Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    بلھیریجی کا چھوٹا سا گاؤں، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ کا پورا گاؤں واٹس ایپ کے ذریعہ منسلک ہے، یہ گاؤں موہنجو دڑو آثار قدیمہ سے چند کلومیٹر دور واقع ہے، گروپ کے منتظمین میں سے ایک ریاض پیرزادہ نے کہا ، ہم نے اپنے گاؤں واٹس ایپ گروپ کو 2016 میں شروع کیا تھا اور اس سال نومبر میں اس کی پانچویں سالگرہ ہوگی-

    پیرزادہ کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل چیٹ روم نے پوری برادری کو کامیابی کے ساتھ تبدیل کر دیا ہے اجتماعی مسائل کے خلاف گاؤں کے لوگوں کو متحرک کرنے میں مدد کرنا ، ان طریقوں سے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ ابھی تک، اس گروپ میں 180 کے قریب ممبران آباد ہیں، ان میں ڈاکٹر، انجینئر، اسکالر، وکیل ، مصنفین اور سینئر اور جونیئر عہدوں پر کام کرنے والے مختلف سرکاری ملازمین شامل ہیں ، جو صوبے کے دیگر حصوں اور یہاں تک کہ بیرون ملک رہائش کے باوجود گاؤں کے امور میں معاون ہیں۔

    بلھیریجی کے لوگوں کے مطابق، واٹس ایپ سے لیس ان کی کمیونٹی کے کارکنوں نے اس پلیٹ فارم کا استعمال علاقے میں حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے لئے بھی کیا ہے پائیدار ترقیاتی اہداف کی مؤثر طریقے سے تعمیل کرنے کے لئے اس گروپ نے مواصلات، تعلیم، صحت، کھیلوں، خواتین کے مسائل، ادب اور ٹیکنالوجی کے لئے سوشل میڈیا رضاکاروں کو منظم اور سرشار کیا ہے۔

    بلھیریجی ولیج گروپ کے اہم ممبران نے دیگر تمام ذیلی گروپوں کے ساتھ ہم آہنگی کی اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وسائل مہیا کرنے میں ان کی سہولت فراہم کی۔

    ڈاکٹر اصغر پیرزادہ ، جنہوں نے بلھیریجی واٹس ایپ گروپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے ، نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے بہت سے معاشرتی اقدامات کی مدد کی ہے اور دیہاتی امور کو بھی تیز کیا ہے ، جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔

  • آزاد کشمیر انتخابات، ووٹنگ  جاری ، پی ٹی آئی ، پی پی پی اور ن کانفرنس میں کانٹے کا مقابلہ

    آزاد کشمیر انتخابات، ووٹنگ جاری ، پی ٹی آئی ، پی پی پی اور ن کانفرنس میں کانٹے کا مقابلہ

    مظفر آباد: آزاد کشمیر میں انتخابات کے لیے پولنگ کے وقت کا آغاز ہوگیا، الیکشن کمیشن کی جانب سے بیلٹ پیپرز اور باکس پولنگ اسٹیشن پہنچا دیئے گئے، پولنگ شام 5 تک کسی وقفے کے بغیر جاری رہے گی۔

    باغی ٹی وی : آزاد کشمیر کے 45 حلقوں میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ایل اے 27 مظفرآباد 1 کے 166 میں سے 15 پولنگ اسٹیشن حساس ترین اور24حساس قرار دیئے گئے ہیں-

    ایل اے 28 مظفرآباد 2 کے 156 میں سے 21 حساس ترین، 22 حساس قرار ، ایل اے25وادی نیلم1کے 38 حساس قرار دیئے گئے ہیں جبکہ حلقہ ایل اے 29 مظفرآباد 3 کے 114 میں سے 7 حساس ترین، 15 حساس ہیں-

    الیکشن کمیشن کے حکم پر انتخابی عمل کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کردی گئی ہے۔ 40 ہزار پولیس اہلکار الیکشن ڈیوٹی انجام دیں گے۔

    آزاد کشمیر کے 45 حلقوں میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے 32 لاکھ سے زائد ووٹر حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    پاکستان بھر میں رہنے والے 4 لاکھ 5 ہزار 253 کشمیری ووٹر بھی آزاد کشمیر اسمبلی کے لیے اپنے من پسند امیدواروں کو ووٹ ڈالیں گے۔

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے جاری مہم آج اختتام پزیر، انتخابات…

  • وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ  تحریر: سمعیہ رشید

    وجودِ زن سے ہے، تصویر کائنات میں رنگ تحریر: سمعیہ رشید

    برصغیر پاک و ہند میں ایک عام تصور تھا کہ خواتین کی زمہ داری صرف گھر گر ہستی سنبھالنے تک محدود ہے، اور یہ تاثر 1947 سے سات دھائیاں گزر جانے کے بعد بھی عوام الناس کے دل و دماغ سے نا نکل سکا
    یہ تصور صحیح ہے یا غلط، اس تحریر کا مقصد یہ باآور کروانا ہرگز نہیں ہے بلکہ ان ستر سالوں میں خواتین نے جو ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے اسکو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کرنا ہے.

    محترمہ فاطمہ جناح

    انیسویں صدی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر بھابھی کی وفات کے بعد سب چھوڑ کے نا صرف بھائی کا گھر سنبھالنے لگیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی ہر جگہ انکے شانہ بشانہ رہیں. آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد بھی انہی کی کاوشوں کا نتیجہ تھی جس نے بعد ازاں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی شکل دھار لی.
    سیاست کے علاوہ سماجی طور پہ بھی بیگم لیاقت علی خان کے ساتھ خواتین کے حقوق کیلیے ایک قد آور شخصیت ثابت ہوئیں، پاکستانی نوجوان نسل کیلیے وہ سیاسی و سماجی اعتبار سے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی

    بیگم شائستہ اکرام اللہ


    بیگم صاحبہ لندن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ پہلی پی ایچ ڈی ہولڈر ڈاکٹر تھیں، پاکستان قانون ساز اسمبلی سے سب سے پہلی خاتون ممبر منتخب ہو کے عورتوں کیلیے سیاست میں آنے کی راہ ہموار کی، نا صرف اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمایندگی کی بلکہ مراکو میں سفیر بھی رہیں
    محترمہ سیاست کے علاوہ بہت اردو اور انگلش اخباروں میں مصنفہ بھی رہیں
    حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز لینے والی بلاشبہ پاکستانی بچیوں کیلئے ایک عملہ نمونہ ہیں

    عائشہ فاروق

    ہمت و جواں مردی، بہادری اور دیدہ دلیری کی بات ہو تو ہمیشہ مردوں کی طرف دھیان جاتا ہے پر یہ ریت بھی عائشہ فارق صاحبہ نے توڑ ڈالی جب چھبیس برس کی عمر میں پہلی فایٹر پائیلٹ بنی.
    اب خواتین صرف میڈیکل، انجینئرنگ اور کارپوریٹس سیکٹر تک ہی محدود نہیں رہیں بلکہ شاہینوں کے ساتھ پرواز کے سفر میں گامزن ہیں

    ارفع کریم

    جس عمر میں عموماً بچیاں کھلونوں اور گڑیاؤں سے کھیلتی ہیں اس عمر میں ایک نو سالہ غیر معمولی ذہین ننھی پری، مائکروسوفٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل بنی ، جس نے نا صرف پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پہ نمایندگی بھی کرتی رہی،
    اور صرف سولہ سال کی عمر میں سب آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کے ابدی نیند جا سوئیں..

    شمیم اختر

    جہاں بہت کم خواتین ٹرک کی سواری ہی کر پاتی ہیں وہاں ایک با ہمت عورت ٹرک چلانے لگتی ہے
    بے تحاشا تنقید اور مخالفت کے باوجود بھی محترمہ نا صرف اپنے فیصلے پہ ثابت قدم رہیں بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں اپنی قابلیت کا لوہا بھی منوایا
    بلاشبہ شمیم بیگم کا ایسے شعبے میں آنا قابلِ تحسین ہے.
    جہاں ہر طرف مردوں کی اجارہ داری ہو اور عورت کو فیصلے کرنے کا بھی اختیار نا ہو وہاں ایک عورت کا باقی خواتین کے حقوق کیلیے اواز بلند کرنا اور ایک جرگے کی نمایندگی کرنا قابلِ تحسین ہے.

    تبسم عدنان

    تیرہ برس کی عمر میں دلہن بننے والی، شوہر کے ظلم و ستم کے خلاف کھڑی ہونے والی سماجی کارکن تبسم کو کم ہی لوگ جانتے ہونگے جو "خویندہ و جرگہ” کے نام سے ہفتہ وارانہ عورتوں کے مسائل حل کرتی ہیں..
    ان سب خواتین کو ملک و قوم کا نام روشن کرنے اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے پہ ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں…

  • احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    احساس برتری ایک خطرناک بیماری تحریر: شازیہ ستار

    کتنی عجیب بات ھے کہ ھم احساس کمتری کو تو بہت تذکروں میں لاتے ہیں اور فٹ سے کسی کو طعنہ بھی دے دیتے ہیں مگر ھم احساس برتری کا نہ ھی ذکر کرتے اور نہ ھی اسکو بیماری گردانتے ہیں یہ بہت خطرناک بیماری کی ایک قسم ھے احساس برتری کا شکار انسان خود کو حراست کسی سے برتر و بالا سمجھتا ھے اور اپنے عہدے اور حسب نسب پہ فخر کرتا ھے کیونکہ اس کی ذات میں کوئی صفات نہین ھوتی ہے اور اسکے اندر بےچینی اور بے سکونی ھوتی ھے تو وہ ھر وقت اپنے لباس اور اپنے گھر اور گاڑی کی تعریف ھی سُننا چاہتا ھے پھر ایسے لوگ دوسروں کی ھر وقت تضحیک کرنے سے بھی باز نہیں آتے کیونکہ اس سے انکے احساس فخر کو تسکین مل رھی ھوتی ھے ۔۔۔یہ بیماری معاشرے کے لئے پھر فساد اور بگاڑ کا سبب بنتی ھے اور بہت سے لوگوں کی دل آزاری کا ذریعہ بھی ۔۔لہذا اسکو بھی بیماری مان کر اسکا تدارک بہت ضروری ھے
    ورنہ یہ بیماری معاشرے میں ناسور کی طرح بڑھتی جارہی ہے اسکی وجوہات کو جاننا بھی ضروری ہے وجہ پتہ ھو گی تو قابو پایا جا سکتا ہے
    اس میں مبتلا لوگ اپنے ساتھ رہنے والوں اپنے کولیگز اپنے رشتہ داروں کی زندگی کو اجیرن کئے رکھتے ہیں
    بدقسمتی سے ھر دوسرے بندے میں یہ بیماری موجود ھے مادیت پرستی اور بے حسی بھی اسکی وجوہات میں شامل ہے ۔جس انسان میں تکبر نہیں ھوتا عاجزی ھوتی ھے وہ کبھی کسی کو کم تر نہیں سمجھتا اسلام میں تکبر کو شرک کے گناہ جیسا سمجھا جاتا ھے کہ جس کے دل میں رائی برابر تکبر آیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا ۔۔اللہ پاک ھمین اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور انکو سدھارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    @ALLAHknowbetter

  • ‏دوسروں کو حقیر سمجھنا –  تحریر : خالد اقبال عطاری

    ‏دوسروں کو حقیر سمجھنا – تحریر : خالد اقبال عطاری

    بنی اسرائیل کا ایک شخص جو بہت گناہگار تھا ایک مرتبہ بہت بڑے عابد یعنی (عبادت گزار) کے پاس سے گزرا جس کے سر پر بادل سایہ کرتے تھے گناہگار شض یہ سوچ کر اس عابد کے پاس بیٹھ گیا کہ میں گناہگار اور یہ بہت بڑے عبادت گزار ہیں اگر میں ان کے پاس بیٹھوں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر بھی رحم فرما دے. عابد کو اس کا بیٹھنا بہت ناگوار گزرا کہ کہاں مجھ جیسا عبادت گزار اور کہاں پر یہ پرلے درجے کا گناہگار! یہ میرے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہے؟ چنانچہ اس نے بڑی حقارت سے اس شخص کو کہا اٹھو یہاں سے! اس پر اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے نبی علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ ان دونوں سے کہو کہ اپنے عمل نئے سرے سے شروع کریں میں نے اس گناہگار کو بخش دیا اور عبادت گزار کے عمل ضائع کر دیے.
    جس طرح انسان کا ظاہر بہت سی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے اسی طرح انسان کا باطن بھی اچھائیوں اور برائیوں کا مرکب (compound) ہوتا ہے. مسکراہٹ، جسمانی حرکات و سکنات کا با وقار ہونا، نرم انداز گفتگو، صاف ستھرے کپڑے، سلیقے سے سنوارے ہوئے بال، ناخن اور دانتوں کا صاف ہونا، جسم پر میل کچیل کا نہ ہونا چہرے پر مسکراہٹ ہونا اور دیگر بہت سی چیزیں انسان کے ظاہر کو اچھا بناتی ہیں. جبکہ گالم گلوچ فحش کلامی، جھوٹ، غیبت، تہمت لگانے، چغلی کھانے چوری کرنے اور ظلم کرنے جیسے اوصاف ہمارے ظاہری کردار (Character) کو داغدار کر دیتے ہیں، اسی طرح مسلمانوں سے ہمدردی و خیر خواہی کا جزبہ، ان سے محبت رکھنا، عاجزی، اخلاص جیسے بہت سی برائیاں ہمارے باطن کو آلودہ کر دیتی ہیں، باطن کی اچھائیاں اور برائیاں ظاہر پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں مثلاً دل میں نرمی ہوگی تو اس کی مٹھاس زبان پر بھی آئے گی.
    ہمارے باطن کو گندہ کرنے والی صفات میں سے ایک صفت تکبر ہے. ہم اپنے آپ کو تو اعلی سمجھیں اور باقی لوگوں کو اپنے سے کمتر سمجھیں. اب ایک سوال ہے کہ ہم اپنے کو کمتر سمجھیں یا برتر یا برابر؟؟؟
    تو گزارش ہے کہ خود کو کسی کے برابر سمجھنے میں بظاہر کوئی حرج نہیں. اور اگر ہم خود کو حقیر سمجھیں تو یہ عاجزی ہے جوکہ باعثِ ثواب ہے. لیکن کسی کو اپنے سے گھٹیا حقیر اور کمتر نہ سمجھیں.
    تکبر کی کچھ وجوہات ہیں جن کی بناء پر ہم دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں
    1: علم : علم کی وجہ سے خواہشات نفس میں گرفتار انسان کا دماغ آسمان پر پہنچ جاتا ہے وہ دوسروں کو جاہل اور گنوار سمجھنے لگتا ہے.
    2،عبادت : فرائض و واجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ نوافل، تلاوتِ، نفلی روزے، ذکرِ و اذکار کی کثرت بہترین عادت ہے. لیکن جو نفلی عبادت نہ کرنے والوں کو گھٹیا اور حقیر سمجھنا جائز نہیں.
    3، دولت : حلال و جائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت بری چیز نہیں لیکن معاملات جب خراب ہوتے ہیں جب غریب لوگ ہمیں کیڑے مکوڑے نظر آنے لگیں. یاد رکھیے دولت میں وفا نہیں آج اسکے پاس تو کل اسکے پاس. تو ایسی بے وفا کی وجہ سے کیوں ہم مسلمان کو حقیر جانیں؟
    4،صحت و طاقت : صحت و طاقت رب عزوجل کی ایک نعمت ہے. تو اسکی وجہ سے کمزوروں، بیماروں اور چھوٹے قد والوں کو حقیر سمجھنا جائز نہیں.
    5، شہرت :کچھ لوگوں کو جب شہرت ملتی ہے تو وہ اپنی آنکھیں سر پر رکھ لیتے ہیں اسکی وجہ سے لوگ انہیں حقیر لگنے لگتے ہیں. یاد رکھیے ہر عروج کو زوال ہے. لہذا شہرت کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجنا چھوڑ دیجئے.
    6، حسن و جمال: بعض اوقات انسان اپنی خوبصورتی کی وجہ سے متکبر ہو جاتا ہے.گورے رنگ والا کالے رنگ والے کو، بڑے قد والا چھوٹے قد والا کو، بڑی آنکھوں والا چھوٹی آنکھوں والے کو کو حقیر سمجھتا ہے. عموماً ی بیماری مردوں کے مقابل عورتوں میں ذیادہ پائی جاتی ہے. یاد رکھیے عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے. تو سوچیے کیا ہمیں اس حسن پر ناز کرنا چاہیے.
    7، حسب و نسب : ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو حسب و نسب پر غرور کرتے ہیں. اور دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں. کیا یہ جہالت نہیں؟
    ذرا سوچیے اس تکبر کا کیا حاصل؟ جوکہ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ناراضی کا سبب بنے، مخلوق کی بیزاری اور میدان محشر میں ذلت و رسوائی کا سبب بنے؟
    اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہمیں چند لمحوں کی عزت چاہیے یا ہمیشہ کیلئے جنت.

  • وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    وزیر اعظم عمران خان – عالمی فورم پر اسلامو فوبیا بیداری کو اجاگر کرتے ہوئے تحریر: محمد ذیشان

    بہت سارے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ، پہلی بار بیرون ملک جاتے ہوئے ، ائیرپورٹ پر اہل خانہ کی طرف سے مشورہ دیا جاتا ہے: کبھی بھی اسلام کے بارے میں کسی بات میں ملوث نہ ہوں ، یہاں تک کہ اس کا دفاع یا وضاحت بھی نہ کریں ، چاہے کوئی کتنا بھی قیاس کرے اور فرض کرے اس کے بارے میں.
    تو ، کبھی بات نہیں کی جاتی، مفروضے غلط فہمیاں بن جاتے ہیں اور غلط فہمیاں شکوک و شبہات بن جاتی ہیں۔ شکوک فریبوں کا باعث بنتے ہیں ، اور پھر بھی ہم کبھی بات نہیں کرتے ہیں۔ وہم مستحکم عقائد کی طرف جاتا ہے اور عقائد اگلی نسلوں میں منتقل ہوجاتے ہیں جو پھر اپنے وراثت میں پائے جانے والے عقائد کی بنیاد پر فرض کرتے ہیں ، اس طرح شیطانی چکر جاری رہتا ہے… اور ہم پھر بھی بات نہیں کرتے!
    اسلامو فوبیا کی تباہی اس وقت ہوتی ہے جب ہم بات نہیں کرتے ہیں۔ اس سے قبل میں نے اسلامو فوبیا (اسلامو فوبیا: ایک پراسرار وبائی بیماری) کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ ایک نئی وبائی بیماری بنتی جارہی ہے۔ ہیضے سے زیادہ مبتلا اور ایڈز سے زیادہ مہلک۔
    کینسر سے زیادہ میٹاسٹک اور پولیو سے زیادہ کمزور۔ ایسی بیماری جس کی فوری تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ، یہاں تک کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی ان کے عقائد کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا ، اور اس طرح ان کے ساتھ امتیازی سلوک اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    عدالتوں میں نہیں بلکہ بے گھر منشیات فروشوں کے ذریعہ سڑکوں پر مقدمہ چلایا گیا۔ مساجد میں گورے بالادستی کے ذریعہ مقدمہ چلایا گیا۔ سب سے زیادہ "استغاثہ” لوگوں نے سڑکوں پر مقدمہ چلایا۔ سڑکوں پر ہجوم کے ذریعہ قانونی کارروائی کی۔
    ایک ایسے وقت میں ، جو سورج کو مشرق سے مغرب تک سفر کرنے کے لئے درکار ہوتا ہے ، اس سے کم وقت میں ، اسلامو فوبیا مشرق سے مغرب تک کا سفر کرتا، اور اسی وجہ سے میں اسے "وبائی بیماری” کے نام سے پکارتا ہوں۔ مشرق میں ، 6 ماہ کی حاملہ خاتون پر سڈنی میں صرف اس کے لباس (اسکارف) کی وجہ سے حملہ کیا گیا۔
    یہاں تک کہ بے دردی سے مارنے پیٹنے کے بعد ، سب سے پہلا کام جو اس خاتون نے کیا وہ سکارف کو ایڈجسٹ کرنا تھا۔اس نام نہاد مفت جدید دنیا میں ،اپنے آپ کو پوری طرح ڈھانپنا، آدھے ننگے چلنے سے آسان ہے۔ دنیا رہنے کے لئے ایک خوفناک جگہ بن چکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب اس حملے کے بعد اس والدہ کا الٹراساؤنڈ سڈنی کے کسی اسپتال میں ہوتا تو ، 6 ماہ کا بچہ چیخ چیخ کر کہتا: ”میں پیدا بھی نہیں ہوا ہوں۔ میں دہشت گرد نہیں ہوں…! ”
    آسٹریلیا کو ایک شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں پولین ہینسن جیسے سینیٹر "برقع” میں اسمبلی میں حجاب کا مذاق اڑانے آتے ہیں۔ جہاں نسل پرست بالادستی برینٹن ٹرانٹ کی قدر کی جاتی ہے۔ جہاں فریزر اننگ جیسے پارلیمنٹیرینز نفرت انگیز تبصرے کرتے ہیں۔
    مغرب میں ہونے والے دوسرے واقعہ میں ، کرسٹیشینند (ناروے) شہر میں "سائان” (ناروے میں اسلام پسندی روکیں) نامی ایک تنظیم کے ذریعہ اسلام مخالف مظاہرہ کیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین کو قرآن مجید نہ جلانے کی انتباہ کے باوجود ، سی ای این کے رہنما "لارس تھرسن” (جو ماضی میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے ایک ماہ قید کاٹ چکا تھا) کے نام پر اس مقدس کتاب کو جلا دیا۔ الیاس نامی ایک نوجوان مسلمان شخص نے اس پر حملہ کیا جس نے اسے روکنے کی کوشش کی اور دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
    میں وزیر اعظم خان (مرحومہ محترمہ شوکت خانم) کی والدہ کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے مذہب کے بارے میں غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے ایسی سفارتی بلکہ تابعدارانہ حکمت عملی اپنانا کبھی نہیں سکھایا۔
    27 ستمبر 2019 کو ، یو این او ہیڈکوارٹر ، نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، وزیر اعظم پاکستان مسٹر خان نے اس نئی وبا کے اسباب ، علامات ، تشخیص اور علاج کے بارے میں ایک فکری تقریر کی.
    وہ 30 منٹ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کسی عالم سے کم نہیں لگتا تھا جس کی وضاحت 30 سال میں کسی بھی مسلم عالمی رہنما نے نہیں کی تھی۔
    ہم سب کو اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہنا چاہیے.
    Twitter : @Zeeshanvfp

  • پاکستان سٹیل مل کی تباہی کے اسباب و مل کا مستقبل تحریر: ملک حارث

    پاکستان سٹیل مل کی تباہی کے اسباب و مل کا مستقبل تحریر: ملک حارث

    پاکستان سٹیل مل کی تباہی کے اسباب و مل کا مستقبل
    پسِ منظر:
    پاکستا ن سٹیل مل ایک سرکاری ادارہ ہے جو ملک کے لیے سٹیل اور ہیوی میٹل مصنوعات تیار کرتی ہے۔ جس کا دفتر کراچی سندھ میں ہے ، مل کی پیداواری صلاحیت 5 ملین ٹن سٹیل اور لوہے کی فاؤنڈریوں کی ہے۔ 1970 کی دہائی میں سوویت یونین کی طرف سے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کے ساتھ بنائی گئی، اس وقت سے ، اس کی آپریشنل پلانٹ کی گنجائش حکومت کی مالی مدد کے حصول کے بعد 30٪ -50٪ تک جا پہنچی ہے۔ مل پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑامل ہونے کے ساتھ دنیا کی چند بڑی اسٹیل ملز میں شمار ہوتا ہے جبکہ اس کی تعمیر کے وقت اس مل کو مزید توسیع دینے کے لیے پہلے سے ہی اسے اس طرح تعمیر کی گئی کہ وقت آنے پر اس کی پیداواری صلاحیت کو دوگنا کیا جا سکے۔

    1947 میں قیام پاکستان کے بعدریاست کو ابتداء میں مقامی پیداوار نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی درآمدات پر انحصار نے مشکلات پیداکردی تھی، جس میں لوہا و سٹیل کی وافر درآمدات بھی شامل تھی ، اسی بناء پروزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کو لوہے اور اسٹیل کی مقامی پیداوار کی اہمیت کا احساس ہوا۔ 1951 میں لیاقت علی خان کے قتل کی وجہ سے یہ معاملہ زیر التوٰا ہو گیا،لیکن پھر وزیر اعظم حسین سہروردی اور صدر ایوب خان کی حکومتوں میں اس منصوبے پر جامع بحث ہوئی۔ مینوفیکچرنگ کے عمل ، مطلوبہ مشینری اور خام مال کی فراہمی کے ذرائع ، ملکیت کا تناسب نے کافی وقت کے لئے اس منصوبے کو روک دیا۔ سائنسی اور صنعتی تحقیقاتی کونسل سرکاری سائنسی تھنک ٹین کی 20 سال(1947-1967) کی تحقیق اور مطالعات کے بعد صدر جنرل یحییٰ خان نے سفارشات کو منظوری دے دی، بیوروکریٹس اور سائنس دانوں نے اس متفقہ فیصلے پر اتفاق کیا کہ "کراچی اسٹیل پروجیکٹ” کو سرکاری پبلک سیکٹر میں سپانسر کیا جائے گا۔ 1956 میں سوویت یونین کے وزیر اعظم نیکولائی بلگینن نے وزیر اعظم سہروردی کو اسٹیل ملوں سے متعلق تکنیکی اور سائنسی مدد کی پیش کش کی اور ملک کی پہلی اسٹیل مل کے قیام میں دلچسپی کا اظہار کیا، اسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے آخر کار ، جنوری 1969 میں سوویت یونین کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ،جس میں تعمیر کے لئے تکنیکی مالی مدد فراہم کرنے پر راضی ہوگیااور 1971 میں کراچی میں اسٹیل مل کی تعمیر کا باقائدہ آغاز ہوگیا۔ پاکستان سٹیل مل 2 جولائی 1973 کو عمارتی تعمیرمکمل ہونے کے بعد جدید طریقوں کے مطابق پیداوارکے تحت لوہے اور اسٹیل پیدا کرنے والے ممالک کے ایلیٹ کلب میں شامل ہونے کے لیے 14 اگست 1981 کو بلاسٹ فرنس نمبر 1 کے اجراء کےبعد 24.7 ملین روپے کی لاگت سے اسٹیل مل کا باقاعدہ افتتاح 15 جنوری 1985 کو صدر جنرل ضیاء الحق نے کیا ۔
    تباہی کے اسباب:
    70کی دہائی میں روس کے تعاون سے تعمیر ہونے والی پاکستان سٹیل مل نے 80 اور 90 کی دہائیوں میں خوب منافع کمایا۔ تاریخ کے مطابق کہ فوجی حکمرانوں کے دور میں سٹیل ملز خوب منافع کماتی رہی مگر سیاسی حکومتوں کے آتے ہی بحران کا شکار ہوگئی۔مل جو سال میں سالانہ 9.54 ارب روپے کا منافع دے رہی تھی ، وہ آج خساروں وقرضوں کے بوجھ تلے بندپڑی ہے،جوکہ صرف نااہل، کرپٹ سیات دانوں کی بندولت ہے۔ مل کی تباہی کی وجوہات میں وزیر اعظم شوکت عزیز کے نجکاری پروگرام کے تحت اسٹیل ملوں کو عالمی نجی ملکیت میں نجکاری دینے کی ایک متنازعہ کوشش کی گئی۔ تاہم ، ان کوششوں کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے ناکام بنا دیا۔ ایک وجہ پیپلز پارٹی کے دور میں ملازمین کی اندھا دھند بھرتیاں بھی ہے۔ وہ مل جسے چلانے کے لیے صرف 9 ہزار ملازمین درکار تھے، وہاں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ملازمین کی تعداد 17 ہزار پر پہنچ گئی۔
    اس وقت ملازمین کو بروقت تنخواہ کی ادائیگی ہوتی تھی وہ بھی بمعہ الاؤنس کبھی نہ ہوا کہ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہو۔ سٹیل مل 90 کی دہائی کے اوائل تک اپنی مکمل صلاحیت پر کام کر رہی تھی ۔ مل کی منافع بخش تاریخ میں خسارہ عثمان فاروقی کی بطور چیئرمین تعیناتی سے شروع ہوا۔عثمان فاروقی سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی سلمان فاروقی کے بھائی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں 100 ارب روپے خسارے میں رہی، نواز لیگ کے دور میں سٹیل ملز کو 140 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔
    مل کے پاس ایک اندازے کے مطابق 10ارب کا خام مال، 12ارب تک کیش اور8ارب کی تیار مصنوعات موجود تھیں۔ لیکن ان تما م اشیا اور رقم کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا یہ راز آج تک راز ہی ہے۔مل کی پیداوار میں کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے 42ارب کا بیل آؤٹ پیکج بھی دیا گیا جو شاید کاغذوں میں ہی تھا ۔ مل کے محنت کشوں کے حالات بد سے بد تر ہونے لگے بعض محنت کشوں نے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے اسٹیل مل کی نوکری کے بعد پارٹ ٹائم نوکریاں کرنا شروع کر دیں۔ زرداری کا اقتدار ختم ہوا اور نواز شریف نے اقتدار سنبھالا۔ نواز شریف نے آتے ہی 75ارب کا حساب طلب کیا یعنی خام مال، تیار مصنوعات اور کیش جو اسٹیل مل کے پاس موجود تھا اور وہ 45ارب جو اس ادارے کو چلانے کے نام پر جاری کیا گیا تھا۔ حساب نہ دے پانے کی بنا پر چند افسران کو گرفتار کرنے کے بعد ایک اور بیل آؤٹ پیکج دیا گیا جس کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان اسٹیل ملز نے اپنی پیداواری صلاحیت کا 30فیصد بروئے کار لانا شروع کر دیا۔ یہ ایک اہم نکتہ تھا جہاں اس ادارے کے محنت کشوں نے ثابت کیا کہ وہ اس ادارے کو نہ صرف صرف چلا سکتے ہیں بلکہ ان کی اتنی تکنیکی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک مردہ ادارے میں جان ڈال سکتے ہیں۔ پیداواری صلاحیت میں جان پڑنے کے بعد محنت کشوں کے حوصلے بلند ہونے لگے جو کہ نجکاری کرنے والے سرمایہ داروں کے پیشہ ور دلالوں اور بیرونی اور اندرونی سرمایہ داروں کے لیے خطرناک تھا۔ اسی لیے جب پیداواری صلاحیت کو 30فیصد تک پہنچایا گیا اسی وقت یعنی جون 2015ء میں گیس سپلائی کرنے والے سرکاری ادارے نے پاکستان اسٹیل مل کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی۔ جس کے نتیجے میں اس ادارے کی کارکردگی پھر سے صفر پر آگئی۔ رپورٹ کے مطابق مل سوئی سدرن گیس کمپنی کے 22 ارب روپے کی قرض دار ہے جبکہ نیشنل بینک سے 36.42 ارب روپے کی مقروض ہے ،حکومت نے سٹیل ملز کو برسوں پہلے گیس کی فراہمی روک کر خود اس ادارے کا گلا گھونٹا ہے۔

    اسی طرح سے 2008سے اب تک ریٹائر ہونے والے محنت کشوں میں سے 2000سے زائد ایسے ہیں جن کو گریجوئیٹی کی رقم ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی پنشن دی جا رہی ہے۔مل وسیع اراضی 18 ہزار ایکڑ پر پھیلی ہے اراضی حاصل کرنے کے لیے بہت سے ادارے ،قوتیں برسرِ پیکار اور پراپرٹی کے بڑے ڈیلرز للچائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اس زمین کی مالیت 500 ارب سے زائد ہے اور یہی وہ وجہ ہے جس کے لیے اس ادارے کو تباہ کیا گیا ہے تا کہ اس کی اراضی کو حاصل کیا جا سکے۔مل کی بدترین حالت کو دیکھتے ہوئے نیب کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا تھا کہ بربادی کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ذمہ داران کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سے کیا ان ملازمین کے گھروں کے چولہے جل جائیں گے؟ کیا اسٹیل مل کی بند پڑی بھٹیاں پھر سے فولادی مصنوعات کی پیداوار شروع کر دیں گی؟نہیں ان تحقیقات کے ساتھ ساتھ اسٹیل مل کو دوبارہ چلانے پر بھی غور کرنا ہوگا۔ کیوں کہ اسٹیل مل کے بند ہونے سے کسی ایک یا دو کا نہیں، بلکہ ہزاروں گھرانوں کے چولہے بجھ جائیں گے۔
    ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میری ذاتی طور پر موجودہ حکومت سے گزارش ہے کہ سٹیل مل کی نجکاری کے بجائے اروسی سرماکاری کو بروکار لاتے ہوئے پاکستانی ملازمین کے ذریعے سے دوبارہ سے شروع کی جائے،جس سے ناصرف درآمدات میں کمی ہوگئی، بلکہ ملک میں روزگار کے مواقع فراہم ہونے سے بےروزگاری میں کمی ہوگئی، اور قومی خزانہ کے سرمائے میں بھی اضافہ ہوگااور پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہ

  • میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    عاطف اورعروج کی پہلی ملاقات پنجاب پبلک لائبریری میں ہوئی۔ عاطف انجینرنگ کے آخری سال میں تھا اور عروج ڈاکٹر بن رہی تھی۔ شعبہ مختلف مگر خیالات بہت یکساں تھے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور بے تکلفی بڑھتی گئی۔ ایک دن دونوں محو گفتگو تھے کہ اچانک عاطف کو کال آ گئی۔ اس نے عروج سے معزرت کی اور موٹر سائیکل پر چلا گیا۔ عاطف جا رہا تھا کہ اچانک ٹرک کی ٹکر سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ ہسپتال پہنچنے پر اس کا علاج و معالجہ شروع ہوا، اس کی جیبوں کی تلاشی لی گئی تاکہ شناخت ہوسکے، وہاں سے ایک فون نمبر ملا جو عروج کا تھا۔ انہوں نے اس نمبر پر کال کی اور عاطف کے حادثہ کے بارے میں بتایا توعروج یہ خبر سن کر حواس باختہ ہوگئی اور فوراََ ہسپتال پہنچی۔ ڈاکٹروں نے عروج کو بتایا کہ عاطف کے اعصاب کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شاید اب وہ عمر بھر چل پھر نہیں سکتا۔ عروج اب ہسپتال میں ہی رہ کر عاطف کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ اسی طرح دو ماہ گزر گئے۔ ڈاکٹروں نے عاطف کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔ چونکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا اس لیے عاطف عروج کے ساتھ ہی رہنے لگا۔ وہ اس کا بہت زیادہ خیال رکھتی۔ اسی طرح چھ ماہ گزر گئے اور وہ تندرست ہوگیا لیکن معذور، دونوں کی تعلیم مکمل ہوگئی۔ عاطف نے عروج کو شادی کی پیش کش کی۔ عروج پہلے تو بہت خوش ہوئی لیکن ایک خیال نے اسے پریشان کردیا۔ خیال یہ کہ عاطف تو معذور ہو گیا ہے، والد صاحب اس حالت میں عاطف کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ اس نے عاطف سے کہا کہ اسے اس حالت میں والد صاحب کبھی بھی قبول نہیں نہیں کریں گے۔ اس لیے اسے چلنا پھرنا ہوگا اور جب تک وہ عروج کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل نہیں ہو پاتا تب تک وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی۔ عاطف نے عروج سے کہا کہ تم تو جانتی ہوکہ میں عمر بھر چل نہیں سکتا تو میں تمہاری یہ شرط کبی بھی پوری نہیں کر سکتا۔ عروج نے کہا کہ اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں تو تمہیں یہ کرنا ہوگا۔ محبت میں مرتا کیا نہ کرتا۔ بے چارہ عاطف عشق کے ہاتھوں مجبور عروج کی شرط مان گیا۔ عروج نے اپنے آبائی گھر جانے کی اجازت لی اور کہا کہ جب تم چلنے کے قابل ہو جاو تو میرے ابا سے میرا رشتہ طلب کر لینا وہ تمیں انکار نہیں کریں گے۔ وہ چلی گئی۔ اور چونکہ وہ خود ڈاکٹر تھی اس لیے وقتاََ فوقتاََ عاعف کی اعصابی قوت کے ٹپس دیتی رہی۔ عاطف نے چلنے پھرنے کی کوشش کی انتہا کردی۔۔ شروع شروع میں وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ لاٹھی کے سہارے اور آخر کار وہ بغیر سہارے کے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔ تین سال گزر گئے۔ اب اس نے عروج کو کال کی اور اپنے آنے کی اطلاع دی کہ وہ اس کے باپ سے اس کا ہاتھ مانگنے آرہا ہے۔ عاطف عروج کے گھر گیا، وہاں اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ اس نے عروج کے باپ سے رشتہ کے بارے میں بات کی تو اس نے عروج کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ عاطف اب عروج کی طرف توجہ کرتا ہے۔ عروج کہتی ہے” بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے” ۔ اب تو وقت گزر چکا۔ عروج اپنے شوہر کو آواز دیتی ہے کہ ” وسیم! زرا محمود اور خزینہ کو باہر لے کر آئیے” محمود عروج کا بیٹا اور خزینہ اس کی بیٹی تھی۔ وہ اپنے شوہر اور بچوں کا تعارف عاطف سے کرواتی ہے۔

    عاطف حواس باختہ ہوگیا اورعروج سے کہا کہ وہ محبت وہ وعدے وہ سب کچھ کیا تھا۔ عروج کہتی ہے کہ میں ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہوں اور میرا کام مریضوں کو کسی بھی طریقے سے صحت یاب کرنا ہے اس لیے وہ تو محض میں تمہاری صحت یابی کے لیے محبت کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ بہر حال میرا تجربہ کامیاب رہا۔

    @mstrwaseem

  • اداس کیوں تحریر:حسن قدرت

    پہلے زمانے کے لوگ بہت خوش و خرم زندگی گزارتے تھے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ بات بالکل درست ہو انکے بھی مسائل ہوتے ہوں گے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہو انسان اور مسائل کے بغیر زندگی گزار کے جائے ناممکن!
    موجودہ نسل میں اداسی بڑھتی جارہی ہے اور وہ بانٹ کر بھی خوشی حاصل نہیں کر پاتے جو خوشی اس دور کے لوگ ملکر کھانے میں محسوس کرتے تھے
    جیسے جیسے زمانہ گزرا ویسے ہی حالات بدلے اور مسائل وہی رہے شاید مگر نوعیت بدل گئی پہلے لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے تھے کہ شدید موسمی حالات کا مقابلہ کیسے کریں گے اب لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے ہیں رشتوں میں چھپی اس حسد اور نفرت کی شدت کا مقابلہ کیسے کریں گے
    اب لوگ اداس کیوں ہیں؟ اسکی وجہ جو میں نے جانی ہے وہ آپ لوگوں کو بتاتی ہوں اگر
    اگر آج ہم کسی کو ایک روپیہ بھی دیتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے جبکہ ہم اپنے رب کے بھی شکرگزار نہیں ہوتے ، ہم لوگ اتنی شدت کے خودپسند ہوچکے ہیں کہ اگر ہم کسی کو محبت دیتے ہیں ،کسی کو شفقت سے نوازتے ہیں یا کسی کی خدمت کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر ہم چاہتے ہیں وہ بندہ ہمارے آگے سر جھکا کے رکھے آخر کیوں؟
    ہم یہ سب انسانوں کو اپنے آگے جھکانے کے لیے کیوں کرتے ہیں؟ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہم نے تو اتنا کچھ کیا اسکے لیے لیکن اس بندے نے مجھے کیا صلہ دیا

    اگر آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو آپ اسکے بندوں سے بھی بے لوث ہوکر محبت کریں انسانیت کی خدمت کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں یہ سب آپ نے اپنے مالک کے لیے کیا ہے اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا ہے پھر آپ کو غیب سے اسکا صلہ ملے گا اور اتنا اچھا کہ آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا
    اپنی ترجیحات میں جب ہم اپنے بنانے والے کو اور اسکے حکم کو شامل نہیں کرتے تو ہم روتے ہیں چیختے ہیں اور خود سے کہتے ہیں کہ میں *”اداس کیوں”*؟ آخر میں ہی کیوں ؟

    Twitter: @HusnHere

  • مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    یزید کے تخت سنبھالتے ہی اس نے والی مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے جانثار ساتھیوں جن میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر ان سے بیعت لے لو اور اگر یہ منع کریں تو ان سب کے سر مجھے بھیج دو۔ ولید نے مروان سے پوچھا کہ کیا کریں تو مروان نے کہا کہ امام حسین نواسئہ رسول ہے وہ کبھی بھی یزید کی بیعت نہیں کریں گے اس سے قبل انکو یزید کی تخت نشینی کی خبر پہنچے ان سب کو بلا لو۔ ولید نے رات کو ہی اپنا ایک آدمی آپ سب کی طرف بھیجا۔ حضرت امام حسین اس وقت اپنے نانا کے مرقد پر تھے تو آپ نے اس آدمی کو کہا کہ میں بعد میں آتا ہوں۔ باقی لوگ بھی امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے اور اس بارے میں آگاہ کیا۔

    عبداللہ بن زبیر نے کہا حضرت امام حسین علیہ السلام سے کہا کہ مجھے ولید کے اس پیغام نے پریشان کردیا ہے۔ حضرت امام حسین نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یزید تخت نشین ہو گیا ہے اور یہ لوگ ہم سے اسکی بیعت کا مطالبہ کریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ ولید کے پاس جاکر پوچھا جائے کہ اس نے کیوں بلایا چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے قریبا تیس لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور ولید کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو اسلحہ لے کر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ آپ لوگ باہر ہی رکئے۔ اگر تم لوگ میری آواز کو بلند پاؤ تو اندر آجانا کیونکہ ہم اس کی بیعت والے معاملے کو نہیں مانیں گے۔

    حضرت امام حسین علیہ السلام ولید کے پاس گئے۔ مروان بھی وہیں بیٹھا تھا تو ولید نے امیر شام کی موت کی خبر دی اور ولید نے یزید کے خط کے بارے میں بتایا کہ یزید نے آپ سے بیعت کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا، مجھے نہیں لگتا کہ تو خفیہ طریقے سے میری بیعت پر راضی ہو بلکہ تو چاہے گا کہ میں یزید کی بیعت اعلانیہ طور پر لوگوں کے سامنے کروں ، ولید نے جواب دیا کہ جیسا آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح تک صبر کر۔
    حضرت امام حسین وہاں سے جانے لگے تو مروان نے ولید سے کہا کہ ابھی تو امام حسین (ع) کا ہاتھ بیعت کے لئے نہ لے سکا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکے گا اس لیے اگر ابھی بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کر دے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام مروان کی گستاخی پر سخت غضباک ہوئے اور آپ نے فرمایا، تو مجھے قتل کرے گا، اللہ کی قسم تو جھوٹا ہے۔ تم سب میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اسکے بعد آپ نے ارشاد فرمائے، "ہم اہلبیت نبوت ہیں، اللہ کے ملائکہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں، خدا نے خلقت پر ہمیں مقدم کیا ہے اور ہم پر ختم کیا ہے اور یزید شراب پینے والا فاسق فاجر ہے، میں کبھی اس کی بیعت نہیں کر سکتا یہ کہہ کر امام حسین علیہ السلام اپنے چاہنے والوں کے ساتھ باہر نکل گئے”۔

    صبح حضرت امام حسین علیہ السلام گھر سے نکلے، مدینہ کے بازار میں مروان سے سامنا ہوا۔ مروان نے کہا کیا فیصلہ کیا تو آپ نے فرمایا میں یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔ اسکے بعد آپ نے مدینہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اپنے نانا کے مرقد پر آئے اور وہ شب آپ اپنے نانا کے مزار پر ہی رہے، اسکے بعد آپ نے مدینہ کو چھوڑ دیا۔

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یزید کی بیعت سے انکار کے بعد آپ نے یزید کے خوف سے مدینہ منورہ سے ہجرت کی حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو حضرت امام حسین کسی خفیہ راستے سے مکہ جاتے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک قافلے کی شکل جس میں گھوڑے، اونٹ ، ناقے جو گھریلو سامان سے لدھے ہوئے تھے سب مرکزی شارع سے مکہ گئے۔ بہت سے لوگوں نے آپ کو خاموشی سے نکلنے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن آپ نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت امام حسین نے کیونکہ بیعت سے انکار کردیا تھا اسلیے آپ چاہتے تھے کہ لوگوں کو اس بات کا پتا چل جائے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام مدینہ سے کسی ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں نکلے بلکہ لوگوں کو ایک اشارہ دیا کہ اب یہ وقت مدینہ میں محفوظ بیٹھنے کا نہیں، بلکہ کربلا سجانے کے عزم کے ساتھ اٹھ کر یزیدی نظام حکومت کے خلاف قیام کا وقت ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے امام حسین علیہ السلام نے محض سوال ِبیعت کی بنا پر مدینہ نہیں چھوڑا بلکہ ظالمانہ حاکمیت کے خلاف آپ پہلے سے ہی قیام کا ذہن بنا چکے تھے۔ سوال ِبیعت نے اتنا ضرور کیا کہ آپ کو وہ موقع فراہم کر دیا جو آپ کے سفر کا نقطہ آغاز بنتا، اور آپ نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کے ذریعہ کربلا کی تعمیر کی صورت اسکا آغاز کر دیا۔

    ۲۸ رجب سن ۶۰ ہجری میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ آپ ۲۹ رجب المرجب کی رات مدینہ سے نکل گئے اور اس سفر میں آپکے ہمراہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم (ع)، حضرت عباس بن علی (ع) حضرت علی اکبر بن حسین (ع)اور آپکے دیگر اہلخانہ موجود تھے۔ حضرت زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما کو ملا کر آپکی ۱۳بہنیں اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہن حضرت جمانہ بنت ابوطالب (ع) اور ۹ کنیزیں آپ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے، اس قافلے میں حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بعض زوجات کے علاوہ ۱۶ افراد وہ تھے جنکا تعلق حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام و خانوادہ جناب مسلم بن عقیل سے تھا۔ اصحاب ِباوفا کے علاوہ ۱۰ غلام بھی آپکے ہمراہ تھے۔
    حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ پہنچ کر وہاں کم و بیش 4 مہینے قیام فرمایا اور 8 ذوالحجہ کو مکہ سے کوفہ کی جانب سفر شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو راستے میں حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی اور پھر راستے میں آپکو ابن زیاد کا پیغام پہنچایا گیا کہ آپ کوفہ نہیں جاسکتے بلکہ آپکو شام لے جانے کا حکم ہے لیکن آپ کے انکار کے بعد آپ نے اپنے قافلے کا رخ کربلا کی جانب موڑ دیا۔ 2 محرم کو آپکا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور آپ نے اس جگہ کا نام پوچھا تو بتایا گیا کہ اس کا نام کربلا ہے تو آپ نے اسی وقت وہاں پڑاو ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہی ہماری مقتل گاہ ہے۔

    ‏@warrior1pak