Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    یروشلم: اسرائیلی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک دیوار میں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ سکے گولان پہاڑیوں میں بینیاس کے مقام پر بہنے والے چشمے پر ایک پتھر کی دیوار کی بنیاد میں کی جانے والی کھدائی کے دوران ملے اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ 7ویں صدی کے 44 خالص سونے کے سکے ایک نیچر ریزرو میں دیوار سے چھپے ہوئے ملے ہیں۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 170 گرام وزنی، ہرمون سٹریم (بنیاس) کے مقام پر ملنے والا ذخیرہ 635 میں مسلمانوں کی فتح کے دوران چھپایا گیا تھا سکے علاقے میں بازنطینی حکومت کے خاتمے پر روشنی ڈالتے ہیں بازنطینی سلطنت رومی سلطنت کا مشرقی نصف تھا، جو 1,000 سال سے زائد عرصے تک زندہ رہا۔

    کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیر نے کہا، "ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مالک جنگ کے خطرے میں اپنی خوش قسمتی کو چھپا رہا ہے، اس امید میں کہ وہ ایک دن اپنی جائیداد واپس لینے کے لیے واپس آئے گا ماضی میں، ہم جانتے ہیں کہ وہ کم خوش قسمت تھا۔

    اسرائیل اینٹیکوئیٹیز اتھارٹیز کے ڈائریکٹر ایلی ایسکیوسیڈو کا کہنا تھا کہ سکوں کا یہ ذخیرہ آثارِ قدیمہ کی ایک انتہائی اہم دریافت ہے کیوں کہ اس کا تعلق بینیاس شہر اور اس پورے خطے کے عبوری دور سے ہے۔

    ادارے کے مطابق ماہرین نے یہ سکے پینیاس (جو بعد میں بینیاس کے نام سے جانا گیا) کے قدیم شہر سے دریافت کئے۔ یہ شہر ماضی میں ذرخیزی کے خدا ’پین‘ (Pan) کے حوالے سے مذہبی رسومات کے لیے خدمات انجام دیتا تھا۔ اسی نام سے پر بعد میں شہر کا یونانی نام رکھا گیا۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    ڈاکٹر گیبریلا بِجووسکی کا کہنا تھا کہ سکّوں میں سب سے پُرانا سکہ بازنطینی بادشاہ فوکس کے دور کا ہے جس نے 602 عیسوی سے 610 عیسوی تک حکومت کی۔جبکہ سب سے نئے سکے کا تعلق اسی صدی کے اگلے حصے میں جب مسلمانوں نے یہ خطہ فتح کیا اس وقت سے ہے۔

    ادارے میں کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیرر کا کہنا تھا کہ یہ سکے ممکنہ طور پر جنگ کے خوف سے بھاگنے والے شخص نے اس امید پر دبائے ہوں گے کہ واپس آکر یہاں سے اپنی ملکیت نکال لے گا۔

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ سونے کے سکوں کے علاوہ، کھدائی کے دوران قدیم شہر کے ایک رہائشی کوارٹر میں – عمارتوں کے باقیات، پانی کے نالے اور پائپ، کانسی کے سکے اور بہت کچھ بھی دریافت ہوا۔

    بنیاس کو عیسائی روایت میں ایک خاص مقام حاصل ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یسوع نے پطرس رسول سے کہا تھا، کہ اس چٹان پر، میں اپنا چرچ بناؤں گا-

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

  • روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    کیلیفورنیا: کیلیفورنیا کی ایک کمپنی نے فلپی 2 کے نام سے ایسے روبوٹ تیار کرنا شروع کردیئے ہیں جو خود کار انداز میں آلو اور پیاز کے فرائز تیار کر لینے کے علاوہ دیگر کھانے بھی تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یک روبوٹک بازو خود کار پلانٹس میں کیمروں اور مصنوعی ذہانت کے حرکت میں آتا ہے۔ فریزر سے آلو اور پیاز کے منجمد شدہ کے فرائز نکال انہیں ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیتا ہے صرف یہی نہیں اس کے بعد ان تیار شدہ فرائز کو ٹرے میں منتقل کرتا ہے اور کھانے لیے پیش کر دیتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    فلپی 2 کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ بھی متعدد کھانے مختلف ریسپیز کے ساتھ بیک وقت تیار کر لیتا ہےاس کی بدولت کیٹرنگ کرنے والے سٹاف کی پہلے جتنی ضرورت نہیں رہی ہے۔ کہ یہ آرڈرز کی تکمیل زیادہ تیزی کے ساتھ کر سکتا ہے۔

    روبوٹ بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مائیک بیل نے ایک انٹرویو میں بتایا ‘ جب ریستوران کے سسٹم کے ذریعے کسی کھانے کا آرڈر آتا ہے تو یہ سسٹم خود کار طریقے سے یہ آرڈر روبوٹ کو منتقل کر دیتا ہے یہ مقابلتا زیادہ تیزی کے ساتھ کام کرتا ہے، زیادہ قابل بھروسہ ہے، حتیٰ کہ انسانوں سے زیادہ خوش بھی رہتا ہے۔

    انہوں نے بتایا اس روبوٹ کی تیاری میں پانچ سال لگ گئے ہیں اور اب یہ کاروباری پیمانے بروئے کار ہے روبوٹ کا نام اس سے قبل تیار کردہ ایک روبوٹ سے لیا گیا ہے، جسے فلپ برگرز کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    لیکن روبوٹ بنانے والی ٹیم نے اسے ایک مرحلے پر چھوڑ دیا تھا کہ ایک مشکل پیدا ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ روبوٹ رات کے وقت بطور خاص فرائی سٹیشن پر اچھی ورکنگ نہیں کر پاتا تھا۔ لیکن اب فلپی 2 نے بہتر نتائج دیئے ہیں ، پرانے مسئلے حل کر لیے گئے ہیں اب تو کئی ریستورانوں نے اپنے فرائی سٹیشنون کے لیے یہ روبوٹ حاصل کر لیے ہیں۔

    مائیک بیل کے بقول تین بڑی امریکی فوڈ چینز نے بھی روبوٹس کی مدد لےلی ہےتاہم وہ اس امر کی احتیاط کی وجہ سے کہ اس سے انسانوں کے بے روزگار ہونے کی باتیں ہوں گی اپنے زیر استعمال روبوٹس کی مشہوری نہیں کر رہی ہیں۔

    بیل کے مطابق جوکام انسان جلدی سے چھوڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں وہ فرائی سٹیشن کا کام ہےلیکن وہ وقت دور نہیں جب اس طرح ہر جگہ روبوٹس کو کام کرتے دیکھیں گے اور پھر انسانوں کو یاد کریں گے کہ ایک دور تھا جب یہ کام انسان کیا کرتے تھے-

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

  • ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹر نے ستمبر 2022 میں ٹوئٹس ایڈٹ کرنے کے بٹن کی آزمائش شروع کی تھی اور اب یہ فیچر صارفین کو دستیاب ہے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی کی پیڈ سروس ٹوئٹر بلیو کے سبسکرائبرزکو اس تک رسائی دی گئی ہے،کمپنی کےمطابق ٹوئٹر بلیو کے کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے صارفین اب اس فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں، البتہ ابھی اسے امریکا میں متعارف نہیں کرایا گیا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980429814759424?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی نے یہ نہیں بتایا گیا کہ عام صارفین کے لیے یہ فیچر بھی مستقبل قریب میں اس فیچر کو متعارف کرایا جاسکتا ہے یا نہیں-

    کمپنی کے مطابق ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اسے ایڈٹ کیا جاسکے گا ،ایڈٹ کیے جانے والے ٹوئٹس ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ نظر آئیں گے جس سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اوریجنل ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980459002609674?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوئی کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980495552114688?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا، خیال رہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور متعدد دیگر پلیٹ فارمز میں اس طرح کا فیچر کافی عرصے سے موجود ہے۔

  • سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    زمین پر5 سمندر بحر ہند، بحر اوقیانوس، بحر الکاہل، آرکٹک اوشین اور سدرن اوشین (بحر منجمد جنوبی) ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے چھٹے سمندر کو دریافت کیا ہے جو زمین کی سطح سے سیکڑوں کلومیٹر نیچے موجود ہے-

    باغی ٹی وی : زمین کی اندرونی ساخت اورحرکیات کو مینٹل ٹرانزیشن زون اور لوئر مینٹل کے درمیان 660 کلومیٹر کی باؤنڈری سے تشکیل دیا گیا ہے تاہم، اس گہرائی سے قدرتی نمونوں کی کمی کی وجہ سے، اس حد کی نوعیت اس کی ساخت اور اس میں اتار چڑھاؤ کے بہاؤ پر بحث ہوتی رہتی ہے-

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    660 کلومیٹر کا وقفہ، کثافت اور زلزلہ کی لہر کی رفتار میں اچانک تبدیلیوں کے ذریعے نشان زد کیا گیا، ہمارے سیارے کے عالمی ڈھانچے میں سے ایک ہے جو سطح اور گہرے اندرونی حصوں کے درمیان حرارت اور بڑے پیمانے پر تبادلے کو کنٹرول کرتا ہے۔

    جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے زمین کی اوپری اور نچلی پرت کے درمیان پانی کے بہت بڑے ذخیرے کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیاپانی کا یہ ذخیرہ زمین کی سطح سے 410 سے 660 کلومیٹر گہرائی میں موجود ہوسکتا ہے۔

    اس بات کا انکشاف افریقی ملک بوٹسوانا میں ملنے والے ایک ہیرے پر تحقیق کے دوران ہوا جس کے کیمیائی مجموعے سے عندیہ ملا کہ یہ زمین کی سطح سے 660 کلومیٹر نیچے پانی کے ماحول میں تشکیل پایا قدرتی ہیرے زمین کی سطح سے 150 سے 250 کلومیٹر کی گہرائی میں تشکیل پاتے ہیں مگر کچھ بہت زیادہ گہرائی میں ہوتے ہیں۔

     

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    تحقیق کے مطابق زمین کے اندر چھپا یہ سمندر سطح تک تو نہیں پہنچتا مگر اس میں ایسے منرلز موجود ہیں جو اس خطے کو بہت زیادہ دلدلی بناتے ہیں اس سے فرانس کے 19 ویں صدی کے معروف ناول نگار Jules Verne کے پیش کردہ خیال کو تقویت ملتی ہے کہ زمین کے اندر بھی ایک سمندر چھپا ہوا ہے۔

    محققین اس سمندر کو دیکھنے یا محسوس کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوئے مگر انہوں نے ایسے شواہد پیش کیے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمین کی گہرائی میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں ہم نےثابت کیا کہ زمین کی گہرائی میں وہ حصہ خشک نہیں بلکہ وہاں بہت زیادہ مقدار میں پانی موجود ہےتو اس جگہ پانی کی کتنی مقدارہوسکتی ہے؟مصدقہ طور پر کچھ کہنا تو ممکن نہیں مگرمحققین کےخیال میں اس حصےمیں زمین کے سمندروں میں موجود پانی سے 6 گنا زیادہ پانی جذب ہوسکتا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی اوپری اور نچلی تہہ کےدرمیان پانی ذخیرہ کرنے کی بہت زیادہ گنجائش ہے مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ واقعی ایسا ہے یا نہیں۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

  • مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آئن سٹائن کی یہ ایکوئیشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک ہی شے کے دو نام ہیں اور مادے میں کتنی توانائی ہوتی یے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ایکویشن کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مادی وجود روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ توانائی میں تبدیل ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہر گز نہیں۔ اول تو کوئی مادی شے روشنی کی رفتار سے سفر کر نہیں سکتی اور دوم یہ کہ یہ کسی شے کی رفتار میں اضافہ تبھی ہوتا ہے جب اُس میں مزید حرکتی توانائی ڈالی جائے۔ روشنی کی رفتار کے قریب دراصل آپکا اصل ماس نہیں بڑھتا بلکہ وہ اضافی توانائی جو آپ نے اسکی حرکت میں ڈالی ہے وہ اس سسٹم میں داخل ہوتی ہے۔

    E=mc^2 دراصل E=γmc^2

    ہے جس میں اضافی ٹرم γ یہ بتاتی ہے کہ کوئی شے اگر کسی رفتار سے حرکت کرے کی تو اُسکی مکمل توانائی میں کیا فرق پڑے گا۔

    γ =1/sqrt(1-(v/c)^2)

    مگر رکیے γ دراصل تناسب ہے کسی مادہ کے حرکت میں توانائی کے /اُسکی بغیر حرکت کی توانائی کے۔

    خیر آپ پیچیدہ ایکویشنز سے مت گھبرائیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ E=mc^2 دراصل اُس مادے پر لاگو ہوتی ہے جو حرکت میں نہ ہو یعنی اسکی رفتار صفر ہو جس سے γ کی ویلیو 1 ہو جائی گی تو ایکویشن وہی ہو گی جو آپ بچپن سے دیکھتے سنتے آئے ہیں۔ مکمل تصویر کچھ پیچیدہ ہے جس میں E= (pc) ^2 +(mc)^2 ہے جو اُن مادی اجسام اور فوٹانز دونوں کے لیے ہے جو روشنی کی رفتار یا اس سے کم پر سفر کرتے ہیں کہ اس میں اشیا کے ماس کے بغیر اشیا جیسے کہ فوٹانز کا مومنٹم شامل ہوتا ہے۔

    مگر فی الحال اسے رہنے دیں۔ اس کنفیوژن سے نکلیں کہ روشنی کی رفتار پر ماس لامحدود ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔

    کاسمک ریز جو کہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے آئنز ہوتے ہیں یا پھر نیوٹرینوز جو بے حد کم ماس کے حامل ہوتے ہیں روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہی سفر کرتے ہیں اور آئے روز خلا سے زمین پر آتے ہیں۔ اگر انکا ماس لامحدود ہوتا تو ایک ہی ہائیڈروجن آئن زمین تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ لہذا اُمید ہے آئندہ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ روشنی کی رفتار سے حرکت پر کوئی شے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے یا یہ کہ روشنی کی رفتار پر سفر سے کسی شے کا ماس لامحدود ہو جاتا۔

  • کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر، سب سے بڑی اور پرانی بندرگاہ ، سارے ملک کے تمام شہروں کے اجتماعی ریونیو سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے والے اکیلے شہر کراچی کی “ایڈمنسٹریشن سے شہر کے برساتی نالے صاف نہیں ہوسکے” (جیو نیوز رپورٹ) ۔ شہری اربن فلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔ کراچی والو فیر آیا جے غوری۔

    کراچی کے 41 بڑے اور 514 چھوٹے برساتی اور گندے پانی کی نکاسی کے نالے اس وقت گجر نالے اور اورنگی نالے کی قیادت میں ، شہر پر یلغار کرنے کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات ،صوبائی محکمہ برائے انتظام آفات اور کراچی کی شہری حکومت وارننگ جاری کرکے اپنے تئیں بری الذمہ ہو چکے ہیں۔ تاہم مجاہد کرینیں اور ان کے غازی مزدور نالوں سے کچرہ نکالنے کی نیم مردہ کوششیں ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر لاہور کے لکشمی چوک میں بھی بارشی پانی کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہے۔پنڈی کا نالہ لئی بھی خاموشی سے وار کرنے کے انتظار میں ہے۔

    اس سال کراچی ، لاہور اور پنڈی میں پھر وہی کہانی دہرائے جانے کے لئے تیار ہے ۔ہرسال کی طرح زور کی بارشیں،غضب کا مون سون ،تالاب منظر سڑکیں، گرتے مکانات ، مرنے والے عام شہری اور اربن فلڈنگ میں برباد ہوتی عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی۔

    اقتداریہ کے اجلاس پہ اجلاس، پانی نکالنے کی ہدایات، رپوٹوں کی طلبی، امداد کے اعلانات اور فوٹو سیشن، دو چار افسران کی سرزنش اور پھر آئندہ مون سون تک لمبی تان کر سونا۔ مجال ہے کہ اربن فلڈنگ کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے بر وقت اقدامات کا سوچا جائے اور اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جائے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ہر سال تقریباً 1.80 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوجاتا ہے۔ جبکہ ہم سخت شرائط کے بعد 1ارب ڈالر کا قرض لینے کے لئے آج کل آئی ایم ایف کی منتیں ترلے کر رہے ہیں۔ہم اربن فلڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرکے ہر سال کئی ملین ڈالر کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

    ملائیشیا کے شہر کوالالمپور کا ڈرینیج ماسٹر پلان 1978 میں بن چکا تھا جس وقت بقول شخصے ملائیشیا کا وزیراعظم پاکستان سے گندم ادھار لینے کے لئے خود چل کر پاکستان آتا تھا ۔میں خود سنہ 2000 کی دھائی میں دو تین سال کوالالمپور کے اسٹریجک سٹارم واٹر مینیجمنٹ پلان پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہا تو معلوم ہوا کہ کوالالمپور کی شہری حکومت کی ہدایت ہے کہ ایسا منصوبہ بنا کر دیں کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں آدھے گھنٹے سے کم وقت کی اربن فلڈنگ بھی نہ ہو حالانکہ وہاں روزانہ اتنے بڑے حجم کی بارش (80 ملی میٹر) ہوتی ہے جتنے کی آج محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہونے پیشن گوئی کی ہوئی ہے اور کراچی شہر کی ایڈمنسٹریشن نے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت کوالالمپور میں بارش ہونے اور اربن فلڈنگ کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا ریسپانس ٹائم ملتا تھا۔ اس پر بھی شہری حکومت نے ہمیں یہ وژن دیا کہ آپ بارش کو بھول کر ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں کہ بادلوں کے بننے کے پیٹرن سے اربن فلڈنگ کی پیشن گوئی ہوسکے جس سے ریسپانس ٹائم بڑھ جائے گا۔ ہمارے ہاں تو محکمہ موسمیات پچھلے ایک مہینے سے چیخ رہا ہے لیکن ہم اپنے سب سے بڑے کمرشل ہب کراچی کے برساتی نالے نہ صاف کرسکے۔

    کراچی میں تو بارشی پانی کی نکاسی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہئے جہاں سمندر کی شکل میں اتنا بڑا نکاسی کا ڈرین موجود ہے۔ وفاقی حکومت اربن فلڈنگ کو اپر چیونٹی سمجھتے ہوئے فوری طور پر شہر کے اربن سٹارم واٹر منیجمنٹ پلان پر کام شروع کردے۔ کسی ایک بڑی سڑک کے نیچے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے سگنل فری سٹارم وے واٹر ٹنل بنائی جائے ۔ یہ ایک بڑے قطر کی (40فٹ تک) سرنگ ہو جس کے اندر دوتین منزلیں ہوں۔ سب سے نچلی منزل سارا سال گندے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہو جب کہ اوپر والا پہلا فلُور آنے والی ٹریفک اور دوسرا فلور جانے والی ٹریفک کے لئے استعمال ہو۔جس کا باقاعدہ ٹول ہو۔

    اس ٹنل پر 7/24 موٹروے پولیس پٹرول ، ایمرجنسی فون سروس، سائن بورڈ، بچاو کے راستے اور ایمرجنسی مینار ہوں گے۔ انہی میناروں سے تازہ ہوا کی فراہمی اور ٹریفک چلنے کی صورت میں ہوا کی کوالٹی ٹھیک رکھنے کے لئے وینٹی لیشن اور ایگزاسٹ کا بندوبست ہوگا۔

    اربن فلڈنگ کی وارننگ کی صورت میں ایک دن پہلے ہی ٹنل کے دونوں اوپر والے فلور ٹریفک کے لئے بند کر دئے جائیں اور مون سون کے دنوں میں ٹنل کے تینوں فلور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہوں۔ بارش کے دنوں میں شہری حکومت ٹنل کمپنی سے اسٹارم واٹر وےکرائے پر لے کر نکاسی آب کے لئےاستعمال کرے۔ بارش کا پانی گزر جانے کے بعد ٹنل کمپنی اس کی صفائی کرکے دوبارہ ٹریفک چلا دے۔

    عام دنوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کا انتظام کرنے والی کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اربن سٹارم واٹر وے استعمال کریں۔ شہر میں ٹریفک جام کم ہوں اور صاحب استطاعت شہریوں کا وقت بھی بچے۔

    یہ راستہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ والے بھی استعمال کریں ۔ اقتداریہ بھی یہ راستہ استعمال کرکے عام آدمیوں کو پروٹوکول لگنے کی صورت میں ہونے والی تکلیف سے بچا سکتی ہے۔یہ ٹنل قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا سائیکلون کی صورت میں بطور پناہ گاہ بھی استعمال ہوسکتی ہیں اور خدانخواستہ کسی جنگی صورت حال میں بطور بنکر بھی۔

    لاہور کے پانی کا قدرتی ڈرینیج دریائے راوی ہے جہاں تک بارشی پانی کو شہر کے بقیہ حصوں سے پہنچنے میں اوسطا 10 کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت شہر میں ایک گندے نالے کو چھت ڈال کر سڑک کے لئے استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے جس سے نالہ کچرہ پھینکنے سے بھی بچا ہوا ہے۔ تین چار جگہوں پر انڈر گراونڈ ٹینک بنا کر بھی بارش کا پانی جمع کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    لاہور میں بھی کسی ایک بڑی سڑک جیسے مال روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ کے نیچے دریائے راوی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے سگنل فری اسٹارم واٹر وے ٹنل بنائی جا سکتی ہے۔ ایک اور بہترین راستہ لاہور کینال کے نیچے ٹنل بنانے کا ہے۔ٹنل کی مالک کمپنی سے LDA مون سون کے تین مہینوں کے لئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے ٹنل کرائے پر لے لے اور بقیہ 9 مہینوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اسٹارم وے استعمال کر لیں۔یہی کام نالہ لئی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پراجیکٹ بھی PPP پر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ ٹنل والا تو بہت ہائی ٹیک اور مشکل کام ہے تو پھر کم ازکم لاہور شہر کی مثال سامنے رکھتے ہوئے برساتی گندے نالے کو چھت ڈالیں اور اوپر سڑک بنادیں جو ارد گرد کی سڑکوں سے نیچی ہو اور اس کی سائیڈ پر دیواریں ہوں ( سیمی انڈر پاس )۔ چھت کے نیچے والے پرانے نالے میں عام دنوں میں پانی چلے اور اوپر سیمی انڈر پاس پر ٹریفک چلے۔

    بارش کی صورت میں اوپر والی سیمی انڈر پاس سڑک پر بھی بارشی پانی ڈال دیں جو سگنل فری اسٹارم وے سے جلد ہی سمندر برد ہوجائے گا یا جاکر بوڑھے دریائے راوی کی پیاس بجھائے گا ۔ بارش ختم ہونے کے بعد پھر اس پر ٹریفک چلا دیں۔ہاں اس منصوبے کو کمرشل بنیادوں ہونا چاہئے۔

    سگنل فری سٹارم واٹر وے ٹنل ان اقدامات کے علاوہ ہوگی جو وقتا فوقتا بارشی پانی کی کھپت کے لئے عرض کرتا رہتا ہوں جیسے پارک، میدان اور کھلی جگہوں پر ڈونگی گروانڈ اور تالاب وغیرہ بنا کر پانی چوس کنوؤں (ری چارج ویل) کے ذریعے بارش کے پانی سے زیرزمین پانی تی چارج کرنا یا نشیبی جگہوں پر زیرزمین پانی ذخیرہ کرنے کے اسٹوریج ٹینک بنانا۔ واٹر بینک بنانا( میری گزشتہ کل کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ وغیرہ وغیرہ۔

    تو پھر کیا سوچ رہے ہیں آپ۔ دیر کس بات کی۔ اس دفعہ کراچی لاہور اور پنڈی کے شہری اپنے نمائندوں سے ضرور اس بارے مطالبہ کریں۔

  • مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

    یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

    بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

    جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

    مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

  • ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

    سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا کمپنی نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ کیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیچر کے متعارف کرائے جانے کے بعد پوسٹ کس طرح دِکھائی دے گی ٹوئٹ میں ’لاسٹ ایڈٹڈ‘ یعنی آخری بار ایڈٹ کیے جانے کا وقت اور تاریخ پوسٹ کے نیچے موجود تھا صارفین اس لنک کو کلک کرتے ہوئے ٹوئٹ کے ایڈٹ کیے جانے کا پورا ماضی دیکھ سکتے ہیں-

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1575590534529556480?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوگی۔ یہ کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔

    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    https://twitter.com/Twitter/status/1565318587736285184?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ

    کمپنی کے مطابق اس فیچر کی مدد سے کوئی ٹوئٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اس ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا جاسکے گا اور ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پر وقت لکھا ہوگا اور یہ درج ہوگا کہ اصلی پوسٹ میں تبدیلی کی گئی ہے اور وہ اس میں صرف "چند بار” تبدیلیاں کر سکیں گے۔ تمام صارفین ٹویٹ کے ماضی کے ورژنز کو دیکھ سکیں گے، اس لیے یہ فیچر ٹائپ کی غلطیوں کے لیے زیادہ ہے نہ کہ ایسی چیزوں کو چھپانے کے لیے جو آپ کو پہلے پوسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ یہ لیبل اس لیے ضروری ہے کیوں کہ پوسٹ کی تاریخ گفتگو کی دیانتداری کے تحفظ میں مدد دے گا اور لوگوں کو اس ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوگی جس سے معلوم ہو سکے گا کہ ٹوئٹ میں کیا کہا گیا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

  • فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    سوشل میڈیا کمپنی ’میٹا‘ نے فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش شروع کردی۔

    باغی ٹی وی : فیس بک کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ’اکاؤنٹس سینٹر‘ نامی فیچر تک محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے اور جلد ہی اسے عام صارفین میں بھی متعارف کرایا جا سکے گامذکورہ فیچر کے تحت اب صارفین فیس بک یا پھر انسٹاگرام کی ایپلی کیشن کے ذریعے دونوں ہی سوشل سائٹس کو استعمال کر سکیں گے۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    نئے فیچر کے تحت ابتدائی طور پر صارفین کو کسی بھی ایک ایپلی کیشن پر اپنے تمام اکاؤنٹس کو ایڈ کرنا پڑے گا، جس کے بعد وہ ایک ہی ایپ پر رہتے ہوئے دونوں ایپس کو استعمال کر سکیں گے۔


    یعنی اگر کوئی فیس بک استعمال کر رہا ہوگا تو وہ اسی پر انسٹاگرام آئکون کو کلک کرکے وہیں پر ہی انسٹاگرام پر جا سکے گا اور وہیں سے وہ پوسٹ بھی کرنے کے اہل ہوگا جب کہ صارف کو ایک ہی ایپلیکیشن پر دونوں ایپس کے نوٹیفکیشن بھی موصول ہوں گے۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا…

    نئے فیچر کے تحت صارفین کومزید اکاؤنٹس بنانےکی اجازت بھی ہوگی اورصارفین تمام ہی اکاوٗنٹس کوایک ہی ایپلیکیشن کےذریعے کنٹرول بھی کر سکیں گےعلاوہ ازیں مذکورہ فیچر کے تحت صارف کو اپنے تمام اکاؤنٹس کی معلومات الگ الگ بھی فراہم کی جائےگی اور صارف اپنی مرضی کے اکاؤنٹ کو استعمال کرسکیں گے۔

    فیس بک کا مذکورہ فیچر ٹوئٹر کے ’ٹوئٹ ڈیک‘ سے ملتا جلتا ہے، جس کے ذریعے صارفین بیک وقت بہت سارے اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

    9 سالہ طالبہ نے آئی او ایس ایپ تیار کر لی

  • جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    جنات کاسائنسی تجزیہ — فرقان قریشی

    ‏جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ، وہ آگ سے پیدا کیے گئے ، ان میں شیاطین و نیک صفت بھی موجود ہیں اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔ یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔ کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟ اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

    لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔ جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟ اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum) بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔ جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔ میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

    اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔ اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

    ‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

    کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔ جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

    ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔ جانور ، سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ، الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔ امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔ جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔ درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

    ‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

    ‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔ پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

    البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔ اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔ ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے اور یہی وہ فریکوئینسی ہے جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔ اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

    سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔ اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائنسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔ پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ، صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائنسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

    جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔ ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

    انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔ لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

    اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

    اگر آپ دوسری ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

    تیسری ڈائیمینشن میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے چوتھی ڈائیمینشن میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

    پانچویں ڈائیمینشن میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

    چھٹی ڈائیمینشن میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

    ساتویں ڈائیمینشن آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا.

    آٹھویں ڈائیمینشن آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

    نویں ڈائیمینشن ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

    اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔ اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

    اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔ اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

    بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ، یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔ یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ، یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ، یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ، یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

    ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ، لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

    الحمد للہ رب العالمین ۔

    تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔