Baaghi TV

Category: بلاگ

  • ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے….سلیم اللہ صفدر

    ہم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں دنیا جانتی ہے…

    لیکن جب معاہدے کیے ہوں تو معاہدوں کی پاسداری بھی ضروری ہے

    اور دشمن کو بھی یہ موقع دینا ضروری ہے کہ وہ اپنا چہرہ بے نقاب کر سکے کہ وہ کسی معاہدے کو ماننے اور سننے والا نہیں

    جب دشمن کا چہرہ مکمل طور پر دنیا کے سامنے آ جائے گا تو ہم وہ کرنے کا حق رکھتے ہوں گے جو نہ کرنے پر آج احتجاجی آوازیں آٹھ رہی ہیں

    اور اگر ہم نے وہ سب پہلے کر لیا… تو نہ تو دشمن کا اتنا نقصان ہو گا اور نہ ہی ہمیں کوئی فائدہ ملے گا.

    قوموں کے درمیان رہنا ہے تو بین الاقوامی قوانین کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے. اپنا آپ بچانا پڑتا ہے… دشمن کو سامنے لانا پڑتا ہے ورنہ اچھی بھلی جیتی جنگ کے ہارنے کا خدشہ رہتا ہے.

    جن لوگوں نے کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو خموش کروایا ہے…وہ اس خاموشی کے نقصانات بھی جانتے ہیں اور اب وادی نیلم سے سیالکوٹ تک کے بارڈر پر ان کے فوجی جذبہ شہادت سے سرشار کھڑے ہیں.
    جہاں جہاں وہ مناسب سمجھ رہے ہیں جواب بھی دے رہے ہیں.

    بیشک پاک فوج کی خاموشی وحشت ناک ہے لیکن وقت اور جگہ کا تعین بھی تو پاک فوج ہمیشہ سے خود ہی کرتی آئی ہے اس لیے گزارش ہے کہ میڈیا کی خاموشی کو عسکری محاذ پر خاموشی نہ سمجھا جائے. بھارتی جارحیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور 26 فروری جیسے کسی سرپرائز کا انتظار کیا جائے.

  • کشمیر, جنگی گھڑی اور روایتی جنگ کا کنٹرولڈ ورژن!!! بلال شوکت آزاد

    کشمیر, جنگی گھڑی اور روایتی جنگ کا کنٹرولڈ ورژن!!! بلال شوکت آزاد

    کشمیر کی جنگی صورتحال پر بہت غور و حوض کیا اور کافی مشاہدے کے بعد اور کچھ "سمارٹ اور انٹیلیجنٹ” اذہان سے مکالمے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ پاکستان اپنا دفاعی وقت کم کرے, مطلب وار لمٹ یا جنگی گھڑی کو مہینوں اور ہفتوں سے کم کرکے گھنٹوں اور منٹوں پر کرکے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنالے اور محنت و قسمت اور اللہ کی مہربانی سے جو ایٹم بم بنا لیا ہے اس کی ہیبت گلیِں باتی ختم کرکے حقیقت میں طاری کرے۔

    بھارت کو جب تک یہ معلوم ہے کہ پاکستان کے پاس محدود اور روایتی جنگ لڑنے کا بندوبست ہے یعنی ایٹمی اسلحہ استعمال کرنا پاکستان کا بیشک اہم اور آخری آپشن ہے پر اس آخری آپشن تک پہنچنے سے پہلے پاکستان دس بیس دن کی دفاعی یا جارحانہ جنگ لڑنے کا بندوبست رکھتا ہے تو بھارت اسی طرح اگلے اور سو سال بھی کشمیر کے عوام کا جینا دوبھر کرتا رہے گا, پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرتا رہے گا اور ہم اسی طرح سرجیکل سٹرائیک اور سرپرائزز کا کھیل کھیلتے رہیں گے۔

    اور سب سے اہم بات ان مبینہ بھارتی سرجیکل سٹرائیکس کو اگر مبینہ پاکستانی نیوکلیئر سٹرائیکس کے ڈراوے اور بہکاوے کے درمیان معلق نہ کیا گیا تو پاکستان کا سارا دفاعی بجٹ روایتی جنگ کے اخراجات میں خرچ ہوتا رہے گا اور بھارت کا جب دل کرے گا وہ ہماری سرحدوں کا تقدس پامال کرتا رہے گا اور ہمارے عام شہری جان سے جاتے رہیں گے۔

    جب ہم ایک ایٹمی اور خودمختار قوت ہیں بقول ریاست و حکومت تو ہمیں اس عنوان کی لاج رکھنے کے لیئے کچھ کڑوے فیصلے وقت رہتے کرنے ہونگے تاکہ برصغیر کے سر پر چھائے فضول جنگوں کے سائے ختم ہو سکیں۔

    اس ضمن میں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں میں خود کفیل ہے لیکن فورتھ جنریشن وار یا محدود روایتی جنگی ہتھیاروں میں خود کفیل نہیں بلکہ دوسروں پر انحصار کرتا ہے جس سے ہر سال قومی بجٹ کا ایک حصہ باہر کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو چلا جاتا ہے با امر مجبوری یا فیصلہ و پالیسی سازوں کی پالیسیز کی وجہ سے۔

    جبکہ بھارت کو یہ جنگی, سرجیکل سٹرائیکس اور فالس فلیگ آپریشنز کے غیر ضروری پنگے اسی لیئے سوجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کو چھیڑ کر کاؤنٹ ڈاؤن شروع کردیتا ہے اور جب الٹی گنتی دس سے ایک کی جانب خاتمے کے قریب پہنچتی ہے تو وہ تالی بجاتا ہوا بھاگ جاتا ہے کہ "ھھھھھھ پاکستان ڈر گیا پاکستان ڈر گیا”, حالانکہ پاکستان نے دس سے ایک کی الٹی گنتی کے دوران بیشک نو ٹھڈ بھارت کو رسید کردیئے ہوں وہ اہمیت رکھ کر بھی اہمیت نہیں رکھ پاتے کہ بھارت کا مقصد ٹھڈوں سے بچنا ہرگز نہیں بلکہ پاکستان کو بار بار روایتی جنگ کی دھمکی دیکر یا محدود روایتی جنگ میں گھسیٹ کر دنیا کو یہ میسج دینا مقصد ہوتا ہے کہ "ہوگی پاکستان کوئی واحد اسلامی ایٹمی خودمختار طاقت لیکن ہمیں فرق نہیں پڑتا”۔

    معاف کیجیئے نا تو میں پاکستان کو انڈر اسٹیمیٹ کررہا ہوں اور نہ ہی میرا یہ یقین بدلا ہے کہ پاکستان کوئی کمزور ریاست ہے پر میرا سادہ لفظوں میں کہنا یہ ہے کہ پاکستان کاؤنٹ ڈاؤن ٹائم کو کم کرنے کی سکت رکھتا ہے تو یہ کیوں اس ٹائم کو بجائے کم کرنے کے اور بڑھانے پر فوکسڈ ہے؟

    یقین مانیئے ایٹم بم اور ایٹمی وار ہیڈ لیجانے والے جدید میزائیل بنانے سے کئی گنا زیادہ اہم اب یہ مدعا ہے کہ جنگ کی گھڑی کا ڈائل اب ہماری مرضی سے چلے اور کاؤنٹ ڈاؤن ٹائم کی لمٹ دس سے کم کرکے پانچ کی جائے۔

    بھارت ایک بندر کے جیسے ہے, جو تب تک چھیڑ خانی کرتا رہے گا جب تک ہم اس کی اکڑ توڑ نہیں دیتے اور اس کی پونچھ کاٹ نہیں دیتے۔

    کشمیر اسی دن ان شاء ﷲ آزاد ہوجائے گا اور پاکستان اسی دن بھارتی جارحیت سے بالکل محفوظ ہوجائے گا جب پاکستان کا روایتی جنگ کا سازو سامان دس بیس دن کے بجائے صرف دو دن سے پانچ دن تک کا ہوجائے گا اور ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد آج سے دو گنی ہوجائے گی۔

    پاکستان کا اب بوس بننے کا وقت ہے اور بوس رسک لیتے ہیں جب بات بقاء اور وعدے وفا کو ایفاء کرنے کی ہو تب۔

    بھارت سے کشمیر چھڑانا ہے تو بھارت کے چھکے چھڑانے ہونگے اور اس کا پسینہ نکلوانا ہوگا ایک انجانے ڈر اور خوف کو اسکی سینا اور جنتا پر ہروقت طاری کرکے اور بھارتی سب سے زیادہ پرمانڑوں حملے سے ڈرتے ہیں, نہیں یقین تو تحقیق کرکے دیکھ لیں۔

    قصہ المختصر کہ کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی خودمختاری داؤ پر ہے صرف اَن لمیٹڈ جنگی گھڑی اور روایتی جنگ کے کنٹرولڈ ورژن کی وجہ سے۔

    امید ہے کہ میری اس تجزیاتی نما مشوراتی تحریر کو عائلی نظر سے پڑھ کر نظر انداز یا اختلاف برائے اختلاف کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

  • مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    مودی! امن کو موقع دو ۔۔۔ حافظ معظم

    بھارت ایک بار پھر آپے سے باہر ہوا جا رہا ہے، بھارتی جنگی جنون خطے کے امن کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، اگرچہ بھارت کا جنگی جنون ماضی میں بھی دیکھنے کو ملتا رہا ہے مگر بی جے پی اور باالخصوص نریندر مودی کی سیاست پاکستان اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر کھڑی ہے.
    مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال اور بالخصوص انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے مودی حکومت کے مکروہ عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے، یو این او کی 2018 رپورٹ برائے کشمیر اور انسانی حقوق کی پاسداری نے بھارتی چہرے کو بری طرح مسخ کیا ہے، اسی طرح یورپی یونین کی پارلیمنٹ میں 19 فروری کو ہونے والے اجلاس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر شدت سے سوال اٹھایا گیا.
    عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد سے انڈیا سٹپٹا گیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی دو مرتبہ پیشکش نے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے، کشمیر عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، چین، روس اور ترکی جیسے بڑے ممالک کشمیر ایشو پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں، ان حالات نے بھارت کو ہڑ بڑا کر رکھ دیا ہے.
    بھارت کو لگتا ہے کہ شاید اب کشمیر کہیں اس کے ہاتھ سے نکل نہ جائے، یہی وجہ ہے کہ بھارت عالمی توجہ کشمیر سے ہٹانے کے لیے کسی نئے ایڈونچر کی تیاری میں لگا ہوا ہے، لائن آف کنٹرول پر مسلسل سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارت کی جانب سے سول آبادی کو نشانہ بنائے جانے سے اب تک کئی معصوم پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، تازہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے آزاد کشمیر میں ایل او سی کے نزدیک سول آبادی کو کلسٹر بمبوں کے زریعے نشانہ بنایا گیا ہے، یاد رہے کلسٹر بم کا استعمال جینوا اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے.
    بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں نئے فوجی دستوں کی تعینات کرنا، فوج اور ایئر فورس کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دینا، مقبوضہ کشمیر میں قبل از وقت گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کرنا اور تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم دینا، مقبوضہ وادی میں سیاحت کے لیے آئے سیاحوں کو فوری طور کشمیر چھوڑنے کا حکم دینا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، آخر بھارت کی جانب سے ان تمام اقدامات کا مقصد کیا ہے؟ بھارتی اقدامات واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ کسی نئے ایڈوینچر کے موڈ میں ہے.
    پاکستان کی امن کی کوششوں کو پاکستان کی کمزوری سمجھنا مودی قیادت کی احمقانہ سوچ ہے، بھارت کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، پاکستان کے پاس جدید ترین جوہری ہتھیار، ایڈوانس میزائل ٹیکنالوجی اور دنیا کی بہترین مسلح افواج ہیں، بھارت کا ہر ایک شہر پاکستان کے نشانے پر ہے، بھارت نے کسی قسم کا کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو اسے ایسا دندان شکن جواب ملے گا کہ بھارت کی آنیوالی نسلیں یاد رکھیں گی، مودی کا جنگی جنون بھارت کو لے ڈوبے گا.
    پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، پاکستان کی جانب سے ہمیشہ مصالحت پسندانہ رویہ اپنا گیا، ہر بار بھارت کو دعوت دی کہ مزاکرات کی میز پر مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں لیکن بھارت کے سر پر تو جنگ کا بھوت سوار ہے، مودی امن کو موقع دینے کو بلکل بھی تیار نظر نہیں آتا، بھارتی حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ جنگیں مزید مسائل کو جنم دیتی ہیں، پاکستان انڈیا کا تصادم پورے حطے کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دے گا اسلیے مودی کو چاہیے کہ اپنے جنگی جنون سے باہر نکلے اور مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرے، تاکہ اس خطے کو تباہی سے بچایا جا سکے اور امن کو موقع دیا جا سکے.

  • کشمیری رہنماء یٰسین ملک کی زندگی خطرے میں ، باغی ٹی وی نے اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا

    کشمیری رہنماء یٰسین ملک کی زندگی خطرے میں ، باغی ٹی وی نے اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا

    لاہور : تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں یٰسین ملک کی جان خطرے میں ، بھارت تحریک آزادی کو دبانے کے لیے یٰسین ملک کو جان سے مارسکتا ہے. اقوام متحدہ جلد از جلد کشمیری رہنما یٰسین ملک پرہونے والے مظالم کا نوٹس لے اور یٰسین ملک کو بھارتی قیدسے نجات دلائے

    باغی ٹی وی نے اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہےکہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ یٰسین ملک کی زندگی اس وقت خطرے میں ہے اور بھارتی حکام ان کو طبی سہولیات نہ تو خود فراہم کررہے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو اس بات کی اجازت دی جارہی ہے کہ وہ یٰسین ملک کو طبی سہولیات فراہم کرسکے.

    باغی ٹی وی نے اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ جنتی جلدی ہوسکے یٰسین ملک کے علاج معالجے کے انتظامات کرے کہیں‌ایسا نہ ہو کہ عالمی برادری کی عدم توجہ کی وجہ سے کشمیری قوم یٰسین ملک جیسے عظیم رہنماء سے محروم ہوجائے

  • بھارت انسانی تاریخ کا بڑا قتل عام کرنے جارہا ہے؟ بزرگ کشمیری لیڈر کا ایسا پیغام کہ مسلم دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا

    بھارت انسانی تاریخ کا بڑا قتل عام کرنے جارہا ہے؟ بزرگ کشمیری لیڈر کا ایسا پیغام کہ مسلم دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا

    حریت کانفرنس جموں‌ کشمیر کے چیئرمین اور بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے امت مسلمہ کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل درآمد کرنے جارہا ہے، ہم دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں کو خبردار کرتے ہیں کہ بھارتی جارحیت اور نسل کشی کے نتیجہ میں ہم شہید ہوگئے اورتم چپ رہے تو یوم آخرت پر اللہ کو جواب دینا پڑے گا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی کی ٹویٹ پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور مسلمانوں کی جانب سے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرنے کا سلسلہ جاری ہے، بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے کہاکہ میں کرہ ارض کے تمام مسلمانوں کوخبر دار کررہا ہوں کہ اگر ہم شہید ہوگئے اور آپ چپ رہے تو آپ کو اللہ تعالیٰ جو جواب دینا پڑے گا ۔ سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ اللہ ہم سب کی حفاظت کرے ۔

    واضح رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پچھلے چند دنوں‌ میں 38 ہزار مزید فوجی تعینات کئے ہیں اور جموں‌ کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کرنے کی خوفناک سازشیں کی جارہی ہیں، اس دوران بھارت نے کنٹرول لائن پر فوج کی تعداد بڑھا دی ہے، تمام اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے، یاتریوں اور سیاحوں‌ کو فوری کشمیر چھوڑنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور تمام حریت قیادت کو حراست میں لے لیا گیا ہے. اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے اس خطرے کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیر میں سب سے بڑا قتل عام کرنے جارہا ہے،

  • کلسٹر بم 2000 بموں کا مجموعہ ؟ دنیا کا خطر ناک ترین ہتھیار ، کیسے ؟

    کلسٹر بم 2000 بموں کا مجموعہ ؟ دنیا کا خطر ناک ترین ہتھیار ، کیسے ؟

    لاہور : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے کشمیریوں پر کلسٹر بموں سے حملے جاری ہیں ، جس کی وجہ سے بہت زیادہ جانی نقصان کا خدشہ ہے. اس سے پہلے کلسٹر بم افغانستان میں‌پھینکے گئے . یہ بم کتنے خطر ناک ہیں اس کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپور ٹ میں بہت اہم معلومات دی گئی ہیں.

    رپورٹ کے مطابق کلسٹر بم دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہیں، اسی وجہ سے ان پر 120 ممالک نے پابندی لگائی، یہ بم کیا ہیں اور کیا کر سکتے ہیں؟یہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے.

    کلسٹر بم فضا یا زمین سے پھینکے جانے والے گولوں کی ایک ایسی قسم ہے جس کے اندر چھوٹے چھوٹے مزید گولے موجود ہوتے ہیں۔ یہ گولہ جب پھینکا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والے مزید چھوٹے گولے وسیع علاقے میں جانی نقصان یا گاڑیوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک بنیادی کلسٹر بم خالی شیل ہوتا ہے جس کے اندر 2 سے لے کر 2000 تک چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ کلسٹر بم پھینکے گئے بلکہ اس سے پہلے کلسٹر بم کا استعمال دوسری جنگ عظیم کے دوران سویلین اور ملٹری اہداف کے خلاف کیا گیا۔ یہ گولے حملے کے وقت بھی اور بعد ازاں بھی سول آبادیوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ نہ پھٹنے والے گولوں کو اگر ہٹایا یا ناکارہ نہ بنایا جائے تو طویل عرصے بعد بھی یہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ انہیں تلاش کرنے اور ہٹانے کی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

    یہی وجہ ہے مئی 2008 میں آئرلینڈ میں کلسٹر بموں پر ہونے والے کنویشن کی توثیق کرنے والے ممالک پر اس بم کے استعمال کی پابندی عائد ہے جب کہ 2010 سے اس پر پابندی انٹرنیشنل قوانین کا حصہ ہے اور اب تک 120 ممالک اس کنونشن میں شامل ہیں۔

    دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہےکہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر پھینکے گئے کلسٹر بموں کی تحقیقات کرکے بھارت کے خلاف کارروائی کی جائے

  • مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    مسئلہ کشمیر، پاکستانی موقف کی جیت اور بھارتی ناکام ہتھکنڈے ۔۔۔انشال راؤ

    ہندوستان کے شمال مغربی حصے میں ایک آزاد مسلم ریاست قائم ہوگی، "گاہ میری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود” یہ اقبال ہی تھے جس نے اس وقت تقدیر مبرم کا مشاہدہ کرلیا تھا جب قائداعظم نے 14 نکات ہی پیش کیے تھے پھر دنیا نے دیکھا کہ قدرت والے نے پاکستان کو رمضان کے مہینے میں نازل فرمایا اور اہم بات یہ کہ اللہ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جس کا علاج پہلے نہ پیدا کیا ہو بالکل اسی طرح اسرائیل کے وجود سے 9 مہینے پہلے پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تقسیم ہند اس بنیادی اصول کے تحت طے پائی تھی کہ مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت میں، اس حساب سے کشمیر قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتا تھا مگر انگریز کی عیاری اور بدنیتی کے باعث کشمیر کا معاملہ ادھورا رہ گیا جس پر لارڈ ماونٹ بیٹن و نہرو نے غاصبانہ قبضہ جمالیا اس حق تلفی کے سبب پاکستان و بھارت کے مابین کئی خونریز جنگیں بھی ہوئیں جن میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوے اور باہمی کشیدگی پر ہر سال ارب ہا ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، معاملہ شروع میں اقوام متحدہ کے احاطے میں گیا مگر اقوام متحدہ کی عدم دلچسپی اور بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث آج تک حل نہ ہو پایا، اس ضمن میں شملہ معاہدہ کے تحت دونوں ملک مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات سے حل کرنے پہ متفق تو ہوے مگر کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا، دانشمندی تو اسی میں تھی کہ دونوں ملک ستر سالہ مخاصمت کو مٹانے کے لیے کوئی عملی کام کرتے، عین ممکن تھا ایسا ہو بھی سکتا تھا مگر ہندوتوا دہشتگرد کبھی بھی ہندو مسلم منافرت کی دیوار برلن کو گرانے کے لیے تیار نہیں بلکہ مودی سرکار میں تو ہندوتوا دہشتگردی سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔ جنوبی ایشیا کو کشیدگی سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے کیا جائے، ماضی میں اس کی راہ میں سوویت یونین کا ویٹو بھی حائل تھا اور امریکی عدم دلچسپی بھی مگر اب امریکہ نے اس مسئلے کے حل میں گہری دلچسپی دکھائی ہے، دورہ عمران خان کے موقع پر امریکہ نے کشمیر پہ ثالثی کا بیان دیا اور اب اس مسئلے کو نمٹانے کا عزم کا اظہار کیا ہے لیکن یہ بات عالمی حالات کے تناظر میں دیکھی جائے تو ہر ذیشعور شخص جانتا ہے کہ امریکہ نیو ورلڈ آرڈر کے قیام کے لیے سر توڑ کوشش کرتا آرہا ہے جیسا کہ اب چین امریکہ کے مقابلے میں ایک طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آرہا ہے تو دوسری طرف روس ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے ایسے میں امریکہ کو اس پورے علاقے میں ایک دوسرے اسرائیل کی بھی ضرورت ہے جو شاید ممکن نظر نہیں آتی البتہ مشکل ضرور ہے، اس ضمن میں بھارتی ڈیفینس ریسرچ ٹیم کے سربراہ کی رپورٹ میں بتایا جاچکا ہے کہ امریکہ کا آزاد خود مختار کشمیر کے قیام کا منصوبہ ہے جوکہ آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور جموں و لداخ کے علاقوں پہ مشتمل ہے اور آزاد خود مختار کشمیر کا آپشن "آل پارٹیز حریت کانفرنس” کے دستور میں شامل ہے مزید برآں ملک یاسین سے انڈین ٹی وی کے اینکر کا خودمختار ریاست کا سوال جس پہ ملک یاسین کا یہ کہنا کہ آپشن موجود ہے اور حریت پسند تنظیم کے سپریم کمانڈر عمر خالد کا روزنامہ جنگ میں شایع ہونے والا انٹرویو بھی موجود ہے جس میں انہوں نے واضح کہا تھا کہ کشمیر میں خودمختاری کا نظریہ فروغ پانے لگا ہے اور یہ بات سب پہ عیاں ہے کہ جنگ جیو گروپ کو بات متن سے ہٹا کر پیش کرنے میں اولیت حاصل ہے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 2010 کے بعد سے بالعموم اور 2014 کے بعد سے بالخصوص کشمیری عوام میں نظریہ پاکستان کی جڑیں زیادہ گہری ہورہی ہیں اور اگر کشمیر خودمختار بھی بنتا ہے تو بھی سو فیصد پاکستان کے حق میں ہے کیونکہ کشمیری بھائیوں سے پاکستان کا رشتہ قیام پاکستان سے پہلے ہی قائم ہوگیا تھا جس کا عملی مظاہرہ 1931 سے شروع ہونے والا آزادی کا جذبہ سامنے آچکا ہے اور قیام پاکستان کے فوری بعد گلگت بلتستان بریگیڈ کے کمانڈر کا سپاہ سمیت پاکستان کے حق میں کھڑا ہوجانا بھی ریکارڈ پہ موجود ہے یہ درحقیقت خالصتاً انڈین رپورٹ تھی جوکہ مسئلہ کشمیر کے حل کو ٹالنے کے لیے ایک ہتھیار بھی تھا مقصد کشمیری اور پاکستانی عوام میں بددلی و بےچینی پیدا کرنا تھا جیسا کہ ماضی میں بھارت کامن ویلتھ ٹروپس یا امریکی ثالثی کو پاکستان کے سیٹو اور سینٹو پیکٹ کو لیکر بطور ہتھیار استعمال کرتا رہا اور Demilitarize کرنے سے بھاگتا رہا جس کے سبب استصواب رائے نہ ہوسکی لیکن اب شاید بھارتی ہتھکنڈے زیادہ نہ چل سکیں کیونکہ پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کے حل کو لیکر بحث جاری ہے 2014 میں برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر ڈبیٹ میں واضح طور پر کہدیا گیا تھا کہ Kashmir is not a forgotten conflict اس کے علاوہ یورپی یونین اور برطانیہ نے بھی بھارتی اٹوٹ انگ کے دعوے کی نفی کردی ہے کہ Kashmir is unresolved issue جس سے پاکستانی موقف کی جیت ہوگئی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ماضی قریب کی پاکستانی حکومتوں کا کشمیر کے مسئلے پہ عملی کام مایوس کن رہا حتیٰ کہ UNSC کی طرف سے کشمیر کو Unresolved Issue کی فہرست سے نکالنے کے لیے پاکستان سے موقف مانگنے پر حکومت وقت نے کوئی جواب ہی جمع نہیں کروایا لیکن 2014 میں قدرت نے اس وقت دوبارہ زندہ کردیا جب David Ward برطانوی پارلیمینٹیرین سمیت دیگر نے اسے Unresolved issue قرار دیا جسکی جزوی تائید یورپی یونین نے بھی کی لیکن افسوس پاکستانی حکومت اور اینکر مافیا اس وقت کہاں سوئے تھے جس پر کمنٹ کا حق قارئین خود استعمال کریں، اس کے علاوہ فروری 2019 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد یورپی یونین سمیت پوری دنیا نے اس مسئلے کے حل کو دنیا کے امن کے لیے ضروری قرار دیا ہے، اب امریکہ کے ساتھ ساتھ چین بھی کشمیر کے حل کے لیے سرگرم ہے جس کے بعد سے بھارت نے کشمیر میں پچاس ہزار مزید فوجی دستے بھیج دیئے ہیں اور کنٹرول لائن پر شدید دراندازی شروع کررکھی ہے مزید برآں امرناتھ یاترا پہ آنیوالوں پہ حملے کا خدشہ قرار دے رہا ہے عین ممکن ہے کہ پارلیمنٹ حملے کی طرح کوئی حملہ کرواکر دنیا میں پاکستان کے خلاف ڈھونگ رچائے دوسری طرف یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس سال امرناتھ یاترا پہ جانے والوں کی تعداد ابتک کی تاریخ کی سب سے بڑی تعداد ہے یقینی ہے کہ ان کی آڑ میں ہزاروں ہندوتوا دہشتگرد خطے میں بھیجے گئے ہوں جن کے مذموم مقاصد مکتی باہنی طرز کے ہوسکتے ہیں جسے بھارت پروپیگنڈے کے تحت حریت پسندوں کے خلاف استعمال کرسکتا ہے لیکن انشاءاللہ اب کی بار بھارت کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

  • ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ماہ آزادی اور ہم ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    ہم ایک بار پھر یوم آزادی منانے جا رہے ہیں،یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں تحریک آزادی میں شامل ہمارے قومی رہنماؤں اوراسلاف کی قربانیوں کے نتیجے میں برطانوی سامراج سے آزاد ہوکر دنیا میں کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا دوسرا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان معرض وجود میں آیا۔ یوم آزادی ہر سال کیطرح 14اگست کو سرکاری و قومی سطح پر شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔مسلم لیگ نے برصغیر کو قائداعظم محمد علی جناح‘ علامہ اقبال‘ نواب بہادر یار جنگ‘ خواجہ ناظم الدین‘ شیر بنگال‘ مولوی فضل الحق اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنما دئیے جن کی محنت اورجہد مسلسل کے نتیجہ میں آج ہم ایک آزاد وطن میں سکھ کا سانس لے رہے ہیں۔ آج یوم آزادی کی اہمیت‘ اسلاف کی قربانیوں اور ان کے پیغام کو بھر پور اندازمیں اجاگر کرنے اور ہرمکتبہ ہائے فکر خاص طور پر نوجوانوں تک پہنچانے کی اشد ضرورت ہے،
    ہمیں اس وطن کی ترقی و دفاع کیلئے ہر وقت کام کرنا چاہئیے، اپنے محافظوں کی عزت کریں، انکے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں، اپنے اپنے شعبہ سے انصاف کریں،
    ہم سب کو چاہئیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھرپور شکر ادا کریں، اور رب العزت کا شکریہ ادا کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ ہم شکرانے کے نوافل ادا کریں اور اپنے سر کو اللہ کے سامنے جھکا دیں،
    ناکہ ہم اس مہینے میں اپنوں کی قربانیوں، شہادتوں کا مذاق بننے کا سبب بنیں، موٹر سائیکلوں کے سائلنسرز نکال کر منہ پر پینٹ کر کے آوارہ گردی کریں اور بلا وجہ کے تماشے کر کے اھل وطن کو تنگ کریں۔

  • مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔ غنی محمود قصوری

    یوں تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندوستان کئی مرتبہ پاکستان سے منہ کی کھا چکا مگر پھر وہی اب کی مار کے دکھا کے مصداق پھر نئے سرے سے مار کھانے کو تیار رہتا ہے
    ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ کارگل اور پھر 27 فروی 2019 کے بعد اب سب سے بڑی ذلت انڈیا کی مقبوضہ وادی کشمیر میں بننے جا رہی ہے
    اس جنوری میں پلوامہ میں ہندوستانی فوج پر ہوئے حملے کے بعد 20 کمپنی فوج کا اضافہ کیا گیا حریت راہنماؤں کو جیل میں ڈالا گیا اور تقریبا ساری حریت قیادت ابھی بھی جیلوں میں قید ہے مودی سرکار نے سوچا تھا کہ اب فوج میں اضافہ کرکے حریت قیادت کو جیل میں ڈال کے وہ آزادی کی تحریک کو ڈبا لے گا مگر نتجہ میں ہندوستانی فوج میں خودکشیاں بڑھیں اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے مجاھدین نے بھی اپنے حملے انڈین فوج پر تیز کر دیئے نیجہ میں بھارتی فوج کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا تو دوسری جانب برسر پیکار مسلح فریڈم فائٹرز کی شہادتوں میں بھی اضافہ ہوا اس وقت تقریبا ریاض نیکو کے علاوہ سارے ٹاپ کمانڈر شہید ہو چکے ہیں جسے شاید ہندوستانی فوج اپنی فتح سمجھ رہی ہے مگر وہ بھول گئے کہ برہان مظفر وانی بھی تو ایک غیر مسلح فریڈم فائٹر تھا اور ایک شوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھا پھر پھر آخر کیا ہوا کہ وہ غیر مسلح سے مسلح ہو کر ایسا لڑا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونگ گیا دنیا خاص طور پر ہندوستانی فوج برہان وانی کی دلیری کا برملا اعتراف کرچکی ہے
    اب اگر اس بنیاد پر انڈیا فوج میں اضافہ کرے کہ سارے مجاہدین شہید ہو چکے ہیں اور وہ فوجی اضافے سے غیر مسلح کشمیری عوام کے دلوں میں اپنی ڈھاک بٹھا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے انڈیا ابتک کتنی بار فوجی اضافہ کر چکا سیاحت کے بہانے ہندءوں کو کشمیر میں بسا چکا کچھ دیگر تھوڑی بہت سہولیات کا لالچ دے کر کشمیریوں کے دل جیتنے کی کوشش کر چکا مگر ہر بار ناکام رہا کیونکہ کشمیریوں کے نزدیک آزادی کے سوا دوسرا راستہ ہے ہی نہیں لہذہ انڈیا فوجی اضافہ کرنے کی بجائے کشمیریوں کو ان کا حق حق آزادی اور کشمیر سے فوجیں نکال کر فوج پر صرف ہونے والے پیسے سے اپنی عوام کو سہولیات دے جو جو عوام خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے

  • کیا ہندوستان خطے کا امن تہہ و بالا کرنے جا رہا ہے — فہیم شاکر

    2 اگست 2019 دوپہر 1 بجکر 3 منٹ ہوئے ہیں
    جیو نیوز کے ٹویٹر ہینڈلر سے ٹویٹ کی جاتی ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ معاملات بگڑتے جا رہے ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں
    دوسری طرف انڈیا ٹوڈے نے خبر لگائی کہ 28 ہزار فوجی وادی کشمیر کی طرف روانہ ہو چکے ہیں ہفتے عشرے قبل 10 ہزار فوجی روانہ ہوئے تھے
    تیسری طرف ANI نے خبر لگائی کہ موجودہ حالات کی سنگینی کے تناظر میں حکومت نے بھارتی فضائیہ اور آرمی کو ہائی آپریشن الرٹ موڈ پر کر دیا ہے اسی طرح 2 اگست 2019 دوپہر 3 بجکر 13 منٹ پر ANI ٹویٹ کرتا ہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی تیارکردہ اینٹی پرسنل مائن (فرد شکن بارودی سرنگ) سیکیورٹی فورسز نے برآمد کر لی ہے اور اس کے ذریعے بھارتی میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے جبکہ دنیا واضح طور پر جانتی ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے
    یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ انڈیا نے کہانی پہلے سے ہی لکھ رکھی تھی اب اس پر عمل ہو رہا ہے
    ورنہ کشمیریوں کو یہ نہ کہا جاتا کہ مہینے بھر کا راشن جمع کر لیں
    انڈیا کے عزائم صرف خطرناک ہی نہیں ہیں بات اس سے بہت آگے جا چکی ہے
    مقبوضہ وادی میں ایک بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں کی آمد اور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے تحاشہ گولہ باری تاکہ پاکستان کو اشتعال دلایا جا سکے اور شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ حالات بگڑتے جا رہے ہیں اور میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ ارسال کر رہا ہوں یہ سب کسی بڑے حادثے کی طرف اشارہ دے رہے ہیں
    ہندوستان لائن آف کنٹرول پر پاکستانی علاقوں میں گولہ باری کر کے عام آبادی کو نشانہ بناتا ہے جس سے افراد شہید اور زخمی ہوتے ہیں جبکہ پاکستان ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ بارڈر کے دونوں اطراف مسلمان آباد ہیں اور انڈیا اسی ایک بات کا بے تحاشہ فائدہ اٹھاتا ہے
    کچھ عرصہ قبل ہندوستانی معروف کرکٹر دھونی کی مقبوضہ کشمیر آمد اور فوج میں ایک ماہ کے لیے خدمات انجام دینے کی خبریں بھی زیر گردش رہیں انڈیا سے کچھ عبث نہیں کہ وہ دھونی کو مروا کر الزام پاکستان پر دھر دے اور بڑی جنگ چھیڑ دے
    اب آئیے پاکستان کی طرف
    کوئٹہ بم دھماکہ،طیارہ حادثہ، افغان بارڈر پر شہادتیں، بارشوں سے ہلاکتیں، سیلابی صورتحال، وادی نیلم بھارتی شیلنگ، اور آج پشین دھماکہ جس میں 10 افراد کی شہادت کی اطلاع،
    اور دوسری طرف پاک فوج پاکستان کے اندر سیلابی صورتحال سے نبرد آزما جبکہ سیاہ ست دان ملکی سپریم اداروں پر لاف زنی میں مصروف، کسی کو احساس ہی نہیں دشمن پر تول چکے ہیں، اور پاکستان کی سلامتی اس وقت شدید خطرے میں ہے، ملکی دفاع صرف فوج ہی کا کام نہیں، عوام کو ہر حال میں فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ہوگا سیاہ ست دانوں کی بات البتہ الگ ہے وہ تو کبھی پاکستان سے مخلص رہے ہی نہیں
    لیکن اس کے باوجود ان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اگر انہیں کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچا یا قتل کرنے کی کوشش کامیاب ہو گئی تو ان کی پارٹی کے افراد ریاست کے خلاف بغاوت کر کے دشمنوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دے سکتے ہیں اور یہی خواہش پاکستان دشمنوں کی ہے اور یہی سیاہ ست دان چاہتے ہیں،. جیسے کہ مریم نواز آئے روز ریاست کو للکارتی اور طیش دلاتی ہے لیکن ریاست صرف برداشت کرنے کی اصول پر کاربند ہے ورنہ مریم نواز نے اپنی طرف سے کمی کوئی نہیں چھوڑی، اور حکومتِ وقت پر الزامات کی بوچھاڑ کر اپنے پارٹی کارکنان کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہی کہ پاکستان کے تمام کردہ و ناکردہ جرائم، موجودہ و ماضی کے تمام مسائل کی جڑ خان ہی ہے تاکہ اگر خدانخواستہ مریم نواز کو کچھ ہوتا ہے (جس کے چانسز 70 فیصد موجود ہیں) تو پارٹی کارکنان خان کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیں اور اس ساری صورتحال کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچے گا یہ ہم سب جانتے ہیں تو یہ بالکل واضح ہے مریم نواز دانستہ کن قوتوں کی آلہ کار بن چکی ہے؟ اور وہ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے کر رہی ہے
    اور قوم کو بغاوت پر اکسانے والے بالکل تیار بیٹھے ہیں
    میں نے اپنی گذشتہ تحاریر میں اس بات کس شُدمُد سے اظہار کیا تھا کہ مودی سرکار پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرے گی تو کچھ دوستوں نے اس بات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب انڈو پاک جنگ کا لالی پاپ دینا بند کیا جائے اور پاکستان ہندوستان مُڈبھیڑ کا چورن بیچنا بند ہونا چاہیے لیکن انہی دوستوں کی خدمت میں آج ساری صورتحال پیش کر کے یہ کہہ رہا ہوں کہ دیکھ لیجیے ہماری کہی بات پوری ہو رہی ہے
    حالانکہ ہم نے کسی قدر کم خطرے کا اظہار کیا تھا لیکن موجودہ خطرہ بیان کردہ سے 10x زیادہ ہے
    کیونکہ ہندوستان نے جس انداز سے مقبوضہ وادی میں موجود سیاحوں کو فوری وادی سے نکل جانے کا حکم دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان یا تو مقبوضہ وادی کو چاروں طرف سے گھیر کے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے جا رہا ہے یا پھر پاکستان کے ساتھ کوئی نئی پنجہ آزمائی کا ارادہ رکھتا ہے لیکن کیا پاکستان بے خبر ہے؟
    سوشل میڈیا کے شیروں کو خبر ہو کہ پاکستان بالکل تیار کھڑا ہے اور پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں جواب دینے کی پوزیشن میں ہے
    لیکن کیا ہم سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور مسلح افواج کی پشتیبانی کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم. اس محاذ پر جنگ لڑنے کو تیار ہیں؟
    یاد رکھیے اب نعروں سے کام چلنے والا نہیں، اب دشمن پراپیگینڈہ تیز کرے گا اور من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلائے گا تاکہ وطن عزیز کے اندر انتشار پھیلے لیکن آپ ہی وہ تازہ دم دستہ ہیں جنہوں نے ملک و قوم کو اصل حالات سے باخبر رکھنا ہے اور دشمن کی پھیلائی جھوٹی افواہوں کو ختم کرنا ہے
    پاک فوج وطن عزیز کے چپے چپے کے دفاع کے لیے بالکل مستعد ہے لہذا آپ بھی وطن کے دفاع کی خاطر *استعدوا* ہوجاو