Baaghi TV

Category: بلاگ

  • انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    اسلام کا سب سے بڑا درس انسانیت ہے۔ لیکن اسلام کا نام استعمال کرنے والے پاکستان کے نام نہاد بنک ” مسلم کمرشل بنک” نے انسانیت کا ایسا جنازہ نکالا جس نے آج قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ مسلم کو کمرشل کرنے والے "MCB” نے اُس وقت دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب اس نے اپنے ایک ایسے اکاؤنٹ ہولڈر کو بنک میں آ کر اکاؤنٹ کی تصدیق کر نے کا کہا جو کہ اپنی علالت و لاغری کے باعث چلنے کے قابل نہ تھا۔ مگر MCB کی انتظامیہ نے روایتی بے حسی اور اذلی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر کے کسی بھی عذر کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اکاؤنٹ بند کرنے کا مژدہ سنایا۔ مجبور و لاچار مریض کو بحالت مجبوری بنک آ کر اپنے اکاؤنٹ کی (بائیو میٹرک) تصدیق کرنا پڑی( تصویر، تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔
    MCB جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مشہور بنک ہونے کا دعوی کرتا ہےہمیشہ اپنے لاکھوں صارفین کو تسلی بخش اور عمدہ سروسز دینے میں ناکام رہا ہے جو کہ MCB کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    MCB کے رولز، سسٹم اور عملے کا رویہ دوستانہ و ہمدردانہ ہرگز نہ ہے۔ وہاں صارفین کو اپنے کام کے لئے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑتا ہے اور جب اس اذیت بھرے انتظار کے بعد صارف کی باری آتی ہے تو بنک کے پاس فوٹو کاپی کی سہولت نہ ہونے کے باعث صارف کا کام ادھورا رہ جاتا ہے اور صارف کو اپنے شناختی کارڈ وغیرہ کی فوٹو کاپی کرانے لے لئے باہر جانا پڑتا ہے اور واپس آکر پھر اسی انتظار کی کیفیت سے دو چار ہونا صارف کی مجبوری بن جاتا ہے۔
    پاکستان میں دوسرے اداروں کی طرح بنکنگ کا معیار بھی اتنا گر چکا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو سہولیات دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق ہر بنک اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے اکاؤنٹ کے "بائیو میٹرک” تصدیق کرانا لازم ہوگی،جو کہ ملک کی معاشی پالیسی کے لئے ایک احسن قدم ہے لیکن اس کے لئے کوئی خاص طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا جس کے باعث بنک صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
    سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مختلف بنکوں کی کم و بیش 15 ہزار سے زائد برانچوں میں تقریباً 5 کروڑ پاکستانی بنک اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں اور پاکستان میں بنک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دنیا کے درجنوں ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    MCB میں بزرگوں اور خواتین کے لئے دیگر پرائیویٹ بنکوں کی مانند کوئی خصوصی کاؤنٹر نہیں بنائے گئے MCB کی کچھ برانچز میں اگرچہ یہ کاؤنٹر موجود ہیں لیکن اس کا با قاعدہ طور پر صحیح استعمال نہیں کیا جاتا جس سے بزرگ اور خواتین اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔سٹیٹ بنک کو چاہئیے کہ وہ ایسا طریقہ کار وضح کرے جس سے بزرگ اور بیمار صارفین کی “بائیو میٹرک” تصدیق کی سہولت انہیں ان کی گھر پر مہیا کی جائے۔ اس سے نا صرف صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ بنکنگ سیکٹر کے لئے ان کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا

    بنکنگ سیکٹر کے تمام صارفین کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے التماس ہے کہ MCB کے سسٹم اور خدمات کو بہتر سے بہترین کیا جائے اور اگر پرائیویٹ سیکٹر اس بنک کو صحیح طریقہ سے نہیں چلا سکتا تو اسے واپس حکومت کی تحویل میں لے کر اس کا نظام درست کیا جائے۔

    محمد فہد شیروانی

  • تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہے؟؟؟ محمد نعیم شہزاد

    تبدیلی کیسے آتی ہےتبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ تبدیلی ایک مستقل عمل ہے جو جاری رہتا ہے۔ وقت، موسم انسان، معاشرہ اور اقوام سب تبدیلی کا مظہر ہیں۔ عمرانی لحاظ سے تبدیلی سوچ و فکر کے زاویہ اور طرز عمل کے تبدیل ہونے کا نام ہے۔ تبدیلی مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ بعض تبدیلیاں عارضی اور وقتی ہوتی ہیں اور کچھ تبدیلیاں مستقل ہوتی ہیں۔ بہت سے مواقع پر ہم تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں اور کسی موقع پر ہمیں تبدیلی کے زیرِ اثر خود کو تبدیلی کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ بعض تبدیلیاں اس قدر مستقل اور باقاعدہ ہوتی ہیں کہ ہم انہیں تبدیلیوں کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ پھر یہ تبدیلیاں لوگوں کی زندگی پر مختلف طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور ہر ایک کی حساسیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد اس قدر ذکی الحس ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ ہونے والی تبدیلیوں کا پیشگی اندازہ کر لیتے ہیں اور کچھ اس قدر غیر حساس ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی تبدیلی کو محسوس نہیں کر پاتے۔
    اقوام اور معاشرے افراد سے وجود میں آتے ہیں اور افراد میں انفرادی و اجتماعی تبدیلیاں ہی قوم میں تبدیلی لاتی ہیں۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بیان کردہ اللہ تعالیٰ کا اصول بھی یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک افراد تبدیلی کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی مد نظر رہے کہ تبدیلی محض ہمارے منصوبہ، عمل اور فکر سے نہیں آنی بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما ہوتی ہے۔ اگر حاکم وقت یا کسی ادارے کا سربراہ اپنے ملک یا ادارے میں اصطلاحات چاہتا ہے تو اس کے لیے جہاں اس کی منصوبہ بندی اور اس کے مطابق لیے گئے اقدامات اہم ہیں وہیں اس کی اور قوم کی انفرادی و مجموعی سوچ بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
    تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو خیر القرون میں ہم ایک ایسا فکر انگیز واقعہ دیکھتے ہیں کہ جب حکمران قوم کی فلاح و بہبود اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے رات کی تاریکی میں شہر کی گلیوں میں گشت کرتا ہے اور ایک گھر کے باہر سے گزرتے ہوئے اس کی سماعت سے پر فکر الفاظ ٹکراتے ہیں۔ یہ الفاظ ایک لڑکی کے ہیں جو اپنی والدہ کا دودھ میں پانی ملانے کا حکم بجا نہیں لاتی اور بتاتی ہے کہ خلیفہ نے اس کام سے منع کیا ہوا ہے۔ اس لڑکی کا اگلا جملہ ہماری عقل کے بند دریچوں کو وا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ماں نے بیٹی سے کہا کہ خلیفہ کب ہمیں دیکھ رہا ہے تو دانا و زیرک اور خوفِ خدا رکھنے والی لڑکی نے جواب دیا کہ اللہ تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    بس اس ایک جملے سے تبدیلی کا اصل محرک معلوم ہو جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں وہ کیا چیز تھی جس نے اس لڑکی کو ملاوٹ کے اس عمل سے روکا اور وہ کون سی قوت تھی جس نے لڑکی کو انکار کرنے کی اخلاقی جرأت دی؟
    جواب واضح ہے، خوفِ خدا اور بلا تفریق و تمیز احتساب کا احساس۔
    اب ہم دیکھتے ہیں وطن عزیز میں تبدیلی کے خواب کو۔ یقیناً حاکمِ وقت تبدیلی کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے ضروری اقدامات بھی لیے جا رہے ہیں۔ مگر گزارش ہے کہ آپ جس قدر بھی احتساب اور قانون کے عمل کو سخت، شفاف اور مستعد کر لیں، چیک اینڈ بیلنس پر سو فیصد عملدرآمد مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جتنے بھی ادارے اور ضابطے بنا لیں جب تک احساس ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا حقیقی معنوں میں تبدیلی ناپید رہے گی۔ انفرادی اور مجموعی طور پر خوفِ خدا، تقویٰ اور احتساب کا احساس پیدا کیے بغیر تبدیلی کے اس خواب کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔
    حکمران سے لے کر وطن کے ہر شہری کو یہ احساس بیدار کرنا ہو گا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ بے شک اللہ کا خوف ہی حکمت و دانائی کے اعلیٰ مقام پر ہونے کی علامت ہے۔

  • دنیا میں‌کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں ،رپورٹ آگئی

    دنیا میں‌کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں ،رپورٹ آگئی

    9ممالک کےپاس 13865 جوہری ہتھیار ہین.اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیش ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے سال 2019 میں مختلف ممالک کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کی رپورٹ جاری کر دی۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا کے 9 ممالک کے پاس 13865 جوہری ہتھیار ہیں۔ امریکا 6500 جبکہ روس 6185 جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔ روس اور امریکا کے درمیان تخفیف اسلحہ کے معاہدے سے 6 سو جوہری ہتھیاروں میں کمی واقعہ ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 150 سے 160 جبکہ بھارت 130 کے قریب جوہری ہتھیار ہیں۔ فرانس 300، چین 290، برطانیہ 200 اور اسرائیل کے پاس 80 سے 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

  • 5 کشمیری بھارتی فورسز کےہاتھوں گرفتار

    5 کشمیری بھارتی فورسز کےہاتھوں گرفتار

    کشمیر کے علاقے شوپیاں میں آئی ای ڈی دھماکہ خیز مواد بنانے کےجرم میں 5 کشمیری گرفتار کر لیے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ، کشمیر کے ضلع شوپیاں میں سکیورٹی فورسز نے 5 کشمیری نوجوانوں کو گرفتا کر لیا.ان افراد کو مسلسل ریڈز اور چھاپوں کے بعد گرفتار کیا گیا جہاں ان پر تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ اس سے قبل صبح شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں ایک فوجی اہلکار نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا. بھارتی فوجیون کے بڑھتے ہوئے خودکشیوں کے واقعات پر بھارتی فوجی حکام اور بی جے پی سرکار میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے.

  • کالعدم تنظیموں کے مزید مدارس اور سکول حکومتی تحویل میں

    کالعدم تنظیموں کے مزید مدارس اور سکول حکومتی تحویل میں

    کالعدم تنظیموں کے اب تک 11 مدارس اور ایک اسکول کو تحویل میں لیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم پنجاب

    تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم حکومت پنجاب کے سی ای او ایجوکیشن پرویز اختر نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کو تحویل میں لے لیاہے مطابق اب تک 11 مدارس اور ایک اسکول کو تحویل میں لیا گیا ہے۔

    پرویز اختر کا کہنا تھا کہ تحویل میں لیے گئے تعلیمی اداروں کے اساتذہ و ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ نہیں کیا گیا ہے، ان تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو تنخواہیں محکمہ تعلیم پنجاب دے رہا ہے جب کہ تعلیمی اداروں کے طلباء بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    واضح رہےکہ رواں برس مئی میں وزارت داخلہ نے کالعدم جیش محمد، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاونڈیشن سے منسلک 11 تنظیموں پر پابندی عائد کی تھی۔
    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تنظیموں پر پابندی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کے سلسلے میں لگائی گئی تھی۔
    جن تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں الانفال ٹرسٹ لاہور، ادارہ خدمت خلق لاہور، الدعوة الارشاد، الحمد ٹرسٹ لاہور و فیصل آباد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

  • نظریاتی اختلاف، جھوٹ اور عدم برداشت ۔۔۔ زین خٹک

    نظریاتی اختلاف، جھوٹ اور عدم برداشت ۔۔۔ زین خٹک

    موجودہ دور میں برداشت کا مادہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ کیونکہ ہمارے نظام تعلیم میں اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں برداشت کے حوالے سے کوئی رہنمائی اور ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ ہم ہمیشہ سے اس مغا لطے کے شکار ہیں کہ ہم سب سے بہتر ہیں اور دوسرے کم تر ہیں۔ اس سوچ کی بدولت ہمارے معاشرے میں عدم برداشت بڑھتا جارہا ہے۔ دوسری طرف آج کل سوشل میڈیا کی بدولت شہرت کی وبا پھیل رہی ہے۔ ہر دوسرا شخص سوشل میڈیا پر آ کر کسی دوسرے کے نظریے پر حملہ آور ہوتا ہے۔ نظریہ خواہ سیاسی ہو یا مذہبی ،کسی انسان کی زندگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر فسادات نظریاتی اختلافات کی بدولت ہی ہوئے ہے۔ نظریات پر حملہ آور کو منفی سوچ کے لوگوں سے زیادہ پذیرائی بھی ملتی ہے۔ اور لوگ بھی بغیر کسی تحقیق کے سچ مان لیتے ہیں۔ گذشتہ روز پی ٹی ایم کی طرف سے تین بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں کہ یہ بھوک کی وجہ سے مر گئے حلانکہ ان بچوں نے موسم سرما کے کپڑے پہنے تھے اور یہ ایک پرانی تصویر تھی لیکن اس کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر لوگ دھڑا دھڑ پھیلا رہے تھے۔ اسی طرح چند دن پہلے عوامی نیشنل پارٹی نے ترکی میں جلوس کے تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھیں۔ کہ یہ عوامی نیشنل پارٹی کا بجٹ کے خلاف مظاہرہ ہے۔ حلانکہ اس تصویر میں، بلڈنگ، کپڑے، سب کچھ نمایاں تھیں۔ اج کل سوشل میڈیا پر بغیر دلیل و استدلال مغا لطے کی بنیاد پر نظریات زیر عتاب ہیں۔ کوئی بندہ آزادنہ طور پر اپنے نظریے پر بات نہیں کرسکتا۔ کیونکہ سوچ وشعور سے عاری مفتیان اور غازیانِ سوشل میڈیا فتویٰ کی بمباری شروع کرتے ہیں۔ ہر روز بے بنیاد اور دلیل کے بغیر خبریں جھوٹی خبریں معمول بن چکی ہیں۔ بغیر دلیل و شعور کے نظریات پر حملوں سے با ت گالیوں تک پہنچتی ہے۔ گالیوں سے بات معاشرے میں بگاڑ اور خون خرابے تک چلی جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ سے وعدہ کریں کہ ہم کسی جھوٹی خبر کو نہیں پھیلائیں گے۔ کسی کے نظریات پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہمیشہ مثبت تنقید کریں گے۔ کسی بندے کے ذاتی زندگی پر حملہ نہیں کریں گے اور کوئی بھی با ت ثبوت کے بغیر نہیں کریں گے۔ اسی سے معاشرے میں ایک مثبت مکالمے کی راہ ہموار ہو سکے گی اور دوسرے کے نظریات کو تحمل سے برداشت کرنے کی روش عام ہو گی۔

  • کیا بھروسہ ہے زندگانی کا …. فرحان شبیر

    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا …. فرحان شبیر

    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
    آدمی بلبلہ ہے پانی کا
    ” ہم سب رنگ منج کی کٹھ پتلیاں ہیں عالم پناہ ، جنکی ڈور اوپر والے کے ہاتھوں میں ہے کب کسکا کردار ختم ہوجائے کوئی نہیں جانتا ۔ ہا۔۔ہا۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔”
    اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ ابھی زندہ ہیں آپکا دل دھڑک رہا ہے اور اعضاء بھی کام کر رہے ہیں ۔ دل اس لئیے دھڑک رہا ہے کہ خون کو سارے جسم میں گھمادے تاکہ خون میں موجود ہیموگلوبین کے ذریعے پھیپھڑوں سے آکسیجن کو جسم کے ایک ایک مسام تک پہنچا دے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو جسم کے ایک ایک مسام سے پکڑ کر پھیپھڑوں کے ہی راستے واپس باہر فضا میں خارج کرا دے ۔ حضرت انسان کے سانس لینے کا یہ عمل جب تک رواں رہتا ہے انسان زندہ رہتا ہے سانسوں کی مالا ٹوٹتے ہی زندگی کی ڈور بھی ٹوٹ جاتی ہے ۔ ہم کھانے کے بغیر تقریبا 30 دن ، پانی کے بغیر تین سے چھ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن آکسیجن کے بغیر چند منٹ سے زیادہ بھی نہیں گذار سکتے ۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے جو ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔

    دو ارب سال پہلے زمین پر آکیسجن کا آج کی طرح گیس کی صورت علیحدہ سے کوئی وجود نہیں ہوتا تھا یہ مرکب یعنی Compound form میں پائی جاتی تھی ۔ جیسے پانی میں ( H2O ) یا کاربن ڈائی آکسائیڈ ( CO2) . یہ تو اس وقت پیدا ہونے والے سائینو بیکٹیریاز کا احسان کے انہوں نے سمندروں سے لیکر پہاڑوں تک اپنی آبادیوں کو پھیلایا اور کاربن ڈائی اکسائیڈ کو اپنے اندر لے کر آکسیجن بناتے چلے گئے اور یہ سلسلہ آنے وال دو چار سال نہیں بلکہ اگلے 150 کروڑ سالوں تک اسی طرح نان اسٹاپ چلتا رہا ۔ ہر سائینو بیکٹیریاتا یہی کام کرتا رہا ۔ وہ جنم لیتا تھا اپنے حصے کی CO2 کو آکسیجن O2 میں تبدیل کرکے ختم ہوجاتا تھا ۔ یہ انہی سائینو بیکٹیریاز کی سانسیں لے کر چھوڑی ہوئی آکسیجن ہے جو آج ہماری زندگی کی بنیاد ہے جس کے بغیر ہماری زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔

    دو ارب سال پہلے زمین پر حیات ، زندگی یا life بہت ہی اممیچیور فارم یعنی اپنی ابتدائی حالت میں تھی یعنی اس وقت life یونی سیکولر سیل اور تھوڑے بہت ملٹی سیکولر سیل کی سطح تک ہی پہنچی تھی ۔آسان الفاظ میں دو ارب سال پہلے زمین پر چاروں طرف جہاں کہیں بھی زندگی تھی تو وہ صرف بیکٹیریاز کے ہی پیکر میں پائی جاتی تھی ۔ ان بیکٹیریاز میں سب سے زیادہ تعداد جس مخصوص بیکٹیریا کی تھی اسے سائینس کی دنیا نے سائینو بیکٹیریا کا نام دیا ہے ۔

    یہ سائینو بیکٹیریا 13 ارب سال پہلے وجود میں آنے والی اس کائنات میں life یعنی حیات نامی سپر ڈوپر ہٹ فلم کا بڑا ہی اہم اور بڑا ہی خاموش سا کردار رہا ہے خدا کی اس کائنات میں اس سیارہ زمین پر دو ارب سال پہلے جنم لینے والے اس سائینو بیکٹیریا نے وہ کام کیا جس پر ہم انسانوں کو اسکا شکر گذار ہونا چاہئیے ۔ کیونکہ یہ سائنو بیکٹریا اس وقت کی فضا پر چھائی زندگی کے لئیے نقصان دہ گیس کاربن ڈائی آکسائڈ کو inhale کرکے آکسیجن کو ریلیز کرتا تھا اور آج ہمارے اردگرد کی فضا میں موجود آکسیجن O2 اسی ننھے سے نہ نظر آنے والے سائنو بیکٹیریا کے کروڑ ہا کروڑ سالوں تک اسی طرح سانس لینے کا نتیجہ ہے ۔

    آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ بات شروع کہاں سے کی تھی اور کہاں پہنچ گئی لیکن ذرا تصور کریں اگر میں اور آپ بھی ایسے ہی کوئی سائینو بیکٹریا ہوتے جو اس کائنات میں صرف اتنا ہی کردار ادا کرتے کہ اپنے حصے کی کچھ کاربن ڈائی آکسائڈ وصول کرتے اسکو آکسیجن میں کنورٹ کرتے اور کچھ ہی منٹوں کی زندگی گذار کر اس جہان فانی سے کوچ کرجاتے تو کیا ہمیں اپنی وہ ننھی سی زندگی بے مقصد اور ب کار نا لگتی ۔ کیا ہم اپنے اس وقت کے بیکیریائی شعور کی سطح پر اپنے اس چھوٹے سے کردار کو اس بڑی ساری کائنات کے گرینڈ ڈیزائن میں کبھی سمجھ بھی پاتے ؟ کیا ہمیں اندازہ بھی ہو سکتا تھا کہ ہمارے ہی سانس لینے سے پیدا ہونے والی آکسیجن ڈیڑھ سو سے دو ارب سالوں کے ایک طویل ترین عرصے بعد اتنی اہمیت کی حامل ہوجائیگی کہ زمین پر پائے جانے والے ہر جاندار کے لئیے لازم و ملزوم ہوجائے ۔

    وہ بیکٹیریا اتنا شعور نہیں رکھتا تھا کہ یہ ساری باتیں سوچتا لیکن ہم انسان تو شعور رکھتے ہیں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس سائنو بیکٹیریا کی طرح ہم بھی شاید اپنے شعور کی موجودہ سطح پر اس وقت خدا کی اس کائنات میں اپنا کردار شاید سمجھ نہیں پائیں اور کائنات کے اس گرینڈ ڈیزائن میں ہم انسانوں کا کردار بھی ہمارے شعور کی موجودہ سطح سے کچھ اوپر کی چیز ہو ۔ فرق صرف یہ ہے کائنات کی ہر شے خدا کی طرف سے اسے دی گئی پروگرامنگ پر چلنے پر پابند ہے جب کہ ہم انسانوں کو خدا نے اختیار و ارادہ کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔

    اب یہ ہم انسانوں پر ہے کہ ہم اس کائنات اور اس زمین پر اپنی کیسی چھاپ چھوڑ کر جاتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو کیسے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ تو خدا ہی جانے کہ کس کے اعمال اسے حیات ابدی دلاتے ہیں اور کس کے اعمال اسکے لئیے ابدی خسارے کا سبب بنتے ہیں لیکن جینٹیکس سے لیکر سائیکالوجی تک کے علوم یہ بتاتے ہیں کہ ہر انسانی بچہ اپنی پشت پر کچھ وراثتی اثرات کا بوجھ لاد کر لاتا ہے جس میں اسکے Genes جینز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور وہ زندگی کے اکثر و بیشتر فیصلے انہی جینیاتی اور وراثتی اثرات کے تابع رہ کر کرتا ہے جیسے باپ جیسا غصہ رکھنا ، مجرمانہ ذہنیت یا مثبت سوچ ، حتی کہ شوگر اور اس جیسی کئی بیماریاں نسلوں تک منتقل ہوتی چلی جاتی ہیں ۔

    خدا ہر ماں اور باپ کو یہ اعزاز دیتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی پرورش کریں کہ انکی آنے والی نسلیں انسانوں کو فائدہ پہنچائیں ۔ اور اسکے لئیے کوئی بہت مشہور یا بڑا آدمی بننا ہی ضروری نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننا ضروری ہے ۔ ہر باپ اپنی اولاد کا پہلا ہیرو اور پہلا آئیڈیل ہوتا ہے ۔ آپ کےاچھے برے اعمال اور فیصلے نہ صرف آپکی اولادبلکہ آنے والی نسلوں اور قوموں تک متاثر کرسکتاہے ۔ کسے پتہ کہ کسی ان پڑھ کا اپنے خون جگر سے بچوں کو تعلیم دلوانا بعد میں اسکی نسل میں کسی آئن اسٹائن کی پیدائش کا سبب بن جائے ۔

    میرے والد بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اپنی یتیمی کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اپنے پیروں پر بہت جلد ہی کھڑے ہوگئے خود تو پڑھ لکھ نہیں پائے لیکن مجھے انہوں ماسٹرز تک تعلیم دلائی اور اس طرح اپنی برسوں سے چلی آرہی فیملی Tree کے Gene میں تعلیم کا ٹانکا لگا کر اور اپنے اچھے کردار و عمل سے ہماری اچھی نگہداشت اور پرورش کرکے اپنی آنے والی نسلوں کے Genes کو آپ گریڈ کر گئے ۔ ہمارے باپ کا اتنا ہی احسان کم نہیں کہ اس نے ہمیں اچھے برے کی تمیز صرف الفاظ سے نہیں اپنے عمل سے بھی دکھائی ۔ مجھے یقین ہے کہ خدا نے جو کام بحیثیت انسان انکے حوالے کیا تھا وہ انہوں نے بخوبی پورا کیا ۔ آج وہ اپنے رب کے پاس خوش و خرم ہونگے ۔

    زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
    خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
    مثل ایوان سحر، مرقد فروزاں ہو تیرا
    نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو تیرا
    آسماں تیری لحد پے شبنم افشانی کرے
    سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

  • میری پہچان تم سے ہے ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    میری پہچان تم سے ہے ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    (سال کے مختلف ایام کو مختلف ناموں سے موسوم کر دیا گیا ہے جیسے آج کا دن "فادرز ڈے” کے نام سے معروف ہے۔ اس حوالے سے انتہائی اہم بات کہ بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ سال میں صرف ایک دن ہی باپ کے نام نہیں بلکہ ہر دن باپ کا احترام ہونا چاہیے تو اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ میری دانست میں اس دن کو منانے کا ہرگز یہ مقصد نہیں جو بعض لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ یہ تو محض یاد دہانی کے لیے ہے کہ اس دن غور و فکر کریں اور کچھ خاص کریں۔)
    (نوٹ: یہ ذاتی رائے کا اظہار ہے اس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے۔)

    وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
    ابو البشر سے ہی ہوتا ہے یہ جہاں پیدا

    اس کائنات کا نظام امداد باہمی کے اصول پر چل رہا ہے۔ ہر اک شے کسی دوسری چیز پر منحصر ہے اور کسی کو بھی افتراقِ انحصار حاصل نہیں ہے۔ مرد و زن نسلِ انسانی کے ارتقاء کے لیے بنیاد ہیں تو آدم ہی بنی آدم کی ابتدا۔ الغرض انسان کے لیے پدر و مادر دونوں اہم اور ضروری ہیں مگر آج کے دن کی مطابقت سے ہم باپ کے حوالے سے بات کریں گے ۔
    بنی نوع انسان کا آغاز وجود آدم سے ہی ہوا جو باپ کی مرکزی حیثیت اور اس کے کردار کو تسلیم کرنے کے لیے کافی ہے۔ باپ اس دنیا میں وہ واحد ہستی ہے جو انسان کی پیدائش سے پہلے بچے کے اس جہان میں آنے کا انتظام و انصرام کرتی ہے اور اسے یہ بھی فکر لاحق ہوتی ہے کہ میرے بعد میرے بچوں کی گزران کس طرح ہو گی۔ اپنا شباب، اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں اپنے اہل خانہ کے لیے صرف کر دینا ایک مرد کا شیوہ ہے۔ زمانے کے کٹھن حالات کا سامنا کرنا اور اہل خانہ کو راحت پہنچانا اس کا طرہ امتیاز ہے۔ باپ کی شفقت اور پیار مثالی ہے۔ یہ باپ ہی تو ہے جس کی تھپکی ایک بچے میں خود اعتمادی پیدا کر دیتی ہے اور زندگی میں آنے والے مشکل مراحل کا سامنا کرنے کی ہمت دیتی ہے۔
    باپ کی ان قربانیوں اور اس کردار کے پیش نظر ہی خالق کائنات نے باپ کو ایک اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا ہے کہ باپ کی رضامندی میں اپنی رضا اور باپ کی ناراضگی میں اپنی ناراضگی رکھ دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو جنت کا دروازہ قرار دیا۔
    ہمارے معاشرے میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک کسان گرمی کے موسم میں کھیت میں کام کر رہا تھا۔ جب اس کے باپ نے اپنے بیٹے کو پسینے میں شرابور دیکھا تو کہا بیٹا کچھ آرام کر لو۔ تھوڑی دیر میں سایہ ہوتا ہے تو کام پورا کر لینا۔ بیٹے نے باپ کو تسلی دی کہ مجھے گرمی نہیں لگ رہی اور بدستور کام میں جتا رہا۔ باپ کی روح کو سکون نہ ملا تو اس کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے پوتے کے ساتھ دھوپ میں کھیلنا شروع کر دیا۔ اب بیٹے کو فوراً اپنے بیٹے کی فکر ہوئی اور کہنے لگا ابا جان اس چھوٹے کو سائے میں لے جائیں، دھوپ تیز ہے۔ تب بوڑھے باپ نے کہا واہ اپنے بیٹے کے لیے دھوپ تیز ہے اور میرے بیٹے لے لیے گرمی کی پرواہ ہی نہیں۔
    ایک باپ ہی کل کے معمار تعمیر کرتا ہے اور ایسے باغ کی آبیاری کرتا ہے جس کا پھل شاید اسے خود کو میسر نہ آئے مگر وہ پوری تندہی سے اپنے کنبے کی پرورش کرتا ہے اور بغیر کسی صلہ کی خواہش کے اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔
    آئیے اب ہم جائزہ لیتے ہیں کہ بچے اپنے والد کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو والدین کا احترام اور ان کی فرمانبرداری نہایت ضروری ہے۔ جان لیں کہ والدین آپ کے خیرخواہ ہیں وہ ہمیشہ آپ کا بھلا ہی چاہیں گے۔ ان کے خواب آپ سے وابستہ ہیں اور وہ آپ کے روشن مستقبل کے لیے آپ سے زیادہ فکر مند ہیں ۔ انھوں نے اس وقت آپ کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا آغاز کیا جب آپ طفلِ ناداں اور نا سمجھ تھے۔
    والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور ان کی خواہشات کا احترام کریں۔ والدین سے مل کر خوشی کا اظہار کریں اور مسکرا کر ملیں۔ ان سے اپنے مسائل شئیر کریں، مشکلات میں ان سے رہنمائی لیں اور ان کو اپنا بہترین دوست سمجھیں۔
    والدین آپ سے اپنے لیے کچھ نہیں چاہتے وہ آپ سے جو بھی مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ ہی کی ذات کے لیے ہوتا ہے۔ آپ اپنے عمل سے صرف ان کا نام بنا سکتے ہیں اور برا بھی کر سکتے ہیں ۔ آپ کی اچھائی والدین کی نیک نامی اور آپ کی برائی والدین کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ مگر پھر بھی بہت سے نوجوان اپنے عمل کو اپنی ذاتی زندگی سے تعبیر کرتے ہیں جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے ۔
    آج کے دن بالخصوص اور پورا سال بھی ایسے افراد جن کے والدین اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں سوچتے ہیں کہ ان کو والدین سے حسن سلوک کا موقع میسر نہیں آیا اور وہ والدین کی کماحقہ خدمت نہیں کر سکے تو ان کو چاہیے کہ اپنے والد اور والدہ کے قریبی رشتہ داروں، ان کے دوستوں اور ان کے قریب العمر افراد سے حسن سلوک کریں ایسا کرنے پر ان کو والدین سے حسن سلوک جیسا ہی اجر عطا ہو گا اور دل کو راحت بھی ملے گی۔
    آج کے دن کا یہی پیغام ہے کہ والدین کی قدر کریں اور ان کا خیال رکھیں اور اگر وہ دنیا میں نہیں رہے تو ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں اور ان کے قریبی افراد سے ان جیسا ہی حسن سلوک کریں۔

  • رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    رشوت ستانی اور کرپشن ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    رزق حلال عین عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو حرام ذرائع سے رزق کمانے سے منع فرمایا ہے انسان کی قسمت میں لکھا رزق اس کو مل ہی جاتا ہے اب یہ اس پہ منحصر ہے کہ وہ جائز طریقے سے محنت و کاوش سے حاصل کرتا ہے یا پھر ناجائز طریقوں سے چوری ڈکیتی سود کرپشن یا رشوت خوری سے حاصل کرتا ہے..

    رشوت خوری معاشرے کے لیے ناسور بنتا جا رہا ہے آپ جس ڈیپارٹمنٹ میں چلے جائیں آپ کا کام تبھی ہو گا جب آپ سے تحفے تحائف اور انعام کے نام پہ رشوت نہ لے لی جاۓ ورنہ آپ کا کام پڑا رہے گا اور کسی صورت بھی آپ کی فائل وغیرہ آگے نہیں جاۓ گی.

    رشوت انسانی معاشرے کے لیے خطرناک اور مہلک مرض ہے. جس معاشرے میں رشوت عام ہو جاۓ اس معاشرے میں حق و سچ کا خون ہو جاتا ہے اور باطل ہمیشہ رشوت کی آڑ میں بدمعاشی کرتے ہوۓ دندناتا پھرتا ہے جس کی وجہ سے انصاف سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور کئی لوگوں کی بغاوت کا باعث بن جاتا ہے.

    رشوت کے کئی نقصانات ہیں مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے آپ کا اخلاق پستی کے دہانے پہ چلا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کی کوئی عزت نہیں رہتی اور نہ ہی اس آفیسر میں کسی قسم کا رعب ہوتا ہے نہ دبدبہ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بھیک مانگنے والوں کی طرح سب کے آگے ہاتھ پھیلانا ہوتا ہے تو وہ سر اٹھا کے کیسے چل سکتا ہے اور کیسے انصاف دے سکتا ہے وہ حاکم ہو یا محکوم پولیس والا ہو یا ملزم جج ہو یا وکیل پھر سب ہی غرباء اور ایمانداروں کے دشمن بن جاتے ہیں۔

    رشوت لینے والا پیسوں اور سٹیٹس کا پجاری بن جاتا ہے اور یہ چیز اس کی فطرت میں شامل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ اسے برا سمجھنے کی بجاۓ اپنا حق سمجھنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اصول و قوانین کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوۓ اللہ تعالیٰ کا باغی بن جاتا ہے اور دنیا کی رعنائیوں میں مگن ہو جاتا ہے.

    حرام کمانے اور حرام کھانے والوں کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے نہ کوئی صدقہ خیرات اور نہ ہی کوئی نیکی قابل قبول ہے نہ ہی اس کی کوئی دعا سنی جاتی کیونکہ جس بندے کا کھانا لباس اوڑھنا بچھونا اور رگ رگ حرام کی کمائی سے تر ہے تو اس کا نہ عمرہ قبول ہے نہ حج نہ نماز نہ زکوۃ یہاں تک کہ وہ خانہ کعبہ کے غلاف تک کو پکڑ کے دعائیں مانگے میرا اللہ اس کو بھی ٹھکرا دیتا ہے کیونکہ اس کے احکامات کو پس پشت ڈال کر حرام کے پیسے کو گھر کی زینت بنا کر اسی رب سے دعا کرو گے تو وہ واپس ہی پلٹے گی کیونکہ حرام کمائی سے صدقہ کرنا کپڑے کو پیشاب سے دھو کے پاک کرنے کے مترادف ہے۔

    رشوت کے نام پہ تحفے تحائف دیے جاتے ہیں اور رشوت لینے والے نے اب یہ جواز ڈھونڈ لیا ہے کہ یہ رشوت نہیں ہے یہ تو گفٹ ہے اور اس کا کوئی گناہ نہیں لیکن میرا ان سے یہ سوال ہے کہ اگر آپ کسی جگہ پہ پولیس آفیسر تعینات ہوۓ ہیں اور لوگ آپ کو گفٹ دیتے ہیں تو کیا جب وہ اپنا ناجائز کام لے کر آئیں گے تو آپ اس کو ذلیل کرکے دھکے دے کے آفس سے نکالیں گے؟
    کیا گفٹ آپ کی ڈیوٹی میں رکاوٹ نہیں بنیں گے؟؟
    کیونکہ گفٹ وہی دیتے ہیں جنہوں نے اپنے کام نکلوانے ہوتے ہیں کوئی بھی ایماندار اور حلال رزق کمانے والا بندہ پولیس کو کبھی بھی گفٹ نہیں دیتا صرف وہی دیتے ہیں جو کرپٹ ہوں اور جن کو آۓ روز آپ سے کام پڑنے ہوں.
    اب آپ ہی بتائیں کیا ایک ایماندار آفیسر گفٹ لیتا ہے؟
    ہرگز نہیں کیونکہ ایسا گفٹ بھی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔
    رشوت ستانی دو جہاں مالِ ناحق کھانے کا ذریعہ ہے وہیں میرٹ کا بھی خاتمہ کر کے رکھ دیتی ہے اور اہل کو اس کے حق سے محروم کرنے کا باعث بنتی ہے۔

    قرآن مجید میں رشوت لینے والے کے لیے سخت وعید ہے اللہ پاک فرماتے ہیں.
    (اے پیغمبر) یہ لوگ جھوٹ سننے والے اور حرام مال (رشوت) کھانے والے ہیں.
    دوسری جگہ فرماتے ہیں
    اور ان میں سے تم بہت سوں کو دیکھو گے کہ گناہ و زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک یہ بہت برے کام کرتے ہیں۔
    (سورۃ المائدہ آیت نمبر 62)

    اللہ نے رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور دونوں کا ٹھکانا جہنم بنایا ہے.
    رشوت کی مختلف اقسام ہیں جیسا کہ میں نے اوپر بھی ذکر کیا ہے مثال کے طور پہ حق کو باطل کرنے اور باطل کو حق ثابت کرنے کے لیے پیسوں کا لین دین کرنا ظلم و جبر کا دفاع کرنے کے لیے رشوت دینا کسی منصب پہ فائز ہونے کے لیے پیسے وغیرہ دینااور یہ مختلف صورتوں میں لی جاتی ہے نقد رقوم کی صورت میں تحفے تحائف کی صورت میں اور کبھی دعوتوں کی صورت میں.. غرض کہ رشوت جس صورت میں بھی لی یا دی جاۓ وہ اسلام میں سراسر غلط اور ناجائز ہے اور یہ جہنم کی طرف لے جاتی ہے..

    ہمیں چاہیے کہ معاشرے کے اس ناسور سے چھٹکارہ حاصل کریں اور اپنی نسلوں کو بھی حرام کمائی سے محفوظ رکھتے ہوۓ ان کی تربیت پہ زور دیں نہیں تو یہ حرام مال سے جوان ہونے والی اولادیں بھی والدین کے لیے دنیا و آخرت میں عذاب بن جائیں گی اور آپ کے لیے آگ کا ایندھن ثابت ہوں گی اللہ سے رزق کی فراوانی کی بجاۓ اس رب سے رزق میں برکت طلب کریں اور اس پہ کامل بھروسہ کرتے ہوۓ حلال رزق پہ ہی اکتفا کریں کیونکہ اگر آپ کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں تو رشوت سے توبہ تائب ہوں اور اللہ سے رجوع کریں کیونکہ وہ حرام مال کی وجہ سے آپ سے ناراض ہے اور آپ کی کوئی عبادت، صدقہ، خیرات، نماز، روزہ یا دعا بھی قبول نہیں ہو رہی۔
    اللہ ہمیں رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

    بدعت کا لفظ بدع سے لیا گیا ہے
    جس کا معنی ہے کسی چیز کا ایسے طریقہ پر ایجاد کرنا جس کی پہلی مثال نہ ہو۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (البقرہ ١١٧)
    وہ آسمانوں اور زمین کو نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہے

    ابن حجر عسقلانی نے فرمایا:
    بدعت کی اصل یہ ہے کہ اسے بغیر کسی سابقہ نمونہ کے ایجاد کیا گیا ہو۔

    شرعی اصطلاح میں بدعت کا حکم ہر اس اس فعل یا مفعول کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا وجود خود قرآن و سنت کی نص سے ثابت نہ ہو اور وہ قرآن و سنت کے بعد ظاہر ہو۔
    بدعت کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے کہ
    "وہ چیز جو دین میں سے نہ ہو،اس کو دین میں شامل کردینا”
    الجرجانی کہتے ہیں:
    کسی چیز کو اس طرح ایجاد کرنا کے اس سے پہلے نہ اس کا مادہ ہو نہ زمانہ ہو اور بدعت ہر وہ وہ کام ہے جو سنت کے مخالف ہو۔

    الراغب کہتے ہیں:
    ایساقول لانا جس کا کہنے والا اور کرنے والا اس کام میں صاحب شریعت کی پیروی نہیں کرتا یعنی صاحب شریعت کی سنت اختیار نہیں کرتا اور پہلی مثالوں اور مضبوط اصولوں کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔
    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
    "دین میں ایجاد کردہ نیا طریقہ جس پر عمل کرنے سے اجر و ثواب اور اللہ کا قرب حاصل کرنا مقصود ہو بدعت کہلاتا ہے”
    دین میں ہر بدعت حرام اور باعث گمراہی ہے۔
    بدعت کی دو اقسام ہیں
    1۔عقیدے میں بدعت مثلا جہمیہ ، معتزلہ ، رافضہ اور دیگر فرقوں کے باطل عقائد۔
    2۔ عبادات میں بدعت خود ساختہ اور غیر شرعی طریقوں سے اللہ کی عبادت کرنا مثلا نفس عبادت ہی بدعت ہو یعنی کوئی ایسی عبادت ایجاد کر لی جاۓ جس کی شریعت میں اصل نہ ہو مثلاً غیر شرعی نماز ، خود ساختہ روزہ وغیرہ۔

    شریعت کی مقرر کردہ عبادات میں زیادتی ہو جیسے ظہر یا عصر کی نماز میں پانچویں رکعت بڑھا دینا اپنے آپ میں اتنی سختی کرنا کہ وہ سنتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے تجاوز کر جاۓ مثلاً ہمیشہ روزہ رکھنا ، نکاح نہ کرنا پوری رات قیام کرنا وغیرہ۔
    وہ عبادت جسے شریعت نے کسی وقت کے ساتھ خاص نہ کیا ہو جیسے مسنون اذکار اور دعاؤں کو غیر ثابت شدہ طریقہ پر ادا کرنا۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ غلام ہو ، پس تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا تو تم پر میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو پکڑ لینا لازم ہے اور سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا بلکہ داڑھوں سے پکڑے رہنا اور (دین میں) نئی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

    عرباض رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "بدعات سے بچو”

    ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    ہر بدعت گمراہی ہے اگرچہ لوگ اسے نیکی سمجھیں۔

    بدعت سے بچنے کا طریقہ:
    کتاب وسنت پر مضبوطی سے جمے رہنے ہی سے بدعت و گمراہی میں پڑنے سے بچا جا سکتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ روایت میں ہے:
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں اور بائیں لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ بہت سارے راستے ہیں ان میں سے ہر ایک راستے پر شیطان ہے جو اپنی جانب بلا رہا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
    (ترجمہ) اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو جو تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں۔
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    سنت میں درمیانی چال ، بدعت میں کوشش کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔

    بدعت کے نقصانات
    حسّان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جو قوم اپنے دین میں نئی بدعت ایجاد کرتی ہے اللہ تعالی ان میں سے اس بدعت جیسی سنت کو اٹھا لیتا ہے اور پھر اسے دوبارہ ان لوگوں کے پاس قیامت تک نہیں لوٹاتا۔
    بدعت ہلاکت کا باعث ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ہر عمل میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کے بعد ایک وقفہ ہوتا ہے جس کا وقفہ اسے سنت کی طرف لے گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور جس کا وقفہ اسے کسی اور چیز کی طرف لے گیا تو وہ ہلاک ہو گیا۔

    بدعت حوضِ کوثر سے محرومی کا سبب ہے
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    بیشک میں تمہارے لئےحوض ِکوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے بچنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہاں سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں کہوں گا ایسا کیوں ہے تو کہا جائے گا کہ بے شک آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے جانے کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔
    تو میں کہوں گا دور ہو جاؤ۔

    بدعت سے توبہ کی توفیق نہیں ملتی
    انس رضی اللہ عنہ سے مرفوع نقل کیا گیا ہے:
    بے شک اللہ تعالی نے توبہ کو ہر بدعتی سے پردے میں رکھا ہے۔

    سفیان ثوری کہتے ہیں:
    بلاشبہ ابلیس کو گناہ سے زیادہ بدعت پسند ہے کیونکہ بدعت کے بعد توبہ نہیں کی جاتی جبکہ گناہ سے توبہ کی جاتی ہے۔

    بدعتیوں کی تردید ان کی نکیر اور ان کو مسلسل اس عمل سے منع کرتے رہنا ہی مطلوب ہے اس کی مثال صحابہ اور سلف صالحین کے طرز عمل سے ملتی ہے۔

    مزکورہ روایات واضح دلیل پیش کرتی ہیں کہ دین میں بدعت کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور بدعت سراسر گمراہی کیطرف لے جاتی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے کا سبب بنتی ہے۔

    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں بدعت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    وماعلینا الا البلاغ المبین۔