Baaghi TV

Category: بلاگ

  • گوگل کی  اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے اپنے صارفین کیلئے ہنگامی وارننگ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : گوگل کا مقصد عام صارفین کو انٹرنیٹ پر کسی بھی موضوع پر درکار مواد تلاش کرنے کے لیے سرچ انجن مہیا کرنا تھا۔ اسی وجہ سے گوگل کو مقبولیت حاصل ہوئی اور آج بھی یہ دنیا کا سب سے ذیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے تاہم اس نے اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ جاری کی ہے-

    رپورٹ کے مطابق گوگل کی اپنے 2 ارب صارفین کے لیے 2 ماہ میں چوتھی وارننگ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤزر فوری اپ گریڈ کریں-

    گوگل کے علاوہ مائیکروسافٹ کے سرچ انجن ‘ ایج’ نے بھی چوتھی ہنگامی وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے صارفین کو کہا ہے کہ ہیکرز سے محفوظ رہنا ہے تو اپنا براؤز فوری اپ گریڈ کرلیں۔

    براؤزر کو اپ گریڈ کرنے کا طریقہ:

    براؤزر اپ گریڈ کرنے کے لئے آپ کو سیٹنگز میں جانا ہو گا اور پھر ہیلپ میں جاکر اباؤٹ گوگل کروم کھولنا ہو گا اپنے براؤزر کا ورژن چیک کریں، اگر Linux ، macOS یا Windows پر آپ کا براؤزر 92.0.4515.159 یا اس سے آگے کا version ہے تو آپ محفوظ ہیں۔

    گوگل فی الحال ان مسائل کے بارے میں بہت کم معلومات دے رہا ہے تاہم یہ ایک یہ معیاری عمل ہے جو کمپنی معلومات کو محدود کرنے کی کوشش میں کرتی ہے تاکہ صارفین کی پرائیوسی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہیکرز کو روکا جائے۔

  • قومی کرکٹ ٹیم  ویسٹ انڈیز سے وطن کب واپس روانہ ہوگی

    قومی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز سے وطن کب واپس روانہ ہوگی

    قومی کرکٹ ٹیم 25 اگست بروز جمعرات کو ویسٹ انڈیز سے وطن واپس روانہ ہوگی-

    باغی ٹی وی : قومی اسکواڈ مقامی وقت کے مطابق شام بجے جمیکا سے براستہ لندن لاہور کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرے گا قومی اسکواڈ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 12:50 بجے لاہور پہنچے گا-

    چار کھلاڑی بیٹسمین اظہر علی، لیگ اسپنر یاسر شاہ، فاسٹ باؤلرز محمد عباس اور نسیم شاہ وطن واپس نہیں آئیں گےیاسر شاہ اور نسیم شاہ کیریبین پریمیئر لیگ میں شرکت کے لئے کچھ دیر بعد انٹیگا روانہ ہوجائیں گے محمد عباس اور اظہر علی کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے لندن میں قیام کریں گے-

    ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے بابر اعظم

    واضح رہے کہ کنگسٹن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے بولنگ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم کو 219 رنز پر آؤٹ کردیا۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے 329 رنز کا ہدف دیا تھا تاہم ویسٹ انڈینز یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے اور انہیں 109 رنز سے شکست ہوئی۔

    میچ میں شاہین آفریدی نے بہترین بالنگ کا مظاہرہ کیا۔ شاہین آفریدی نے دوسری اننگز میں 4 جب کہ مجموعی طور پر اس میچ میں 10 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ نعمان علی نے 3 اور حسن علی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ بیٹنگ میں پاکستانی بلے باز فواد عالم چھائے رہے، وہ 124 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

    ٹیسٹ میچ کے آخری روز ویسٹ انڈیز نے ایک وکٹ پر 49 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا۔ویسٹ انڈیز کے کپتان کریگ بریتھ ویٹ سمیت کوئی بھی ویسٹ انڈین بلے باز پاکستانی بولرز کا جم کر مقابلہ نہ کرسکا، بریتھ ویٹ 39 رنز پرپویلین لوٹئ۔ نکروما بونر 2، روسٹن چیز 0، جرمین بلیک ووڈ 25 رنز، کائل میئر 32، جیسن ہولڈر 47، کیمروچ 7 اور جوشوا ڈی سلوا 15 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

    پاکستان دوسرا ٹیسٹ میچ 109 رنز سے جیت گیا : تین میچوں کی سیریز برابر

  • ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے   بابر اعظم

    ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے بابر اعظم

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ک کہنا ہے کہ آج کی جیت پوری ٹیم کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہےجب بھی جیت ملتی ہے بطور کپتان بہت اعتماد ملتا ہے
    تمام کھلاڑیوں نے شاندار کھیل پیش کیا-

    باغی ٹی وی : بابر اعظم نے کہا کہ وکٹ سے مدد نہیں ملی تو فیلڈنگ پوزیشنز بدل کر حریف ٹیم پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیاخوشی ہے کہ پہلی اننگز میں جلدی وکٹیں گنوانے کے باوجود فواد عالم کے ساتھ پارٹنرشپ ہمیں میچ میں واپس لائی-

    انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا شاہین شاہ آفریدی بہت بااعتماد باؤلر ہیں جب بھی انہیں باؤلنگ کا کہتا ہوں وہ جارحانہ باؤلنگ کرتے ہیں خوشی ہے کہ شاہین شاہ آفریدی جیسا باؤلر میرے پاس ہے-

    پاکستان دوسرا ٹیسٹ میچ 109 رنز سے جیت گیا : تین میچوں کی سیریز برابر

    قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ نوجوان فاسٹ باؤلر نے اپنی عمدہ باؤلنگ سے میزبان ٹیم کو بیک فٹ پر ہی رکھا ہم نے حکمت عملی کے تحت ویسٹ انڈیز کو چوتھے روز بیس اوورز کھیلائے-

    بابر اعظم نے کہا کہ ہمیشہ کہتا ہوں فواد عالم بہت تجربہ کار بیٹسمین ہیں مشکل کنڈیشنز میں انہوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ڈومیسٹک کرکٹ میں دس ہزار رنز بنانے والے فواد عالم ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں ہمارے ہر بیٹسمین کو فواد عالم سے سیکھنے کی ضرورت ہے-

  • ناکامیوں کے بعد ملتی ہیں کامیابیاں   صائمہ رحمان

    ناکامیوں کے بعد ملتی ہیں کامیابیاں صائمہ رحمان

    ناکامی کامیابی کی کنجی ہے کچھ لوگ ناکامی کو اپنی جیت تصور کر کے آگےبڑھتے ہیں اور آخری کوشش تک اپنا مقصد حاصل کرنے کی بھرپور محنت کرتے ہیں اس مقصد کو حاصل کر کے ہی سکون لیتے ہیں ایسے لوگ اپنی زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنا پختہ ادارہ ان کو کمزور نہیں ہونے دیتا زندگی میں ہار جیت زندگی کے ساتھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کو جیت تھوڑی محنت کر کے جلدی مل جاتی ہے کسی کو بہت محنت اور آزمائشوں کے بعد نصیب ہوتی ہے آزمائشوں میں کامیابیوں کا راز پوشیدہ ہے۔
    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلد ہی ہار مان لیتے ہیں اور تھوڑی سی ناکامی کے بعد ہی اپنے اس مقصد کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ اور پھر اپنے مقصد سے دور ہو جاتے ہیں کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جان توڑمحنت کرنی پڑھتی ہے پھر ہی اپنا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہی لوگ کامیاب ہیں جو ہار کر بھی ہاتے نہیں اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔
    کامیابی ہمیشہ ان کو حاصل ہوتی ہے جو اپنے ارادوں پر یقین کے ساتھ ڈٹے رہتے ہیں کہ ہم نے کرنا سو کرنا ہی ہے اور مسلسل محنت کرتے ہیں، کامیابی ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی، اس کے پیچھے سالوں کی محنت اور پختہ اعتماد اور یقین شامل ہوتا ہے
    کامیابی حاصل کرنے کے کچھ اصول بھی ہیں ہمیشہ مثبت سوچ رکھی جائیں آپ زندگی میں جو کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں آپ کی سوچ سے اس کا براہ راست تعلق ہوتا اپنے خیالات اور سوچ کو بڑا رکھنا چاہئیے اچھا مثبت سوچیں، منفی خیالات اور ہار جانے کے ڈر کو ذہن سے نکال دیں، اسی لیے مشہور کہاوت ہے کہ اچھا سو چو گے تو اچھا ہی ہوگا۔ مثبت رویہ زندگی میں آپ کو وہ سب کچھ حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے جو کچھ آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مثبت انداز اور تحمل مزاجی سے کام لیا جائے ۔
    اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اعتدال کے ساتھ چلیں زندگی میں اعتدال کا ہونا بہت لازمی ہے، ایک چھوٹا سا غلط یا جذباتی فیصلہ آپ کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے، ہر کام سوچ سمجھ کر کیا جائے اور اصولوں کے مطابق کریں، زندگی میں پختہ ارادے اور اعتدال ہر مقصد میں آپ کو کامیاب کر سکتا ہے۔
    اپنی ناکامی کو تسلیم کریں زندگی میں کوئی بھی انسان پہلی دفعہ ہی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو جاتا، ہر کامیاب انسان کے پیچھے کئی ناکامیاں، غلطیاں ہوتی ہے اور بہت سی کہانیاں بھی اپنی ناکامی کو تسلیم کریں اور اس پر پچھتا کر وقت ضائع کرنےسے اس سے بہترہے کہ اس بات کا اندازہ لگائیں کہ جو غلطی ہم نے کی ہے وہ دوبارہ ہم سے نا ہو۔
    جیسے کہا جاتا ہے کہ خاموشی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے، اسی طرح کہا جاسکتا ہے کہ انسان کی ہر ناکامی، اس کی آنے والا قوت کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے فلسفیوں کا کہنا ہے کہ زندگی کامیابی اور ناکامی سے متصل ہے اس لئے مثبت مزاج میں کامیابی اور ناکامی دونوں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہونا چاہئے. زندگی میں اگر کامیابی چاہتے ہیں تو زندگی میں ہار نا مانی جائے ہار کر بھی جیت کی تلاش کی جائے ہمت حوصلہ بڑھائے رکھے پھر کامیابی آپ کے قدم چھومے گی۔
    سیکھتے رہیں اور آ گے بڑھتے جائیں زندگی اسی کا نام ہے خود کو آزمایا جائے اور نئے تجربات کریں، اگر زندگی میں کوئی مقصد نہیں زندگی بے سود تبدیلی سے گھبرائیں نہیں بلکہ اسے خوش آمدید کہیں، خود کو ہمیشہ متحرک اور مثبت رکھیں اور آگے بڑھتے جائیں، خود کو ہر وقت سیکھنے کے مراحل میں رکھیں۔
    email : saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account : https://twitter.com/saimarahman6

  • سیاحت اور پاکستان تحریر : نعمان سرور

    سیاحت اور پاکستان تحریر : نعمان سرور

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو خوبصورت ترین ہیں اللہ تعالی نے پاکستان کو ہر طرح کے موسم اور علاقوں سے نوازا ہے،
    اسی خوبصورتی کی وجہ سے دنیا کی کئی بڑی ویب سائٹس نے پاکستان کو سیاحت کے حوالے سے اگلا بڑا ملک قرار دیا ہے،پاکستان میں ہر طرح کے علاقے پائے جاتے ہیں صحرا ہوں، سمندر ہو،دنیا کی بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیاں ہوں اللہ تعالی نے ہمارے ملک کو سب کچھ عطا کیا۔
    پاکستان مذہبی سیاحت کا بھی مرکز بن چکا ہے جس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے سکھ مذہب کے کئی اہم مقامات پاکستان میں موجود ہیں جن میں سے ایک پر وزیراعظم عمران خان نے ایک سیاحتی اور مذہبی ہم آہنگی کا کاریڈور بنایا جسے کارتارپور کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے دنیا بھر میں پاکستان کی نیک نامی سے جانا گیا۔
    ہندو مذہب کی بات کی جائے تو چکوال میں کٹاس راج ہندو مذہب کے ماننے والے لوگوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
    بدھ مت کی بات کی جائے تو ٹیکسلہ کے آثار قدیمہ یہاں پر موجود ہیں،جو ڈھائی ہزار سال قبل کی تاریخ اپنے اندر سموئے بیٹھے ہیں کہا جاتا ہے کے مہابھارتہ کی نظم بھی سب سے پہلے اس علاقے میں پڑھی گئی تھی، یہ علاقہ ہندو اور بدھ مذہب دونوں کے لئے اہمیت کا حامل ہے۔
    دین اسلام کی بات کی جائے تو ہمارے ملک میں کئی صوفی بزرگوں کے مزارات ہیں جہاں دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
    اس کے علاوہ بہت سی ایسے مقامات ہیں جہاں ہزاروں لوگ آتے ہیں۔
    پاکستان میں کئی ایسے مقامات موجود ہیں جن کو دنیا کے آثار قدیمہ کا درجہ حاصل ہے اور کئی ایسے مقامات ہیں جو جلد اس فہرست میں شامل ہو جائیں گے۔
    اگر پہاڑوں، قدرتی چشموں اور برف کے کھیلوں کی بات کی جائے تو دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کے پاکستان میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دنیا بھر کی سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے اور ہم اس شعبہ سے اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔
    دنیا کے کئی ممالک کی معشیت سیاحت پر چل رہی ہے امریکہ سیاحت سے 177 بلین ڈالر سالانہ کماتا ہے سپین 65 بلین ڈالر کماتا ہے تھائی لینڈ ہم سے 55 گنا چھوٹا ملک ہے 55 ارب ڈالر سیاحت سے کماتا ہے ترکی 20 ارب ڈالر کماتا ہے جبکہ ہم صرف 796 ملین ڈالر کما رہے ہیں اب حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کے 2025 تک ہم اس شعبہ میں اتنی اصلاحات کریں گے اور انفراسٹرکچر پر کام کریں گے کہ اس کو 6 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکے جو انتہائی ضروری ہے۔
    سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جو براہ راست لوگوں کا معیار زندگی بلند کر دیتا ہے اور اس سے کوئی بھی ملک باآسانی اپنے لاکھوں لوگوں کو روزگار مہیا کرسکتا ہے۔
    ہمارے ملک پاکستان میں قدرتی حسن کی کوئی کمی نہیں ہے ضرورت اصلاحات کی اور اقدامات کی ہے جن کو کرنے سے ہم اس شعبے کو مزید ترقی دے سکتے ہیں، جن میں کافی چیزیں ہونے والی ہیں سب سے پہلی چیز ہمارے قدرتی اور اہمیت کے حامل مقامات جو سیاحوں کو پاکستان لا سکتے ہیں ان کی دنیا بھر میں پرموشن ہے وہ سوشل میڈیا ہو یا دیگر ذرائع ابلاغ ان سب کے استعمال سے یہ ہوسکتا ہے دنیا بھر کی ائر لائنز میں چلنے والی وڈیوز ان کے ممالک کی سیاحت کے حوالے سے ہوتی ہیں ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف ویب سائٹس بنا سکتے ہیں جن پر مکمل گائیڈ لائینز بھی موجود ہوں اور تمام گائیڈ لائنز ہر زبان میں دستیاب ہوں، اس میں ہر سہولت آ جاتی ہے ہوٹل کی بوکنگ، ریٹ، نقشہ ہر چیز وہاں دستیاب ہو اور یہ سرکاری سطح پر ہو تو زیادہ بہتر ہے اور اس کے علاوہ سیاحت کے محکمے کو اتنا پروفیشنل کیا جائے کے وہ سیاحوں کو پیش آنے والے واقعات پر ان کی مدد کرے۔
    دنیا بھر میں سیاحت کے حوالے سے بڑی بڑی کانفرنسز ہوتی ہیں پاکستان میں اس طرز کی کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے۔
    سیاحتی مقامات پر سہولتوں کو بہتر کیا جائے اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہیے۔
    نئے سیاحتی مقامات کو تلاش کیا جائے اور ان کو ترقی دی جائے تاکہ عوام کا رش ایک جگہ کے بجائے مختلف جگہوں پر تقسیم ہو جائے۔
    سیاحوں کی سہولت کے لئے سپیشل ٹرینیں اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جائے۔
    دنیا بھر میں حکومتیں عوام کی چھٹیوں پر ان کو ہوٹلوں میں ڈسکاؤنٹ کی سہولیات دلواتی ہیں تاکہ سیاحت کا فروغ ہو۔
    سیاحت کے فروغ سے سب سے زیادہ مقامی لوگوں کو ہوتا ہے ان کے ہر طرح کے کاروبار چل پڑتے ہیں جس سے معاشی سرگرمی کا آغاز ہوتا ہے جو لاکھوں لوگوں کو فائدہ دیتی ہے۔
    بہت سے سیاحتی مقامات پر اشیا بہت مہنگی دستیاب ہوتی ہیں اس طرح دیگر سہولیات جیسے کے ٹرانسپورٹ وغیرہ پر بھی وہاں کے لوگ حد سے زیادہ لوٹ مار کرتے ہیں اس بات کو یقینی بنانا کے وہاں کسی سیاح سے زیادتی نہ ہو یہ حکومت کا کام ہے اس پر مزید کام ہونا چاہیے۔
    اس طرح بہت سے ایسے اقدامات ہیں جن پر کام کرنے سے ہم اس شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں۔
    اللہ تعالی پاکستان کا حامی و ناصر ہو: آمین

    ٹویٹر اکاؤنٹ
    @Nomysahir

  • سگریٹ نوشی سے انکار ،زندگی سے پیار  تحریر: فضیلت اجالہ

    سگریٹ نوشی سے انکار ،زندگی سے پیار تحریر: فضیلت اجالہ

    سگریٹ نوشی ،وہ سستہ نشہ ہے جو خاموش قاتل کا کام کرتا ہے،سگریٹ کے دھویں میں موجود تقریبا 4000 زہریلے کیمیائ مادے نا صرف سگرین نوش کیلیے سلو پوائزن کا کام کرتے ہیں بلکہ اسکے ارد گرد رہنے والے اسکے پیاروں کی صحت کی تباہی کا باعث بھی بنتیے ہیں،سگریٹ نوشی کے باعث 60 لاکھ سالانہ اموات میں سے چھ لاکھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو خود سگریٹ نہی پیتے لیکن ایسے لوگو کہ ساتھ رہتے یا اٹھتے بیٹھتے ہیں جو سگریٹ نوشی کے عادی ہیں
    نوجوان نسل کسی بھی قوم کیلیے قیمتی اثاثے کی حیثت رکھتی ہے ،اور آج کے نوجوان کا سب سے بڑا المیہ سگریٹ یا تمباکو نوشی ہے جس نے نظام زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے
    ہماری بدقسمتی کہے یا ہماری غفلت کا نتیجہ کہ ہماری نوجوان نسل میں سگریٹ نوشی کا رحجان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ دو کروڑ نوے لاکھ پاکستانی دن رات اس زہر کو اپنی رگوں میں اتارنے میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سگریٹ نوشوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن میں ناصرف مرد بلکہ عورتیں بھی شامل ہیں
    یہ وہ زہر ہے جو ہماری نسل نوجواں کی رگوں میں سرائیت کر کے بہت سے والدین کو انکی سگریٹ نوشی میں مبتلا اولاد کے مستقبل اور بچاؤں سے ناامید کرچکا ہے ۔
    سگریٹ نوشی میں مبتلا ہونے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی جن میں سے سر فہرست ڈپریشن ہے ،بعض اوقات والدین کی زرا سی غفلت اور تربیت میں لاپرواہی کی وجہ سے بھی بچے سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔
    نا صرف نوجوان بلکہ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں چھوٹے بچے بھی ہاتھ میں سگریٹ پکڑےنظر آئیں گے ،اسکی بنیادی وجہ بے احتیاطی ،لاپرواہی اور اپنے فرائض سے کوتاہی ہے
    جب ایک باپ اپنے بیٹے سے سگریٹ منگواتا اور اسکے سامنے ہی سگریٹ نوشی کرتا ہے تو وہ یہ کیسے سوچ لیتا ہے کہ اسکا بیٹا ایسا نہیں کرے گا، پہلی زمانے میں ایک عام تاثر تھا کہ سگریٹ ،پان،تمباکووغیرہ کا استعمال صرف جاہل اور ان پڑھ لوگ کرتے ہیں لیکن اکیسویں صدی نے اس کو غلط قرار دے دیا ہے جہاں استاد جیسی عظیم شخصیت جسے روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے نا صرف طلبہ و طالبات کی موجودگی میں سگریٹ نوشی کرتا ہے بلکہ ایسے گھناؤنے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جہاں استاد طالب علموں کو نشہ آور چیزیں مہیاں کرنے میں ملوث پایا گیا ۔
    شروع شروع میں نوجوان صرف شوق میں یا تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور بعض اوقات مختلف پریشانیوں سے بھاگ کر سکون کی تلاش میں سگریٹ کی طرف پہلا قدم بڑھاتے ہیں جو بہت جلد ضرورت کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے ،سگریٹ کا دھواں انسانی صحت کیلیے انتہائ خطرناک ہے ،اس میں موجوف نکوٹین مختلف اقسام کے کینسر کا سبب بنتا ہے- بکثرت تمباکو نوشی سے
    دل اور خون کی رگوں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچتا ہے جو گردوں میں خون کے بہاؤ میں کمی کا باعث بنتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ گردوں کو مکمل تباہ کردیتا ہے تمباکونوشی سے کورونا وائرس کا شکار ہونے کا امکان 14 فیصد بڑھ جا تا ہے۔اس کے علاوہ دماغ کا کینسر ،منہ کا کینسر ،پھیپھڑوں کا کینسر اور ٹی بی جیسے مہلک امراض بھی سگریٹ نوشی کا تحفہ ہیں
    ملک پاکستان جہاں روٹی 12 روپے کی اور سگریٹ دو روپے کا ملتا ہو ،جہاں آدھی سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرتی ہے وہاں سالانہ 100 ارب سے زیادہ سگریٹ نوشی کی مد میں خرچ ہوجانا ناصرف باعث افسوس بلکہ قومی المیہ اور مقام فکر ہے ،اگر ہمیں اپنا مستقبل محفوظ بنانا ہے ،ملک پاکستان کو ترقی کی شاہراؤں پہ گامزن دیکھنا ہے تو ہمیں اپنے آج کو یعنی اپنے بچوں کو اس موزی لعنت سے دور رکھنا ہوگا ،روزانہ کی بنیاد پہ سگریٹ نوشی کا شکار ہونے والے 1200 بچوں کو موت کی طرف قدم بڑھانے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کیجیے ،ناصرف خود سگریٹ نوشی ترک کیجیے بلکہ اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی اس لت سے چھٹکارا پانے میں مدد فراہم کیجیے ،خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر یا ایسا مواد شئیر کرنے سے گریز کریں جس سے سگرٹ نوشی کی لت کو تقویت ملے
    زندگی کو محفوظ بنائیں،اور تمباکونوشی سے خود کو اور دوسروں کو بھی بچائیں،اس کیلیے حکومت اور عوام کو مل کر اقدام کرنے ہونگے ،میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ سگریٹ کی قیمتوں اور ٹیکس میں اضافہ کیا جائے ،عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پت سخت پابندی اور جرمانہ مقرر کیا جائے ،سکول کالجز کے نزدیک ،گردونوح میں موجود تمام دکانوں پر سگریٹ کی فروخت ممنوع قرار دی جائے ،
    ” ہماری نوجوان ہمارا قیمتی سرمایا ہمارا آنے والا کل ہیں ،اور اس کل کو تابناک بنانے کیلیے ہمیں اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کو سگریٹ نوشی اور منشیات کے زہر سے بچانا ہے جو کہ مار پیٹ یا زور و زبردستی سے نہی بلکہ پیار اور سمجھداری سےممکن ہے “نوجوانو،بچوں،بوڑھوں سب کو سگریٹ نوشی کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کریں اور انہیں صحت مندانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے پہ مائل کریں
    اپنے لئے نہیں تو اپنے پیاروں کے لئے جیئے،،

  • نبی رحمت ﷺ  پر وحی کا  نزول حصہ  سوم  تحریر محمد آصف شفیق

    نبی رحمت ﷺ پر وحی کا نزول حصہ سوم تحریر محمد آصف شفیق

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول کس طرح شروع ہوا، اللہ تعالیٰ کا قول کہ ہم نے تم پر وحی بھیجی جس طرح حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے بعد پیغمبروں پر وحی بھیجی اور اسی طرح ہم احادیث کی روشنی میں جاننے کوشش کرتے ہیں
    حضرت حسن حطان بن عبداللہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سختی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ اقدس کا رنگ بدل جاتا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1559
    حضرت ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سردی کے دنوں میں وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر پسینہ بہنے لگ جاتا تھا۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1557

    حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک جھکا لیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی اپنے سروں کو جھکا لیتے اور جب وحی ختم ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک اٹھا لیتے تھے۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1560

    حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنے والد حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گفتگو فرمانے کے لیے بیٹھتے تو دوران گفتگو اکثر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے رہتے تھے۔(کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر وقت وحیِ الٰہی کا انتظار رہا کرتا تھا) ۔ سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1433

    حضرت ابن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی ہے کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے لگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن تو بہت ہی زیادہ مرتبہ وحی نازل ہوئی۔
    صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 3023حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وجہ سے مشکل محسوس کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس متغیر ہو جاتا راوی کہتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل کی گئی تو اسی طرح کی کیفیت ہو گئی۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ کیفیت ختم ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے حاصل تحقیق عورتوں کے لیے اللہ نے راستہ نکالا ہے۔ شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو (اس کی حد) سو کوڑے ہیں اور پتھروں کے ساتھ سنگسار کرنا بھی اور کنوارے مرد کو سو کوڑے مارے جائیں پھر ایک سال کے لیے ملک بدر کردیا جائے۔صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1923

    حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل علیہ السلام کو(وحی لانے میں ) تاخیر ہوگئی (کچھ عرسہ کے لیے وحی منقطع ہوگئی) تو مشرکین نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو چھوڑ دیا گیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل فرمائیں: وَالضُّحٰى Ǻ۝ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى Ą۝ۙ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى Ǽ۝ۭ "چاشت کے وقت کی قسم اور رات کے وقت کی قسم جب وہ پھیل جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو آپ کے پروردگار نے نہ چھوڑا اور نہ ناراض ہوا ہے”۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 159

    حضرت ابوکریب ابواسامہ ابن بشر ہشام محمد بن بشر سیدہ عائشہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے آتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر وحی کبھی تو گھنٹی کی جھنکار کی طرح آتی ہے اور وہ کیفیت مجھ پر بہت سخت ہوتی ہے پھر وہ کیفیت موقوف ہو جاتی ہے اور میں اس وحی کو محفوظ کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی تو ایک فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1558

    حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن حشام نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کس طریقہ سے نازل ہوتی ہے؟ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کبھی تو وحی اس طریقہ سے نازل ہوتی ہے جس طریقہ سے کسی گھنٹی کی جھنکار ہوتی ہے جو کہ میرے اوپر سخت گزرتی ہے پھر وہ موقوف ہوجاتی ہے۔ جس وقت اس کو یاد کرتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک انسان کی صورت بن کر میرے پاس آتا ہے اور وہ فرشتہ مجھ سے گفتگو کرتا ہے میں اس حکم الہی کو یاد کر لیتا ہوں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ جس وقت سخت ترین موسم سرما میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی پھر وہ وحی آنا بند ہوجاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی سے پسینہ نکلنے لگتا وحی کی سختی کی وجہ سے اس کے زور سے۔ سنن نسائی:جلد اول:حدیث نمبر 939
    اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں دین اسلام کی سمجھ عطا فرمائیں ، نبی مہربان ﷺ کے فرامین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والا بنائیں ، آمین

    @mmasief

  • خوشگوار زندگی گزارنے کے اصول تحریر خالد عمران خان

    خوشگوار زندگی گزارنے کے اصول تحریر خالد عمران خان


    دور حاضر ایک جدید ہے اور ہر شخص تیزی میں ہر شخص مصروف دکھائی دیتا ہے اور اس تیزی میں میں ہم اکثر اوقات اپنے آپ پر توجہ نہں دیتے یہ دے پاتے.ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کے ہم کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں؟؟
    اچھا اِسے ہم اس طرح دیکھ لیتے ہیں کے کیا آپ زیادہ تر صبح سست محسوس کرتے ہیں؟ کیا کیفین والے مشروبات دن بھر آپ کو طاقت میں مدد دینے کی ضرورت بن گئے ہیں؟ اگر یہ ایسا ہی ہے ، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپکو اپنی زندگی میں کچھ فوری اصلاحات کی ضرورت ہے. اگر آپ آنے جسم کے نظام کو چلانے کے لئے توانائی والے مشروب پر انحصار کرتے ہیں اسے ختم کریں ، اور اپنا قدرتی طریقے سے جسمانی طاقت لینے کا جامع پلان تیار کریں۔ ایسی تبدیلی ہمیشہ شروع کرنا مشکل لگتا ہے ، لیکن جلد ہی آپ خوش ، صحت مند اور زیادہ اچھے طرز زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے بعد آگے بڑھنے کے لئے تیار ہونگے.

    اپنی توانائی کو بڑھانے اور خوش ، صحت مند ، زیادہ پیداواری زندگی گزارنے کے لیے ان تجاویز پر عمل کریں:
    1. صحت مند کھانا کھائیں۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ صحت مند غذا صحت کے لیے اہم چیز ہے ، پھلوں اور سبزیوں کم چکنائی والی غذائیں اور دودھ اور سارا اناج جو آپ کو زیادہ سے زیادہ توانائی فراہم کرتے ہے اور ہمارے جسم کی ضرورت ہیں. مختلف قسم کے کھانے کھائیں تاکہ دن بھر آپ کو توانائی بخش سکے۔ تازہ پھل اور سبزیوں کا انتخاب کریں ، خاص طور پر غذائیت سے بھرپور سیاہ ، پتوں والی سبزیاں اور بروکولی ، نیز سبزیاں ، بشمول گاجر اور ۔ صحت مند پروٹین والی غذائیں مچھلیوں اور پھلوں والی غذائیں اپنی روزمرہ زندگی میں لازمی شامل کریں اور اپنے جسم کے کیے ضروری توانائی جو کے آپ سوفٹ ڈرنک سے لے رہے تھے قدرتی طور پر خوراک میں پائی جانے والی توانائی سے حاصل کریں.

    جسم میں توانائی کا توازن برقرار رکھنے میں کم سے کم 8 گھنٹے کی نیند لینا بہت اہمیت رکھتا ہے.
    زیادہ نیند لینا ایک صحت مند عادت ہوتی ہے۔ ہم سب کو یہ معلوم ہے کہ ہمیں ہر رات کم از کم سات گھنٹے سونے کی ضرورت ہے؟اگر آپ اپنی نیند پوری نہں کرتے تو اس کے بارے میں سوچیں کہ آپ اپنی نیند کی سب سے بڑی رکاوٹ کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں اور نیند کی کمی صحت کے بہت نقصان دے ہے اور اس کے سنگین نتائج ہیں آپ کے مزاج کی خرابی صبح اٹھنے میں سستی کی ایک اہم وجہ اور یہ حوصلہ افزائی اور توانائی کی سطح پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ نیند کو ترجیح دینا ایک بہترین کام ہے جو آپ اپنے آپ کو ایک کامیاب ، توانائی بخش دن کے لیے ترتیب دے سکتے ہیں۔

    اچھے لوگو میں اٹھنا بیٹھنا رکھیں.ایسے لوگو کے ساتھ جو اچھائی پھیلاتے ہیں.
    زیادہ سے زیادہ وقت آپ ایسے لوگوں کے ساتھ گزاریں. جنہیں کے آس پاس رہنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا جو مثبت چیزوں اور باتوں کو پھیلاتے ہیں اور اسی طرح کی دلچسپیاں رکھتے ہیں آپ کو پرجوش اور متحرک کریں گے۔ دوسری طرف ایسے لوگو سے تعلق کم رکھیں جن لوگوں کا منفی نقطہ نظر ہے ، اکثر شکایت کرتے ہیں یا ناقص انتخاب کرتے ہیں وہ صرف آپ کی توانائی خراب کرتےہیں.

    باقاعدہ ورزش کریں چہل قدمی کریں۔ورزش تناؤ جسمانی اور ذہنی تناؤ کو دور کرتی ہے ، پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے اور برداشت کو بڑھاتی ہے ، جو آپ کے جسم کو دوسرے جسمانی کاموں یا سرگرمیوں کے دوران زیادہ موثر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔
    زندگی میں یہ چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں لا کر آپ اپنی زندگی کو بہتر اور خوشگوار انداز سے گزار سکتے ہیں.

    تحریر
    خالد عمران خان

    Twitter Handle
    ‎@KhalidImranK

  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جب دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو ہم اپنے مسائل کا حل ادھر ادھر کیوں ڈھونڈتے ہیں؟
    اغیار نے وہ تمام چیزیں اپنا کر کامیابیوں کے زینے طے کر لئے،
    وہ چیزیں ہم نے اپنانے کے بجاۓ چھوڑ دیں اور خواب غفلت کا شکار ہو کر نہ ادھر کے رہے اور نہ ادہر کے
    بقول شاعر
    نہ خدا ہی ملا،نہ وصال صنم
    نہ ادھر کے ہوۓ نہ ادھر کے
    رہے دل میں ہمارے یہ رنج والم،
    نہ ادھر کے ہوۓ،نہ ادھرکے
    ہم نے دوسروں کی تقلید کی بھی تو غلط کاموں میں۔
    انہوں نے محنت،سچ اور ایمانداری کا راستہ اپنایا تو ہم بھٹکی روح کی طرح جھوٹ،مکرو فریب اور شارٹ کٹ کے پیچھے لگ کے ہر وہ کام کرنے لگے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔
    لوگ آج چین ،جاپان اور کوریا جیسے ملکوں کی ترقی کی بات کرتے ہیں۔
    وہ لوگ جس کام میں لگ جاتےہیں،
    اس کو پایہ تکمیل تک پہچا کر چھوڑتے ہیں۔انکا پر عزم ہونا ہی انکی کامیابی کی دلیل ہے۔
    ان کے ہاں جھوٹ موٹ کی بیماری کا بہانہ کر کے ڈیوٹی سے چھٹی کا تصور بھی نہیں،
    جبکہ ہمارے ہاں اکثریت ایسا کرتی ہے۔ہم سب ایسی بیماریوں کا شکار ہیں۔
    جو لوگ اپنے اپنے اداروں پر احسان کر کے دفاتر میں چلے جاتے ہیں۔
    اُن میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے ڈیوٹی کے پورے اوقات کار میں کام کرتے ہیں۔
    میرے خیال میں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔
    آجکل ہم جس سنگین مسئلے سے دوچار ہیں،وہ خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی ہراسگی ہے،جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا ہے۔
    کوئ کہہ رہا ہے کہ ٹک ٹاک پر پابندی لگادی جاۓ،
    کوئ کہہ رہا ہے کہ ٹک ٹاکرز پر ایسے تفریحی مقامات پر داخلے پر پابندی عائد کر دی جاۓ۔
    کوئ بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم سب اپنے اوپر ان ضابطوں کا اطلاق کر لیں ،جو ہمارے پیارے مذہب نے ہمارےلئے بناۓ ہیں۔
    ایسا کرنے سے سب مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔
    سب کی عزت نفس بحال ہو سکتی ہے۔سب کو شرم وحیا کے پہروں تک رسائ ہو سکتی ہے۔
    کسی کو کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔
    ٹک ٹاک جیسی اپلی کیشن پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں۔
    ہمیں اپنے اندر چھپے ہوۓ شیطان پر پابندی لگانا ہو گی۔
    اس میں کوئ دو راۓ نہیں کہ
    ٹک ٹاک فحاشی پھیلانے کا زریعہ بن رہا ہے۔
    مگر اسکا انحصار بھی ہماری سوچ پر مبنی ہے۔
    ہر چیز کا مثبت اور منفی استعمال ہماری اپنی سوچ اور اپروچ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
    ہو سکتا ہو کہ یہی ٹک ٹاک کسی کے رزق کمانے کا زریعہ ہو اور وہ بھی گندگی کے عنصر کے بغیر۔
    جس طرح کچھ لوگ آجکل یو ٹیوب اور فیس بُک جیسی اپلی کیشنوں یا سوفٹ وئیرز سے کمائ کر رہے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ٹک ٹاک سے بھی اسی طرح کچھ لوگوں کی روزی روٹی منسوب ہو
    مگر یہ کہنے کے باوجود ،رزق کا معاملہ اپنی جگہ،
    کسی بھی اپلی کیشن کے زریعے عریانی اور معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔
    نہ ہم اور نہ ہمارا معاشرہ اسکا متحمل ہو سکتاہے۔
    اس سارے رولے میں خونی لبرلز اور موم بتی مافیا کا مسئلہ کچھ اور ہے۔
    انہیں نہ ہماری معاشرتی اقدار سے کوئ غرض ہے اور نہ ہی پاکستان کی بہتری سے۔
    بلکہ اگر یوں کہا جاۓ کہ اس
    بےراہ روی میں ٹک ٹاک سے زیادہ منفی کردار اسی موم بتی مافیا کا ہے تو قطعا” غلط نہ ہو گا۔
    یہ مٹھی بھر عناصر ہر وقت انتشار کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
    چونکہ انکی ڈوریاں کہیں اور سے ہلتی ہیں اور انکے ڈانڈے بھی کہیں اور جا ملتے ہیں۔
    اسلئے یہ ہمیشہ وہی کریں گے،
    جو انہیں اپنے آقاؤں سے کرنے کو کہا جاۓ گا اور جو کرنے کے انہیں ڈالرز ملتے ہیں۔
    مجھے جو تجویز مناسب لگتی ہے ،
    وہ یہ ہے کہ کچھ پارکس اور تفریحی مقامات کو صرف فیملیز یا خواتین کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
    وہاں چھڑوں کو جانے کی اجازت نہ ہو۔
    ساتھ ہی ایسی جگہوں پر آنے والوں کے لئے قواعد وضوابط بنا دئیے جائیں کہ وہ ان جگہوں کے اندر ٹک ٹاک جیسا ٹھٹھا لگانے سے نہ صرف گریز کریں گے بلکہ ایسی جگہوں پر آنے کے لئے مناسب لباس کی بھی پابندی ہو گی۔
    اسی طرح کچھ جگہوں کو صرف مردوں کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
    اس طرح ہر کسی کو تفریح بھی مل جاۓ گی اور مینار پاکستان جیسے واقعات بھی رونما نہیں ہوں گے۔
    گلف ممالک میں یہی فیملیز اور بیچلرز کے الگ الگ تفریحی مقامات کا فارمولہ کامیابی سے چل رہا ہے۔
    ہم جیسے ملکوں کا ایک اور بھی مسئلہ ہے،وہ ہے قانون کی عملداری کا نہ ہونا،
    یہاں قانون تو بن جاتے ہیں،مگر ان پر عمل نہیں ہوتا۔
    یہی مسئلہ سب برائیوں کی جڑ بھی ہے،
    رشوت اور سفارش سے سب ناجائز کام جائز ہو جاتے ہیں۔
    اب جس طرح یہ تجویز سامنے آرہی ہے کہ کچھ تفریحی مقامات کو صرف فیملیوں کے لئے مختص کر دیا جاۓ۔
    اب اگر ایسا کر بھی دیا جاۓ تو اس بات کو کون یقینی بناۓ گا کہ ان مقامات پر کھڑے سیکورٹی اہلکار رشوت لیکر بیچلرز کو ان پارکس میں داخل نہیں کروائیں گے۔
    اسکو چیک کرنے کے لئے بھی کوئ میکانزم بنانا ہوگا۔
    ان سب تدابیر کے ساتھ ساتھ ہم سب کی اجتماعی زمہ داری ہے کہ لوگوں کی زہن سازی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو اس بات کا شعور دیں کہ ہمارا مذہب ہمیں کس طرح کی زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے ؟
    اگر ہم آج بھی اسلام کے بتاۓ ہوۓ قوانین اور ضابطوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو دنیا کی کوئ طاقت ہمیں ایک باشعور اور باوقار قوم بننے سے نہیں روک سکتی،
    اسی نظام میں ہماری بقا اور کامیابیاں پنہا ہیں#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • ‏ماحولیاتی تبدیلی ہمیں تباہ کررہی ہے” تحریر:حسنین احمد

    ‏ماحولیاتی تبدیلی ہمیں تباہ کررہی ہے” تحریر:حسنین احمد

    دنیا کی سلامتی کو درپیش خطرات میں ماحولیاتی تبدیلی بڑے خطرے کے طور پر ابھر رہی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلی بڑے عرصے کیلئے زمین کے درجہ حرارت،ہواوں کے رخ،ہواوں کی رفتار میں تبدیلی کو کہتے ہیں۔سائنسدانوں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی اس کرہ ارض کا خاصہ رہی ہے اور اس کی پیدائش سے لیکر اج تک یہاں بے شمار تبدیلیاں ائی ہیں لیکن اس کی رفتار نہایت سست رہی ہے تاہم 18ویں اور 19ویں صدی میں صنعتی انقلاب انے کے بعد عالمی درجہ حرارت میں تقریبا 30فیصد تک تبدیلی ائی ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کی بڑی وجہ ہے.جون میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ دنیا کا مجموعی درجہ حرارت معمول سے 1.5 ڈگری زیادہ ہوچکا ہے اگر یہ درجہ حرارت 2 ڈگری تک بڑھ گیا تو اس کے خطرناک نتائج برامد ہونگے اور کم وبیش چالیس کروڑ افراد کو ہیٹ ویو کا سامنا کرنا پڑے گا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگر دنیا کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے نہ روکا گیا تو انے والی دہائیوں میں انسانوں سمیت دنیا پر رہنے والی مختلف مخلوقات کی زندگی پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونگے۔
    اس وقت خلا میں گرین ہاوس گیسوں کا اخراج معمول سے بہت بڑھ گیا ہے جو گلوبل وارمنگ کا باعث بن رہا ہے جو دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث ہے۔دنیا کے درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے سمندر کی سطح بلند ہورہی ہیں اور دنیا کے بہت ساحلی شہر جیسا کہ شنگھائی،ہنوئی(ویت نام)،کولکتا،بنکاک وغیرہ 2050ء تک زیر اب آنے کا خطرہ ہیں۔ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جو شدید سیلاب پہلے ایک صدی میں ایک بار اتے تھے کچھ شہروں میں ائندہ ہر سال انے لگیں گے۔اس کے علاوہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے آبی ذخائر کم ہورہے ہیں جو انے والے سالوں میں خشک سالی کا باعث بنے گے۔
    ماحولیاتی تبدیلی مستقبل قریب میں تیسری دنیا کے ممالک کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوگا کیونکہ ان کے پاس اتنے وسائل موجود نہیں ہونگے جس سے وہ یہ خطرہ ٹال سکے۔ان تیسری دنیا کے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔جرمن واچ نامی عالمی تھنک ٹینک کی جانب سےجاری کردہ عالمی ماحولیاتی اشاریے میں پاکستان کا شمار دنیا کے ان پانچ ملکوں میں کیا گیا ہے جو سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔ دنیا بھر کے موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر دس ممالک کے فہرست میں سے پاکستان پانچویں نمبر پر ہے جوکہ دو دہائیوں پہلے آٹھویں نمبر پر تھا۔پاکستان میں مسلسل جنگلات کی کٹائی جاری ہے جس کی وجہ سے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائڈ مسلسل بڑھ رہا ہے جو درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ بن رہا ہے۔2015 میں شائع ہونے والی حالیہ قومی جنگلاتی پالیسی کے مطابق پاکستان میں لکڑی کی مانگ اس کی ممکنہ پائیدار فراہمی سے 3 گنا زیادہ ہے۔ اس پالیسی میں کہا گیا کہ ملک میں سالانہ تخمینہ لگ بھگ 66 ہزار 700 ایکڑ درخت ضائع ہوجاتے ہیں۔جرمن واچ نامی عالمی تھنک ٹینک کی گلوبل کلائیمیٹ انڈیکس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 1998 سے 2017 تک آٹھویں نمبر پر تھا، وہ اب 1999 سے 2018 تک رونما ہونے والے موسمیاتی واقعات کے باعث دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر سے پانچویں نمبر پر آ گیا ہے۔
    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’اس عرصے کے دوران پاکستان میں موسمیاتی واقعات کے باعث 10 ہزار اموات ہوئیں اور ملک کو تقریباً چار ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔پورے خطے میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ملک ہے جس کی وجہ جنگلات کا رقبہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھوٹان میں کل رقبے کے 25 فیصد پر جنگلات ہیں جبکہ پاکستان میں تین سے چار فیصد پر بھی جنگلات نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان میں گنجان آبادی کے باعث بھی مسئلے پیدا ہو رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں زرخیز زمین اور پانی آدھا رہ جائے گا اور آبادی دگنی ہو جائے گی اور صورتحال بہت گمبھیر ہو جائے گی۔
    لہذا دنیا کو انے والے اس شدید خطرے سے نمٹنے کیلئے ابھی سے ہی اقدامات کرنے چاہیے مگر بدقسمتی سے اس بارے میں عالمی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر کچھ ہو بھی رہا ہے تو وہ صرف کانفرنس تک محدود ہے۔دنیا کے بڑے ممالک جیسا کہ چین،امریکہ اور انڈیا وغیرہ سب سے زیادہ ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر ان کے اقدامت قابل ستائش نہیں۔ان بڑے ممالک کے برعکس بھوٹان جیسے چھوٹے ملک نے اقدامات کرکے خود کو کاربن فری بنا دیا ہے۔ان بڑے ممالک کو یہ مسئلہ سنجیدگی سے لے کر سنجیدہ اور عملی اقدامات کرنے چاہیے۔ایک تو دنیا کو گاڑیوں سے پیدا ہونے والی الودگی کو کم کرنے کیلئے الیکٹرانک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،ایسے فورمز بنانے چاہیے جس میں تمام عالمی لیڈران اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرسکیں،امیر ممالک غریب ممالک کو اس خطرے سے نمٹنے کیلئے مالی امداد دے،زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائے تاکہ ماحولیاتی الودگی کو کم کیا جاسکے۔اس کے علاوہ ہر ملک کو انفرادی اقدامات کرنے چاہیے۔
    پاکستان اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کافی اقدامات کررہا یے جوکہ قابل ستائش ہے جس میں 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ سرفہرست ہے۔ مگر اس کے علاوہ درختوں کے تحفظ کیلئے بھی اقدامت کرنے چاہیے،تمام شہریوں میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اگاہی پھیلانی چاہیے اور ٹمبر مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہیے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات تیز کرنے چاہیے۔حکومت کے ساتھ ساتھ ہم یعنی شہریوں کی بھی ذمی داریاں ہے۔ہمیں نئے درخت لگانے چاہیے،درختوں کی کٹائی سے گریز کرنا چاہیے اور پرانے درختوں کا خیال رکھنا چاہیے۔اسی طرح ہم سب باہمی اتفاق سے ہی اس خطرے سے چھٹکارا پاسکتے اور اپنی خوبصورت دنیا کو بچا سکتے ہیں۔