Baaghi TV

Category: بلاگ

  • شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا

    شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا

    شندور پولومیچ فائنل چترال نے جیت لیا

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شندور پولو فائنل میچ میں چترال نے گلگت کو 5 کے مقابلے میں 6 گول سے ہرا کر فاٸنل اپنے نام کر لیا۔دنیا کے بلند ترین میدان شندور میں 3 روزہ پولو فیسٹول جاری رہا جو آج اختتام پذیر ہو گیا

    بارہ ہزار فٹ پر واقع دنیا کے بلند ترین گراونڈ شندور میں تین روزہ فری اسٹائل پولو ٹورنامنٹ اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ آج چترال اور گلگت کی ٹیموں کے مابین پولو میچ کھیلا گیاجو چترال نے جیت لیا۔ بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان گراونڈ میں ثقافتی رنگوں سے سجے اس میلے نے سب کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا ۔ سیاحوں کی بڑی تعداد شندور میں موجود رہی۔

    سالانہ فیسٹول میں شرکت کیلئے دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح شندور کا رخ کرتے ہیں۔ پولو کے علاوہ دیگر روایتی کلچرل شو بھی منعقد کیے جارہے ہیں۔ خطروں کے کھلاڑی پیراگلائیڈرز

  • اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    گزشتہ روز ہم اور پروفیسر سلیم ہاشمی یو ایم ٹی کے ماہانہ ادبی ناشتے میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ لیکن پروفیسر سلیم ہاشمی بوجہ علالت کے اتنی شاندار تقریب میں شرکت نہ کر سکے ۔لیکن انہوں نے مجھے بطور خاص ہدایت کی ان کی نمائندگی درویش صفت تحریک ‘ قومی سوچ کے حامل’ ماہر اقتصادیات ‘ ماہر تعلیم سابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی رہنما جناب جمیل بھٹی صاحب کریں۔ جمیل بھٹی صاحب ایک سابق بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مالیات سے متعلق بہت سی انگریزی کتب کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ مرحوم اسمعیل بھٹی کے انتہائی لائق فرزند ہیں ۔ آپ نے حاضرین کو اپنی ملازمت کے دوران کےبہت سے اجلاس کا حال سنایا کہ بیوروکریسی میں تمام اجلاسوں اردو میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کاروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تعلیم مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میری انگریزی شاعری کی دو کتب چھپ چکی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود میں اردو اور پنجابی میں اپنے خیالات کھل ڈھل کر بیان کرسکتا ہوں”
    ہم نے اپنے خطاب میں مرزا الیاس اختر کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے ہم سے اس تقریب کو منعقد کرنے کا ایک پرانا وعدہ اہداء کیا۔اگر چہ یہ وعدہ ادھورا ہے۔ کیونکہ ان کا ہم سے وعدہ تھا کہ وہ نفاذ اردو کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ انہوں نے پھر ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
    ہم نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بس! پاکستان میں اتنی اردو نافذ کردیں!
    جتنی برطانیہ میں برطانوی انگریزی
    ایران میں فارسی
    چینی میں چینی
    فرانس میں فرانسیسی
    جرمن میں جرمنی!
    اور انگریزی کو اتنی اختیاری حیثیت دے دیں جو ان ممالک نے دے رکھی ہے۔۔
    ہم نے حاضرین سے درخواست کی کہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں بھی نفاذ اردو فیصلے کی توہین ہورہی ہے۔ہر پاکستانی اس توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے”
    یہ بہت خوش آئند بات تھی کہ تقریب میں دو انگریزی میڈیم اداروں کے سر براہان اور نوجوان بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہماری باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنیں۔ انگریزی میڈیم ادارے نے ہمیں اپنے ادارے میں نفاذاردو کا لیکچر دینے کی دعوت دی۔
    الحمداللہ! نفاذ اردو کے حوالے سے نوجوانوں میں بہت شعور پیدا ہورہا ہے جو ایک روشن صبح کی امید ہے۔ معروف ادیبہ اور شاعرہ تسنیم کوثر نے ہمارا یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا۔ ” فاطمہ قمر کی تقریب ہو اور میں نہ جاؤں”
    اصل میں یہ تسنیم کوثر کی خود اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔
    میجر ریٹائرڈ خالد نصر ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اور بہت جذبے اور شوق کے ساتھ وقت پر تشریف لائے۔۔آپ ادبی لحاظ سے بہت سر گرم ہیں۔
    گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کی سابق پرنسپل محترمہ ساجدہ پروین اور فوزیہ محمود فروا نے ہماری دعوت پر بطور خاص پروگرام میں شرکت کی۔ اور ایک صاحب سیدھا اسلام آباد سے تقریب میں شرکت کرنے پہنچے۔
    بہت سے لوگوں کے انباکس میں پیغامات آئے کہ انہوں نے پیغام دیر سے دیکھا جب تقریب ختم ہوچکی تھی۔۔
    اتنی پروقار تقریب کا انعقاد کرنے پر ہم مرزا الیاس اختر اور یو ایم ٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
    پروفیسر سلیم ہاشمی کو تقریب میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس رہا ۔اپ کے الفاظ ہیں ” کہ یو ایم ٹی کے فورم سے نفاذاردو کی بات کرنا میرا خواب رہا ہے”
    ان شاءاللہ! اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ وہ پروفیسر سلیم ہاشمی اور ہم سب کا نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر کرے گا! ان شاءاللہ
    ان تمام معزز مہمانوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری دعوت پر اس تقریب میں شرکت کی۔

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک

  • کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے

    چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.

    اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.

    کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.

    جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.

    مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.

    آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.

    دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.

    مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.

    دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.

    یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
    اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
    پاکستان پائندہ باد

  • ہمارا سیاسی کلچر ۔۔۔ زین خٹک

    ہمارا سیاسی کلچر ۔۔۔ زین خٹک

    کارکن کسی بھی سیاسی جماعت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ کارکن دن رات، گرمی سردی، طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات انسانی تقاضوں کی پرواہ کیے بغیر جماعت کے لیے کام کرتے ہیں۔ جلسے جلوس میں آگے آگے ہوتے ہیں۔ نہ جیل کی سلاخوں کی پرواہ،نہ مار پیٹ سے ڈر، نہ بھوک و افلاس سے گھبراہٹ، جان تک پارٹی کے لئے وقف کرتے ہیں۔ دراصل کارکن کسی بھی پارٹی کا اثاثہ ہوتے ہیں۔
    بنیادی طور پر لوگ سیاسی پارٹیاں اور سیاست میں شمولیت تین وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
    پہلی اور بنیادی وجہ نظریاتی سیاست ہے۔ یہ سیاست نظریے کی بنیاد پر قائم دائم رہتی ہے۔ نظریہ انسانی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت دنیا میں پانچ اہم سیاسی نظریات موجود ہیں۔ جن میں اسلامزم، سوشلزم، کمیونزم، لبرلزم اور آمر شاہی قابل ذکر ہیں۔ اسلام ازم کے نظریے پر کاربند کارکن ہمیشہ اپنی نظریے کی خاطر قربانیاں برداشت کرے گا۔ اور اپنے نظریے پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ اسی طرح سوشلزم کا حامی کبھی سوشلسٹ نظریات پر سمجھوتہ نہیں کرےگا۔ یہ کارکن ہر سیاسی جماعت میں موجود ہوتے ہیں۔ یہی جماعت کی اصل روح کےمطابق کام کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر پارٹی میں اور ہر وقت نظریاتی لوگ قربانیاں دیتے ہیں۔ نہ پارٹی سے ناراضگی، نہ پارٹی اصولوں پر سمجھوتہ، نہ چاپلوسی، اور نہ چمچہ گیری کرسکتے ہیں۔ لہذا ہمیشہ پارٹیوں میں نظریاتی کارکن نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس قسم کے کارکن مرتے دم تک اپنی پارٹی سے منسلک رہتے ہیں۔ تقریبا 4 سے 6 فیصد لوگ نظریہ کی سیاست کرتے ہیں۔
    دوسری وجہ ذاتی مفادات اور ترجیحات ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور پر مفاد پرست ہوتے ہیں۔ ان کا نظریے سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لیے کبھی ایک پارٹی تو کبھی دوسری پارٹی یا ایک ہی جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔ ان کا مطمع نظر ذاتی مفادات کا حصول ہے۔ بے روزگار کارکن نوکری کے چکر میں، ٹھیکیدار کارکن ٹھیکوں اور پرمٹ کے لیے، کاروباری کارکن کاروبار کی بڑھوتری، ٹیکسوں سے چھوٹ، کاروبار کی ترویج، سرکاری ملازمین اعلی عہدوں پر تعیناتی، اور سیاست کے پیچھے اسی طرح کے بعض دیگر اغراض و مقاصد کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ پیدا گری کارکن ہوتے ہیں۔ یہ کارکن پارٹی سے زیادہ ذاتی خواہشات کے لیے سرگرم عمل ہوتے ہیں۔ ہر پارٹی میں اس قسم کے لوگ اعلی عہدوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ کیونکہ لینڈ کروزر، پراڈو، بنگلوں، ہوٹلوں میں کنونشنز اور پارٹی فنڈز میں پیسے ڈال کر ذاتی مفادات اور مراعات لے لیتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت میں یہ طبقہ خوشحال ہوتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت میں تقریبا 52 سے60 فیصد کارکن ذاتی مفادات کے لیے سیاست کرتے ہیں۔
    تیسری وجہ گروپس اور با اثر افراد کی چاپلوسی اور چمچہ گیر ی کرنا ہے۔ یہ کارکن خانوں، نوابوں، جاگیرداروں، بدمعاشوں، کارخانہ داروں، وڈیروں اور جاگیر داروں کی وجہ سے کسی پارٹی میں آتے ہیں۔ یہ وہی روایتی ذہن اور سوچ کو لیکر سیاسی جماعت پر قبضہ جما لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کارکن جماعت کی بجائے گروپس کی نوکری کرتے ہیں۔ ہر وقت اور ہر موقع پر ان کے گیت گنگناتے رہتے ہیں۔ آج کل تو سوشل میڈیا پر اس طرح کے کارکن دن رات گروپس اور اپنے آقاؤں کی پوسٹس لگاتے رہتے ہیں ان کی ثناخوانی اور تعریفوں میں زمین آسمان ایک کرتے ہیں۔ تعریفوں کے ایسے پل باندھتے ہیں ۔کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔ یہ سب سے خطرناک اور مضر کارکن ہوتے ہیں۔ اور ان کو ہر سیاسی جماعت میں باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر ہر سیاسی جماعت میں 30 سے 36 فیصد تک ان کارکنوں کی نمائندگی ہوتی ہے۔

  • وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

    وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس

         فسطائیت کا لفظ ان دنوں پاکستانی سیاست میں زبان زد عام ہے۔انگریزی میں فسطائیت کو  فاشزم کہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سے پاکستانی میڈیا پر اس لفظ کا خوب پرچار ہورہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے بھی اپنے مختلف بیانات میں اس لفظ کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فسطائیت پروان چڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب فاشزم سے متاثر شخص ہیں اور وطن عزیز میں فسطائیت کے نظریات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وطن عزیز میں فسطائیت کو پروان نہیں چڑنے دیں گے بلکہ خان صاحب کے ان نظریات کا رد کر کے ان کا مقابلہ کریں گے۔میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور دوسرے اپوزیشن ارکان،خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو فسطائیت قرار دیا۔    
    قارئین کرام آج کے کالم میں ہم لفظ فسطائیت کے مفہوم اور اس کی تاریخ سے پردہ ہٹانے کی کوشش کریں گے۔بنیادی طور پر لفظ فسطائیت لاطینی زبان کے لفظ Fascio سے ماخوذ ہے۔لاطینی زبان کی اگر بات کی جائے تو یہ زبان قدیم روم میں بولی جاتی تھی۔لاطینی زبان میں لفظ Fascio کے معنی ڈنڈوں کے مجموعہ کے ہیں۔یہ ڈنڈوں کا مجموعہ اس وقت کے مجسٹریٹ کے پاس ہوتا تھا۔مجسٹریٹ ان ڈنڈوں کواپنے سپاہیوں کو دے دیتا اور وہ ان ڈنڈوں کو ہاتھوں میں لیے بازاروں میں گشت کرتے تھے۔بازار میں اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتے پکڑا جاتاتو وہ سپاہی اسی وقت اسے پکڑ کر سزا دیتے تھے۔ یہاں تک کے ان سپاہیوں کے پاس بڑی سے بڑی سزا دینے کے بھی اختیارات ہوتے تھے۔ڈنڈوں کا یہ مجموعہ وقت کے مجسٹریٹ کا نشان تھا جو بعد میں فاشزم یعنی فسطائیت بن گیا۔اگر ہم سیاسی تناظر میں اس لفظ کی وضاحت کریں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم پرستی یا شدید وطن پرستی ہے جو آمریت کا رجحان رکھتی ہے۔عام فہم میں آمریت سے مراد طاقت کا استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا اور اپنے نظریات کی پاسداری کرانا ہے۔
         فاشزم کا آغاز بیسوی صدی میں ہوا،بنیادی طور پر یہ یورپ کی ایک تحریک تھی۔اس تحریک سے ایسے لوگوں کی اکژیت وابستہ تھی جو سوسائٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے تھے۔فاشزم نے انڈسٹری،مارکیٹ،کامرس اور بینکنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔فسطائیت کی تحریک ایک جرمن فلاسفر فریڈرک نیطشے کی سوچ کا مظہر تھی۔اس کا خیال تھا کہ عیسائیت ایک غلام مذہب ہے،اور یہ لوگوں میں غلامی کو فروغ دیتا ہے۔لہٰذا ہمیں ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے مذہب کو چھوڑ کر جدید سائنس کو اپنانا چاہیے۔فریڈرک نیطشے کا مشہور مقولہ ہے کہ God is dead جس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط میں سے خدا کو نکال کر زندگی کے تمام اصول اور قوانین خود طے کیے جائیں۔اس نے ایک سپر مین super men کا تصور بھی متعارف کرایا،جس کے مطابق انسان میں طاقت ہونی چاہیے کہ وہ مقتدر بن کر اقتدار کی قوت کو حاصل کر سکے۔فریڈک کے مطابق ہر وہ چیز اور نظریہ جو انسان کو طاقتور بنائے اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس ہر وہ نظریہ جو اس طاقت کو حاصل کرنے سے روکے وہ برا ہے۔قارئین کرام اگر ہم فریڈک نیطشے کے فسطائیت کے مفہوم کو مختصر بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق طاقت اور اقتدار ہی اچھائی کا محور و مرکز ہیں۔اس طاقت اور اقتدار کو پانے کے لیے کوئی بھی اچھا یا برا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔فسطائیت کا آغاز سب سے پہلے اٹلی میں ہوااور اس کاپہلا بانی بینیٹو مسولینی تھا۔مسولینی سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا۔جنگ عظیم اول میں سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی نے حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کی جس وجہ سے مسولینی نے اس پارٹی کو خیر باد کہہ کر فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔اس پارٹی سے منسلک لوگ سیاہ شرٹ پہنتے تھے۔ان کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ اٹلی کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔انہوں نے اٹلی کی عوام کو تبدیلی کا ایک نیا تصور دیا۔آغاز ہی میں انہوں نے اٹلی کی ایک مزدوروں پہ مشتمل منظم تحریک کو طاقت کا استعمال کرکے ختم کر دیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اٹلی کے جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقے نے اس تحریک کو تقویت بخشی اور اس کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔اس طرح فسطائیت کی یہ تحریک اٹلی کے ساتھ ساتھ پورے یورپ میں پھیل گئی،اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات منوانے میں کامیاب ہو گئی۔قارئین کرام اس تحریک کا اصل مقصد نیشنلزم اور جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم کرنا تھا۔اگلے کالم میں ہم فسطائیت پہ مبنی نظریات اور اس کی علامات پہ روشنی ڈالیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی وزیر اعظم عمران خان وطن عزیز میں فسطائیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں،اور وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپوزیشن کی جانب سے خان صاحب پہ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
    رانا اسد منہاس جڑانولہ
    adiminhas562@gmail.com

  • سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    پاکستان تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی جماعت ضرور ہے مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ، تنظیمی تربیتی ماحول اور یونٹ کی سطح سے مرکزی سطح تک کسی قسم کا کوئی نظام نہیں، جس کی وجہ سے کارکنان کی تربیت سازی کا کوئی رواج ہی نہیں۔ جب ہم قوم یوتھ کہتے ہیں تو اس سے مراد گزشتہ الیکشن میں پہلی دفعہ ووٹ دینے والے نوجوان ہیں، جن کو بڑے بڑے صحافی خود ہی "یوتھیے” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، ان کی جانب سے گھٹیا ٹرینڈز آنا اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، اسی طرح مسلم لیگ ن کا سٹرکچر بھی ایسا ہی ہے، وہاں نوجوانوں کا دیہاتی طبقہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ یوتھیے اور نونی قوم کے اخلاقی زوال کی ترجمانی کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب جماعتی ماحول میں تربیت پانے والے کارکنان گالم گلوچ کے بجائے دلیل سے بات کرتے ہیں، عوامی تحریک، جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ وغیرہ کے کارکنان سوشل میڈیا پر میری اس بات کے گواہ ہیں۔ لہذا جماعتوں کو چاہیے کہ نظام بنائیں اور کارکنان سازی کریں۔ محض ووٹرز کے دم پر چلنے والی جماعتیں جلد زوال کا شکار ہوجایا کرتی ہیں جبکہ کارکنان کے زور بازو پر پنپنے والی تحریکیں صدیوں زندہ رہتی ہیں۔

  • غیرت کی طغیانی ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    غیرت کی طغیانی ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    رات کی سیاہ تاریکی ہر اک جانب گھور اندھیرے گاڑے ہوئے تھی۔افق پر چاند اپنی روشنی کی وجہ سے خود کو سود مند ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر غلامی کی تاریکیوں کے سامنے چاند کی مرضی نہیں چلا کرتی۔غلامی کے اندھیروں کو صرف وہ چراغ ہی مٹا سکتے ہیں جو اپنے خون کو ایندھن بنا کر جلایا کرتے ہیں!

    رات کی تاریکی چھٹنے لگی۔سورج کی حسین کرنیں مشرق سے نمودار تو ہوئیں مگر چاند ہی کی طرح سورج بھی غلامی کے اندھیروں کو نہ بھگا سکا۔نجانے ان اندھیروں کو ختم کرنے کیلیے کتنے چاند نمودار ہوئے اور ناکام روپوش ہوگئے۔نجانے کتنی بار سورج نے کاوشیں کیں مگر نامراد لوٹا۔مگر اس صبح والا سورج کچھ الگ ہی اہمیت رکھتا تھا۔اس جبر و استبداد سے محو جنگ وادی میں مائیں اپنے جگر گوشوں کو جہاں ایک طرف آہنی زرہ پہنایا کرتیں اور سعد و خالد اور ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنھم کے قصے سنایا کرتیں وہیں وہ اپنے بیٹوں کو بستہ تھما کر قلم جیسی عظیم تلوار پکڑنے کو سکول بھیجا کرتیں۔اس صبح بھی ایک جگر گوشہ اپنا بستہ تھامے سکول کی جانب رواں دواں تھا۔وہ تتلیوں کو دیکھتا اور انہیں پکڑنے کی آرزو کرتا۔وہ بلند و بالا پہاڑ دیکھتا اور ان میں کھو جانا چاہتا۔اس عالم میں اس کے سامنے کچھ ڈراؤنی شکلوں والے لوگ نمودار ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں بندوقیں پکڑی ہوئی تھیں۔لڑکا ان سب کو دیکھتا جا رہا تھا اور آگے بڑھتا جا رہا تھا۔دیکھتے دیکھتے اس کے سامنے ان لوگوں نے بندوقیں تان لیں اور اس سے اسکا بستہ چھین لیا۔لڑکا محو حیرت تھا۔وہ سمجھ نہ پا رہا تھا کہ ابھی تو وہ تتلیاں پکڑنے کی آرزو کر رہا تھا اور یکایک اس سے اسکا بستہ چھین لیا گیا۔لڑکا ان لوگوں سے مخاطب ہوا:

    "انکل مجھے سکول جانا ہے میرا بستہ لوٹا دیجیے۔”

    ان الفاظ میں وہی بچوں جیسی معصومیت تھی۔
    جواب میں ان میں سے ایک آدمی نے بڑے طنزیہ انداز میں کہا

    "مسلمان اب یہاں پڑھیں گے؟جا نکل جا یہاں سے۔۔۔تجھے ہم نے سکول نہیں جانے دینا۔”

    لڑکا دوبارہ حیرت کی کیفیت میں لوٹ گیا کیونکہ ابھی تک اس سے کسی نے اتنے سخت لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ وہ رونا چاہتا تھا مگر غیرت نے یہ گوارا نہ کیا۔

    وہ واپس پلٹا۔ یہ سوچ کر کہ ابا سے انکی شکایت کروں گا۔ وہ راستے میں تھا کہ اسی جگہ پر جہاں اس نے ابھی تتلیاں دیکھی تھی، آگ بھڑک رہی تھی۔ وہ حیرت کے مارے وہاں کھڑا ہوگیا اور یہ سوچنے لگا کہ ابھی تو یہاں دلفریب مناظر تھے مگر اب_______ وہ دیکھ رہا تھا کہ ہر سو بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔اسی بھگدڑ میں ایک آدمی سے لڑکے نے پوچھا”چچا یہ کیا ہوا ہے”۔آدمی نے جواب دیا "بیٹا یہاں سے انڈین آرمی کا گزر ہوا تھا۔انہوں نے ہم سے پیسوں کی طلب ذلت آمیز انداز میں کی۔ہم نے انکار کردیا کہ خود ہم معاشی پریشانیوں سے دو چار ہیں،ہم پیسے نہیں لاکر دے سکتے۔جواب میں انہوں نے ایک ضعیف شخص کو پیٹا جس کا قصور یہ تھا کہ اس نے ہی ہماری نمائندگی کی تھی،اس شخص کے دو بیٹوں کو اٹھا کر لے گئے اور جاتے جاتے ہمارے مکانوں اور کھیتوں کو آگ لگا گئے۔”
    یہ سن کر لڑکے کو شدید جھٹکا لگا۔اس سے اس کے دل نے رونے کی اجازت مانگی مگر غیرت نے انکار کردیا کہ آنسو انسانوں کے سامنے نہیں بہائے گا۔

    لڑکا فوراََ تیز رفتار میں گھر کی سمت بھاگا۔اب اب کی بار بھی اسکا سامنا دل دہلا دینے والے مناظر سے ہوا۔سڑک پر ایک ادھیڑ عمر کا شخص سر پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا تھا۔اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے لڑکے نے اس سے پوچھا کہ چچا کیا ہوا ہے؟
    آدمی نے جواب دیا "بیٹا کچھ بھارتی فوجی آئے تھے۔میرے بیوی اور بیٹے کو مار کر چلے گئے” اور______”میری دو بیٹیوں کو اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے۔”یہ کہتے ہی وہ پھر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔لڑکے نے اس کاروائی کی وجہ پوچھی تو آدمی نے جواب دیا کہ "وہ دیکھو ہمارے گھر کی چھت پر پاکستان کا خوبصورت سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے۔انہوں نے ہم سے کہا کہ اس ہرچم کو اتارو اور ہمارے قدموں میں لاکر رکھو۔مگر یہ پرچم ہمیں جان سے زیادہ پیارا ہے۔ہم نے فوراََ انکار کردیا۔اس پر انہوں نے مجھے پیٹنا شروع کیا۔میرا بیٹا اور بیوی آگے بڑھے۔اسی اثنا میں دو فائر ہوئے اور میری بیوی اور بیٹے کی لاشیں زمین پر گریں اور پھر وہ______”
    لڑکا افسوس و انتقام کے جذبات سے بھر چکا تھا۔اسے اذان کی آواز سنائی دی اور وہ مسجد کی جانب روانہ ہوا۔نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو نہ اسکے دل نے اجازت لی نہ غیرت نے انکار کیا۔اسکے آنسو بہہ نکلے اور ایسے بہے کہ اسکا چہرا تر ہوگیا۔
    وہ گھر پہنچا۔ماں کو سارا واقعہ سنایا اور ماں کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کیا کہ ”مجھے اب ان ظالموں کے خلاف لڑنا ہے۔مجھے انکے تعاقب میں تب تک بندوق تھامے رکھنی یے جب تک میں اپنی آخری سانس کو پورا نہ کر لوں۔”
    ماں نے مسرت آمیز مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور اپنے جگر گوشے کی طرف دیکھا۔آج اس کے بیٹے کے چہرے پر اسے محمد بن قاسم اور سلطان ٹیپو کی جھلک دکھائی دی۔ماں کو اب معلوم ہوا کہ آج کے سورج میں خاص بات کیا تھی۔اس نے خوشی کے ساتھ بیٹے کو اجازت دی اور اس کے لیے بندوق کا بندوبست کیا۔
    اگلے روز لڑکا گھر سے نکلا اور آذادی کے راہیوں کے کیمپ میں انہیں پہاڑوں کی آغوش میں پہنچ گیا جہاں اس نے گزشتہ دن جانے کی خواہش کی تھی۔وہاں سے تربیت پائی اور پھر دشمنوں کے سامنے صف آرا ہوا۔اب وہ جان گیا تھا کہ اسے تتلیوں کو نہیں درندوں کو پکڑنا ہے!

    دن ہفتے اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوتے گئے۔مگر اب اس وادی کے حالات علحیدہ تھے۔وہ درندے جو کھلم کھلا پھرا کرتے تھے اب اپنی پناہ گاہوں سے نکلنے کو ڈرتے تھے۔آزادی کی کوششیشیں اب تیز ہوچکی تھیں ۔انڈین فوج نے اس لڑکے پر بھاری انعام مقرر کیا اور اسے پکڑنے کی کاوشیں تیز کردیں جس سے انہیں اب ڈر لگنے لگا تھا۔مگر وہ لڑکا بھی ڈٹا رہا۔اور اپنی غیرت کی طغیانی سے ظلم کو ڈبوتا رہا۔اب وہ ہر بہن کا بھائی،ہر بھائی کا ہمدم، ہر ماں کا لال اور ہر باپ کا سہارا بن چکا تھا۔

    پھر ایک روز ۸ جولائی کو وہ لڑکا بھارتی فوجوں سے لڑتا ہوا شہادت نوش کرگیا۔مگر یہ چراغ بجھ کے بھی نہ بجھا کہ وہ اک عجب نور کا حامل تھا۔اس کی شہادت نے بھارتی فوج پر ایسا طوفان برپا کیا کہ جس کی تیز ہوائیں ابھی بھی چل رہی ہیں اور عدو پر اپنی تباہ کاریاں مچا رہی ہیں۔اسی حوالے سے شاعر سلیم اللہ صفدر نے کیا خوب کہا ہے:

    وہ چراغ بجھ کہ بھی کیا بھجا
    کہ وہ نور اتنا عجیب تھا
    سر عرش سے تہہ خاک تک
    سبھی روشنی میں نہا گئے

    قارئیں کرام! جس لڑکے کا ہم نے ذکر کیا وہ بلاشبہ برہان مظفر وانی ہے۔اس سے کچھ واقعات منسوب کرکے ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک کشمیری کے مجاہد بننے میں کیا کیا اسباب چھپے ہوتے ہیں۔ یہ ہلکہانی وادئ جنت نظیر کے عالم شباب میں داخل ہونے والے ہر جوان کی ہے۔ اب ذمہ داری ہماری بھی ہے کہ ہر محاذ پر کشمیریوں کی آواز بنے رہیں۔اور کم از کم انہیں اپنی دعاؤں میں لازمی یاد رکھیں۔
    اللہ پاکستان اور کشمیر کا حامی و ناصر۔
    کشمیر بنے گا پاکستان ان شاء اللہ

  • شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    شہادتِ برہان مظفر وانی، ایک سبق ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل

    برہان مظفر وانی کشمیر کا وہ نوجوان بیٹا تھا جس نے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔برہان وانی نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ آزادی پسند نوجوان ہے۔کشمیر میں انڈین آرمی کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔دن بدن کسی نہ کسی مسلمان کو شہید کر دیا جاتا، انڈین آرمی والی مسلمان بیٹیوں کی عزتیں لوٹتے۔ ظالم بچوں کو بھی نہ بخشتے۔ بچوں کی آنکھوں میں پیلٹ گن کے چھٹرے مار مار کر ان کی بینائی چھین لی جاتی ہے۔انہیں مظالم کی دوران ایک بچے نے وادی کشمیر میں جنم لیا۔انہیں مظالم میں پرورش پائی کبھی وہ دیکھتا کہ کشمیر کی کسی بیٹی کی عزت لوٹ لی غاصبوں نے ،کبھی وہ سنتا فلاں بھا ئی کو شہید کر دیا گیا۔کبھی وہ سنتا کہ امام مسجد کو روڈ پر شہید کر دیا گیا ۔کبھی وہ سنتا کہ نماز جمعہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔کبھی وہ دیکھتا کہ قربانی کا موقع ہے اور گائیں ذبح کرنے پر پابندی ہے۔کبھی نماز پر پابندی ہے ۔کبھی وہ سنتا کہ 22 کشمیری مسلمان اذان دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ان سب مظالم کو دیکھ کر اس کا دل بیزار ہوتا تھا۔اللہ نے ہمت دی کہ آزادی پسند مجاہدین کشمیر میں شامل ہوا۔اپنی گن کے ذریعے انڈین آرمی کی نیندیں حرام کر دیں ۔ وہ ڈرنے لگے۔
    شاعر مشرق یوں کہتے ہیں

    کافر ہے تو شمیشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
    مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

    اقبال کی شاعری نےاس پر اثر کیا اور وہ جہاد کی راہ پر نکلا ۔جہاد کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی۔آزادی حاصل کرنے کے لیے کشمیری قوم قربانیاں دے رہی ہے ۔

    ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
     حُریّتِ افکار کی نعمت ہے خدا داد

    انڈین میڈیا بھلے انھیں آتنک وادی کہتا ہوں لیکن عظیم مجاہد برہان مظفر وانی شہید رحمتہ اللہ ہمارے تو ہیرو ہیں کیونکہ انہوں نے آزادی کی خاطر جدوجہد کی۔ ہمارے لیے تو Freedom Fighter ہے ۔وہ مسلمان جو آزادی حاصل کرنے کے لیے اٹھا ہو۔ پہلے مسلمانوں نے بھی پر امن طریقہ اپنایا۔ قرار دادیں منظور ہوئیں لیکن بھارت نے آج تک ان قرار دادوں کو نہیں اپنایا تھا۔پھر مسلمانوں نے وہ طریقہ اپنایا جہاد فی سبیل اللہ کا۔جو بندے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں
    اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ۙ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۲۰﴾
    ترجمہ :-
    جو لوگ ایمان لائے ہجرت کی اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں ۔
    بھلے یہ کفار ان مجاہدین کو صحیح نہ سمجھیں لیکن اللہ کے ہاں وہ بڑے مقام و مرتبہ والے ہیں۔کشمیری قوم محکوم و مجبور ہیں۔برہان وانی کی شہادت نے انھیں ایک نظریہ دیا کہ یہ ہے آزادی حاصل کرنے کا طریقہ۔برہان وانی کہ شہادت تمام مسلمانوں کو ایک درس دیتی ہے:-
    شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
    اس لیے ہمیں اپنے ہیروز کو بھولنا نہی چاہیے جو قومیں اپنے ہیروز کو بھول جاتی ہے وہ غرق ہو جاتی ہے
    اقبال کشمیریوں کی صورتحال کو یوں بیان کرتے ہیں:-
     آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
     کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر
    کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے آزاد کروانا ہمارا اولین فرض ہے۔حکمرانو کو بھی جاگ جانا چاہیے اور عہد کرنا چاہیے کہ اپنا مکمل کردار ادا کریں گئے۔اقوام متحدہ کو کشمیر کی آزادی اور ان پر مظالم کی یاد دہانی کروانی چاہیے اور عوام کو اپنے بھائیوں کا پشتیبان بننا چاہیے اور اللہ کے حضور ان کے لیے دعا مانگنی چاہیے۔

  • کے پی  ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی  ٹورازم موبائل ایپ متعارف کرا دی

    کے پی ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی ٹورازم موبائل ایپ متعارف کرا دی

    خیبر پختون خواہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی پہلی ٹورازم موبائل ایپ اور ویب پورٹل ”کے پی ٹورازم“ متعارف کرا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شمالی علاقہ میں سیاحت کے لیے آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی معاونت کرنا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ملک میں سیاحت کےفروغ کی جانب اہم قدم خیبر پختونخواہ کے سینئر وزیر برائے سپورٹس، ٹورازم، آرکیالوجی، کلچر، میوزیم اور یوتھ افیئر عاطف خان نے بدھ کو اس موبائل ایپ کا افتتاح کیا۔

    سیاحت کے متعلق وزراء اور ذمہ داران بتایا کہ انہوں نے خیبر پختونخواہ صوبے میں سیاحت کی پروموشن کے لیے موبائل ایپ شروع کی ہے، پائپ لائن میں موجود دیگر پراجیکٹ اس شعبے کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات سے اگلے پانچ سالوں میں 1 کروڑ غیر ملکی سیاح صوبے میں سیاحت کے لیے آئیں گے جس سے 10 ارب ڈالر کی آمدن ہوگی۔

  • فاسٹ باؤلرز کی سرزمین سے ابھرتا ہوا ورلڈ کلاس بیٹسمین

    فاسٹ باؤلرز کی سرزمین سے ابھرتا ہوا ورلڈ کلاس بیٹسمین

    فاسٹ باؤلرز کی زرخیز سرزمین پاکستان نے کرکٹ میں ٹیسٹ اسٹیٹس ملنے کے بعد دنیائے کرکٹ کو زبردست تیز ترین باؤلرز دئی۔ فضل محمود سے شروع ہونے والا سلسلہ سرفراز نواز، عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، محمد سمیع، وہاب ریاض سے ہوتا ہوا 19 سالہ نوجوان شاہین شاہ آفریدی تک بِلا تعطل جاری ہے۔ شاندار اسپین باؤلنگ اور اس میں جدت لانے کا سہرا بھی پاکستانی جادوگر باؤلرز کا کارنامہ رہا۔ گگلی ماسٹر عبدالقادر، مشتاق احمد، دوسرا کے موجد ثقلین مشتاق اور جادوگر سعید اجمل کے بعد شاداب خان کی صورت میں آج بھی بیٹسمینوں پر اپنا سحر طاری کیے ہوئے ہیں۔


    دوسری طرف جہاں بیٹنگ پاکستان کی ہر دور میں کمزوری رہی ہے وہیں پاکستان نے ورلڈ کلاس بیٹسمین بھی پیدا کیے ہیں۔ لٹل ماسٹر حنیف محمد، ایشین بریڈ مین ظہیر عباس، جاوید میانداد، لفٹی سعید انور، لیجنڈری انضمام الحق، محمد یوسف، یونس خان، مصباح الحق کے بعد فخر زمان، امام الحق اور رنز مشین بابر اعظم نمایاں ہیں۔
    حالیہ ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنے کیریئر کے تیز ترین 3 ہزار رنز مکمل کر کے ورلڈ ریکارڈ میں ہاشم آملہ کے بعد دوسرے نمبر اور ایشیاء سے پہلے نمبر پر نام درج کروانے والے بابر اعظم موجودہ پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں۔ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 24 سالہ نوجوان بابر اعظم نے یہ اعزاز اپنے کیریئر کے 70 ویں میچ میں 68 اننگز کھیل کر حاصل کیا۔ شرمیلے اور دھیمے مزاج کے بابر کو بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق خاندان سے ملا۔ پندرہ اکتوبر 1994ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے بابر اعظم مشہور کرکٹر اکمل برادران (کامران اکمل، عمر اکمل اور عدنان اکمل) کے کزن ہیں۔


    2010ء سے زرعی ترقیاتی بنک کی ٹیم سے اپنے ڈومیسٹک کیریئر کا آغاز کرنے والے بابر نے U19 اور پاکستان اے کی نمائندگی کی۔ اپنی پر اثر بیٹنگ سے سب کے دل موہ لینے والے نوجوان نے اپنا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ 31 مئی 2015ء کو پاکستان کے دورے پر آئی زمبابوے کی ٹیم کے خلاف قدافی اسٹیڈیم میں کھیلا۔ جہاں 60 بالز پر 54 کی اننگز کھیل کر اپنی آمد کا اعلان کیا۔ بابر نے 16ویں ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں اپنی پہلی سینچری ویسٹ انڈیز کے خلاف 30 ستمبر 2016ء کو شارجہ میں اسکور کی جب وہ 131 بالز پر 120 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف تین ایک روزہ مقابلوں کی اس سیریز کے اگلے دو میچز میں بھی بالترتیب 123 اور 117 رنز اسکور کیے جو ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم تھا۔
    اس سے پہلے 7 ستمبر 2016ء کو اولڈ ٹریفٹ کے گراؤنڈ پر انگلینڈ کے خلاف T20 کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے 11 بالز پر *15 اسکور کیے اور ناٹ آؤٹ رہے۔ جبکہ محدود اوورز کے اس کھیل میں پہلی ففٹی ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی T20 کیریئر کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اسکور کی جہاں 37 بالز پر ناقابل شکست *55 رنز کی اننگز کھیلی۔ ویسٹ انڈیز کے اسی دورے میں 23 اکتوبر 2016ء کو دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے بابر نے پہلی اننگز میں 69 اور دوسری اننگز میں 21 رنز اسکور کیے۔ محدود اوورز کی کرکٹ کے برعکس اپنی پہلی سینچری کے لیے بابر کو زیادہ انتظار کرنا پڑا نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی میزبانی میں کھیلے گئے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے دوسرے میچ میں دبئی کرکٹ گراؤنڈ پر اس فارمیٹ کی پہلی سینچری اسکور کی۔ 24 نومبر کو شروع ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں ناقابل شکست رہتے ہوئے 263 بالز پر *127 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جو اب تک اس فارمیٹ میں اس نوجوان کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور بھی ہے۔
    بابر اعظم اب تک 21 ٹیسٹ میچز کی 40 اننگز میں 5 بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے ایک سینچری اور 11 ففٹیز کی مدد سے 1235 رنز اسکور کر چکے ہیں۔ جہاں ان کی اوسط 35.29 ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں 144 چوکے اور 7 چھکے لگانے والے بابر فیلڈنگ کرتے ہوئے 16 کیچز بھی پکڑ چکے ہیں۔
    ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت محدود اوورز کے کھیل میں بابر کی شاندار مہارت خوب نکھر کر نظر آئی۔ ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں اب تک 71 میچز کی 69 اننگز میں دس بار ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 52.83 کی شاندار اوسط اور 85.97 کے مضبوط سٹرائیک ریٹ سے 3117 رنز اسکور کیے ہیں۔ جس میں 10 سینچری اور 14 ففٹیز بھی شامل ہیں۔ 268 چوکے اور 27 چھکے لگانے والے کھلاڑی کا سب سے بڑا اسکور *125 ناٹ آؤٹ ہے جو 9 اپریل 2017ء پر ویسٹ انڈیز کے خلاف بنایا۔ اس دوران بابر نے مخالف ٹیمیوں کے 35 کیچز بھی پکڑے۔ کرکٹ ماہرین بابر اعظم کا تقابل دنیا کے نمبر ون بیٹسمین ویراٹ کوہلی سے کرتے ہیں تیز ترین ایک ہزار، دو ہزار اور پھر تین ہزار رنز مکمل کرنے میں بابر اعظم ہندوستانی کھلاڑی ویراٹ کوہلی سے کہیں آگے ہیں۔ T20 انٹرنیشنل رینکنگ میں نمبر ون پر موجود بابر اعظم اب تک 30 میچز میں 7 بار ناقابل شکست رہتے ہوئے 54.22 کی بھاری اوسط سے 1247رنزجڑ چکے ہیں۔ اس فارمیٹ میں 128.96 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلنے والے بابر نے 124 چوکے اور 18 چھکے بھی لگا رکھے ہیں۔ T20 میں 10 بار 50 کا ہندسہ عبور کرنے والے بابر کا سب سے بڑا اسکور *97 ناٹ آؤٹ رہا جو پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ویسٹ انڈیز ٹیم کے خلاف 2 اپریل 2018ء کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں بنایا گیا۔ اس طرز کی کرکٹ میں 14 کیچز بھی ان کے کھاتے میں درج ہیں۔
    نوجوان بابر اعظم واقعی ورلڈ کلاس بیٹسمین ہیں اگر وہ اسی طرح لگن اور محنت سے کھیلتے رہے تو آنے والے دنوں میں بےشمار ملکی اور بین الاقوامی بیٹنگ ریکارڈ ان کے نام ہوں گے۔