Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کے لیے اپنے ڈیزائن میں تبدیلیاں کردیں

    یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کے لیے اپنے ڈیزائن میں تبدیلیاں کردیں

    یوٹیوب نے اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ایپس کے لیے اپنے ڈیزائن میں تبدیلیاں کی ہیں۔

    یوٹیوب ایپ کے ڈیزائن میں کی جانے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ عام بٹنز اور ٹولز کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔
    یوٹیوب ایپ کا یہ نیا فیچر آپ کو ضرور پسند آئے گا اسی طرح چند نئے فیچرز بھی دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ سروس کا حصہ بنے ہیں۔ڈیزائن میں کی جانے والی تبدیلیوں اور فیچرز کے بارے میں جانیں جو اب تمام صارفین دستیاب ہیں۔
    یوزر انٹرفیس میں کی جانے والی تبدیلیاں

    یوٹیوب میں عام استعمال ہونے والے بٹنز جیسے لائیک، ڈس لائیک اور شیئر کو بدلا گیا ہے اور انہیں حقیقی معنوں میں بٹن بنادیا گیا ہے۔
    نیا ڈارک موڈ یوٹیوب نے ایپ کے بیک گراؤنڈ میں رنگوں کو بدل کر نئی اپ ڈیٹ میں ڈارک موڈ کو زیادہ ڈارک بنادیا ہے۔ اس تبدیلی کا مطالبہ متعدد یوٹیوب صارفین کافی عرصے سے کررہے تھے کیونکہ گرے شیڈ کو بیشتر افراد ڈارک تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اب نئے ڈارک موڈ میں سیاہ رنگ زیادہ نمایاں ہے اور اس پر سوئچ کرنے سے ڈیوائس کی بیٹری لائف بھی بڑھتی ہے۔
    کلرفل ایمبی اینٹ موڈ

    یہ موڈ ویڈیو سے کلر لے کر یوٹیوب یوزر انٹرفیس پر بکھیر دیتا ہے، یہ فیچر کسی تاریک کمرے میں ٹی وی دیکھنے کے دوران خارج ہونے والی روشنی اور رنگوں سے متاثر ہے۔ یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب آپ نے ڈارک موڈ کو ان ایبل کیا ہوا ہوگا۔
    Precision seeking
    اب 10 سیکنڈ فاسٹ فارورڈ یا ریورس کرنے کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ اس نئے فیچر سے کسی ویڈیو کے مختلف حصوں کے تھمب نیل دیکھ کر براہ راست وہاں سے پلے کرنا ممکن ہوگا۔ پنچ ٹو زوم جیسے کسی تصویر کو اوپن کرکے آپ پنچ ٹو زوم یعنی چٹکی سے بڑا یا چھوٹا کرتے ہیں، اب ایسا یوٹیوب ویڈیو میں کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے۔بس ویڈیو کے جس حصے کو بڑا کرنا چاہتے ہیں وہاں انگلیاں رکھیں اور زوم کرلیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ غیرت کےنام پرماں بیٹی قتل:ملزمان گرفتار
    عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا چہرہ بے نقاب ہوچکا. وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
    سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا سے دو سوالوں کے جوابات طلب کر لیے۔
    اگر آرمی چیف غدار ہے تو آج بھی اس سے چھپ کر کیوں ملتے ہیں. ڈی جی آئی ایس آئی
    آرمی چیف کو کہا تھا کہ اگروہ آپ کو توسیع دے رہےہیں تو میں بھی دے دیتا ہوں:عمران خان مان گئے
    پاکستان میں بچے بہت تیزی سے موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں. عالمی ادارہ صحت
    پاکستان سعودیہ سٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس: توانائی کے شعبہ میں تعاون پر تبادلہ خیال پی ٹی آئی لانگ مارچ؛ لبرٹی چوک کے کئی مقامات پر کارکنان کم پولیس اہلکار زیادہ
    پولیس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا. وزیراعظم شہباز شریف

  • فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    کیلیفورنیا: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک 2015 متعارف کرائے جانے والے انسٹنٹ آرٹیکلز فیچر کوآئندہ برس ختم کرنے جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی میٹا، کی ذیلی کمپنی فیس بک کا کہنا تھا کہ یہ قدم اٹھائے جانے کی بنیادی وجہ اس کا ناکافی استعمال ہے۔

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    فیس بک کے ایک نمائندے کے مطابق فی الوقت فیس بک پر تین فی صد سے کم پوسٹ نیوز آرٹیکلز کے لنکس سے پوسٹ کی جاتی ہیں۔ اور رواں برس کے شروع میں جس طرح کہا گیا کہ کاروبار کے اعتبار سے ایسی چیزوں میں سرمایہ کاری کرنا معقول نہیں لگا جو صارفین کی ترجیحات نہیں ہوں۔

    فیس بک انسٹنٹ آرٹیکل کے فیچر کو 2023 کے اپریل کے وسط میں ختم کرنے کا ارادہ کر رہا ہے۔ایسے تقریباً 37 ہزار پیجز ہیں جو یہ فیچر استعمال کر رہے ہیں۔

    ٹوئٹر اپنے صارفین کی ٹوئٹس کو اسکرین شاٹس کی شکل میں پوسٹ کرنے پر ناخوش

    میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے حال ہی میں کہا تھا کہ فیس بک پر گزارے گئے تمام وقت کا 50 فیصد ویڈیو دیکھنےمیں آتا ہے، جبکہ ریلز فیس بک اور انسٹاگرام دونوں میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا مواد کی شکل ہےزکربرگ نےیہ بھی کہا تھاکہ فیس بک کے صارفین ‘یہ نہیں چاہتے کہ سیاست اور لڑائی ہماری خدمات پر ان کے تجربے پر قبضہ کرے۔

    اس طرح، میٹا مزید تفریحی ویڈیو مواد کو صارف کی فیڈز میں آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے، جو AI پر مبنی سفارشات کی بنیاد پر دکھائے جا رہے ہیں، نہ کہ آپ کس کی پیروی کرتے ہیں اور/یا آپ کس سے منسلک ہیں۔ زکربرگ اسے فیس بک کے مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں، اور یہ تبدیلی پہلے ہی صارف کے تجربے میں جھلک رہی ہے۔

    سائنسدان 2025 تک چاند پر پودے اُگانے کیلئے کوشاں

    واضح رہے یہ فیچر آئی فون یا اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں استعمال کیے جانے والے ویب براؤزر سے 4.9 گُنا تیزی کے ساتھ آرٹیکلز کو لوڈ کرتے ہیں۔

  • طلبا نے مچھلیوں کے فضلے سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا

    طلبا نے مچھلیوں کے فضلے سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا

    این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبا نے مچھلیوں کے فضلے اور اندرونی اجزا سے ماحول دوست بائیو ڈیزل تیار کرلیا ہے۔

    مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل سے فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ سمندری آلودگی کم کرنے اور ریفائنری میں بننے والے ڈیزل پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ صحافی کاشف حسین کے مطابق؛ این ای ڈی یونیورسٹی کے مکینکل انجینئرنگ کے فائنل ایئر کے طلبا کے گروپ نے اپنے سپروائزر اور انوائرمنٹل انجینئرنگ کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر محمود علی کی نگرانی میں 2 ماہ کی تحقیق کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے مچھلی کے کچرے اور پھینک دیے جانے والے اندرونی اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کرلیا ہے ریسرچ کرنے والے طلبا میں محمد ابصار احمد ، ذکی احمد ،طلحہ احمد اور حذیفہ افتخار شامل ہیں۔

    ریسرچ ٹیم میں شامل طالب علم محمد ابصار احمد نے بتایا کہ اس سے قبل مختلف نباتاتی اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کیا جاتا رہا تاہم ان کے گروپ نے مچھلیوں کے فضلے کا انتخاب کیا جو وافر مقدار میں دستیاب اور اس کی دستیابی میں مزید اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ پاکستان میں سالانہ ایک ملین ٹن مچھلی اور سمندری خوراک حاصل کی جاتی ہے جس سے سالانہ ساڑھے 3 لاکھ ٹن فضلہ نکلتا ہے جو زیادہ تر سمندر برد کردیا جاتا ہے جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور آبی حیات متاثر ہورہی ہے۔

    تحقیق کرنے والے طلبا کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں دستیاب ساڑھے تین لاکھ ٹن مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل تیار کیا جائے تو ڈیڑھ لاکھ ٹن تیل یا پھر ایک لاکھ ٹن بائیو ڈیزل تیار کیا جاسکتا ہے جس کی ریفائنری میں بننے ڈیزل میں 20فیصد تک آمیزش سے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ ڈیزل اور خام تیل کی درآمد پر اٹھنے والے زرمبادلہ کی بھی بچت کی جاسکے گی۔ مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری سے سالانہ 1.73ارب ڈالرکی بچت ہوگی

    مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی عام ڈیزل میں20 فیصد تک آمیزش سے ڈیزل کی درآمد پر خرچ ہونے والے زرمبادلہ میں سالانہ 1.73ارب ڈالر کی بچت کی جاسکتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں0.77 ملین ٹن ڈیزل امپورٹ کیا گیا جس پر 17.3ارب ڈالر خرچ کیے گئے، پاکستان میں دستیاب ساڑھے 3 لاکھ ٹن مچھلی کے فضلے کو پراسیس کرکے ایک لاکھ ٹن بائیو ڈیزل تیار کیا جائے تو ڈیزل کی درآمد میں ایک لاکھ ٹن کی کمی ہوگی جس سے 1.73ارب ڈالر کی بچت ہوگی، مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری کے دوران بننے والی گلیسرین صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔

    مچھلی کے فضلے اور اجزا سے بائیو ڈیزل تیار کرنے والے پراجیکٹ کی نگرانی کرنے والے ڈاکٹر محمود علی کے مطابق مچھلی کے فضلے سے بائیو ڈیزل کی تیاری تجارتی بنیاد پر ایک نفع بخش منصوبہ ثابت ہوسکتا ہے نجی شعبہ سرمایہ کاری کرے تو این ای ڈی یونیورسٹی پلانٹ کے ڈیزائن سمیت تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں انھوں نے بتایا کہ اس 10 لیٹر کی محدود گنجائش کا حامل پلانٹ بجلی سے چلانے پر کیمیکل سمیت تمام لاگت ملاکر 180سے 190روپے میں ایک لیٹر تیل کو بائیو ڈیزل میں تبدیل کرتا ہے نجی شعبہ زیادہ گنجائش کا پلانٹ نصب کرے تو یہ لاگت کافی حد تک کمی کی جاسکتی ہے اور بائیو ڈیزل کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔

    مچھلیوں کے کچرے اور اندرونی اجزا کے فضلے سے بائیو ڈیزل بنانے کا تجربہ این ای ڈی کے انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں تیار کیے جانے والے بیچ بیچ اسکیل بائیو ڈیزل پروڈکشن یونٹ کی مدد سے کیا گیا۔ یہ پلانٹ انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں ہی ڈیزائن اور فیبری کیٹ کیا گیا ہے جو 3 گھنٹے میں 10 لیٹر تیل کو پراسیس کرکے اس سے بائیو ڈیزل میں تبدیل کرسکتاہے یہ پلانٹ تیل کو کیمیکل اور حرارت سے پراسس کرکے اس میں سے بائیوڈیزل اور گلیسرین الگ کرتا ہے، یہ مشین 2 ماہ میں ایک لاکھ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی ہے۔ ڈاکٹر محمود علی نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ یہ مشین این ای ڈی کے انوائرمنٹل ڈپارٹمنٹ میں ہی تیار کی گئی ہے جو 10لیٹر تیل کو پراسیس کرکے بائیو ڈیزل میں تبدیل کرتی ہے اس عمل کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے جس سے پراسیس کی لاگت میں کمی آئے گی اور بائیو ڈیزل بنانے کے پراسیس کو بھی ماحول دوست بنایا جاسکے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    ڈاکٹر محمود علی کے مطابق؛ مچھلی کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی ریفائنری میں تیار ڈیزل کے مقابلے میں لاگت 12سے 13فیصد تک کم ہے تاہم یہ تجربہ 10لیٹر کے بیچ پراسیس پر کیا گیا اگر اسے پائلٹ بنیاد پر 100لیٹر تک کی گنجائش والے شمسی توانائی سے چلنے والے یونٹ پر پراسیس کیا جائے تو عام ڈیزل کے مقابلے میں فش ویسٹ بائیو ڈیزل کی لاگت 20سے 25فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مچھلیوں کے فضلے سے تیار بائیو ڈیزل کی کلوریفک ویلیو عام ڈیزل کے برابر ہے اور اس سے خارج ہونے والے کاربن اجزا ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر کلو کاربن سائیکل کے ذریعے دوبارہ ماحول میں شامل ہوجاتے ہیں۔

  • اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا

    اب بغیر اجازت کوئی بھی آپ کو ٹوئیٹر ٹیگ نہیں کرسکے گا.

    معروف مائیکرو بلاگنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نیا ’don’t @ me‘یعنی ‘ڈوناٹ مینشن می’ فیچر متعارف کروانے جا رہا ہے جس کے بعد صارفین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ کون ان کو پوسٹس میں ٹیگ کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکے. ’@‘ ایٹ کا نشان کسی بھی پوسٹ میں کسی صارف کو ٹیگ (جس کو مینشن بھی کہا جاتا ہے) کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نشان ٹیگ کیے جانے والے شخص کے اکاؤنٹ کا ایک لنک بناتا ہے اور ان کو پوسٹ اور پوسٹ پر بعد میں آنے والی جوابات کے متعلق مطلع کرتا ہے۔

    ایپ محقق جین مینچُن وونگ کی جانب سے لیک کیے جانے والے ایک اسکرین شاٹ کے مطابق یہ فیچر صارفین کو یہ اختیار دے گا کہ آیا دیگر اکاؤنٹس ان کو کسی ٹویٹ میں مینشن کر سکتے ہیں یا نہیں۔ نئے فیچر کا استعمال کرتے ہوئے صارفین پلیٹ فارم پر ہونے والی ہراسانی سے بچ سکیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    صارفین کے پاس یہ آپشن موجود ہوگا کہ وہ ان افراد کی فہرست کو محدود کرسکیں جو انہیں اپنی پوسٹ میں مینشن کر سکیں یا مکمل طور پر مینشن کا فیچر بند کر دیں۔ ٹوئٹر میں ایسے متعدد فیچرز موجود ہیں جو صارفین کو پلیٹ فارم پر جاری ایک گفتگو، جن میں وہ شامل ہوتے ہیں، پر پورا اختیار دیتے ہیں۔ فی الوقت صارفین اپنی ٹویٹ کا جواب دینے والوں میں کو ان لوگوں تک محدود رکھ سکتے ہیں جو اس میں مینشن ہوں یا جو ان کو فالو کرتے ہوں یا اس آپشن کو مکمل طور پر بند کرسکتے ہیں۔

  • انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانیت کی ایک اور جیت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کئی کروڑ سال پہلے جب انسان تھے ہی نہیں اور زمین پر جراسک ایرا یعنی ڈائنوسارز کا دور تھا تو میکسکو کے قریب ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی بڑا شہابیہ ٹکرایا۔ اس شہابیے کے گرنے سے کئی برس زمین پر تک گرد و غبار، راکھ کے بادل چھائے رہے۔ زمین ایک طویل سرد دور میں چلی گئی۔ زمین پر جانوروں کے لیے خوراک کی قلت ہو گئی اور ایسے جانور جو زیادہ خوراک استعمال کرتے جیسے کہ ڈائناسورز ، اُنکے لیے زندگی مشکل ہو گئی۔ اگلے کچھ عرصے میں نہ صرف ڈایناسورز بلکہ زمین پر موجود انواع کے تین چوتھائی معدوم ہو گئی۔

    اس تباہی کو جاننے اور خلا کی تسخیر اور وسائل کی دستیابی کے بعد انسان کا اگلا قدم یقیناً زمین کو کسی ممکنہ سیارچے کے ٹکراؤ سے بچانا تھا؟ مگر کیسے؟ ہم کس طرح ایک سیارچے کو زمین کی طرف آنے سے روک سکتے ہیں؟

    اس کے لئے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سیارچے ہوتے کیا ہیں؟ اور یہ کس طرح کے مدار میں چکر کاٹتے ہیں اور انکا مدار کسیے تبدیل ہوتا ہے؟

    سیارچے دراصل ماضی کے کسی سیارے کی باقیات ، کوئی ایسا سیارہ جو بننے میں ناکام ہو گیا ہو یا نظامِ شمسی کے وجود میں آنے کے بعد کئی چھوٹی بڑی خلائی چٹانیں جو گریویٹی کے باعث ایک جگہ اکٹھی ہو گئی ہوں وغیرہ وغیرہ سے بنتا ہے۔نظامِ شمسی میں کئی سیارچے موجود ہیں۔مگر یہ زیادہ تر مشتری اور مریخ کے درمیان ایک علاقے میں ہیں جسے ایسٹرآیڈ بلٹ کہا جاتا ہے۔
    ان میں سے کئی سیارچے یا چھوٹے شہابیے ہر روز زمین کیطرف آتے ہیں۔ مگر تیزی سے آتے ہوئے جب یہ زمین کی اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں تو رگڑ کھانے سے چھوٹے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور یوں زمین کسی تباہی سے محفوظ رہتی ہے۔

    مگر کبھی کبھی یہ شہابیے بے حد بڑے ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی سیارچہ جو زمین کیطرف آئے اور بہت بڑا ہو تو زمین کی فضا میں رگڑ کھا کر بھی اسکا بڑا حصہ زمین پر تباہی مچا سکتا ہے اور ایسا ہی کروڑوں سال پہلے ڈائناسورز کے دور میں ہوا۔

    لہذا اب ناسا کے سائنسدانوں نے ایسے ہی کسی ممکنا سیارچے کو زمین پر تباہی سے بچانے کے لیے پچھلے سال نومبر میں ڈارٹ نامی خلائی مشن بھیجا جسکا مقصد مشتری اور مریخ کے بیچ ایک سیارچے دیدموس کے گرد گھومتے اسکے چھوٹے سے چاند کا محور تبدیل کرنا تھا تاکہ مستقبل میں ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہو جو کسی سیارچے کو یہ پر گرنے کی بجائے اس سے دور کر دے۔

    اس سلسلے میں 26 ستمبر کو اس سیارچے کیطرف بھیجے گیا سپیس کرافٹ 6.6 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سیارچے دیدیموس کے چاند ڈیمورفوس سے ٹکرایا۔

    اس سپیس کرافٹ کے ٹکراؤ کے بعد خلا اور زمین پر موجود ٹیلی سکوپس کی مدد سے دیکھا گیا کہ سیارچے کے گرد گھومتے چاند کے مدار میں کس رفتار سے کمی واقع ہوئی ہے۔پہلے یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور
    55 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتا تھا۔

    ٹکراؤ سے پہلے ناسا کا خیال تھا کہ سیارچے کے مدار کی رفتار میں 73 سیکنڈ کا فرق ائے گا مگر بعد کے مشاہدات سے معلوم ہوا کہ اسکی رفتار میں 32 منٹ کی کمی آئی ہے جو یقیناً ممکنہ نتائج سے بڑھ کر ہے۔ گویا اب یہ چاند سیارچے کے گرد 11 گھنٹے اور 23 منٹ میں ایک چکر لگاتا ہے۔اس پیمائش میں 2 منٹ کی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

    اس مشن سے یہ ثابت ہوا کہ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجی سے سیارچوں سے سپیس کرافٹ ٹکرا کر انکے مدار کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ جو ممکنا طور پر آنے والے وقتوں میں کسی بڑے سیارچے سے ٹکرا کر اسکا مدار اس حد تک تبدیل کر دے کہ وہ زمین سے ٹکرانے کی بجائے اسکے پاس سے گزر جائے اور زمین محفوظ رہے۔

    یقیناً یہ مشن انسانیت کی اور سائنس کی جیت ہے قدرتی آفات سے لڑنے کی۔اور اس مشن پر کام کرنے والے سائنسدن اور انجنیئر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    نوٹ: مشن سے پہلے یا مشن کے بعد دیدیموس اور ڈیمورفوس دونوں کا دور دور تک زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں تھا یا ہے۔ یہ مشن محض ٹیکنالوجی کو ٹیسٹ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔

  • جیمز ویب دوربین  نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب دوربین نے دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود دو نایاب ستاروں کی ایک نئی تصویر جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطا بق زمین سے 5000 ہزار نوری سال کے فاصلے موجود ستاروں کے اس جوڑے کو ’وولف-رایٹ 140‘(WR 140) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی ایک نئی تصویر ایک قابل ذکر کائناتی منظر کو ظاہر کرتی ہے: ستاروں کے جوڑے سے کم از کم 17 مرتکز دھول کے حلقے نکلتے ہیں۔ زمین سے صرف 5,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع یہ جوڑی اجتماعی طور پر وولف-رائٹ 140 کے نام سے مشہور ہے۔

    ماہرین کے مطابق جب بھی یہ دونوں ستارے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو ایک دائرہ بنتا ہے۔ ستارے جو گیس خارج کرتے ہیں وہ آپس میں ٹکراتی ہیں، دوسری گیس کو دباتی ہے اور اس عمل سے گرد پیدا ہوتی ہے اور یوں گرم گرد کے ہالے نما دائرے وجود میں آتے ہیں۔

    مشتری کے برف سے ڈھکے چاند یورپا کی پہلی تفصیلی تصویر جاری

    ستاروں کا مدار ان کو ہر آٹھ سال میں ایک بار ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور درخت کے تنے میں پائے جانے والے چھلوں کی طرح بننے والے غبار کے یہ دائرے اس عمل کے وقوع پزیر ہونے کی تعداد کا تعین کرتے ہیں۔

    نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کی NOIRLab کے ایک ماہرِ فلکیات ریان لاؤ کے مطابق جاری کی گئی تصویر میں جاری ستاروں کے گرد و غبار کے پیداواری عمل کا ایک صدی سے زائد کا عرصہ دیکھ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تصویر یہ بھی بتاتی ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کتنی حساسیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل زمینی ٹیلی اسکوپس سے صرف گرد کے دو چھلے دیکھے جا سکتے تھے لیکن اب کم از کم 17 چھلے دیکھے جاسکتے ہیں۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

  • سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    سچ بولنے والے بچے بدتمیز اور خطرناک سمجھے جاتے ہیں،تحقیق

    ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ جو بچے ’کھرا سچ‘ بولتے ہیں، انہیں والدین یا دوسرے افراد ’بدتمیز‘ سمجھتے ہیں –

    باغی ٹی وی : جرنل آف مورل ایجوکیشن میں شائع تحقیق کے مطابق ماہرین نے بچوں کے سچ اور جھوٹ بولنے کے سماجی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے لیے 267 بچوں اور بالغ افراد پر تحقیق کی تحقیق میں شامل 171 افراد بالغ تھے، جن کی عمریں 18 سال سے 67 سال تک تھیں جب کہ دو درجن کے قریب افراد کی عمر 6 سال سے 15 تک تھی اور باقی افراد بھی درمیانی عمر کے نابالغ افراد تھے۔

    دنیا کے پرندوں کی تقریباً نصف اقسام کی آبادی کم ہو رہی ہے،رپورٹ

    جن میں سے نصف خواتین تھیں اور تمام افراد کو ویڈیوز دکھا کر ان سے سوال و جوابات کیے گئے جب کہ ویڈیوز کے بعد ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اگر وہ کسی کے والدین ہوتے تو اپنے ہی دیئے گئے جواب پر کیا رد عمل دیتے؟-

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں نے ’دو ٹوک الفاظ‘ میں سچ بولا، انہیں زیادہ ’بدتمیز‘ اور خطرناک سمجھا گیا اور ایسے ہی بچوں کے لیے والدین نے بتایا کہ ان کے ایسے کھرے سچ بولنے کی وجہ سے انہیں بعض اوقات شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جیسا کہ کوئی بچہ اپنے والدین یا دوسرے رشتے داروں یا دوستوں کی جانب سے ملنے والے کسی تحفے کو ناپسند کرتے ہوئے کوئی لحاظ کیے بغیر دو ٹوک الفاظ میں بولتا ہےکہ اسے مذکورہ تحفہ پسند نہیں، وہ بیکاراور خراب ہے’ تو ایسے کھرے سچ پر والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ایسے جواب پر ان بچوں کو ’بدتمیز‘ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پھر بھی، جبکہ والدین اور دوسرے بچوں کو دو ٹوک ایماندارانہ سچ بولنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا غلط ہےمگر ان میں وقت کے حساب سے سچ اور جھوٹ بولنے کی صلاحیت کی کمی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ بچے یہ سمجھ نہیں سکتے کہ سماجی طور پر کون سی باتیں، سچائی یا جھوٹ قابل قبول ہے اور کون سی بات کس طرح کی جائے، جس وجہ سے وہ عام طور پر دو ٹوک الفاظ میں بات کرتے ہیں، جس سے انہیں ’بدتمیز‘ سمجھا جاتا ہے تاہم بچوں کو وقت اور موقع کو دیکھتے ہوئے جھوٹ بولنے کی مہارت سیکھنی ہوگی اور اسی عمل سے ہی ان میں ترقی کے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    ماہرین کے مطابق بچوں کو موضوع، وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے دوسروں کا دل یا بھرم رکھنے کے لیے بعض باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا فن سیکھنا ہوگا، انہیں مبہم انداز میں سچ بولنا یا پھر جھوٹ بول کر دوسروں کو مطمئن کرنا سیکھنا ہوگا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

  • پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    کالے بھونڈوں اور چھپکلیوں کو بھگانے کےلیے سپرے کر رہا تھا صبح صبح کھڑکی کے پاس ، کہ دفعتاً ٹڈا سا نظر آیا۔ سوچا صحن میں گھاس ہے تو آ گیا ہو گا مگر جب دھیان سے دیکھا تو یہ praying mantis تھا ۔ فوراً سپرے روکا۔ شکر ہے ابھی اس پہ سپرے نہیں ہوا تھا۔ ہتھیلی آگے کی تو یہ دفاعی پوزیشن میں آ گیا ۔ دوستانہ انداز میں ٹچ کیا اور ہتھیلی آگے کی تو باقی دنیا کی طرح اسے بھی ہماری شرافت پہ یقین آ گیا اور ہتھیلی پہ بیٹھ گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوا میں موجود سپرے کے ذرات سے اسے نقصان نہ پہنچے۔

    اسے گلاب کے پودے پہ بٹھایا اور واپس آیا تو دیکھا برآمدے میں پر پھیلائے ،نہایت غصیلے انداز میں ایک اور مینٹس میرا منتظر تھا۔ اپنے ساتھی کو نہ پا کر سخت برہم تھا اور غالباً مجھ پہ شک کر رہا تھا۔ اسے چمکارا ۔ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو آہستہ آہستہ وہ بھی پاس آ گیا۔ اسے بھی وہیں اس کی بیگم پاس گلاب پہ چھوڑا کہ چل کاکا عیاشی کر۔ گلاب کے مخملیں بستر پہ ۔ مگر دونوں شاید آپس میں ناراض تھے۔ منہ بنائے دور دور رہے ذرا سے۔

    سکول کا ٹائم بھی قریب ہی تھا ۔ جانے لگا تو خیال آیا کہ ذرا جوڑے کے "حالات ” بھی دیکھتے جائیں ۔ اگرچہ پرائیویٹ معاملات میں دخل دینا نامناسب بات ہے مگر یہ ہم پاکستانیوں کا پرانا شیوہ۔ آپ نے غلام عباس کا افسانہ ” اوور کوٹ ” تو پڑھ رکھا ہو گا۔ اوور کوٹ والا نوجوان بھرے بازار ، اردگرد کےلوگوں ، اشیاء وغیرہ سے بےنیاز نظر آتا اور کسی پہ نگاہ ِ غلط انداز نہیں ڈالتا مگر اک موٹے پیندے اور لمبے بالوں والی لڑکی اور ساتھی لڑکے کی گفتگو سننا شروع کر دیتا ۔ اور پھر ان کے پیچھے یوں تیزی سے جاتا کہ ٹرک کا پتہ بھی نہیں چلتا اور مر جاتا۔ ویسے نصابی کتب میں یہ مکالمہ نہیں ہے۔ یوں بھی افسانوں کا ختنہ کرنے کے بعد ہی انہیں شامل نصاب کیا جاتا۔ احمد ندیم قاسمی کا فسانہ دیکھ لیں مولوی ابل والا۔

    بات دور نکل گئی۔ تو میں پھر قریب پہنچا ۔ دیکھا کہ ایک ہی موجود ۔ تلاش کیا مگر نہ ملا ۔ کمرے میں آ کے کپڑے تبدیل کرنے لگا تو حضرت بائیں کندھے پہ کراماً کاتبین کی طرح موجود۔ لو جی ۔۔۔۔ایہہ تے سچ مچ یاری دے چکراں اچ اے۔ واپس چھوڑا۔ دونوں نمونوں کو ایک پھول پہ بٹھایا بلکہ ان کی پپیاں جپھیاں بھی کروائیں زبردستی ۔ کچھ دیر بعد خدا حافظ کہنے گیا انہیں تو اب دونوں الگ الگ پھولوں پہ تھے۔ ارینج میرج ٹائپ جوڑے کی طرح۔ سخت مایوسی ہوئی۔

    پرئنگ مینٹس کا تعلق حشرات کے mantodea آرڈر سے ہے۔ اب تک اس کے 30 خاندان اور2400 انواع دریافت ہو چکیں ۔ خوراک کے معاملے میں گوشت خور ہیں کٹّر قسم کے ۔ نان ویجیٹیرین ۔ تمام حشرات میں ان کی نظر سب سے تیز ہوتی۔ ماہر شکاری اور نہایت ہمت والے۔ کبھی مقابل سے گھبراتے نہیں ۔ چھوٹے مینڈک ، چھوٹی چھپکلیاں، چھوٹے سانپ ، کیڑے مکوڑے وغیرہ کا شکار کرتے اور منٹوں میں کتر ڈالتے انہیں۔ اگلے بازوؤں پہ کانٹے نما سی چیز ہوتی سخت سی۔ شکار کو جکڑ لیتے۔ زندہ جاندار کھاتے ، مردہ نہیں ۔ حشرات میں یہ واحد ہیں جو اپنا سر انسان انسان کی طرح دائیں بائیں گھما سکتے۔ اوسط عمر ایک سال ہوتی۔

    پرندے اور چھپکلیاں ان کا شکار کرتیں ۔ اور بعض اقسام کی بھڑیں بھی ۔ مقابلہ خوب کرتے۔ یوٹیوب پہ سرچ کر سکتے ۔ تکونی سر اور دعا کی طرح اٹھے ہاتھ ہوتے ان کے ۔ یہ کسی چیز کو کاٹ بھی سکتے اور چبا بھی سکتے۔

    ایک اور خاص بات ، کہ اگر مادہ کسی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اپنے مجازی خدا کا سر کھا جاتی ہے۔ یہ عادت ویسے تمام ماداؤں میں مشترکہ ہے ۔۔۔سر کھانے کی ۔ نر ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

  • ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    ٹیکساس: ارب پتی ایلون مسک نے اپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کمپنیوں کے علاوہ ایک نئے کاروباری منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک نے نئی پرفیوم متعارف کردی ہے پرفیوم ان کے اپنے نام سے لانچ کی گئی ہے،اس بات کی اطلاع ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر دی ہے۔


    ایلون مسک نے اس ضمن میں اپنے ٹویٹر بیان میں کہا ہے کہ میرے نام کا آخری حصہ خوشبو سے متعلق ہے مگر اس کے باوجود مجھے اس کاروبار میں آنے میں اتنا لمبا عرصہ لگ گیا۔ متعارف کرائے جانے والے پرفیوم کا نام برنٹ ہیئر رکھا گیا ہے۔


    ایلون مسک نے پرفیموم کی قیمت 100 ڈالر مقرر کی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ اب تک 1000 کی تعداد میں پرفیوم فروخت بھی ہو چکے ہیں۔


    ایلون مسک نے صارفین سے اپیل کی کہ براہ کرم میرا پرفیوم خریدیں، تاکہ میں ٹوئٹر خرید سکوں-


    دنیا کے امیر ترین شخص نے ماہ ستمبر میں ایک ٹویٹ میں کہا تھا ‘ بورنگ کمپنی ایک پرفیوم متعارف کرائے گی۔ جو مردوں کو ہجوم میں کھڑے رہنے میں مدد دے گا۔ ‘ اب منگل کے روز اپنے ٹویٹ میں کہا میرے جیسا نام ہوتے ہوئے خوشبو کے اس کاروبار سے دور رہنما مشکل تھا۔

  • علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    علمِ فلکیات اور علمِ نجوم — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اس کائنات میں کھربوں کھربوں کی تعداد میں ستارے موجود ہیں۔ چونکہ ستارے ہم سے بہت دور ہوتے ہیں یعنی نوری سالوں کے فاصلے پر اس لئے ہمیں یہ بے حد چھوٹے اور صرف رات کے وقت آسمان پر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی خلا میں ایک سال میں طے کرے۔ روشنی کی رفتار خلا میں تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ یہ کس قدر تیز رفتار یے اسکا اندازہ ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روشنی ایک سیکنڈ میں زمین کے قریب 7.5 چکر لگا سکتی ہے۔ تو گویا ایک نوری سال ایک بہت بڑا فاصلہ ہوا جو روشنی ایک سال میں طے کرے۔ کتنا؟ تقریباً 95 کھرب کلومیٹر۔

    ہماری زمین کے سب سے قریب ستارہ سورج ہے جو زمین سے اوسطاً سال میں 15 کروڑ کلومیٹر دور ہوتا ہے اور سورج سے زمین تک روشنی کو پہنچنے میں تقریباً 8 منث لگتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق پوری زمین پر انسانی آنکھ سے دیکھے جا سکتے ستاروں کی کل تعداد محض 5 ہزار کے قریب ہے مگر ان میں سے بھی آپ صرف آدھے دیکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ زمین کے ایک حصے پر رہتے ہیں۔

    سورج کے بعد زمین سے سب سے قریبی ستارہ Proxima Centauri. ہے جو زمین سے تقریبآ 4.3 نوری سال دور ہے۔ اس ستارے کیساتھ دو اور ستارے Alpha Centuari AB ایک دوسرے کے گرد مزے سے گھوم رہے ہیں۔ اس تین ستاروں کے سسٹم کے بعد زمین سے تیسرا قریبی ستارہ Barnanrd’s Star ہے جو کہ تقریباً 6 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔

    زمین سے دکھنے والا سب سے روشن ستارہ Sirius ہے۔ یہ سورج سے ماس میں تقریباً 25 گنا زیادہ ہے اور یہ زمین سے سے 8.7 نوری سال دور ہے۔

    اب یہ سب جاننے کے بعد آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ شبنم کی منگنی ندیم سے کیا Proxima Centuri نے تڑوائی یا کسی کی خالہ زاد سلمی اُس سے اس لئے ناراض ہوئی کہ Barnard صاحب کو سلمی ایک آنکھ نہ بھائی۔

    یا پھر صبح صبح پھجے کے پائے اور دو گلاس لسی پینے کے بعد پیٹ کے درد کا الزام بے چارے کھربوں کلومیٹر دور Sirius پر لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

    علمِ نجوم دراصل کوئی علم نہیں ۔۔سوائے سورج کے باقی کسی ستارے کا ہماری زندگی پر کوئی بلواسطہ یا بلاواسطہ اثر نہیں۔ اگر پھر بھی آپ بضد ہیں کہ یہ ساری کارستانی ستاروں کی ہے تو پاکستان کے کسی مشہور علمِ نجوم کے "ماہر” سے اچھے سے پیپر پر زائچہ بنوا کر مجھے یہاں پیرس ارسال کر دیجیے، اس پر پکوڑے رکھ کر کھانے کا بے حد مزا آئے گا۔