مردم شماری 2017 کے مطابق پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی دیہی ہے جن کا زریعہ معاش براہ راست یا بالراست زراعت سے وابستہ ہے اس کے علاوہ شہری آبادی کا بھی زراعت سے گہرا تعلق ہے پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، زراعت شماری 2010 کے مطابق پاکستان کی تقریباً سات کروڑ ایکڑ سے زائد اراضی قابل کاشت ہے جس میں سے تقریباً چار کروڑ ایکڑ سے زائد رقبہ آباد اور تقریباً تین کروڑ ایکڑ رقبہ پانی کی قلّت و دیگر وجوہ کی بنا پر غیرآباد ہے، پاکستان کی زراعت کا انحصار تین مغربی دریا سندھ، چناب، جہلم پر ہے جن کے منبع مقبوضہ کشمیر میں ہیں، جنت ارضی جموں و کشمیر تاریخی و جغرافیائی، مذہبی و ثقافتی جملہ اعتبار سے پاکستان کا جزولاینفک ہے اور آبی اعتبار کے نقطہ نظر سے پاکستان کی شہ رگ ہے جو تقسیم ہند کے بنیادی اصول یعنی مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے کے مطابق قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتے تھے مگر قادیانیت کی سازش سے بھارت نے غاصبانہ قبضہ کرلیا جس کے خلاف کشمیر کے مسلمانوں نے علم جہاد بلند کیا جن پاکستانی مسلمانوں نے دل و جان سے مدد کی، مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں کئی بار خونریز جنگیں ہوچکی ہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک میں شروع سے ہی پانی پر تنازعہ کھڑا ہوا جوکہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ایک معاہدے کے تحت حل ہوا جس کے تحت تین مغربی دریا راوی، ستلج، بیاس پر بھارت اور سندھ، چناب، جہلم پر پاکستان کا حق طے پایا مگر بعد میں اس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوے بھارت نے پاکستانی دریاوں پر کنٹرول کرنا شروع کردیا اور کھلم کھلا آبی دہشتگردی کررہا ہے اس ضمن میں بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوے پاکستانی دریاوں پر بڑے پیمانے پر ڈیم بنارہا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی 1970 کی خلاف ورزی کرتے ہوے ستلج، بیاس، راوی کا پانی روک رہا ہے اس عالمی معاہدے کے مطابق کسی بھی دریا کے زیریں حصے کا سو فیصد پانی نہیں روکا جاسکتا، بھارت سازش کے تحت بارشوں کے موسم میں ایک ساتھ پانی چھوڑ کر سیلابی صورتحال پیدا کردیتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو لاکھوں ایکڑ زراعت و دیگر مالی جانک نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کا زمہ دار عالمی بینک بھی ہے جو بھارت کو پاکستانی دریاوں پر ڈیم بنانے کی اجازت دے رہا ہے جسکے پاکستان پر سنگین اثرات پڑ رہے ہیں ہیں، جن میں صحت کے مسائل، سمندری حیات کو نقصان، جنگلات کی کمی، صحرازدگی، بڑے پیمانے پہ زمینی کٹاو، معاشی و جانی نقصان اور دیگر ماحولیاتی مسائل سرفہرست ہیں، بھارت صنعتوں کا زہریلا پانی اور زہریلے کیمیکل پاکستان میں ایک سازش کے تحت پانی میں چھوڑ کر بڑے پیمانے پر انسانی نسل کشی کا مرتکب ہے اور بھارتی ڈیمز کی تعمیر کے باعث چناب، جہلم اور سندھ جوکہ Meandering دریا ہیں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کی تباہی ہوچکی ہے لاکھوں ایکڑ جنگلات ختم ہوچکے ہیں، کئی لاکھ خاندان متاثر ہوکر زریعہ معاش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، دریائے زرد چین پر Sanmenxia Dam کی تعمیر کے باعث 1961 سے 1964 کے درمیان بڑے پیمانے پر Bank Erosion ہوا اور دوسری بار Xiaolangdi Dam کی تکمیل کے باعث 1998 سے 2004 کے درمیان بھاری زمینی کٹاو کا سامنا کرنا پڑا، دریائے ڈینیوب یورپ کا تاریخی و مشہور دریا ہے جسے ہنگری نے navigational اور سیلابی کنٹرول کے مقاصد کے حصول کے تحت modify کیا جس کے نتیجے میں بلغاریہ، سربیا وغیرہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، دریائے نیل نے انسانی سرگرمیوں کے زیر اثر مصر میں خوب تباہی مچائی، ان نقصانات کے پیش نظر یورپی ممالک سمیت عالمی سطح پر اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ دریاوں کے قدرتی بہاو کو زیادہ نہ چھیڑا جائے اور دوبارہ بحال کیا جائے جبکہ بھارت وہ ملک ہے جس کے دریا پہ کنٹرول کے خواب کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر لوگ اپنی زرعی اراضی سے محروم ہورہے ہیں دریائے سندھ نے گھوٹکی، راجن پور، مظفر گڑھ کلور کوٹ جھنگ اور دیگر بہت سے اضلاع میں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کیا ہے، دریائے جہلم اور چناب آج کل وسیع پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں، ملتان ڈویژن کے علاقوں میں لوگ اپنی بےبسی پر رورہے ہیں کیونکہ چناب نے ہزاروں ایکڑ رقبہ کا کٹاو کردیا ہے جوکہ بھارتی آبی دہشتگردی کے باعث ہورہا ہے، نتیجتاً لاکھوں افراد کا زریعہ معاش ختم ہونے کے ساتھ ساتھ بھاری غذائی و زرعی نقصان بھی ہوا ہے، اب سے پہلے پاکستان کے پالیسی سازوں اور حکومتوں نے سنگین غفلت اور غیرزمہ داری کا مظاہرہ کیا جس سے پاکستان کو نہ صرف پانی کی کمی کا سامنا ہے بلکہ ہر سال بھاری نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت کو پہلی فرصت میں سنجیدگی کے ساتھ بھارتی دہشتگردی اور ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی دنیا کے سامنے رکھنی چاہئے، تمام متعلقہ تنظیموں کو رپورٹس دینی چاہئے اور ان کے اشتراک سے یا عالمی ماہرین کو طلب کرکے بھارتی دہشتگردی کو دنیا کے سامنے رکھنا چاہئے، ورلڈ بینک کی طرف سے بھارت کو ڈیمز کی تعمیر کی اجازت جوکہ میرٹ اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے صرف لابنگ کی بنیاد پہ دی گئی، اس سازشی اجازت کو عالمی عدالت میں فوری طور پہ چیلنج کرکے ورلڈبینک کو بھی گھسیٹے اور ہرجانے کا دعویٰ دائر کرے، عالمی سطح پر مہم چلا کر بھارتی دہشتگردی کو بےنقاب کرے جو آگے چل کر خونریز جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔
Category: بلاگ

مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور
نئی حکومت کے آتے ہی تجاوزات آپریشن کی آڑ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیات سے قبضے واگزار کرانے کے لیے اور اپنی دلی تسکین کے لیے پورے ملک میں تباہی مچا دی گئی مگر اس کا حاصل کیا ہوا کیا ان واگزار کروائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین سے کوئی فائدہ مل رہا ہے جبکہ اس کو قانونی طریقے سے بولی کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے لیز پر دے کر اچھی خاصی انکم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ دوسری طرف وہ بے روزگار طبقہ بھی کام میں لگ سکتا تھا جو آج اسی تجاوزات اور واگزار آپریشن میں عام مزدور طبقہ ملازم طبقہ متاثر ہوا ہے۔
لیکن اس آپریشن سے الٹا لوگ بے روزگار کاروبار تباہ املاک تباہ زمینیں واگزار مگر فائدہ کچھ نا ہوا ہے البتہ کرائم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک میں لوگ پھر یا تو مانگ کر کھائیں گے یا چھین کر اور روز روز بھی کون مانگنے پر دیتا ہے۔۔
اگر وہی سرکاری املاک یا زمینوں یا پتھاروں پر سال چھے ماہ کے لیے ٹیکس لگا دیا جاتا تو اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جاسکتا تھا اور ایک سال یا چھے ماہ کا نوٹس دے کر ختم بھی کیا کرایا جاسکتاتھا جس سے نقصان بھی نا ہوتا اور لوگ اپنا کوئی متبادل بھی بنا لیتے یا شفٹ کرلیتے اپنے کاروبار دکانیں وغیرہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ملکی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو پہلے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ لاگو کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں تو قانون اتنے بنا دیے کہ اب اگر لاگو ہوجائیں تو بندہ ایک دن بھی جی نہیں سکتا کسی نا کسی قانون میں دھر لیا جائے گا اور جو قانون بنتا ہے دوسرے دن لاگو اور عمل درآمد شروع جس سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں
جبکہ دوسری طرف عوام کو این ٹی این کے چکر میں ڈال کر ذلیل و خوار کر دیا گیا۔ آج نیب اور ایف بی آر کے خوف سے پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا اور آج کی ایک اور بری خبر بھی آگئی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے
حکومت نے عوام پر آج یکم اگست 2019 کو ایک اور بم بھی گرادیا ہے۔وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری منظور کر لی اوگرا کی سفارشات پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 132.47 روپے۔ مقرر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔
آج اپوزیشن کی کی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے مہنگائی کرنے کی ڈیل کی خبریں بھی سچ ہونے لگیں ہیں جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے ہر آنےوالا دن متوسط اور غریب لوگوں پر بم بن کر گر رہا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے
لوگ ویسے تو ہر دور میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ جو چیز پاکستان میں ان کو 100 روپے کی ملتی ہے وہی چیز دوبئی میں 500 روپے کی بڑی خوشی کے ساتھ خریدتے نظر آتے ہیں تو اس مہنگائی کا رونا رونے کی اصل وجہ لوگوں کو آج تک شائد سمجھ نہیں آسکی ہے۔ اصل میں مہنگائی کا رونا انسان اس وقت روتا ہے جب اس کے پاس آمدن ۔ انکم ۔ آمدنی ۔ کاروبار ۔ روزگار ۔ ذرائع آمدن نہیں ہوتے اور ضروری خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تو وہ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں اگر ہر انسان کی بنیادی ضروریات اور خرچے بھی پورے نا ہوں تو وہ بے چارے پریشانی کے عالم میں بس مہنگائی مہنگائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل بات کی ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔
یہی صورتحال آجکل کچھ پاکستان اور اس کی عوام کی ہے جو آپ کو بھٹو دور میں بھی شائد اگر کچھ یاد کرنے پر مہنگائی کا رونا روتی نظر آئی ہوگی تو کبھی بے نظیر بھٹو تو کبھی نوازشریف تو کبھی آصف زرداری تو کبھی عمران خان کے دور میں بھی مہنگائی مہنگائی کا رونا روتی نظر آتی ہےضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت پاکستان ایسے حالات اور پالیسیاں مرتب کرے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہو لوگ اپنے اپنے کاموں روزگار کاروبار میں مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوں
یہ محاظ آرائی کی موجودہ پالیسیاں عمران خان اور حکومت کا طریقہ عوام میں اور ملک پاکستان میں افراتفری پریشانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو کوئی پرواہ نہیں ہے کسی بھی کرپٹ یا کسی بھی دہشت گرد کوچاہے کسی کو بھی پھانسی لگا دیں مگر خدارا عوام کو اس پریشانی کے عالم سے نکالیے اب آپ کی لچھے دار تقریریں بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اب صرف یہی بات بار بار کر کر کے آپ اچھے نہیں بن سکتے کہ فلاں برا تھا فلاں غلط تھا کچھ کر کے آپ کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے جو تاحال عملی طور پر کچھ نا ہوسکا ہے البتہ باتیں بہت بڑی بڑی ضرور ہیں کیونکہ عمران خان صاحب اب تک آپ نے پاکستانی عوام کو کچھ نا دیا ہے البتہ چھینا ضرور ہے اور آپ کے اداروں میں بھی عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ان کے کام میرٹ انصاف اور وقت ضائع کیے بغیر نہیں ہو رہے ہیں آج بھی وہی تھانہ کلچر وہی افسر شاہی کلچر وہی کرپشن کلچر وہی لوڈ شیڈنگ وہی سرکاری اداروں میں زلالت اور خواری ہے آج بھی تھانے میں ایم پی اے ایم این اے کی مرضی کے بغیر پولیس والے ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں یا پھر قائد اعظم کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ بس صرف رپورٹیں سب اوکے اوکے اوکے کی ضرور کی جا رہی ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام آج جتنی مشکلات پریشانیوں کا شکار ہے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد اتنی نا تھی یا شائد ہم نہیں جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی 40 سالا زندگی میں اتنے پریشان لوگ نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔
*امید رکھتے ہیں حکومت و حکمرانوں کی آئندہ پالیسیوں کا محور عام آدمی ہوگا اور اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے زبانی سے زیادہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
رہے نام اللہ کا

قادیانی مرزائی زندیق مرتد کافر(اسلام کے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بھی ازلی ابدی دشمن ہیں) حافظ عبدالرحمٰن منہاس گوجرانوالہ
قارئین کرام یہ بات کسی بھی مومن مسلمان سے ڈھکی چھپی ہی نہیں کہ قادیانی مرزائ دنیا کے بدترین زندیق کافر مرتداوریہود ونصارٰی ہندوبنیاکے آلہ کا رہیں اور یہودونصارٰی ہندو بنیاقادیانیوں مرزائیوں کو اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں اور پاکستان کوٹکڑےٹکڑےکرنے کے ناپاک خواب دیکھ رہے ہیں جو کہ اللہ کے فضل و کرم سے کبھی پورے نہیں ہوسکتے
1پاکستان پر قبضہ کرنے کے غلیظ ارادے
ایک مرزائ قادیانی زندیق کافر کا بیان پڑھیے اور غور کیجئے کہ یہ کتنے پاکستان کے خیرخواہ ہیں بلوچستان کی کل آبادی پانچ لاکھ یا چھ لاکھ ہے ۔زیادہ آبادی کو احمدی بنانا مشکل ہے لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنالیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو گا جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے پس میں جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگو ں کیلئے یہ عمدہ موقع ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں ۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بنالو تا کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔ ( مرزا محمود احمد کا بیان مندرجہ الفضل ١٣اگست ١٩٤٨)
2قادیانی مرزائ زندیق کافر مرتد پاک و ہند کی تقسیم پر بھی رضامند نہیں
ذرہ غور کیجیے اور ان لوگوں سے اپنے ایمان اور ملک پاکستان کو بچائیے
ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہوجائیں ۔
(مرزا بشیر الدین محمود احمد ، الفضل ، ربوہ ، ١٧مئی ١٩٤٧)
یہاں میں آپ دوستو کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ قادیانی حضرات اپنے مردوں کو امانتا دفن کرتے ہھیں اور ان کا عقیدہ ھے کہ اکھنڈ بھارت بننے کے بعد یہ اپنے انجہانی مردوں کی ہڈیاں بھارت میں واقع قادیان کے قبرستان میں جا کر مٹی میں دبائیں گے3قادیانیوں مرزائیوں کی پاکستان سے ازلی و ابدی دشمنی
اللہ تعالیٰ اس ملک پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیگا ۔ آپ (احمدی) بے فکر رہیں ۔ چند دنوں میں (احمدی )خوشخبری سنیں گے کہ یہ ملک صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہو گیا ہے۔
( مرزا طاہر قادیانی خلیفہ چہارم کا سالانہ جلسہ لندن ١٩٨٥)
قارئین کرام مضمون میں انکے غلیظ منصوبے غلط ارادے بیان کرنے کا مقصد کہ اہل ایمان جاگیےاور اپنا دشمن پہچانیئے اپنے دین کا دشمن پہچانیئے اپنے اللہ کا دشمن پہچانیئے اپنے رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن پہچانیئے ملک پاکستان کا دشمن پہچانیئے اور ہر طرف سے انکا بائی کاٹ کیجئیے اور انکے ہر پراپیگنڈہ کا مثبت جواب دیجئیےتانکہ تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کی چوکی داری کاحق ادا ہوسکےاہل ایمان حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیئےاور اس پاک سرزمین کے لیئے اپنا اپنا کردار ادا کرو یہ اب وقت کی اہم ضرورت ہے
کیا انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے؟؟؟فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
عموماً سننے میں آتا ہے کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے۔ اس لیے اس کو سیکھنے کا التزام بڑے تزک و احتشام سے کیا جاتا ہے۔ اور اس کو سیکھنے کے بعد اس پر اترایا بھی جاتا ہے۔ آئیے جائزہ لیا جائے کہ کیا انگر یزی واقعی ایک
بین الاقوامی زبا ن ہے؟
پاکستان کی غلام اشرفیہ انگریزی
کی بین الاقوامیت کا پراپیگنڈہ کر کے اسکے تسلط کاجواز پیدا کرتی ھےجبکہ حقیقت یہ ھےکہ انگلش صرف امریکہ برطانیہ آسٹریلیااورنیوزی لینڈ کی زبان ہے۔ کینیڈا کے آدھے حصےمیں ںولی جاتی ھے یورپ میں برطانیہ کےعلاوہ کہیں نہیں بولی جاتی. حتی کہ یورپی یونین کی کرنسی، جھنڈا اور پارلیمنٹ ایک مگر کیا اس کی زبان بھی ایک ھو یہ آج تک کسی نےنہیں سوچا!
انگلش کی محدودیت کا اس سےبڑا ثبوت اور کیا ھو گا؟ا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا انگریزی کی بین الاقوامیت صرف پاکستان تک ہی محدود ہے دنیا کہ کسی اور ملک نے بھی اس کی بین الاقوامیت کا پرچار اپنے اوپر بھی ایسے ہی مسلط کیا ہے جیسے یہ پاکستان میں ” تھوپی” گئی ہے؟
سوچیے گا ضرور ………!
آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم
آج یونیورسٹی میں ایک دوست نے بڑا ہی عجیب سوال کر ڈالا کہ "آج پوری دنیا میں مسلمان اپنا مقام کیوں کھو چکے ہیں، مسلمانوں کو حقارت بھری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟”
کہنے کو تو یہ ایک عام سا سوال ہے لیکن اس سوال کے پس منظر میں چھپے اسباب بہت ہی کڑوے ہیں، کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہم اپنا مقام کھو چکے ہیں، دنیائے کفر ہم پر چڑھ دوڑی ہے اور ہم بے بسی اور بے حسی کے تصویر بن چکے ہیں، جو دین آیا ہی غالب ہونے کے لیے تھا آخر اس کے پیروکار بے یارو مددگار کیوں ہو گئے.
شاید اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھاشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!آخر ہم کیوں بدنام نہ ہوتے، ہر وہ کام جس سے ہمیں ہمارا دین اسلام منع کرتا ہے ہم نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے، کہلوانے کو تو ہم سب مسلمان ہیں لیکن کیا ہم میں کوئی ایسی صفت موجود ہے جو ہمیں ایک کامل مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہو، اگر آج ہم اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں تو شاید ہی ہم اپنے اندر کوئی ایسی صفت تلاش کر پائیں جو ایک سچے اور کامل مسلمان کا خاصہ ہونی چاہیے، فرقہ واریت کے ناسور نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے.
ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘آج ہم فرقوں میں اس قدر بٹ چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں، اپنے اپنے فرقوں کے بنائے گئے خود ساختہ خول میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے ہیں، غیر اسلامی رسومات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا چکے ہیں.
یہ دنیا فانی ہے ہر ذی روح نے اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے، کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ قبر میں جب فرشتے ہمارا حساب کتاب کرنے آئیں گے تو کیا وہ ہم سے یہ سوال کریں گے کہ بتا تیرا فرقہ کیا ہے؟ تو کس فرقے کا پیروکار ہے؟
ہر گز نہیں! فرشتے نے ہم سے یہ سوال کرنے ہیں کہ بتا تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تو کیا ہم اس وقت اندھیری قبر میں فرشتے کے ان سوالوں کے جواب دے پائیں گے، جس طرح ہم زندگی کے امتحانات کے لیے بھر پور تیاری کرتے ہیں اسی طرح ہمیں قبر کے امتحان کے لیے بھی تیاری کرنا ہو گی.
ہمارا اللہ بھی ایک، ہمارا رسول بھی ایک اور ہمارا دین بھی ایک تو پھر آخر ہم منتشر کیوں ہیں.
ٹرک کی بتی کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں حق اور سچ کو تلاش کرنے اور جاننے کی کوشش کریں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں، دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تعمیل کرنا ہو گی، فرقہ واریت کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا، محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا.
نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اس دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے.
اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو. آمین
دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ
سردار کوڑے خان جتوئی ضلع مظفر گڑھ کا ایک رئیس گزرا ہے۔ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود اپنی معاملہ فہمی ، تدبر ، سخاوت اور رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتا تھا ۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ” خان بہادر ” کے خطاب سے نوازااور انہیں آنریری مجسٹریٹ کاعہدہ دیا گیا۔انہوں نےسر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک میں برصغیر میں سب سے زیادہ فنڈ دئیے، جو کہ تاریخ کا حصہ ہے۔
سردار کوڑے خان نے پانچ شادیاں کیں لیکن خدا کی مرضی کہ ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔انہوں نے 1892ء میں اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ تقریبا ایک لاکھ (100000) کنال زمین رفائے عامہ کے کاموں کے لئے وقف کر کےاس وقت کی حکومت کے حوالے کر دی جو بعدازاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد ہو گئی۔اس زمین کی آمدنی کیا تھی اور یہ کہاں خرچ ہوتی تھی اس کا کوئی حساب نہ رکھا گیا اور یہ مال غنیمت کی طرح کئی دہائیاں خرد برد ہوتی رہی۔ضلع کونسل نے 1983 ء میں سردار کوڑے خان پبلک سکول کی بنیاد رکھی اس سکول کو پہلے پانچ سات سال تو ضلع کونسل نے چلایا پھر خود مختیار ادارہ بنا کر اس سے ہاتھ کھینچ لیاگیا۔ دو چار سال ایک مختصر سی سالانہ گرانٹ بھی دی جاتی رہی جو بعد میں 1992ء میں بند کر دی گئی۔اس کے بعد یہ ادارہ خود کماؤ خود کھاؤ کے اصول کے مطابق چلنے لگا۔انہی دنوں حکومت کی طرف سے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر ڈویژنل پبلک سکول بنانے کے لئے فنڈ آئےجس کے لئے زمین بھی دی گئی تھی لیکن معلوم نہیں کیوں مظفر گڑھ میں "ڈویژنل پبلک سکول ” نہ بن سکا بلکہ سردار کوڑے خان پبلک سکول کو ہی” ڈویژنل پبلک سکول” کے طرز پر چلایا جانے لگا۔سکول کا انتظام چلانے کے لئے اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز بنائے گئے۔ڈویژن کے کمشنر کو اس بورڈ کاچئیر مین اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو اس کاوائس چئیرمین بنایاگیا جبکہ سکول کا پرنسپل اس کا جنرل سیکرٹری ہوتا تھا۔ کمشنر کی مصروفیات کے باعث اکثر اوقات ڈپٹی کمشنر ہی کمشنر کی نمائندگی کرتا اور تمام معاملات بورڈ آف گورنرز کی مشاورت سے طے پاتےرہے۔سردار کوڑے خان پبلک سکول جس کا آغاز ایک پرائمری یا مڈل سکول کے طور پر ہوا تھا بہت سے گرم سرد حالات سہتا ہوا آگے بڑھتا رہا – 1994 ء میں کرنل صابر جب اس کے پرنسپل بنے تو اس سکول میں طلباءکی تعدار بمشکل دو اڑھائی سو تھی۔انہوں نے سکول میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور اس کو خود مختیار ادارہ بنا پر محنت کی اور اس کی بنیاد کو اتنا مضبوط کیا کہ لوگوں کا اس کی طرف رحجان ہوا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سکول تیزی سے ترقی کرنے لگا ۔ مختلف سربراہان کے دور میں بھر پور محنت کے بعد یہ ادارہ ضلع کے تعلیمی میدان میں اپنا منفردمقام بنانے میں کامیاب ہو گیا۔سردار کوڑے خان پبلک سکول پہلے سکینڈری بعدازاں 2001ء میں ہائیر سکینڈری سکول کے درجے پر پہنچ گیااور اس وقت اس سکول میں طلباء کی تعدا پندرہ سو کے لگ بھگ ہو گئی۔ 2005ء میں پروفیسر خورشید نے بطور پرنسپل اس ادارے کا چارج سنبھالا تو اس کے اندر انقلابی تبدیلیاں آئیں کئی نئی عماراتیں بنائی گئیں اور مختلف شعبہ جات کا آغاز کیاگیاساتھ ہی سکول میں نئے سٹاف کی بھرتی کے لئے ایک نیا اور جدید سسٹم متعارف کرایا گیا۔اساتذہ بھی اس سسٹم میں امتحان دے کر اگلے گریڈ میں ترقی کرتے تھے۔ اس دوران ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں اس سکول نے مسلسل میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں نمائیاں نتائج حاصل کیے۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد بھی چار ہزار کے قریب پہنچ گئی۔پروفیسر خورشید تقریبا نو سال پرنسپل رہے اورسکول کو مالی لحاظ سے بھی ایک مستحکم بنیاد فراہم کر گئے۔ان اصلاحات کی وجہ سے ہی آج اس سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد پینتالیس سو سے تجاوز کر چکی ہے۔اس دوران مظفر گڑھ کے ایک سرائیکی قوم پرست رہنما”مظفر خان مگسی ” نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سردار کوڑے خان جو جائیداد وقف کر گئے تھےاس کا ضلعی حکومت سے حساب لیا جائے ۔ کوئی تیس سال یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہااور بلآخرسپریم کورٹ نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا کہ سردار کوڑے خان کی ساری جائیداد کوقبضہ گروپوں سے واگزار کراکے اس کا ٹرسٹ بنایا جائے۔سردار کوڑے خان ٹرسٹ کا چئیر مین ڈسٹرکٹ سیشن جج مقرر کیا گیاساتھ ہی سردا کوڑے خان کے نام سے چلنے والے تمام سکولوں کو ٹرسٹ کے تحت چلائےجانےکا فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کے نتیجہ میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ قائم ہوا اورسردار کوڑے خان کی جائیداد کی آمدنی جو چند لاکھ روپے تھی تھوڑے ہی عرصے میں چالیس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پہلے 2005ء میں ضلع کونسل نے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بھی سردار کوڑے خان کے نام سے مڈل سکول بنا دئیے گئے تھےجو زیادہ تر سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول کی طرف سے دئیے گئے قرض اور امداد پر چلتے رہے۔ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سردار کوڑے خان پبلک سکول جتوئی،
سردار کوڑے خان پبلک سکول علی پوراورسردار کوڑے خان پبلک سکول کوٹ ادو کو ٹرسٹ میں لے لیا۔فروری 2019ء میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ کےچئیرمین ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو خط لکھا اور سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول مظفر گڑھ کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کو کہا لیکن ڈپٹی کمشنرمظفرگڑھ نےاس سکول کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کی بجائے سکول میں سے عارضی طور پر رکھے گئے اساتذہ کو نکال دیاتاکہ سکول کی کارکردگی متاثر ہو اور لوگوں کو اس سکول سے شکایت ہوں لیکن اساتذہ نے اپنی فطری محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے اس مسئلے کا سامنا کیا۔سال 2019 کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر نےسردار کوڑے خان سکول مظفرگڑھ کو ایک غیر سرکاری تنظیم care foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تو سکول کے اندر اور باہر سے آنے والے شدید ردعمل پر بلآخر انہیں اپنے فیصلہ کو عارضی طور پر ترک کرنا پڑا ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ڈپٹی کمشنر کا خیال تھا کہ والدین اور اساتذہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے سکول کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے ایک منصوبے کے تحت سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کوcare foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیاگیا اور اس پر موقف یہ اپنایا گیاکہ سکول کی گرتی ہوئی تعلیمی حالت کے پیش نظر سکول کو ترقی دینے کے لئے یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے ۔ اتفاقا میٹرک سالانہ امتحان 2019 ء کا رزلٹ آیا تو سکول کی ایک طالبہ نےنا صرف ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں بلکہ پورے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن لی۔اس طرح پورے سکول کا رزلٹ بھی پنجاب بھرمیں نمائیاں رہا۔تقریبا 450 بچوں نے میٹرک کا امتحان دیا جس میں سے 45بچوں نے 1050 سے زیادہ نمبر حاصل کیئے ،150 سے زائد بچوں نے 90 فیصد سے سے زیادہ نمبر لے کر A پلس گریڈ حاصل کیا ۔ صرف نو بچے ایسے ہیں جنہیں ایک یا دو مضامین میں سپلی لگی۔ پاس ہونے والے بچوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے فرسٹ ڈویژن نہ حاصل کی ہو ۔
ڈپٹی کمشنر کو سوچنا چاہیے یہ کس طرح سے گرتا ہوا تعلیمی معیار ہے جس میں سکول کےامتحانی نتائج کا مقابلہ ضلع بھر کا کوئی ادارہ نہیں کرسکتا ۔
سکول کسی کی امداد پر نہیں چلتاہے بلکہ اس کے بہترین کیمپس ،کوالیفائیڈ اساتذہ کی محنت کی وجہ سے آج سکول کے نام پر بنک میں کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے مسلسل بہترین نتائج کی وجہ سے آج ضلع کےہر بچہ کا خواب ہےکہ وہ سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کا طالب علم بنے۔ڈپٹی کمشنر کواگر اساتذہ سے اور اس سکول کے طلباء سے تھوڑی بہت بھی ہمدردی ہے تو اسے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ٹرسٹ کے حوالے کردیں جو کمی کوتاہی ہو گی وہ ٹرسٹ خود دیکھ لے گا۔اہلیان مظفرگڑھ آج حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس درویش صفت شخص سردار کوڑے خان کی طرف سے اللہ کے نام پر دی گئی اس وسیع جائیدادکی آمدن سے ہی اس بہترین ادارہ کو چلانے کے لئے اس سکول کو سردار کوڑے خان ٹرسٹ کے حوالے کرے۔اس سکول کو care foundation جیسی این جی او کے حوالے کر کے مظفرگڑھ کے اس اعلی درجہ کے تعلیمی ادارے کوبرباد نہ کیا جائے ۔
موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک
مشرق خصوصاً انڈو پاک میں موروثیت ہر شعبۂ زندگی میں نفوذ کرگئی ہے۔ موروثیت صرف سیاست میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں موجود ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف نہیں۔ ہم عموما سنتے ہیں کہ آباؤ اجدا کی روایات اور نقش قدم نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ مولوی کا بیٹا مولوی، کلرک کا بیٹا کلرک، استاد کا بیٹا استاد، چوکیدار کا بیٹا چوکیدار، پیر کا بیٹا پیر، چیئرمین کا بیٹا چیئرمین ،سیاست دان کا بیٹا سیاست دان یہ سب موروثیت کی مثالیں ہیں۔ جن کو عام زبان میں خاندانی پیشہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں سوچ وفکر کی کمی ہے۔ لہذا ہم ہر شعبۂ زندگی میں روایات پسند واقع ہوئے ہیں۔ روایات کو آگے بڑھاتے ہیں۔اور یہ سب سے آسان کام ہے۔ کیونکہ ہر کردار نے روابط پیدا کیے ہیں۔ ان آسانیوں کی وجہ سے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو ایڈجسٹ کرنا آسان ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر چوکیدار ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو با آسانی اپنی جگہ ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔ بیٹے کے لیے بھی چوکیداری آسان ہوتی ہے۔ مولوی صاحب اپنی جگہ بیٹے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں تاکہ یہ سیٹ کسی اور کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ اسی طرح سیاست دان بھی اپنے بچوں کو سیاسی میدان میں اتارتے ہیں۔ تاکہ جانشین کا کردار ادا کریں۔ اس وقت پاکستان کی اسمبلیوں میں 53 فیصد موروثی سیاست دان موجود ہیں۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا تعلق عوام سے نہیں۔ بلکہ یہ اسلام آباد ، پشاور ، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے پوش علاقوں کے بنگلوں میں عالی شان زندگی گزارتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں فصلی بٹیروں کی طرح نازل ہوتےہیں۔ مقامی لوگوں اور مسائل سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ پہلے زمانے میں ہر گاؤں میں چند کرائے کے ایجنٹ ملتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا نے آسانی پیدا کردی۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے سیاست اور سیاسی پارٹیاں فروغ نہیں پاتیں۔ یوں یہ موروثی سیاست دان ہر پارٹی کی ضرورت بن جاتے ہے۔ یہ موروثی سیاست دان الیکشن سے پہلے پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں۔ عوام بھی ذہنی طور پر موروثیت کی شکار ہوتی ہیں لہذا موروثیت جیت جاتی ہے۔ موروثیت ہمارا موروثی مسئلہ ہے۔ موروثیت کی شکست اس صورت ممکن ہے جب معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف ہو اور سوچنے کے زاویوں کو بدل کر کے رکھ دے۔

تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی
ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہوتی ہے اور میرا ماننا ہے کہ والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی بچوں کی تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور تعلیمی ادارے بھی بچے کی ثانوی تربیت گاہ کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اب والدین اور سکول دونوں بچے کی تربیت کے ذمہ دار ہیں.
کافی دنوں سے کچھ ویڈیوز نظروں سے گزری جس میں ایک عورت جو کہ ماسٹر ٹرینر ہیں جو مرد و زن اساتذہ کرام کو ایک ساتھ ٹریننگ دے رہی ہیں لیکن اس ٹریننگ میں وہ بچوں کو پڑھانے کے اطوار کی بجاۓ ان کو بے ہودگی کی طرف مائل کرنے کے طریقے سکھا رہی ہے تنگ لباس گلے میں دوپٹہ لئے ڈانس کے ذریعے اساتذہ کرام کو کونسے گر سکھاۓ جا رہے ہیں کبھی ٹریننگ کے نام پہ گھٹیا حرکتیں کی جا رہی ہیں کبھی بے ہودہ قسم کی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہے اب یہ ٹھونس اور زبردستی کی ٹریننگ کروانے کا کیا مقصد ہے کیا ایسی ٹریننگ پہ عمل کرنے والے اساتذہ کرام بچوں کو صحیح معنوں میں تعلیم دے پائیں گے یا پھر بچوں کی تعلیم و تربیت کے نام پہ ناچ گانے کے عمل کو ترویج دیں گے؟
اس کی کیا وجوہات ہیں ایسی ٹریننگز ہمیں کیوں کروائی جاتی ہے اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟
دراصل پاکستان بننے سے پہلے ہم پہ انگریز مسلط تھے اور ان کا ہی نظام تعلیم تھا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے 1947ء میں ان سے چھٹکارا تو حاصل کر لیا تھا لیکن ان کا نظام تعلیم آج بھی ہم پہ مسلط ہے جس سے ابھی تک ہم خلاصی نہیں پا سکے.
آج ہمارے ملک میں QAED وہ ادارہ ہے جو اساتذہ کی سروس سے پہلے اور سروس کے بعد ہونے والی ٹریننگز کو ڈیل کر رہا ہے اور یہ ادارہ بھی British Council کے تعاون سے چل رہا ہے اور کبھی US AID کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں سو اب جو بھی آپ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور آپ کے ادارے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا اور آپ جانتے ہیں کہ کفار کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے سو ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ آپ کے نظام تعلیم پہ راج کرے اور اپنی مرضی کے مطابق اس کو سلو پوائزن دے دے کے تباہ و برباد کر دیں.
ایسی بے ہودہ ٹریننگز بھی اسی بات کا شاخسانہ ہیں جس میں قابل احترام اساتذہ کو بھی تعلیم کے ڈھنگ سکھانے کی بجاۓ ان کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے ایسی ٹریننگز کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے اور ان میں برٹش کونسل کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس میں اردو بولنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی اور صرف اور صرف انگلش بولنے کی پابندی ہوتی ہے یعنی کہ جو فنڈ دے رہے ہیں ان کی زبان کی ترویج ہو گی اور ان کے بناۓ ہوۓ نوٹس لگواۓ جاتے اور ان کی ہدایات پہ مشتمل بے ہودہ سرگرمیاں (جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں) کروائی جاتی ہیں اور نہ کرنے والوں کو پیڈا ایکٹ کے نفاذ کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں.
ایسی ٹریننگ کئی حد تک سود مند ہو سکتی ہیں اگر ان کو صحیح مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوۓ سرانجام دیا جاۓ تو لیکن یہاں پہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس میں ہونے والی سرگرمیاں انگریزوں کے رسم و رواج کی عکاسی کرتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور یہی ان کی سرمایہ کاری کا اصل مقصد ہے.
ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہماری قومی زبان اردو کی ترویج کریں لیکن ہم تو اپنے ہی ملک میں دوسروں کی غلامی کرتے ہوۓ ان کی زبان اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ ہمارے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ایک بہت بڑا سبب ہے.
ہمیں اساتذہ کو اس طرح کی ٹریننگز کروانا ہوں گی جس سے وہ ایک باعمل اور بہترین معلم بن کر قوم کے بچوں کی خدمت کر سکیں نہ کہ مخلوط اور بے ہودہ قسم کی ٹریننگ کروا کے ان کو بھی معلم کی بجاۓ ڈانسر بنا دیا جاۓ.
سننے میں آیا ہے کہ قائد اعظم اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (QAED) نے اس عورت کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور اس ٹرینر کو ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے اور اس سرگرمی میں شامل ہونے والے افراد کے خلاف بھی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے.
لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک عورت کو لائف ٹائم بین کرنے سے کیا ہو گا کیونکہ انٹرنیٹ پہ تو بے بہا ایسی ویڈیوز موجود ہیں ان کے خلاف کون ایکشن لے گا کیا ایسے لوگ بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیتے ہوں گے کیا ان جیسے اساتذہ سے بچے اچھی تربیت لے پائیں گے یا وقت کے بہترین ڈانسر بنیں گے کیا ہمارے ادارے اچھے معلم پیدا کریں گے یا صرف فلموں ڈراموں کے ہیرو پیدا کریں گے؟
ہماری گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسے ٹرینرز کے خلاف ایکشن لینے کی بجاۓ ٹریننگ کا معیار بدلا جاۓ اور اس میں اصلاحات لائی جائیں اور اساتذہ کرام کو ایسی ٹریننگ دی جاۓ جس سے بچوں کو مزید اچھے طریقے سے پڑھانے کے طریقے سکھائیں جائیں اور ان میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین اصولوں کو مدنظر رکھا جاۓ تاکہ وہ ہمارے بچوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک ہو.
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین
نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
ابھی گزشتہ روز ہی وزیراعلی پنجاب نے آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں اردو ذریعہ تعلیم کاحکم یہ کہہ کر دیا کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے طلباء ترجموں میں الجھےرہتے ہیں۔اس لئے علم کے ابلاغ کے لئے پرائمری سطح پر تعلیم اردو میں دی جائے گی۔انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا۔ وزیراعلی پنجاب کے اس فیصلے سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔ جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار ائی تھی ۔یہ اس کا اب تک کیا گیا سب سے مقبول فیصلہ تھا لوگوں نے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شئر کیا۔اس پر تبصرے کئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو ذریعہ تعلیم کرنے کا یہ فیصلہ صرف پرائمری تعلیم تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر ثانوی سطح اور اعلی تعلیم تک بھی لے جایا جائے ۔ابھی لوگ اس فیصلے کو خوش امدید ہی کہہ ہی رہے تھے اس سلسلے میں اج کا روزنامہ جنگ کا اداریہ نے بھی موجودہ حکومت کے اردو ذریعہ تعلیم کرنے پر شاندار اداریہ تحریر کیا’ کہ انگریزی میڈیم اور اشرافیہ کے مفاد کے ” محافظ” وزیرتعلیم پنجاب جناب مراد راس نے آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ
"اردو میڈیم کا اطلاق صرف سرکاری اداروں پر ہوگا۔”
سوال یہ ہے کہ کیا وزیرتعلیم صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کے وزیر تعلیم ہیں؟ کہ ان کی پالیسی کی ذد میں صرف سرکاری ادارے ائیں گے؟ نجی انگریزی میڈیم ادارے اس حکم سے مستثنی ہونگے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ نفاذ اردو فیصلہ دستور کا تقاضا اور سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ کیا ائین پاکستان کا نفاذ ریاست کے کسی خاص گروہ پر ہوگا؟ اور باقی ” منتخب گروہ” کو ائین سے اسثثنی حاصل ہوگا؟
کیا ائین پاکستان تمام شہریوں کو تعلیم اور صحت کے مساوی حقوق نہیں دیتا؟
تیسری بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا نعرہ "یکساں نصاب تعلیم ‘ یکساں نظام تعلیم” تھا۔ کیا وزیرتعلیم مراد راس کا مذکورہ اقدام خود تحریک انصاف کی پالیسی سے انحراف نہیں ہے؟
سب سے بڑی بات نفاز اُردو کا حکم اس ملک کی سب سے اعلی عدالت دے چکی ہے اب اس حکم کی خلاف ورزی کرنا توہین عدالت ہے۔ اس فیصلے کو دینے والے محسن اردو سابق ایچی سونین چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سب سے پہلے نفاذ اردو فیصلے کو اپنی ذات پر لاگو کیا اس نے لاہور میں ایک سکول قائم کرکے اپنی ال اولاد کو مہنگے انگریزی میڈیم’ سکول سے اٹھا کر اپنے قائم کردہ سکول میں داخل کیا جہاں تعلیم سماجی مساوات کا عملی مظاہرہ ہے
جہاں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کررہا ہے۔۔
وزیرتعلیم ماشاءاللہ بے حد تعلیم یافتہ اور بیرون ممالک کے ڈگری یافتہ ہے ان سے سوال ہے کہ وہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر بتائیں کہ اور کتنے ممالک میں پرائمری تعلیم غیرملکی زبان میں دئیے جانے کا تماشا ہورہا ہے؟ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیں کے کیا کسی ملک میں سر کاری اور نجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعہ تعلیم میں بھی فرق ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کے بائس کڑوڑ عوام کو اپ تعلیم کے نام پر احمق کیوں بنا رہے ہیں؟
اپ اس ملک کے عوام پر رحم کریں!
جن .1 فی صد انگریز اشرافیہ نے اج اپ کو ہنگامی پریس کانفرنس کے لئے مجبور کیا ہے ان کو بالکل ائین پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں بالکل ” کورا اور سچا ” جواب دیں کہ ” میں نفاذ اردو فیصلے کے لئے عدالت عظمیٰ کے حکم کا پابند ہوں ‘ تمہارے مفادات کا نہیں۔ تم نے اپنے انگریزی میڈیم ادارے کھولنے ہے تو ان ممالک میں کھولو جہاں کی زبان انگریزی ہے ۔یہ پاکستان ہے یہاں کی زبان اردو ہے لہذا دنیا کے اصولوں کے مطابق یہاں کی عدالت ‘ سرکار ‘ تعلیم کی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی’ اگر اپ نے اپنے سکول قائم کھنے ہیں تو اس اصول پر اپ کو بھی عمل کرنا ہوگا”
پاکستان میں بہتر سال سے انگریزی جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے
سرکار ی زبان انگریزی
عدالت کی زبان انگریزی
تعلیمی زبان انگریزی
عسکری اور مقابلے کے امتحان کی زبان انگریزی
تمام ملازمتوں کے حصول کے لئے انٹرویو کی زبان انگریزی
اتنی انگریزی مسلط ہونے کے باوجود پاکستان نے علم سائنس ‘ اور ٹیکنالوجی میں کتنی ترقی کی ہے؟ اور جن ممالک نے پاکستان کے ساتھ یا بعد میں جنم لیا وہ اپنی زبان میں تعلیم کے بل بوطے پر کہاں جا پہنچے؟ چین اور کوریا اس میں سر فہرست ہیں۔
اعلی انگریزی میڈیم ادارے کا پیدا کردہ ایک سائنس دان یا انگریزی کا نوبل پرائز کا حامل ایک ادیب ہی بتادیں۔
ڈاکٹر عبدا لقدیر’ ڈاکٹر عبد السلام ‘ ڈاکٹر قمر الزماں سب اردو میڈیم ٹاٹ سکول کی پیداوار ہیں۔ اور اگر ان کا زریعہ تعلیم بھی میٹرک کی سطح تک انگریزی ہوتا تو یہ بھی کسی ادارے میں زیادہ سے ” بابو ” کی نو کری کر رہے ہوتے ۔پاکستان کبھی بھی ایک جوہری طاقت نہ بنتا۔ ان کی بنیاد اردو زریعہ تعلیم تھی۔
انگریزی کو بنیادی زریعہ تعلیم بنانے والوں نے اس ملک کو گونگی ‘بہری ‘ رٹاباز ‘ ٹیوشن مافیا’ ںوٹی مافیا’ اقدار و اخلاق سے عاری ‘ دونمبر ‘ نمود و نمائش ‘ بدعنوانی اور جعلسازی سے بھرپور قوم بنایا ہے ۔
وزیراعظم صاحب! اپ سے درخواست ہے کہ اپ وزیر تعلیم پنجاب کی اج نفاذ اردو فیصلے سے انحراف کی پریس کانفرنس کی جواب طلبی کریں۔ کیونکہ پاکستانی عوام اپ سے اپ کی اردو کی محبت سے واقف ہے اپ نے اپنی خود نوشت میں خود انگریزی غلامی بیزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔
آپ کا فرمان ہے’
” پاکستانیوں سے انگریزی میں بات کرنا بائیس کڑوڑ عوام کی توہین ہے”
اور ہم اس میں اضافہ کرتے ہیں کہ
پاکستان میں انگریزی کا ناجائز جبر برقرار رکھنے کی بات کرنا دراصل:
توہین فرمان قائد اعظم ہے
توہین آئین ہے
توہین عدالت ہے
توہین عوام
توہین وقار پاکستان ہے!
وزیراعظم صاحب! لوگوں کی نفاز اُردو کے لئے اپ سے بہت زیادہ امید یں وابستہ ہیں ۔براہ کرم ! انہیں مایوس نہ کیجئے!
براہ کرم! انگریزی کےناجائز تسلط اور غلامی کے خاتمے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے!
ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک
ملاحظہ کیجئے
پاکستان کے سب سے
پہلے نظریاتی اخبار "نوائے وقت” میں انگریزی غلامی میں لتھڑی ہوئی یہ تحریر! ” اس قوم پر رحم کریں”
فاضل کالم نگار اکرم چوہدری یا تو انتہائی جاہل مطلق ہے’ جنہیں نہ نفسیات کا علم ہے ‘ نہ اقوام متحدہ کے منشور کا علم ہے جو چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری اور رابطے کی زبان میں دو۔ پرائمری تعلیم کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو اپنی مقامی آبادی سے رابطے کے قابل بنانا ہے بعد میں جس کے ارتقاء میں وہ پورے ملک اور پوری دنیا سے رابطہ کرنے کی اہلیت حاصل کرسکتا ہے ۔
خود موصوف کالم نگار کے دوغلے پن اور غلامانہ روئیے کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ وہ انگریزی کے حق اور اردو کے خلاف اپنے دلی جذبات کا ظہار خود اردو میں کررہے ہیں۔ یا تو وہ انگریزی کا مقدمہ انگریزی میں لڑنے کی اہلیت سے محروم ہیں یا پھر انہیں پتا ہے کہ ” سودا پاکستان میں صرف اردو ہی میں بکتا ہے”
حیرت ہے کہ موصوف نہ تو سائنسدان ہیں ‘ نہ ماہر تعلیم ہیں’ نہ ہی فطرت اور تعلیمی نفسیات سے واقف ہیں لیکن انگریزی زریعہ تعلیم کء حق میں سر کھپائی یوں کر رہے ہیں۔ جیسے علم و دانش کا سمندر ہو!
معزز کالم نگار ! اپ پرائمری تعلیم کو انگریزی میں کرنے کا یہ مشورہ چین ‘ فرانس ‘ ایران’ ترکی’ کوریا’ جرمنی کے سر براہوں کو بھی بھیجیں ۔ اور وہاں سے جو جواب موصول ہو اس سے قوم کو بھی اگاہ کریں ۔
قوم کو بہتر سال سے پاکستان میں انگریزی دن رات مسلط ہے
مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان’ عدالت کی زبان ‘ سرکار کی زبان ‘ زریعہ تعلیم سب ” بین الاقوامی” زبان میں!
یہ بتائیے کہ پاکستان نے اج تک کتنی ترقی کی ہے؟
ویسے افسوس تونوائے وقت پر ہے جس نے مجید نظامی مرحوم کے انکھیں بند کرتے ہی ان کے نظرئیے سے نوے ڈگری کا انحراف کرلیا۔ کاش مجید نظامی مرحوم اپنا جانشین اپنی ہی طرح کا کسی نظریاتی پاکستانی کو بنا کر جاتے ! اے کاش !
اے کاش!
لارڈ میکالے کے اصلی اور کھرے غلاموں! تم اس قوم پر رحم کرو!
انگریزی کی مالا جپنے کے لئے تم پاکستان سے نکل جاؤ! وہاں جاکر اس کی رطب اللسانی اور اہمیت کے گن گاو جن ملکوں کی یہ زبان ہے!
انگریزی کی غلامی کا پرچار کرنا توہین عدالت
توہین ائین
توہین پاکستان
توہین عوام ہے!







