Baaghi TV

Category: بلاگ

  • دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    دو قومی نظریہ اور آزادی کی قدر و قیمت ۔۔۔ تحریر : سلیم اللہ صفدر

    تاریخ شاہد ہے کہ ملکوں کی جنگ ہفتوں نہیں مہینوں نہیں…. سالوں تک چلتی ہے. اور ہمارے وہ اسلاف جن کی کہانیاں ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں چاہے وہ محمد الفاتح ہوں، محمود غزنوی یا سلطان ایوبی … یہ تمام فاتحین جب بھی جنگ شروع کرتے تھے تو عمریں گزر جاتیں تھیں تب جا کر قسطنطنیہ، سومنات کے مندر، یروشلم( مسجد اقصی) جیسی فتوحات حاصل ہوتیں تھیں .

    اگر یہی فاتحین ایک وقت میں زیادہ دشمنوں سے لڑائی کریں تو کسی مخصوص علاقے کی فتح اور زیادہ دور چلی جائے.

    چلیں چھوڑیں میں ان کی بات نہیں کرتا جو پانچ وقت کی بجائے سات وقت (تہجد، اشراق ) کے نمازی تھے اور ان کا ایمان بہت ہی زیادہ… ہماری سوچ سے زیادہ مضبوط تھا. میں تو پاکستان اور پاک فوج کی بات کرتا ہوں جن میں پانچ وقت کے نمازی بھی مشکل سے ہوں گے . واللہ اعلم

    پاکستان نائن الیون سے لیکر گزشتہ سال تک حالت جنگ میں رہا. کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ تو کبھی تکفیریوں، خارجیوں کے خلاف. اس سال اسے کچھ سانس ملا تو اس نے چوروں کو اکٹھا کر کے احتساب شروع کر کے معیشت مضبوط کرنے کی کوشش کی …اور ساتھ ہی عالمی برادری سے تعلق مضبوط بنانے کے لیے اور اپنے آپ کو امن پسند و شریف ثابت کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں رہنے والے کشمیری مجاہدین کے ہاتھ روک دئیے.

    اسی دوران بھارت میں انتخابات ہوئے تو مودی نے یہ وعدہ دے کر ووٹ حاصل کیے کہ دوبارہ وزیر اعظم بن گیا تو میں کشمیر کے معاملے کو حل کر کے چھوڑوں گا. ایک طرف مجاہد محصور… دوسری طرف بھارتی حکومت آزاد….! اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کشمیر میں جارحانہ اقدام اٹھا لیا. جو لوگ بصیرت رکھتے تھے وہ پہلے ہی کہتے تھے کہ مودی نے کشمیر کے معاملے پر کوئی نہ کوئی فیصلہ کن کارنامہ سرانجام دے ہی دینا ہے. اور ایسے کارنامے مسلمانوں کے حق میں بہتر ہوا کرتے ہیں. (اگر مجاہدین کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ ہوتے تو بھی مودی حکومت یہی فیصلہ کرتی بھارتی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق )

    اب جب بھارتی حکومت نے کام کر ہی دیا تو پاکستان بھلا کیا کر سکتا تھا. ایک حل یہ تھا جس کا مطالبہ کیا جاتا رہا کہ مجاہدین آزاد کر دو کشمیر بھی آزاد ہو جائے گا لیکن اس صورت میں بات صرف کشمیر کی نہیں ایف اے ٹی ایف کی بھی تھی. مجاہدین آزاد کرنے کی صورت میں پاکستان عالمی برادری میں تنہا رہ جاتا. اور جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ فی الحال اتنا ایمان نہیں کہ صرف اللہ کی ذات پر یقین کر کے دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے لیے مجاہدین کو دوڑا دیا جاتا. اور اگر دوڑا دیا جاتا تو اس ایمان اور وسائل کے ساتھ مجاہدین جا کر مودی کی گردن تو اتار لیتے شاید… لیکن مودی کے تخت پر بیٹھ کر فیصلہ تبدیل کروانا ممکن نہیں تھا.

    پھر یہی فیصلہ کیا گیا کہ آخری حد تک جانا چاہیے اور آخری ممکنہ حد یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ساری دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر پیش کیا جائے… ساری دنیا سے پوچھا جائے کہ اگر کشمیر واقعی بھارت میں شامل ہونا چاہتا ہے تو دو دن سے نیٹ سروس کیوں بند ہے…. ساری دنیا کو دکھایا جائے کہ کشمیر کی گلیوں میں بھارت کا حصہ بن جانے کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں کہ ترنگے… اور اس کے بعد ساری دنیا کے سامنے کشمیر پر ہونے والے ظلم کی کہانی بیان کی جائے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ پہلے جو بھارت الزام لگاتا تھا کہ پاکستان نے آزاد کشمیر میں فریڈم فائیٹر بٹھا رکھے ہیں وہ الزام غلط ہے اور فریڈم فائیٹر نہ ہونے کے باوجود کشمیری پھر بھی دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں.

    کشمیر یقیناً پاکستان کی شاہ رگ ہے… اور اس کی سلامتی یقیناً پاکستان کی سلامتی ہے. بات یہ نہیں کہ شہہ رگ دشمن کے حوالے کر دی گئی… وہ تو پہلے ہی دشمن کے ہاتھوں میں تھی. بات یہ ہے کہ پہلے دشمن نے شہہ رگ دبوچی ہوئی تھی اب دشمن کہتا ہے کہ یہ شاہ رگ میری ہے تمہاری نہیں. اور اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم عالمی برادری کو سمجھائیں کہ یہ شہہ رگ ہماری ہے بھارت کی نہیں.

    اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت کی انتہائی کوشش کے باوجود عالمی عدالت میں پاکستان پر کوئی الزام نہیں کہ وہ فریڈم فائٹر کو آگے لا رہا ہے. پاکستان عالمی برادری میں تنہا نہیں ہونا چاہتا اور ہر حد تک جانے کے لیے تیار بھی ہے. یعنی پاکستان اپنا سافٹ ایمیج سب کے سامنے رکھ کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ کشمیر میری خواہش ضرور ہے(دو قومی نظریہ کی وجہ سے ) لیکن میں زبردستی نہیں چھین رہا بلکہ شہہ رگ خود زور لگائے گی.

    جو احباب افغان مجاہدین کا موازنہ پاکستانی فوج یا پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ کر رہے ہیں ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ علاقائی و جغرافیائی موازنہ بھی کر لیں. افغانستان میں بیس کیمپس ، افغانیوں کے گھر اور میدان جنگ ایک ہی جگہ پر ہیں … اور بات مجاہدین کے لیے فائدہ مند ہے. کشمیر میں مجاہدین کے بیس کیمپ پہلےتو تھے نہیں اور اگر چند ایک تھے تو وہ بھی میدان جنگ سے انتہائی فاصلے پر. جو لوگ تحریک آزادی کے ساتھ تھوڑا بہت لگاؤ رکھتے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کشمیر میں بیس کیمپ سے میدان جنگ تک کا سفر کتنا طویل اور کتنا پرکٹھن ہے.

    اس کے علاوہ افغانیوں کا بچہ بچہ راکٹ لانچر، کلاشنکوف چلانے میں ماہر ہے لیکن کشمیری بھائیوں میں جرات و شجاعت کی اتنی اور ایسی زبردست لہر برہان وانی کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی جس نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیاتھا . بہر حال بیس کیمپ جو پہلے تھے اب نہیں رہے… تمام کشمیری قیادت جیل میں ہے. تو ایسی صورت میں افغانیوں سے کشمیریوں یا پاکستان کا موازنہ کرنا سراسر ناانصافی ہے

    اب آخری بات کہ پاکستان نے اس معاملے کو ستر سال تک کیوں لٹکائے رکھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اس لیے دنیا کے سامنے سٹینڈ نہیں لے سکا کیونکہ 1947 میں کشمیری مسلمان قیادت نے دوقومی نظریہ کو سائیڈ پر رکھ بھارت کا ساتھ دے دیا اور اسی وجہ سے اس وقت سے اب تک پاکستان دفاعی پوزیشن پر رہا . جب کشمیری حکومت خود انڈیا کے ساتھ ہو گئی تھی تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق پاکستان کی پوزیشن کمزور ہو گئی.

    لیکن دو قومی نظریہ کی بنیاد پر اس نے کشمیریوں کا ساتھ پھر بھی نہیں چھوڑا. اور کیسا اور کہاں کہاں ساتھ دیا اس کا جواب میں نہیں دے سکتا کشمیر کی گلیوں میں لہراتے پاکستان پرچم بتا سکتے ہیں. اب جب کہ تمام حریت قیادت(سب اس وقت جیل میں ہیں یعنی بھارت کے پے رول پر نہیں ) کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی بھی سمجھ چکی ہیں کہ عافیت دو قومی نظریہ میں ہی تھی تو پاکستان بھی اب مکمل طور پر سامنے آئے گا اور انہیں عافیت دینے کی مکمل کوشش کرے گا. اور اس بار اس کی لڑائی صرف بھارت سے ہو گی… نام نہاد مسلمانوں یا غداروں سے نہیں. اور دو قومی نظریہ ہی ان شا اللہ اس بار کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کرے گا.

    پاکستان اپنی شہہ رگ بچانے کے لیے محدود وسائل اور محدود ایمان کے ساتھ زور لگا رہا ہے اور لگاتا رہے گا لیکن شاہ رگ کس کی ہے اس کا فیصلہ شہہ رگ اب خود کرے گی… شاہ رگ سے بہتا ہوا خون کرے گا اور یہ فیصلہ کیا ہو گا یہ وقت بتائے گا. باقی جہاں تک بات ہے بھارت سے جنگ کر کے کشمیر فتح کرنے کی تو جتنی بار کوشش اور جتنا وقت ہمارے اسلاف نے کسی ایک ملک کو فتح کرنے میں لگایا… اتنا تو لگ ہی سکتا ہے. بس ذرا کشمیریوں کو سنبھلنے کا موقع دے دیں…. کہ یہ شہہ رگ اپنے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.

    فی الحال تو اس شہہ رگ کی طرف سے( چند بناوٹی وڈیوز اور پکچرز کے علاوہ) صرف ایک ہی کنفرم ٹویٹ سامنے آئی ہے.

    جب انٹرنیٹ سروس بحال ہو گی تب پتہ چلے گا کشمیر کی گلیوں اور شہداء کی قبروں پر کون سا پرچم لہرا رہا ہے. دور سے اور سالوں سے آزادی کے سبز باغ دکھانے والے پاکستان کا پرچم یا ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے کے بعد انہیں گھر، سہولیات اور وسائل مہیا کرنے کے وعدے دینے والا ہندوستانی ترنگا…. !

  • آرٹیکل 370 اور مسئلہ جموں و کشمیر ۔۔۔ تحریر: حافظ معظم

    جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت نے خطے کے امن کو ایک بار پھر داؤ پر لگا دیا ہے، بھارتی حکومت نے صدارتی آرڈیننس کے مقبوضہ کشمیر کی الگ خصوصی حیثیت کا حامل آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر اور لداخ آج سے بھارتی یونین کا حصہ تصور کیا جائے گا، آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادیاتی، جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہوجائے گی، مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسایا جائے گا. دراصل بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 ختم ہونے سے فلسطینیوں کی طرح کشمیری بھی بے گھر ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں غیر مسلم کشمیر میں آ کر آباد ہوجائیں گے، غیر مسلم آبادکار کشمیریوں کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے اور یوں مسلم اکثریتی تناسب اقلیتی تناسب میں تبدیل ہو کر رہ جائے گا.

    آرٹیکل 35 اے کی رو سے

    کوئی شخص صرف اسی صورت میں جموں کشمیر کا شہری مانا جا سکتا تھا اگر وہ یہاں پیدا ہوا ہوتا

    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں مستقل شہریت حاصل نہیں کر سکتا تھا
    کسی بھی دوسری ریاست کا شہری جموں و کشمیر میں ملازمت کا حقدار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا
    دراصل آرٹیکل 35 اے جموں و کشمیر کے عوام کی مستقل شہریت کی ضمانت تھا، بھارت نے اسے منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی ریاست کے درجے کو ختم کر دیا ہے، آرٹیکل 370 کی وجہ سے صرف تین ہی معاملات بھارت کی مرکزی حکومت کے کنٹرول میں آتے تھے.
    جن میں
    سیکیورٹی
    خارجہ امور
    کرنسی شامل ہیں،

    آرٹیکل 370 کے تحت ان اختیارات کے علاوہ باقی تمام اختیارات جموں و کشمیر حکومت کے کنٹرول میں تھے. اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے بھارت آرٹیکل 370 کی منسوخی کے زریعے کشمیریوں کے جداگانہ تشخص کو ختم کر کے اس متنازعہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو لا کر بسانا چاہتا ہے تاکہ وہ جموں و کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کر سکے.
    جہاں ایک طرف آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارت اس علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے جا رہا ہے وہیں دوسری طرف اقوام متحدہ کی جموں و کشمیر کے حوالے سے قراردادیں اپنی رہی سہی اہمیت بھی گنوا چکی ہیں جن کے مطابق جموں کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا تھا اور بھارت نے یو این میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دے گا لیکن افسوس یہ قراردادیں صرف فائلوں کی حد تک ہی محدود رہیں.
    قائد اعظم کے فرمان کے مطابق "کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے” آج بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتا ہوا جموں و کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو قانونی حیثیت دینے جا رہا ہے ایسے وقت میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کشمیر کاز کو بچانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرے، امریکہ سمیت عالمی دنیا سے کسی اچھے کی امید رکھنا احمقانہ سوچ ہو گی، ہمیں کشمیر کاز کو بچانے کے لیے جو بھی کرنا ہو گا خود کرنا ہو گا، کشمیری گزشتہ 7 دہائیوں سے پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑ رہے، وہ اپنا سب کچھ پاکستان پر قربان کر چکے ہیں آج ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ہم زبانی دعووں کی بجائے عملی اقدام اٹھائیں اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق حل کروانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں.

  • مڈل پاس اساتذہ کس ملک میں ؟ خبر نے سب کو حیران کردیا

    مڈل پاس اساتذہ کس ملک میں ؟ خبر نے سب کو حیران کردیا

    لاہور : پاکستان میں ایک طرف اساتذہ کی بھرتی کا معیار کم از کم بی اے اور دوسری طرف مڈل پاس اساتذہ کی طرف سے سکولوں میں تعیناتی کی خبرنے یقینا سب کو حیران کردیا ہو گا. یہ اساتذہ پنجاب میں پڑھاتے ہیں. اطلاعات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پارٹنر سکولوں میں مڈل پاس اساتذہ کی تقرریوں کا انکشاف، پیف کی جانب سے پارٹنر سکولوں کو میٹرک اور مڈل پاس اساتذہ کو فارغ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔اس ضمن میں پیف نے 2 اگست کو پارٹنر سکولوں کے مالکان کے نام مراسلہ بھی جاری کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پارٹنر سکولوں میں مڈل پاس اساتذہ کی تقرریوں کا انکشاف ہوا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور سمیت صوبے بھر کے پارٹنر سکولوں میں 8 جماعت پاس افراد کی بطور استاد تقرریاں کی گئی ہیں۔ مڈل پاس اساتذہ کی تقرریوں کے باعث پارٹنر سکولوں میں کوالٹی آف ایجوکیشن گرنے لگی ہے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے مڈل پاس افراد کی بطور استاد تقرری کا اعتراف کر لیا ہے،

    پیف کےذرایع کے مطابق پیف پارٹنر سکولوں میں اساتذہ کی تعلیمی قابلیت کم از کم انٹرمیڈیٹ مقرر کر دی گئی ہے جبکہ میٹرک پاس افراد پر پڑھانے پر پاپندی عائد کر دی گئی ہے، پیف نے پارٹنر سکولون کو انٹرمیڈیٹ سے کم تعلیم یافتہ افراد کو استاد تعینات کرنے پر کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ مطلوبہ تعلیم کے اساتذہ کی تقرری نہ کرنے پر پارٹنر سکولوں کہ رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے،

  • پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ سترھویں صدی کے عظیم روسی سربراہ مملکت گزرے ہیں۔ آپ نے روس کو جدید خطوط پر یورپ کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ پیٹر دی گریٹ سے پہلے روس ہر لحاظ سے یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا۔ مذہبی طبقہ نے اقتدار کی ایوانوں میں پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ علاقائی "ارباب” کی بدمعاشی قائم تھی۔ تاجر طبقے نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ملک داخلی اور خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار تھا۔ ان حالات میں پیٹر دی گریٹ نے عقلمندی اور شعور سے کام لیتے ہوئے ملک میں اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ کسی بھی ملک میں اصلاحات کے لیے مضبوط فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر فوج کمزور ہو تو اصلاحات ایک خواب رہ جاتی ہے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کمزور فوج کی وجہ سے اصلاحات کا عمل ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پیٹر دی گریٹ نے سب سے پہلے فوج کو مضبوط اور ہمنوا کیا۔ تاکہ اصلاحات کے عمل میں کوئی خلل نہ پڑے۔ مضبوط فوج کی موجودگی میں پیٹر ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات لانے کے عمل میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ آپ نے پہلی بار روس میں اخبار شروع کیا۔کیونکہ کسی نظریے اور اصلاحات کی ترویج کے لیے اخبار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ روسی کلچر کو پروموٹ کیا۔ تعلیمی اصلاحات نافذ کیں۔ جدید خطوط پر نظام تعلیم کو استوار کیا۔ سائنس کو اہمیت دی۔ معاشی نظام کو بہتر کیا۔ تاجروں پر ٹیکس لگایا۔ مذہبی طبقہ کو محدود کیا۔غریبوں کے لیے وظائف مقرر کیے۔ پیٹر برگ کے نام سے جدید شہر آباد کیا۔ جس کو بعد میں دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی اور طرز تعمیر سے جدیدیت کا بے نظیر نمونہ پیش کر رہا ہے۔ پیٹر دی گریٹ نے مختصر عرصے میں اصلاحات کی بدولت پسماندہ ترین روس کو یورپ کا جدید ترین ملک بنا دیا۔ کسی ملک میں اصلاحات اور تبدیلی کے لیے مضبوط فوج، باعمل حکمران اور سوچ و جذبہ کار فرما ہونا بہت ضروری اور لازمی ہے۔

  • کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    کشمیر کے موجودہ حالات اور حکومت پاکستان ۔۔۔ ازقلم: ڈاکٹر ماریہ نقاش

    آزادی کا متوالا اب خود ہی قید کیوں؟؟؟؟؟
    سر سبز و شاداب کشمیر اب سرخ ولال کیوں؟؟؟؟

    ایک مشترکہ سوال جو ہم سب کے ذہنوں میں ہے کہ….!!!!
    کشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے؟؟

    اپنی اس تحریر میں…میں حالات و واقعات کی روشنی میں اپنا نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کروں گی…جس سے یقیناً آپ سب اتفاق کریں گے….
    اگر کبھی آپ کو اتفاق ہوا ہو کشمیر کی وادیوں کو بذات خود اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھنے کا….یا کبھی تصاویر میں کشمیر کا حسن دیکھا ہو تو…آپکی آنکھیں ضرور گواہی دیں گی…
    اس سر سبزو شاداب خطے کی دلکشی کی….
    وہاں کی شفاف فضاء کی…
    فر فر بہتے سفیدوسبز پانی کے دریائوں کی….
    اور قدرت کے خوبصورت رنگوں کی چمک کی….
    جو ہمیں یہاںدیکھنے کو میسر نہیں ….بڑی سے بڑی پینٹ کمپنی اپنے رنگوں میں وہ چمک اور دلکشی پیدا نہیں کر سکتی جو وہاں کے سر سبز خطوں میں ہے….
    لیکن یہ کیا….؟؟؟

    وہ خوبصورت رنگ مدھم کیوں پڑتے جا رہے ہیں…؟؟؟

    وہ خاموش پر سکون فضائیں چیخ وپکار سے کیوں گونج رہی ہیں…؟؟؟

    بہتے دریا کا سفید پانی اب سرخی مائل کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟

    سر سبز کشمیر اب اپنی پہچان کھو کر سرخ و لال کیوں ہوتا جا رہا ہے…؟؟؟

    پرندوں کی میٹھی بولیوں کی جگہ مائوں کی دلدوز چیخیں کیوں سنائی دیتی ہیں؟؟؟

    بچوں کی کلکاریوں کی جگہ دہشت زدہ سہمی ہوئی گھٹی گھٹی آوازیں کیوں سماعت کو چیرتی ہیں؟؟؟؟

    نوجوان بچے اور بچیوں کی سکول و کالج جاتے ہوۓ ہنسی اور قہقوں کی آوازیں کہاں کھو گئ ہیں؟؟؟

    بڑی بوڑھوں کی لاٹھی کی ٹک ٹک (جو اپنے آس پاس والوں کو متوجہ کر کے احساس دلاتی تھی کہ بزرگ جا رہا ہے عزت سے سلام کیا جاۓ) وہ آواز وہ ٹک ٹک کس خوف سےخاموش ہو گئ ہے؟؟؟؟؟؟

    زندگی کتنی حسین ہے…
    اسکا مزہ لینے کی بجاۓ وہ لوگ ہر سانس اک قرض کی طرح کیوں لے رہے ہیں…؟؟؟

    زندگی کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کی بجاۓ وہ زندگی جیسی نعمت سے ہی محروم کیوں ہو رہے ہیں…؟؟؟

    وقت جو پر لگا کر گزر جاتا ہے…
    یہی وقت وہاں لمحوں کی قید سے آزاد نہیں ہوتا….لمحہ لمحہ سال کی طرح کیوں ہو گیا…؟؟؟ہم پاکستانی گرمی کی شدت سے پسینہ میں شرابور ہو کر شکایت کرنے لگتے ہیں….

    وہاں…کشمیری بچے اپنے ہی خون میں غوطہ زن ہو کر بھی والدین سےکیوں شکایت نہیں کرتے….؟؟؟

    آج یہاں ہماری اولاد میں سے کسی ایک کو بھی کوئ باہر کا بچہ پتھر مار دے تو ہم پورے طیش سے اسکے گھر جھگڑنے چلے جاتے ہیں….

    وہاں اولادیں قتل ہو رہی ہیں والدین حرف شکایت لبوں میں دبائے..سسکیوں اور آہوں کے درمیان رب تعالی سے زیر لب دعا گو کیوں ہیں… ؟؟؟

    نظریں دور کہیں افک پر ٹکی ہوئ ہیں….کہ کب کوئ قاسم …حافظ سعید بن کر آۓ اور اس ظلم کی زنجیر کی اک اک کڑی کو اپنی ایمانی طاقت و قوت سے توڑ ڈالے….

    آج یہاں والدین بیماری سے لڑتے ہیں….یہ سوچ کر کہ ہمارے بعد یہاں ہمارے بچوں کی نگہداشت کرنے والا کون ہو گا…؟؟؟

    وہاں والدین بچوں کی نگہداشت کرنے سے پہلے ہی شہیدکیوں کیے جا رہے ہیں…؟؟؟

    لکن ان معصوم بچوں کی امید بھری نگاہیں اب بھی بارڈر کے اس پار اس منظر کو دیکھنے کیلیے ٹکی ہوئی ہیں….

    کہ کب کوئی حافظ سعید کا سپاہی…سیف اللہ کی تلوار ہاتھ میں تھامے ایمان و قوت …شجاعت و حوصلے کے گھوڑے پر سوار ہو کر آۓ اور ظلم و جبر کی اس دنیا کا سر قلم کر دے….اور قید کے اندھیرے سے نکال کر آزادی اور ایمان کی روشنی میں لے آۓ….
    یہ ظلم کے اندھیرے کشمیر کی وادی پر کیوں چھا گئے ہیں…؟؟ میں بتاتی ہوں….

    انڈین 10 ہزار فوجی کشمیر مین ظلم و ستم کیلیے کیوں بھیجے گۓ….؟؟

    میں بتاتی ہوں…
    28 ہزار انڈین فوجی مقبوضہ وادی میں کیوں اتارے گۓ…؟؟؟
    میں بتاتی ہوں…
    قارئین کرام ….!!!

    وجہ بہت واضح اور صاف ہے…..
    جب کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرہ پر عملی طور پر کام کرنے والے دین کے ترجمان …حافظ سعید کو نظر بند کر دیا جاۓ گا…..
    تو یہی ہو گا نہ…؟؟
    جب اجلاس اور تقاریر میں چیخ چیخ کر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا احساس اجاگر کرنے والے حافظ سعید کی آواز کو زندان میں دبا دیا جاۓ گا۔
    ….تو پھر ایسا ہی ہو گا نہ….؟؟؟
    کشمیریوں کو جانے والی ہر وہ مدد جو حافظ سعید کے سپاہیوں کی شکل میں ان کو میسر تھی….ہمارے پاکستانی حکمرانوں کے فیصلے کی بھینٹ چڑھ کر ہر مدد ہر کاوش سلاخوں کے پیچھے قید ہو کر رہ گئ ہو تو ….

    ایسا تو ہونا ہی تھا نا…؟؟؟
    انڈین فوج سے لے کر انڈین حکمران تک جس آواز سے لرزتے تھے…وہ آواز دبا دی گئ ہو …
    تو ایسا تو ہوناہی تھا نا…؟؟
    جو وجود انڈیا اور کشمیر کے درمیان ظلم کے خلاف اک دیوار بن کے کھڑا تھا….وہ وجود ہی ہٹا دیا جاۓ …..
    تو بتاؤ کیا یہ نہیں ہونا تھا…؟؟؟
    اب تک انڈین فوج کے ہاتھ جس زنجیر سے بندھے تھے….وہ حافظ سعید اور انکے ساتھی ہی تو تھے…..
    اب تک جس للکار سے خوف کھا کر وہ بلوں میں چھپے بیٹھے تھے…وہ للکار حافظ سعید کی ہی تو تھی….
    اب تک انڈیا کے مذہبی رہنما ان کے مذہب سے متعلق سب سے بڑا خطرہ جس ذات کو بتاتے تھے …وہ نام وہ ذات حافظ سعید ہی تو تھے….

    مگر افسوس…!!! صد افسوس…!!!پاکستان کی اس پالیسی اور پاکستانی حکمرانوں کے اس فیصلے پر افسوس ہی تو کر سکتے ہیں…
    حکام اعلی …..!!!!سوچو ذرا….!!!اپنے کیے ہوۓ فیصلے پر نظر ثانی کرو کہ کہیں….
    کشمیر پر آنے والے اس ظلم کے عذاب کی وجہ ..تمہارا حافظ سعید کو گرفتار کرنے والا گناہ تو نہیں…؟؟؟؟

    کہیں حافظ صاحب کو گرفتار کر کے تم نے انڈیا کی کشمیر کو کچلنے اور اس زمین کو اپنا بنانے کی راہیں ہموار تو نہین کر دیں…؟؟؟

    ظلم و جبر کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوۓ سمندر میں اب بھی ایک کشتی اس طوفانی ظلم کا سامنا کر کے کشمیر کو اس طوفان سے بچا سکتی ہے….

    اس کشتی کو زنجیروں سے آزاد کر کے تو دیکھو….!!!
    کہیں دیر نہ ہو جاۓ….

    اس سے پہلے کہ اس طوفان کی لہریں کشمیر کے ہر مسلمان گھر کو نگل لیں…تم حافظ سعید کو رہا کر دو….

    اتنی جانوں کا نقصان تم اپنے سر نہیں لے سکتے…پاکستانی حکمرانو اب بھی وقت ہے اپنی پالیسی کو بدلو…اپنے فیصلے کو مسترد کرو…کایا پلٹ سکتی ہے… بس حافظ صاحب کو رہا کرنے کی دیر ہے..

    سر سبز کشمیر اب سرخ و لال ہو رہا ہے….
    اے حافظ سعید تو کب آزاد ہو رہا ہے…
    کشمیر کا ہر باشندہ تجھے ہی پکار رہاہے….
    توڑ کہ غلط فہمیوں کا پھندہ تو کب رہا ہو رہا ہے….

  • ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    گزشتہ روز سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن محترم کنور دلشاد صاحب نے بلدیاتی انتخابات اور اصلاحات کے موضوع پر خوبصورت سیمنار کا انعقاد ایک پنج تارہ ریستوران میں کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور تھے۔ تقریب میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی تھیں۔اج ایک عرصے کے بعد ڈاکٹر مجاہد منصوری سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر مجاھد منصوری ہمارے نفاذ اردو کے بالکل ابتدائی رہنماؤں میں سے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ نفاذ اردو کی کوششوں کے حوالے سے ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نےہمیں کہا کہ دور جدید کی بہت سی اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے انہیں بتایا کہ ہماری تحریک کے مخلص ساتھی پروفیسر جمیل بھٹی ‘ شاہد ستار شبلی اور پروفیسر اشتیاق احمد اس پر اپنے محدود وسائل کے باوجود سائنس’ معاشیات’ ادب اور کمپیوٹر کی اصطلاحات کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ تقریب میں تحریک انصاف کی ترجمان سیماں انوار’ قیوم نظامی’ سلمان عابد’ عظمی ‘ امریکہ میں مقیم سائنسدان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر خان ‘ تحریک انصاف کے سپورٹس کے چئیر مین میاں جاوید’ وائس چیئرمین انعام الحق سلیم’ خلیل خان نورزئی’ کاشف سجن’ عبداللہ اعوان’ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے اپنے خطاب میں گورنر صاحب کی توجہ عدالت عظمیٰ کےنفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد پر کروائی۔ ہم نے کہا کہ آپ کی حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں آئی ہے’ آپ ایک عرصہ تک بیرون ملک مقیم رہے ہیں آپ بتائیے کہ دنیا کے کتنے ممالک میں یہ فراڈ ہورہا ہے کہ اراکین اسمبلی جلسے جلوس تو اپنی زبان میں کریں جب رکن اسمبلی بن جائیں تو اس اسمبلی کی کار روائی اپنے آقاؤں کی زبان میں کریں۔کیادنیا کے کسی ملک میں کسی غلامی کی زبان میں کار روائی کا سوچا بھی جاسکتا ہے؟ ہمیں بہت خوشی ہے کہ گورنر پنجاب نے نہ صرف ہمارے خیالات کی تائید و توصیف کی بلکہ انہوں نے اپنی انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر کو ایک طرف رکھ دیا۔ کچھ اردو اور پنجابی میں خطاب کیا۔ اپ نےکہا کہ ” اردو دے نال اپنی مادری زبان پنجابی وچ گال کرن دا سواد ای کچھ اور اے” گورنر صاحب نے ساری تقریر فی البدیہہ اور کھلے ڈھلے انداز اور خیالات کی روانی جوش و جذبے کے ساتھ کی۔ یہ فرق ہوتا ہے غلامی کی زبان میں اور اپنی زبان میں بات کرنے کا۔ غلامی کی زبان میں انسان صرف محدود الفاظ کے ساتھ بےتاثرچہرے سے کٹھ پتلی کی مانند بات کرتا ہے۔ حاضرین نے گورنر کے اردو خطاب کو بے حد سراہا۔کنور دلشاد بیورو کریٹ ہیں۔ پہلے وہ اپنا پیغام ہمیشہ انگریزی میں لکھتے تھے ۔لیکن یہ بات انتہائی لائق تحسین ہے کہ اس تقریب کا دعوت نامہ انہوں نے اردو میں بھیجا۔انہوں نے ہمیں مذید بتایا کہ ایک پروگرام ہورہا ہے جس میں تمام مقررین انگریزی میں خطاب کریں گے "میں نے ان سے پیشگی ہی معذرت کرلی ہے کہ میں تقریب میں اردو ہی میں خطاب کرونگا” ہم بھی محترم کنور دلشاد صاحب کو ان کے اس احساس خودی سے بھرپور اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور ہم تہہ دل سے ان کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ان کی بدولت ہمیں گورنر کو اپنانفاذ اردو مشن پیغام دینے کا موقع ملا۔

  • ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ایک مسیحا چاہیے، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوام ۔۔۔ تحریر : رفیع شاکر

    ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عدالتی نظام انصاف اور پولیس میں بہت زیادہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے ۔ جہاں پر ایک ملزم ۔! جی ہاں ایک ملزم جس پر صرف کوئی الزام ہوتا ہے جبکہ وہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا ہوتا ہے مگر اس انسان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ انسان اور انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہوتی ہے ۔ جس کو ذلیل رسوا خوار کر کر کے 1 سال سے 20 سال کے بعد بے گناہ لکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے مگر اس کی وہ جو تذلیل ہوتی ہے جو اس کی عزت کا جنازہ اٹھتا ہے اس کے بعد تو جیسے وہ مر ہی جاتا ہے اور ایک زندہ لاش بن جاتا ہے ۔ پہلے پہل تو پولیس کسی بھی سچے یا جھوٹے الزام میں کسی کو بھی ایک سادہ سی درخواست پر دھر لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی تو درخواست کی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے بس کسی کی فرمائش یا پولیس کی اپنی مرضی پر بھی منحصر ہوجاتا ہے اور اس انسان کو حوالات میں بند کردیا جاتا ہے ۔

    حوالاتوں میں جو ماحول ہے وہاں جانور بھی رہنا گوارہ نا کریں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے ہر طرف بدبو کا راج کہیں بجلی نہیں ہوتی تو کہیں مچھر جو بھی شریف النفس انسان صرف کسی الزام میں ہی حوالات میں چلا جائے تو ساری زندگی اس حوالات کے گندے ماحول کا خیال اس کے ذہن سے نہیں جاتا ہے۔ پھر اس کے اس کی جو چھترول اور گندی گندی گالیوں سے خدمت کی جاتی ہے وہ بھی اس کے اندر کے انسان اور انسانیت کو مار دیتی ہیں جبکہ قیدیوں کی تربیت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے شائد کاغذوں میں ایسے منصوبے چلتے ہوں مگر عملی طور پر نظر نہیں آتے ہیں۔ تاکہ وہ اس جیل سے باہر نکلنے کے بعد اپنی اصلاح کرتے ہوئے اچھے شہری بن سکیں بلکہ وہاں پر ان کی شناسائی ایسے عادی مجرموں سے ہوجاتی ہے کہ پہلے مجرم نا ہونے یا چھوٹے موٹے ہونے کے بعد بڑے بڑے گروہوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

    اس کے بعد پولیس کا اس کو بے گناہ لکھنے کرنے کے لیے ( بے گناہ ہونے کے باوجود ) اس کو قرضے لے کر یا اپنی جمع پونجی لٹا کر ہی وہ عدالتی لمبے سسٹم سے گزر کر بے گناہ ہو پاتا ہے ۔ پھر اس کو جیل میں بھیج دیا جاتا ہے وہاں پر بھی اس کو ہر سہولت یا ضروریات زندگی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے ۔

    پھر وکیلوں کی باری آتی ہے تو وہ بھی اس کے مال و دولت پر اپنے دونوں ہاتھ اچھے سے صاف کرتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں کئی مہینے سال بلکہ زندگی لگ جاتی ہے اپنے آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود بے گناہ ثابت کرنے کے لیے ۔

    ہم نے اپنے نظام انصاف کو چھوڑ کر انگریزوں کے کالے قانون کو اپنے لیے نجات کا راستہ سمجھ لیا اور اپنے اسلامی نظام انصاف کو چھوڑ دیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اب اس نظام کو ختم کیوں نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے پولیس سے عدالت وکیل اور ان کے ساتھ وابستہ افراد کا روزگار چل رہا ہے اور سیاستدانوں کی سیاست بھی کامیابی کے ساتھ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

    جو حقیقت حال احوال خود ملزم یا الزام علیہ خود جواب دے سکتا ہے وہ کوئی بھی نہیں دے سکتا ہے مگر ہزاروں لاکھوں کی فیس ادا کرکے وکیل رکھنا ضروری ہے کیوں کیونکہ یہ ہمارا فرسودہ قانون ہے ۔؟

    بے گناہ ہونے کے باوجود پولیس کا اس کو پکڑنا پھر کیس بنا کر عدالتوں میں اس مظلوم کا اتنا ذلیل و خوار ہونا کیوں ۔؟

    دوسری طرف جس کے ساتھ واقعی کوئی ظلم زیادتی ہوتی ہے اس کو حصول انصاف کے لیے پہلے ایف آئی آر کروانا بہت مشکل ہے جب آیف آئی آر کے موجودہ کیس کی نوعیت کے مطابق وہ تفتیشی افسر کو رشوت نا دے یا کسی سیاسی بااثر شخصیت کا حکم یا اجازت نامہ لے کر نا آئے اس کی شنوائی نہیں ہوتی ہے ۔ پھر وکیل جج عدالتیں پیشیاں در پیشیاں چلتی رہتی ہیں مگر انصاف حاصل کرنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے

    بلکہ یہ کہنا بھی غلط نا ہوگا کہ انصاف خریدنے کے لیے زندگی لگ جاتی ہے کیونکہ جگہ جگہ پر رشوت دینی پڑتی ہے تو ایسے گھٹیا نظام انصاف کو آخر کیوں تبدیل نہیں کیا جاتا ہے ۔؟

    آخر کب تک اس ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کو فوری اور سستا انصاف مل پائے گا آخر ستر سالوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نظام کو بہتر کرنے میں کون رکاوٹ ہے ۔آخر انسانوں کو کب تک ذلیل و خوار کیا جاتا رہے گا ۔؟
    آخر وہ کون ہوگا جو عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کی مخلصانہ کوشش و عمل کرے گا اس قوم کو اب بھی کسی مسیحا کی تلاش ہے ۔ موجودہ سیاستدان تو صرف اپنے پروٹوکول اور ذاتی مفادات کے لیے گرداں نظر آتے ہیں چھوٹے چھوٹے کام کرکے بس عوام کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں مگر اس ملک اور قوم کو آج تک شائد کوئی مسیحا نہیں مل سکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں  تحریر: فہد شیروانی

    عیدالاضحی پر ریلیز ہونے والی پاکستانی فلمیں تحریر: فہد شیروانی

    پاکستانی فلم انڈسٹری پر عرصے سے طاری جمود آہستہ آہستہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریلیز ہونے والی فلمز نے اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بہت طویل عرصے کے بعد اس عیدالاضحی پر کئی پاکستانی فلمز نمائش کے لئے سینماز میں پیش کی جارہی ہیں۔ ان میں سے کئی فلمز میں پاکستانی نامور فلمسٹار اپنی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز پاکستانی فلم انڈسٹری کو مزید پروان چڑھانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کریں گی۔

    سپر سٹار:
    پاکستان فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی سپر سٹار ماہرہ خان کی ڈرامہ فلم "سپر سٹار” 12 اگست کو عید کے دن ہم فلمز کے بینر تلے شائقین فلم کے لئے سینماز میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔ پروڈیوسر مومنہ درید کی پروڈکشن میں بننے والی فلم کے مرکزی کرداروں میں ماہرہ خان، بلال اشرف، ندیم بیگ، جاوید شیخ، مرینہ خان، اسماء عباس، علیزے شاہ اور علی کاظمی اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئیں گے۔ عدنان شاہ ٹیپو، کبری خان، ہانیہ عامر، عثمان خالد بٹ، مانی، سائرہ شہروز، فہیم برنی اور وہاج علی نے فلم میں مہمان اداکار کا کردار ادا کیا ہے۔ ٹیلنٹڈ محمد احتشام الدین نے فلم کی ڈائریکشن کے فرائض سرانجام دئیے ہیں۔ علی اور مصطفی آفریدی کے قلم سے نکلے خوبصورت الفاظ نے اس فلم کی انفرادیت میں بھرپور اضافہ کیا ہے۔ "سپر سٹار” کا سکرین پلے اور میوزک اذان سمیع خان کی تخلیق ہے۔ "سپر سٹار” کا ٹریلر عنقریب ریلیز ہونے والی فلمز میں سب پر سبقت لے چکا ہے اور شائقین فلم کے ریلیز ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

    پرے ہٹ لو:
    پروڈیوسر شہریار منور اور عاصم رضا کی 12 اگست کو ریلیز ہونے والی فلم ” پرے ہٹ لو” میں پاکستان کے مایا ناز ڈائریکٹر عاصم رضا نے ہدایتکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ ARY فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس فلم میں نمایاں کردار ہر دلعزیز حنا دلپذیر، شہریار منور، مایا علی، ندیم بیگ، احمد علی بٹ اور فریحہ الطاف نے ادا کئے ہیں۔ عمران اسلم نے اس فلم کر تحریر کیا ہے جبکہ فلم کا میوزک اذان سمیع خان نے ترتیب دیا ہے۔ خوبصورت لوکیشنز پر فلمائی گئی اس فلم کے ٹریلر نے ابھی سے شائقین فلم کے دل موہ لئے ہیں ۔

    ہیر مان جا:
    اظفر جعفری کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم "ہیر مان جا” عیدالاضحی پر سینما گھروں کی زینت بننے جارہی ہے۔ جیو فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی اس رومانٹک کامیڈی فلم میں پاکستان کی حسین اداکارہ حریم فاروق، آمنہ شیخ، علی رحمان، سلیم معراج، عابد علی، اور فیضان شیخ نمایاں کردار ادا کرتے دکھائی دیں گے۔ فلم کو امان الحقی، عمران رضا کاظمی، حریم فاروق اور عارف لاکھانی نے پروڈیوس کیا ہے۔ اویس بلوچ کی عمدہ تحریر اور جملوں پر مشتمل "ہیر مان جا” کا ٹریلر اس وقت عوام کی بھرپور توجہ کا باعث بنا ہوا ہے۔

    پاکستان کی فلم انڈسڑی اور شائقین کی امیدیں ان فلموں سے وابستہ ہو چکی ہیں۔امید کی جارہی ہے کہ یہ فلمز شائقین فلمز کو دوبارہ سینما ہالز کا رخ کرنے پر مجبور کر دیں گی۔

  • پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    پاکستان نے کشمیریوں کیلئے دعاؤں کا پیغام بھجوایا ۔۔۔ وقاص احمد

    بھارتی راجیہ سبھا میں بی جے پی صدر /وزیر داخلہ امیت شاہ کی طرف ایک قرارداد پیش کی گئی جس کی حمایت میں125 ووٹ جبکہ مخالفت میں 61 ووٹوں کے ساتھ پاس کرکے سمری بھارتی صدر کو بھیج دی گئی جسے دستخط کرکے مقبوضہ وادی کشمیر میں آرٹیکل 35-A منسوح کرکے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت میں ضم اور کشمیر کا اسپیشل ریاستی سٹیٹس ختم کر دیا گیا،
    واضح رہے کہ بھارت اسرائیل کے نقش قدم پر چل کر اب وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کررہا ہے جہاں پہلے ہزاروں فوجی کالونیاں بناکر ہندووں پنڈتوں کو آباد کیا گیا،اب رہے سہے کشمیریوں کو ایل او سی کے آس پاس کے علاقوں میں دھکیل کر ان کو مہاجر یا اقلیت ظاہر کر کے کشمیر پر مستقل قبضہ مسلط کر لے گا،
    اور اس طرح ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مسئلہ کشمیر کو خاموش کر دیا جائے گا
    واضح رہے قرارداد پیش کرنیوالا وہی بدنام زمانہ امیت شاہ ہے جس نے الیکشن میں مودی سرکار کی کامیابی کیلئے کشمیر میں خودکش حملہ کروا کہ اپنے ہی چالیس فوجی جوانوں کی قربانی کا بکرا بنا دیا تھا، اس کے علاوہ تمام غیر قانونی کاموں مساجد پر حملے،مسلمان کا قتل ،دلتوں ،سکھوں کے مقدس مقامات پر قابض ہوکر مندروں میں تبدیل کرنے کیلئے حکومتی سطح پر بھی امیت شاہ کی خدمات لی جاتی ہیں،
    کشمیر کی صورتحال دن بہ دن مزید بگڑتی جارہی ہے ،شبیر شاہ کے علاوہ یسین ملک شدد علالت میں تہاڑ جیل میں قید ہیں،سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،آسیہ اندرابی سمیت تمام حریت لیڈر نظر بند ہے ،پوری وادی میں کرفیوں نافذ ہے،گزشتہ چار دن سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور رکھا ہوا،پیٹرول ادویات ،اشیأ ضروریات زندگی میں شدید قلت کا سامنا ہے اس صورتحال میں جہاں پاکستان کشمیریوں کا واحد وکیل اور سہارا سمجھا جاتاتھا اب یہ ایٹمی پاکستان سر سبز گرین پاکستان اور خطہ میں اکنامک ٹائیگر بننے کے خواب سجائے اپنی دھن میں مگن اپنے فارن منسٹر کو جلتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی مدد کے لیئے فریضہ حج پر بھیج کر وہاں سے کشمیریوں کیلئے خصوصی دعاؤں کا پیغام بھجوایا گیا ہے،

    کشمیریوں نے پاکستان پر ہونے والے بھارتی حملوں کو اپنے اوپر لیتے ہوئے پاکستان کی خاطر جان کی بازیاں لگا دی کشمیر اصل میں اپنی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں،اور انہیں یہ قربانیاں دینے میں ایک بار لغزش نہیں آئی،بلکہ وہ اسے اپنا مذ ہبی فریضہ سمجھتے ہوئے شھادت نوش کرتے ہیں،
    ایک دفعہ کشمیریوں کی مدد کیلئےبات گئ کہ جن کشمیریوں کے گھروں ،بستیوں اور باغات کو انڈین آرمی نے کیمکل ہتھیار استمعال کرتے ہوئے آگ لگا دی ان کی مدد کیلئے کچھ امداد پاکستان سے بجھی جائے،تو جب یہ پیغام کشمیریوں تک پہنچا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے امداد لینے سے انکار کر دیا کہ ہماری قربانی اللہ کی رضا کی خاطر ہے اور یہ امداد لینے سے دکھاوا اور لالچ سے ہماری قربانیاں رائیگاں نہ چلی جائیں،
    آرٹیکل 35-A کی منسوحی سے جہاں کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ گرائے گئےتو یہاں محب وطن پاکستانیوں میں شدید غم و غصہ ہے،
    جبکہ حکومت پاکستان اس معاملے میں مکمل طور پر بے حِس دکھائی دیتی ہے بیانات اور واضح پالیسی کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے
    جبکہ معتبر حلقوں میں یہ بازگشت جارہی ہے پاکستانی حکمرانوں کی مرضی کے بغیر انڈیا اتنا بڑا فیصلہ نہیں لے سکتا،اگر تو یہ بات درست تو عمران خان صاحب یہ آپ کی بیک چینل ڈپلومیسی کسی کشمیری اور پاکستانی کیلئے قابل قبول نہیں اورنہ ہی یہ پاکستان کے لئیے نیک شگون ثابت ہوگی،
    وزیر اعظم عمران خان صاحب ہمیں بھی سر سبز گرین پاکستان چاہیے مگر کشمیر کے بغیر نہیں ،
    شاہ محمود قریشی صاحب اللہ نے آپ کو حج کی سعادت نصیب فرمائی مگر کشمیر بھائیوں کیلئے تو مساجد میں نماز پر پابندی لگا دی گئی،
    آپ حج پہ دعا ضرور کریں مگر کشمیری بہنوں کی عزتیں کو تار تار ہونے سے بھی بچائیں،
    آرمی چیف صاحب آپ کور کمانڈ کانفرنس ضرور بلائیں مگر اعلامیہ نعرہ تکبیر ہونا چاہیے

  • کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

    کشمیر کا سودا نامنظور ۔۔۔ عشاء نعیم

    خان صاحب آپ کو ہم نے وطن سے غداروں، کرپٹ مافیہ کی صفائی اور تبدیلی کے لیے منتخب کیا ۔
    آپ نے ایک سالہ دور میں ہمیں سینکڑوں سالہ تجربہ کروا دیا ۔
    آپ نے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنوانے کی تجویز تو دی مگر گستاخ رسول آسیہ مسیح کو بری کر دیا گیا۔ ہم نے سنا کہ ثابت نہیں ہوا جو چار بار ثابت ہو چکا تھا آپ کے دور حکومت میں ایک دم ثبوت ختم ہو گئے ۔ہم نے سنا ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے اس حکومت کے خلاف بات نہیں کرنے دینی یہ وطن کو اوج ثریا تک پہنچادیں گے اس حکومت کے پاؤں مضبوط کرنے ہیں ورنہ ملک ٹوٹ جائے گا۔ ہم چپ ہو گئے ۔ ہم نے برداشت کیا
    آپ نے مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا۔جو صرف سوکھی روٹی کھاتا تھا وہ بھی اس کے ہاتھ سے چھین لی گئی۔کرائے دار سڑکوں پہ آ گئے ۔
    ہمیں کہا گیا برداشت کریں کچھ عرصہ بعد یہ سب ٹھیک ہو جائے گا یہی ملک کے مفاد میں ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    ہمارے ملک سے تیل و گیس کے ذخائر نکلے ۔آپ نے چودہ ارب لگا کر وہ کام ٹھپ کردیا ۔اور کہا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    حتی کہ آپ نے نیشنل ایکشن پلان کے نام پہ ملک کی محب وطن جماعت اور فلاحی تنظیم جو روز سینکڑوں لوگوں کو کھانا دیتی تھی ۔جو لوگوں کو کپڑے اور شیلٹر دیتی تھی جو عید پہ ترسے ہوئے لوگوں کو گوشت دیتی تھی جو ہر مصیبت میں سب سے پہلے پہنچتے تھے سیلاب، بارش، زلزلہ ہو یا کوئی مصیبت وہ پہنچتےتھے، بین کردی گئی۔
    کہا گیا یہی ملک کے حق میں بہتر ہے ۔
    ہم چپ ہوگئے
    ہم نے برداشت کیا
    حتی کہ
    اس محب وطن جماعت کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا اس اللہ کے شیر کو جو عالم کفر کے ظالموں کو للکارتا تھا جو کشمیر کے لئے بولتا تھا جو کشمیریوں کے دل کی دھڑکن تھا۔ اس کی گرفتاری بھی وطن کے نام پہ کی گئی ۔اور کہا گیا یہی وطن کے حق میں بہتر ہے
    ہم چپ رہے
    ہم نے برداشت کیا
    لیکن اب بات ہے ہماری شہہ رگ کی
    اب بات ہے ہماری اس سلامتی کی جس کے نام پہ ہم نے سب برداشت کیا ۔
    اب بات ہے ہمارے وطن کی ۔
    اب بات ہے ان محبان وطن کی جو اس وطن کے لئے ستر برس سے زائد عرصہ سے کٹ رہے ہیں ۔
    اب کشمیر کا سودا کیا تو مطلب پاکستان کا سودا کیا ۔
    ہمیں یہ سال کا امن نہیں چاہیے ۔کشمیر دے کر بھارت سے خشک سالی سے مرنے کا پلان کامیاب نہ ہوگا ۔
    نواز و بے نظیر جو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن تھے ان پر ریاست سے غداری کی باتیں عام ہوئیں تو عوام نے انھیں دلوں سے نکال دیا ۔آپ نے بھی کوئی غیر مقبول فیصلہ کر لیا تو قوم کا اعتماد کھو دیں گے۔ ریاستی خود مختاری اور سلامتی چیز ہی ایسی ہے جس پہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔