Baaghi TV

Category: بلاگ

  • یہ فرقہ بندیاں —بقلم فردوس جمال

    یہ فرقہ بندیاں —بقلم فردوس جمال

    کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دو بڑے عیسائی فرقے ہیں ان کے درمیان اس قدر اختلافات ہیں کہ یہ ایک دوسرے کا وجود تسلیم نہیں کرتے ہیں،1618ء سے 1648ء تک یہ وہ عرصہ تھا جب ہر فرقے نے دوسرے کو ختم کرنے کی جنگ لڑی اور اس جنگ میں 8 ملین لوگ مارے گئے یعنی جنگ عظیم دوم سے بھی زیادہ،اس قدر انسانی المیہ کے بعد انہیں ایک بات سمجھ آئی کہ کسی فرقے اور فرد کو قتل کرکے اس کی فکر اور اس کے نظریے کو نہیں مارا جا سکتا ہے.

    کسی فرقے کی فقہ،فکر اور مسلکی اپروچ سے اختلاف کرنا غلط نہیں ہے،صحت مند مکالمہ صحت مند سماج کی دلیل ہوتا ہے،ہاں مگر غلط یہ ہے کہ آپ مخالف کے خاتمے اور اس کی موت کے لئے تمنا کرے یا پھر عملی اقدام.
    ہمارے ہاں غلط یہ ہوا کہ بات مکالمے سے بڑھ کر مناظروں تک جا پہنچی اور مناظروں سے آگے چل کر فرقوں کی بنیاد پر مسلح تنظیموں کا وجود عمل میں لایا گیا.اس تقسیم کا اثر سماجی رویوں اور معاشرتی نفسیات پر بھی پڑا اور ہم دنیاوی معاملات میں بھی فرقوں کے زیر اثر آگئے،میرٹ کی بجائے فرقہ دیکھا گیا اور یوں ہم تنزل و زوال اور کاہش و ادبار کا شکار ہوگئے.

    ہمیں پاکستان کو مثبت سمت آگے لیکر جانا ہے تو لازم ہے کہ ہم دوسروں کو برداشت کرنا سیکھیں،صحت مند مکالمے کو فروغ دیں،اپنی فکر کو جمود کا دیمک لگنے نہ دیں.
    تحریر از فردوس جمال

  • جب ایف آئی آر درج نہ ہوئی ،                                                                            اسد بن سعید کا بلاگ

    جب ایف آئی آر درج نہ ہوئی ، اسد بن سعید کا بلاگ

    جب ایف آئی آر درج نہ ہوئی اسد بن سعید

    5 اگست 2017 کی شام میں حفیظ اللہ بھائی کی دوکان پر بیٹھا تھا کہ 2 مسلح ڈاکووں نے مجھے لوٹ لیا جب میں رپورٹ درج کرانے سدھوپوہ چوکی پہنچا تو وہاں موجود محرر اور تفتیشی اے ایس آئی نے میری تفتیش شروع کر دی. کتنے آدمی تھے؟ کس کس کے پاس گن تھی؟ تم اکیلے کیوں بیٹھے تھے؟ تمہارے پاس کیا تھا؟ حد تو یہ ہوگئی کہ میری تلاشی تک لے چھوڑی کہ جس پرس کو ڈاکو چھین کر لے گئے وہ اس مولوی نما سائل کی جیب سے ہی برآمد کر کے مدع ہی ختم کرو… خیر, مجھے غصہ آگیا اور میں نے ان دونوں کو کھری کھر سنا دیں کہ ایک تو میرا نقصان ہوا اوپر سے تم مجھے ہی چور بنانے پر تلے ہو. انہوں نے ایف آئی آر کیلئے اگلے دن ایس ایچ او کے ہاں پیش ہونے کو کہا اور خود کسی ضروری کام کیلئے روانہ ہوگئے.
    آج تک میرے ساتھ چار ڈکیتی, راہزنی کی وارداتیں ہوچکی ہیں جن میں سے ایک میں مجھے خنجر بھی لگے. جب جب میں تھانہ گیا ہر دفعہ پولیس کی نئی کہانیاں سن کر واپس ہوا. ایک دفعہ تو والد صاحب کی دوکان میں نقب لگاتی ہوئی چورنیوں کو رنگے ہاتھوں حوالہ پولیس بھی کیا لیکن وہاں بھی ہمیں ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا اور تھانہ غلام محمد آباد کے اے ایس آئی محترم خالد صاحب کو کسی پیر بابا کو فون پر یہ کہتے ہوئے ہم نے خود سنا کہ "بابا جی تسی پریشان نہ ہو, تواڈیاں ملنگنیاں اج چھُٹ جان گیاں بس دو چھوہر ہی تے آئے نو اینہاں دے پِچھے” یعنی بابا جی آپ پریشان نہ ہوں آپکی ملنگنیاں آج ہی چھوٹ جائیں گی ان کے پیچھے صرف دو لڑکے ہی تو آئے ہیں.
    ایک دفعہ مجھ سے پی ٹی سی ایل کی ٹیب چھین لی گئی جس کا ای ایم ای آئی نمبر اور اس میں موجود بِلٹ اِن انٹرنیٹ جوکہ راہزنی کے بعد بھی چل رہا تھا اس کے متعلق بھی بتایا اور سی پی ایل سی آفس جا کر زور دے کر بتایا کہ جناب آپ بہت آسانی سے اس ڈیوائس کی لوکیشن ٹریک کر کے اس گینگ کو پکڑ سکتے ہیں لیکن ہماری مستعد پیشہ ور پولیس کو توفیق کہاں کہ وہ اتنا آسان ٹارگٹ بھی حاصل کر سکے.
    اگر دیکھا جائے تو میں معاشرے کا ایک پڑھا لکھا, کچھ حد تک اثر و رسوخ رکھنے والا فرد ہوں لیکن پولیس سٹیشن کی حدود میں جاکر میری کیا اوقات رہ جاتی ہے یہ میں خوب سمجھ چکا ہوں. اگر ایسے حالات ہم جیسوں کے ہیں تو اندازہ لگائیے کہ پولیس کے سامنے ایک غریب یا ناخواندہ شہری کی کیا اوقات ہوتی ہوگی؟ ہمارے ہاں قانون کی بالادستی اور پولیس ریفارمز کے دعوے تو بہت کئے گئے لیکن انکو عملی جامہ پہنانے کیلئے کیا حکمت عملی ہے اسکا کسی کو علم نہیں. کوئی اپنے خاندان کے ساتھ جاتے جاتے بچوں کے سامنے مار دیا جائے یا اے ٹی ایم کے سامنے زبان نکالنے پر جوڑ جوڑ پر تشدد کر کے جان سے مار دیا جائے کوئی پوچھنے والا نہیں. یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں کسی کی کوئی اہمیت نہیں.
    آج سے چند دن پہلے تک لِفٹ مانگنے والے پولیس والوں کو اپنے گاڑی میں بٹھا لیا کرتا تھا لیکن اب سچ میں ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں یہ پولیس والے مجھ جیسے داڑھی والے کو صلاح الدین ہی نہ بنا چھوڑیں…
    ہاں میں جانتا ہوں کہ میرے کچھ دوست میری موجودہ سوچ سے اختلاف کرتے ہوئے یہ بھی کہیں گے کہ سب پولیس والے برے نہیں ہوتے کچھ اچھے بھی ہیں, تو ان سے میرا سوال ہے کہ فائزہ جیسے اچھے پولیس والوں کو استعفی دے کر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے کہ میں ایک غریب گھر کی لڑکی عوام کی خدمت کیلئے اس شعبہ میں آئی تھی لیکن یہ شعبہ کسی کا نہیں بنتا اس لئے میں استعفی دے کر اسے چھوڑ رہی ہوں.

  • پاکستانی ڈاکٹرز لائن آف کنٹرول پار کرنے کو تیار، دعاؤں کی اپیل

    پاکستانی ڈاکٹرز لائن آف کنٹرول پار کرنے کو تیار، دعاؤں کی اپیل

    پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے کشمیری بھائیوں کے علاج معالجے کیلئے لائن آف کنٹرول پار کرنے کیلئے مظفر آباد کے علاقے چکوٹھی پہنچ گئے، باغی ٹی وی کو وصول ہونے والی تفصیلات کیمطابق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کی سربراہی 29 ڈاکٹرز کا قافلہ اپنی مدد آپ کے تحت کشمیری بھائیوں کی مدد کیلئے مظفر اباد کے علاقے چکوٹھی پہنچ گیا اس قافلے میں تین لیڈی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق چکوٹھی کے مقام پر تمام ڈاکٹرز کی طرف سے پہلے مطاہرہ کیا جائے گا مطاہرے کے بعد قانونی طریقے سے بھارتی حکام سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کیلئے اجازت مانگی جائے گی اور اگر بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں علاج معالجے کی خاطر جانے کی درخواست رد کر دی گئی تو مظفر آباد واپس آ جائیں گے ، یادرہے کہ اس احتجاج و علاج معالجے کا اہتمام پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے کیا گیا ہے،

  • زید حامد کی کشمیرمتعلق 12 سال پہلے کہی گئی بات ثابت ہو گئی

    زید حامد کی کشمیرمتعلق 12 سال پہلے کہی گئی بات ثابت ہو گئی

    زید حامد پاکستان کے نامور دانشور اور دفاعی تجزیہ نگار ہیں جو دبنگ انداز میں حقائق کو ٹیلی ویژن پر بیان کرنے کے لحاظ سے جانے جاتے ہیں زید حامد شاید پاکستان کے وہ واحد دفاعی تجزیہ نگار ہیں جنہوں نے افغان مجاہدین کے ساتھ مل کرروسی افواج کیخلاف جنگ بھی لڑی ہوئی ہے، زید حامد نے 2007 میں برطانوی صحافی اناتول لیون کو آزادی کشمیر کے لائحہ عمل اور بھارت کی کشمیر کے بارے پالیسی کے متعلق انٹرویو دیا جو کہ اناتول لیون کی کتاب "پاکستان، اے ہارڈ کنٹری” اور حسین حقانی کی کتاب "ری ایمیجننگ پاکستان” میں شائع ہوا، اناتول لیون اپنی کتاب میں لکھتا ہے زید حامد کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل غزوہ ہند ہے، غزوہ ہند کی نشاندہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کی ایک حدیث مبارکہ میں بھی ہے زید حامد کیمطابق پاکستان جلد ہندوستان فتح کرے گا اور ریڈیو پاکستان کی ایک برانچ نیو دہلی میں کھولی جائے گی
    یادرہے یہ بات زید حامد نے آج سے 12 سال پہلے کہی تھی کی بھارت کشمیر سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے اور ان کی اکثریت والے علاقے کو ان کیلئے اقلیت والا علاقہ بنانے پر تلا ہوا ہے 5 اگست 2019 کو انڈیا نے کشمیر کی خصوصی خیثیت ختم کرکے زید حامد کی بات ثابت کردی ہےانڈیا ہٹلر کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر کشمیریوں کی نسل کشی کرے گا تو دوسری طرف اسرائیل کی پالیسی پرعمل پیرا ہو کر مسلم اکثریتی علاقے کو اقلیتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا

  • پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟  محمد عبداللہ

    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ!                                           فاطمہ قمر کا بلاگ

    محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! فاطمہ قمر کا بلاگ

    محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    یہ ہیں پاکستان کی بد عنوان ترین عدلیہ میں شفاف ترین نفاذ اردو کا فیصلہ تاریخ ساز فیصلہ لکھ کر پاکستان کی تاریخ میں امرہونے والے محسن اردو – سابق منصف اعلی جناب جسٹس جواد ایس خواجہ!
    جو صرف 23 دن عدالت عظمیٰ کی کرسی پر بطور منصف اعلی بیٹھے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے
    آخر ی لمحوں میں نفاذ اردو فیصلہ لکھ کر ریاست پاکستان ‘ آئین پاکستان اور فرامین قائد اعظم سے اپنی وفاداری کا حق نبھادیا۔ آپ کا ذریعہ تعلیم انگریزی میڈیم تھا’ آپ ایچی سن اور برکلے کے فارغ التحصیل ہیں۔۔لیکن فطری طور پر غلامی سے نفرت کا احساس لئے ہوئے ہیں۔
    آپ کا فرمانا ہے :
    ” پاکستان میں انگریزی کاسںب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ معاشرتی تفریق پیدا کرتی ہے’ کسی بھی ملک کے شہریوں کے لئے اس سے بڑا ظلم کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کے ریاست کے قوانین غیر ملکی زبان میں ہوں ‘ اگر کوئئ شہری کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ عدالت سے یہ کہہ کر اپنا جرم معاف کروا سکتا ہے کہ مجھے اس قانون کی زبان کا علم نہیں ہے۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ "جب بھی کسی اشرافیہ نے بزور ڈنڈا حکومت قائم کرنی ہو تو اشرافیہ اپنی زبان الگ رکھے گی اور عوام کی الگ’”
    آپ نے انکشاف کیا اور چیلنج کیا ہے کہ اگر چہ میں نے ساری زندگی قانون کی تعلیم انگریزی میں حاصل کی۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کے قوانین کچھ ایسی انگریزی میں رقم ہیں جنہیں میں اپنی تمام تر انگریزی فہمی کے باوجود نہ سمجھ سکا تو اسے عام شہری کیا سمجھے گا؟ اگر کوئی قانون دان مجھے ان قوانین کا مطلب سمجھادے تو میں اس کا بے حد ممنون ہوگا”
    جن دنوں اپ عدالت عظمی میں نفاذِ اردو کے تاریخ ساز مقدمے کی سماعت کررہے تھےاور اپنے تمام فیصلے اردو میں رقم کر رہے تھے۔۔انہی دنوں میں چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب کو مظفر آباد کے ایک پرائمری پاس دہقان نے ان کو اردو میں فیصلہ لکھنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہمیں اعزاز حاصل ہے کہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے وہ خط خاکسار کو بھی بھیجا۔ جس میں اس پرائمری پاس کسان نے لکھا ‘
    ” چیف جسٹس صاحب ! آپ نے میرے کیس کا فیصلہ اردو میں لکھا ہے ‘ میں اسے خودپڑھ سکتا ہوں ‘ اگر یہ فیصلہ انگریزی میں لکھا ہوتا تو پہلے تو مجھے دس ہزار کا ایک وکیل کرناپڑتا جو مجھے اس فیصلے کامطلب سمجھاتا’ دوسرا میرا دل بھی خوفزدہ رہتا کہ نجانے اس فیصلے میں کیا لکھا ہے؟”
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ فرماتے ہیں کہ یہ ہے وہ انقلاب جو پاکستان میں نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد سے رو نما ہوگا۔جس میں ایک پرائمری پاس بھی اپنے حقوق اورعدالت کی زبان سے واقف ہو سکے گا۔ اور ملک کے غلط قوانین کے خلاف سینہ سپر ہوگا۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے بتایا کہ اگرچہ کہ ” میں نے ساری زندگی فیصلے انگریزی میں رقم کئے ہیں’ لیکن جب میں نے اردو’ میں فیصلے لکھنے شروع کئے تو مجھے کوئی مشکل پیش نہیں آئی”
    انہوں نے نفاذ اردو کی اہمیت سے متعلق سب سے پہلا نوٹ سینئر صحافی’ کالم نگار ‘ اینکر پرسن حامد میر کے کیس میں لکھا۔ اس لئے ہم حامد میر کو یا د دلاتے ہیں کہ ابھی اپ پر نفاذ اردو کے حوالے سے پروگرام کرنا قرض ہے۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صرف انہوں نے زبانی طور پر ہی یہ فیصلہ نہیں لکھا ‘ بلکہ وہ نفاذ اردو قافلے کے عملی سپاہی ںھی ہیں۔پاکستان کی عدلیہ کی غلام تاریخ میں وہ پہلے چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے عہدےکا حلف اردو میں لیا۔
    ۔اپنے ملازمت سے سبکدوشی کے بعد لاہور میں ایک سکول قائم کیا ہے جہاں پر امیر و غریب کے بچے سب ایک ہی عمارت میں اردو’ زریعہ تعلیم ‘ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آپ نے اس سکول میں سب سے پہلے اپنے نواسی ‘ نواسوں کو داخل کیا ہے۔۔یہ سکول پاکستان کی اشرافیہ کی جانب سے قائم کردہ پہلا تعلیمی ادارہ ہے جو تعلیمی مساوات کا عملی نمونہ ہے۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے بائیس دن کی قلیل ترین منصف اعلی کی نشست پر سیکورٹی کی خصوصی سہولت لینے سے انکار کردیا’ کسی بھی قسم کے پروٹوکول کے بغیر اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتے۔۔ دوران ملازمت کسی بھی زرائع ابلاغ پر آنے سے گریز کیا۔
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے جب ںفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ رقم کیا تو آپ نے فرمایا ‘
    ” ہم نے نفاذ اردو کا پودا لگا دیا ہے”
    ہم محسن اردو سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ ” محسن اردو’ خواجہ صاحب ہم پاکستان قومی زبان تحریک کے پلیٹ فارم سے دن رات اپ لگائے گئے پودے کی آبیاری کررہے ہیں’ اس کو نہ صرف زرخیز ترین کھاد ڈال رہے ہیں’ بلکہ اس کو لاحق سونڈیوں ‘ کیڑے مکوڑوں فالتو جھاڑ جھنکار کا بھی مناسب سدباب کر رہے ہیں ان شاء اللہ ہم اس پودے کو ایک تنا ور’ سایہ دار درخت بنا کر ہی دم لیں گے ! ان شاءاللہ !
    بس اپ سے درخواست ہے کہ اب اپ اپنی خلوت نشینی ‘ اور درویشی کو خیر باد کہیں اور آکر تحریک کی قیادت سنبھالیں۔
    محسن اردو ‘ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نفاذ اردو فیصلہ رقم کرنے کے بارے میں ایک بات بہت عاجزی سے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہتے ہیں۔
    ” اے فیصلہ ‘ میں نئی کیتا’ اے اونے کرایا ہے”
    یقیناً پاکستان میں غلامانہ اشرافیہ میں اتنا تاریخ فیصلہ کوئی آزاد ‘ باحمیت ‘ قومی جذبے سے سرشار جج ہی اللہ کے خاص فضل سے دے سکتا تھا’ اور اللہ نے یہ فضل و رتبہ محسن اردو ” چیف جسٹس جواد ایس خواجہ ہی کو عطا کرنا تھا!
    یہ اس کی عطا ہے وہ جس کو چاہے اپنے کرم سے نواز دے!
    چیف جسٹس جواد ایس خواجہ صرف بائس دن کی قلیل ترین منصف اعلی کی نشست پر فائز ہو کر نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ رقم کرگئے۔جسے انکے بعدمیں آنے والےچیف جسٹس ثاقب نثار المعروف بابا رحمتاں اور ڈیم سرکار تین سال کی طویل مدت میں بھی عملی جامہ نہ پہنا سکے’
    افسوس ‘ صد افسوس !
    یہ سب اپنی دلچسپی اور قومی امور سے اخلاص کی تر جیحات ہیں۔
    فآ طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • کشمیر پاکستان کی شہ رگ                                            عاصم مجیدکا بلاگ

    کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجیدکا بلاگ

    کشمیر پاکستان کی شہ رگ عاصم مجید

    یہ جملہ میرا نہیں بلکہ ایسے دور اندیش شخص کا ہے جس کی بصیرت کی گواہی زمانہ دیتا ہے۔ جی ہاں ! بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا
    کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
    اس وقت ہر صاحب بصیرت کشمیر کی پاکستان کے لیے اہمیت کو جانتا ہے۔
    آزادی کشمیر ہی

    ہمارے آزاد پانیوں کی ضمانت
    سی پیک کی کامیابی کی ضمانت
    ڈیموں کی تعمیر کی ضمانت
    معدنیات کے حصول کی ضمانت
    سیاحتی کاروبار کی ضمانت
    پاکستانں معیشت کی کامیابی کی ضمانت

    اس میں کوئی شک نہیں آزادی کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔ کشمیری اپنے خون سے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
    میرے ہم وطنوں کشمیری خون بہا رہے ہیں وہ ہماری جنگ کے لیے شہادتیں پیش کر رہے ہیں ۔ شاید ہی کوئی گھر ہو جس میں کوئی شہید نہ ہو۔ شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس میں کسی ہماری ماں یا بہن کی عزتوں سے نہ کھیلا گیا ہو۔ کشمیر لفظ مظلومیت کا استعارہ بن چکا ہے۔
    کشمیری شہادتوں پر شہادتیں پیش کر رہے ہیں وہ اپنے لاشے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دنیا بھر کے انسانوں کو فیصلہ سنا رپے ہیں کہ کشمیریوں کا مستقبل پاکستان سے جڑا ہے۔ ان کے تین تین سال کے بچے پکار رہے ہیں
    ہم چھین کے لیں گے آزادی
    ہے حق ہمارا آزادی
    آئیں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی آواز پر لبیک کہیں۔ مسلمان تو ویسے بھی جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں۔

    قرآن اس کے متعلق فرماتا ہے۔

    وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ

    "اگر وہ دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے” ( الانفال ، 72 )

    آو میرے پاکستانیو!
    کشمیریوں کی پکار کا جواب دیں
    اپنے مال سے
    اپنی دعاوں سے
    سوشل میڈیا کی آواز سے
    پر امن احتجاج سے
    آئیں دنیا کے ضمیر کو جنجھوڑ ڈالیں۔ سوشل میڈیا ایک پانچویں نسل کی جنگ اس کو ہلکا نہ لیں اس محاز پر کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلا دیں۔ فیس بک ، ٹویٹر انسٹا گرام ان کو تفریح کے لئے نہیں بلکہ آزادی کشمیر کی تحریک کے لیے استعمال کریں۔

    میرے ہم وطنوں کشمیری سات دہائیوں سے اپنا خون پیش کر رہے ہیں آئیں ہم ان کے لیے پسینے بہا لیں۔ وہ کسی محمد بن قاسم ، خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی کو پکار رہے ہیں۔ آئیں اپنے ذاتی، سیاسی اور معاشی اختلافات بھلا کر متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ کیونکہ جن کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتے۔
    میری ارباب اختیار سے گزارش ہے سفارتی زرائع کا بھر پور استعمال کریں۔ دنیا کے منصفوں کو بتا دیں کشمیری ہمارے بغیر نہیں رہ سکتے اور ہم کشمیریوں کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ہم تب تک سکون سے نہیں بیٹھیں کے جب تک پاکستان مکمل نہیں ہو جاتا۔ کیونکہ

    ابھی تکمیل باقی ہے
    ابھی کشمیر باقی ہے

    اور اگر دنیا کے کان میں جوں نہیں رینگتی تو پھر
    جیسے میجر جنرل آصف غفور صاحب نے کہا:
    کہ ہم پاکستانی آخری گولی ، آخری سپاہی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے لیے لڑیں گے۔
    مودی سن لے !!

    اِس پار ملی تھی آزادی
    اس پار بھی لیں گے آزادی
    ان شا اللہ

  • پاکستان پر تنقید درست ؟ مگر جب بھارت  کی بات ہو تو تکلیف !   دہرا معیار کیوں ؟                                                  از                ملک جہانگیر اقبال

    پاکستان پر تنقید درست ؟ مگر جب بھارت کی بات ہو تو تکلیف ! دہرا معیار کیوں ؟ از ملک جہانگیر اقبال

    گزشتہ روز ہمارے پڑوسی (بھارت) کا چاند پہ پہنچنے کا مشن (چندریان 2) ناکام ہوا جو یقیناً بھارت جیسے غریب ملک کے لیے دھچکا تھا ، کسی کی ناکامی پہ خوشی منانا مناسب عمل نہیں لہٰذا اس پہ خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا .

    بات یہیں تک محدود رہتی تو ٹھیک تھی پر کل میری گناہگار آنکھوں نے جب پاکستان کے ایک مخصوص طبقہ کو بھارتی ناکامی پر بین کرتے دیکھا تو شاید تعجب تو نہ ہوا پر اس طبقہ سے آنے والی کراہیت مزید بڑھ گئی ، یہ وہی لوگ ہیں جو پاکستان کیجانب سے تیل کھدائی مشن کی ناکامی پر خوشیوں کے شادیانے بجا رہے تھے ، تب اس طبقہ کی روح میں موجود بھانڈ میراثی فیکٹر 100 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے جگتیں خارج کر رہا تھا .
    پاکستان سے انکے ازلی بغض کو دیکھتے ہوئے یہ حرکت بھی واجب النظرانداز سمجھی پر ضبط کے بندھن تب ٹوٹے جب اس طبقہ کی جانب سے بھارتی خلائی مشن کی ناکامی کو "انسانیت کی شکست” کہا جانے لگا ۔

    بندہ پوچھے ، او ظالمو کیا تمہیں خبر ہے کہ کل کشمیر میں کرفیو لگے پورا ایک ماہ ہو چکا ہے ؟ محض گزشتہ ایک ہفتے میں پیلٹ گن کے شکار 60 افراد سرینگر لائے گئے ؟ محض گزشتہ پانچ سال میں سینکڑوں کشمیری شہید کئے گئے ، جبکہ سینکڑوں نابینا ہو چکے ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ ریاستی سرپرستی میں بھارت میں مسلمانوں کو گائے رکھنے کے شبہ میں بھی بیچ چوک پہ مار دیا جاتا ہے ؟ کیا تم نے نہیں دیکھ رکھا کہ یہی بھارتی حکومتی اہلکار جلسوں میں ببانگ دہل مسلمانوں کی نسل کشی کی ترویج کرتے ہیں ؟ یہاں تک کہ "نیچ” ذات والے ہندو اور عیسائی بھی موجودہ حکومتی ہتھکنڈوں سے محفوظ نہیں ۔

    دیکھیں جناب دنیا میں اس وقت دو دھوکے بيچے جارہے ہیں اور بیوقوف و احساس کمتری کے شکار لوگ ان دونوں دھوکوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر خریدے جارہے ہیں

    1) انسانیت
    2) امن پسندی

    اب یہاں لوگ خلائی مشن کو "انسانیت” سے تعبیر کرتے ہیں پر یہ نہیں بتاتے کے جب امریکہ چاند کے پیچھے پوری قوم کو "ماموں” بنا رہا تھا تب دوسری جانب وہ ویتنام میں 30 لاکھ کے لگ بھگ انسانوں کو موت کی وادیوں میں پہنچا چکا تھا ، اوراسی دورانئے میں امریکہ میں نسل پرستی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی ، غریب سڑکوں پہ نکلے ہوئے تھے جبکہ مارٹن لوتھر کنگ کو نسل پرست قتل کر چکے تھے ۔

    یہاں لوگ پیرس میں چند شہریوں کے مرنے پر انسانیت کا منجن بیچتے ہوئے پاکستان میں تو ماتم برپا کردیتے ہیں پر یہ نہیں بتاتے کہ لیبیا پر حملہ کرنے میں فرانس کیوں پیش پیش تھا ؟ 2011 سے آج تک جو لیبیائی شہری اس جنگ کی بھینٹ چڑھے اس پہ عالمی ضمیر، اِنسانیت اور امن کہاں جا مرتا ہے ؟

    ٹھیک اسی طرح بھارت کا خلائی مشن دراصل کشمیر میں اپنے بھیانک چہرے اور تباہ ہوتی معیشت سے اپنی عوام اور دنیا کی توجہ ہٹانے کے سوا اور کچھ نہیں ہے . وہ نادان دوست جو پاکستان کو محض مقابلہ بازی پر اکسا کر طعنے دے رہے ہیں ایسے نادان دوستوں سے گزارش ہے کہ سرد جنگ کے دوران خلائی دوڑ کا کردار پڑھ لیں کہ کس طرح امریکہ نے روس کو چندہ ماموں کے چکر میں ماموں بنائے رکھا اور اسکی معیشت کا بیڑا غرق کرواتا رہا اور جب تک سوویت یونین کو ہوش آیا تب تک اسکی معیشت کی کمر ٹوٹ چکی تھی جب کہ مشرقی یورپ ہاتھ سے نکل چکا تھا .

    لہٰذا پاکستانی حکمران اس مقابلہ بازی میں پڑنے کے بجائے عوام کی فلاح بہبود پر توجہ دیں ان کیلئے تعلیم و روزگار کے آسان مواقع پیدا کریں ، ان شاء اللہ چاند کیا ہم مریخ مشتری اور گر زیادہ فارغ وقت اور قوم کا پیٹ بھرا وا ہوا تو سورج پہ جانے کا بھی پلان بنا لیں گے ۔ آخر میں بھارتی ناکامی کے غم میں مبتلا دوستو سے یہی گزارش کروں گا کہ اب اگر آپ الفاظ کے گورکھ دھندوں سے یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے خلائی مشن کی اس لئے تعریف کیجائے کہ "دیکھیں اس مشن کا سربراہ غریب کتنا ہے ”

    تو بھائی میری طرف سے معذرت قبول کیجئے کہ ایسے منجن و چورن کم سے کم میں نہیں خرید سکتا ، اور ویسے بھی جتنا پیسے بھارت نے خلائی مشن میں خرچ کیا ہے اس سے باآسانی 1 کروڑ غریب لڑکیوں کی شادی ہوسکتی تھی ….
    ہوسکتی تھی نا ؟؟؟ !!

    ملک جہانگیر اقبال

  • یوم دفاع اور اندرونی و بیرونی دشمن    ،                                                               از      انشال راؤ

    یوم دفاع اور اندرونی و بیرونی دشمن ، از انشال راؤ

    تہواروں کا رواج انسانی تمدن کے ساتھ ہی شروع ہوا اگر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تہوار یا فیسٹیول مذہبی یا سماجی، موسمی یا تاریخی واقعات کی یادگار کے طور پہ منائے جاتے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں چھ ستمبر کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بطور تہوار کے ہر سال ملی جوش جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے، اس بار بھی یوم دفاع پہ انتہائی جوش و خروش، جذبے سے منایا گیا،

    یوں تو پاکستان بھارت کے مابین چار بڑی جنگیں ہوچکی ہیں جن میں 1965 میں پاک فوج و عوام نے بھارتی بدنیتی و جارحیت کے خلاف انتہائی شجاعت و بہادری سے مقابلہ کیا اور لازوال قربانیاں دیں، ترجمان پاک فوج DG/ISPR آصف غفور صاحب کے مطابق جنگوں میں کسی کی جیت نہیں ہوتی بس انسانیت کی ہار ہوتی ہے لیکن ہم جس نبیؐ کے ماننے والے ہیں اس کی تعلیمات کے مطابق ظالم کے ظلم و غرور کو خاک میں ملانا ہر صاحب ایمان کا فریضہ ہے، اس کے تحت ہر سال یوم دفاع کو اسی جذبے و عقیدت کے طور پر منایا جاتا ہے، سال 2019 کا یوم دفاع تمام دشمنوں کے لیے نہ صرف پیغام ہے کہ دشمنوں کی سازشوں و تخریب کاریوں سے نہ یہ قوم جھکنے والی ہے نہ ہی جھکے گی انشاءاللہ،

    دشمن قوتوں نے وہ کونسی سازش یا تخریب کاری ہے جو پاکستان میں نہیں کی مگر اللہ کے فضل و کرم سے افواج پاکستان نے دشمن کو ابتک کی تاریخ کی عبرتناک شکست دی ہے، تمام بیرونی و اندرونی دشمن مل کر پاکستان کو لیبیا، عراق، یمن کی طرح تباہ و برباد کرنے کے منصوبے پہ عمل پیرا رہے، ایک طرف پاک فوج کے خلاف انتہائی منظم اور وسیع پیمانے پہ پروپیگنڈہ مہم چلائی جاتی رہی تو دوسری طرف مختلف گروہ بدامنی میں مصروف رہے، اس کے علاوہ کرپشن لوٹ مار و دانستہ غلط پالیسیوں کے زریعے ملکی معیشت و استحکام کو نقصان پہنچایا جاتا رہا تو ساتھ ساتھ غیرضروری قرضوں کے انبار لگا کر ملکی پالیسیاں بیرونی تسلط کے زیر اثر کی جاتی رہیں، اس پرفتن، شرانگیز، منافقانہ، ظالمانہ، ناپاک سازش کو جس خوش اسلوبی و حوصلے سے افواج پاکستان نے تمام تر بیرونی دباو و پروپیگنڈے کے باوجود خاک میں ملایا، اس پر دشمن کا منہ چڑانے کے لیے پرعزم قہقہہ تو بنتا ہی ہے،

    آج لیبیا، شام، عراق، یمن و بہت سے افریقی ممالک کا حال ہمارے سامنے ہے ان کے مقابلے میں دشمن قوتوں کے زیادہ خطرناک حملے و منصوبے پاکستان میں اپنائے گئے مگر افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کی برکت سے پاکستان خانہ جنگی و تباہی سے محفوظ رہا لیکن ہم آج بھی حالت جنگ میں ہیں عوام کو زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی بجائے اپنی ذمہ داری و فریضہ کو ادا کرنا ہوگا، سابق اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے کہا تھا کہ "اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ عربوں سے نہیں پاکستان سے ہے اس لیے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا ہوگا” اس کے علاوہ بھارت روز اول سے ہی دشمن ہے اور افغانستان کا کردار بھی سامنے ہے، پاکستان کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں اور یہ دشمن اندرونی بھی ہیںبیرونی بھی، اندرونی دشمن بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک ہیں، بحیثیت مجموعی بیرونی دشمن سے تو ہم بخوبی واقف ہیں اس لیے اندرونی دشمنوں کا تذکرہ زیادہ اہم ہے جن کی ایک لمبی فہرست ہے،

    ان میں وہ سیاستدان سرفہرست ہیں جنہوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور پاکستان کو قرضوں کے انبار تلے دبایا، وہ بدعنوان و رشوت خور سرکاری افسران صف اول میں شامل ہیں جنہوں نے پورے نظام کو کینسرزدہ کررکھا ہے ملک کو دیمک کی طرح چاٹتے آرہے ہیں انہی کی وجہ سے غریب امیر کا فرق بڑھتا جارہا ہے یہ حضرات اعلیٰ وزارتوں سے لیکر عام دفاتر تک ہر جگہ موجود ہیں غلط پالیسیوں کو بناکر ملک و قوم کی ایسی تیسی کررکھی ہے یہ لوگ ریاست کے اندر ریاست بناکر بیٹھے ہیں آئین و قانون کی جتنی خلاف ورزی یہ حضرات کرتے ہیں کوئی نہیں کرتا اور زیادہ تر سیاسی بنیاد پہ بھرتی ہیں صف اول کے نااہل ہیں، وہ جاگیردار اور وڈیرے شامل ہیں جنہوں نے ایک طرف تو سرکاری زمینوں پہ قبضہ و غبن کے زریعے اپنے نام کررکھی ہیں تو دوسری طرف غریبوں کی زمینوں پر غنڈہ گردی کے زور پہ قبضہ کررکھا ہے، وہ کاروباری طبقہ شامل ہے جو ٹیکس کی ادائیگی میں خیانت کرتے آرہے ہیں، وہ تاجر بیوپاری شامل ہیں جو ملاوٹ و غیرمعیاری چیزوں کے زریعے قوم میں موت بانٹ رہے ہیں لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کے قاتل یہ لوگ اپنی من مانی کا ریٹ فکس کرتے ہیں ذخیرہ اندوزی کے زریعے بلیک میلنگ کرتے ہیں،

    وہ NGOs، موم بتی مافیا اور میرا جسم میری مرضی والے گروہ کی عجیب و غریب مخلوقیں شامل ہیں جو اہم راز باہر پہنچاتے ہیں اور مختلف برائیوں و امراض کو ملک میں بانٹتے رہے، وہ تنظیمیں، پارٹیاں جو قوم کو لسانی و مذہبی تقسیم میں ڈال کر نفرتوں کو ہوا دیتے ہیں قتل و غارت بدامنی پھیلانا ان کا مشن ہے اور ان سب سے خطرناک وہ صحافی وہ مصنفین وہ اینکرز جو سازش کے تحت نہ صرف پاکستان کی نظریاتی اساس پہ حملہ آور ہیں بلکہ ملکی سلامتی کے ادارے ان کی آنکھ میں رڑکتے ہیں آزادئ اظہار کا ناجائز فائدہ اٹھا کر فتنہ گری سے زیادہ کچھ نہیں کرتے، ان لوگوں کے بد کردار کی وجہ سے آج پاکستان مشکلات سے دوچار ہے جب تک ان کینسر کے جراثیموں کا خاتمہ نہیں ہوتا تب تک پاکستان کا دفاع محفوظ نہیں، یہ اللہ کا کرم ہے کہ مادر وطن کو عظیم فوج نصیب ہوئی جو دشمن کے ناپاک منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوے ہیں جن سے دشمن ہمیشہ سے لرزاں ہے،

    اللہ نے مسلمانوں کو دفاع کے مضبوط بنانے کا حکم دیا ہے دفاع کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور اقدسؐ کے گھر وصال کے وقت کو سونے ہیرے جواہرات کے ڈھیر بیشک نہیں تھے مگر نو تلواریں ضرور لٹک رہی تھیں اور ہمارے کچھ سیاستدانوں، صحافیوں، لبرلوں کا نشانہ صرف دفاعی ادارے اور ان کا بجٹ ہی ہوتے ہیں جوکہ بیرونی ڈکٹیشن پہ کرتے ہیں، کیا کبھی ان بدنیتوں کی زبانوں سے کرپٹ و بدعنوان عناصر کے خلاف بولتے سنا کسی نے؟ کبھی نہیں کیونکہ ان کا اصل ہدف وہی ہے جو ان کے بیرونی آقاوں سے ڈکٹیشن ملتی ہے لہٰذا ہر بار کی طرح اس بار بھی یوم دفاع یہی پیغام دیکر گیا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا ہے، ملک کے آئینی و انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں لاکر مضبوطی کی طرف جانا ہوگا اور یہ کام دنوں کا ہے مگر افسوس کہ موجودہ حکومت میں بھی سوائے منہ کی فائرنگ کے کوئی عملی کام نہیں، ہمیں پڑوسی دیسوں کی طرف دیکھتے ہوے نسل در نسل حاکم طبقے سے فوری جان چھڑوانی ہوگی جس طرح چین بھارت افغانستان ایران میں اہل افراد کو آگے لایا جارہا ہے پاکستان کو بھی وقت ضایع کیے بغیر ایسا ہی کچھ کرنا ہوگا تب ہی یوم دفاع کا حق ادا ہوپائیگا کیونکہ یہ قرض ہے ان شہداء کے خون کا جنہوں نے مادر وطن کی عظمت کے لیے جانیں دی تھیں۔
    از تحریر : انشال راؤ

  • نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ، اب حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پربھی  پابندی عائد

    نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ، اب حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پربھی پابندی عائد

    لاہور :پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے پارٹنر سکولوں میں حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کی تعیناتی پر پابندی عائد کردی۔یہ فیصلہ تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لیے اٹھایا جارہا ہے ، پنجاب ایجوکشن فاونڈیشن کی طرف سے پیغام میں کہا گیا ہےکہ اس حوالے سے کچھ شکایات ملی ہیں‌

    ذرائع کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے پارٹنر سکولوں میں حاضر سروس سرکاری ملازم یا اساتذہ کے پڑھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ،ذرائع کے مطابق پیف حکام کو پارٹنر سکولوں میں سرکاری ملازمین کے پڑھانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد سے پیف حکام نے پارٹنر سکولوں کو تنبیہ لیٹر جاری کردیا ہے۔

    دوسری طرف پیف حکام کا کہنا ہے کہ معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے اساتذہ کا کلیدی کردار ہے، لیکن سرکاری ملازم یا ٹیچر کو پیف سکولوں میں مامور کرنا قانوناً جرم ہے،احکامات کیخلاف ورزی پر پارٹنر سکولوں کے سربراہان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی