Baaghi TV

Category: بلاگ

  • معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد  تحریر : محمد نوید

    معذور افراد باہمت اور باصلاحیت افراد تحریر : محمد نوید

    اقوام متحدہ کے قانون کے تحت معذور افراد جنہیں خصوصی افراد یا اسپیشل پرسن بھی کہا جاتا ہے ایسے افراد کو کہتے ہیں جو کسی ایسی جسمانی یا دماغی بیماری میں مبتلا ہوں جو انسان کے روزانہ کے معمولات زندگی سرانجام دینے کی اہلیت و صلاحیت پرگہرے اور طویل اثرات مرتب کرے یا وہ بیماری اس فرد کے کام کرنے کی اہلیت یا صلاحیت کو ختم کرے۔ معذوری ذہنی بھی ہو سکتی ہے جسمانی بھی، پیدائشی بھی ہو سکتی ہے اور حادثاتی بھی
    معذور افراد کے لیے نوکریوں میں 3 فیصد کوٹہ متعین ہے جبکہ اس کو بڑھا کر 5 فیصد کرنا چاہیے
    اب آتے ہیں انکے مسائل کی طرف ایک جگہ سے دوسرے مقام تک سفر میں اُن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ وہ روڈ انفراسٹرکچر حائل ہوتا ہے۔سڑک پار کرنا ایک امتحان ہوتا ہے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ معذور افراد کی رسائی کے لیے سرکاری اداروں اور بلڈنگ اور پرائیویٹ سیکٹرز کو باور کروایں کہ معذور افراد کو ایکسیسبلٹی مہیا کی جاۓ ریمپ بنا کر دیے جائیں
    حکومت ماہانہ وظیفہ مقرر کرے
    مفت وہیل چیئرز فراہم کی جاۓ تاکہ وہ آنے جانے کیلئے کسی کے محتاج نہ ہو مفت علاج کی سہولیات مہیا کی جائیں اور گاہے بگاہے سیمینارز منعقد کئے جائیں جہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے

    @naveedofficial_

  • پاکستان اور دیسی لبرلز   تحریر: فیصل فرحان

    پاکستان اور دیسی لبرلز تحریر: فیصل فرحان

    اصطلاح میں لبرل اسے کہتے ہے جو مخالف کی بات کو تحمل سے سنے اور مخالف کی رائے کی قدر کریں المختصر یہ کہ صرف خود کو ہی عقل کل نہ سمجھے بلکہ دوسرے کی رائے کو بھی مانیں لیکن جناب ہمارے پاکستانی لبرلز تو سب سے انوکھے اور نرالے ہے کیونکہ ان لوگوں کو لفظ لبرلاازم کے مطلب کا ہی نہیں پتہ ان لوگوں کے نزدیک لبرل وہ ہوتا ہے جو اسلام اور پاکستان کی ہر چیز کی مخالفت کرے۔ یہ صرف میں کہہ نہیں رہا بلکہ ثبوت موجود ہے، یقین نہیں تو پاکستانی لبرلز کے سوشل میڈیا اکونٹس اٹھا کر دیکھ لیں آپ ان پر صرف پاکستان اور اسلام مخالف ہی مواد دیکھے گے۔

    چند دن قبل ایک پاکستانی دیسی لبرل نے ٹویٹ کیا کہ قربانی پر جانور ذبح کرنے کی بجائے واٹر کولر لگوا دیں تاکہ غریب لوگ ٹھنڈا پانی پی سکے۔ اور وہ جناب ٹویٹ بھی آئی فون سے کر رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ بندہ تھوڑا سستا موبائل بھی تو چلا سکتا ہے؟ پھر آئی فوج جیسا مہنگا فون کیو خریدا؟؟ تب کیو غریب یاد نہ آیا؟ یہی لوگ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہے لیکن تب بھی ان لوگوں کو غریب یاد نہیں رہتا، بس یہ غریب سے ہمدردی صرف اسلامی تہوار کے وقت ہی ہوتی ہے؟؟

    ایک اور دیسی لبرل کی روداد سنیے۔ کل ایک نجی ٹی وی کی مشہور صحافی نے ٹویٹ داغا کہ جانوروں کو جینے دیا جائے اور عید جانور کی قربانی کے بغیر کی جائے۔ مطلب یہ محترمہ اللہ اور نبیؐ سے بھی زیادہ ہمدردی رکھتی ہے جانوروں سے؟ جبکہ اسی عورت کی ٹائم لائن دیکھے تو پورانے ٹویٹس میں محترمہ کبھی بیف کھانے کی پوسٹ کر رہی ہے تو کبھی نہاری۔ پوچھنا بس یہ ہے کہ کیا بیف اور نہاری زمین سے اگتی ہے؟ اور جناب یہی محترمہ اپنی ملازمہ پر تشدد میں ملوث تھی، جی ہاں اس نے ایک کمسن ملازمہ پر بدترین تشدد کیا تھا یہ خبر میڈیا کی زینت بھی بنی رہی تو یہاں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا انسان کی قدر جانور سے کم ہے؟ کیونکہ یہ عورت جانور کی حرمت کی بات تو کرتی ہے جبکہ خود انسان پر تشدد کرتی ہے۔ جی ہاں اسے منافقت اور دین بیزاری کہتے ہے۔

    اب آتے ہے دوسرے رخ کی طرف۔ پوری دنیا میں سب سے سے زیادہ جانوروں کا گوشت امریکہ میں کھایا جاتا ہے جو کہ کل دنیا کا 20 فیصد بنتا ہے اسی طرح ٹاپ بیس ملکوں میں ایک بھی اسلامی ملک نہیں تب ان سستے لبرلز کو ہمدردی اور جانوروں کی زندگی یاد کیو نہیں آتی؟ آپکو پتہ ہے کہ ایک دن میں مکڈونلڈ 67 ہزار جانروں کو ذبح کر کے اپنے ریسٹورینٹس میں سپلائی کرتا ہے لیکن تب یہ لوگ نہیں بولتے کیونکہ یہ گوشت ان امیروں کے پیٹ میں جو جاتا ہے لیکن جب اسلام اللہ کی رضا کیلیے جانور ذبح کر کے غریبوں میں بانٹنے کا حکم دیتا ہے تو سارے لبرلز کے ہاں ماتم بچھ جاتا ہے کسی کو غریب کا جہیز یاد آجاتا ہے تو کسی کو جانوری کی زندگی کی اہمیت۔

    المختصر ان لوگوں کو نہ تو غریب سے ہمدردی ہے اور نہ جانوروں کی ودر ان لوگوں کو بس تکلیف اسلام اور پاکستان سے ہے اور دوسری بڑی وجہ بیرونی این جی اوز سے پیسہ بٹورنا بھی ہے۔ بیچارے کیا کریں اسلام اور پاکستان پر تنقید کر کے ہی تو چند ڈالرز کماتے ہے اور اپنا پیٹ پالتے ہے لیکن یاد رکھوں یہ ڈالرز صرف چند دن کیلیے ہے بہت جلد ہم سب نے مرجانا ہے پھر یہ دولت کام نہیں آئے گی پھر درد ناک عذاب ہوگا بس۔ اسلیے چند ڈالرز کی خاطر اپنی آخرت تباہ مت کیجیے۔

    اسلام زندہ آباد، پاکستان زندہ آباد
    @Farhan_Speaks_

  • جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم    تحریر. عامر خان

    جماعت اسلامی پاکستان حصہ دوم تحریر. عامر خان

    آئیے بحث کو آگے بڑھاتے ہیں! حافظ صاحب کا کہنا یہ بهی تها کہ سراج الحق صاحب سے جب سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہاتھ ملا رہے ہیں تب اناڑی یعنی کپتان ان سے موجود بہتر تعلقات خراب کر رہا ہے کوئی جائے اور ان کو سمجهائے کہ یہی تو وہ پوائنٹ جس پر تحریک انصاف ہی نہیں پاکستانی عوام بهی حیران ہے بندگان خدا وہی لوگ جو عوام کو مسلسل لوٹ رہے ہیں یہی اگر منجهے ہوئے سیاستدان ہیں اور یہی اسلوب سیاست ہے پهر بهلا جماعت یا تحریک انصاف یا تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟منجھے ہوئے کھلاڑی جو موجود ہیں
    یا للعجب کیسی سوچ ہے اور کیسی مرعوبیت ہے خدا جانے جماعت کے پیٹ میں ن لیگی محبت کا مروڑ کیوں اٹھتا رہتا ہے؟مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے لاہوری ” دهڑے "”کے دل میں لیگ کےلئے اتنی ہمدردی ضرور ہے کہ انہوں نے 2013 کے الیکشن میں اپنے امیر محترم کو ہی فٹ بال بنا ڈالا تها جب خیبر کےپی والے تحریک انصاف اور لاہور والے ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر زور دے رہے تهے آخر آخر جماعت ادھر کی رہی نہ ہی ادھر کی.جماعت کے ارکان+کارکنان برا نہ مانیں تو چند گزارشات پہ غور فرمائیں اولا یہ کہ جماعت کی اساس سیاسی ہے ہی نہیں دارالسلام میں جب اس کی تشکیل ہوئی تو یہ خالصتا ایک اصلاحی، فکری، علمی، جماعت تهی جس کا مقصد محض اسلام کی جدید فکر احیاء اسلام سماج کی اسلامی تشکیل تها نتیجتا البتہ یہ ممکن ہو پاتا کہ ایک سیاسی انقلاب آتا یا سیاسی سسٹم میں بہتر لوگ آ پاتے بعد ازاں جماعت سیاست میں اتری تو بهلا اپنی اساس کے خلاف کیونکر کامیاب ہو پاتی ماضی میں جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر تهی تو اسے محدود سا حصہ اقتدار یا اسمبلی میں دے دیا جاتا جسے جماعت والے اپنی کامیابی سمجھتے مثلا ضیاء صاحب کا دور مثلا ایم ایم اے کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ مشرف کو ایوان سے ایل ایف او جیسے کالے قانون کی منظوری جماعت اور اس کے اتحادیوں کے طفیل ملی! اخبارات نے تب خبر لگائی تهی ملا حلوے کی چند پلیٹوں پہ مان گئے! لال مسجد آپریشن کے ہنگام یہ لوگ زبانی بیان بازی تک محدود رہے بلکہ اسمبلیوں میں براجمان بهی حافظ صاحب نے کپتان پہ جی ایچ کیو کی پهبتی کسی ہنسی کے مارے میرا برا حال ہو گیا کہ کیسے وہ جماعت کے قبلہ اول پہ تنقید فرمارہے ہیں جب تلک جماعت کا امیر کسی بڑے جلسہ ء عام میں اس سابقہ روایت پہ معافی نہ مانگیں گے قوم ان کے رجوع کو تسلیم نہ کرے گی ثانیا جماعت کو امیر جماعت کو ویٹو پاور دینا ہو گی مجلس شوری ، مجلس شوری ہی رہے مجلس تحکیم نہ بنے انہیں امیر کو آزادی دینا ہو گی ثالثا جماعت کی تشکیل سیاسی بنیادوں پہ کی جائے اصلاحی تحریک کو انکی ذمہ داری دے کر الگ کر دیا جائے اور وہ فقط اصلاح سماج کا کام کرے جمعیت طلباء پہ انحصار کی بجائے لیڈر شپ پیدا کی جائے کامیابی اپنی خوبیوں کے طفیل ملتی ہے ناکہ مخالف کی خرابیوں کے طفیل! بیس ہزار سے کچھ زائد کارکنان کے ساتھ کیا بیس کروڑ کے معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرنا ممکن ہوگا؟؟؟ یہ سیاست ہے مہربان سیاست جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے پاس ترازو کے دو باٹ ہرگز نہیں محترم جس ترازو میں تحریک انصاف کو ن لیگ یا دیگر کو ہم تولیں گے جماعت کو بهی اسی میں اپنی حکومتی حلیف جماعت کو چهوڑ کر آپ اپوزیشن اتحاد میں کھڑے ہوں گےتو نہ صرف کپتان بلکہ ہر صاحب انصاف آپ پہ انگلی اٹھائے گا جو کہ جائز ہو گی کمال کرتے ہیں آپ دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت! کپتان پہ ان کے اخلاقی اعترضات کا جواب مناسب عمل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پروردگار اور اس کے بندے کا معاملہ ہے شریعت لوگوں کی نجی زندگی میں جهانکنے کی اجازت نہیں دیتی جماعت کا کردار بلدیاتی انتخابات میں ایک حلیف جماعت کے طور پہ مناسب ہرگز نہیں تها بلکہ بےوفائی کی گرد سے اٹا ہوا تها جماعت کو سوچنا ہو گا ورنہ وہ آسمان دیکهتی رہ جائے گی

    @Aamir_k2

  • علم  تحریر : عائشہ رسول

    علم تحریر : عائشہ رسول


    علم زندگی کا بہترین زاویہ ہے. جس سے انسان بنتا ہے اور انسانیت کی طرف سفر شروع کرتا ہے. علم ہو اور انسان تبدیل نہ ہو تو یہ علم نہیں علم کے ساتھ ظلم ہے.
    علم کی روشنی سے زہن اور فکر منور ہوتی ہے. جو علم زہن کو تاریک کرے وہ علم نہیں… وہ کسی کا یاد کروایا ہوا سبق ہوتا ہے.. . علم انسانی احساسات کو زندگی بخشتا اور شعور کی آبیاری کرتا ہے.جو علم انسان کو اندھے راستوں پہ لے جائے وہ خدا کا عطا کردہ علم نہیں. جو رزق حلال کھاتے ہیں وہ جانتے ہیں علم کیا ہے, عالم کیسا ہوتا ہے اور عالمیت کیا ہے جو خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں وہ ان نعمتوں سے واقف ہیں.
    وہ علم سب سے بڑی نعمت ہے جس سے انسانیت کی تعمیرِنو ہوتی ہے.
    علم انسان کو زھنی بلندیوں تک لے جاتاہے مگر سن لو… وہ علم”علم” نھیں’جو زھنی پستیوں سے نکلنے نہ دے, جو خیالوں سے باندھ دے, جو بے غرض سوچ میں جکڑ دے… بلکہ علم تو وہ ہے…. جو فکرکو ھر لمحہ ایک نئی حیات بخش دے, جو روح کو سیراب کردے, جو زہن کو ضیابخش دے.
    علم اس وقت تک باقی رہے گا جب تک علم والے اور علم کے مطابق عمل کرنے والے زندہ ہیں
    سب سے بڑا علم یہی ہے کہ موت یقینی ہے اور ایک دن ہمارے اعمال کا حساب ہوگا اور نامہ اعمال ہمارے
    ہاتھوں میں تھما دیے جائیں گے اور وہ "یوم حساب”ہوگا
    اور جو لوگ ہر یوم کو "یوم حساب” سمجھ کر گزارتے ہیں میں انکے علم کی قدر کرتی ہوں

    آؤ سب مل کراس علم سے دوستی, آشنائی اور شناسائی کر لیں
    ہماری دین, دنیا اور آخرت سب کے لیے یہ کامیاب ترین نسخہ ہے اور یہ وہ علم ہے جس علم سے نجات ہو گی
    اللہ ہمیں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی توفیق عطا کرے… آمین…
    "وما علینا الا البلاغ المبین ”

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    ہماری غربت کی بنیادی وجہ تحریر: حمزہ بن شکیل

    بل گیٹس نے ٹھیک ہی تو کہا ہے کہ اگر ہم غریب گھرانے میں پیدا ھوتے ہیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں لیکن اگر ہم غریب مرتے ہیں تو اس میں سو فیصد ہمارا قصور ہے۔

    کامیابی حاصل کرنے کے لئے قابل ہونا بنیادی شرط ہے لیکن المیہ یہ بے کہ آج کے دور کے بیشتر طالب علم خاص طور پر لڑکے تو پڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ محنت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کی زندگی میں نظم وضبط نام کی کوئی چیز نہیں۔انھیں کھیل کود، موبائل ، کمپیوٹر اور ٹک ٹاک ہی سے فرصت نہیں۔

    وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طریقے سے زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کیے جائیں۔وہ کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہیں۔
    لیکن وہ نہیں جانتے کہ ان کی آئندہ کی زندگی کس قدر سخت بے۔ چھوٹی موٹی نوکری کے عوض جو تنخواہ ملتی ہے اس سے تو بجلی وگیس کے بل اور مکان کے کراۓ بھی ادا نہیں ہو پاتے۔

    آج کے طالب علموں کے رپورٹ کارڈ تو نمبروں سے بھرے ھوتے ہیں لیکن ان میں قابلیت نام کی کوئی چیز نہیں ھوتی۔ ایسے نوجوان گریجویشن اور ماسٹر کرنے کے بعد سرٹیفیکیٹس کی فائل ہاتھوں میں تھامے، ملازمت کی تلاش میں مختلف دفاتر کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

    سفارش کے بعد انھیں کوئی معمولی سی ملازمت تو حاصل ھو جاتی ہے لیکن معمولی تنخواہ کی وجہ سے وہ پوری عمر غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں اور اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اور یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ھو جاتی ھے۔ معیار زندگی بہتر بنانے اور مہنگائی کو شکست دینے کے لیے ایسی تعلیم کا حصول ضروری ہے جس سے طالب علموں کی قابلیت میں اضافہ ہو۔ جس کی بدولت وہ باآسانی اچھی ملازمت حاصل کر سکتے ہیں۔ طالب علموں کی آج کی محنت سے بھر پور سخت زندگی ان کی آئندہ کی زندگی کو آرام دہ اور پرآسائش بنا سکتی ہے۔

    اپنے بچوں کو کامیاب بنانے اور غربت کے چنگل سے نکالنے کے لیے انھیں ایسے تعلیمی اداروں میں داخل کروائیے جہاں نظم وضبط ھو اور جہاں نمبروں کی نہیں قابلیت کی اہمیت ھو۔

    ہم ہیں غربت میں گزارے ہوئے ایّام جنہیں
    لوگ جب تخت پر آتے ہیں تو بھلا دیتے ہیں


  • قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ اور محکمہ سیاحت کی عدم دلچسپی . تحریر : جام محمد ماجد

    قلعہ دراوڑ بہاول پور سے 48 کلو میٹر دور پاکستان کے قدیم اور بڑے قلعوں میں سے ایک ہے۔ اس قلعہ کی بدقسمتی کہیں کے جب بھی آثار قدیمہ اور لوک ورثہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو موھنجودوڑواور ھڑپہ کی تعمیرات کے علاوہ لوگوں کے ذہن میں قلع روہتاس کی بات ہوتی لیکن بھولے بسرے ہی کسی کو قلعہ دراوڑ کی یاد آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کے محکمہ سیاحت اور آثار قدیمہ والوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سابقہ ریاست بہاول پور کا عظیم الشان قلعہ جو کے سرائیکی علاقوں کی پہچان ہے رفتہ رفتہ بد حالی کا شکار ہو کے لوگوں کی یادوں سے محو ہوتا جا رہا ہے۔

    جب کہ قلعہ دراوڑ ایک بہت ہی اہمیت کا حامل سیاحتی مقام ہے جسے حکومت پنجاب اور اس کے متعلقہ محکموں کی دلچسپی سے بہت ہی اعلی سیاحتی مقام بنا کے بہاول پور جنوبی پنجاب اور پاکستان کی خوبصورتی کو دنیا میں دیکھا کے قیمتی زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
    بہاول پور کے نوابوں اور ان کے خاندان کی قبریں اس قلعہ میں واقع ہیں اور ایک عرصے تک بہاول پور کا نواب خاندان اس قلعہ میں رہائش پذیر رہا۔

    قلعہ دراوڑ جس لاپرواہی اور عدم دلچسپی کا شکار ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کے اس قلعہ میں سیاحوں کے لئے نہ تو کوئی پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی قلعہ کی خبر گیری رکھنے والا ہے نہ ہی کوئی محافظ۔
    نواب مبارک خان اور نواب صادق کے دور تک قلعہ کی صفائی اور دیکھ بھال ہوتی رہی لیکن ان کے بعد آنے والوں نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور یہ عالیشان اور عظیم قلعہ لاپرواہی کا شکار ہو کر اپنی اہمیت کھو دیا۔
    اگر ماضی کے اس شاندار اور تاریخی قلعہ کے تحفظ اور مرمت کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے جلد ہی یہ عظیم قلعہ کھنڈر میں تبدیل ہو جائے گا۔

    اب جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور پنجاب حکومت بہت سے تاریخی مقامات کی بحالی میں دلچسپی لے رہی ہے تو جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کے لوگ حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت سے یہ امید کرتے ہیں کے اس عظیم اور تاریخی قلعہ دراوڑ کی بحالی اور خوبصورتی کے لئے ہر ممکن ضروری اقدامات اٹھائیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو ریاست بہاول پور کی پاکستان کے لئے خدمات اور قلعہ دراوڑ کی تاریخ کا علم ہو۔

    پاکستان ہمیشہ پائندہ باد.
    کالم نگار سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں.

    @Majidjampti

  • ہماری ڈرامہ انڈسٹری کا دن بہ دن گرتا معیار.تحریر: امان الرحمٰن

    کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کواگر زوال پزیر کرنا ہوسب سے پہلے اُس کی تہذیب اُس کا کلچر اُس قوم سے چھین لو پھر وہ قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر پائے گی، مگر ہمارا معاملہ ذرا کچھ اور ہی ہے یہاں ہم صرف ایک قوم نہیں ہم ایک اسلامی نظریہ پر وجود میں آنے والے اسلامی ریاست میں رہنے والے مسلمان ہیں اور ہمارا رہن سہن اور کلچر اسلامی اصولوں پر قائم ہے ۔۔۔۔ میرا مطلب تھا ،معزرت میں نے یہاں تھا کا لفظ استعمال کر لیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کے ہم اپنے اصل سے ہٹ گئے ہیں کیوں کے ہم ناچاہتے ہُوئے بھی اپنی اصل روایات اور اپنی تہذیب خُود ہی چھوڑتے چلے جا رہے ہیں وہ بھی غیر ارادی طور پر ، اِس جدید دور میں جنگیں اب جنگ کے میدان میں نہیں لڑی جاتیں ۔۔۔ اب آپ حیران ہوں گے کہ اِس تحریر کا عنوان تو ڈرامہ انڈسٹری تھا ، خیر یہ بات ہم کسی صُورت اور کبھی بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں گے کے ہم یہ کیسی جنگ میں ہیں ہر دوسرے تیسرے دن بات گُھوم پھر کر یہی کی جاتی ہے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں کیوں کے ہم ذہنی طور پر مفلوج ہو گئے ہیں ہمیں عام زندگی میں طرح طرح کہ معاملات میں اُلجھایا گیا ہے دُشمن تب ہی جان گیا تھا جب یہ دنیا کا واحد ملک جو نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اُس وقت اِس زندہ قوم نے کیسی کیسی قُربانیاں دیں تھیں اور یہ قوم کیا کر سکتی ہے تو لہٰذا مان لیں کے 1948 کی جنگ جب اِس ملک کو بنے ابھی ایک سال بھی نہ ہوا تھا تو کیسے ایک ایسی ریاست کوتسلیم کرلیا جاتا جو اسلامی نظریئے کے ساتھ بنی اور تب اِس قوم کو تقسیم کرنے کا عمل شُروع ہو گیا تھا پھر ٹی وی عام کیا گیا ساتھ ساتھ اِس قوم کو دنیا کی تفریحات کی دوڑ میں لگا دیا، پھر ڈرامہ آگیا جب یہی پاکستانی قوم بمشکل عشاء کی نماز پڑھا کرتی تھی کہ نیند کا غلبا ہوتا تھاوہ 6بجے اور پھر 7 بجے والا ڈرامہ 8 بجے دیکھے بنا سوتی نہیں تھی اُس کے بعد خبر نامہ بھی دیکھنا ضروری تھا اور دنیا ،کی پاکستانی حالات سے بھی بے خبر نہیں رہا جاتا تھا ہم سے پھر ہماری نیند ہم سے آہستہ آہستہ رُوٹھتی چلی گئی ۔۔۔۔ ارے ہاں پھر ہفتے میں ایک اُردو فیچر فلم دیکھنے کو بھی ہمیں ٹی وی پر ہی سہُولت دی گئی اور ہم بہت خُوش ہوے کے ارے واہ ۔۔۔۔کمال ہو گیا اب تو سینما بھی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور وہ قوم جو جب گھر کے مرد جب ٹی وی پر کچھ دیکھتے تو عورتیں ساتھ نہیں بیٹھا کرتی تھیں یا پروگرام کی مناسبت سے شریک ہوا کرتی تھیں پھر پروگرام کا طریقہ بدلنے لگا ہنسی مزاق سے بات چھیڑ چھاڑ تک پہنچی پھر ایک آدھا گانا ساتھ دل میں دھک دھک کرنے لگا پھر شیطان نے بھی دل میں آنے جانے کی وجہ بنا لی اور پھریہ جھجک بھی رفع دفع ہو گئی اور بے حیائی کا یہ چھُپا وار پہلے مزے دینے لگا اور بعد میں جان کا عذاب بن گیا اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں ۔۔۔!!’

    نوٹ: اب آجائیں ہم پر تہذیبی یلغار کی شُروعات کیسے ہوئیں اور ہمیں معلوم ہونے کے باوجود ہم وہی کرتے بھی رہے جو ہمیں نہیں کرنا تھا کیوں کے یہ زہر تھا اور دُشمن یہ زہر ہمارے حلق میں آہستہ آہستہ اُتارتا جا رہا تھا ۔۔۔
    اچھا جی۔۔۔ پھر یہ کھیل تو چل ہی رہا ہوتا ہے ساتھ ساتھ سیاسی محاذگرم ہوتا ہے اور ریڈیو اور ٹی وی پر اِنہی سیاسی قومی لسانی خبروں کا تڑکا بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے دُوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی کی نیوزکاسٹر سر پر دوپٹہ لئے خبریں دیا کرتی تھی اُس کا دوپٹہ سرکنا شُروع ہُوا ساتھ اِس ریاست جس کی قومی زبان "اُردو” تھی یہاں انگلش چینل بھی آگیا چلیں اچھی بات ہے عالمی دنیا میں ہم اپنا پیغام اچھی طرح پہنچائیں گے۔۔۔ جی چلیں ٹھیک ہے ۔پھر پرائیویٹ چینلز آئے اور مُقابلہ شُروع ہو گیا کے ہماری نیوز کاسٹر زیادہ ماڈرن ہے اُس نے دوپٹہ سر کے ماتھے تک آتا دوپٹہ سر کی بیک سائڈ پر پِن سے اٹکانا شُروع کیا تو دُوسرے پرائیویٹ چینل نے دوپٹہ سر سے اُتار کر گلے کا پٹہ بنادیا ۔۔۔ میرا مطلب گردن میں دوپٹہ ڈال لیا ۔۔۔ٹھیک ہو گیا اب آجائیں ایڈوانس ڈرامہ کی طرف جو کیبل نیٹ ورک کہ ذریئے سے دھڑا دھڑ ٹی وی چینلز کے لائسنس حاصل کرتے گئے اور انٹرٹینمنٹ کا نعرہ لگاتے کُود پڑے اِس قوم کو ماڈرن قوم بنانے کے لئے اور قوم بیچاری کیا کرتی اُسے نہ اسکولوں میں اپنی بنیاد بتائی گئی نہ ہی کلچر بتایا نہ ٹھیک سے دین سکھایا وہ حربے بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے مگر وہ ہمارے مختلف اِداروں کے ذمہ تھے اور اُن اُن اِداروں کے ساتھ بھی تو یہی الیکٹرونک میڈیا جُوڑا تھا ناں۔۔۔۔ سمجھیں بات کو کہ جس جس اِدارے کا افسر اپنی ڈیوٹی کر کے جب گھر آتا اور دن بھر کی تھکن مٹانے اپنی دن بھر کی توں توں میں میں کو ریلیکس کرنے کے لئے تفریح اُسے بھی تو چاہئے تھی ناں۔۔۔ وہ بیچارہ بھی تو یہ زہر پیتا ناں تو کیا کرتا کم بخت عادت جو پڑ گئی تھی ۔۔۔۔ وہی بچپن میں عشاء کے وقت سوتا تھا پھر جاگنے لگا اپنا آرام چھوڑا تھا تو طبیعت تو اِس افسر کی بھی بدلنا تھی ناں۔۔۔ زہر جو اندر باہر سے اثر کر رہا تھا ۔۔۔

    اچھا تو کہاں تھے ہم۔۔۔ جی ہم تھے پرائیویٹ چینلز کے لائسنس ، تو جی اب ساتھ آگیا نیا مقابلہ اور مقابلہ اپنوں کے ساتھ ساتھ پڑوسیوں سے بھی کیا جانے لگا اور پھر جب مقابلہ ہو ساتھ پیسہ ہو ساتھ ایکسٹرا فنڈنگ ہو تو کس سرمایہ دار کی "رال” نہ ٹپکتی بھئی۔۔۔ پھر تو جو ہُوا اللہ کی پناہ کے ڈرامہ ایسا کے اِس قوم کو نہ اپنے مذہب کا ہوش رہا نہ تہذیب کا اور نہ ہی کلچر کا ہر کوئی کسی نہ کسی ڈرامے کا کردار خُود کو سمجھنے لگا کیوں کہ وہ بھی اپنی زندگی میں ایسا ہوتا دیکھتا تھا کیونکہ ہر کسی کو "اُسی” ہلکے زہر نے اپنے پورے کنٹرول میں لینا جاری رکھا ہُوا تھا اور ہر کوئی اپنی تلاش میں ڈرامے دیکھ رہا تھا پھر ڈرامہ فلم کو پیچھے چھوڑ گیا اور وہی ہمارا پڑوسی جس سے ہم مقابلہ کرنے چلے تھے وہ ہم سے شرمانے لگا اور وہ ڈرامہ چھوڑ کر اپنی فلم کی طرف ہی چل دیا مگر ہم کہاں رکنے والے تھے ہم نے این جی اوز اور دنیا کے ایسے اُن اداروں کا سہارا لیا جو سپورٹر تھے اور جو وہی "زہر” یہاں سپلائی کرنے والے تھے وہ ایک بار پھر سے سپلائیر اور ہمدرد ایک ساتھ بن گئے اور ہم اپنا نظریہ کھو بیٹھے ۔۔۔۔ مگر ابھی بھی کچھ لوگ ہیں کچھ اِدارے ہیں کچھ افسران ہیں جو اپنے اُن لوگوں کو نہیں بھولتے جو اِس ریاست کی بنیادوں میں اپنا لہو ڈال کر مضبوط بنا گئے ہیں کے لاکھ دشمنوں کی کوشش کے اِس ملک کی بنیادیں کوئی نہیں ہلا سکتا کیوں کے یہ ملک "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ” کے نعرے سے وجود میں آیا ہے اِس ملک پاکستان کو ہم نے اُنہی شہداء کی نسلوں نے سنبھالنا ہے مگر کیسے کیا ہم اپنی شناخت بھول کر گنوا کر کبھی منزل کو حاصل کر پائیں گے۔۔؟ ہرگزنہیں، دیکھیں چائینہ کو جو ہمارے بعد آزاد ہُوا اُس قوم نے اپنی روایات اپنی زبان اپنا کلچر نہیں چھوڑا اور آج وہ دنیا کا سُپر پاور بن گیا ہے صرف علان کرنا باقی ہے اور وجہ ہے اُس کی اپنی اصل بنیاد چینی قوم اپنی اوقات نہیں بُھولی اور ترقی کی منزلیں عبورکرتی چلی جا رہی ہے۔
    دیکھیں جاپان کو جو ایک خوفناک جنگ کے بعد دو ایٹم بم کھانے کے بعد بھی ایک قوم بن کر اپنے پیروں پر کھڑا ہے ، کیوں۔۔؟ کیونکہ جاپانی بچے ایک بار دیکھے گئے کارٹون دوبارہ لگ جائیں تو اُس چینل پر کیس کر دیتے ہیں اور ہمارے یہاں 8 بجے والا ڈرامہ رات 2 بجے نشرِمقرر لگتا ہے پھر وہی ڈرامہ اگلے دن دوپہر کو لگتا ہے ارے کتنا فضول وقت ہے ہماری اِس قوم کے پاس ۔۔۔؟ کچھ اندازہ بھی ہے ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔؟
    آخر میں ایک بات کہانا چاہتا ہوں اگر آج پاکستانی قوم اپنانظریہ زندہ کردیں جو 1947 میں تھا جس کی بناء پر یہ ریاست اِس زمین پر وجود میں آئی یقین کیجئے اللہ ہماری رہنمائی فرمائے گا ہمارے ہر معاملے کا حل نکل آئے گا اِن شاء اللہ۔
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khiza

  • غربت کیا ہے؟؟ نصیب یا عادت . تحریر : احمد فراض

    غربت کیا ہے؟؟ نصیب یا عادت . تحریر : احمد فراض

    90 فیصد لوگ اپنے انتخاب اور اپنی عادات کی وجہ سے غریب ہوتے ہیں، اب آپ کہیں گے کہ کون ہے جو اپنی مرضی سے غریب ہونے کا انتخاب کرے گا
    تو جناب فرض کریں آپ کے سامنے پانی کا جگ بھرا پڑا ہو اور آپ بجائے آگے بڑھ کر پانی گلاس میں ڈال کر اپنی پیاس بجانے کے یہ راگ الاپتے رہیں کہ میں پیاسا ہوں میں پیاسا ہو تو یہ پیاسا رہنا آپ کا انتخاب ہی ہوا ناں اسی طرح ہمارے یہاں بالخصوص مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس خاندانوں میں پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں یہ وہ پہلا انتخاب ہوتا ہے جب آپ اپنے لئے غربت چنتے ہیں پھر ایسے افراد کوئی ایسا کام اور ہنر نہیں سیکھتے جس سے زیادہ آمدن ہو یا معیار زندگی بہتر ہو اور مجبورا کوئی ہنر سیکھتے بھی ہیں تو وہ جس میں آمدن کم ہو مثلاً ڈرائیور، مکینک، مستری یا کوئی چھوٹی موٹی دکان… یہاں بھی انتخاب کیا جا رہا ہے کہ ہم نے اس معیار کی زندگی گزارنی ہے
    پھر کام چوری کر کے، دھیان نا دیکر، پورا وقت نا دیکر ہم اس انتخاب ہر مہر لگا دیتے ہیں کہ بھئی ہم نے تو غریب ہی رہنا ہے
    یوں ہم خود غریب رہنے کا انتخاب کرتے ہیں لیکن ملبہ ہم ڈال دیں گے نصیب پر اور ساری عمر مقدروں کو کوستے رہیں گے جب تک ہم کام کرنے کی اور محنت کرنے کی عادت نہیں ڈالیں گے ہم غربت سے نکل ہی نہیں سکتے چاہے کوئی آپکو سونے کی کان پر بٹھا دے آپ اسکا بھی بیڑہ غرق کر دیں گے.

    ‏خدا اس قوم کی تقدیر نہیں بدلتا جو اپنی تقدیر خود نہ بدلے…
    تو بجائے غربت کا رونا رونے کے اپنی عادت بدلیں محنت کرنے کی عادت ڈالیں کام کرنے کی عادت ڈالیں اگر کوئی کام نہیں چل رہا تو کچھ دوسرا کام سیکھیں اور اپنی تقدیر خود لکھیں پر پہلے صرف عادت بدلیں.

    @AhmdTeam

  • جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌:  ایم ایم صدیقی صاحب

    جب چشمِ فلک اشکبار ہوئی . تحریر ‌: ایم ایم صدیقی صاحب

    ہ فاراں کی نورانی چوٹی پر کھڑے ہوئے ، قل ھواللہ احد کا سب سے پہلا باطل شکن نقارہ ، بجا کر نوع انسانی خواب کفر و ضلالت سے بیدار کیا ، اور سلسلۂ دعوت و تبلیغ میں مہر و الفت محبت ولطافت، کی گل افشانیاں کرتے ھوئے ، صرف 23 سالہ عرصۂ مختصر میں باطل خداؤں کے چراغوں کو بجھا کر توحید کا جہاں تاب دیا جلا یا، سابقہ ملل و شرائع کو منسوخ کر کے ،،،، الیوم اکملت لکم دینکم ———- کا سرمدی دستور حیات پیش کیا ،،، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کے ہاتھوں قصرِ دین کی تکمیل ہو چکی، اور بالآخر، —— کل نفسٍ ذائقۃ الموت——— کے سرمدی اصول کےطابق ؛ محبوب یزداں ، فخرِ رسولاں ، پیغمبرِ آخر الزماں ، ملک الموت کے ذریعہ دارِ فانی سے عالم جاودانی کا سفر طے فرماکر واصلِ بحق ہوئے،،،

    تو اس وقت کے تصور سے روح کانپ جاتی ھے رگ و پے کی حرکت سلب ہوجاتی ھے، پلکوں پر آنسوں کے موتی بکھر جاتے ھیں ، عقل و خرد کے لطیف محل پر اداسیوں کے گھنے بادل سایہ فگن ہوجاتے ھیں ، غم فراق کے فرشِ حزیں پر تصورات کے تلوے زخمی ہونے لگتے ھیں ،، آرزووں کے شاداب پودوں کو سمومِ فراق کی تیزابیاں جھلسا دیتی ہیں ، ذہنی عشرت کدے کی بنیادیں متزلزل ہونے لگتی ہیں ،،،، زبانِ کائنات واحسرتا واحسرتا کا ورد کرنے لگتی ھے ،
    الحاصل،،، مرگ رسول کی منظر کشی سے زبان تھر تھراتی ہے ، قلم لڑ کھڑاتا ھے ، دامنِ صفحات سمٹتا نظر آتا ھے ،جملے مہمل ہو جانا چاہتےھے ، حروف تہجی خبر غم کی ہئیتِ ترکیبی اختیار کرنے سے گریز کرتے ھیں ، ذخیرۂ الفاظ داستان رحلت کی تعبیر سے قاصر ھے،

    الغرض ،،، نوشتۂ ازلی کے مطابق حادثۂ جانکاہ وجود پذیر ہو ہی چکا ،،،، تو بتکلف تمام دلِ احساس پر صبر و تحمل کا پتھر ور کی کشید کی ہوئی لکیر پر دست نگارش ، جبراً و کراہاً، بایں طور خامہ فرسائی ہوا،،،،،،،،،، کہ ماہ ربیع الاول ، کی بارہویں شب بدرِ منیر کی خنک شعاوں سے آنکھ مچولیاں کرتی ھوئی گیسوئے سیاہ فام کی گرہوں میں ستاروں کی ضوفگن کرنوں کو باندھتی ھوئی ، گلشنِ وجود کے پودوں کی آبیاری اور نازک گلوں کی لطیف پنکھڑیوں میں موسم بہار کی مٹھاس گھولتی ہوئی ،، صبح نو کے ساحل کی طرف آہستہ آہستہ چل رہی تھی ، چاند —— قدّرنٰاہٗ منازلَ —— کے محور پر تیز گام تھا ، تاروں کی شب تاب شمعیں مندمل ہونے لگی تھیں ، گلشنِ دنیا میں چہل پہل شروع ہوچکی تھی ، رات کی مسافت تمام ہورہی تھی ، غرض یہ کہ،،،،،،، قیامتِ کبریٰ کا منظر لئے ہوئے لرزتی کانپتی سحر طلوع ہوئی ، گھنے بادلوں کے اوٹ سے سورج رونما ہوا ، اور آناً فاناً صفحۂ دہر پر روشنی پھیل گئی ،، سورج کی جبینِ جہاں تاب پر رنج و غم کی تصویر کشید کی ہوئی تھی ، اس کی خو بار شعاؤں سے کسی سب سے بڑے المیہ کا سراغ مل رہا تھا ، اور جب وہ اپنے مقررہ مدار پر رقص کرتا ھوا وقت موعود پر ڈیرا ڈال چکا ، تو نوشتۂ ازلی کی فائل کھولی گئی ،،،،،، قضا و قدر کے قلم نے عالمِ برزخ میں داخلے کا اجازت نامہ لکھا ،——— کل من علیھا فان———– کی عدالت نے آخری فیصلہ سنایا ، اور یک لخت گردش دوراں نے انگڑائیاں لیں نظمِ کونین میں انتشار بپا ہوا، چمن مسرت پر اداسی کا بادل منڈلایا ، —–احسن تقویم —- کے نوری قالب میں دست اجل نے ڈاکہ زنی کی،،، روح پر فتوح کو قفس عنسری سے نکال کر نہایت اعزازو احترام کے ساتھ جنتی ملبوسات میں لپیٹا، اور —— الموت جسرٌ ——– کے حدِ فاصل کو پار کرکے ، —– یوصل الحبیب الی الحبیب———- کی منصبی خدمت بجا لانے کے بعد ،—— ثم دنیٰ فتدلّیٰ ——— کا قابلِ دید منظر پیش کر کے اشتیاقِ مشیت کا دیرینہ تقاضہ پورا کیا ، !!

    پھر کیا تھا افرا تفری کا عالم بپا ہوا، چشم فلک اشک بار ہوگئی ، سینۂ گیتی کا دل دہل گیا ، عرش اعظم کے ستون ہل گئے، قصر نیلگوں کی جبینِ پُر شکوہ پَر شکن ابھر آئی، انسانیت یتیم ہوگئی،، روحیں غمگساری کے لئے زمین پر اتر نے لگیں ، روئے ایام نے تابِ ضبط نہ لاکر شب تاریک کا لبادہ اوڑھ لیا،،،،،،،،
    اور ادھر رفیق اعلی کاشوق —- اُدُنُ مِنیّ —— لبریز ہورہا تھا ، بامِ عرش سے ——– اِ ئتُونی بہ استخلصہُ لنفسی——— کی صدائیں باز گشت گونج رہی تھی،، خالق سلسبیل ، —- شراباً طہورا——– کا دور چلانے والا تھا ، ، روح الامین کو ثرو تسنیم کے ساغر ومینا لئے کھڑے تھے،، حوریں جنتی بالاخانوں میں ——- الانتظار اشد من الموت ——— کا وظیفہ دہرا رہی تھی ،،،، رضوانِ جنت نوری تنوں کے ہمراہ نوشہِ جنت کے استقبال کے لئے فرش راہ بنے ہوئے تھے ، فردوس اعلی کی ثمر افشاں ڈالیاں شیریں مزاج و خوشگوار تحفے لئے بوجھل ہورھی تھیں،،،، عروس جنت شبِ کن فکاں کے دولھا کو اپنی باہوں میں لے کر خفیف لوریاں دینا چاہتی تھیں ،،،،
    حجرۂ عائشہ تماشہ گہِ عالم بنا ہو اتھا،، در یثرب پر فرشتوں کا ازدحام تھا،، خاکِ لحد کے زرات جلوۂ کہکشاں کا منظر پیش کررھے تھے ، جسد رسول کے انعکاسی شرارے سورج کی شعاعوں کو شرمارہے تھے،، کفن کے زر نگار ٹکڑے ردائے کبریائی سے اقتباسِ فیض کررھے تھے ،،،، مہاجرین و انصار نے —– رحماء بینھم ——– کا عملی نمونہ پیش کردکھا یا تھا ، تاآنکہ،،،،،، الائمۃ من القریش—— کے بمصداق؛؛؛؛ ثانی اثنین اذھما فی الغار ——– خلیفہ اول منتخب ہوچکے تھے ،،،

    آخراً،،، جب جاں نثار صحابہ لرزتے کانپتے ہونٹوں سے نعشِ مبارک کو غسل دے کر ، زر نگارملبوسات میں بصد اعزاز و احترام مستور کرکے اشکبار آنکھوں سے جمال انوری کا آخری دیدار کرچکے،، تو یکا یک ، مشیت کانپی،، بجلی کڑکی، دھرتی کا

    اپنے پرائے کے لئے یکساں تھا مہرباں
    افسوس ایسا رہبرِ فرزانہ کھو گیا

    @soxcn

  • ‏توبہ ہی بقاء آخرت اور رضا الہی ہے  تحریر : مدثر حسین

    ‏توبہ ہی بقاء آخرت اور رضا الہی ہے تحریر : مدثر حسین

    آج کا موضوع انسان کے نفس اسکی خواہشات اور اللہ رب العزت کی بندگی سے متعلق ہے. یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کیوں انسان شیطان کے بہکاوے میں آتا ہے آخر کیوں رب کی بارگاہ سے دور ہو جاتا ہے.
    اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان کو بہت عمدہ شکل و صورت سے نوازا ہے جیسا کی قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

    لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘(۴)

    ترجمۂ کنز العرفان

    بیشک یقیناہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔

    تفسیر صراط الجنان

    { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ: بیشک یقینا ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا۔ } اللّٰہ تعالیٰ نے انجیر،زیتون،طور سینا اور شہر مکہ کی قسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو سب سے اچھی شکل وصورت میں پیدا کیا ،اس کے اَعضاء میں مناسبت رکھی،اسے جانوروں کی طرح جھکا ہوا نہیں بلکہ سیدھی قامت والا بنایا، ،اسے جانوروں کی طرح منہ سے پکڑ کر نہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھانے والا بنایا اوراسے علم، فہم، عقل، تمیز اور باتیں کرنے کی صلاحیت سے مُزَیّن کیا۔( خازن، والتین، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۳۹۱، مدارک، التین، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۶۰، ملتقطاً)

    انسان کو اتنا خوش شکل ہونے کے بعد اتنی عظمتوں عزتوں. عمتوں کے بعد تو تابعدار ہونا چاہیئے تھا پھر بھی نافرمانی کیوں؟

    اگر انسان اللّٰہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تخلیق میں غور کرے تو اس پر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے حسن ِصوری اور حسن ِمعنوی کی کیسی کیسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں اور اس چیز میں جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کی معرفت حاصل ہوتی جائے گی اور اس عظیم نعمت کو بہت اچھی طرح سمجھ جائے گا۔

    شیطان انسان کے نفس کو کسی نا کسی ہوس میں الجاھے رکھتا ہے جس سے وہ رحمان کے راستے سے دور ہوتا چلا جاتا ہے اور بالآخر خسارے میں ہو جاتا ہے جیسا کی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا.
    وَ الْعَصْرِۙ(۱)اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)

    ترجمۂ کنز العرفان

    زمانے کی قسم۔ بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔

    تفسیر صراط الجنان
    {وَالْعَصْرِ: زمانے کی قسم۔}
    {اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ: بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ذکر کرکے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے کہ اس کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں اور مشقتوں پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں انہیں پیش آئیں تو یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں نہیں بلکہ نفع پانے والے ہیں کیونکہ ان کی جتنی عمر گزری وہ نیکی اور طاعت میں گزری ہے۔( روح البیان، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۱۰ / ۵۰۵-۵۰۶، خازن، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۴ / ۴۰۵، ملتقطاً)

    اسی طرح ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ(۲۹) لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ‘‘(فاطر:۲۹،۳۰)

    ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دئیےہوئے رزق میں سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو ہرگز تباہ نہیں ہوگی ۔تاکہ اللّٰہ انہیں ان کے ثواب بھرپور دے اور اپنے فضل سے اور زیادہ عطا کرے بیشک وہ بخشنے والا، قدرفرمانے والا ہے۔

    سورہِ عصر کی آیت نمبر2اور 3سے حاصل ہونے والے نتائج
    (1)…انسان کی زندگی اس کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اس سرمائے سے وہ اُسی صورت میں نفع اٹھا سکتا ہے جب وہ اِسے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں خرچ کرے اوراگر وہ یہ سرمایہ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے، اس کی نافرمانی کرنے اور گناہوں میں خرچ کرتا رہا تو اسے کوئی نفع نہ ہو گا بلکہ بہت بڑا نقصان اٹھا ئے گا ،لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت میں مصروف ہوجائے ۔

    (2)…انسان کی زندگی کا جو حصہ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت میں گزرے وہ سب سے بہتر ہے۔

    (3)…دنیا سے اِعراض کرنا اور آخرت کی طلب میں اور ا س سے محبت کرنے میں مشغول ہونا انسان کے لئے سعادت کا باعث ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۹)

    ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئےایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہوتو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
    اگر نفس شیطانیت میں مائل ہو جاے تو رب العالمین سے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنے کی دعا کرنی چاہیئے اور اسکو شیطان کا کھلونا بننے سے بچانا چاہیے
    اللہ سے توبہ کرنی چاہیے جیسا کی قرآن میں ارشاد ہوتا ہے.
    وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵)اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ(۱۳۶)

    ترجمۂ کنز العرفان

    اور وہ لوگ کہ جب کسی بے حیائی کا ارتکاب کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرلیں تواللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور اللہ کے علاوہ کون گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے برے اعمال پر اصرار نہ کریں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے بخشش ہے اور وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ (یہ لوگ) ہمیشہ ان (جنتوں ) میں رہیں گے اورنیک اعمال کرنے والوں کا کتنا اچھا بدلہ ہے۔

    تفسیر صراط الجنان

    {ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ: اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔} پرہیزگاروں کے اوصاف کا بیان جاری ہے اوریہاں ان کا مزید ایک وصف بیان فرمایا، وہ یہ کہ اگر اُن سے کوئی کبیرہ یا صغیرہ گناہ سرزد ہوجائے تو وہ فوراً اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یاد کرکے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ، اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے ہیں اور اسے چھوڑ دیتے ہیں اور آئندہ کیلئے اس سے باز رہنے کا پختہ عزم کرلیتے ہیں اور اپنے گناہ پر اِصرار نہیں کرتے اور یہی مقبول توبہ کی شرائط ہیں۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ’’ تیہان نامی ایک کھجور فروش کے پاس ایک حسین عورت کھجوریں خریدنے آئی۔ دکاندار نے کہا کہ یہ کھجوریں اچھی نہیں ہیں ، بہترین کھجوریں گھر میں ہیں ، یہ کہہ کراس عورت کو گھر لے گیا اور وہاں جا کر اس کا بوسہ لے لیااور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس عورت نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر۔ یہ سنتے ہی تیہان نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور شرمندہ ہو کر حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں سارا ماجرا عرض کیا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ ایک روایت یہ ہے کہ’’ دو شخصوں میں بڑا پیار تھا، ان میں سے ایک جہاد کے لئے گیااور اپنا گھر بار دوسرے کے سپرد کر گیا۔ ایک روز اُس مجاہد کی بیوی نے اُس انصاری سے گوشت منگایا ، وہ آدمی گوشت لے آیا،جب اُس مجاہد کی بیوی نے گوشت لینے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تواس نے ہاتھ چوم لیالیکن چومتے ہی اسے سخت شرمندگی ہوئی اور وہ جنگل میں نکل گیا اور منہ پر طمانچے مارنا اور سرپر خاک ڈالنا شروع کردی۔ جب وہ مجاہد اپنے گھر واپس آیا تو اپنی بیوی سے اپنے اُس دوست کا حال پوچھا۔ عورت بولی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے دوست سے بچائے۔ وہ مجاہد اُس کو تلاش کرکے حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں لایا۔ اس کے حق میں یہ آیات اتریں۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳۵، ۱ / ۳۰۲)ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کا شانِ نزول ہوں۔ بہر حال خلاصہ تو واضح ہے گناہ کا ہو جانا نفس کا بھٹک جانا اتنی بڑی غلطی نہیں جتنی علم ہونے کے باوجود غلطی پر نا صرف قائم رہنا بلکہ اس پر اکڑ جانا اور توبہ نہ کرنا یہ سب سے بڑی غلطی ہے

    ‎@EngrMuddsairH