Baaghi TV

Category: بلاگ

  • آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آج یونیورسٹی میں ایک دوست نے بڑا ہی عجیب سوال کر ڈالا کہ "آج پوری دنیا میں مسلمان اپنا مقام کیوں کھو چکے ہیں، مسلمانوں کو حقارت بھری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟”
    کہنے کو تو یہ ایک عام سا سوال ہے لیکن اس سوال کے پس منظر میں چھپے اسباب بہت ہی کڑوے ہیں، کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہم اپنا مقام کھو چکے ہیں، دنیائے کفر ہم پر چڑھ دوڑی ہے اور ہم بے بسی اور بے حسی کے تصویر بن چکے ہیں، جو دین آیا ہی غالب ہونے کے لیے تھا آخر اس کے پیروکار بے یارو مددگار کیوں ہو گئے.
    شاید اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا

    شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
    ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    آخر ہم کیوں بدنام نہ ہوتے، ہر وہ کام جس سے ہمیں ہمارا دین اسلام منع کرتا ہے ہم نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے، کہلوانے کو تو ہم سب مسلمان ہیں لیکن کیا ہم میں کوئی ایسی صفت موجود ہے جو ہمیں ایک کامل مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہو، اگر آج ہم اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں تو شاید ہی ہم اپنے اندر کوئی ایسی صفت تلاش کر پائیں جو ایک سچے اور کامل مسلمان کا خاصہ ہونی چاہیے، فرقہ واریت کے ناسور نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے.
    ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
    ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘

    آج ہم فرقوں میں اس قدر بٹ چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں، اپنے اپنے فرقوں کے بنائے گئے خود ساختہ خول میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے ہیں، غیر اسلامی رسومات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا چکے ہیں.
    یہ دنیا فانی ہے ہر ذی روح نے اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے، کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ قبر میں جب فرشتے ہمارا حساب کتاب کرنے آئیں گے تو کیا وہ ہم سے یہ سوال کریں گے کہ بتا تیرا فرقہ کیا ہے؟ تو کس فرقے کا پیروکار ہے؟
    ہر گز نہیں! فرشتے نے ہم سے یہ سوال کرنے ہیں کہ بتا تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تو کیا ہم اس وقت اندھیری قبر میں فرشتے کے ان سوالوں کے جواب دے پائیں گے، جس طرح ہم زندگی کے امتحانات کے لیے بھر پور تیاری کرتے ہیں اسی طرح ہمیں قبر کے امتحان کے لیے بھی تیاری کرنا ہو گی.
    ہمارا اللہ بھی ایک، ہمارا رسول بھی ایک اور ہمارا دین بھی ایک تو پھر آخر ہم منتشر کیوں ہیں.
    ٹرک کی بتی کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں حق اور سچ کو تلاش کرنے اور جاننے کی کوشش کریں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں، دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تعمیل کرنا ہو گی، فرقہ واریت کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا، محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا.
    نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اس دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے.
    اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو. آمین

  • دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    دریا دل "سردار کوڑے خان” کے نام سے چلنے والے سکول کی این جی او کو حوالگی ۔۔۔ نعمان بھٹہ

    سردار کوڑے خان جتوئی ضلع مظفر گڑھ کا ایک رئیس گزرا ہے۔ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود اپنی معاملہ فہمی ، تدبر ، سخاوت اور رفاہی کاموں میں پیش پیش رہتا تھا ۔ انگریز حکومت نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ” خان بہادر ” کے خطاب سے نوازااور انہیں آنریری مجسٹریٹ کاعہدہ دیا گیا۔انہوں نےسر سید احمد خان کی علی گڑھ تحریک میں برصغیر میں سب سے زیادہ فنڈ دئیے، جو کہ تاریخ کا حصہ ہے۔
    سردار کوڑے خان نے پانچ شادیاں کیں لیکن خدا کی مرضی کہ ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔انہوں نے 1892ء میں اپنی جائیداد کا ایک تہائی حصہ تقریبا ایک لاکھ (100000) کنال زمین رفائے عامہ کے کاموں کے لئے وقف کر کےاس وقت کی حکومت کے حوالے کر دی جو بعدازاں ضلعی انتظامیہ کے سپرد ہو گئی۔اس زمین کی آمدنی کیا تھی اور یہ کہاں خرچ ہوتی تھی اس کا کوئی حساب نہ رکھا گیا اور یہ مال غنیمت کی طرح کئی دہائیاں خرد برد ہوتی رہی۔ضلع کونسل نے 1983 ء میں سردار کوڑے خان پبلک سکول کی بنیاد رکھی اس سکول کو پہلے پانچ سات سال تو ضلع کونسل نے چلایا پھر خود مختیار ادارہ بنا کر اس سے ہاتھ کھینچ لیاگیا۔ دو چار سال ایک مختصر سی سالانہ گرانٹ بھی دی جاتی رہی جو بعد میں 1992ء میں بند کر دی گئی۔اس کے بعد یہ ادارہ خود کماؤ خود کھاؤ کے اصول کے مطابق چلنے لگا۔انہی دنوں حکومت کی طرف سے ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر ڈویژنل پبلک سکول بنانے کے لئے فنڈ آئےجس کے لئے زمین بھی دی گئی تھی لیکن معلوم نہیں کیوں مظفر گڑھ میں "ڈویژنل پبلک سکول ” نہ بن سکا بلکہ سردار کوڑے خان پبلک سکول کو ہی” ڈویژنل پبلک سکول” کے طرز پر چلایا جانے لگا۔سکول کا انتظام چلانے کے لئے اس حوالے سے بورڈ آف گورنرز بنائے گئے۔ڈویژن کے کمشنر کو اس بورڈ کاچئیر مین اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو اس کاوائس چئیرمین بنایاگیا جبکہ سکول کا پرنسپل اس کا جنرل سیکرٹری ہوتا تھا۔ کمشنر کی مصروفیات کے باعث اکثر اوقات ڈپٹی کمشنر ہی کمشنر کی نمائندگی کرتا اور تمام معاملات بورڈ آف گورنرز کی مشاورت سے طے پاتےرہے۔سردار کوڑے خان پبلک سکول جس کا آغاز ایک پرائمری یا مڈل سکول کے طور پر ہوا تھا بہت سے گرم سرد حالات سہتا ہوا آگے بڑھتا رہا – 1994 ء میں کرنل صابر جب اس کے پرنسپل بنے تو اس سکول میں طلباءکی تعدار بمشکل دو اڑھائی سو تھی۔انہوں نے سکول میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے اور اس کو خود مختیار ادارہ بنا پر محنت کی اور اس کی بنیاد کو اتنا مضبوط کیا کہ لوگوں کا اس کی طرف رحجان ہوا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ سکول تیزی سے ترقی کرنے لگا ۔ مختلف سربراہان کے دور میں بھر پور محنت کے بعد یہ ادارہ ضلع کے تعلیمی میدان میں اپنا منفردمقام بنانے میں کامیاب ہو گیا۔سردار کوڑے خان پبلک سکول پہلے سکینڈری بعدازاں 2001ء میں ہائیر سکینڈری سکول کے درجے پر پہنچ گیااور اس وقت اس سکول میں طلباء کی تعدا پندرہ سو کے لگ بھگ ہو گئی۔ 2005ء میں پروفیسر خورشید نے بطور پرنسپل اس ادارے کا چارج سنبھالا تو اس کے اندر انقلابی تبدیلیاں آئیں کئی نئی عماراتیں بنائی گئیں اور مختلف شعبہ جات کا آغاز کیاگیاساتھ ہی سکول میں نئے سٹاف کی بھرتی کے لئے ایک نیا اور جدید سسٹم متعارف کرایا گیا۔اساتذہ بھی اس سسٹم میں امتحان دے کر اگلے گریڈ میں ترقی کرتے تھے۔ اس دوران ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں اس سکول نے مسلسل میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں نمائیاں نتائج حاصل کیے۔ سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد بھی چار ہزار کے قریب پہنچ گئی۔پروفیسر خورشید تقریبا نو سال پرنسپل رہے اورسکول کو مالی لحاظ سے بھی ایک مستحکم بنیاد فراہم کر گئے۔ان اصلاحات کی وجہ سے ہی آج اس سکول میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد پینتالیس سو سے تجاوز کر چکی ہے۔اس دوران مظفر گڑھ کے ایک سرائیکی قوم پرست رہنما”مظفر خان مگسی ” نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سردار کوڑے خان جو جائیداد وقف کر گئے تھےاس کا ضلعی حکومت سے حساب لیا جائے ۔ کوئی تیس سال یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہااور بلآخرسپریم کورٹ نے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تاریخی فیصلہ سنایا کہ سردار کوڑے خان کی ساری جائیداد کوقبضہ گروپوں سے واگزار کراکے اس کا ٹرسٹ بنایا جائے۔سردار کوڑے خان ٹرسٹ کا چئیر مین ڈسٹرکٹ سیشن جج مقرر کیا گیاساتھ ہی سردا کوڑے خان کے نام سے چلنے والے تمام سکولوں کو ٹرسٹ کے تحت چلائےجانےکا فیصلہ دیا۔ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کے نتیجہ میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ قائم ہوا اورسردار کوڑے خان کی جائیداد کی آمدنی جو چند لاکھ روپے تھی تھوڑے ہی عرصے میں چالیس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ اس پہلے 2005ء میں ضلع کونسل نے تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر پر بھی سردار کوڑے خان کے نام سے مڈل سکول بنا دئیے گئے تھےجو زیادہ تر سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول کی طرف سے دئیے گئے قرض اور امداد پر چلتے رہے۔ ٹرسٹ نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سردار کوڑے خان پبلک سکول جتوئی،
    سردار کوڑے خان پبلک سکول علی پوراورسردار کوڑے خان پبلک سکول کوٹ ادو کو ٹرسٹ میں لے لیا۔فروری 2019ء میں سردار کوڑے خان ٹرسٹ کےچئیرمین ڈسٹرکٹ سیشن جج صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو خط لکھا اور سردار کوڑے خان پبلک ہائیر سکینڈری سکول مظفر گڑھ کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کو کہا لیکن ڈپٹی کمشنرمظفرگڑھ نےاس سکول کو ٹرسٹ کے حوالے کرنے کی بجائے سکول میں سے عارضی طور پر رکھے گئے اساتذہ کو نکال دیاتاکہ سکول کی کارکردگی متاثر ہو اور لوگوں کو اس سکول سے شکایت ہوں لیکن اساتذہ نے اپنی فطری محنت اور لگن سے کام کرتے ہوئے اس مسئلے کا سامنا کیا۔سال 2019 کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر نےسردار کوڑے خان سکول مظفرگڑھ کو ایک غیر سرکاری تنظیم care foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تو سکول کے اندر اور باہر سے آنے والے شدید ردعمل پر بلآخر انہیں اپنے فیصلہ کو عارضی طور پر ترک کرنا پڑا ۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ڈپٹی کمشنر کا خیال تھا کہ والدین اور اساتذہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے سکول کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے ایک منصوبے کے تحت سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کوcare foundation کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیاگیا اور اس پر موقف یہ اپنایا گیاکہ سکول کی گرتی ہوئی تعلیمی حالت کے پیش نظر سکول کو ترقی دینے کے لئے یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے ۔ اتفاقا میٹرک سالانہ امتحان 2019 ء کا رزلٹ آیا تو سکول کی ایک طالبہ نےنا صرف ڈیرہ غازی خان تعلیمی بورڈ میں بلکہ پورے صوبہ پنجاب میں پہلی پوزیشن لی۔اس طرح پورے سکول کا رزلٹ بھی پنجاب بھرمیں نمائیاں رہا۔تقریبا 450 بچوں نے میٹرک کا امتحان دیا جس میں سے 45بچوں نے 1050 سے زیادہ نمبر حاصل کیئے ،150 سے زائد بچوں نے 90 فیصد سے سے زیادہ نمبر لے کر A پلس گریڈ حاصل کیا ۔ صرف نو بچے ایسے ہیں جنہیں ایک یا دو مضامین میں سپلی لگی۔ پاس ہونے والے بچوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے فرسٹ ڈویژن نہ حاصل کی ہو ۔
    ڈپٹی کمشنر کو سوچنا چاہیے یہ کس طرح سے گرتا ہوا تعلیمی معیار ہے جس میں سکول کےامتحانی نتائج کا مقابلہ ضلع بھر کا کوئی ادارہ نہیں کرسکتا ۔
    سکول کسی کی امداد پر نہیں چلتاہے بلکہ اس کے بہترین کیمپس ،کوالیفائیڈ اساتذہ کی محنت کی وجہ سے آج سکول کے نام پر بنک میں کروڑوں روپے کے فنڈز موجود ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے مسلسل بہترین نتائج کی وجہ سے آج ضلع کےہر بچہ کا خواب ہےکہ وہ سردار کوڑے خان پبلک سکول مظفرگڑھ کا طالب علم بنے۔ڈپٹی کمشنر کواگر اساتذہ سے اور اس سکول کے طلباء سے تھوڑی بہت بھی ہمدردی ہے تو اسے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ٹرسٹ کے حوالے کردیں جو کمی کوتاہی ہو گی وہ ٹرسٹ خود دیکھ لے گا۔اہلیان مظفرگڑھ آج حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس درویش صفت شخص سردار کوڑے خان کی طرف سے اللہ کے نام پر دی گئی اس وسیع جائیدادکی آمدن سے ہی اس بہترین ادارہ کو چلانے کے لئے اس سکول کو سردار کوڑے خان ٹرسٹ کے حوالے کرے۔اس سکول کو care foundation جیسی این جی او کے حوالے کر کے مظفرگڑھ کے اس اعلی درجہ کے تعلیمی ادارے کوبرباد نہ کیا جائے ۔

  • موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    مشرق خصوصاً انڈو پاک میں موروثیت ہر شعبۂ زندگی میں نفوذ کرگئی ہے۔ موروثیت صرف سیاست میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں موجود ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف نہیں۔ ہم عموما سنتے ہیں کہ آباؤ اجدا کی روایات اور نقش قدم نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ مولوی کا بیٹا مولوی، کلرک کا بیٹا کلرک، استاد کا بیٹا استاد، چوکیدار کا بیٹا چوکیدار، پیر کا بیٹا پیر، چیئرمین کا بیٹا چیئرمین ،سیاست دان کا بیٹا سیاست دان یہ سب موروثیت کی مثالیں ہیں۔ جن کو عام زبان میں خاندانی پیشہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں سوچ وفکر کی کمی ہے۔ لہذا ہم ہر شعبۂ زندگی میں روایات پسند واقع ہوئے ہیں۔ روایات کو آگے بڑھاتے ہیں۔اور یہ سب سے آسان کام ہے۔ کیونکہ ہر کردار نے روابط پیدا کیے ہیں۔ ان آسانیوں کی وجہ سے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو ایڈجسٹ کرنا آسان ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر چوکیدار ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو با آسانی اپنی جگہ ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔ بیٹے کے لیے بھی چوکیداری آسان ہوتی ہے۔ مولوی صاحب اپنی جگہ بیٹے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں تاکہ یہ سیٹ کسی اور کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ اسی طرح سیاست دان بھی اپنے بچوں کو سیاسی میدان میں اتارتے ہیں۔ تاکہ جانشین کا کردار ادا کریں۔ اس وقت پاکستان کی اسمبلیوں میں 53 فیصد موروثی سیاست دان موجود ہیں۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا تعلق عوام سے نہیں۔ بلکہ یہ اسلام آباد ، پشاور ، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے پوش علاقوں کے بنگلوں میں عالی شان زندگی گزارتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں فصلی بٹیروں کی طرح نازل ہوتےہیں۔ مقامی لوگوں اور مسائل سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ پہلے زمانے میں ہر گاؤں میں چند کرائے کے ایجنٹ ملتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا نے آسانی پیدا کردی۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے سیاست اور سیاسی پارٹیاں فروغ نہیں پاتیں۔ یوں یہ موروثی سیاست دان ہر پارٹی کی ضرورت بن جاتے ہے۔ یہ موروثی سیاست دان الیکشن سے پہلے پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں۔ عوام بھی ذہنی طور پر موروثیت کی شکار ہوتی ہیں لہذا موروثیت جیت جاتی ہے۔ موروثیت ہمارا موروثی مسئلہ ہے۔ موروثیت کی شکست اس صورت ممکن ہے جب معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف ہو اور سوچنے کے زاویوں کو بدل کر کے رکھ دے۔

  • تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    تعلیم کے نام پہ ناچ گانا ۔۔۔ صالح عبداللہ جتوئی

    ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ اور تربیت گاہ ہوتی ہے اور میرا ماننا ہے کہ والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ سکول میں بھی بچوں کی تربیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور تعلیمی ادارے بھی بچے کی ثانوی تربیت گاہ کا درجہ اختیار کر چکے ہیں اب والدین اور سکول دونوں بچے کی تربیت کے ذمہ دار ہیں.

    کافی دنوں سے کچھ ویڈیوز نظروں سے گزری جس میں ایک عورت جو کہ ماسٹر ٹرینر ہیں جو مرد و زن اساتذہ کرام کو ایک ساتھ ٹریننگ دے رہی ہیں لیکن اس ٹریننگ میں وہ بچوں کو پڑھانے کے اطوار کی بجاۓ ان کو بے ہودگی کی طرف مائل کرنے کے طریقے سکھا رہی ہے تنگ لباس گلے میں دوپٹہ لئے ڈانس کے ذریعے اساتذہ کرام کو کونسے گر سکھاۓ جا رہے ہیں کبھی ٹریننگ کے نام پہ گھٹیا حرکتیں کی جا رہی ہیں کبھی بے ہودہ قسم کی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہے اب یہ ٹھونس اور زبردستی کی ٹریننگ کروانے کا کیا مقصد ہے کیا ایسی ٹریننگ پہ عمل کرنے والے اساتذہ کرام بچوں کو صحیح معنوں میں تعلیم دے پائیں گے یا پھر بچوں کی تعلیم و تربیت کے نام پہ ناچ گانے کے عمل کو ترویج دیں گے؟

    اس کی کیا وجوہات ہیں ایسی ٹریننگز ہمیں کیوں کروائی جاتی ہے اس کا کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

    دراصل پاکستان بننے سے پہلے ہم پہ انگریز مسلط تھے اور ان کا ہی نظام تعلیم تھا اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے 1947ء میں ان سے چھٹکارا تو حاصل کر لیا تھا لیکن ان کا نظام تعلیم آج بھی ہم پہ مسلط ہے جس سے ابھی تک ہم خلاصی نہیں پا سکے.

    آج ہمارے ملک میں QAED وہ ادارہ ہے جو اساتذہ کی سروس سے پہلے اور سروس کے بعد ہونے والی ٹریننگز کو ڈیل کر رہا ہے اور یہ ادارہ بھی British Council کے تعاون سے چل رہا ہے اور کبھی US AID کے نام سے پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں سو اب جو بھی آپ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور آپ کے ادارے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو گا اور آپ جانتے ہیں کہ کفار کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے سو ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ آپ کے نظام تعلیم پہ راج کرے اور اپنی مرضی کے مطابق اس کو سلو پوائزن دے دے کے تباہ و برباد کر دیں.

    ایسی بے ہودہ ٹریننگز بھی اسی بات کا شاخسانہ ہیں جس میں قابل احترام اساتذہ کو بھی تعلیم کے ڈھنگ سکھانے کی بجاۓ ان کو ناچ گانا سکھایا جاتا ہے ایسی ٹریننگز کا مجھے بھی اتفاق ہوا ہے اور ان میں برٹش کونسل کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے اور اس میں اردو بولنے کی بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی اور صرف اور صرف انگلش بولنے کی پابندی ہوتی ہے یعنی کہ جو فنڈ دے رہے ہیں ان کی زبان کی ترویج ہو گی اور ان کے بناۓ ہوۓ نوٹس لگواۓ جاتے اور ان کی ہدایات پہ مشتمل بے ہودہ سرگرمیاں (جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں) کروائی جاتی ہیں اور نہ کرنے والوں کو پیڈا ایکٹ کے نفاذ کی دھمکیاں دی جاتیں ہیں.

    ایسی ٹریننگ کئی حد تک سود مند ہو سکتی ہیں اگر ان کو صحیح مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوۓ سرانجام دیا جاۓ تو لیکن یہاں پہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اس میں ہونے والی سرگرمیاں انگریزوں کے رسم و رواج کی عکاسی کرتی ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتی رہتی ہیں اور یہی ان کی سرمایہ کاری کا اصل مقصد ہے.

    ہمیں تو چاہئے تھا کہ ہماری قومی زبان اردو کی ترویج کریں لیکن ہم تو اپنے ہی ملک میں دوسروں کی غلامی کرتے ہوۓ ان کی زبان اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ ہمارے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ایک بہت بڑا سبب ہے.

    ہمیں اساتذہ کو اس طرح کی ٹریننگز کروانا ہوں گی جس سے وہ ایک باعمل اور بہترین معلم بن کر قوم کے بچوں کی خدمت کر سکیں نہ کہ مخلوط اور بے ہودہ قسم کی ٹریننگ کروا کے ان کو بھی معلم کی بجاۓ ڈانسر بنا دیا جاۓ.

    سننے میں آیا ہے کہ قائد اعظم اکیڈمی آف ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (QAED) نے اس عورت کے خلاف سخت ایکشن لیا ہے اور اس ٹرینر کو ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہے اور اس سرگرمی میں شامل ہونے والے افراد کے خلاف بھی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے.

    لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک عورت کو لائف ٹائم بین کرنے سے کیا ہو گا کیونکہ انٹرنیٹ پہ تو بے بہا ایسی ویڈیوز موجود ہیں ان کے خلاف کون ایکشن لے گا کیا ایسے لوگ بچوں کو تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دیتے ہوں گے کیا ان جیسے اساتذہ سے بچے اچھی تربیت لے پائیں گے یا وقت کے بہترین ڈانسر بنیں گے کیا ہمارے ادارے اچھے معلم پیدا کریں گے یا صرف فلموں ڈراموں کے ہیرو پیدا کریں گے؟

    ہماری گورنمنٹ آف پاکستان سے اپیل ہے کہ ایسے ٹرینرز کے خلاف ایکشن لینے کی بجاۓ ٹریننگ کا معیار بدلا جاۓ اور اس میں اصلاحات لائی جائیں اور اساتذہ کرام کو ایسی ٹریننگ دی جاۓ جس سے بچوں کو مزید اچھے طریقے سے پڑھانے کے طریقے سکھائیں جائیں اور ان میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین اصولوں کو مدنظر رکھا جاۓ تاکہ وہ ہمارے بچوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں اور ہمارے بچوں کا مستقبل تابناک ہو.
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو آمین ثم آمین

  • نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ابھی گزشتہ روز ہی وزیراعلی پنجاب نے آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں اردو ذریعہ تعلیم کاحکم یہ کہہ کر دیا کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے طلباء ترجموں میں الجھےرہتے ہیں۔اس لئے علم کے ابلاغ کے لئے پرائمری سطح پر تعلیم اردو میں دی جائے گی۔انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا۔ وزیراعلی پنجاب کے اس فیصلے سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔ جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار ائی تھی ۔یہ اس کا اب تک کیا گیا سب سے مقبول فیصلہ تھا لوگوں نے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شئر کیا۔اس پر تبصرے کئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو ذریعہ تعلیم کرنے کا یہ فیصلہ صرف پرائمری تعلیم تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر ثانوی سطح اور اعلی تعلیم تک بھی لے جایا جائے ۔ابھی لوگ اس فیصلے کو خوش امدید ہی کہہ ہی رہے تھے اس سلسلے میں اج کا روزنامہ جنگ کا اداریہ نے بھی موجودہ حکومت کے اردو ذریعہ تعلیم کرنے پر شاندار اداریہ تحریر کیا’ کہ انگریزی میڈیم اور اشرافیہ کے مفاد کے ” محافظ” وزیرتعلیم پنجاب جناب مراد راس نے آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ
    "اردو میڈیم کا اطلاق صرف سرکاری اداروں پر ہوگا۔”
    سوال یہ ہے کہ کیا وزیرتعلیم صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کے وزیر تعلیم ہیں؟ کہ ان کی پالیسی کی ذد میں صرف سرکاری ادارے ائیں گے؟ نجی انگریزی میڈیم ادارے اس حکم سے مستثنی ہونگے؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ نفاذ اردو فیصلہ دستور کا تقاضا اور سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ کیا ائین پاکستان کا نفاذ ریاست کے کسی خاص گروہ پر ہوگا؟ اور باقی ” منتخب گروہ” کو ائین سے اسثثنی حاصل ہوگا؟
    کیا ائین پاکستان تمام شہریوں کو تعلیم اور صحت کے مساوی حقوق نہیں دیتا؟
    تیسری بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا نعرہ "یکساں نصاب تعلیم ‘ یکساں نظام تعلیم” تھا۔ کیا وزیرتعلیم مراد راس کا مذکورہ اقدام خود تحریک انصاف کی پالیسی سے انحراف نہیں ہے؟
    سب سے بڑی بات نفاز اُردو کا حکم اس ملک کی سب سے اعلی عدالت دے چکی ہے اب اس حکم کی خلاف ورزی کرنا توہین عدالت ہے۔ اس فیصلے کو دینے والے محسن اردو سابق ایچی سونین چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سب سے پہلے نفاذ اردو فیصلے کو اپنی ذات پر لاگو کیا اس نے لاہور میں ایک سکول قائم کرکے اپنی ال اولاد کو مہنگے انگریزی میڈیم’ سکول سے اٹھا کر اپنے قائم کردہ سکول میں داخل کیا جہاں تعلیم سماجی مساوات کا عملی مظاہرہ ہے
    جہاں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کررہا ہے۔۔
    وزیرتعلیم ماشاءاللہ بے حد تعلیم یافتہ اور بیرون ممالک کے ڈگری یافتہ ہے ان سے سوال ہے کہ وہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر بتائیں کہ اور کتنے ممالک میں پرائمری تعلیم غیرملکی زبان میں دئیے جانے کا تماشا ہورہا ہے؟ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیں کے کیا کسی ملک میں سر کاری اور نجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعہ تعلیم میں بھی فرق ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کے بائس کڑوڑ عوام کو اپ تعلیم کے نام پر احمق کیوں بنا رہے ہیں؟
    اپ اس ملک کے عوام پر رحم کریں!
    جن .1 فی صد انگریز اشرافیہ نے اج اپ کو ہنگامی پریس کانفرنس کے لئے مجبور کیا ہے ان کو بالکل ائین پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں بالکل ” کورا اور سچا ” جواب دیں کہ ” میں نفاذ اردو فیصلے کے لئے عدالت عظمیٰ کے حکم کا پابند ہوں ‘ تمہارے مفادات کا نہیں۔ تم نے اپنے انگریزی میڈیم ادارے کھولنے ہے تو ان ممالک میں کھولو جہاں کی زبان انگریزی ہے ۔یہ پاکستان ہے یہاں کی زبان اردو ہے لہذا دنیا کے اصولوں کے مطابق یہاں کی عدالت ‘ سرکار ‘ تعلیم کی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی’ اگر اپ نے اپنے سکول قائم کھنے ہیں تو اس اصول پر اپ کو بھی عمل کرنا ہوگا”
    پاکستان میں بہتر سال سے انگریزی جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے
    سرکار ی زبان انگریزی
    عدالت کی زبان انگریزی
    تعلیمی زبان انگریزی
    عسکری اور مقابلے کے امتحان کی زبان انگریزی
    تمام ملازمتوں کے حصول کے لئے انٹرویو کی زبان انگریزی
    اتنی انگریزی مسلط ہونے کے باوجود پاکستان نے علم سائنس ‘ اور ٹیکنالوجی میں کتنی ترقی کی ہے؟ اور جن ممالک نے پاکستان کے ساتھ یا بعد میں جنم لیا وہ اپنی زبان میں تعلیم کے بل بوطے پر کہاں جا پہنچے؟ چین اور کوریا اس میں سر فہرست ہیں۔
    اعلی انگریزی میڈیم ادارے کا پیدا کردہ ایک سائنس دان یا انگریزی کا نوبل پرائز کا حامل ایک ادیب ہی بتادیں۔
    ڈاکٹر عبدا لقدیر’ ڈاکٹر عبد السلام ‘ ڈاکٹر قمر الزماں سب اردو میڈیم ٹاٹ سکول کی پیداوار ہیں۔ اور اگر ان کا زریعہ تعلیم بھی میٹرک کی سطح تک انگریزی ہوتا تو یہ بھی کسی ادارے میں زیادہ سے ” بابو ” کی نو کری کر رہے ہوتے ۔پاکستان کبھی بھی ایک جوہری طاقت نہ بنتا۔ ان کی بنیاد اردو زریعہ تعلیم تھی۔
    انگریزی کو بنیادی زریعہ تعلیم بنانے والوں نے اس ملک کو گونگی ‘بہری ‘ رٹاباز ‘ ٹیوشن مافیا’ ںوٹی مافیا’ اقدار و اخلاق سے عاری ‘ دونمبر ‘ نمود و نمائش ‘ بدعنوانی اور جعلسازی سے بھرپور قوم بنایا ہے ۔
    وزیراعظم صاحب! اپ سے درخواست ہے کہ اپ وزیر تعلیم پنجاب کی اج نفاذ اردو فیصلے سے انحراف کی پریس کانفرنس کی جواب طلبی کریں۔ کیونکہ پاکستانی عوام اپ سے اپ کی اردو کی محبت سے واقف ہے اپ نے اپنی خود نوشت میں خود انگریزی غلامی بیزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔
    آپ کا فرمان ہے’
    ” پاکستانیوں سے انگریزی میں بات کرنا بائیس کڑوڑ عوام کی توہین ہے”
    اور ہم اس میں اضافہ کرتے ہیں کہ
    پاکستان میں انگریزی کا ناجائز جبر برقرار رکھنے کی بات کرنا دراصل:
    توہین فرمان قائد اعظم ہے
    توہین آئین ہے
    توہین عدالت ہے
    توہین عوام
    توہین وقار پاکستان ہے!
    وزیراعظم صاحب! لوگوں کی نفاز اُردو کے لئے اپ سے بہت زیادہ امید یں وابستہ ہیں ۔براہ کرم ! انہیں مایوس نہ کیجئے!
    براہ کرم! انگریزی کےناجائز تسلط اور غلامی کے خاتمے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے!

  • ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ملاحظہ کیجئے
    پاکستان کے سب سے
    پہلے نظریاتی اخبار "نوائے وقت” میں انگریزی غلامی میں لتھڑی ہوئی یہ تحریر! ” اس قوم پر رحم کریں”
    فاضل کالم نگار اکرم چوہدری یا تو انتہائی جاہل مطلق ہے’ جنہیں نہ نفسیات کا علم ہے ‘ نہ اقوام متحدہ کے منشور کا علم ہے جو چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری اور رابطے کی زبان میں دو۔ پرائمری تعلیم کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو اپنی مقامی آبادی سے رابطے کے قابل بنانا ہے بعد میں جس کے ارتقاء میں وہ پورے ملک اور پوری دنیا سے رابطہ کرنے کی اہلیت حاصل کرسکتا ہے ۔
    خود موصوف کالم نگار کے دوغلے پن اور غلامانہ روئیے کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ وہ انگریزی کے حق اور اردو کے خلاف اپنے دلی جذبات کا ظہار خود اردو میں کررہے ہیں۔ یا تو وہ انگریزی کا مقدمہ انگریزی میں لڑنے کی اہلیت سے محروم ہیں یا پھر انہیں پتا ہے کہ ” سودا پاکستان میں صرف اردو ہی میں بکتا ہے”
    حیرت ہے کہ موصوف نہ تو سائنسدان ہیں ‘ نہ ماہر تعلیم ہیں’ نہ ہی فطرت اور تعلیمی نفسیات سے واقف ہیں لیکن انگریزی زریعہ تعلیم کء حق میں سر کھپائی یوں کر رہے ہیں۔ جیسے علم و دانش کا سمندر ہو!
    معزز کالم نگار ! اپ پرائمری تعلیم کو انگریزی میں کرنے کا یہ مشورہ چین ‘ فرانس ‘ ایران’ ترکی’ کوریا’ جرمنی کے سر براہوں کو بھی بھیجیں ۔ اور وہاں سے جو جواب موصول ہو اس سے قوم کو بھی اگاہ کریں ۔
    قوم کو بہتر سال سے پاکستان میں انگریزی دن رات مسلط ہے
    مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان’ عدالت کی زبان ‘ سرکار کی زبان ‘ زریعہ تعلیم سب ” بین الاقوامی” زبان میں!
    یہ بتائیے کہ پاکستان نے اج تک کتنی ترقی کی ہے؟
    ویسے افسوس تونوائے وقت پر ہے جس نے مجید نظامی مرحوم کے انکھیں بند کرتے ہی ان کے نظرئیے سے نوے ڈگری کا انحراف کرلیا۔ کاش مجید نظامی مرحوم اپنا جانشین اپنی ہی طرح کا کسی نظریاتی پاکستانی کو بنا کر جاتے ! اے کاش !
    اے کاش!
    لارڈ میکالے کے اصلی اور کھرے غلاموں! تم اس قوم پر رحم کرو!
    انگریزی کی مالا جپنے کے لئے تم پاکستان سے نکل جاؤ! وہاں جاکر اس کی رطب اللسانی اور اہمیت کے گن گاو جن ملکوں کی یہ زبان ہے!
    انگریزی کی غلامی کا پرچار کرنا توہین عدالت
    توہین ائین
    توہین پاکستان
    توہین عوام ہے!

  • اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    معزز وزیر اعلیٰ پنجاب! یہ بات صرف پرائمری سطح تک ہی محدود نہیں کہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے سے توجہ ترجمے کی طرف مرکوز ہوتی ہے اس بات کا اطلاق ہر تعلیمی سطح پر ہوتا ہے کہ غلامی کی زبان میں تعلیم دینے سے علم ہمارے طلباء تک پہنچ ہی نہیں رہا وہ صرف زبان غیر کی گتھیاں سلجھانے میں اپنا وقت برباد کرکے تخلیقیت سے دور ہوجاتے ہیں! رٹہ بازی’ ٹیوشن بازی بوٹی مافیا اس نظام تعلیم کا حصہ بن جاتی ہے۔
    ایک بات اور کہ پرائمری کی سطح تک اردو میں تعلیم اپ کی حکومت کا کارنامہ ہر گز نہیں ہے یہ کام تو پچھلی حکومت بھی کرتی رہی ہے ۔ آپ کا کارنامہ تو یہ ہوتا کہ اپ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں ہر سطح پر زریعہ تعلیم اردو میں کرنے کے احکامات فوری طور پر ایسے صادر فرمائیں۔جیسے سابق حکومت پنجاب اور کے پی کے حکومت نے آئین شکنی کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی ادارے راتوں رات انگریزی میڈیم کردیے تھے۔
    ملک میں قومی یکجہتی’ معاشرتی تفریق ختم کرنے کے لئے یکساں نصاب تعلیم یکساں قومی زبان میں نافذ کریں۔جو ضابطہ اخلاق اور اردو زریعہ تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے طے کریں اس کا نجی تعلیمی اداروں کو بھی پابند بنائیں اور عمل نہ کرنے کی صورت میں بغیر کسی سیاسی وابستگی کے اس تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کرکے اس ادارے بحق سرکار ضبط کر لیں۔
    سب سے اہم بات یہ کہ عدالت عظمیٰ کی روشنی میں مقابلے کا امتحان اردو میں لینے کا فخر آپ کی حکومت حاصل کریں یقین کیجئے یہ اپ کی حکومت کا انتہائی مقبول’ جراءت مندانہ فیصلہ ہوگا!
    اور یہی وہ فیصلہ ہوگا جو آپ فخر کے ساتھ اپنی حکومت کے نایاب اور تاریخ ساز کارنامے کے طور پر قوم کے سامنے رکھ سکیں گے۔
    ورنہ جس پرائمری تعلیم کے ذریعہ تعلیم کا فخر اپ کی حکومت اپنے اعزاز کے طور پر بیان کر رہی ہے یہ تو حقیقت میں سابق حکومت کا کارنامہ ہے!

  • قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    پہلے کبھی اخبارات کا دور تھا جو کچھ ہوتا تھا سامنے آ جاتا تھا لیکن آج کل سائنس و ٹیکنالوجی نے ہم کو سوشل میڈیا کا زمانہ دے دیا نہ جانے آگے چل کر اور کیا کیا ایجاد ہو گا نہ جانے اس لیے کہا کہ ہم لوگ صرف فرقہ واریت ، لسانیت اور نہ جانے کن کن لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کو ہم اپنا دشمن کہتے ہیں وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی کرتے جا رہے ہیں ہم اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں کر پا رہے

    _______________________
    خیر بات تھی قادیانیوں کی تو میرے دوستو سوشل میڈیا پر فیس بک ہو یا پھر ٹویٹر ہر جگہ ہمارے پاکستانیوں کے اکاونٹ ہیں اور شاید نماز بھی پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن فیس بک اور ٹویٹر پر اکاونٹ بنانے والے ہم لازمی اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی کی پوسٹ پر کمنٹ اور لائک تو لازمی کرتے ہیں دیکھا جائے تو ہر طرح کے گروپس اور پیجز بنے ہیں اور ہر طرح کی آئی ڈیز بھی بنی ہیں اب اگر ہم آئی ڈیز کے ناموں پر غور کریں تو لازمی بات ہے اپنے نام پر ہی آئی ڈی بنائیں گے یعنی میں مسلمان ہو تو میرا نام بھی اسلامی ہو گا تو میری آئی ڈی اسلامی نام سے ہی بنے گی اور میں جہاں بھی کسی بھی گروپ یا پیجز میں کمنٹ یا لائک کروں گا تو دیکھنے والے یا میرے کمنٹ کا جواب دینے والے سمجھ جائیں گے کہ یہ مسلمان ہے

    بالکل اسی طرح قادیانی جن کو الحمد اللہ پاکستان کے قانون کے مطابق غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا جو آج بھی اسی قانون کے اندر آتے ہیں پاکستان کے قانون کے تحت کافر ہی ہیں ___________مگر قادیانی خود کو کافر نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں لہذا اسی کی بنیاد پر قادیانی اپنے نام بھی مسلمانوں کے ناموں کی طرح ہی رکھتے ہیں تو جس طرح ہم مسلمان فیس بک ٹویٹر استعمال کرتے ہیں بالکل ایسے ہی قادیانی بھی کرتے ہیں اب نام ہمارے اور قادیانیوں کے ایک جیسے ہی ہیں اسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں پر کمنٹ کرتے ہیں اور ایسے پیجز اور گروپس بھی چلاتے ہیں جو مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوں جو پاک فوج کے خلاف باتیں کرتے ہوں لیکن ہم کو علم نہیں ہوتا کہ یہ قادیانی ہے یا نہیں جس کی وجہ سے ہم بھی مسالے دار فرقہ واریت کی باتوں میں آ کر قادیانیوں کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور اپنی آخرت بھی خراب کرتے ہیں

    اب یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے بلکہ قادیانیت کے زیر سایہ ایسے ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں جن کا کام ہی صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنا ہو سکے آپس میں لڑواؤ کیوں کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو قادیانی نہیں وہ مسلمان ہی نہیں

    لہذا میرے دوستو فرقہ واریت ،لسانیت ،مذہب ، پاکستان اور پاک آرمی پر تنقید کرتے ہوئے یا بحث کرتے ہوئے اس بات کا خیال بھی رکھا کریں کہ جو بات میں کر رہا ہوں کیا اس بات سے یا اس کو آگے پھیلانے سے میرے دین اسلام میرے وطن پاکستان کو نقصان تو نہیں ہو گا یہ سوچ کر کمنٹ ،لائک اور شئیر کیا کریں کہ جو پوسٹ میں شئیر کر رہا ہوں کیا اس سے مسلمانوں کا آپس میں نقصان تو نہیں ہو گا ،اور مسلمانوں میں آپس میں نفرتیں تو نہیں بھریں گی ان ساری باتوں کا خاص خیال رکھنا بہت لازمی ہے

    کیوں کہ ہم بلاوجہ ہی کفار کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں اگر کوئی ایک ادارہ چلا رہا ہے مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لیے تو ہم سب مل کر اُن کی سازشوں کو پروان چڑھا رہیں ہیں

    ہم کو سوچنا ہو گا بلکہ قدم قدم سوچ رکھنا ہو گا کیوں کہ ہمارے بڑوں نے بہت زیادہ قربانیاں دے کر یہ وطن عزیز پاکستان حاصل کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان ایک خاص تحفہ دیا ہے اب تحفے کی حفاظت ہمارا کام ہے۔

  • نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    کچھ روز پہلے سفر کیلئے نکلا گھر سے تو دوران سفر اک تعلیمی ادارے کی دیوار پر لکھے گئے شاعر مشرق کے اشعار اور اک ملی نغمہ کے جملے پڑھے،

    شاعر مشرق کے اشعار

    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اقبال کے شاہین اور قائداعظم کی امیدوں کے محور و مرکز نوجوان جنہیں قائداعظم اور اقبال ؒ قوم کا سرمایہ قوم کا معمار اور قوم کا مستقبل کہتے تھے ، اقبال اور قائد کو اس ملک کے نوجوانوں سے بہت سی توقعات وابستہ تھی ، قائداعظم چاہتے تھے کہ نوجوان سیاست میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں لیکن افسوس قیام پاکستان کے بعد ہماری وڈیرہ شاہی اورہماری اشرافیہ نے نوجوان نسل کوروکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے ان کو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر تعلیمی اداروں میں بھی استعمال کیا گیا ان کو استعمال کرکے اپنی گندی سیاست کا بازار چمکایا گیا نوجوان نسل کو ایسے مشغلے ایسا نصاب اور ایساکلچر دیا گیا کہ وہ قیام پاکستان کا مقصد ہی بھول گئے ہندو دوستی کا ایسا راگ الاپا گیا کہ ہمارے نوجوان یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ اگر ہندو اتنے ہی اچھے تھے تو اتنی قربانیاں دے کر علیحدہ وطن حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ہمارے نوجوان جن کے ہیروز قائداعظم ، علامہ اقبال ؒ خالد بن ولید اور محمد بن قاسم ہونے چاہیے تھے آج ان کے ہیروز غیر مسلم ہیں آج وہ ہندو کلچر کے دلدادہ بن چکے ہیں آج کا نوجوان اس ملک کے حالات کو دیکھ کر صرف کڑھ سکتا ہے کیونکہ اسے مجبوریوں میں ایسے مقید کردیا گیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا اعلی ڈگریاں لے کر اسے سڑکوں پر ذلیل کیا جارہا ہے حالانکہ اسی ملک میں جعلی ڈگریوں والے اونچی اونچی اقتدار کی کرسیوں پر فائز ہیں 
    آج کا نوجوان اس ملک سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے آج ہماری نوجوان نسل بیرون ملک کے خواب دیکھتی نظرآتی ہے رشوت ، سفارش ، اور اقربا پروری کے زہر نے اسے ملک سے بدظن کر دیا ہے،
    حالانکہ یہ ملک ٹیلنٹ کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے ارفع کریم جیسے نام ہماری نوجوان نسل کیلئے تابندہ مثال ہیں بس آج کے نوجوان کو اچھی اور مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ اچھی لیڈر شپ ہی نوجوانوں کو قومی دھارے میں لا سکتی ہے اور ان شاءاللہ میں اس بات سے بالکل مایوس نہیں آج کا نوجوان ضرور اس ملک کو دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی عنایتوں سے بچائے گا اور ہم من حیث القوم آپس کے تمام اختلافات کو چاہے و ہ فرقہ بندی کے ہو لسانی ہو جیسے بھی ہو بھلا کر ایک ہو کر اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں اور یہ وقت دور نہیں

    اور دوسرا ملی نغمہ شعر تھا

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

    اور میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم اس پرچم کے سائے تلے کہاں کہاں ایک ہیں؟
    ہم تو اپنی اپنی برادریوں اور سیاسی وابستگیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور ہم غیر برادری اور سیاسی کارکنوں سے الجھنے والے اور سیاسی تماش بینوں کے لیڈروں کے دفاع میں ملکی مفاد اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن کر
    نعرہ لگانے والے ہیں کہ
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں،

    ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرکے ملکی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئیے تاکہ
    ہم یہ کہنے میں ذرا بھی شرم اور جھجک محسوس نا کریں
    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اور۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

  • عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ

    سفارتکاری کسی بھی ملک و قوم کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے بالخصوص دور جدید میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب آپ کی معاشی، سیاسی، سماجی، ٹیکنالوجی اور عسکری ترقی کا دارو مدار ہی آپ کے بین الاقوامی دوستوں اور تعلقات پر ہو، مستزاد یہ کہ آپ کے حریف ممالک اور اقوام جب آپ کے خلاف کاؤنٹر سفارتکاری شروع کردیں تو معاملہ اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے پھر آپ "Do or Die” کی پوزیشن میں آجاتے ہیں. بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے کہ ہماری سفارکاری انتہائی کمزور رہی ہے، ہماری خارجہ پالیسی مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ عارضی اور ہنگامی بنیادوں پر ترتیب پاتی رہی ہے.

    یہاں تک کہ پچھلے دور حکومت کے چار پانچ سالوں میں تو ملک کا وزیرخارجہ ہی نہیں تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو خارجہ سطح پر شدید ترین نقصان سے دوچار ہونا پڑا دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی نے دنیا بھر کے سفارتی دورے کیے اور دوسرے ممالک کے سربراہان کو اپنے ملک میں دعوت دے دے کر بلاتا رہا جس کا نقصان ہمیں یہ اٹھانا پڑا کہ پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ پیدا ہوگیا کہ یہ دہشت گردوں کے چنگل میں پھنسی ہوئی ایک ناکام ریاست ہے جس کے ایٹمی اثاثے تک بھی محفوظ نہیں ہیں. اسی طرح پاکستان کا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے چنگل میں بری طرح سے جکڑا جانا بھی اسی ناکام ترین سفارت کاری اور کمزور خارجہ پالیسی کا ہی نتیجہ تھیں.

    سابقہ حکومت کی اس بے توجہی کی اک بڑی مثال اس وقت سامنے آئی جب کشمیر ایشو پر لابنگ کرنے کے لیے کچھ پارلیمینٹرینز کو دنیا بھر میں بھیجا گیا تو ان میں سے اکثریت وہ تھی جو کشمیر اور کشمیر کے بارے میں وہ بنیادی معلومات سے بھی نابلد تھے جو بچے بچے کو پتا ہوتی ہیں یہی وجہ تھی ہمارے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہمارے قریب ترین ممالک بھی ہمارے ایشوز مثلاً کشمیر وغیرہ پر ہمارا ساتھ دینا چھوڑ گئے.حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ واضح طور پر سمجھا جانے لگا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ اور بین الاقوامی سطح پر "تنہا” کردیا گیا ہے.

    لیکن صد شکر کہ جب موجودہ حکومت قائم ہوئی تو کچھ امید بندھتی نظر آئی کہ اب حالات بدلیں گے اور واقعی بین الاقوامی سطح پر حالات بدلے. بہت سارے لوگ اس کو عمران خان کی خوشقسمتی قرار دیتے ہیں جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ خوشقسمتی کے ساتھ ساتھ عمران خان کی محنت اور اس کی سنجیدگی کا بہت بڑا کردار ہے. جب عمران خان کی حکومت بنی ملک کی ابتر معاشی اور سیاسی صورتحال دیکھ کر تو یہی سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے تعلقات سعودیہ، چائنہ اور ترکی وغیرہ سے ناہموار ہوجائیں گے لیکن عمران خان نے اپنی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد سعودیہ کا دورہ کیا اور یہ سلسلہ صرف ایک دورے پر موقوف نہیں کیا بلکہ یکے بعد دیگرے تین دورے کیے جن میں شاہ سلمان، محمد بن سلمان، سیکرٹری جنرل OIC وغیرہ سے ملاقاتیں کیں، پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال کو سہارا دینے کے لیے سعودیہ سے معاشی مدد، تین سال تک تین ارب ڈالر کا ادھار تیل حاصل کیا. علاوہ ازیں محمد بن سلمان کے پاکستان کے غیر معمولی دورے پر محمد بن سلمان کا خود کو سعودیہ میں پاکستان کا سفیر کہنا اور پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری کرنا عمران خان کی واضح ترین کامیابی تھی.

    اسی طرح سی پیک پر کام رک جانے کی وجہ سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پاکستان کے چین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے جس کا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا تھا لیکن عمران خان نے چین کے دو دورے کیے اگرچہ پہلا دورہ کوئی واضح کامیاب تو نظر نہ آیا اور پاکستان میں سے ایک طبقے نے اس پر شدید تنقید بھی مگر یہ دورہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ثابت ہوا کہ تحفظات دور کیے گئے اور دوسرے دورے میں جب عمران خان چینی صدر کی دعوت پر سیکنڈ بیلٹ روڈ فورم میں شرکت کے لیے گئے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بین الاقوامی نمائش کا دورہ کیا. اس موقع پر عمران خان نے عالمی رہنماؤں سمیت ورلڈ بینک کے سی ای او، آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتیں بھی ہوئیں. اسی موقع پر چین کے ساتھ ایل این جی، آزاد تجارت سمیت چودہ معاہدوں پر دستخط ہوئے.

    متحدہ عرب امارات اور قطر وغیرہ بھی پاکستان کے لیے علاقائی اور معاشی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں عمران خان نے متعدد بار ان ممالک کے بھی مختصر اور باقاعدہ دورے کیے، ان کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان ممالک کے پاکستان کے ساتھ معاشی و سیاسی تعلقات کے لیے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا. جس کی وجہ سے ان ممالک کے ساتھ مختلف معاہدے ہوئے جن میں ایل این جی، توانائی، پاکستانی شہریوں کو روزگار، دو طرفہ تعلقات، تجارت وغیرہ کے قابل ذکر معاہدے شامل ہیں.

    جہاں پاکستان کے ان خلیج کے ممالک سے تعلقات بہتر ہوئے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملا وہیں عمران خان نے ایران، ترکی اور ملائیشیا کے نہایت اہم دورے بھی کیے جن میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا گیا، پاک ایران بارڈر مینجمنٹ، بجلی و توانائی کے منصوبے، کشمیر و فلسطین پر پاکستان کے موقف کی حمایت، NSG نیوکلیئر سپلائرز گروپ اور ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی حمایت جن کا پاکستان کو خاطر خواہ فائدہ ہوا. ملائشیا کے سربراہ مہاتیر محمد پاکستان کے دورہ پر بھی تشریف لائے اور یوم پاکستان کی تقریبات میں بھی شرکت کی.

    عمران خان کا حالیہ دور امریکہ جس پر ساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں کیونکہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول پر نہیں آسکے تھے اور امریکہ کا پلڑا بھاری تھا اور سمجھا یہی جا رہا تھا کہ عمران خان کا یہ دورہ بھی بھی معمول کی ڈکٹیشن ثابت ہوگا جو پاکستان کے مفاد میں زیادہ بہتر ثابت نہیں ہوگا لیکن عمران خان کی سنجیدگی ، اس کی شخصیت کا اثر کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور عمران خان اور پاکستانیوں کی تعریف کرتے رہے. واشنگٹن میں عمران خان کا تاریخی جلسہ بھی غیر معمولی ثابت ہوا جس پر دنیا بھر تجزیہ نگار اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کر رہے ہیں. علاوہ ازیں پاک امریکہ تعلقات میں اہم بریک تھرو اس وقت دیکھنے کو ملا جب ٹرمپ نے کشمیر ایشو پر پاکستان کو ثالثی کی پیشکش کردی جس کو لے کر انڈیا میں صف ماتم بچھ گئی اور انڈین میڈیا یہ کہنا شروع ہوگیا کہ ٹرمپ نے انڈیا پر کشمیر بم پھینک دیا ہے. سابقہ حکمرانوں کے برعکس عمران خان امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے نہایت براعتماد اور سنجیدہ نظر آئے جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے سے اپنے مقاصد پورے کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوگیا.


    عمران خان نے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ علاقائی سطح پر بھی بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ کیا مشہور سکھ رہنما نوجود سنگھ سدھو کی پاکستان آمد، کرتار پور کوریڈور ، مودی کو خط اور کشمیر ایشو پر عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی وجہ سے ایک بہت بڑا خلا جو پیدا ہوچکا تھا وہ عمران خان کی ایک سال کی سفارتکاری کی وجہ سے پر ہوتا نظر آرہا ہے اور امید بندھ رہی ہے کہ پاکستان ان شاءاللہ جلد عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرلے گا.

    Muhammad Abdullah