Baaghi TV

Category: بلاگ

  • پی ٹی ایم کے کم عقل مشر اور بھارتی چال                  تحریر:عرفان ممند

    پی ٹی ایم کے کم عقل مشر اور بھارتی چال تحریر:عرفان ممند

    پی ٹی ایم کے مشر اعظم منظور پشتین نے ایک ٹویٹ کیا۔ جس کا عکس آپ اس تحریر کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں اور یہ ٹویٹ تاحال ان کے ٹویٹر کی ٹائم لائن پر موجود ہے۔ ٹویٹ میں انھوں نے ایک اطالوی صحافی کا مضمون پوسٹ کیا ہے۔ مضمون کا ٹائٹل ہی کئی لوگوں کے کان کھڑے کر دینے والا ہے:
    Taliban back in Waziristan? Or may be ‘they never left’

    اردو میں لکھیں تو:
    کیا طالبان وزیرستان میں واپس آگئے ہیں؟ یا شاید وہ ‘کبھی یہاں سے گئے ہی نہیں تھے’

    مضمون کی مصنفہ فرانسسکہ مارینو نامی اطالوی صحافی ہیں۔ موصوفہ "Apoclypse Pakistan” نامی کتاب کی مصنفہ ہیں جس میں بھارتی موقف کو ترجیح دیتے ہوئے انھوں نے 2611 کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ایک ناکام سی کوشش کی تھی۔

    اس نئے مضمون میں بھی انھوں نے بجائے گراونڈ ورک کرنے کے پی ٹی ایم اور اس تنظیم سے جڑے کرداروں کو (جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص طبقہ کے نمائندے بھی ہیں) ہی موقع دیا ہے کہ وہ اپنا موقف دیں اور اسی پر بنیاد رکھتے ہوئے پورا مضمون لکھ ڈالا جس میں انھوں نے بڑی ڈھٹائی سے پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینکا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طالبان کبھی وزیرستان سے نکلے ہی نہیں اور پاکستانی ایسٹبلشمنٹ یا عرف عام میں پاکستانی فوج نے جو کچھ بھی دہشت گردوں کے خلاف کیا وہ ایک ٹوپی ڈرامہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ (حالانکہ اب تو بین الاقوامی رائے عامہ کا اس بارے میں واضح موقف ہے)

    اب اس مر مزید یہ کہ مضمون کہیں اور نہیں بلکہ ایک بھارتی آن لائن نیوز ویب سائیٹ The Quint میں چھپا ہے۔

    چلیں اطالوی خاتون اور ان کے بھارتیوں سے زیادہ پیار کی کوئی نہ کوئی توجیح نکل آئے گی مگر سوال یہ ہے کہ بالکل اسی انداز میں پاکستان کے پشتونوں کے چند خیر خواہ بالکل اسی انداز میں ان دونوں پر فریفتہ کیوں ہورہے ہیں؟ اور وہ بھی عین ان دنوں میں جب پی ٹی ایم کو ایک طرف پی ٹی ایم سے جڑے کچھ کارکنان کے والدین نے ایکسپوز کرنا شروع کیا ہےتو دوسری طرف کشمیر کے مسئلے پر بھارت کو پوری دنیا میں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ اور اس کے بیانئیے کو جس مین اس نے ہمیشہ پاکستان کو ایک دہشت گردوں کا گڑھ قرار دینے کی ناکام کوشش کی، اس بیانییے کو شکست کا سامنا ہے، ایسے میں ایک بھارت نواز صحافی کی بھارتی جریدے میں چھپی ایک پراپیگنڈا تحریر کو پہلے فرحت اللہ بابر، پھر بشری گوہر پھر LUMS کی پروفیسر اور ٹویٹر پر Resistance movement کی سرخیل ندا کرمانی(اس تحریک پر بھی جلد ہی آپ لوگوں کو کچھ مطلع کروں گا) نے شئیر کیا پھر ثنا اعجاز اور پھر آخر میں مشر اعظم منظور پشتین نے اس پوری تحریر کو پورے طمطراق کے ساتھ اپنی ٹائم لائن پر چسپاں کر دیا۔ یاللعجب

    یہ وہی منظور ہے جو اپنے آپ کو غیرت مند پشتونوں کا والی سمجھتا ہے اور اس کا اور اس کے اس پاس کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کے جریدے کا پراپیگنڈا تحریر پھیلا رہے ہیں جس پر اس وقت پوری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے۔

    میں نے پہلے سوچا تھا کہ ڈاکٹر عبدالحئی اور ان کے والد ڈاکٹر نور محمد کے حوالے سے کچھ لکھوں گا اور اس میں یہ بتانے کی کوشش کروں گا کی کیسے ٹی ٹی پی کے خارجیوں کی طرح پی ٹی ایم کے خارجیوں پر بھی کم و بیش وہی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں جن کا احادیث میں کئی بار ذکر کیا گیا ہے۔ فرق صرف بندوق اور موبائل فون کا ہے۔ کام دونوں کا ایک ہی ہے، تفرقہ، فتوی اور تقسیم در تقسیم۔

    مگر اس تحریر کا منظور کی ٹائم لائن پر آنا اور اس کی تنظیم سے جڑے باقی لوگوں کا اس تحریر کو پھیلانا۔۔ اس بات نے آمادہ کیا۔۔ کہ پہلے اس بات کو اپنے پی ٹی ایم کے پشتون بھائیوں سے کھل کر پوچھا جائے کہ ٹھیک ہے تم لوگوں نے جہاد کا مذاق اڑایا اپنے مشر اعظم کے کہنے پر، تم نے پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی، تم نے لر و بر کا نعرہ لگایا، تم نے پشتون ولی کا علم اٹھانے کا دعوی کیا مگر تم لوگوں کی غیرت کو کیا ہوا کہ تم لوگ بھارت کے پراپیگنڈا کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا شروع ہوگئے ہو؟ کیوں تم لوگوں نے پشتون نوجوانوں کو اسی راہ پر لگانے کی واضح کوششیں شروع کردی ہیں جس راہ پر کسی زمانے میں BLA, BRA اور TTP جیسی دہشت گرد تنظیمیں کم عقل نوجوانوں کو لگاتی تھیں؟

    تمھاری عقل کو کیا ہوگیا ہے؟ تم لوگ یہ دعوی کرتے ہو کہ تم حکمران رہے ہو، اس خطے کے۔ چلو مان لیا، تو کیا حکمرانوں کی اولاد اتنی بے عقل ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے اپنی ہی قوم کو کمزور کرے گی؟

    اب وقت ہے کہ راستہ سیدھا رکھتے ہوئے ہم پشتون عوام کے اصلی مسائل پر بات کریں۔۔

    تعلیم، تعمیر اور خوشحال مستقبل کی بات کریں۔

    صحت بمع سہولت کی بات کریں۔

    بات کریں تو اپنے پیاروں کی ان کے مستقبل کی اور اس مستقبل کا پشتون قوم اور علاقے کی ترقی سے جڑے خواب کی۔

    بھارتی سورما جو کچھ کشمیر میں کر رہے ہیں اور آج جو انھوں نے 19 لاکھ آسامی مسلمانوں کے ساتھ کیا اور جو وہ افغانی مسلمانوں کے ساتھ کر چکے وہ تم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لئیے کافی ہونا چاہئیے۔

    پشتون زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

    سوشل میڈیا پر ایک عام بات جو دیکھنے میں نظر آٸی ہے اور جسے مجھ سمیت اور بھی بہت سارے لوگوں نے محسوس کیا ہے اور تجربے سے سیکھا بھی ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا پر موجود بہن بھاٸی صرف اور صرف اپنے آپ کو یا پھر اپنے چند مختصر دوستوں کے بارے خیال رکھتے ہیں کہ یہی چند لوگ ہیں بس جن کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں ، یہی ہیں وہ چند لوگ جو اپنے پیارے پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور اپنے پیارے وطن پاکستان کی خاطر اپنی جان و دل صرف یہی لوگ قربان کر سکتے ہیں ، ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ صرف یہی لوگ ہیں جنہیں افواج پاکستان سے محبت ہے ، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خون میں پاکستان اور افواج پاکستان سے وفا شامل ہے ۔ ایسے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ان کے علاوہ باقی سب غدار ، بزدل اور پاک فوج اور پاکستان کے دشمن ہیں ۔ ایسے لوگ کوٸی اور نہیں صرف اور صرف سیاسی کارکنان ہیں جن کے نزدیک ان کے علاوہ باقی سب ملک دشمن اور غدار وطن ہیں ۔ ایسے لوگ پاکستان کے عام عوام کو تو گالیاں دینے اور غدار کہنے فورا آجاٸیں گے نہ صرف خود آٸیں گے بلکہ اپنے اپنے گروپس کے لوگوں کو بھی دعوت عام دیں گے کہ آٶ اس انسان کو گالیاں دو ، اس کا منہ توڑ کے رکھ دو ، اس کو غدار ثابت کرنے میں زرا سی کسر نہ چھوڑو کیوں کہ ایسے جہلا کو لگتا ہے کہ بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہے جس کی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ ان کا لیڈر ہی پاکستان ہے ، ان کا لیڈر ہی افواج پاکستان ہے ، بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہوٸی ہے اس لیے یہ اپنے مخالف نظریہ رکھنے والے کو عام طور پر حرامی کہہ کر لکھیں اور پکاریں گے ۔ کیوں کہ ان سے مخالف نظریہ رکھنے والا انسان پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہے ۔ غدار کیوں ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے نزدیک پاکستان ،افواج پاکستان بلکہ ان کا دین ایمان ہی ان کا لیڈر ہوتا ہے ۔ جس کی پالیسی سے اگر خدانخواستہ آپ نے اختلاف کیا تو آپ ایسے لوگوں کے نزدیک داٸرہ اسلام سے ہی خارج ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے مخالف کا دین و ایمان چیک کرنے والی مشین ان کے مخالف کے خلاف بول رہی ہوتی ہے ۔ اسے لوگ اپنے ہم وطنوں کو تو گالیاں دینے اور غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے گروپس کی شکل میں آٸیں گے لیکن جب عالم کفر اور وطن و اسلام دشمنوں کو جواب دینے کی بات آٸے گی تو گونگے ، بہرے اور اندھے ہوجاٸیں گے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے.

    واہ رے منافقت

    حقیقت تو یہ ہے کہ جب حکومت پی پٕی کی ہوتو بات اگر پی پی کارکنان کے لیڈر کے خلاف ہوتو انہیں لگتا ہے کہ باقی سب ملک دشمن ہیں ۔ اسی طرح جب حکومت نواز شریف کی تھی تو بات اگر نواز پالیسی کے خلاف ہوتی تو ن لیگ کے کارکنان کو لگتا تھا کہ ہمارا مخالف پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہے ۔ اور اب اگر یہی بات عمران خاں کی پالیسی کے خلاف ہوتو pti کارکنان کو لگتا ہے کہ عمران خاں کی پالیسی سے اختلاف کرنے والا معاذ اللہ پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہونے کے ساتھ ساتھ شاید دین اسلام کا بھی دشمن ہے ۔ آج کل تو حالات کچھ یوں چل رہے ہیں کہ کوٸی انسان یہ کہہ دے کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیوں کیا ، کشمیر کے لیے انڈیا کو فضاٸی حدود بند کرو تو کچھ لوگ غداری کا سرٹیفکیٹ دینے آجاتے ہیں کہ تم نے فوج کے خلاف بات کی ہے کیونکہ ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر کو وہ کرنا چاہیے جواس نے نہیں کیا کشمیر کی خاطر ۔ بس پھر کیا دوسروں کو وطن سے غداری کا سرٹیفکیٹ دے کر اپنے دل کی تسلی کی ناکام کوشش کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی کارکنان جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اپنے اپنے لیڈروں کے ساتھ مل کر افواج پاکستان پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے ہیں اور اپنی سب سے مضبوط خفیہ ایجنسی پر تنقید کرتے نہیں تھکتے ۔ اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے اصل محب اور وفادار وہی ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوٸی تعلق نہیں ، جو ہر حکمران کی اچھاٸی کو اچھا اور براٸی کو غلط کہتے ہیں ۔ ہاں یہی ہیں وہ غیر سیاسی لوگ جو ہر حال میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو چند پوسٹ اور تحریروں کے بدلے معاوضہ نہیں لیتے اور پاکستان سے وفا نبھارہے ہوتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے سپاہی بھرتی کرواتے ہیں اور پھر جوان بیٹوں کی لاشیں وصول کرتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے شہید کروا کر بھی بارڈر پر سینہ تان کر کھڑا ہونے کے لیے دوسرے بیٹے بھیج دیتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے دو کوڑی کے غدار اور بزدل لیڈروں کی خاطر اپنی افواج پاکستان پر انگلیاں نہیں اٹھاتے ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو سڑک سے گزرنے والے سپاہیوں کو سلوٹ کرتے ہیں ، انہیں سلام پیش کرتے ہیں ، ان پر پھول نچھاور کرتے ہیں ، یہی تو اصل محبت ہے ۔

    ۔ اپنے لیڈر کو افواج پاکستان اور پاکستان سمجھنے والے تو آج ادھر ہیں تو کل دوسری طرف ہیں ۔ آج ادھر سے پیسہ ملا تو یہ لیڈر ، کل وہاں سے پیسہ ملے گا تو ادھر کی ڈیوٹی نبھاٸیں گے ۔

    ہمیں فخر ہے کہ ہماری رگوں میں پاکستان سے وفا کرنے والا خون ہے ، افواج پاکستان پر فخر کرنے والا خون ہے ، اپنے وطن پر جان قربان کرنے والا خون ہے ۔ ہم نے نا تو پیسہ لے کر وفاداریاں بدلی نا کبھی فوج پر انگلی اٹھاٸی ۔ ہاں جب جب کوٸی حکمران میرے کشمیر ، میرے وطن پاکستان ، میرے دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ، بزدلی دکھاٸے گا وہاں ہم ضرور اس حکمران پر انگلی اٹھاٸیں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جاٸدادیں باہر ، بچے باہر ، رشتے داریاں باہر ۔ ہم ضرور ایسے حکمرانوں پر تنقید کریں گے کیونکہ ہم نے اسی وطن میں رہنا ہے انہیں افواج کے ساتھ ، لیڈروں کا کیا ہے آج یہاں تو کل انگلیڈ ، امریکہ ، برطانیہ یا کہیں اور ۔

    ہمیں پاکستان سے محبت ہے تبھی ہم اپنی جان سے زیادہ عزیز فوج کے سربراہان سے پوچھتے ہیں اور پوچھیں گے بھی کہ آخر آپ نے اپنی شہہ رگ کے لیے کیا کیا ہے ۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہی گلے شکوے بھی ہوتے ہیں ، جہاں محبت ہوتی ہے وہی سوال جواب بھی ہوتے ہیں ، جن پر مان ہوتا ہے انہی سے اپنے مساٸل کا حل بھی پوچھا جاتا ہے ۔ اور اگر کسی کو لگے کہ اس کے لیڈر کی پالیسی سے اختلاف پاکستان اور افواج پاکستان یا اسلام سے غداری ہے تو پھر وہ لوگوں کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے کی بجاٸے اپنے ایمان ، ضمیر ، اور حب الوطنی کا جاٸزہ لے اور شخصیت پرستی کا علاج کرواٸیں۔

    اللہ پاک میرے وطن اور تمام افواج پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین

  • مقبوضہ کشمیر کے نوجوان عمران خان کی کشمیر پالیسی پر مطمئن ہیں        تحریر: معاذ عتیق راز

    مقبوضہ کشمیر کے نوجوان عمران خان کی کشمیر پالیسی پر مطمئن ہیں تحریر: معاذ عتیق راز

    آج میرے پاس جموں کے تین لڑکے آئے. جو وہاں کی یونیورسٹیز سے پڑھے ہیں اور یہاں جاب کرتے ہیں. میں نے ان سے مختلف سوالات کیے. جن میں وہاں کے حالات اور پاکستانی حکومت کی پالیسی اور طریقہ کار کے متعلق بھی سوال تھا. جو کچھ انہوں نے بتایا وہ یکسر اس سے مختلف تھا جو ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں. وہ عمران خان کی پالیسی اور طریقہ کار پر بالکل مطمئن تھے.

    جو چیزیں انہوں نے بتائی. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے مسلمان نوجوان سیاسی طور پر بھی پاکستانی نوجوانوں سے زیادہ بالغ ہیں. ہم ہر چیز کو ن لیگ پی ٹی آئی اور پی پی پی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں. جبکہ حالات کچھ اور ہیں اور ہم سے تقاضہ بھی کچھ اور کر رہے ہیں.
    واللہ اعلم

    جذباتی نوجوانوں سے درخواست ہے ضروری نہیں فوج کچھ کر رہی ہے اس کا سوشل میڈیا پر اعلان کرے. کچھ کام پوشیدہ رکھ کر کیے جاتے ہیں.

    میرا ایمان اور یقین ہے کہ کشمیر جہاد سے ہی آزاد ہو گا. لیکن.اس کے ساتھ یہ یاد رکھیں جنگ کہاں کب کیسے لڑنی ہے یہ ہماری فوج کو معلوم ہے. اللہ پاک فوج کو کامیاب کرے اور کشمیر آزاد ہو.

    آخری ہے.
    انڈیا ہمارے الیکشن کے بعد فوج مخالف بیانیے کو لے کر فیفتھ جنریشن وار ہم پر کر رہا ہے.اور آج ہمارا نوجوان اس جنگ میں جانے انجانے میں دشمن کا مدد گار ثابت ہو رہا ہے. ہمیں سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا پر بھر پور طریقے سے جواب دینا چاہیے.
    #رازِنہاں
    معاذ عتیق راز

  • دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    دنیا والوں سن لو ! جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے، ملیحہ لودھی

    نیویارک:کشمیری کبھی بھی بھارت کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ،اس حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیرمیں حالات سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے عرب نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ عالمی برادری کو کشمیر کے لیے کچھ کرنا ہوگا اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔

    ذرائع کے مطابق ملیحہ لودھی نے کہا کہ جب بھی کرفیو اٹھا بھارت کو یہی آوازآئے گی کہ وہ کشمیرسے نکل جائے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کشمیرسے متعلق اپنی قراردادوں پرعملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کو حق خودارادیت سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔

  • ہم ہیں سفیرِ کشمیر, ہاں ہم کھڑے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    ہم ہیں سفیرِ کشمیر, ہاں ہم کھڑے ہیں!!! — بلال شوکت آزاد

    جنگ, جنگ آخر ہے کیا؟

    آزادی, آزادی آخر ہے کیا؟

    قومی غیرت و حمیت, قومی غیرت و حمیت آخر ہے کیا؟

    بیشک جنگ وہ کیفیت ہے جو کسی امت, کسی قوم کسی منظم اور متحد گروہ پر اپنی خودمختاری کی حفاظت اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور اعلائے کلمتہ اللہ کی سربلندی کی خاطر ظہور پذیر ہوتی ہے, پر جنگ کی نوعیت الگ ہوسکتی ہے یہ ذہن نشین رہے۔

    آزادی وہ اختیار اور ہتھیار ہے جس کی سج دھج اور چمک سے جنگی کیفیت دو چند ہی نہیں ہوتی بلکہ کسی بھی امت, قوم یا منظم اور متحد گروہ کی جنگی تقویت کا مضبوط ستون ثابت ہوتی ہے اور بیشک آزادی کا تسلسل ایک اہم وجہ ہے جنگ اور جنگی کیفیت کی لیکن پھر یاد رہے کہ جنگ کی نوعیت کچھ بھی ہوسکتی ہے۔

    اور قومی غیرت و حمیت وہ ریسپانس ٹائم اور سٹریٹیجی ہے جس پر ساری جنگوں اور آزادی کا دارومدار ہے کہ جو قوم غیرت و حمیت سے عاری ہوجائے پھر وہ آزاد بھی ہو اور جنگی سازوسامان سے لیس بھی ہو تو جنگ ان کے کرنے کی چیز نہیں کہ جنگ ایک کیفیت کا نام ہے جو میں پہلے واضح کرچکا اور جنگ صرف خون بہانے کا ہی نام نہیں اور دنیا تباہ کرنا قطعی جنگ نہیں بلکہ جنگ کی نوعیت ہمیشہ الگ ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے یہ ذہن نشین رہے۔

    اب سمجھیں کہ یہ گزشتہ 27 دن سے بھارت میں کیا ہوا, کشمیر میں کیا ہورہا, پاکستان کیا کررہا اور دنیا کا ماحول کیسا بننا تھا پر کیسا بن رہا ہے؟

    جلد بازی یا عجلت کے بارے مشہور ہے کہ یہ شیطانی فعل ہے اور یہ حقیقت بھی موجود اور مسلم ہے کہ شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہے اور بلخصوص ایسے انسان شیطان کا پرائم ٹارگٹ ہیں جن میں انسانیت اور مسلمانیت کے جراثیم اتمام حجت سے لیکر پیک لیول پر موجود ہوں۔

    اور وجہ کوئی جذباتی اور شدید انسانی و مسلمانی ہو تو حساس اور فکر مند انسان کا عجلت میں کچھ کرنا اور کہہ جانا ایک فطری سی بات ہے کہ انسان کے کمزور لمحات وہ ہوتے ہیں جب انسان کے جذبات تتر بتر اور شدید ٹھیس کا شکار ہوں۔

    میں ڈھیٹ اور لکیر کا فقیر نہ شروع دن سے تھا اور نہ ہوں اور نہ ہی ان شاء ﷲ ہوں گا کہ میرا مسئلہ کشمیر کے حالیہ تغیر کے بعد اوائل دنوں میں موقف حکومت اور ریاست کی بابت بہت سخت بلکہ سخت ترین رہا ہے کہ جو کردار ادا کیا جارہا تھا تب وہ مجھے کچھ خاص مائل نا کرسکا تھا کہ کیفیت شدید جذباتی تھی اور اب بھی ہے لیکن چونکہ حکومت اور ریاست کی اپنی ذمہ داریاں اور مجبوریاں بہرحال تھیں اور ہیں جو میں پرانے دنوں کی طرح سمجھ رہا اور سمجھ چکا ہوں۔

    اب جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ عمران خان نے بطور سربراہ مملکت جس طرح سفارتی, سیاسی اور عسکری چینلز کی ترتیب لگائی ہے وہ اگر اسی سٹریٹیجی پر کاربند رہا تو بھارت یا مودی ایک وقت میں بند گلی میں پہنچنے والا ہے کہ اتمام حجت انجام دینا بھی کسی چڑیا کا نام ہے کسی دشمن کو اس کے منہ کے مطابق چپیڑ مارنے سے پہلے۔

    آج خان کی بدولت اس عوام نے وہ جذبہ اور جوش و خروش دکھایا ہے کہ اوپر موجود تمام سوالوں کے جوابات پر اس قوم کو پرکھ کر دیکھ لیں تو آپ کو قطعی مایوسی نہیں ہوگی کہ تمام سوالوں کے جوابات پر یہ قوم کھری پائی جاتی ہے۔

    مجھے معلوم ہے بلکہ اللہ کی ذات پر حد درجہ بھروسے کے بل پر یقین ہے کہ آج ایک آواز پر میرے ملک کے گلی گلی, محلے محلے اور شہر شہر میں جس طرح میرا ہر پاکستانی کشمیر کی خاطر آواز بلند کرنے نکلا بلکل اسی طرح حکومت و ریاست کی جانب سے حی اعلی الجہاد حی اعلی الجہاد کی اذان پر نکلیں گے۔

    آج "کشمیر آور” کی گونج دنیا کے ہر فورم, ہر میڈیا, ہر ادارے, ہر انسانی محفل میں سنائی دی اور دے رہی ہے کہ ابھی تک جو نعرہ تھا کہ "ہم کشمیریوں کے سنگ کھڑے ہیں” کا عملی نمونہ دیکھ لیا ہے دنیا نے کہ جی ہاں "ہم کھڑے ہیں” اور اگر دنیا نے اسی طرح ہمیں نظر انداز کیا اور ہماری بات نہ سنی جیسے ماضی میں سلوک روا تھا تو ہم آج کھڑے ہیں لیکن بہت جلد چل پڑیں گے اور ہماری منزل بیشک روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم پھر کشمیر کا چپہ چپہ بازیاب کروانے سے پہلے رکیں گے نہیں کہ ہمیں روکنا شروع کرنے سے زیادہ مشکل اور صبر آزما کام ہے اور اس کا محض دعوہ نہیں کہ روس اور امریکہ کی تاریخ میں جس ملک کا نام پچھلے 40 سال سے سب سے زیادہ درج ہورہا وہ ہم ہیں, وہ پاکستان ہے۔

    شکریہ پاکستانیوں شکریہ حکومت پاکستان اور شکریہ تمام اداروں کا کہ جو سب آج محض ایک کاز کی خاطر گھروں سے نکلے اور دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ ہمیں ہلکا مت لو, ہم تو زخمی بھی ہوں تو حوصلے پست نہیں ہوتے اور ہمارا قہر کم نہیں ہوتا لیکن ہماری خاموشی اور امن کو اولیت دینے کی عادت کو ہماری کمزوری نا سمجھا جائے۔

    عمران خان اور ریاست کو اب کشمیر کے حوالے سے باقاعدہ ایمرجنسی نافذ کردینی چاہیئے ہر جہت پر کہ قوم کا ہر فرد "سفیرِ کشمیر” بنے اور جہاں جائے وہاں کشمیر کو ساتھ لیتا جائے اور دنیا کو باور کراتا رہے کہ پاکستان ہی کشمیر ہے اور کشمیر بنے گا پاکستان۔

    میں آج والی پاکستانی قوم کے دم پر پرعزم ہوں کہ جب بھی اعلان ہوا تو آج سے دوگنا عوام سرحد پار جاکر کشمیریوں کا بدلا چکانے میں بھی پیش پیش رہے گی کہ آخر کار ہم پر جنگی کیفیت مسلط کردی جائے گی اور تب ہمیں آزادی جیسے ہتھیار کے بل پر قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا ہی پڑے گا۔

    یاد رہے کہ ہم ہیں سفیرِ کشمیر اور ہاں ہم کھڑے ہیں۔

    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہماری کوششوں اور محنتوں کو خالص کردے اور ہماری دعاؤں کو کشمیریوں کے حق میں قبول کرلے اور اگر ہم پر جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہمیں اپنے سلف کی طرح ثابت قدم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

  • سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر

    وزیراعظم پاکستان کی اپیل پر سپیشل بچے بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر کل آئے ۔ سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروز والہ کے طلبا نے کشمیر یوں سے یکجہتی کے لیے مارچ کیا۔ یکجہتی کشمیر مارچ میں سکول کے سٹاف نے بھی شرکت کی۔ سپیشل بچوں نے کشمیر سے یکجہتی کے حوالہ سے بینرز اٹھا رکھے تھے اور اشاروں کی زبان میں نعرے لگا رہے تھے
    کشمیریوں سے یکجہتی، ملک بھر میں کشمیر آور منایا گیا، پاکستانیوں نے تاریخ رقم کر دی
    سپیشل ایجوکیشن سنٹر فیروزوالا کے سٹاف نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناظم حسین کا کہنا تھا کہ سپیشل بچے آج مودی کو پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں ان کے ساتھ ہمارا خون کا رشتہ ہے۔ کشمیریوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    ناظم حسین کا مزید کہنا تھا کہ سپیشل بچوں کے بھی کشمیر کے حوالہ سے جذبات ہیں ۔آج وزیراعظم کی اپیل پر سپیشل بچے باہر نکلے ہیں ۔وزیراعظم جب بھی اعلان کریں گے سپیشل بچے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرتے رہیں گے

  • ہم کھڑے ہیں . علی چاند کا بلاگ

    ہم کھڑے ہیں . علی چاند کا بلاگ

    جناب 30 منٹ کھڑے کیوں ہونا ہے ؟
    جواب ملا قوم کو بیدار کرنے کے لیے ۔
    جناب قوم تو پہلے سے ہی بیدار ہے اپنے ضمیر پر سے پیسے کے لالچ کا بوجھ اتاریں تاکہ آپ کا ضمیر بیدار ہو ۔

    قوم کو بہت بہت مبارک ہو کہ میری قوم ابھی بھی زندہ ہے لیکن دکھ تو یہ ہے کہ صرف 30 منٹ کھڑے ہونے کے لیے زندہ ہے ، نعرہ تکبیر کہہ کر آگے بڑھنے کے لیے نہیں ۔ آج قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر بتا دیا کہ ہم آج بھی کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہم کشمیریوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں ، ہم اپنی کشمیری بہنوں کی عزتوں کے لیے ابھی بھی فکر مند ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں کے لیے جان دینے کو تیار کھڑے ہیں ، ہم آج بھی کشمیریوں سے وفا نبھانے کو تیار کھڑے ہیں ۔ آج قوم نے اپنے حکمرانوں اپنے لیڈروں سمیت ثابت کر دیا کہ ہم آج بھی اپنے کشمیری بھاٸیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ مبارک ہو میری قوم کو کہ آج ہم نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دے دیا ہے دنیا والوں کو ۔

    میرے کشمیری لوگو فکر نا کرنا بس ابھی دیکھنا ابھی مودی کا فون آٸے گا کہ پاکستانیوں تم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر ہمیں بہت زیادہ خوف زدہ کر دیا ہے لے لو پلیز لے لو ہم سے کشمیر واپس ، میری کشمیری بہنوں دیکھنا ابھی انڈیین آرمی والے تمہاری عزتوں کو تار تار کرنے کی بجاٸے تمہارے محافظ بن جاٸیں گے اور ہاتھ جوڑ کر تمہارے سامنے اعتراف کریں گے کہ پاکستانی قوم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر ہمیں بہت خوفزدہ کر دیا ہے ، میرے کشمیری بوڑھوں فکر نا کرو ہم نے 30 منٹ کھڑے ہو کر انڈیا والوں کو اس قدر ڈرا دھمکا لیا ہے کہ وہ آٸندہ کبھی تمہارے جوانوں کو شہید کر کے اجتماعی قبروں کے قبرستان نہیں بناٸیں گے ، میری کشمیری ماٶں آج سر فخر سے بلند کر لو کہ ہم پاکستانیوں نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈین فوجیوں کو اتنا خوف زدہ کر دیا ہے کہ وہ اب تمہارے جوان بیٹوں کو کبھی شہید نہیں کریں گے ، کبھی تمہارے سر سے آنچل نہیں کھینچے گے ، میری کشمیری بیٹیوں خوش ہوجاٶ کہ آج کے بعد کبھی تم یتیمی کی زندگی نہیں گزارو گی ، آج کے بعد ہندو تمہیں کبھی پریشان نہیں کریں گے ، آج کے بعد کبھی تمہارے گھروں میں گولی اور بارود نہیں آٸے گا ، آج کے بعد کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آٸیں گے ، آج کے بعد تم میں سے کوٸی معزور نہیں ہوگا ، میری کشمیری بچیوں آج کے بعد کوٸی دکھ تمہارے قریب نہیں آٸے گا کیونکہ آج تمہارے پاکستانی بھاٸی تمہارے لیے 30 منٹ کھڑے ہوٸے ہیں ۔

    پاکستانیو ! مبارک ہو ہم نے بالآخر وہ طریقہ ڈھونڈ ہی نکالا جس کا علم نا محمد بن قاسم کو تھا ، نا محمود غزنوی کو تھا ، نا صلاح الدین ایوبی کو تھا یہ طریقہ تو صرف اور صرف پاکستانی حکمرانوں کے پاس ہے کہ بغیر ہتھیار اٹھاٸے ، بغیر جنگ کٸیے ، بغیر خون خرابہ کیے کس طرح کشمیر فتح کر لیا ہے آج ہم نے کہ دنیا کفر ہمارے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے ، میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ اپنی افواج سے جدید ترین ہتھیار ، بلکہ ہر قسم کے ہتھیار لے کر واپس بلا لیں اور ہر جمعہ پاکستانی قوم کو 30 منٹ کے لیے کھڑا کر دیا کریں تاکہ عالم کفر ہم سے خوف زدہ رہے ۔ میری پیاری پاکستانی قوم کبھی تم لوگوں نے محسوس نہیں کیا کہ ہم پاکستانی کم اور کوفی زیادہ ہیں ۔ میدان کربلا میں ایک ایک ہیرا کٹتا رہا اور اہل کوفہ کیسے خاموش رہے تھے جانتے ہو کیسے تھے ؟ بالکل ہم جیسے ، جیسے ہم ہیں ویسے ہی اہل کوفہ تھے ۔ کشمیری ہمارے پرچم کے ساتھ شہید ہوتے رہے ، عزتیں لٹاتے رہے ، جانیں دیتے رہے ، اور ہم ان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں وہی جو اہل کوفہ نے سادات کے ساتھ کیا تھا ۔ شاید ہم انڈیا کے ساتھ تجارت بند کرتے ، فضاٸی حدود بند کرتے ، یا نعرہ تکبیر بلند کر کے اعلان جہاد کرتے تو ہم انڈیا کو اتنا نقصان نہ پہنچا پاتے جتنا ہم نے 30 منٹ کھڑے ہوکر انڈیا کا نقصان کر دیا ہے ۔میری اپنے حکمرانوں سے گزارش ہے کہ آٸیندہ جب 30 منٹ کھڑے ہونے کا اعلان کریں تو عالم کفر کو زیادہ خوف زدہ کرنے کے لیے قوم کے مردوں سے کہے کہ وہ ہاتھوں پر مہندی لگا کر ، چوڑیاں پہن کر اور سر پر دوپٹہ لے کر 30 منٹ کھڑیں ہوں تاکہ 30 منٹ کھڑے ہونے کی نوبت ہی نا آٸے بلکہ یہ مسلہ 3 4 منٹ میں حل ہوجاٸے ۔

    محمد بن قاسم ، صلاح الدین ایوبی کی منتظر قوم کو ایسی بہادری مبارک ہو جس میں صرف 30 منٹ کھڑے ہوکر ہماری قوم نے کشمیر کے ساتھ ساتھ مسٸلہ فلسطین و مسٸلہ برما اور دیگر تمام مساٸل حل کر لیے ہیں ۔

  • مودی بھی کوئی انسان ہے ؟ بالی ووڈ کی اداکارہ کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مودی پر برس پڑیں

    مودی بھی کوئی انسان ہے ؟ بالی ووڈ کی اداکارہ کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مودی پر برس پڑیں

    نئی دلی:مودی بھی کوئی انسان ہیں ؟ بے گناہ کشمیریوں پر مظالم پر چپ نہیں رہ سکتی ، مودی انسانیت کا قتل کررہا ہے ، جو خاموش ہیں وہ اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں ، کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف نامور بالی ووڈ اداکارہ اوربھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی رکن ارمیلا ماٹونڈکرمقبوضہ کشمیر کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر مودی سرکار پر پھٹ پڑیں۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر نے بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ 22 روز سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اورکشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر مودی سرکار پر برستے ہوئے کہا ہے کہ میرے ساس سُسر کشمیر میں رہتے ہیں اور میرے شوہر مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ 22 روزسے اپنے والدین سے بات نہیں کرسکے ہیں۔

  • پاکستانی ادارکار ،فنکار بھی کشمیری نکلے ، فنکاروں نے بھرپور انداز سے اظہار یکجہتی کیا

    پاکستانی ادارکار ،فنکار بھی کشمیری نکلے ، فنکاروں نے بھرپور انداز سے اظہار یکجہتی کیا

    کراچی: ہم سب کشمیری ہیں اور کشمیری پاکستانی ہیں‌، ہم کشمیریوں کو بھارتی مظالم اور غلامی میں رہتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتے ، کشمیریوں کی آزادی کے لیے آخری حد تک جائیں‌گے ، ان خیالات کا اظہار پاکستانی فنکاروں نے آج بھرپور انداز سے کیا ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان کےاعلان کے بعد آج 12 بجے پورے ملک میں ’کشمیر آور‘ منایاگیا۔ شوبز فنکاروں نے بھی اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔

    تفٍصیلات کے مطابق نامور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان اورمظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اس وقت ہم ایک ساتھ امن کی دعا کرتے ہیں اور پُر امید ہیں۔

    اداکار فیصل قریشی اور اعجاز اسلم بھی کشمیریوں کے لیے نکلے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔داکار عدنان صدیقی اوربلال اشرف نے بھی تصاویر شیئر کیں اوربتایا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

    دیگر گلوکاروں کی طرح گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لبرٹی چوک جارہی ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ سب ان کا ساتھ دینے کے لیے لبرٹی چوک آئیں۔واضح رہے کہ شوبز کے تمام فنکار گزشتہ روز سے ہی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پیغامات جاری کررہے ہیں۔

    https://www.instagram.com/rabi.fairy/?utm_source=ig_embed

    کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اداکار ہمایوں سعید نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ بد قسمتی سے میں اس وقت ملک میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر آور میں حصہ نہیں لے سکوں گا لیکن میں کہیں بھی ہوں میری حمایت ہمیشہ سے کشمیر کے ساتھ ہے۔

    پاکستان کے صف اول کے ادکار شان نے بھی وزیراعظم کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئےکہا تھا کہ ان کی بھرپور حمایت کشمیر کے ساتھ ہے اور وہ بھی مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکلیں گے۔ شان نے کہا کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کو جلد بھارت کی غلامی سے نجات دلا کر رہیں گے

    یاد رہے کہ گلوکار شہزاد رائے نے گزشتہ روز ہی ٹوئٹر پر تمام لوگوں کو آگاہ کردیاتھا کہ وہ آج کراچی میں ایس ایم بی فاطمہ جناح اسکول کی 2500 طالبات کے ساتھ باہر نکلیں گے اور کشمیر آور منائیں گے.

    شہزاد رئے کی طرح معروف گلوکار فخرعالم نے کہا تھا دنیا کو یاد دلائیں کہ ہمیں انسانی تکالیف کے دوران خاموش نہیں رہنا چاہئے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے غیر مند فنکاروں ، اداکاروں اور گلوکاروں نے جس طرح کشمیریوں کی بھرپورحمایت اور ان کے حقوق کی آواز اٹھائی ہے اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی

  • کشمیریوں سے اظہاریکجہتی ، مرکزی علما کونسل کل بھرپور مظاہرے گی

    کشمیریوں سے اظہاریکجہتی ، مرکزی علما کونسل کل بھرپور مظاہرے گی

    فیصل آباد :کشمیر اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار پاکستانی قوم کا نعرہ بن گیا ، ملک بھر کی دیگر تنظمیوں کی طرح مرکزی علما کونسل بھی کل فیصل آباد میں گول مسجد کے مقام پر ایک بہت بڑا مظاہر ہ کرے گی ، بھارتی وزیراعظم مودی کے پتلے کو پھانسی دی جائے گی

    ذرائع کے مطابق مرکزی علماء کونسل کی طرف سے اس مظاہرے کا اہتمام کیا گیا ہے. مرکزی علما کونسل ذرائع کے مطابق ان مظاہروں کی قیادت چیئر مین مرکزی علماء کونسل صاحبزادہ زاہد الراشدی کریں گے ،