک بِٹ کوائن کی قدر 3.2 فیصد اضافے کے بعد 50 ہزار 298 ڈالر ہوگئی ہے جو پاکستانی روپوں میں 82 لاکھ سے زائد بنتی ہے جب کہ رواں سال مئی کے بعد یہ بِٹ کوائن کی ریکارڈ قیمت ہے-

    اس کے علاوہ دیگر ورچوئل کرنسیز بشمول کارڈانو، اتیھریم اور ڈوج کوائن کی قیمتوں میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    کرپٹو کرنسی کی قدر میں اضافہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی کمپنی پے پال نے کہا کہ وہ برطانیہ میں صارفین کو بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو خریدنے ، بیچنے اور رکھنے کی اجازت دے گا ۔ یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ سے باہر اپنی کرپٹو خدمات کو بڑھایا جا رہا ہے۔

    خیال رہےکہ رواں برس کے اپریل میں بِٹ کوائن کی قیمت 65 ہزار ڈالر تک جا پہنچی تھی جس کے بعد اس کی قدر میں کمی واقع ہورہی تھی۔

  • کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہے      شاہین شاہ آفریدی

    کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہے شاہین شاہ آفریدی

    قومی کرکٹرشاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کو پہلی اننگز میں جلد آؤٹ کرنے میں ہر کھلاڑی نے بھرپور حصہ ڈالاکل میچ کا آخری مگر اہم دن ہے
    کوشش ہوگی ویسٹ انڈیز کو مکمل آؤٹ کرکے سیریز برابر کریں –

    باغی ٹی وی : شاہین شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ میچ جیتنے کے لیے ہمیں اچھی اور نپی تلی باؤلنگ کرنی ہوگی ہمیشہ کہتا ہوں بیٹنگ کی طرح باؤلنگ میں بھی پارٹنرشپ کی ضرورت ہوتی ہےپہلی اننگز میں محمد عباس، فہیم اشرف اور حسن علی نے عمدہ باؤلنگ کی-

    انہوں نے کہا کہ دوسرے اینڈ سے عمدہ باؤلنگ نے حریف ٹیم پر دباؤ ڈالے رکھا کسی بھی میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنا فخر کی بات ہوتی ہےٹیسٹ کرکٹ میں آج اپنی بہترین باؤلنگ اپنے اہلخانہ کے نام کرتا ہوں-

    واضح رہے کہ دو میچوں پر مشتمل سیریز کے آخری ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز محمد عباس اور شاہین شاہ کی شاندار بولنگ کے باعث ویسٹ انڈیز 150 پر ڈھیر ہو گئی جمیکا میں کھیلے جا رہے بارش سے متاثرہ میچ میں پاکستان کو ویسٹ انڈیز پر 152 رنز کی برتری حاصل ہے-