Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ماہ ستمبر اور پاکستان  تحریر غنی محمود قصوری

    ماہ ستمبر اور پاکستان تحریر غنی محمود قصوری

    6 ستمبر یوم دفاع پاکستان ہے کیونکہ اس دن ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کہ جس کو ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ وہ انڈیا ،بھارت یاں ہندوستان ہے ،نے رات کی تاریکی میں بزدلوں کی طرح ارض پاک پاکستان پر حملہ کر دیا دشمن سمجھ بیٹھا کہ رات کا وقت ہے پاک فوج کے جوان سو رہے ہونگے اور یوں ہم حملہ کرکے لاہور پر قبضہ کرکے وہاں چائے پیئے گے نادان دشمن کو یہ نہیں یاد رہا کہ 1948 میں پاکستانی فوج اور عوام نے اسی تین ناموں والے بھارت کا کشمیر میں بھرکس نکال دیا تھا اور آدھا کشمیر مقبوضہ سے آزاد کشمیر بن گیا تھا حالانکہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی بمشکل ایک سال ہوا تھا
    آج اسی زخموں کی بدولت ہندو مشرک اندھا ہو کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے مگر اللہ نے کشمیریوں کو بھی بے پناہ جرآت و مردانگی سے نوازہ ہے مظلوم نہتے کشمیری پتھروں کیساتھ ظالم و جابر ہندو فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور 73 سالوں ڈٹے ہوئے ہیں
    7 ستمبر یوم تحفظ ختم نبوت کا دن ہے کہ جس دن کائنات کے بدترین کافر خود ساختہ مسلمان قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کیا گیا یہ وہی قادیانی ہے کہ جس نے خاتم النبیین جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو انگریز دور میں چیلنج کیا تھا اور خود کو مسلمان کہلوا کر اسلام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا مگر اللہ کے فضل سے غیور پاکستانی علماء، سیاستدان اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں کی کاوشوں سے قادیانی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کافر قرار پا گیا
    6 ستمبر بھارت کی بربادی کا دن جبکہ 7 ستمبر قادیانیت اور لبرلز کی بربادی کا دن ہے
    دعا ہے اللہ تعالی پاکستان کے دشمنوں کو یونہی ذلیل رسوا کرتا رہے اور وطن عزیز کو بے پناہ نعتموں اور آسائشوں سے نوازے اور میرے کشمیر کے مظلوم بہن بھائیوں کو ظالم و پلید ہندو کی غلامی سے نجات دے آمین
    غنی محمود قصوری

  • پاکستانی ٹیکسٹائل کی ترقی اولین ترجیح ہے، عبدرالرزاق داؤد

    پاکستانی ٹیکسٹائل کی ترقی اولین ترجیح ہے، عبدرالرزاق داؤد

    اسلام اباد: وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت ٹیکسٹائل کی صنعت کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے، جس کے ثمرات آہستہ آہستہ ملنا شروع ہو گئے ہیں
    وزارت ٹیکسٹائل کی جانب سے جاری کردہ اک پریس ریلیز کے مطابق مشیر تجارت عبدرزاق داؤد نے ٹیکسٹائل کے حکومتی نمائندوں سے خصوصی ملاقات کی اور ٹیکسٹائل مصنوعات کو بڑھانے کے منصوبے پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • اسٹیو سمتھ نے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں ڈبل سینچری جڑ دی

    اسٹیو سمتھ نے چوتھے ایشز ٹیسٹ میں ڈبل سینچری جڑ دی

    مانچسٹر: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین اسٹیو سمتھ نے انگلیڈ کیخلاف چوتھے ایشز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں شاندار سینچری جڑ دی،سمتھ نے 22 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے ڈبل سینچری کی مکمل کی اور اس کیساتھ ہی آسٹریلیا کا پہلی اننگز میں ٹوٹل سکور بھی 400 کا فگر پار کر گیا
    یادرہے کہ اسٹیو اسمتھ پابندی کے بعد پہلی مرتبہ ایشز سیریز2019 میں ٹیسٹ کٹ پہنے نطر آئے اور تین میچوں میں 194 کی ایوریج سے 583 رنز سکور کیے اور اپنی نمبر ون ٹیسٹ رینکنگ کو درست ثابت کیا،

  • سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرحان ورک کی اپیل پر صلاح الدین کو انصاف دینے کیلئے احتجاج

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ فرحان ورک کی اپیل پر صلاح الدین کو انصاف دینے کیلئے احتجاج

    اسلام آباد: رحیم یار خان میں پنجاب پولیس کے تشدد کے باعث جاں بحق ہونے والے اے ٹی ایم کارڈ چور صلاح الدین ایوبی کے اہلحانہ کو انصاف دلانے کیلئے پاکستان سول سوسائٹی کے ممبران کی طرف سے احتجاج کیا گیا ،
    تفصیلات کے مطابق سول سوسائٹی کے ممبر ڈاکٹر فرحان ورک کی جانب سے بروز جمعرات سوشل میڈیا پر احتجاج کی کال دی گئی جس پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی اور پریس کلب اسلام آباد کے باہر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا،
    سول سوسائٹی کے احتجاج میں شریک ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ صلاح الدین کا جرم صرف یہی تھا کہ اس کا جرم پکڑا گیا تو اگر اس بات کو دیکھا جائے تو پاکستان میں کتنے ہی لوگوں کا جرم پکڑا جا چکا ہے لیکن وہ جیلوں میں اے سی اور ٹی وی کے مزے اڑا رہے ہیں اور صلاح الدین چونکہ ایک غریب باپ کا بیٹا تھا اس لیے ناحق مارا گیا اور کسی حکومتی عہدیدار کو کوئی فرق نہیں پڑا
    سول سوسائٹی کے ممبران کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی پنجاب پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ دو یا چار اہلکاروں کو معطل کردیا جاتا ہے، حلانکہ پولیس کے سینئر افسران اس بات سے باخوبی واقف ہیں کہ پولیس کبھی بھی معطلی سے ٹھیک نہیں کی جاسکتی ، اگر پولیس کو ایک عوام دوست ادارہ بنانا ہے تو لانگ ٹرم اصلاحات متعارف کروانا ہوں گی

  • جب مظلوم کی آہ عرش سے ٹکرائے گی—عبداللہ قمرکا بلاگ

    جب مظلوم کی آہ عرش سے ٹکرائے گی—عبداللہ قمرکا بلاگ

    پنجاب پولیس انسانیت کی ساری حدیں پار کر چکی ہے. گزشتہ دنوں ذہنی طور پر معذور شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا. اتنا بدترین تشدد کے دیکھنے بعد لوگ تلملا اٹھے. اس کے جسم پر جگہ جگی تشدد کے نشات تھے، جسم کو نوچا گیا تھا، ڈاکٹرز کی آراء کے مطابق استری وغیرہ سے جلایا بھی گیا تھا. ذہنی طور پر معذور شخص پولیس اہلکاروں کو خدا کا واسطہ بھی دیتا رہا اور رحم کی بھیک بھی مانگتا رہا. مگر پولیس اپنے روایتی رویے کے مطابق اس پر تشدد کرتی رہی. پولیس نے صلاح الدین کے ساتھ وہ رویہ جو کسی غدار یا جنگی قیدی کے ساتھ بھی نہیں رکھا جاتا. پولیس نے صلاح الدین کے والدین کو بتانا بھی مناسب نہ سمجھا. بہرکیف، صلاح الدین پولیس کی حراست میں دم توڑ گیا. اس کے بعد صلاح الدین کے والدین کو اس کی. موت کی اطلاع دیے بغیر پوسٹ مارٹم کروا دیا گیا. اور پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ دل کا دورہ بتایا گیا اور پوسٹ مارٹم بورڈ کے ڈاکٹرز نے کہا کہ صلاح الدین پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا.
    ڈی پی او رحیم یار خان نے بھی چاہتے نہ چاہتے ہوئے یہ بات کہہ دی کہ صلاح الدین پر کوئی تشدد نہیں ہوا. آر پی او بہاولپور نے بھی بڑی ڈھٹائی سے یہ بات کہہ ڈالی. مجھے ایک سمجھ نہیں آتی پولیس آفیسرز ہونے کہ باجود انہیں اس بات کا ادراک کیوں نہ تھا کہ "صلاح الدین پر تشدد نہیں ہوا” یہ بیان عوام بری طرح مسترد کر دیں گے. سوشل میڈیا وہ ویڈیوز اور تصاویر مکمل طور پر وائرل ہو چکی ہیں جن واضح طور ہر دیکھا جا سکتا ہے کہ صلاح الدین کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے. پولیس کے تشدد نہ کرنے کے دعوے پر سب سے بڑا سوال وہ FIR ہے جو صلاح الدین کے والد کی درخواست پر دی گئی ہے جس میں متعلقہ پولیس اہلکاروں جن میں DSP اور SHO کے نام بھی شامل ہیں. اس FiR میں پولیس اہلکاروں کو دفعہ 302 کے تحت چارج کیا گیا ہے جو قتل کی دفعہ ہے. اب سوال یہ ہے کہ اگر پولیس نے تشدد نہیں کیا تو کس طرح ممکن تھا کہ پولیس وہ FIR ہونے دیتی. خیر اب وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے. مگر ابھی تک اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئ ہے. اور نا ہی کسی حکومتی نمائندے نے صلاح الدین کے خاندان کو اعتماد میں لینے اور انصاف کی امید دلانے کی کوشش کی ہے. انہیں عمران خان یا عثمان بزدار سے ذیادہ تو اپنے وکلاء اسامہ خاور اور حسن نیازی سے انصاف دلانے کی امید ہے.

    ابھی قوم اس معاملے کو لے کر غم و غصے کا اظہار کر رہی تھی کہ اگلے ہی روز لاہور میں بھی اسی نوعیت کا واقعہ ہو گیا. لاہور میں پولیس اہلکاروں کے تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک ملزم دم توڑ گیا.
    ااس واقعے کو بھی ابھی ایک ہی دن گزرا ہے کہ آج لاہور ایک باوردی پولیس والا ایک بوڑی اماں سے بدتمیزی کر رہا ہے بلکہ اس کی تذلیل کر رہا ہے. کیا وہ بوڑھی اماں پولیس کا یہ رویہ دیکھنے کے لیے ٹیکس دیتی ہے. کیا پولیس اس طرح لوگوں کی جان و مال اور عزت کا دفاع کرتی ہے. یہ واقعات صرف تین سے چار دن کے اندر ہوئے ہیں. ماضی بھی ایسے واقعات سے بھرا ہوا ہے. ہم کیا کریں گے دہشتگردوں کو اس ملک سے بھگا کر جب ہمارے عوام کے لیے پولیس بھی خطرہ ہے. لوگ پولیس سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ تھانہ کلچر لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیتا ہے.

    پولیس کے اس رویے کے نتیجے میں بننے والے ماحول کا سب سے ذیادہ نقصان عمران خان کو ہو گا. عمران خان صاحب اگر آپ کو خبریں صرف TV سے ہی. ملتے رہیں تو دو سالوں کے اندر اندر آہ کی باییس سال محنت ضائع ہو جائے گی. وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان دونوں اس معاملے پر چپ ہیں. اور ان عہدوں پر ہونے باوجود چپ رہنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے. آپ کو کیا لگتا جب عرش والے زمین ذہنی طور پر معذور صلاح الدین کے ساتھ ظلم ہوتے دیکھا ہو گا تو اسے ترس نا آیا ہو گا..؟ جب عرش والے رب بوڑھی اماں ذلیل ہوتے دیکھا ہو گا تو اسے ترس نا آیا ہو گا..؟ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر پولیس ریفامز کی طرف توجہ دے. اور پولیس کو باقاعدہ نوٹیفکیشن ایشو کیا جائے کہ وہ شہریوں کے ساتھ اخلاقیات دائرے کے اندر رہتے ہوئے بات کرے تاکہ لوگ ظالم کے سامنے اپنی بے بسی پر رونے کی بجائے اپنی شکایت لے کر پولیس کے پاس جائیں.

    ایک بات یاد رکھیں مظلوم کی آہ میں اور رب کے عرش کے درمیان کویی پردہ نہیں ہوتا. اور جب مظلوم آہ رب کے عرش سے ٹکرائے گی تو یقیناً ظلم کرنے والے کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی. جس کا ایک مظہر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ صلاح الدین کسی بہت با اثر باپ بیٹا یا کسی بڑی یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ نہیں تھا بلکہ وہ تو ذہنی طور پر بھی معذور تھا اور نہ ہی اس کا خاندان بہت ذیادہ پڑھا لکھا ہے کہ وہ میڈیا اور قانون کی باتوں سمجھتے ہوں مگر سوشل میڈیا صلاح الدین کے ورثا کی آواز بن چکا ہے. ہر بلیٹن میں صلاح الدین کا تذکرہ ہو رہا ہے اور انصاف کی اپیل کی جا رہی ہے. ٹوئیٹر پر ایک یا دو نہیں بلکہ صلاح الدین کے لیے تین ٹرینڈز پینل پر آ چکے ہیں. اگر ٹکینکلی دیکھا جائے ان ایام میں جب میڈیا پر کئی قومی اور بین الاقوامی ایشوز چل رہے ہیں paid campaigns بھی اتنی وائرل نہیں ہو سکتی تھیں. مگر یہ اس مظلوم آہ ہے پورا پولیس ڈیپارٹمنٹ سر جوڑ کر بیٹھا ہے.
    تحریرازعبداللہ قمر

  • پیار نہیں مار : استاد جلاد بن گیا، میٹرک کے طالبعلم کی جان لے لی

    پیار نہیں مار : استاد جلاد بن گیا، میٹرک کے طالبعلم کی جان لے لی

    لاہور : پہلے یہ نعرہ رواج پا گیا کہ مار نہیں پیار مگر اب معاملات الٹ چل رہے ہیں ، عقل سے عاری استاد نے اس نعرے کو پیار نہیں مار میں بدل دیا ، اطلاعات کے مطابق روحانی باپ جلاد بن گیا، امریکن لائسٹف سکول گلشن راوی برانچ کے استاد نے سبق یاد نہ کرنے پر دسویں جماعت کے طالبعلم کی جان لے لی۔

    پولیس کے مطابق امریکن لائسٹف سکول گلشن راوی برانچ کے استاد نے سبق یاد نہ کرنے پر دسویں جماعت کے طالبعلم کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، طالبعلم پر لاتوں گھونسوں کی بارش کی، طالبعلم کا سر دیوار سے دے مارا جس سے طالبعلم کی حالت غیر ہوگئی، حالت غیر ہونے پر طالبعلم کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا

    ذرائع کے مطابق وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے پرائیویٹ سکول میں بچے کی ہلاکت پر نوٹس لیتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن کو واقعے کے ذمہ دار وں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

    ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ بچے کی ہلاکت کا معاملہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے، پولیس نے موقع پر پہنچ کرٹیچر کامران کو حراست میں لےلیا۔ذمہ دار ٹیچر کو منتقی انجام تک پہنچائیں گے

  • صلاح الدین کا عالم برزخ سے سکائپ پر وزیراعظم سے رابطہ —- فردوس جمال

    صلاح الدین کا عالم برزخ سے سکائپ پر وزیراعظم سے رابطہ —- فردوس جمال

    صلاح الدین :ہیلو خان صاحب !
    آپ قطر سے واپس آ گئے ہیں؟
    خان صاحب: ہاں صلاح الدین میں واپس آ چکا ہوں.
    صلاح الدین: مدنی ریاست کے امیر المؤمنین میرے بہیمانہ قتل کی کچھ خبر بھی ہوئی آپ کو؟
    خان صاحب:جی صلاح الدین مجھے ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا.

    صلاح الدین:یا امیر المومنین میرے قاتل معلوم ہیں مگر آزاد گھوم رہے ہیں.
    خان صاحب: دیکھو صلاح الدین ابھی خزانہ خالی ہے.
    صلاح الدین: یا امیر المومنین والمؤمنات خزانہ خالی ہونے سے میرے قتل کا تعلق ؟
    خان صاحب:سنو صلاح الدین میں جب کرکٹ کھیلتا تھا میں نے دو چیزیں سیکھی ہیں ایک کیچ کو ہمیشہ مس کرنا اور دوسری مس کو ہمیشہ کیچ کرنا.

    صلاح الدین:یا امیر المؤمنین والمؤمنات ان ظالموں نے میرے جسم کو استری سے جلایا،میرے نازک اعضاء پہ بجلی کے کرنٹ لگائے،میرے جلد کو اکھیڑا مجھ پر تشدد کے پہاڑ توڑے میں نے کیا بگاڑا تھا ان کا ؟
    خان صاحب:صلاح الدین تم سمجھنے کی کوشش کرو دو نیو کلیر ممالک کے درمیان جنگ پاگل پن ہے جیت کسی کی بھی نہیں ہوتی ہے.

    صلاح الدین:یا امیر المومنین والمؤمنات آپ کی پارٹی کا نام انصاف،نعرہ انصاف مگر مجھے کب انصاف ملے گا؟

    خان صاحب:صلاح الدین ملک میں ظلم دیکھ کر میں بشری بی بی سے کہتا ہوں کہ دیکھو بشری کتنا ظلم ہو رہا ہے تو وہ کہتی ہیں آپ وزیر اعظم ہیں،پھر مجھے یاد آتا ہے کہ میں وزیر اعظم ہوں.

    صلاح الدین:یا امیر المومنین و المؤمنات مجھے اگر انصاف نہ ملا تو کل اللہ مالک الملوک کی عدالت میں میرا ہاتھ اور آپ کا گریبان ہوگا.
    خان صاحب : دیکھو صلاح الدین عثمان بزدار کوئی بڑی ٹوپی لمبے بوٹ نہیں پہنتا وہ سادہ آدمی ہے اس کے گھر میٹر نہیں لگا ہے.

    صلاح الدین :(کال کاٹتا ہے،منہ چڑاتا ہے،اس نظام پر،حکمران پر اور اس ڈھکوسلے انصاف پر تھو کرتا ہے)

  • امریکہ سے ملنے والے اپاچی ہیلی کاپٹر پٹھان کوٹ تعینات کردیئے گئے

    امریکہ سے ملنے والے اپاچی ہیلی کاپٹر پٹھان کوٹ تعینات کردیئے گئے

    بھارتی فضائیہ نے امریکا کے آٹھ فوجی ہیلی کاپٹروں کو پاکستان کے ساتھ ملحقہ سرحدوں کے قریب تعینات کردیا ہے۔بھارت کے ایئرچیف مارشل بریندر سنگھ دھانوا نے کہا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ نے اے ایچ چونسٹھ اپاچی ہیلی کاپٹروں کو پٹھان کوٹ ایئر بیس پر تعینات کردیا ہے۔

    بھارتی ائیر چیف نے کہا یہ ہیلی کاپٹر ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل کو لوڈ اور انہیں فائرکرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ فضا سے فضا میں مارکرنے والے میزائل کو فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور الیکٹرانیک وار فی‍ئر میں بھی ان کا بہت اچھے انداز میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہندوستانی فضائیہ میں امریکا کے اپاچی ہیلی کا پٹر کو روس کے قدیمی ہیلی کاپٹر میل ٹوئنٹی فائیو کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔

  • کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    کشمیر اور کشمریوں کی حمایت پر بلاک ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہوگئے

    اسلام آباد:حکومت پاکستان کی طرف سے سخت دباو پر مقبوضہ کشمیر سے متعلق ٹوئٹس پر پاکستانیوں کے بند ہونے والے ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال ہونا شروع ہو گئے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کے لیے کیے گئے ٹوئٹس پر 333 پاکستانیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیے تھے۔

    کشمیریوں کی حمایت پر بولنے پر بھارت کی جانب سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، سینیٹر رحمان ملک، وفاقی وزیر مراد سعید کے خلاف بھی شکایت کی گئی تھیں تاہم ٹوئٹر انتظامیہ نے ان رہنماؤں کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے معذرت کر لی تھی۔

    پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کی مداخلت پر ٹوئٹر انتظامیہ نے بلاک کیے گئے اکاؤنٹس بحال کرنا شروع کر دیے ہیں اور اب تک 67 اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے ہیں جبکہ دیگر اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔

    دوسری طرف پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حق میں مواد شیئر کرنے پر ٹوئٹر اکاؤنٹ صارفین شکایات کی صورت میں پی ٹی اے سے رابطہ کریں۔