Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا  تحریر: غنی محمود قصوری

    پولیس گردی کا خاتمہ کیسے ہوگا تحریر: غنی محمود قصوری

    ایک ماں کا لخت جگر دو شہداء کا بھائی ا ذہنی معذور صلاح الدین پولیس گردی سے قتل ہو گیا الزام کیا تھا اے ٹی ایم مشین توڑنا حالانکہ اس ملک میں لوگ قرآن کے احکامات کھلے عام توڑ رہے ہیں پولیس نے گرفتار کیا مارا پیٹا تفتیش کی وہی تفتیش کہ جس کے سنتے ہی پورا جسم لرز جاتا ہے اسی تفتیش کی بدلت صلاح الدین زندگی کی بازی ہار گیا مگر کیا ہوگا SHO, Si یاں اگر بہت زیادہ سختی کریں تو سرکل کا DSP معطل ہوگا انکوائری لگے گی اور یہ لوگ کچھ دنوں کیلئے پورے پروٹول کیساتھ جیل جائینگے
    لوگ اور میڈیا چند دن شور مچائینگے پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو جائینگے اور اسی سناٹے مین معزز پولیس اہلکاران بحال ہو جائینگے اور پھر سے کسی نئی صلاح الدین کو تخت مشق بنائینگے اور ایسا 73 سالوں سے ہو رہا ہے
    جناب عزت مآب تخان صاحب اگر پولیس گردی روکنی ہے تو پھر معطل نہیں قتل کرو ان کا قتل کیونکہ قرآن میں رب رحمن نے اپنے نبی محمد ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتلایا ہے قتل کا بدلہ قتل ہے
    فرض کریں اگر ان پولیس اہلکاران کو صلاح الدین کے بھائی یاں کوئی اور رشتہ دار قتل کر دیں تو وہ بھی معطل ہی ہونگیں؟ نہیں بلکہ پولیس مقابلے میں مار دئیے جائینگے
    خان صاحب تبدیلی کہاں سے آئے گی معطل کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ آسمانی احکامات کی روشنی میں فیصلے کرنے سے آئیگی کل روز قیامت آپ کا گریبان ہوگا اور صلاح الدین کا ہاتھ کیونکہ آپ نے ریاست مدینہ بنانے کا وعدہ کیا تھا اور ایک سال سے اوپر ہو گیا آپ کو وزیراعظم یعنی خلیفتہ المسلیمین بنے ہوئے اور اس سال کے اندر کتنے ماورائے آئین و عدالت پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے ان سب کا حساب اللہ آپ سے لے گا کیونکہ آپ وقت کے حاکم ہیں ریاست مدینہ ثانی بنانے کے دعوے دار ہیں تبدیلی کا نعرہ لگا کر میدان میں آئے ہیں.

  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah
  • تحریک آزادی کشمیر اور بھارتی مظالم —  طارق محمود عسکری

    تحریک آزادی کشمیر اور بھارتی مظالم — طارق محمود عسکری

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 30 دن مکمل ہو چکے ہیں اس دوران کشمیریوں کے گھروں میں ادویات، کھانے پینے کی اشیاء، اور دیگر ضروریات زندگی کی شدید قلت ہے کاروباری زندگی معطل ہے، انٹرنیٹ، ٹی وی، ٹیلیفون، موبائل سروس اور اخبارات بھی مکمل طور پر بند ہیں کشمیری عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ مکمل منقطع ہے غرض یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی وادی ایک ماہ سے دنیا کی سب سے بڑی اور اذیت ناک جیل میں تبدیل ہو چکی ہے اور مودی سرکار کے مطابق اس نے 90 لاکھ کشمیری عوام کو قید کر کے کشمیر کا قلعہ فتح کر لیا ہے۔ ناظرین سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مودی سرکار نے کشمیر کو فتح کر لیا ہے اور کشمیر اب ہندوستان کا حصہ بن چکا ہے کیا کشمیری عوام نے اپنے آپ کو ہندوستان کے شہری مان لیا ہے؟؟؟

    صورتحال اس کے برعکس ہے جوں جوں مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی میں اتنی ہی تیزی آتی جا رہی ہے اب روزانہ کشمیری ہزاروں کی تعداد میں کرفیو توڑ کر سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور بھارتی فوج کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر احتجاج کر رہے ہیں پیلٹ گن کے چھرے، آنسو گیس، لاٹھی چارج، بھارتی فوج کی جانب سے گھروں میں گھس کر نوجوانوں کی گرفتاریاں اور جوان لڑکیوں کے اغواء جیسے واقعات بھی تحریک آزادی میں رکاوٹ نہیں بن سکے۔ بچہ، بوڑھا، مرد اور عورتیں یک زبان ہوکر آزادی مانگ رہے ہیں اور پاکستان میں شمولیت کے نعرے لگا رہے ہیں ان کے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں وہ احتجاج کے دوران پاکستان کا ہی پرچم اٹھائے ہوئے ہیں ان کی میتوں پر بھی پاکستانی پرچم نظر آتے ہیں اور تو اور ان کی قبروں پر بھی پاکستان کے جھنڈے لگے ہوئے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو بھارت کے نہیں بلکہ پاکستان کے شہری قرار دیتے ہیں ایک طرف روزانہ سینکڑوں کشمیری بھارتی فوج کے جدید ہتھیاروں سے زخمی ہو رہے ہیں تو دوسری طرف درجنوں بھارتی فوجی بھی کشمیری نوجوانوں کی سنگ بازی سے ضرور زخمی ہو رہے ہیں بھارتی فوج کے کے شدید مظالم سہہ سہہ کر اب کشمیریوں کا خوف ختم ہوچکا ہے اور اسی وجہ سے آنے والے دنوں میں بھارتی فوجیوں کی لاشوں میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا جو کہ بھارت کے لیے لیے شدید خطرے کی علامت ہے اس وقت مقبوضہ وادی میں ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ قابض فوج جدید ترین ہتھیاروں سے لیس موجود ہے اس کے باوجود بھی کشمیری کرفیو کو جوتے کی نوک پر رکھ رہے ہیں کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کسی قوم یا ملک کو غلام بنائے رکھنے کے دو ہی طریقے زیادہ موثر ہوتے ہیں جن میں سے ایک روپے پیسے کا لالچ اور دوسرا طاقت کا خوف ہوتا ہے لیکن کشمیری عوام یہ دونوں امتحان پاس کر چکی ہے تاریخ گواہ ہے کہ وہ کبھی بھی بھارتی لالچ کے چکر میں نہیں آئی اور اب پچھلے ایک ماہ سے کرفیو اور دیگر مظالم نے ان کا خوف بھی ختم کر دیا ہے

    دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق صورتحال اب زیادہ دیر بھارت کے قابو میں نہیں رہے گی۔ اور بہت جلد بہادر کشمیری نوجوان بھارتی فوج کے قدم ڈگمگا دیں گے اور یہی بھارتی فوج جو طاقت کے نشے میں شرابور ہو کر کے مقبوضہ وادی میں ائی تھی ذلیل و رسوا ہو کر ہندوستان کی طرف بھاگے گی اور کشمیر کے نوجوان اس کو بھاگنے نہیں دیں گے نظر یہ آرہا ہے کہ جس طرح آج امریکہ افغانستان سے اپنی فوج نکالنے کے لیے پاکستان کی منت سماجت کر رہا ہے بالکل اسی طرح بھارت بھی اپنی فوج کی باحفاظت واپسی کے لیے پاکستان کی منت سماجت پر مجبور ہوگا حالات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں وہی موڑا گیا ہے جو تحریک آزادی پاکستان میں 1940 کو آیا تھا اب کشمیریوں کو آزادی کے حصول سے بھارت سمیت دنیا کی کوئی بھی طاقت باز نہیں رکھ سکتی کیونکہ کشمیریوں کا خوف ختم ہوچکا ہے جیسے جیسے تحریک آزادی کشمیر میں تیزی آئے گی انڈیا میں دوسری آزادی کی تحریکیں بھی مضبوط ہوں گی اور بلاآخر بھارت کے وجود سے کئی ریاستیں آزاد ہوں گی۔ آخر میں پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کشمیری عوام بھارتی مظالم کے خلاف اپنا خون پیش کر رہی ہے آپ ان کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کے لیے گھروں سے باہر ضرور نکلیں کیونکہ اس سے آپ کا خون نہیں بہے گا بلکہ صرف پسینہ بہے گا اور اتنا تو لازم ہے

  • آر ایس ایس ہی سب کچھ ہے

    آر ایس ایس ہی سب کچھ ہے

    ایک عجیب امر ہے, آج کل جس کو دیکھو وہی بی.جے.پی کی محبت میں سرشار ہے, کیا قائدین, کیا عوام, سب کو لگتا ہے کہ ابھی تک آر.ایس.ایس کی مخالفت بیکار میں کی گئی, اس سے اچھی, سلجھی, بہتر اور وطن پرست تنظیم بھلا اور کہاں, کل تو تک جو لوگ ببانگ دہل اسٹیجوں پر چیخ و پکار کیا کرتے تھے, وہ آج مخالفت کو ترک کرنے کے مشورے دیتے نظر آتے ہیں, اچھا, اچھی بات ہے, مخالفت ترک کردینی چاہئے, مذاکرت کی راہ اپنانی چاہئے, لیکن مذاکرات کرنے سے پہلے کیا کوئی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ آر.ایس.ایس گوالکر کو اپنا رہنما اب تسلیم نہیں کرے گی؟ گوڈسے کے افکار و نظریات سے پلڑا جھاڑ لے گی؟ جن اصولوں پر آر.ایس.ایس قائم ہے اس سے سمجھوتہ کرلے گی؟

    شاید شکست خوردہ قوم اسی طرح ہوتی ہے, جسمانی شکست خوردگی ہوتی تو سنبھال بھی لیتے, ہم سب تو ذہنی شکست خوردگی کے شکار ہیں, اور یہ ذہنی شکست خوردگی بھی کیوں؟ کچھ لوگوں کے مفاد جڑے ہوئے ہیں, اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں کھڑے ہوں گے تو ان کے مفادات کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہے, ورنہ کیا وجہ ہے کہ ایک مہینے سے ایک اسٹیٹ کو جیل خانہ میں تبدیل کیا گیا ہے, مگر کوئی آواز سنائی بھی نہیں دیتی؟ آخر یہ ڈر کیسا ہے؟ ہزیمت زدہ لوگوں کی نفسیات انہیں Resistance سے روکتی ہے, حق کی حمایت اور ظلم کی مخالفت سے ڈراتی ہے, ایران توران کا معاملہ ہو تو بڑی بڑی باتیں کی جائیں, اور گھر میں ظلم ہو تو چپی سادھ لی جائے؟

    یہ بات ذہن نشین کرلیجئے, کہ آر.ایس.ایس کو آپ سے نہیں پرابلم ہے, اسے کوئی تکلیف نہیں, کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ہندوستان میں جس طرح سے مسلمان بکھرے پڑے ہیں, انہیں ختم کیا جانا اس قدر آسان بھی نہیں, پھر وہ چاہتی کیا ہے؟؟ اقتدار نا؟ ہاں, اقتدار ہی, وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے, وہ آپ کی مشارکت نہیں چاہتی, وہ آپ کو برابر کا شئیر نہیں دے سکتی, ہاں بطور ملازم اور نوکر آپ کو ضرور ہائر کرسکتی ہے, آپ کو کیرلا کا گورنر ضرور بنا سکتی ہے, مگر آپ کی حیثیت چپراسی سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی, آپ اپنی قوم کی سوشل Upliftment کے لئے کچھ نہیں کرسکتے, اور اگر جمہوریت میں آپ کا شئیر ہی ختم ہوجائے تو پھر کیا پڑی ہے کہ آپ کو دشمن سمجھا جائے, یقین مانئے اگر آپ ہندو راشٹر کو تسلیم کرلیں یا پھر اس بات پر راضی ہوجائیں کہ حکومت ہمیشہ آر.ایس.ایس کی رہے گی تو آپ کو کبھی ستایا نہیں جائے گا, ساری لڑائی بس پاور کے لئے, جس دن آپ یہ تسلیم کرلیں گے, آپ کے اوپر سے ظلم و ستم بند کردیا جائے گا, مگر کیا پھر آپ اس وقت آزاد تصور کئے جاسکیں گے؟ کیا آپ کی حالت اس پنچھی کی طرح نہیں ہوگی جس کو دو وقت کا کھانا تو ضرور دیا جاتا ہے مگر وہ کھلی فضاؤں میں سانس نہیں لے سکتا, کیونکہ یا تو اس کے پر کتر دئیے گئے ہوتے ہیں, یا پھر وہ پنجرے میں بند ہوتا ہے.

    ہمیشہ تاریخ کے پنوں نے یہی دیکھا ہے کہ قوموں کی مغلوبیت کے ایام میں قوم فروشوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے, بکنے والے تھوک بھاؤ میں مارکیٹ میں نظر آنے لگتے ہیں, چند سکوں کے عوض قوم کے ان جانبازوں کو بھی گروی رکھ دیتے ہیں کہ جن سے قوم کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے, ایسے ایسے لوگ میر و جعفر میں تبدیل ہوجاتے ہیں کہ جن کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ کم سے کم وہ تو سرفروشی کی راہ کو اختیار کریں گے, آج کل یہی ہورہا ہے, ہر کوئی بک رہا ہے, بی.جے.پی دام لگائے جارہی ہے, اور لوگ ردیوں کے بھاؤ بک رہے ہیں, اتنی تو کم اوقات نہیں تھی ان کی, مگر کیا ہی کرسکتے ہیں, جس طرح میڈیا کا کام ہوتا ہے اسٹیبلشمنٹ سے سوال پوچھنا, اسی طرح اقلیتوں کا بھی کام ہوتا ہے کہ اپنے اندر Resistance کو بھاؤنا کو جگانے رکھنا, اکثریت کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دینا, اپنی شناخت کو بچائے رکھنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنا, کیونکہ ادھر جھکے, ادھر انہیں خوش کرنے کے لئے مندروں تک میں جھکنا پڑے گا, کیونکہ اصل گلہ تو آپ کی توحید پرستی سے ہی ہے, آپ کے محض ایک ہی دین کو صحیح سمجھنے سے ہی ہے.

    نادانوں سے کیا گلہ کرنا, گلہ تو ان سے ہے کہ جن کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ یہی راہ دکھانے والے لوگ ہیں, یہی ظلمت و تاریکی میں روشنی کی طرف لے جانے والے ہیں, کہ جب سب ساتھ چھوڑ جائیں گے تو بھی یہ پامردی دکھلائیں گے, یہ جھکیں گے نہیں, یہ ٹوٹیں گے نہیں, مگر وہی لوگ پالا بدل رہے ہیں, وقت سے پہلے ہی ان پر خوف اس طرح طاری ہے کہ کبھی کسی دربار میں حاضری دے رہے ہیں, کبھی کسی دربار میں, اور ان کی تعداد ہے کہ دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے, میری مراد اکیڈمیشینز ہیں, پڑھے لکھے لوگ ہیں, کہ جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مدرسوں سے پڑھے ہیں اور عصری تعلیم یافتہ بھی ہیں, کہ جن کا فیلڈ اردو, عربی, اسلامیات یا دیگر سبجیکٹس ہیں, وہی لوگ بک رہے ہیں, اور شاید سب سے زیادہ بک رہے ہیں, باوجود یکے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں, وہ آر.ایس.ایس کی تاریخ سے واقف ہیں, جو بی.جے.پی کی مسلم دشمنی سے آشنا ہیں, مگر وہ ہیں کہ چاٹوکارِتا کی انتہا کو پار کئے جارہے ہیں, محض اس لئے کہ کہیں ان کو لیکچرر بنا دیا جائے گا, آر.ایس.ایس کی چھتر چھایہ کی وجہ سے جلد از جلد ان کا مستقبل سنور جائے گا, بکنے کی ایک عجب ہوڑ لگی ہوئی ہے, سامنے ذاتی مفاد ہے, مگر دلائل حکمت کے دئیے جارہے ہیں, امت کے حق میں ایک بہتر فیصلہ بتایا جارہا ہے, امت کے حق میں بہتر ہو نہ ہو, شاید ان کے ان کے حق میں ضرور بہتر ہوگا, کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اکیڈمکس میں رومیلا تھاپر سے سی.وی طلب کیا جارہا ہے, اور للو پنجؤوں کو محض سیاسی چاٹوکارِتا کے بنا پر سیٹیں عنایت کی جارہی ہیں, سو صلاحیت تو اتنی بنائی نہیں, کہ اپنے راستے خود بنا سکیں, لے دے کے بس امت کی دہائی دے کر اپنے مفاد کے لئے راہیں ہموار کرنی ہیں.

    جے.این.یو میں اسٹوڈنٹس کا الیکشن قریب ہے, اب کی بار کا منظر تھوڑا سا بدلا ہوا ہے, بہت سارے سو کالڈ مسلمان طلباء اے.بی.وی.پی کا پرچار کررہے ہیں, اور پرچار بھی اس جوش و خروش کے ساتھ کہ شاید اے.بی.وی.پی بھی اتنی جوش نہ دکھا پائے, بھارت ماتا کے نعروں کے ساتھ ساتھ راج تلک کی کرو تیاری, اب کی بار بھگوا دھاری جیسے نعروں تک, افف غیرت کہاں ہے؟ وجہ صرف اتنی ہے کہ آقاؤں کی نظر میں ثابت کیا جاسکے کہ کس قدر وفادار ہیں ہم آپ کے, آپ جلد از جلد ہمیں کوئی عہدہ دیجئے, کسی حقدار کا حق مارئیے, ہمیں جگہ عنایت کیجئے, جیسے کہ اس سے پہلے آپ نے فلاں فلاں کو عطا کیا, ان کی بے لوث وفاداری کے سبب, ورنہ وہ اس قابل نہ تھے کہ ان کو پروفیسرشپ عطا کی جاتی, سو جیسے وہ تھے, ویسے بھی ہیں, نظر کرم ہم پر کیجئے, نظر کرم ہوجائے گی, لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے, تاریخ پھر دہرائے گی, جیسے انگریزوں کی حمایتیوں کو آج غدار لکھا جارہا ہے, ویسے کل آر.ایس.ایس کے چاٹوکاروں کو بھی غدار لکھا جائے گا, اس وقت آپ کے بارے میں لکھا جائے گا کہ جب ایک آئی.ایس آفیسر صرف اس وجہ سے استعفی دے رہا تھا تاکہ کل کو یہ نہ اس سے پوچھا جائے کہ جب اسی لاکھ لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی,تو آپ کیا کررہے تھے, اس وقت کچھ لوگ تھے جو تلوے چاٹ رہے تھے, نہایت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے, اپنے آقاؤں سے اتنی بھی گزارش نہیں کرپا رہے تھے کہ کم سے کم انسانیت کے ناطے ان لاکھوں لوگوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت دے دی جائے.

    کس خوش فہمی میں جی رہے ہیں لوگ, مذاکرات کرو, ضرور کرو, مگر ایک وقار کے ساتھ, اس میں عزت بھی ہو, اس میں اپنی شرطیں بھی ہوں, گر کر ذلالت کے ساتھ نہیں, دوسرے درجے کے شہری کے طور پر نہیں, آپ اس ملک کے اتنے ہی حقدار ہو جتنے وہ ہیں, کورس آف ایکشن بناؤ, ہر مسئلے کے لئے قانونی لڑائی لڑو, اگر آپ اس طرح مذاکرات پر راضی ہوجائیں گے کہ وہ جو چاہیں کریں, یا وہ جو کہیں آپ کریں, وہ کہیں تو آپ اپنے دین و ایمان کی فکر کئے بنا بھی غیر اسلامی نعرے لگائیں, وہ کہیں تو آپ مندروں میں بھی جھک جائیں, وہ کہیں تو آپ نہ کچھ دیکھیں, نہ کچھ سنیں, تو پھر آپ کس بنیاد پر ان لوگوں کو انگریزوں کا دلال یا غدار کہوگے جو ان کے ساتھ تھے, یا جنہوں نے جنگ آزادی میں حصہ لینے کے بجائے صلح کے راستے کو اپنایا, آخر آج جو مصلحت آپ کے سامنے ہے, کل ان کے بھی سامنے رہی ہوگی, آج اگر آپ کو لگتا ہے کہ آر.ایس.ایس کے ساتھ مل جانے میں ہی لانگ ٹرم میں بھلائی ہے, تو پھر انہیں بھی لگتا رہا ہوگا کہ انگریزوں کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ہی بھلائی ہے, تو پھر یہ پندرہ اگست کی ڈھکوسلے بازیاں کیونکر؟ یہ مجاہدین آزادی کے واقعات سنا سنا کر جوش و جذبات سے لوگوں کو بھر دینا چہ معنی دارد؟ جب کہ آپ کے اندر مزاحمت کی ذرہ برابر بھی رمق نہیں؟ "شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر” جیسے محاوروں سے تو اپنی حق وراثت کو ترک کردینی چاہئے کہ جب آپ ظلم پر زبان کھولنا تو دور کی بات, اپنی خاموشیوں سے ظلم کی حمایت بھی کرتے ہیں.

    تحریر:عزیر احمد ، نیو دہلی

  • جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    آپ تک میری کہانی پہنچ چکی ہوگی۔
    ہوا یہ کہ میں نے دکھوں کے مارے اس معاشرے کو کچھ تفریح دینے کا سوچا ۔
    میرا تو ذہن بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتا مگر پھر بھی اتنا سوچ لیا۔

    میں نے کیمرے میں منہ چڑایا اور اے ٹی ایم کھول کر اپنا پھنسا ہوا کارڈ نکالا۔
    میری بھولی بھالی شکل اور معصوم شرارت نے بہت سوں کو محظوظ کیا۔
    وزیر اعظم صاحب میں چور نہیں تھا، اگر میں چور ہوتا تو پیسہ نکال کر پولیس کو اسکا حصہ تھما دیتا اور خود عیش کرتا لیکن بدقسمتی یہ کہ میں چور نہیں تھا۔
    مجھے بس مذاق سوجھی تھی لیکن اس کی سزا آپ ہی کی ماتحت پولیس نے مجھے یہ دی کہ میری کھال چھیر دی، ادھیڑ دی، مجھے چاقو گھونپ دئیے، مجھے جسم کے نازک حصوں پر سریوں سلاخوں سے مارا اور میرے ننگے بدن پر گرم استری لگا لگا کر جلا کر مار دیا…

    عمران خان صاحب!!
    ایک سوال کروں؟
    آپ نے مدینہ کی ریاست اور انصاف کی بات کرکے عملی کوئی ایکشن نہ کرنا کہاں سے سیکھا؟
    آپ نے ساہیوال واقعہ کے قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں سب بھلا دیا اور سب وہی پرانا چلنے لگا۔
    اگر واقعی آپ ایسا کرتے تو شاید آج میں بچ جاتا۔
    آپ نے خالی خولی وعدوں پر آنکھوں میں دھول جھونکنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب!!
    میں نے حوالات میں پولیس سے بس یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا جس پر وہ درندوں کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے۔
    کیا یہ میں نے کوئی جرم کیا؟
    میں نے تو اسی قانون کی بات کی جو آپ نے پڑھا کہ حوالات اور جسمانی ریمانڈ میں پولیس کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
    چیف جسٹس صاحب!! ایک سوال کرسکتا ہوں کہ آپ نے قانون کی اتنی سنگین پامالی پر خاموش رہنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب آرمی چیف قمر باجوہ صاحب!!
    میرے متعلق آپ کو بھی علم ہوا ہوگا۔
    ایک سوال آپ سے بھی کرونگا۔
    آپ ملک میں جب باقی معاملوں تماشوں میں ان رہ سکتے ہیں۔
    جب آپ کرکٹ تک میں کردار رکھ سکتے ہیں، آپ کے ماتحت ادارے ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں تو پولیس میں میرے قاتلوں کو نظر انداز کرنا آپ نے کہاں سے سیکھا؟

    میرے عوام تو میرے لئے بول رہے ہیں، میرے سوال آپ ملک کے اختیار و اقتدار والوں سے ہیں.. میری جلی کٹی لاش آپ ریاست کے بڑوں کا منہ چڑا رہی ہے۔
    کیا آپ مجھے اور میرے ملک کے لوگوں کو جواب دے سکتے ہو؟؟

    فقط آپکا صلاح الدین

  • جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟ تحریر: ابوبکر قدوسی

    جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟ تحریر: ابوبکر قدوسی

    جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟
    ہاں اس کا سر کچھ کچھ غرور سے اور کچھ فخر سے اٹھ رہا ہو گا اور پھر میٹھی سی مسکان اس کے لبوں کے کونوں سے آزاد ہونے کو مچل مچل جاتی ہو گی ….. لیکن آج اس ماں نے جب اسی بیٹے کے جسم کو دیکھا ہو گا تو کس طرح ٹوٹ کا چاہا ہو گا کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتا ..
    ہاں وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کو آج یہ وحشت نہ دیکھنا پڑتی –
    وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کا یہ زخم زخم بدن ماں کو دیکھنا نہ پڑتا –
    کہتے ہیں کہ اس نے اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چوری کیا ، بھلے کیا ہو ، لیکن ہاتھ کاٹ دیتے یہ کیا کہ رگ جان ہی کاٹ دی – تھانے میں تشدد کر کے اس کو قتل کیا گیا – بعد میں کہا گیا کہ دل کا دورہ پڑ گیا – کیسی عجیب بات ہے کہ حرام کھا کھا کے لوگوں کی زندگیوں کو حرام کرنے والے ان حرام خوروں کو دل کے دورے نہیں پڑتے ، لیکن ان کے تھانوں میں جا کے سوکھے سڑے غریبوں کا کولسٹرول لیول راتوں رات ایسا ہو جاتا ہے کہ کہتے ہیں "دل کا دورہ پڑ گیا ” پھر ڈاکٹر روپورٹ بناتے ہیں کہ جی کوئی تشدد کا نشان نظر نہیں آیا –
    لیکن اس کے گھر والوں نے اس کی میت کی تصویر لے کے نشر کر دیں …
    تن ہمہ داغ داغ شد
    کی تصویر ، زخم زخم وجود بتا رہا تھا کہ انصاف بھی اندھا تھا اور مسیحا بھی –
    عمران خان صاحب کو کوئی جا کے صرف اتنا بتا دے کہ :
    خان صاحب ! آپ کی حکومت میں بھی ظلم کرنے والے آزاد ہیں ، بااختیار ہیں ، جسے چاہے قتل کر دیتے ہیں – اب آپ سیدنا عمر کی مثالیں اور مدینے کی ریاست کے بھاشن دینا چھوڑ دیں ….کیونکہ اب لوگ یقین نہیں کرتے –
    چھوڑیے خان صاحب اس کی لاش کی ، تشدد زدہ جسم کی تصویریں آپ کو کیا دکھائیں …لیجئے یہ تصویر دیکھئے ، مگر میری نظر سے –
    یہ صلاح الدین ہے ، اے ٹی ایم مشین میں کھڑا ہے اور اس کو معلوم ہو گیا ہے کہ آپ کیمرے کے پیچھے اسے دیکھ رہے ہیں ..ہاں یہ کہہ رہا ہے کہ خان صاحب ، آپ کی باتوں پر ، آپ کے نعروں پر ، آپ کے دعووں پر اور آپ کی مبینہ ریاست پر ………..ہوں ہوں ہوں …….

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر او آئی سی انسانی حقوق کمیشن کا اظہار تشویش

    جدہ : بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو اور کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق او آئی سی کے ہیومن رائٹس کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) نے مقبوضہ کشمیر میں مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کی سخت مذمت کی ہے اور بھارتی حکومت کو کہا ہے کہ جلد سے جلد کرفیو ختم کیا جائے۔

    او آئی سی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نےمقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام معطل کر رکھا ہے، ان پابندیوں پر عالمی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کیلئے سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو انسانی حقوق سے بری طرح محروم کررکھا جارہا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ ادویات ناپید ہیں، اسپتال سنسنان ہیں، تعلیمی ادارے ویران پڑے ہیں، سڑکوں پر ہو کا عالم ہے۔ بھارتی بربریت کے بعد پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے۔انٹرنیٹ کی بندش کے باعث لوگوں کو اطلاعات تک رسائی نہیں اور اخبارات بھی بند ہیں۔ آئی پی ایچ آر سی کے مطابق بھارتی فورسزنے پانچ ہزار سے زائد کشمیریوں کو غیرقانونی طور پر ان کے گھروں میں محصور کر رکھا ہے۔

    دوسری طرف صحافیوں ،انسانی حقوق تنظیموں کے کارکنوں کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کیا جارہا ہے، مقبوضہ کشمیرکی سیاسی قیادت کو بھی بغیر کسی قانون کے قید کر رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں

  • ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    ’کشمیری خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں‘

    برلن: کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم پر عالمی میڈیا بھی تشویش کا اظہار کرنے لگا ،جرمن میڈیا نے بھارت کے جھوٹ سے پردہ اٹھادیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں خواتین اور لڑکیاں گھروں میں محفوظ نہیں ہیں، خواتین برتن بجا کر مدد مانگتی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری ہے، بھارتی فوج گھر میں گھس کر خواتین اور بچیوں کو نشانہ بنارہی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج مسلسل 31ویں روز بھی کرفیو برقرار ہے اور مواصلات کا نظام مکمل پر معطل ہے، قابض انتظامیہ نے ٹیلی فون سروس بند کررکھی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ پرسخت پابندیاں عائد ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دیہی علاقوں میں زیادتی کے واقعات بڑھ گئے ہیں اور خواتین برتن بجا کر مدد کو پکارتی ہیں۔

  • "خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” تحریر: ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

    "خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” تحریر: ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

    آج کل کشمیر کے حالات بہت مخدوش ہیں ۔ کرفیو کو ایک مہینہ ہونے والا ہے ، کشمیری بھوک پیاس ، دوائیوں کی عدم موجودگی، آنسو گیس شیل اور چھروں سے روز مر رہے ہیں ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق کشمیری لڑکیوں کو اٹھا کر لے جایا جا رہا ہے ۔ بارہ سال کے بچوں کو بھی شہید کر کے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔اس صورتحال میں موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب خود کو اس پہ بہت زبردست متفکر بتاتے ہیں ۔ اور کشمیر کے سفیر کا درجہ دیتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ عالمی امن کی ٹھیکہ داری بھی چونکہ صرف پاکستان کے حصہ میں آئی ہے لہذا خان صاحب اور ان کے ماننے والے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ "کیا اب میں جنگ کر لوں ،حملہ کر دوں۔۔۔۔؟؟؟ ”
    تو ان کے لئے کچھ گذارشات ہیں کہ جناب من آپ بلکل جنگ نہ کریں ، نہ حملہ کریں۔ آپ کی سو سو مجبوریاں ہیں ،ہم آپ کو گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر کی آزادی کا طریقہ بتاتے ہیں جس میں نہ آپ پر کوئی عالمی دباؤ آئے گا نہ آپ کو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنا پڑے گا ، نہ شاہین و نصر کا استعمال کرنا پڑے گا نہ آپ کے فوجی شہید ہوں گے ۔
    ان سب کا آسان حل انڈیا کا صرف ایک مکمل بائیکاٹ ہے ، اس پہ عمل تو کر کے دیکھیں ۔ ہمیں امید ہے آپ اتنے بھی بزدل بھی واقع نہیں ہونگے اور یہ کر گزریں گے ۔

    1. پاکستان انڈیا سے ہر طرح کے سفارتی تعلقات مکمل طور پر توڑ لے۔

    2.انڈیا کی روز روز کی زمینی بارڑر اور بالاکوٹ والی ہوائی حدود کی خلاف ورزی ، ڈیموں پہ بند باندھ کر پانی کی چوری سمیت تمام تر معاہدوں کی بار بار کی خلاف ورزی کے جواب میں تمام تر معاہدوں کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا جائے۔

    3۔ ہر بین الاقوامی فورم پر انڈیا کے کشمیریوں اور دیگر اقلیتوں پہ ظلم کو دنیا کے سامنے واضح کیا جائے ۔

    4.انڈیا سے ہر قسم کی آلو ، پیاز کی تجارت ختم کردی جائے۔

    5. سوائے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دونوں ملکوں کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک میں داخلہ اور آمدورفت بند کردی جائے۔

    6۔ انڈین سامان تجارت اور ہوائی جہازوں کو راہداری ختم کی جائے،

    اگر آپ صرف یہ کام کر لیں تو دیکھیں انڈیا کشمیر سمیت تمام تر تصفیہ طلب امور میں آپ کے قدموں میں نہ آ گرے تو ہم سزاوار ۔

  • پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    پنجاب پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت : علی چاند

    کسی بھی ملک میں پولیس کا محکمہ صرف اور صرف اس لیے بنایا جاتا ہے تاکہ عوام کے جان و مال کو تحفظ دیا جا سکے ۔ لوگوں کا جان و مال چوروں ، ڈاکوٶں اور لٹیروں سے محفوظ رکھا جا سکے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے پولیس کا محکمہ ایک ایسا محکمہ ہے جہاں انسان سب سے زیادہ بے تحفظ ہے ۔ خاص طور پر پنجاب پولیس کی صورتحال بہت ہی زیادہ خراب ہے ۔ پنجاب پولیس نا صرف عوام میں اپنا اعتماد بری طرح کھو چکی ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے بیشمار نفرت بھی ڈال چکی ہے ۔ پنجاب پولیس کی وجہ سے جہاں پنجاب کے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں وہیں پنجاب پولیس کے جوان بھی انتہاٸی لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں جہاں نا تو پنجاب پولیس کے جوانوں کے پاس نوکری کا مکمل تحفظ موجود ہے اور نا ہی ان کے پاس کوٸی ذاتی طاقت ۔ پنجاب پولیس میں زیادہ تر سیاسی اثر ورسوخ ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر کوٸی مجرم طاقت ور ہے تو وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس پر دباٶ ڈال کر لوگوں کا جینا حرام کیے رکھتا ہے ۔ اگر کوٸی شریف اور ایمان دار پولیس والا ایسے مجرم پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یا پھر نوکری سے ۔ بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایسے پولیس والے کا تبادلہ کہیں دور دراز ایسے علاقوں میں کر دیا جاتا ہے جہاں دوسرے پولیس والے اس سے سبق سیکھ سکیں کہ انہیں صرف اور صرف سیاسی نماٸندوں کی ہی خدمت کرنی ہے ۔ لیکن انہی پولیس والوں کے نزدیک ایک عام انسان جس کے پاس نا دولت ہے ، نا سیاسی اثر و رسوخ ، نا عدالتوں میں چکر کاٹنے کا وقت اور نا ہی مقدمہ لڑنے کے لیے مہنگا وکیل کرنے کے لیے پیسہ تو یہی پولیس والے عام عوام کا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک عام شہری بغیر جرم کے شامل تفتیش کر دیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ پھر دوران تفتیش ہی خالق حقیقی سے جا ملتا ہے ۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس مظلوم پر کسی سیاسی شخصیت نے مقدمہ کروایا ہوتا ہے یا پھر کسی نے اپنی خاندانی دشمنی نکالنے کے لیے پولیس کو بھاری رقم دی ہوتی ہے ۔ دوسری اہم وجہ یہ کہ جب یہی پولیس والے بھرتی ہوتے ہیں تو انہیں نوکری کے حصول کے لیے بھاری رشوت دینی پڑتی ہے

    اور جب انہیں نوکری مل جاتی ہے تو یہ پولیس والے اپنی رشوت کے پیسے لوگوں سے وصول کرنے کے چکروں میں عام پبلک کے خون پسینے کی کماٸی کا ایک ایک سو روپیہ تک اپنی جیبوں میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں آج تک مقدمہ سے لے کر تفتیش تک وہی سسٹم چلا آرہا ہے جو انگریزوں نے برصغیر میں راٸج کیا تھا ۔ انگیریزوں کا پولیس بنانے کا مقصد تو یہی تھا کہ وہ یہاں کے مظلوم اور غلام لوگوں پر اپنا اثر و رسوخ بٹھاٸے رکھیں ، لوگوں پر بلاوجہ ظلم و تشدد کرتے رہیں تا کہ کوٸی آزادی کا نام نا لے ۔ انگریزوں کو گے تقریبا ایک صدی ہونے کو ہے مگر ہمارا پولیس کا نظام آج بھی وہی کا وہی ہے جو آج سے ایک صدی پہلے تھا ۔ ہمارے ہاں پولیس کا آج بھی یہی مقصد ہے کہ عام عوام پر سیاسی لوگوں اور امیر کبیر چوروں ڈاکوٶں کا خوف جماٸے رکھا جاٸے تاکہ یہ لوگ کبھی بھی کسی سیاسی نماٸیندے کے سامنے حق بات نا کر سکیں ۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ چور ، ڈاکو اور بھتہ لینے والے خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کی لوٹ مار سے ملنے والی چیزوں میں سے پولیس والوں کو بھی حصہ دیتے ہیں ۔

    کوٸی بھی محکمہ مکمل طور پر برا نہیں ہوتا نا ہی اس محکمے کے سبھی لوگ برے ہوتے ہیں جہاں پولیس والوں میں بہت سے درندے نظر آتے ہیں وہیں چند ایک پولیس والے عوام کی خاطر جانیں بھی لٹا دیتے ہیں ۔ بہت سے پولیس والے اسی عوام کی خاطر اپنی بیوی کو بیوہ ، بچوں کو یتیم ، ماں باپ اور چھوٹے بہن بھاٸیوں کو بے سہارا چھوڑ کر شہادت پا لیتے ہیں ۔ لیکن ایسے اچھے پولیس والوں کو بھی ہمارے پاکستانی بھاٸی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور ان کے جذبے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔

    پنجاب پولیس میں جب تک نٸی اصلاحات نہیں آٸیں گی تب تک یہ محکمہ کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ اس محکمے کو عوام دوست بنانے کے لیے حکومت کو اس محکمے میں نٸی اصلاحات کرنی چاہیے جو کہ امید تھی کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خاں اپنی حکومت بناتے ہی کر دیں گے مگر اس سلسلے میں ابھی تک کوٸی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب پولیس سے سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جاٸے ۔تا کہ پولیس کسی دباٶ میں آٸے بغیر عوام کی جان و مال کو تحفظ دے اور عوام کی زندگیاں آسان بناٸے ۔

    ۔ دوسری بات جو بہت ضروری ہے کہ ایک پولیس والے کو اس کی نوکری کا تحفظ دیا جاٸے ، جان کا تحفظ دیا جاٸے ۔ یہ نا ہو کہ اگر کوٸی پولیس والا کسی سیاسی شخصیت کے دباٶ میں آنے سے انکار کرے تو سیاسی شخصیت یا تو اسے نوکری سے فارغ کر دے یا پھر اس پولیس والے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ تیسری اور اہم بات یہ کہ پولیس کے محکمے سے رشوت کا خاتمہ کیا جاٸے تاکہ کوٸی بھی جوان رشوت دے کر نوکری حاصل نا کرے ۔ اس سے امید ہے کہ یہ پولیس والے عوام کو لوٹنا بند کر دیں گے ۔ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے پولیس کی اعلی سطح پر اخلاقی تربیت کی جاٸے اور انصاف کے حوالے سے اسلامی تعلیمات سیکھنا لازمی قرار دیا جاٸے ۔ اس کے علاوہ تفتیشی عمل میں جو غیر انسانی رویہ اپنایا جاتا ہے اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاٸے ۔ مقدمہ درج کرنے کے عمل میں آسانیاں فراہم کی جاٸیں تاکہ کوٸی بھی مظلوم بلاجھجک انصاف کے حصول کے لیے پولیس کے پاس آسکے ۔ روایتی تھانہ کلچر ختم کیا جاٸے اور پولیس کو عوام کے دروازے پر انصاف کے فراہمی کے لیے جانا چاہیے ۔ جو پولیس والے چوروں ، ڈاکوٶں اور بھتہ خوروں کے ساتھ مل کر عوام کا جینا حرام کیے ہوٸے ہیں انہیں سر عام سزاٸیں دی جاٸیں تاکہ باقی پولیس والے ان لوگوں سے عبرت حاصل کر کے اپنا قبلہ درست کر لیں۔

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو امن کا گہوارا بناٸے اور ہماری پولیس کو انسانیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین