Baaghi TV

Category: بلاگ

  • صابر ابو مریم کا بلاگ   "اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور”

    صابر ابو مریم کا بلاگ "اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور”

    اسرائیل، مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور تحریر:صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
    یہ سنہ2000ء کی بات ہے کہ جب اٹھارہ سال کی مسلسل جدوجہد اور مزاحمت کے نتیجہ میں اسرائیل لبنان کی سرزمین سے اپنا قبضہ ختم کر کے فرار اختیار کر رہا تھا۔یہ فرار کسی معاہدے یا عالمی طاقتوں کی ضمانت کے نتیجہ میں ہر گز نہیں تھا بلکہ یہ فلسطین ولبنان مشترکہ جد وجہد آزادی کی جنگ لڑنے والے گوریلا مجاہدین کی مزاحمت کا ثمر تھا جو نہ صرف لبنان میں اسرائیلی قابض افواج کے خلاف جدوجہد کرتے تھے بلکہ موقع ملتے ہی سرحد کے دوسری طرف مقبوضہ فلسطین میں جا کر بھی مزاحمت کے جوہر دکھاتے تھے۔اس مزاحمت کی بہترین بات یہ تھی کہ اس میں جہاں مسلمانوں کے شیعہ و سنہ فرقہ کے نوجوان موجود تھے وہاں لبنان و فلسطین کے عیسائی اور دروز سمیت دیگر مذاہب و مسالک بھی شریک تھے جن میں لیلیٰ خالد، جارج حبش،سمیر قنطار اور بہت سے دیگر افراد تھے جنہوں نے تحریک آزادی فلسطین او رلبنان پر صہیونی افواج کے تسلط کے خلاف جدوجہد میں قربانیاں دیں، اسیر ہوئے بعد ازاں رہا ہوئے او ر پھر شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔سنہ2000ء میں جب اسرائیل لبنان سے اپنا تسلط ختم کر کے اس حال میں فرار ہوا کہ اپنا سارا فوجی ساز و سامان تک جنوبی لبنان کے علاقوں میں چھوڑ گیا۔اس عظیم الشا ن فتح کا جشن مناتے ہوئے اس وقت لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا تھا کہ’’خدا کی قسم! اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے“۔یہ خود اسرائیل سمیت دنیا میں اسرائیل کی حامی حکومتوں کے لئے پہلا موقع تھاکہ جب دنیا کے سامنے غاصب اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم مٹھی بھر جوانوں کی مزاحمت نے خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا اور دنیا کو بتا رہے تھے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔
    اسی طرح کا ایک موقع تاریخ میں سنہ2006ء میں دہرایا گیا جب اسرائیل نے اپنے دو قید کئے گئے فوجیوں کی بازیابی کے نام پر لبنان پر جنگ مسلط کر دی اور یہ جنگ امریکہ و اسرائیل کے اعلانات کے مطابق فقط ایک سے دو روز میں امریکہ اور اسرائیل کے طے کردہ مقاصد کے حصول پر ختم ہونا تھی، ان مقاصد میں سرفہرست حزب اللہ کی قید سے دو صہیونی فوجیوں کی بازیابی کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ کو مکمل طور پر نیست ونابود کرنا تھا تا کہ آئندہ حزب اللہ کا کوئی وجود باقی نہ رہے۔یہ جنگ امریکی واسرائیلی طے کردہ اہداف اور وقت سے کہیں آگے نکل گئی اور 33روز تک جاری رہنے کے بعد بالآخر اسرائیل خود گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گیا اور پسپائی کا فیصلہ کیا گیا یقینا اس فیصلہ میں اسرائیل کی ہزیمت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ان تمامشیطانی مغربی قوتو ں کی شکست تھی جو اسرائیل کی پشت پناہی میں مصروف تھیں۔ یہ وہ دوسرا موقع تھا کہ جب سید حسن نصر اللہ کی اس بات کو کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے کو خود صہیونی غاصب ریاست کے ماہرین اور فوجی جرنیلوں نے ادراک کیا اور دنیا نے بھی اس صداقت کو جانچ لیا۔
    اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کی متعدد مثالیں ان واقعا ت کے بعد غزہ اور مقبوضہ فلسطین میں بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہیں کہ مختلف اوقات میں فلسطین پر مسلط کی جانے والی یک طرف صہیونی جنگوں میں حماس کے مجاہدین کی پائیدار استقامت و مزاحمت نے نہ صرف حسن نصر اللہ کے اس قول کو صادق کر دکھایابلکہ اسرائیل کابھرم خاک میں ملا کر رکھ دیا۔
    گذشتہ دنوں جنوبی لبنان کے علاقوں میں اسرائیل کے خلاف حاصل ہونے والی حزب اللہ کی فتح کے عنوان سے سالانہ تقریب کا انعقاد ہوا اور یہ وہ علاقہ تھا کہ جہاں سنہ2006ء میں گھمسان کی لڑائی ہوئی تھی اور یہاں پرمنعقدہ عالی شان تقریب سے اسلامی مزاحمت کی تحریک حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا اور آغاز میں ہی دنیا کو باور کروادیا کہ آج اس علاقہ میں کہ جہاں اسرائیل قابض ہوا کرتا تھا لوگوں کے جم غفیر کا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ لبنان سمیت فلسطین کے لوگ اب غاصب صہیونی ریاست اسرائیل سے ڈرتے نہیں ہیں اور اب اسرائیل کا ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم کبھی سر اٹھا نہیں پائے گا کیونکہ فلسطین ولبنان سے شام و عراق تک اسلامی مزاحمت اس قدر مضبوط اور مستحکم ہو چکی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی جنگ کو اپنی مرضی کے نتائج پر موڑ سکتی ہے۔یہ ایک نعمت الہی ہے اور ا س میں نہ تو علاقے کے کسی عرب ممالک کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی سلامتی کونسل کی کسی قرار داد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔یہ سب اسلامی مزاحمت کے فرزندوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اس پرہمیں شکر ادا کرنا چاہئیے۔
    سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالی لیکن دو پہلو بہت اہم ہیں،پہلا یہ کہ سنہ2006ء میں ہونے والی جنگ میں اسرائیل فقط ایک دن کا حملہ کرنا چاہتا تھا اور اپنے طے کردہ اہداف کو حاصل کرنا چاہتا تھالیکن امریکہ نے اس کو اکسایا کہ جنگ کو جاری رکھا جائے۔اس کے بعد 33روز تک جنگ جاری رہنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو جب اپنی شکست کا مکمل یقین ہوگیا تو یہ بات جنگ بندی کا سبب بنی،اگر وہ مزید جنگ جاری رکھتے تو ان کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑتا اس لئے انہوں نے جنگ روک دی۔سید حسن نصر اللہ نے کسی عرب شخصیت کا نام لئے بغیر ایک واقعہ بیان کیا اور کہا کہ ایک عرب معروف شخصیت جنگ کے زمانے میں امریکہ گئی او ر جان بولٹن سے ملاقات کی، بولٹن نے کہا کیا کرنے آئے ہو؟اس نے کہا جنگ کو روکنا ہے تو بولٹن نے جواب دیا کہ یہ جنگ جاری رہے گی حزب اللہ کو ختم کرنا ہے۔لیکن آخری دنوں میں ایک اسرائیلی نمائندے نے عرب شخصیت کو آدھی رات کو کہا کہ جنگ روکنا ہے او پھر جان بولٹن نے بھی یہی کہا۔اس عرب شخصیت نے بولٹن سے پوچھا کہ کیا حزب اللہ کوختم کر دیا گیا ہے؟جان بولٹن نے کہا نہیں! اسرائیل میں دم نہیں ہے۔
    حسن نصر اللہ نے ایک مرتبہ پھر اپنی اسی بات کی طرف اشارہ کیا اور کہا جیسا کہ میں نے ماضی میں کہا تھا کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے تو یہ عقیدہ مزید پختہ ہو گیا ہے۔آج تیرہ سال گزرنے کے بعدبھی اسرائیل مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور یہ بات اسرائیل کے دل ودماغ میں بیٹھ چکی ہے۔آج پھر اسرائیل سے کہتا ہوں اگر کسی بھی طرح کی جنگ کرنے کی کوشش کی تو دنیا کے ٹی وی چینلز پر تمھاری تباہی کا تماشہ دکھایا جائے گا۔سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ غزہ ہمیشہ عزیز رہے گا اور ہم فلسطین کی حمایت اور اس کی آزادی کی جدوجہد سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے انہوں نے حالیہ دنوں غزہ میں ایک صہیونی فوجی کو گرفتار کرنے کی کوشش کو سراہا۔
    خلاصہ یہ ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ نے سنہ2000ء میں اور پھر گذشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل کو دئیے گئے خصوصی انٹر ویو میں اور پھر اب فتح کے جشن کی تقریب میں مسلسل اسرائیل کے وجود کو مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور کہاہے اور اس بات پر خود اسرائیلی فوج کے جرنل اور ماہرین اور محقق تحقیق میں ہیں اور پریشان کن حالت میں ہیں اور صہیونی فوجی جرنیلوں کا اعتراف جس میں وہ کہتے ہیں کہ حزب اللہ کی قوت اور گائیڈڈ میزائلوں کے سامنے اسرائیلی فوج انتہائی کمزور ہے۔اسی طرح ایک اور اسرائیلی جنرل نے کہا تھا کہ سارا اسرائیل حزب اللہ کے میزائلوں کے نشانے پر ہے۔پس خود صہیونی ذرائع اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے اور حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ہے ضرور ت صرف اس امر کی ہے کہ عرب دنیا کے وہ مسلمان حکمران جو امریکی وصہیونی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں اپنی حمیت و عز ت کے دفاع او ر مظلو م ملت فلسطین کے دفاع و قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کے لئے متحد ہو جائیں اور دنیا کے نقشہ سے صہیونی جرثومہ کو اکھاڑ پھینکیں جو نہ صرف فلسطین و مغربی ایشیاء کے لئے مصیبت و خطرہ ہے بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

  • حج کی کار گزاری . پڑھیے حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    حج کی کار گزاری . پڑھیے حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    حج کی کار گزاری
    از حافظ احمد سعید جعفر

    "الحمدللہ حج 1440 ھ بمطابق 2019 ء کا حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کرلی ہے.
    حج کے موقع پر انتظامات کے بارے میں ہر سال بہت سی خبریں گردش کرتی ہیں. اس سال چونکہ میں عینی شاہد ہوں تو سوچا دنیا کو حج کے انتظامات کے بارے میں تفصیل سے بتاؤں.
    ہماری فلائیٹ نےمدینہ شریف لینڈ کیا اور ہم نے 8 دن مدینہ منورہ گزارے. ایئرپورٹ سے ہوٹل لے جانے کا انتظام تسلی بخش تھا. آرام دہ بسوں میں حاجیوں کو انکے ہوٹلز تک پہنچایا گیا. لیکن ہوٹل پہنچتے ہو ئے2 عدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا. ایک کمرے کی دستیابی تھا. چونکہ ہوٹل میں 4 اور 5 افراد کے لئے کمرے موجود تھے اس لئے 4 سے کم یا 5 سے زیادہ افراد پر مشتمل فیملیز کو دوسرے لوگوں کے ساتھ adjust کرنا پڑتا تھا اور لوگوں کی طرف سے اس سلسلے میں تعاون نہیں کیا گیا. جس سے حجاج کرام اور ہوٹل انتظامیہ کے درمیان بحث کا ماحول پیدا ہوا. دوسراہم پاکستانیوں کی روایتی بد نظمی تھی. قطار توڑ کر آگے بڑھنے کی کوششوں کی وجہ سے کمرے ملنے کا مرحلہ تاخیر کا شکار ہوا اور شور شرابہ اور بد مذگی بھی دیکھنے کو ملی. دوسری مشکل یہ پیش آئی کہ تمام حجاج کا سامان ہوٹل کی لابی میں لا کر رکھ دیا گیا. تمام حجاج نے اپنا سامان چن چن کر اکٹھا کیا اور لفٹس میں منتقل کر کے اپنے اپنے فلور تک پہنچایا. ہوٹل میں 3 عدد لفٹس موجود تھیں اور لفٹس کے دروازوں والی جگہ کافی تنگ تھی ایسے میں سینکڑوں حجاجِ کرام کا سامان سمیت آنا جانا کس قدر تکلیف دہ ہوگا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں. ایسے وقت میں تگڑے اور ہوشیار لوگ داؤ لگا جاتے ہیں اور سیدھے سادھے, اور کمزور لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں. خیر چند گھنٹوں میں ان دونوں مراحل سے فراغت حاصل ہوئی اور ہوٹل کے معاملات معمول پر آئے.
    اب آپکو ہوٹل کے معاملات کے بارے میں تفصیل سے بتاتا ہوں. ہمارے ہوٹل کا نام مختارہ غربی ہوٹل تھا. یہ فندق مسجدِ نبوی شریف سے تقریباً 7 منٹ کی واک پر واقع تھا اس لئے مسجد آنے جانے میں سہولت رہتی تھی. ہوٹل خوبصورت اور ہائی فائی تھا. کمرے بہت اچھے تھے. واش روم, نکاسیِ آب وغیرہ کا نظام بھی پرفیکٹ تھا. کھانے کی فراہمی کسی کیٹرنگ سروس کے پاس تھی اور کھانے کا معیار عموماً اچھا ہی ہوتا تھا. تین ٹائم روٹی سالن کے علاوہ مندرجہ ذیل آئٹمز بھی مہیاء کیے جاتے تھے.
    صبح کے ناشتے میں چائے
    دوپہر کو ایک پھل (سیب یا مالٹا) اور لسی (جسے عربی میں لبن کہا جاتا ہے) کی بوتل.
    رات کے کھانے میں قبطان نام کا ایک جوس اور سویٹ ڈش.
    الحمدللہ مدینہ میں رہائش کے دوران کوئی تنگی کوئی پریشانی محسوس نہیں کی.
    8 دن قیام کے بعد ہم مکہ مکرمہ روانہ ہوئے. اس مقصد کے لئے بھی بسوں کا انتظام اطمینان بخش تھا. لہٰذہ اس معاملے میں بھی راوی ok کی رپورٹ دیتا ہے.
    مکہ مکرمہ میں عزیزیہ نامی علاقے میں بلڈنگز کے اندر حجاجِ کرام کو ٹھرایا گیا. ہم نے عزیزیہ کے بارے میں کافی منفی باتیں سن رکھی تھیں لیکن یقین کیجئے وہاں کا ماحول مدینہ کے ہوٹلز سے بھی زیادہ اچھا تھا اور بلڈنگ کا عملہ یعنی معاون حجاج الباکستان کا رویہ بہت خوش اخلاقی پر مبنی تھا. یہاں تک کہ مدینہ کے ہوٹل کے برعکس ہمارا سامان بسوں سے اتارنے سے لے کر, کمروں تک پہنچانے میں معاونین نےخوب تعاون کیا. اور بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ سارا سامان حجاجِ کرام کے مطلوبہ فلورز تک پہنچ گیا.
    عزیزیہ کی ہماری بلڈنگ نمبر 702 سے مسجدالحرام کا سفر تقریباً 20 منٹ کی ڈرائیو کا ہے. ٹرانسپورٹ کا انتظام یوں ہے کہ 24 گھنٹے, چند منٹ کے وقفے سے بسیں چلتی ہیں ایک بس سات بلڈنگز کو cover کرتی ہے یعنی 7 بلڈنگز کے حجاج کی اپنی ایک بس ہوتی ہے جس میں وہ بلڈنگ کے باہر سے سوار ہوتے ہیں اور وہ بس حجاجِ کرام کو ایک بس اڈے تک چھوڑتی ہے. وہاں بہت سی بسیں حرم شریف جانے کے لئے تیار کھڑی ہوتی ہیں. حجاج کرام بلڈنگ کی بس سے نکل کر حرم جانے والی بسوں میں بیٹھتے ہیں اور وہ بسیں حرم سے کچھ فاصلے پر اتارتی ہیں. جہاں سے پیدل سفر 4 سے 5 منٹ کا ہوتا ہے. حرم شریف جانے کا عمل عموماً خوب اسلوبی سے طے ہوجاتا ہے لیکن واپسی پر بسوں میں سوار ہوتے ہوئے بھگ دڑ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے.
    کھانے کا نظام عزیزیہ میں بھی مدینہ سے زیادہ مختلف نہیں تھا Menu دونوں جگہ ایک سا تھا. مدینہ میںcatering service دینے والی کمپنی کا نام میں نہیں دیکھ سکا. مکہ میں یہ خدمت مطبخ عرفات نامی کمپنی مہیا کرتی ہے. مکہ اور مدینہ میں کھانے کے ذائقے میں مجھے 19 ,20 کا فرق محسوس ہوا مدینہ میں کھانے کا ذائقہ نسبتاً بہتر تھا.
    اب کچھ مسجدِ نبوی شریف اور مسجد الحرام شریف کے انتظامات کی بات کر لی جائے. مسجدِ نبوی میں انتظامات اور سہولیات ہر لحاظ سے مسجد الحرام کی نسبت بہت بہتر لگے. صفائی, بیٹھنے جگہ کی فراہمی, واش رومز سب مسجد نبوی میں زیادہ بہتر ہیں. مسجد الحرام شریف میں بہت سے تعمیراتی کام جاری ہیں جنکی وجہ سے کچھ تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. دوسرا یہ کہ یہاں شرطے بار بار بہت سے راستے بلاک کردیتے ہیں, کبھی کہیں سے لوگوں کو اٹھا دیتے ہیں کبھی یہاں سے وہاں منتقل کر دیتے ہیں. اس لئے مسجد الحرام میں دیر تک سکون سے ایک جگہ بیٹھ کر عبادت کرنا بہت مشکل کام ہے. راستے بند کرنے میں یقیناً کوئی انتظامی حکمت عملی ہوگی لیکن سچی بات یہ ہے کہ اسکی وجہ سے حجاج کو بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے. مجھے خود اس وجہ سے بہت مشکل ہوئی تھی.
    خیر, مجموعی طور پر مکہ اور مدینہ دونوں میں رہائش, کھانے اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات بہت اچھے تھے.
    اب بات کرتے ہیں حج کے ایام کی.
    پہلے آپ یہ سمجھ لیجئے کہ حج کا ایام میں حاجیوں کے انتظامات بہت سی چھوٹی چھوٹی کمپنوں کو دیے ہوتےہیں جنہیں مکتب کہا جاتا ہے. حجاجِ کرام کو تقریباً 125 مکاتب میں تقسیم کیا گیا ہے. ہر مکتب کا ایک معلم ہوتا ہے جس کے زمے ایامِ حج کے دوران منیٰ, عرفات, مزدلفہ میں اپنے اپنے حاجیوں کا انتظام کرنا ہوتا ہے. ہمارا مکتب نمبر 100 تھا. جس کا انتظام عبدالرحمٰن…… عبداللہ وھبی نامی معلم کے ذمے تھا. اور ان موصوف نے اپنی ذمے داریاں بڑے کمال برے طریقے سے سرانجام دیں. منیٰ میں ہمیں گندے پانی میںchlorine ڈال کر پلایا جاتا رہا. کھانا بہت دیر سے ملتا تھا اور 2 دفعہ کے علاوہ ہمیشہ چنے کی پتلی دال کھلائی گئی جوکہ بہت سخت تھی. یعنی ہمارے مکتب میں کھانا نہایت ناقص تھا. ٹرانسپورٹ کو دیکھا جائے تو شائد سب سے کم بسیں مکتب نمبر 100 کے پاس تھیں جسکی وجہ سے بسوں میں چڑھتے ہوئے دھکم پیل اور بد نظمی انتہا کو ہوتی تھی. 4130 حجاج کے لئے 11 بسوں کا انتظام تھا جبکہ سننے میں آیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے موصوف سے 40 بسوں کا معاہدہ کر رکھا تھا. یوم, عرفہ کے دن ہمارے مکتب والے بہت تنگ ہوئے. غروبِ آفتاب کے بعد جب بسیں نکلیں تو سینکڑوں حجاج بسوں میں سوار نہ ہو سکے جن میں میں اور میرے گھر والے بھی شامل تھے. تقریباً ڈھائی 3 گھنٹے بعد بسیں واپس آئیں پھر بقیہ حجاجِ کرام بسوں میں سوار ہو پائے. معذور اور بیمار افراد کے لئے ایسی صورت میں بسوں میں چڑھنا ناممکن تھا اس وجہ سے میرا ایک روم میٹ جسکی والدہ ضعیف ہیں, انہیں ویل چیئر پر پیدل مزدلفہ جانا پڑا. یاد رہے عرفات سے مذدلفہ تک کا سفر 7 کلومیٹر سے زیادہ ہے. یہاں قصور ہماری عوام کا بھی ہے. پاکستانوں کی طرف سے بدنظمی اور خود غرضی کی انتہا دیکھنے کو ملی. ہر شخص دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر خود آگے بڑھنے کو کوشش میں رہتا ہے. ہمیں کئی دفعہ دوسرے ممالک کے عہدیداروں سے طعنے سننے کو ملے کہ پاکستانیوں کا کوئی نظام نہیں, پاکستانیوں میں عقل سمجھ نہیں.
    قصہ مختصر, مکہ اور مدینہ دونوں مقدس شہروں میں حجاج کے لئے انتظامات کافی اچھے تھے جس پر میں پاکستان اور سعودی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں. البتہ حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ عبدالرحمٰن عبداللہ وھبی نامی معلم کو بلیک لسٹ کیا جائے اور مکتب 100 کی زمہ داری کسی آئندہ کسی ایماندار اور قابل معلم کے سپرد کی جائے.

  • ہرکشمیری کے گھر کے باہر بھارتی فوجی بندوق تان کے کھڑے ہیں ، اسے ہی تو  فاشزم کہتے ہیں : چیئرمین کشمیر کمیٹی

    ہرکشمیری کے گھر کے باہر بھارتی فوجی بندوق تان کے کھڑے ہیں ، اسے ہی تو فاشزم کہتے ہیں : چیئرمین کشمیر کمیٹی

    اسلام آباد: ہرکشمیری کے گھر کے باہرایک بھاری فوجی بندوق تان کے کھڑا ہے ، یہ فاشزم نہیں تو اور کسے کہتے ہیں. ان خیالات کااظہار چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ، چیئر مین کشمیر کمیٹی فخرامام نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خوراک، ادویات کی قلت ہو گئی ہے، بھارت ایک غیر ذمہ دار ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، کشمیر پر سلامتی کونسل کا اجلاس 50 سال بعد ہو رہا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔فخرامام نے کہا کہ اب وقت قریب ہے کشمیری بھی آزاد ہوجائیں گے ، پاکستان کشمیریوں کی آزادی کے لیے کوشاں ہے

  • امت کا پاسبان ، دنیا کا جس نے نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا اس کا نام ہے ” جنرل حمید گل "

    امت کا پاسبان ، دنیا کا جس نے نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا اس کا نام ہے ” جنرل حمید گل "

    لاہور: 15 اگست کا دن پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک تاریخ رکھتا ہے. 15 اگست کو بھارتی اپنے یوم آزادی کے طور پر مناتےہیں. تو کشمیری ، پاکستانی اور انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں بھارتی مظالم کی وجہ سے اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہیں. یہ تو تاریخ ہے دو ملکوں کی ، مگر 15 اگست کو دنیا کے دلوں کو دہلادینے والی ، بڑی بڑی قوتوں کو شکست فاش کرنے والی عظیم شخصیت جسےاپنے تو جانتے ہی ہیں مگر دشمن جسے اپنوں سے زیادہ جانتا ہے ، اسے جنرل حمید گل کے نام سے یادکرتے ہیں ، 15 اگست 2015 کو جنرل حمید گل اپنے خالق حقیقی سے جاملےتھے ،ان کی وفات پر دنیا بھر کے میڈیا نے لکھا تھا کہ ایک جہادی کمانڈرجس نے روس کو توڑا اب امریکہ کو شکست فاش دینےکی تیاری کررہا تھا ، دنیا پر سے جنرل حمید گل کی وفات کی وجہ سے خوف کے سائے ختم ہوگئے ہیں

    جنرل حمید گل کے خاندان کا سوات سے تعلق تھا وہ یوسفزئی قبیلے سے تعلق رکھتےتھے جو بعد میں پنجاب کے مشہور شہر سرگودھا میں آباد ہوا، جنرل حمید گل 20 نومبر1936 کو سرگودہا میں پیدا ہوئے ، گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملٹری اکیڈمی میں ایڈمیشن لیا . جنرل حمید گل نے 1965 ،1971 ، افغآنستان میں سویت جارحیت ، اور کئی خفیہ جنگیں بنفس نفیس لڑیں ، وہ غازی تھے۔مارچ 1987ءمیں آئی ایس آئی کے سربراہ بنے ۔جہاد افغانستان کو کامیابی تک پہچانے میں جنرل حمید گل کا بڑا ہاتھ تھا۔ روس کے قبضے کے بعدافغان جہاد شروع تو افغانیوں نے ہی کیا تھا مگرافغان جہاد میں امت مسلمہ کے نوجوانوں کا خون بھی شامل تھا اور اس خون کی آبیاری جنرل حمید گل نے ہی کی تھی

    دنیا جانتی ہے کہ روس نے مشرقی پاکستان کو توڑنے میں بھارت کی مدد کی تھی۔روس اور بھارت کا دفاعی معاہدہ تھا جس پر جنگ کے دوران روس کی ایٹمی گن بوٹز نے پاکستان کے سمندروں کامحاصرہ کیا رکھا پاکستان کی بحریہ کو مفلوج کیا۔ حمید گل نے بہترین منصوبہ بند ی کر کے افغانستان میں روس سے پاکستان توڑنے کا بدلہ لے لیا اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کی چھ اسلامی ریاستیں،قازقستان،کرغیزستان،اُزبکستان،ترکمانستان،آزربائیجان اورتاجکستان کی شکل میں جسے سفید ریچھ کے معروف نام سے اور دنیا کے نقشے پر سوویت یونین کے نام سے یاد کیا جاتا تھا سے یہ ریاستیں آزاد کراکے دنیاکے نقشے پر مزید نئے مسلم ملکوں کو وجود بخشنے میں اہم کردار ادا کیا

    تاریخ یاد رکھے گی کہ جنرل حمید گل کی کمال حکمت عملی اورجہاد کی برکت سے روس سے مشرقی یورپ کی متعدد مظلوم ریاستیں بھی آزاد ہوئیں ۔ دیوار برلن بھی ٹوٹی اور دنیا میں پھیلایا گیا جھوٹاسلوگن کہ روس جس ریاست میں داخل ہوتا ہے واپس نہیں نکلتا جو ذلیل ہو کر افغانستان سے نکل گیا، جس کی چگالی کر کے پاکستان کے شکست خورد ذہنیت کے مالک نام نہاد سیکولر اورروشن خیال، تھالی کے بیگن مجاہدین کو خوف زدہ کیا کرتے تھے اوراب مفادات کی ہوس میں نیو ورلڈ آڈر کے دلدادہ امریکہ کی چگالی کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی50 سے زائد ملک بھی افغانستان میں جہاد ہی کی برکت سے پسپا ہورہے ہیں۔ اب پھر پہلے کی طرح سازشوں کے جال بُنے جارہے ہیں

    جہاں تک جنرل حمید گل کا تعلق ہے تووہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ہمیشہ فعال رہے۔ اسلام اور پاکستان سے محبت، ان میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی۔بھارت اور امریکہ کی پاکستان دشمن پالیسوں کے خلاف کھل کربولتے تھے۔ ۔9‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ الیون کو یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیتے تھے۔پاکستان اور اسلامی دنیا میں ایک بڑے حلقے میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر رہے۔ پاکستان پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ان کے تجزیے اخبارت کی زینت بنتے تھے وہ پاکستانی قوم کو الرٹ کرتے ہوئے کہا کرتے تھے افغانستان پر روسی حملہ افغانستان بہانہ اور پاکستان ٹھکانہ ہے۔ جنرل حمید گل امریکہ کے بارے میں بھی یہی کہتے تھےکہ امریکہ نے افغان طالبان کا بہانہ بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانا ہے. جنرل حمید گل نے پاکستان کی دینی قوتوں کا ہمیشہ ساتھ دیا۔ دنیا میں مسلمانوں کی کامیابی کے لیے سوچ بچار کرتے رہتے تھے۔

    تحریک نوجوانان پاکستان کی داغ بیل ڈالی،جس کی سربراہی آج کل برادرم عبداللہ حمید گل کر رہے ہیں۔ جنرل صاحب کو یقین واثق تھا کہ پاکستان اپنی سمت درست کر کے رہے گا اور نہ صرف پاکستان بلکہ امت مسلمہ کی سربراہی کا تاج بھی اسی کے سر سجے گا، یہی وجہ تھی کہ ان کا نام مسلم ممالک میں نہ صرف عزت سے لیا جاتا بلکہ ان کی باتوں کو بغور سنا بھی جاتا تھا۔ اس دور میں جنرل صاحب ایک دوسرے مشن پر کام کر رہے تھے کہ بیرونی ،غیر مسلم ذرائع ابلاغ پر مدلل انداز میں امریکہ اور اسرائیل کی چیرہ دستیوں کو ان کی عوام کے سامنے بے نقاب کر رہے تھے تاکہ عوام اپنے حکمرانوں کی دروغ گوئیوں کو جان سکیں۔

    پاکستان سے محبت ،جنرل صاحب کا وہ اثاثہ تھا جسے وہ کسی صورت گنوانے کے لئے تیار نہ تھے اور فوج سے ریٹائر ہونے کے باوجود برملا اس امر کا اظہار کرتے تھے کہ انہوں نے حلف پاکستان کی حفاظت کااٹھا رکھا ہے نہ کہ نوکری کا،اور ایک فوجی خواہ وہ حاضر سروس ہو یا ریٹائر،ملک و قوم کی حفاظت کے لئے ہر دوصورتوں میں سر بکف رہتا ہے۔ راقم نے ایک مرتبہ جنرل حمید گل سے درخواست کی کہ پاکستان کے خلاف دشمنوں کی سازشوں کو آئی ایس آئی نے کس طرح ناکام بنایا اور آئی ایس آئی کی گمنامی کی کیا کیا خدمات ہیں اس پر کتاب لکھ کر پاکستانیوں کے دلوں کو سکون اور خوشی دی جائے تو جنرل صاحب فرمانے لگے بیٹا میں ابھی ریٹائر نہیں ہوا ، فوجی جب تک مرتا نہیں وہ ریٹائر نہیں ہوتا وہ پاکستان کا وفادار رہتا ہے . لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آئی ایس آئی کی خدمات کو خیفہ ہی رکھا جائے یہ زیادہ بہتر ہے.

    اس وقت جب کشمیری اور پاکستانی دنیا بھر میں آج بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں ،عین اسی وقت ملت پاکستان کے خفیہ ادارے کےسربراہ جنرل حمید گل کو بڑی شدت سے یاد کیا جارہاہے. جنرل حمید گل اسی دن 15 اگست 2015 کو قضائے الٰہی سےوفات پاگئےتھے. ان کی منزل ہمیشہ پاکستان کا استحکام ہی رہی، جنرل حمید گل مرحوم کہا کرتے تھے کہ اللہ کے فضل سے پہلے آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے روس کو توڑا تھا اب اللہ کی مدد سے آئی ایس آئی امریکہ کی مدد سے امریکہ کو توڑنے جارہی ہے اور ان کی پشین گوئی مکمل ہونے کے بالکل قریب ہے۔اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے

    امین طاہر

  • جناح سچا تھا

    جناح سچا تھا

    ایزی چئیر سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کِیں اور چند منٹ کے لئے خود کو ایک بھارتی مسلمان سمجھ کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ جناح کتنا سچا تھا، اس نے کہا ہندوستانی ایک نہیں دو قومیں ہیں، اندازہ تب ہوا جب میں نے ایک ہندو ہوٹل والے سے پیسے دیکر کھانا مانگا تو اس نے لکڑی کے الگ چمچ سے مجھے کھانا ڈال کر دیا کہ اس کا دوسرا چمچ بھرشٹ نا ہوجائے

    جناح نے کہا یہ ناگزیر ہے کہ ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا علیحدہ ہوں ورنہ فسادات ہوتے رہیں گے، وہ سچا نکلا جن مسلمان ریاستوں نے ہندو انڈیا سے نکلنے کی کوشش نا کی آج ان میں مسلمانوں کی آبادی بدتریج کم ہوتی جا رہی ہے ، انکی آزادیاں صلب ہوگئی، انکی عبادتوں پہ پابندیاں، مسجدیں مسمار ہوئی، رام مندر بننا شروع ہوگئے، گائے کا گوشت حرام ہوا، داڑھی رکھنا جرم ہوا، ان پہ افسپا ، رولٹ، پوڈا ، ٹاڈا سمیت درجنوں کالے قانون بنا کر ان کو ہراساں کیا جاتا ہے،

    آپ جانتے بھی ہیں؟ بھارتی جیلوں میں قومیت کے حساب سے سب سے بڑا تناسب مسلمانوں کا ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے وہ صرف چودہ فیصد ہیں اور ان میں سے نوے فیصد ایسے ہی قوانین کی زد میں آ کر بلاوجہ کی عمر قیدیں کاٹ رہے ہیں ، جناح بڑا سچا تھا بڑا دور اندیش تھا ،اس نے کہا ہم کیسے اکٹھے ہوں ہماری تاریخ ہی الگ ہے ،قاسم و داہر کیسے اکٹھے رہیں، غزنوی و آنند پال کیسے رہیں، ایک ہی پنجرے میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے کیسے رہیں ،

    جناح نے کہا ہمارا کلچر الگ ہے وہ سچا تھا
    آج ہندوستان میں مسلم بیٹیوں کے نقاب نوچ لئے جاتے ہیں، برقعہ کو فلموں میں خوف اور جرائم کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔جناح نے کہا ہماری تعمیرات الگ ہیں، قانون الگ معاشرتی رسم و رواج الگ، زبان الگ، کیلنڈر الگ وہ سچا تھا ہندوستان کا ہندو گنبد برداشت نہیں کرتا، ہندوستان کا ہندو پردہ داڑھی برداشت نہیں کرتا ہندوستان کا ہندو صبح کی اذان برداشت نہی کرتا ،وہ کیا کہتا تھا سونو نگھم؟ سو کالڈ لبرل میوزیشن کہ جناب صبح کی اذان مسلمان دوسروں کو تنگ کرنے کے لئے دیتے ہیں، جناح نے کہا ہمارا سب کچھ الگ تو اکٹھے کیسے رہیں؟

    آگ و پانی کیسے ملے؟
    جاؤ پوچھو ہندوستان کے دو سو ملین مسلمانوں سے کہ جب گائے زبح کرنے پہ بچے زبح ہوتے ہیں تو جناح کی سچائی نظر آتی ہے نا؟ جب وہ جان کے خوف سے بی جے پی جیسی قصائی جماعت کو ووٹ دینے پہ مجبور ہوجاتے ہیں تو جناح کی باتیں یاد آتی ہیں نا ں ، دلتوں سے بھی نیچے زندگی گزار کر معاشرتی بائکاٹ کا شکار ہو کر بھی جب ان پہ ہر وقت خوف طاری رہتا ہے تو جناح کی باتیں سچی لگتی ہیں کہ نہیں ان سے پوچھو کہ جب بیٹیوں کے چھیڑنے سے منع کرنے پہ ہندو غنڈے پلیت عصمت دری کرتے ہیں تو جناح یاد آتا ہے نا؟ ان سے پوچھو کہ حیدرآباد کے مسلمان تاجر چن چن کر مار کر ہیرے جواہرات کی وہ مارکیٹ جب ہندووں نے ہتھیائی تو جناح تو یاد آیا تھا نا

    جب کسی ہندوستانی مسلمان کے بوڑھے باپ کی داڑھی کھینچ کر تھپڑ لگا کر جے شری رام کے نعرے لگوائے جاتے ہیں تو اسے جناح کی سچائی تو نظر آتی ہے نا ۔۔۔۔
    ڈنڈوں سوٹوں سے مارنے کے بعد مٹی کا تیل ڈال کر کسی انڈین مسلم کو جلایا جاتا ہے تو خود پہ ماچس کی جلتی تیلی اچھلتے دیکھ کر اس کی آخری آہ جو نکلتی ہے وہ یہ ہوتی ہوگی کہ نہیں
    میں پاکستانی کیوں نا تھا؟
    میں آزاد کیوں نا تھا؟
    جناح کو جھوٹا کیوں سمجھا؟
    خاکستر ہونے پہ فیصلوں کی غلطیوں جب کا احساس ہو تو وہ خاک احساس ہو

    سالار عبداللہ

  • زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    واشنگٹن : زمین کے قریبی بلیک ہول سے عجیب و غریب شعلے نکل رہے ہیں اس خبر نے ہر طرف خوف کی فضا پیدا کردی .۔ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع عظیم بلیک ہول (جس کا نام سیجی ٹیریئس اے ہے) سے تابکاری کے اتنے طاقتور شعلے نکل رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔

    یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ آج تک سائنس دانوں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، حالانکہ انہوں نے اس کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔ سیجی ٹیریئس اے ہمارے سورج سے 40 لاکھ گنا زیادہ وزنی ہے۔سائنس دانوں نے ایک نئے تحقیقی مقالے میں کہا ہے کہ ان شعلوں کا کہکشاں میں دور تک سفر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے ان شعلوں کا شماریاتی ماڈل شائع کیا ہے , محققین کے مطابق رات کو ان شعلوں کے نظر آنے کا امکان ہزار میں سے تین ہے۔

  • مسئلہ کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں

    مسئلہ کشمیر اور ہماری ذمہ داریاں

    پہلی بات انڈیا میں کئی کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ اور وہ ہندوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ آخر کشمیری ہی کیوں انڈیا سے جنگ لڑ رہے ہیں؟ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات کے لیے لڑ رہے ہیں تو وہ تصحیح فرما لے۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پاکستان کشمیر کے بغیر نا مکمل ہے۔ یہ جنگ صرف ان کی ہی نہیں بلکہ وہ ہمارے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان کے دریاؤں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان کے بڑے منصوبے سی پیک کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر ہم کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو یاد رکھیں یہ ہم کشمیریوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔تو میرے پاکستانیوں اب یہ آواز تب تک بند نہیں ہونی چاہئیے جب تک پاکستان مکمل نہیں ہو جاتا۔ جب تک ہم اپنی شہ رگ دشمن سے چھڑوا نہیں لیتے۔

    اب اگلی بات ہمیں کیا کرنا چاپئیے۔ اس کے لیے تاریخ اسلام سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اپنے حاکم کی ) سنو اور اطاعت کرو ، خواہ ایک ایسا حبشی ( غلام تم پر ) کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر سوکھے ہوئے انگور کے برابر ہو۔ ( صحیح بخاری ، 693)یعنی کبھی بھی اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کرنی۔ ہاں ہم ان کو احسن انداز میں تلقین ضرور کر سکتے ہیں۔جیسے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے لاکھوں فرزندان توحید تھے مگر آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی۔امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک جری لشکر ہونے کے باوجود کبھی اسلامی حکمران کے خلاف جنگ نہیں کی بلکہ تیر و تلوار کا رخ کفار کی طرف ہی رکھا۔ کبھی اپنوں کی طرف نہیں کیا۔

    لہزا میرے وطن کے نوجوانوں کشمیریوں کے لئے خون کو بہتا دیکھ کر آپ کا خون کھولنا فطری تقاضا ہے اور قابل قدر بھی ہے۔ مگر یاد رہے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان، امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اور امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے کرداروں کو مد نظر رکھنا چاہئیے۔

    تیسری بات حکمرانوں کے نام۔
    ان حالات میں بھی تاریخ اسلام کو کھنگالنا ہو گا۔بدر کے موقع پر چند تلواریں اور صرف دو گھوڑے تھے۔ مگر 313 اہل ایمان نے کفار کو بدترین شکست دی۔ یعنی جنگ کے لیے سامان حرب کا پورا ہونا ضروری نہیں۔ اللہ کی نصرت پر یقین ہونا چاہئیے۔تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی معاشی حالت کو نہیں دیکھا۔ پکی ہوئی فصلیں چھوڑ کر غیرت و حمیت کا راستہ اختیار کیا۔ یعنی جب مسئلہ غیرت و حمیت کا ہو تو معاشی حالت نہیں دیکھی جاتی۔اور موتہ کے مقام پر جب 3 ہزار کا لشکر شامیوں اور رومیوں کے 2 لاکھ کے لشکر سے ٹکرا گیا۔ چشم فلک نے دیکھا 2 روز تک جاری رہنے والی جنگ میں صرف 12 مسلمان شہید ہوئے اور دشمن محاز چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ یعنی جنگ میں تعداد نہیں دیکھی جاتی۔

    اور ہاں محمد بن قاسم ایک مسلمان بہن کے خط کے جواب میں راجہ داہر کی فوجوں سے ٹکرا گیا۔ ہاں میرے ملک پاکستان کے حکمرانوں کشمیری اپنے خوں میں نہائے جسموں ، پیلٹ گنوں سے چھلنی آنکھیں اور پاکستانی پرچم میں لپٹی لاشوں کو لئیے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔اور کئی دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔انہیں مایوس نہ کیجیے گا۔ عزت کا راستہ اختیار کیجیے گا۔ بڑے فیصلے لینے میں مت ہچکچائے گا۔ اس قوم میں ایمان کی حرارت باقی ہے۔ یہ قوم آپ کی ہر ایک صدا پر لبیک کہے گی۔
    کیونکہ
    ابھی تکمیل باقی ہے
    ابھی کشمیر باقی ہے

  • مسئلہ کشمیر کا حل مفاہمت یا مزاحمت؟ .صابر ابو مریم کا بلاگ

    مسئلہ کشمیر کا حل مفاہمت یا مزاحمت؟ .صابر ابو مریم کا بلاگ

    مسئلہ کشمیر تاریخ کا ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے اوریہ مسئلہ بھی فلسطین کے مسئلہ کی طرح برطانوی استعمار کی سازشوں کے نتیجہ میں اور امریکی حمایت کے نتیجہ میں وجود میں آیا ہے۔دونوں مسائل کی نوعیت اگر چہ اہمیت کے اعتبار سے جداگانہ ہے لیکن دونوں پر مسلط ظالم نطاموں کی مدد گار حکومتیں اور آلہ کار ایک ہی ہیں جن کا ذکر در ج بالا سطور میں کیا گیا ہے۔

    مسئلہ چاہے کشمیر کا ہو یا فلسطین کا یا پھر اسی طرح کے کسی اور خطے کا کہ جہاں ظالم وسامراجی نظاموں نے ملتوں کو محکوم بنا رکھا ہو اور ظلم و ستم کے نا رکنے والے سلسلے قائم ہوں۔ایسے ہر مقام پر اگر کسی حل کی بات کی جائے گی تو یقینا یہی بات سامنے آئے گی کہ مظلوم ملتوں کو حق حاصل ہے کہ وہ فیصلہ کریں۔

    اگر بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں بات کی جائے ت وفلسطین و کشمیر سمیت ایسی تمام ملتوں کو یہ حقوق اور اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اپنی زمینوں پر قابض اور جارح قوتوں کو دور کرنے اور اپنے حقوق کے دفاع اور اپنی سرزمینوں کی واپسی کے لئے نہ صرف احتجاج کریں بلکہ مسلح جدوجہد بھی کر سکتے ہیں اور ایسی جدوجہد کو غیر قانونی نہیں کہا جا ئے گا۔

    فلسطین کا مسئلہ لگ بھگ ستر سال سے زائد یا پھر اگر بالفور اعلان سے اس کا جائزہ لیا جائے تو ایک سو سال سے زائد کا ہو چکا ہے۔مسئلہ کشمیر کی تاریخ بھی ستر سال سے زائد کی ہو چکی ہے لیکن دونوں مسائل میں جب بھی مفاہمت کا ڈھونگ رچایا جاتا رہا ہے تو نتیجہ میں مظلوم ملتوں کے حقوق زائل ہوتے رہے ہیں۔

    آئیں آپ کو فلسطین کے مسئلہ میں مفاہمت کی مثال پیش کرتے ہیں، جب یاسر عرفات نے امریکی جھانسوں میں آکر فلسطین کے مسئلہ کو صہیونی دشمن اور شیطان بزرگ امریکہ کے ساتھ میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی کوشش کی تو نتیجہ میں رہا سہا فلسطین بھی فلسطینیوں کے ہاتھوں سے رفتہ رفتہ جاتا رہا اور نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دشمن اب قبلہ اول بیت المقدس پر بھی اپنا ناجائز تسلط قائم کرنے پر تلا ہوا ہے۔

    مسئلہ کشمیر بھی اسی طرح کی مفاہمت کے چکر میں الجھ چکا ہے۔مفاہمت کے نعروں نے جہاں مجاہدین کو نقصان پہنچایا ہے وہاں کشمیر کی مظلوم ملت کو آزادی اور استقلال سے کوسوں دور کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جب تک ظالم و جارح ہندوستانی افواج کو منہ توڑ جواب دیا جاتا تھا تو اس وقت دشمن اپنی حد میں رہتا تھا اور کشمیر پر حملہ کرنے یا کشمیریوں پر تیسرے درجہ کے مظالم ڈھانے سے پہلے درجنوں مرتبہ سوچ بچار کرتا تھالیکن ہم نے جب سے مفاہمت کا زہر گھول کر مزاحمت کو پس پشت ڈال دیا ہے اس دن سے اب دشمن کی ہمت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ وہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں درندگی کرتا ہے بلکہ سرحد کے اس طرف آبادیوں پر بھی گولہ باری کرتا ہے اگر چہ بعد ازاں اس جارح دشمن کو افواج پاکستان منہ توڑ جواب دے دیتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ دشمن کو یہ جرات ہی کیوں ہو؟

    فلسطینیوں کو دیکھیں اگر چہ نہتے ہیں کشمیریوں کی طرح ہی، لیکن گذشتہ کئی برس سے پتھروں سے ٹینکوں کا مقابلہ کرتے آئے ہیں اور اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ فلسطین کی مزاحمتی تحریکیں اسرائیل جیسی خونخوار اور دنیا کے لئے طاقتور فوج کامقابلہ بھی کرتے ہیں۔نہ صرف مقابلہ کرتے ہیں اور دفاع کرتے ہیں بلکہ فلسطینی مزاحمت اس پوزیشن میں آچکی ہے کہ اپنے ڈرون طیارے اڑا کر دشمن کو حیران وپریشان کر رہی ہے۔صہیونی دشمن کی نیندیں اڑا چکی ہے۔وہ صہیونی دشمن جس نے ماضی میں بیک وقت کئی کئی عرب افوج کو چند گھنٹوں میں زیر کر دیا تھا آج لبنان میں حزب اللہ کے مقابلہ میں آنے سے بھاگ رہاہے کیونکہ سنہ2006ء میں 33روزہ جنگ میں بھیانک شکست مفاہمت کی وجہ سے نہیں بلکہ حزب اللہ کی مزاحمت اور استقامت کی وجہ سے ہوئی تھی جسے اسرائیل تو کیا اس کے مٹ جانے کے بعد صہیونیوں کی نسلیں بھی تاریخ میں یاد رکھیں گی۔اسی طرح فلسطین کے اندر ہونے والی لڑائیاں جو پہلے بائیس دن اور پچاس دن تک جاری رہتی تھیں اب حالیہ اسرائیلی حملہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی پائیدار مزاحمت کے باعث چند گھنٹوں میں پسپا ہو جاتا ہے جو صرف اور صرف مزاحمت کے نتیجہ میں ہوا ہے نہ کہ مفاہمت۔

    خلاصہ یہ ہے کہ کشمیرکے مظلوم عوام نہتے ہیں اور اپنے پاس موجودوسائل سے جس قدر ہو سکتا ہے وہ اپنا فریضہ ادا کر رہے ہیں لیکن اگر ان کی پائیداری کو کوئی چیز نقصان پہنچا رہی ہے تو وہ صرف اور صرف مفاہمت کا زہر ہے جو کشمیر کے مسئلہ کو حل سے کوسوں دور لے جا رہاہے اور اسمفاہمت کے زہرکے نتیجہ میں کہیں کشمیریوں کی آزادی کی امنگیں دم نہ توڑ جائیں۔پس کشمیر کے عوام کو خود اندر رہتے ہوئے مزاحمت کا انتخاب کرنا ہے اور اسی طرح خطے کی مسلمان ریاستوں کو چاہئیے کہ کشمیر کی بڑھ چڑھ کر مدد کریں جس طرح فلسطین کے مسئلہ میں چند مسلمان ریاستیں فلسطینیوں کی مالی ومسلح مدد کر رہی ہیں۔کشمیر چونکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے مطابق پاکستان کی شہ رگ حیات ہے تو پس پاکستان کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ خود بھی کشمیرکے مظلوم عوام کو مالی ومسلح معاونت کرے او مفاہمت کے زہر سے دور رہتے ہوئے مزاحمت کے راستے کو اختیار کیا جائے کیونکہ تاریخ یہ ثبت کر چکی ہے کہ صہیونی دشمن ہو یا امریکی دشمن ہو یاپھر ان سب شیطانی قوتوں کا پولیس مین بھارت اور اس کی جارح افواج ہوں ان سب کو صرف ایک ہی زبان سمجھ آتی ہے اور وہ زبان مزاحمت کی زبان ہے۔پاکستان کے عوام کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ہر سطح پر جس قدر ممکن ہو دنیا کی مظلوم اقوام بشمول فلسطین، کشمیر، یمن،بحرین،نیجیریا سمیت میانمار جیسے علاقوں میں حکومتی امداد کویقینی بنانے کے لئے حکومتوں کا ساتھ دے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ مفاہمت مفاہمت کا راستہ کھلتے رہنے سے نہ تو کشمیر کوآزادی ملنے والی ہے اور نہ ہی کشمیر سے بھارتی جارحیت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔کشمیریوں کے دکھ درد ا مداوا اور آزادی کا واحد راستہ مزاحمت و استقامت ہے جو کشمیرکے عوام کو اندررہتے ہوئے اختیار کرنا ہو گا اور ہمیں ہر سطح پر کھل کر ان کی حمایت اور مددکرنا ہوگی۔بصورت دیگر کوئی اور حل کشمیر اور کشمیریوں سے دھوکہ تو ہو سکتا ہے لیکن حل نہیں ہو سکتا

  • کھال مافیا.حفیظ اللہ سعید

    کھال مافیا.حفیظ اللہ سعید

    کھال مافیا

    حفیظ اللہ سعید

    عید قربان پہ جانوروں کے لین دین اور ٹرانسپورٹ کے بعد ایک بہت بڑا کاروبار کھالوں کی خریدو فروخت ہے۔چمڑے کی صنعت ایک بڑی مقدار میں چمڑا حاصل کرتی ہے عید قربان کے موقع پہ۔اس چمڑے سے بننے والا ایک جوتا پرس یا خالص چمڑے کی کوئی چیز برانڈز کے نام پہ ہزاروں روپے میں بکتی ہے۔جبکہ ملک پاکستان میں دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ کھالوں کا ریٹ انتہائی کم ہو جاتا ہے عید پہ۔امسال بھی دنبے کی کھال 20 روپے بکرے کی 50 اور بڑے جانور کی 450 تک بکنے کی خبریں مل رہی ہیں
    یہ بھی مافیا کا کام ہے جیسے سبزی منڈی کی مافیا عید و رمضان میں سبزی فروٹ کے ریٹ آسمان پہ لے جاتی ہے ویسے ہی کھال مافیا بڑی عید پہ کھال کا ریٹ گوڑیوں کے بھاؤ پہ لے آتی ہے
    ہم من حیث القوم مفاد پرست و مطلبی ہیں کہ اس کی ایک اور مثال دی جا سکتی ہے
    دھوبی مافیا عید کے دنوں میں کپڑے استری کرنے کا ریٹ ڈبل سے بھی زیادہ کر دیتا ہے ڈھٹائی بھی ملاحظہ کریں کہ یہ مافیا عیدی کے نام پہ یہ کرتا ہے
    ہر طرف مافیاز و ابن الوقت لوگوں کا قبضہ ہے ہر شعبہ زندگی پہ جس کا جہاں جیسے اور جتنا داؤ لگتا ہے وہ اتنا ہی عوام کو لوٹنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے

  • آزادی کی قدر کیا ہیں پڑھیں ایک بزرگ کا احوال ۔۔۔!حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    آزادی کی قدر کیا ہیں پڑھیں ایک بزرگ کا احوال ۔۔۔!حافظ احمد سعید جعفر کا بلاگ

    کل میں نے ایک پاکستان ہجرت کر آنے والے اپنے علاقے کے ایک بزرگ سے ازراہ گپ شپ پوچھا کہ کچھ انڈیا کے بارے بتائیں
    ہنس پڑے کہ ہم تو بلونگڑے تھے اس وقت
    پورے 72سال ہو گئے آزادی کو
    جب ہم چھوٹے تھے تو
    بہت لوگ مل جاتے تھے
    جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا تھا
    مگر اب تو ایسے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملیں
    اب کوئی 90سالہ بزرگ ہی ہمیں ان مظالم کے قصے سنا سکتا ہے
    جو قیام پاکستان کے وقت درپیش آئے تھے
    لاکھوں جانیں ضائع ہوئی تھیں
    کتنی عزتیں پامال ہوئی تھیں
    کتنی مسلم خواتین سکھوں کی باندیاں بنیں
    تب جا کر ہمیں اپنی پہچان ملی
    آج ہم گائے ذبح کررہے ہیں
    ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں
    ہماری سرکاری چھٹیوں کا نظام اسلامی تہواروں پر ہے
    کیا کسی غیر اسلامی ملک میں یہ سب ممکن تھا
    اور بھی آزادی کی کیا کیا مثالیں دوں
    مگر افسوس ہم اس آزادی کا مطلب غلط سمجھ بیٹھے
    ہم نے اس آزادی کو فرقہ واریت کی آزادی سمجھ لیا
    ہزاروں خاندانوں کے چراغ اس فرقہ واریت نے گل کر دئے
    ہم نے اس آزادی کو کرپشن کی آزادی بنادیا
    تو کسی نے اس آزادی سے قومیت اور لسانیت کا فائدہ اٹھایا
    بدقسمتی سے ہم ایک قوم نہ بن پائے
    ہم اپنی بدمستیوں میں ایسے مگن ہوئے
    کہ بھارت ہماری شہ رگ کشمیر کو ہم سے چھین کر چلا گیا
    اور ہم کچھ کرنے کی بجائے
    کشمیریوں کی لاشوں پر بھی سیاست کرنے لگے
    70سال تک ہم صرف کشمیریوں کے جذبات سے کھیلتے رہے
    اور حقیقت میں ہم لوگوں نے کشمیریوں کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ آپس میں قومیت, لسانیت اور فرقہ واریت کھیلتے رہے
    آج چودہ اگست کا دن ہے
    صرف آزادی کے فنکشن منانا کافی نہیں
    بلکہ ہمیں آزادی کے تمام تقاضوں کو بروئے کار لانا ہوگا