Baaghi TV

Category: بلاگ

  • نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    کچھ روز پہلے سفر کیلئے نکلا گھر سے تو دوران سفر اک تعلیمی ادارے کی دیوار پر لکھے گئے شاعر مشرق کے اشعار اور اک ملی نغمہ کے جملے پڑھے،

    شاعر مشرق کے اشعار

    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اقبال کے شاہین اور قائداعظم کی امیدوں کے محور و مرکز نوجوان جنہیں قائداعظم اور اقبال ؒ قوم کا سرمایہ قوم کا معمار اور قوم کا مستقبل کہتے تھے ، اقبال اور قائد کو اس ملک کے نوجوانوں سے بہت سی توقعات وابستہ تھی ، قائداعظم چاہتے تھے کہ نوجوان سیاست میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں لیکن افسوس قیام پاکستان کے بعد ہماری وڈیرہ شاہی اورہماری اشرافیہ نے نوجوان نسل کوروکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے ان کو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر تعلیمی اداروں میں بھی استعمال کیا گیا ان کو استعمال کرکے اپنی گندی سیاست کا بازار چمکایا گیا نوجوان نسل کو ایسے مشغلے ایسا نصاب اور ایساکلچر دیا گیا کہ وہ قیام پاکستان کا مقصد ہی بھول گئے ہندو دوستی کا ایسا راگ الاپا گیا کہ ہمارے نوجوان یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ اگر ہندو اتنے ہی اچھے تھے تو اتنی قربانیاں دے کر علیحدہ وطن حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ہمارے نوجوان جن کے ہیروز قائداعظم ، علامہ اقبال ؒ خالد بن ولید اور محمد بن قاسم ہونے چاہیے تھے آج ان کے ہیروز غیر مسلم ہیں آج وہ ہندو کلچر کے دلدادہ بن چکے ہیں آج کا نوجوان اس ملک کے حالات کو دیکھ کر صرف کڑھ سکتا ہے کیونکہ اسے مجبوریوں میں ایسے مقید کردیا گیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا اعلی ڈگریاں لے کر اسے سڑکوں پر ذلیل کیا جارہا ہے حالانکہ اسی ملک میں جعلی ڈگریوں والے اونچی اونچی اقتدار کی کرسیوں پر فائز ہیں 
    آج کا نوجوان اس ملک سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے آج ہماری نوجوان نسل بیرون ملک کے خواب دیکھتی نظرآتی ہے رشوت ، سفارش ، اور اقربا پروری کے زہر نے اسے ملک سے بدظن کر دیا ہے،
    حالانکہ یہ ملک ٹیلنٹ کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے ارفع کریم جیسے نام ہماری نوجوان نسل کیلئے تابندہ مثال ہیں بس آج کے نوجوان کو اچھی اور مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ اچھی لیڈر شپ ہی نوجوانوں کو قومی دھارے میں لا سکتی ہے اور ان شاءاللہ میں اس بات سے بالکل مایوس نہیں آج کا نوجوان ضرور اس ملک کو دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی عنایتوں سے بچائے گا اور ہم من حیث القوم آپس کے تمام اختلافات کو چاہے و ہ فرقہ بندی کے ہو لسانی ہو جیسے بھی ہو بھلا کر ایک ہو کر اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں اور یہ وقت دور نہیں

    اور دوسرا ملی نغمہ شعر تھا

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

    اور میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم اس پرچم کے سائے تلے کہاں کہاں ایک ہیں؟
    ہم تو اپنی اپنی برادریوں اور سیاسی وابستگیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور ہم غیر برادری اور سیاسی کارکنوں سے الجھنے والے اور سیاسی تماش بینوں کے لیڈروں کے دفاع میں ملکی مفاد اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن کر
    نعرہ لگانے والے ہیں کہ
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں،

    ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرکے ملکی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئیے تاکہ
    ہم یہ کہنے میں ذرا بھی شرم اور جھجک محسوس نا کریں
    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اور۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah

  • صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم لفظ کے بارے میں محتلف روایات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوفی عربی لفظ ‘صوف’ سے ہے جس کے معنی اون کے ہیں۔ کیونکہ شروع میں مسلمان اون کے بنے ہوئے کپڑے استعمال کرتے تھے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ لفظ ‘صفہ’ سے ماخوذ ہے جو صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں علم حاصل کرتے اور ذکر کرتے تھے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ یونانی Sophia سے ماخوذ ہے۔جو معاشرے میں عقل شعور کی ترویج کرتے تھے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عربی لفظ صفا سے ہے جسکی معنی خالص اور صاف کے ہیں۔ کیونکہ صوفی دلوں کو بغض، گناہوں، اور برائیوں سے پاک صاف کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صوفا جو لوگ اسلام سے پہلے خانہ کعبہ کی خدمت کرتے تھے۔ المختصر صوفی وہ لوگ ہیں۔ جو بغیر کسی لالچ اور، ذاتی مفاد کے تمام انسانوں کے دلوں کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کریں۔ دل کی صفائی و اصلاح صوفی ازم کا کام ہے۔ بنیادی طور پر صوفی ازم کسی مذہب کا محتاج نہیں کیونکہ صوفی ازم بین المذاہب سوچ وفکر ہے۔ صوفی ازم مختلف ناموں سے ہر مذہب میں موجود ہے۔ صوفی کا کام پیار، محبت، امن، بھائی چارہ اور قربانی کا درس دینا ہے چاہے مذہب ہندو ازم ہو، عیسائیت ہو یا اسلام، سکھ ازم ہو یا بدھ مت۔ لہذا موجود دور میں نفرتوں، لالچ،خود غرضی، انتہا پسندی اور دیگر معا شرتی بیماریوں کے خاتمہ کے لیے صوفی ازم کی ترویج وقت کی ضرورت ہے۔

  • 14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست یوم آزادیِ پاکستان ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل
    آج کی میری اس تحریر کا مقصد یوم آزادی پر ہماری ذمہ داریاں کی نشان دہی کرنا ہے۔آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جن نے کچھ کھویا ہوتا ہے اس کے لیے یا جن کے پاس یہ نعمت نہی ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کا جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔
    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی جو بیرونِ ملکوں میں مقیم ہیں وہ بھی بہت جوش خروش سے اس دن کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔۔ بلخوص پچھلے سال مجھے دبی میں 14 اگست منانے کا موقع ملا ۔۔ یہ دن وہاں موجود پاکستانیوں کے لیے باعث فخر اور پرمصرت ہوتا ہے ۔۔ اس دن نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک میں بھی لوگ پاکستان جھنڈوں سے گھروں کمروں ، اپنی رہائش گاہوں کو سجاتے ہیں ۔۔ دنیا کو دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پاکستان اس دن آزاد ہوا تھا اور دو قومی نظریہ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا ۔۔پاکستان بنانے کے لیے بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں ، یعنی مسلمانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔14 اگست 1947ء کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا تھا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤوں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔ آزادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔ نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپو شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کی داستاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر ہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے۔ یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں: لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛ اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لا الہ الا اللہ
    یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کی غلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جاسکتی تھی، مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔پاکستان کا قیام شب قدر، جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947ء عمل میں آیا۔ ظہور پاکستان کا یہ عظیم دن جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک اور شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خالق و مالک کائنات کی اس عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے 13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-
    ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو انگنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔دو قومی نظریہ کیا یا اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا انداز بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی اس تقریر سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 8 مارچ 1944 کو علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا کے اجتماع میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا۔ ’’پاکستان اس دن معرض وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا‘‘ اسی طرح 17 نومبر 1945 کو بابائے قوم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
    اب کچھ عرصے سے ان عناصر کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا پاکستان بھارت کو اس لئے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دے کہ اس بھارت نے 1947ء سے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو اپنے پنجہ استبداد میں لے رکھا اور اپنے وطن کشمیر کو آزاد کرانے کی جدوجہد کرنے والے لاکھوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرچکا اور کرتا رہتا ہے۔
    بھارت پاکستان آنیوالے دریائوں پر اپنے زیر تسلط علاقوں میں غیر قانونی بند باندھ کر پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی روش پر قائم ہے جس کا مقصد پاکستان کے سرسبز علاقوں میں پانی کی ترسیل بند کرنا اور اسے ریگستانوں میں تبدیل کرنا ہے۔ تاکہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایتھوپیا ایسے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے یہاں کے لوگ اناج کے ایک ایک دانے کو ترسیں۔دوقومی نظریہ اور پاکستان کے بارے میں جو لوگ غلط باتیں کرتے ہیں انھیں کشمیر کے حالات نظر نہیں آ رہے ۔۔ ِ؟؟ جمعوں کشمیر میں بھارتی کیسے ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ۔۔دو قومی نظریے کی بنیاد غیر منقسم ہندوستان میں سب سے پہلے البیرونی نے اپنی کتاب ”کتاب الہند“میں پیش کی۔ اس نے واضح طور پر لکھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں بلکہ اس نے تو یہاں تک بتایا کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ قوم قرار دیتے ہیں اور ان سے کراہیت کرتے ہیں۔شبہ مسلمان اور ہندو سینکڑوں سال سے رہ رہے تھے مگر جیسا کہ البیرونی کی کتاب ” کتاب الہند ” میں ذکر ہے کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ سمجھتے تھے ۔ مسلمان ایک نیچ قوم کی حیثیت سے ذہنی غلام تھے ۔ یا د رہے کہ یہ وہ مسلمان نہیں تھے جو ایران ، ترک یا عرب سے آئے تھے ان سیدوں ،شیرازیوں ، گیلانیوں ، برلاس ، قریشیوں بخاریوں کو مقام حاصل تھا یہ وہ مسلمان تھے جن کا نسلی تعلق ہندووں ہی کی مختلف برادریوں سے تھا جن میں بگٹی ، مینگل ، بھٹو ، بھٹی ، شیخ ، راو ، رانا ،کھوکھر، سبھی شاامل تھے ۔مگر ان کے قبول اسلام ہی سے وہ ہندو قوم سے جدا ہو کر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے اور ہندووں کی نظر میں نیچ کہلائے ۔برصغیر میں دو قومی نظریہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی تاریخِ اسلام پرانی ہے ۔ پاکستان بنانے کا مقصد بہت عظیم تھا
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان 14 اگست کو نہیں بلکہ پندرہ اگست کو بنا جناب بات یہ کہ اعلان کو ہوا ، اور ہجرت بھی لوگوں نے 14 اگست سے شروع کر دی ، یہ بات نہیں ہے کہ کب پہنچے یا کب انکو منزل پر پہنچے کی مبارک باد دی گئی ۔۔ جب اعلان ہوا کہ پاکستان بن گیا ہے لوگ ہجرت کر کے یہاں آجائیں ۔۔ وقت اوردن تو وہ نوٹ کیا جاتا ہے ۔۔ اور سب سے بڑھ کر شب قدر کی مبارک شب تھی اور 14 اگست کا دن تھا ۔۔
    کچھ لوگ نئی نسل کو کس بحث مباحثے میں ڈال رہے ہیں ؟؟ اس سے کیا حاصل ۔۔ ملک اور آزادی کی قدر غلام ملکوں سے پوچھو ، کشمیریوں سے فلصطینیوں ، اعراقیوں سے پوچھو ۔۔پاکستانیوں آپ کی نگاہ اس طرف کم گئی ہے دنیا کی تاریخ میں اتنی قلیل مدت میں یہ وہ پاکستان ہے جس نے 63 سال کی عمر میں 8 جنگیں لڑیں تقسیم کے وقت1948 کشمیر کی جنگ، 1965 میں ہندستان کی مسلط کردہ جنگ، 1971 میں ہندوستان کی مسلط کردہ جنگ، 1999 میں کارگل کی جنگ، دنیا کی سپر پاور روس سے افغانستان میں جنگ، دنیاکی سب سے بڑی 50 لاکھ مہاجرت کو اپنے ملک میں پناہ دی. موجودہ دوسری سپر پاور امریکہ سے جنگ اس کے باوجود پاکستانیوں پاکستان زندہ بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے. یہ وہ پاکستان ہے جس کے خلاف اسرائیل، انڈیا اور امریکہ نے اتحاد کرلیا ہے لیکن اس وقت تک اللہ کے حکم سے ناکام ہیں یہ وہ پاکستان ہے جس نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے چھ ایف سولہ جہاز گرائے تھے۔14 اگست وہ دن ہے جب ہر ایک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔پا کستان جیسی فوج کسی ملک کے پاس نہی ہے۔پا کستان جیسی عوام کسی ملک کے پاس نہی ہے۔بس چند ایک دشمن ممالک کے ایجنٹ جو پا کستان کے خلاف بکتے ہیں۔کبھی سندھ تحریک شروع کرتے ہیں اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے تو کبھی بلوچستان میں ٹی ٹی پی آ جاتی ہے ۔کبھی انڈیا کلبھوشن لانچ کرتا ہے ۔تو کبھی امریکہ شکیل آفریدی لانچ کرتا ہے۔کبھی خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ایم آ جاتی ہے ۔اس کے نمائندے پاک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔پاک فوج کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں۔دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔جس ملک کی فوج نہی ہوتی وہ کبھی کامیاب ہو ہی نہی سکتا۔ہم سب کو آج پاکستان کی ترقی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اور ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔اگر آزادی کی نعمت کو جاننا اور پہچاننا ہے تو فلسطین کی عوام سے پوچھو ،اگر آزادی کی نعمت کوپہچاننا ہے تو مظلوم کشمیریوں سے پوچھو ،غزہ کی عوام سے پوچھو،برما کی عوام سے پوچھو ۔اس لیے آزادی کی قدر کرو اور اپنے ملک۔کی ترقی کے لیے کوشاں ہو جاؤ۔

  • تم کو اللہ پوچھے گا ۔۔۔ فرحان شبیر

    تم کو اللہ پوچھے گا ۔۔۔ فرحان شبیر

    میں جس فلیٹ یا اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہوں ( کرائے پر ) اسکی قیمت کوئی ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے ۔ مجھے یہ فلیٹ پسند بھی ہے اور خواہش ہے ایسا ہی کبھی پیسے ہوئے تو خرید بھی لوں ۔ میں ہی کیا ہم سب میں کتنے ہی لوگ ہیں جو ایسے ہی ایک اچھے مکان یا فیلٹ کا خواب دیکھتے ہیں ۔ آخر کو انسان کے پاس ایک اپنا گھر تو ہو کہ کل کلاں کو کچھ ہوگیا تو فیملی کرائے کے مکانوں میں دھکے نہ کھاتی پھرے روز روز مالک مکان سے جھک جھک نہ ہو۔ کیوں کے کرائے پر اچھے مکان کے ملنے سے بھی زیادہ اچھا مالک مکان کا ملنا ایک بڑی نعمت ہے ۔

    پاکستان کی پینتالیس فیصد آبادی تو ایک سو پچیس فیصد روز پر زندگی گزار رہی ہے یعنی کہ ساڑھے بیس کروڑ میں سے آٹھ کروڑ لوگ تو سیدھے سیدھے کسی اچھے مکان کے خریدنے کی دوڑ سے ہی باہر نکل جاتے ہیں اور باقی کے چار چھ کروڑ بھی بس ابا یا دادا کے اچھے وقتوں کی زمینوں کو بیچ کر یا آبائی گھروں میں ہی پورشن بنا بنا کر اپنے لئیے چھوٹے چھوٹے آشیانے بنا رہے ہیں ۔ سالوں گھر کو رنگ روغن اور مرمت کرانے کے پیسے ہی نہیں نکل پاتے ۔ پچیس تیس ہزار کا کام آجائے تو بھائی بھائی میں جھگڑا ہوجاتا ہے کہ کون کام کرائے گا اور کون اس ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ لے گا ۔ میں نے بجلی کے بلوں کے پیسے تقسیم ہوتے وقت پنکھوں اور اے سی تک کے کم زیادہ استعمال پر بحث مباحثہ ہوتے دیکھا یے ۔ افسوس تو یہ کہ ایک طرف تو ہمارے ملک کے تیرہ چودہ کروڑ عوام سو سو دو دو سو روپے کا حساب رکھ کر چل رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب ہمارے حکمران اور ہمارے افسران اس غریب اور محروم قوم کا پیسہ اس بے دردی سے لٹاتے رہیں کہ تفصیلات سامنے آنے پر خون کھول اٹھتا ہے ۔

    اب یہی دیکھئیے کہ کپتان نے اپنے امریکہ دورے کے دوران صرف فضائی سفر کے اخراجات کی مد میں ہی گیارہ سے بارہ کروڑ روپے بچائے ہیں ۔ ظاہر ہے ہمارے دانشوڑوں کی نظر میں یہ کوئی بڑی رقم نہیں ۔ لیکن ہم جیسے مڈل کلاسیوں کے لئیے یہ بہت بڑی رقم ہے ۔ ہم میں سے کتنوں نے ہی کبھی خواب میں بھی دس بارہ کروڑ اپنے بینک اکاونٹ میں جمع ہونے کا سوچا بھی نہیں کہ ہمیشہ ہی اخراجات اور آمدنی کا مقابلہ ہی چلتا چلا آرہا ہے ۔ لاکھوں لوگوں کا اکاونٹ کبھی سکس فگرز میں جا ہی نہیں پاتا ۔ ایک ڈیڑھ کروڑ کا مکان بنانا ایک پوری زندگی کھا جاتا ہے وہ بھی کتنی ہی خواہشوں اور کتنی ہی حسرتوں کا گلہ گھونٹ کر اور کتنی ہی جگہ اپنی عزت نفس خود داری اور عزت و احترام کو گروی رکھ کر ۔

    اب جب ہم جیسے ٹٹ پونجئیے یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران جب امریکہ جاتے تھے تو انکے لئیے پورے کا پورا long-range, wide-body , twin-engine, 300-seater jet airliner Boing-777 فکس کر دیا جاتا تھا تو خون کھول اٹھتا ہے کہ اس طرح سے تو کوئی دشمن کے پیسے کو بھی نہیں خرچ کرتا کہ حضور اب PIA کا یہ پورا بوئنگ 777 آپکے ڈسپوزل پر اور اسکے ساتھ ایک جہاز اسٹینڈ بائی پر تاکہ اس کو کچھ جائے تو دوسرا جہاز سرکار کے لئیے فوری تیار ہو ۔ یعنی مرے کو مارے شاہ مدار ۔ مرتی ہوئی PIA کے دو جہازوں کے نکالنے سے پی آئی اے کا سارا ٹائم ٹیبل درہم برہم ہوتا ہو تو ہوجائے حکمرانوں کی نقشہ بازیوں اور شاہ خرچیوں پر کمی نہ ہو ۔ پھر جہاز میں سے سیٹیں نکال کر کر بیڈ روم ، پریس روم، اور دیگر لاونجز بنانے کی رنگ بازیاں الگ جیسے چین جاپان جیسے امیر ملکوں کے حکمران ہوں ۔

    پھر یہی نہیں کہ صرف جہاز کا خرچہ ہی ایک چونچلا ہوتا یہاں تو پی آئی اے کے لئیے ہمارے مغل شہنشاہوں کے لئیے انکی پسند کے کھانے اور ناشتے بنانا بھی ایک درد سر ہوا کرتا تھا کہ نجانے کب سرکار کا دل لسی کے لئیے مچل جائے یا کب بھنڈی کی فرمائش آجائے ۔ پتہ نہیں یہ لوگ پاکستان کے مسائل کا حل ڈھونڈنے جاتے تھے یا پکنک منانے جو پکوانوں سے لیکر سونے جاگنے کے آرام کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا ۔ اس پر بھی دل مان جاتا اگر ان دوروں کا کوئی فائدہ بھی ہوتا مگر یہاں تو غیر ملکی حکمرانوں کے سامنے فدویانہ انداز میں گردنیں جھکانے ، پرچیاں ہاتھ میں تھامنے اور دنیا بھر سے الزامات کی پوٹلی اٹھا کر واپس آنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تھا ۔

    ظاہر ہے اس حال میں دنیا کا کونسا ملک آپکو سیریس لے گا جارہے ہیں دنیا کو پاکستان کی مالی مشکلات سے نکالنے میں مدد لینے اور انویسٹمینٹ لانے اور حال یہ ہو مرسیڈیز اور کیڈیلک گاڑیوں کے قافلوں کے قافلے جھرمٹ میں ہوں ۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں پوری پوری بارات لیکر ٹہر رہے ہوں اور دنیا سے کہہ رہے ہوں کہ پیچھے گھر میں بچوں کو پڑھانے کے لئیے اور گھر چلانے کے لئیے پیسے نہیں ہیں ۔ ملک اور قوم قرضوں کے انبار میں دب رہی ہو اور حکمران چالیس پینتالیس لاکھ فی گھنٹہ کے حساب سے بوئنگ 777 سے آنا اور جانا کریں اور یوں ان حکمرانوں کے آنے اور جانے کے 28 گھنٹوں کی مسافت کی قیمت قوم کو گیارہ سے بارہ کروڑ میں پڑے ۔ کسی کی پوری عمر گذر جاتی ہے ایک کروڑ نہیں کماتا اور کسی کے چند گھنٹوں کے سفر کا خرچہ ہمارے جیسے کئی مڈل کلاسیوں کی پوری زندگی کی کمائی سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے ۔

    حالانکہ ہیڈز آف اسٹیٹ کے دوروں لئیے چھوٹے طیارے رکھے گئے ہیں پی آئی اے کے فلیٹ میں 2 عدد us-made,12-seater Gulfstrean Jet موجود ہیں جنہیں سربراہان مملکت کے لئیے ہی رکھا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے حکمرانوں کا اپنے پورے خاندانوں سے لیکر مالشیوں تک کو پورے پورے بوئنگ بھر بھر کر یورپ اور امریکہ جانا اور بدھوں کی طرح لوٹ کر آنا غصہ دلا دیتا ہے ۔ اور یہ سوچ کر مزید غصہ آتا ہے سابقہ حکمرانوں کے ساتھ جہاز غول در غول جانے والے صحافیوں کو بھی یہ توفیق نہیں ہوسکی کہ میاں صاحب سے کبھی پوچھ ہی لیتے یہ قوم کے پیسوں سے نانا جی فاتحہ کیوں پڑھائی جارہی ہے ۔ ہم تو اتنا ہی کہتے ہیں کہ دنیا کو جتنا بھی چکر دے دو جب اوپر جاوگے تو تم کو تو اللہ پوچھے گا ۔

  • انٹرنیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کریں‌ کس نے کس کو کہہ دیا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    انٹرنیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کریں‌ کس نے کس کو کہہ دیا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    اسلام آباد :انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری صارفین کی حمایت میں‌بول پڑے، فواد چوہدری نے حکومت سندھ سے درخواست کی کہ وہ انٹرنیٹ پر عائد کیے جانے والے سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں فواد چودھری نے کہا کہ سندھ حکومت نے انٹرنیٹ پر 19.5فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ، یہ اقدام ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے .انھوں نے درخواست کی کہ اس کی وجہ سے نوجوان بالخصوص طلبہ کو نقصان ہوگا .

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سروس اب ہر شخص کی بنیادی ضرورت بن گئی ہے اگر سندھ حکومت فیصلہ واپس لے گی تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔یاد رہے کہ جہاں اس وقت انٹرنیٹ کا استعمال بہت بڑھ گیا وہاں اس کی قمیتوں میں اضافہ کرکے صارفین پر بہت بڑا بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے

  • عمران خان کامیاب دورہ امریکہ اور بھارت کا ردعمل — تبریز احمد ممریز ایڈووکیٹ

    قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جاچکے ہیں. جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتارچڑھاؤ کی صورت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے.
    کبھی پاکستانی وزیر اعظم کو واشنگٹن لانے کے لیے ذاتی طیارے بھیجے جاتے. کبھی افغانستان میں Do More کی پالیسی پر زور دیا جاتا، کبھی ایڈ نہ دینے کی دھمکی دی جاتی. اور آج یہ حالت کہ عمران خان کا واشنگٹن میں تاریخی اور غیر معمولی جلسے کا انعقاد اور امریکی صدر کی عمران خان کی تعریف کرنا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سراہنا اور کشمیر کے ایشو پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرنا شامل ہیں.
    مگر اصل بات یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا پھر گزشتہ ادوار کی طرح قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گا. ویسے تو اس دورے کی کامیابی، ناکامی یا ردعمل کا آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا.
    مگر میرے نزدیک پاکستان کے کسی بھی قومی یا عالمی رویئے یا واقعہ کے بارے میں اندازہ لگانے کے لئے بھارت اور بھارتی میڈیا کا اہم کردار رہا ہے. میں سمجھتا ہوں کہ دور امریکہ کی کامیابی کا اندازہ لگانے والا صحیح پیمانہ بھارتی میڈیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا بھارتی سرکار کی زبان طوطے کی طرح بولتا ہے
    وزیر اعظم عمران خان کے وائٹ ہاؤس کے دورے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات میں سب سے بڑی پیش رفت جو رہی ہے وہ مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا ثالث کا کردار ہے. جو میرے نزدیک ایک اچھی پیش رفت ہو گی. قیام پاکستان سے لے کر اب تک ان 72 سالوں میں بھارت اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جو رہا ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے. جس پر بھارت نے ہمیشہ ڈبل پالیسی کا سہارا لیا ہے.
    وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بڑا انکشاف جو صدر ٹرمپ نے کیا وہ بھارت کی دوغلی پالیسی کا پردہ چاک کر دیا. بھارت نے ہمیشہ عالمی سطح پر یہ ہی واویلا مچایا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کشمیر کے مسئلہ پر کسی ثالث یا تیسرے ملک کا کردار نہیں چاہتا جبکہ کل صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب سے چند روز قبل G20 کے سالانہ اجلاس میں مودی نے صدر ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے ہماری مصلحت اور کشمیر میں ثالث کا کردار ادا کریں.
    مگر دوسری طرف آج بھارتی میڈیا ہے جو نہ صرف مسئلہ کشمیر پر امریکہ کا ثالث کے کردار پر رو رہے ہیں بلکہ اک عالمی طاقت امریکہ کے اس عمل کو جھوٹا اور غلط بول رہے ہیں.
    جس پر نہ صرف بھارتی میڈیا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی واویلا مچا ہوا ہے.
    جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی پیشکش کی تو بھارتی ذرائع ابلاغ میں کہرام مچ گیا۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بھارتی ٹی وی چینل نے تو سرخی لگا دی کہ (امریکہ نے بھارت پر کشمیر بم گرادیا ہے۔) بھارتی سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے ڈالے جانے والے بے سر و پا شور شرابے سے مجبور ہوکر بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی بھی امریکی صدر سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔انہوں نے گھسا پٹا روایتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تمام درپیش مسائل پر صرف دو طرفہ بات چیت ہوسکتی ہے.
    مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی جن کا شمار دنیا کے سوشل میڈیا کے فعال ترین صارفین میں ہوتا ہے وہ اب تک اپنے یا امریکی صدر کے بیان پر چپ کا سہارا لیے بیٹھے ہیں. جس سے بہت زیادہ نئے سوالات جنم لے رہے ہیں.دلچسپ امر ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی رواں سال ستمبر میں امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں۔

    دوسری جانب کشمیر میں پاکستان کے امریکہ میں ایسے عمل کو ایک مثبت قدم جانا گیا ہے. بزرگ کشمیری رہنما اور آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔سید علی گیلانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا اور ہم امریکہ میں مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستانی میڈیا کی ہرزہ سرائی کے سوال و جواب اور مودی کی خاموشی کیا رنگ لاتی ہے. اور ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کی کوشش کیا اثر دکھاتی ہیں.
    میری تو دعا ہے کہ کشمیریوں کے لئے یہ دورہ امریکہ اور پاکستانی کوشش رنگ لائیں. اور کشمیریوں کے لیے ایک روشن اور آزاد صبح کی نوید ثابت ہو.

    خدا کرے میرے ارض پاک پر اترے

    وہ فصل گل جسے اندیشہ۶ زوال نہ ہو

    ایڈووکیٹ تبریز احمد ممریز

  • شیر خدا، حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

    بے حب علی قلب میں ایماں نہیں ہوتا کلمے کے بغیر جیسے مسلماں نہیں ہوتا

    کچھ لکھنے کا دل کیا تو اٹھایا قلم اور ایک ایسی ہستی پر لکھنا شروع کیا جس ہستی کو لے کر تمام فرقے اپس میں لڑتے نظر اتے ہیں جی ہاں اس ہستی کا نام حضرت علی رضی اللہ عنہ ہے۔ کیا لکھتا ان کی شان پر؟ جن کی شان پر تاریخ دانوں نے کٸی کتب لکھ ڈالیں لیکن خیر پھر بھی کوشش کی ذہن پر زور دیا تو الفاظ سے الفاظ ملتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک تحریر کی شکل اختیار کرگئے۔
    دنیا نے بہت سے خوش نصیبوں، بہادروں، عظیم حکمرانوں اور وفاداروں کو دیکھا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسا کوٸی نہیں دیکھا۔ خوش نصیبی بہادری عظمت اور وفاداری جیسی نعمتیں بہت کم لوگ لے کر پیدا ہوتے ہیں انہیں کم لوگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوۓ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے 8 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کہ بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جانثاروں کی صف میں شامل ہوۓ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لقب اسد اللہ یعنی اللہ کا شیر اور کنیت ابو تراب تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تقریبا ہر وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کئی غزوات اور جنگوں میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ حضرت علی رضی اللہ نے تقریبا تمام غزوات اور جنگوں میں کامیابی حاصل کی اور فاتح کہلاۓ۔ ان تمام غزوات میں سے سب سے اہم غزوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے غزوہ خیبر رہا جس میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا پکڑایا۔ جھنڈا پکڑنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ لشکر کے ساتھ میدان جنگ میں اترے تو اتنے میں کفار کے لشکر میں سے ایک شخص جو کہ پہلوان تھا جس کا نام مرحب تھا آگے بڑھا اور لشکر جرار کو مخاطب کرکے کہنے لگا
    ”سارا خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں مرہب ہوں پوری طرح ہتھیار بند، بہادر آزمودہ کار جب لڑاٸیاں شعلے اڑاتی ہوٸی آتی ہیں“
    مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مرحب کو للکار کر کہنے لگے
    ”کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے، کچھار کے شیر کی طرح ہوں، جسے دیکھنے سے لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ میں انہیں (اپنے دشمنوں کو) ایک صاع (برابر حملے) کے بدلے میں تیروں کا پورا درخت ماپ کر دیتا ہوں (یعنی میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا ہوں)“۔
    یہ کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تلوار مرحب کے سر پر ماری۔ مرحب زمین پر گرا اور واصل جہنم ہوگیا۔ آخر کار اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو للکارنے والا ابو جہل کا پیروکار اپنے انجام کو پہنچا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ ہستی ہیں کہ جن پہ خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فارق رضی اللہ عنہ بھی رشک کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ”اگر میرے پاس یہ تین چیزیں ہوتیں جو حضرت علی رضی اللہ کے پاس ہیں تو میرے لیے یہ سرخ اونٹوں سے بہتر ہوتیں۔
    1-حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی شادی اور پھر ان میں سے اولاد کا ہونا۔
    2-غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکڑانا۔
    3-ان کے دروازے کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے باقی سب دروازوں کو بند کردینا“۔
    حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت سادہ طبیعت کے انسان تھے عید کا دن تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہے تھے ایک صحابی رسول ﷺ نے پوچھا کہ ”اے خلیفہ وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ اور پھر کہا کہ عید کے دن سوکھی روٹی کھا رہے ہیں“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”عید کا دن اس کے لیے ہے جس کی عبادتیں قبول ہوٸیں۔۔۔
    حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ سے زیادہ علم رکھتے تھے اور ان سے کٸی احادیث بھی روایت کردہ ہیں۔
    علم کے لحاظ سےسیدنا علی رضی اللہ عنہ اتنے اونچے مقام پر فاٸز تھے کہ سعید بن مسیب رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:
    ”سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوٸی بھی ایسا نہیں تھا کہ جو کہتا ہو کہ مجھ سے سوال کرو“
    حضرت علی رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ بنے اور جب وہ خلیفہ بنے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد انصاف کیا۔ سیدنا علی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو 40 ہجری 24 رمضان المبارک جمعہ کے دن صبح کے وقت کوفہ میں عبدالرحمن بن ملجم نے شہید کردیا۔
    إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ان کا جنازہ پڑھایا۔

  • اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    پاکستان میں 2018 کے الیکشن میں برسر اقتدار آنے والی جماعت پی ٹی آئی کو اقتدار سنبھالے ہوئے جولائی 2019 میں ایک سال مکمل ہو گیا ۔
    پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت ہے جسے نوجوانوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے ۔
    پاکستانیوں کی اکثریت نے اس جماعت کو نجات دہندہ سمجھا ہوا ہے ۔کیونکہ اس کے سربراہ عمران خان ہیں جو دنیائے کرکٹ میں ایک بڑا نام ہونے کے ساتھ پاکستان کو اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ جتوانے والے تو اس کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ کینسر ہسپتال قائم کرنے والی شخصیت ہیں جہاں غرباء کا مفت علاج بھی ہوتا ہے ۔عمران خان پاکستان کی عوام میں سیاست سے پہلے ہی ہیرو کے طور پہ جانے جاتے ہیں سو لوگوں کو ان سے سیاست میں بھی ہیروئیک کردار کی توقع ہے ۔
    وہ ان سے ملک کے تمام مسائل کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں ۔
    یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر اچھے کام کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی کام غلط لگے تو بھی ان کے کارکنان اسے بھی صحیح بنا کر پیش کرنے کی پوری تگ و دو کرتے ہیں ۔
    عوام سمجھتی ہے کہ ملک سے ‘مہنگائی ‘کرپشن ‘دہشت گردی ‘لوٹ مار غرض تمام برائیاں عمران خان صاحب ختم کر دیں گے۔
    اس حکومت نے بہت بڑے بڑے فیصلے کئے خو انتہائی مشکل بھی تھے ۔
    ان میں سے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے کرپشن کیسز بنانا اور ان کے سربراہان کی گرفتاری بھی شامل ہے ۔
    نواز شریف اور آصف علی زرداری دو بڑے لیڈد جنھیں پکڑنا کسی دیوانے کا خواب لگتا تھا اس حکومت نے پورا کر کے سب کو حیران کردیا ۔
    عمران خان کسی ضدی بچے کی طرح تمام کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوانے پہ مصر ہیں اور کسی قسم کا کمپرومائز کرنے پہ تیار نہیں ۔
    عوام کی اکثریت ان کے اس کارنامے پہ خوش ہے ۔
    دوسرا کارنامہ خان صاحب کا بیرون ممالک میں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنانے کا مطالبہ ہے ۔عوام اس کارنامے پہ انھیں ایک اچھے مسلمان کے طور پہ دیکھتی ہے ۔
    خان صاحب کے اچھے کاموں کے ساتھ کچھ ایسے کام بھی تھے جو عوام میں ناپسندیدہ تھے جن میں معاشی بدحالی مہنگائی ‘آسیہ مسیح کی رہائی پہ تو عوام کی اکثریت تڑپ اٹھی ۔
    اس کے علاوہ ملک کی ایک محب وطن جماعت ‘جماعت الدعوہ کو بین کرنا ‘ اور کچھ عرصے بعد اس جماعت کے امیر حافظ محمد سعید صاحب کی گرفتاری یہ ایسے امور ہیں جن پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا۔
    سوشل میڈیا پہ عمران خان کو زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔
    کیونکہ حافظ سعید صاحب پہ جو دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا وہ بے بنیاد ہے ۔
    حافظ سعید صاحب ایک محب وطن پاکستانی، عالم دین اور پرامن شہری ہیں ۔ان پہ ممبئی حملوں کا جو الزام ہے وہ تو ایک جرمن صحافی بھی ثبوتوں کے ساتھ بتا چکا ہے کہ وہ بھارت کا خودساختہ ڈرامہ تھا ۔
    خان صاحب کے کچھ وزرا بھی اپنی وزارت کو چلانے میں ناکام رہے جن کی خان صاحب کو چھٹی کروانی پڑی ۔
    البتہ حال ہی میں کیے گئے امریکی دورے میں خان صاحب کا وی آئی پی مہنگے طیارے کی بجائے عام طیارے کا استعمال ‘مہنگے روزانہ لاکھوں کے کرائے کے ہوٹل میں قیام کی بجائے پاکستان کے سفارت خانے میں قیام ‘اور امریکی صدر سے دوٹوک بات کرنا اور امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار کی وجہ سے خان صاحب پھر عوام کہ آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔
    امید ہے خان صاحب کی حکومت پاکستان کو تمام چھوٹے بڑے مسائل سے نکال کر ‘کرپِشن کا پیسہ واپس لا کر اور سی پیک کا منصوبہ مکمل کر کے عوام کی امیدوں پہ پورا اترے گی ۔

  • انتخابات 2018 ء پس منظر سے پیش منظر ۔۔۔ خنیس الرحمان

    یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں الرباط ویب سائٹ چلایا کرتا تھا. ندیم اعوان بھائی معروف ٹورسٹ ہیں ان کے توسط سے فاروق اعظم بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے گیا تھا وہاں کی یادوں کو میں نے قلمبند کیا ہے تو آپ اس سفر نامے کو اپنی ویب سائٹ پر لگادیں میں نے بخوشی لگانے کی حامی بھر لی اور وقفے وقفے کے ساتھ 7 قسطوں پر مشتمل ان کا سفر نامہ حرمین ویب سائٹ پر لگا دیا. فاروق بھائی کا لکھنے کا انداز اور ضبط تحریر انتہائی شاندار تھا. گزشتہ چند ہفتے قبل انہوں نے فیس بک پر ایک کتاب کی تصویر لگائی انتخابات 2018ء پس منظر سے پیش منظر تک جب میں نے نیچے مصنف کا نام دیکھا تو وہ فاروق بھائی ہی کی تصنیف تھی. میں نے فوری فاروق بھائی سے ایک کتاب بھیجنے کا کہا, تقریباََ تین دن بعد کتاب خوبصورت سرورق میں میرے ہاتھوں میں تھی اور کتاب پہنچنے کی ان کو اطلاع دی ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا. کتاب تو میں نے ایک ہی دن میں پڑھ ڈالی.کتاب کے حوالے سے بات کرنے سے قبل میں فاروق بھائی کے حوالے سے بتاتا چلوں.فاروق اعظم بھائی کا تعلق کراچی سے ہے اور سیاسیات کے طالب علم ہیں, انہوں نے 2014ء میں جامعہ کراچی سے سیاسیات میں بی اے آنر کیا اور 2015 ء میں ایم اے سیاسیات مکمل کیا.اس کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا ممنواتے رہے. فاروق اعظم بھائی آج کل جامعہ کراچی میں شعبہ سیاسیات میں بطور تحقیق کار وابستہ ہیں.
    اب چلتے ہیں فاروق بھائی کی تصنیف کی طرف انہوں نے اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے .کتاب کا مقدمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر مشتمل ہے یعنی انہوں نے مختصر مگر جامع انداز میں پاکستان کے 1947 ء سے 2013 ء تک کے انتخابات کے حوالے سے لکھا. انہوں نے کتاب کا پہلا حصہ انتخابات کا پس منظر کے عنوان سے ترتیب دیا ہے اس میں انہوں نے سب سے پہلے انتخابات کا پس منظر کہ کون کون سی جماعت مد مقابل تھی, کونسی نئی جماعت اور چہروں نے انتخابات میں حصہ لیا, جو مذہبی جماعتیں الیکشن کو درست نہیں سمجھتی تھیں ان کا انتخابات میں حصہ لینا اور نمائندگان کو درپیش مسائل اور جو نااہل ہوئے کس بنیاد پر ہوئے ان وجوہات پر روشنی ڈالی اس کے علاوہ جو انتخابات کے دوران خونریزی دھماکے ہوئے اور کون کون سے سیاستدان شکار ہوئے اس حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کیا .جو کتاب کا دوسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے نتائج کے حوالے سے لکھا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج میں کن جماعتوں نے اپنی بہتر کارگردگی دکھائی, کون کون سے بڑے برج الٹے اور کون سے نئے چہرے سامنے آئے, انہوں نے ہر صوبے کے حوالے سے الگ الگ نتائج اور کارگردگی کو سامنے رکھ کر زبردست رپورٹ مرتب کی, اس میں انہوں نے ووٹوں کی تعداد اور جماعتوں کے ووٹ بنک کا خاکہ الیکشن کمیشن اور دیگر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق ترتیب دیا. جو کتاب کا تیسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے حکومت سازی کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح سے کلین سویپ کرنے والی جماعت نے وفاق میں اپنی حکومت قائم کی اور دیگر صوبوں میں کس طرح کن جماعتوں نے اپنی حکومت قائم کی, وزیر اعظم, وزرائے اعلی کے انتخابات کے حوالے سے بتایا اس کے علاوہ ممبران کابینہ وفاق اور صوبائی اسمبلیوں کے نام بمع وزارت لکھے . اس میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ فاروق بھائی نے کتاب پہلے ترتیب دی اس لیے 9 ماہ کے اندر حکومت نے وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں کئی چہروں کو ان کی غیر مناسب کارگردگی کی بنیاد پر ہٹا کر نئے چہرے سامنے لائے کچھ کی وزارت تبدیل کی گئی, اس کے بعد اس حصہ کہ آخر میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر روشنی ڈالی. اب کتاب کا جو چوتھا حصہ ہے اس میں انہوں نے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح کن جماعتوں نے کس لیڈر کو چنا اور اپوزیشن کا صدر کے انتخاب کے لئے نمائندہ منتخب کرنے میں اختلاف کے حوالے سے بتایا اور صدارتی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی اس کے بعد صدر عارف علوی کے خطاب پر روشنی ڈالی اور انہوں نے صدر صاحب کے خطاب سے متعلق کہا کہ اگر اس کا موازنہ وزیراعظم کے خطاب سے کیا جائےتو غلط نہ ہوگا. اس کے علاوہ صدارتی اختیارات کے حوالے سے انہوں نے پرانے صدور اور حال پر نظر ڈالی. جو کتاب کا آخری حصہ ہے اس میں انہوں نے ضمنی انتخابات کو سامنے رکھا.
    اس کتاب سے متعلق میں نے کچھ ساتھیوں سے تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے انٹر نیٹ کے دور میں اس کتاب کی ضرورت نہیں تھی میں سمجھتا ہوں جو کچھ فاروق بھائی نے لکھا وہ آسانی سے کسی بھی ویب سائٹ سے نہیں مل سکتا کیونکہ انہوں نے خود انتخابات کے دوران کوریج میں حصہ لیا اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سارا احوال لکھا جو کہ ایک سیاسیات کے طالب علم کا بہت بڑا کارنامہ ہے. میں حکومت اور تعلیمی اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو تاریخ پاکستان کے حوالے سے نصاب میں شامل کیا جائے اور تمام لائبریرین اس کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں کیونکہ نا اس میں کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا نا کوئی انکشافات کیے گئے بلکہ انہوں نے تاریخ پاکستان کی ایک ضرورت کو مکمل کیا۔