Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمان نیلا کیوں ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جسے عام فہم میں آسمان کہتے ہیں دراصل یہ خلا کا وہ حصہ ہے جو زمین سے ہم دیکھتے ہیں۔ زمین بھی کائنات کے باقی تمام ستاروں, کہکشاؤں وغیرہ کی طرح خلا میں ہے۔

    قدیم تہذیبوں جیسے کہ بابل و نینوا میں سات آسمانوں کا تصور زمین سے دکھنے والے سات اجرامِ فلکی سورج، چاند، عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کی وجہ سے بنا۔ اور ہر ایک سے ایک آسمان منسلک کر دیا گیا۔ بعد میں یہ تصور دیگر تہذیبوں میں آیا ۔ یہ تصور اتنا مستقل ہے کہ آج بھی ہم نے ہفتے کے دنوں کے نام انہی سات اجرام کی مناسبت سے رکھے ہوئے ہیں۔ مگر اسکا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔

    زمین گو کہ خلا میں ہے مگراس کی اپنی فضا ہے جو مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے۔ ان کا تناسب فضا میں کچھ یوں ہے۔ نائٹروجن 78 فیصد ، آکسیجن 21 فیصد جبکہ دیگر کئی گیسیز اور بخارات کل ملا کر 1 فیصد ۔ دن کے وقت یہ ہمیں فضا نیلی کیوں دکھائی دیتی ہے جبکہ رات میں کالی یا تاریک ۔

    غیر سائنسی الفاظ میں سمجھایا جائے تو سورج کی روشنی میں ہر طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ہم جب قوسِ قزح دیکھتے ہیں تو ہمیں سات رنگ نظر آتے ہیں۔ روشنی دراصل برقناطیسی لہروں کی صورت میں ہے۔ لہر کی ایک ویولینتھ ہوتی ہے۔ کسی مسلسل لہر میں کئی اُتار چڑھاؤ ہوتے ہیں۔ ایک لہر کے دو قریبی اُتار یا قریبی چڑھاؤکے بیچ کے فاصلے کو ویوولینتھ کہتے ہیں۔ روشنی کے مخلتف رنگ دراصل اس لئے ہوتے ہیں کہ ہر رنگ کی ویوولینتھ مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سرخ رنگ کی ویوولینتھ زیادہ ہے بنسبت نیلے رنگ کے۔ یعنی سرخ روشنی کی لہروں کے دو قریبی اُتار میں فاصلہ زیادہ ہو گا بنسبت نیلے رنگ کی روشنی کے دو قریبی اُتار کے۔

    سورج کی سفید روشنی جب ہماری زمین کی فضا سے ٹکراتی ہے تو ہماری فضا میں موجود گیس کے مالیکول مختلف ویویلنتھ کی روشنی کو مختلف طرح سے بکھیرتے ہیں۔

    زیادہ ویویولینتھ کی روشنی کم بکھرے گی جبکہ کم ویویلنتھ کی روشنی زیادہ۔

    یعنی سرخ روشنی کم بکھرے گی اور نیلی روشنی زیادہ بکھرے گی۔ نیلی روشنی کے زیادہ بکھرنے سے فضا دن کے وقت ہمیں نیلی نظر آتی ہے۔

    غروبِ آفتاب کے وقت البتہ آسمان سرخ یا نارنجی دکھائی دیتا ہے جسکی وجہ یہ کہ اُفق سے نیچے سورج کی روشنی کو زیادہ فضا سے گزرنا پڑتا ہے بنسبت دن کے وقت۔
    سو نیلی روشنی جو پہلے ہی زیادہ بکھرتی ہے، اب اور بکھر کر نظر نہیں آتی جبکہ سرخ روشنی کم بکھرتی ہے سو نیلی روشنی کی عدم موجودگی میں زیادہ واضح نظر آتی ہے۔

    روشنی کے اس طرح سے بکھرنے کے عمل کو Rayleigh Scattering کہا جاتا ہے۔جسکے بارے میں 1871 میں برطانوی سائنسدان Lord Rayleigh نے بتایا کہ کیسے روشنی کی ویویلنتھ سے چھوٹے سائز کے ذرات روشنی کو مختلف زاویوں پر بکھیرتے ہیں۔

    تو اب اگر آپکا بچہ آپ سے پوچھے کہ آسمان نیلا کیوں ہے
    تو پہلے اُسکی آسمان کی غلط فہمی دور کیجئے گا اور پھر یہ بتائیے گا کہ فضا دن کو نیلی کیوں دکھتی ہے.

  • صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے

    صارفین ٹوئٹر پرتصاویر، ویڈیوز اورجی آئی ایف فائل ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے

    ٹوئٹر کی جانب سے ایک نئے فیچر کو متعارف کرایا گیا ہے جس سے صارفین تصاویر، ویڈیوز اور جی آئی ایف فائل ایک ٹوئٹ میں پوسٹ کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر تصاویر، ویڈیو اور جی آئی ایف فائلز کو ایک ساتھ پوسٹ کیا جاسکتا ہے اس کے لیے ٹوئٹ کمپوزر پر فوٹو، میڈیا یا جی آئی ایف آئیکونز پر کلک کرکے اپنی پسند کی فائلز کو اپ لوڈ کردیں۔

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1577729271002533921?s=20&t=kBR0N87KbM27hd3vhtX8tw
    کمپنی کے مطابق ایک ٹوئٹ پر صارفین 4 تصاویر، ویڈیوز یا جی آئی ایف فائلز پوسٹ کرسکیں گے علاوہ ازیں اس فیچر میں صارفین تصاویر اور ویڈیوز دونوں کو بیک وقت ٹیگ بھی کرسکیں گے۔
    https://twitter.com/TwitterSupport/status/1577730112853680128?s=20&t=kBR0N87KbM27hd3vhtX8tw
    اس سے پہلے صارفین ایک ٹوئٹ پر صرف تصاویر پوسٹ کرسکتے تھے یا ویڈیو ، دونوں کو ایک ساتھ پوسٹ کرنا ممکن نہیں تھا۔

    انسٹاگرام میں اس طرح کا فیچر کافی عرصے سے موجود ہے جس سے صارفین تصاویر اور ویڈیوز ایک ساتھ پوسٹ کرسکتے ہیں۔

    ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

    قبل ازیں کمپنی کی پیڈ سروس ٹوئٹر بلیو کے سبسکرائبرزکو اس تک رسائی دی گئی ہے،کمپنی کےمطابق ٹوئٹر بلیو کے کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے صارفین اب اس فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں، البتہ ابھی اسے امریکا میں متعارف نہیں کرایا گیا۔

    کمپنی نے یہ نہیں بتایا گیا کہ عام صارفین کے لیے یہ فیچر بھی مستقبل قریب میں اس فیچر کو متعارف کرایا جاسکتا ہے یا نہیں-

    کمپنی کے مطابق ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اسے ایڈٹ کیا جاسکے گا ،ایڈٹ کیے جانے والے ٹوئٹس ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ نظر آئیں گے جس سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اوریجنل ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

  • دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    یروشلم: اسرائیلی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک دیوار میں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ سکے گولان پہاڑیوں میں بینیاس کے مقام پر بہنے والے چشمے پر ایک پتھر کی دیوار کی بنیاد میں کی جانے والی کھدائی کے دوران ملے اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ 7ویں صدی کے 44 خالص سونے کے سکے ایک نیچر ریزرو میں دیوار سے چھپے ہوئے ملے ہیں۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 170 گرام وزنی، ہرمون سٹریم (بنیاس) کے مقام پر ملنے والا ذخیرہ 635 میں مسلمانوں کی فتح کے دوران چھپایا گیا تھا سکے علاقے میں بازنطینی حکومت کے خاتمے پر روشنی ڈالتے ہیں بازنطینی سلطنت رومی سلطنت کا مشرقی نصف تھا، جو 1,000 سال سے زائد عرصے تک زندہ رہا۔

    کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیر نے کہا، "ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مالک جنگ کے خطرے میں اپنی خوش قسمتی کو چھپا رہا ہے، اس امید میں کہ وہ ایک دن اپنی جائیداد واپس لینے کے لیے واپس آئے گا ماضی میں، ہم جانتے ہیں کہ وہ کم خوش قسمت تھا۔

    اسرائیل اینٹیکوئیٹیز اتھارٹیز کے ڈائریکٹر ایلی ایسکیوسیڈو کا کہنا تھا کہ سکوں کا یہ ذخیرہ آثارِ قدیمہ کی ایک انتہائی اہم دریافت ہے کیوں کہ اس کا تعلق بینیاس شہر اور اس پورے خطے کے عبوری دور سے ہے۔

    ادارے کے مطابق ماہرین نے یہ سکے پینیاس (جو بعد میں بینیاس کے نام سے جانا گیا) کے قدیم شہر سے دریافت کئے۔ یہ شہر ماضی میں ذرخیزی کے خدا ’پین‘ (Pan) کے حوالے سے مذہبی رسومات کے لیے خدمات انجام دیتا تھا۔ اسی نام سے پر بعد میں شہر کا یونانی نام رکھا گیا۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    ڈاکٹر گیبریلا بِجووسکی کا کہنا تھا کہ سکّوں میں سب سے پُرانا سکہ بازنطینی بادشاہ فوکس کے دور کا ہے جس نے 602 عیسوی سے 610 عیسوی تک حکومت کی۔جبکہ سب سے نئے سکے کا تعلق اسی صدی کے اگلے حصے میں جب مسلمانوں نے یہ خطہ فتح کیا اس وقت سے ہے۔

    ادارے میں کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیرر کا کہنا تھا کہ یہ سکے ممکنہ طور پر جنگ کے خوف سے بھاگنے والے شخص نے اس امید پر دبائے ہوں گے کہ واپس آکر یہاں سے اپنی ملکیت نکال لے گا۔

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ سونے کے سکوں کے علاوہ، کھدائی کے دوران قدیم شہر کے ایک رہائشی کوارٹر میں – عمارتوں کے باقیات، پانی کے نالے اور پائپ، کانسی کے سکے اور بہت کچھ بھی دریافت ہوا۔

    بنیاس کو عیسائی روایت میں ایک خاص مقام حاصل ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یسوع نے پطرس رسول سے کہا تھا، کہ اس چٹان پر، میں اپنا چرچ بناؤں گا-

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

  • روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    کیلیفورنیا: کیلیفورنیا کی ایک کمپنی نے فلپی 2 کے نام سے ایسے روبوٹ تیار کرنا شروع کردیئے ہیں جو خود کار انداز میں آلو اور پیاز کے فرائز تیار کر لینے کے علاوہ دیگر کھانے بھی تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یک روبوٹک بازو خود کار پلانٹس میں کیمروں اور مصنوعی ذہانت کے حرکت میں آتا ہے۔ فریزر سے آلو اور پیاز کے منجمد شدہ کے فرائز نکال انہیں ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیتا ہے صرف یہی نہیں اس کے بعد ان تیار شدہ فرائز کو ٹرے میں منتقل کرتا ہے اور کھانے لیے پیش کر دیتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    فلپی 2 کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ بھی متعدد کھانے مختلف ریسپیز کے ساتھ بیک وقت تیار کر لیتا ہےاس کی بدولت کیٹرنگ کرنے والے سٹاف کی پہلے جتنی ضرورت نہیں رہی ہے۔ کہ یہ آرڈرز کی تکمیل زیادہ تیزی کے ساتھ کر سکتا ہے۔

    روبوٹ بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مائیک بیل نے ایک انٹرویو میں بتایا ‘ جب ریستوران کے سسٹم کے ذریعے کسی کھانے کا آرڈر آتا ہے تو یہ سسٹم خود کار طریقے سے یہ آرڈر روبوٹ کو منتقل کر دیتا ہے یہ مقابلتا زیادہ تیزی کے ساتھ کام کرتا ہے، زیادہ قابل بھروسہ ہے، حتیٰ کہ انسانوں سے زیادہ خوش بھی رہتا ہے۔

    انہوں نے بتایا اس روبوٹ کی تیاری میں پانچ سال لگ گئے ہیں اور اب یہ کاروباری پیمانے بروئے کار ہے روبوٹ کا نام اس سے قبل تیار کردہ ایک روبوٹ سے لیا گیا ہے، جسے فلپ برگرز کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    لیکن روبوٹ بنانے والی ٹیم نے اسے ایک مرحلے پر چھوڑ دیا تھا کہ ایک مشکل پیدا ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ روبوٹ رات کے وقت بطور خاص فرائی سٹیشن پر اچھی ورکنگ نہیں کر پاتا تھا۔ لیکن اب فلپی 2 نے بہتر نتائج دیئے ہیں ، پرانے مسئلے حل کر لیے گئے ہیں اب تو کئی ریستورانوں نے اپنے فرائی سٹیشنون کے لیے یہ روبوٹ حاصل کر لیے ہیں۔

    مائیک بیل کے بقول تین بڑی امریکی فوڈ چینز نے بھی روبوٹس کی مدد لےلی ہےتاہم وہ اس امر کی احتیاط کی وجہ سے کہ اس سے انسانوں کے بے روزگار ہونے کی باتیں ہوں گی اپنے زیر استعمال روبوٹس کی مشہوری نہیں کر رہی ہیں۔

    بیل کے مطابق جوکام انسان جلدی سے چھوڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں وہ فرائی سٹیشن کا کام ہےلیکن وہ وقت دور نہیں جب اس طرح ہر جگہ روبوٹس کو کام کرتے دیکھیں گے اور پھر انسانوں کو یاد کریں گے کہ ایک دور تھا جب یہ کام انسان کیا کرتے تھے-

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

  • ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹرمیں ایڈٹ بٹن صارفین کو بھی دستیاب

    ٹوئٹر نے ستمبر 2022 میں ٹوئٹس ایڈٹ کرنے کے بٹن کی آزمائش شروع کی تھی اور اب یہ فیچر صارفین کو دستیاب ہے۔

    باغی ٹی وی : کمپنی کی پیڈ سروس ٹوئٹر بلیو کے سبسکرائبرزکو اس تک رسائی دی گئی ہے،کمپنی کےمطابق ٹوئٹر بلیو کے کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے صارفین اب اس فیچر کو استعمال کرسکتے ہیں، البتہ ابھی اسے امریکا میں متعارف نہیں کرایا گیا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980429814759424?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی نے یہ نہیں بتایا گیا کہ عام صارفین کے لیے یہ فیچر بھی مستقبل قریب میں اس فیچر کو متعارف کرایا جاسکتا ہے یا نہیں-

    کمپنی کے مطابق ٹوئٹ پوسٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اسے ایڈٹ کیا جاسکے گا ،ایڈٹ کیے جانے والے ٹوئٹس ٹائم اسٹیمپ اور لیبل کے ساتھ نظر آئیں گے جس سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ اوریجنل ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980459002609674?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوئی کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔
    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1576980495552114688?s=20&t=A_UbHr5aghG351gaCrfBZA
    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا، خیال رہے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور متعدد دیگر پلیٹ فارمز میں اس طرح کا فیچر کافی عرصے سے موجود ہے۔

  • سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    زمین پر5 سمندر بحر ہند، بحر اوقیانوس، بحر الکاہل، آرکٹک اوشین اور سدرن اوشین (بحر منجمد جنوبی) ہیں تاہم اب سائنسدانوں نے چھٹے سمندر کو دریافت کیا ہے جو زمین کی سطح سے سیکڑوں کلومیٹر نیچے موجود ہے-

    باغی ٹی وی : زمین کی اندرونی ساخت اورحرکیات کو مینٹل ٹرانزیشن زون اور لوئر مینٹل کے درمیان 660 کلومیٹر کی باؤنڈری سے تشکیل دیا گیا ہے تاہم، اس گہرائی سے قدرتی نمونوں کی کمی کی وجہ سے، اس حد کی نوعیت اس کی ساخت اور اس میں اتار چڑھاؤ کے بہاؤ پر بحث ہوتی رہتی ہے-

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    660 کلومیٹر کا وقفہ، کثافت اور زلزلہ کی لہر کی رفتار میں اچانک تبدیلیوں کے ذریعے نشان زد کیا گیا، ہمارے سیارے کے عالمی ڈھانچے میں سے ایک ہے جو سطح اور گہرے اندرونی حصوں کے درمیان حرارت اور بڑے پیمانے پر تبادلے کو کنٹرول کرتا ہے۔

    جرنل نیچر جیو سائنس میں شائع ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے زمین کی اوپری اور نچلی پرت کے درمیان پانی کے بہت بڑے ذخیرے کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیاپانی کا یہ ذخیرہ زمین کی سطح سے 410 سے 660 کلومیٹر گہرائی میں موجود ہوسکتا ہے۔

    اس بات کا انکشاف افریقی ملک بوٹسوانا میں ملنے والے ایک ہیرے پر تحقیق کے دوران ہوا جس کے کیمیائی مجموعے سے عندیہ ملا کہ یہ زمین کی سطح سے 660 کلومیٹر نیچے پانی کے ماحول میں تشکیل پایا قدرتی ہیرے زمین کی سطح سے 150 سے 250 کلومیٹر کی گہرائی میں تشکیل پاتے ہیں مگر کچھ بہت زیادہ گہرائی میں ہوتے ہیں۔

     

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    تحقیق کے مطابق زمین کے اندر چھپا یہ سمندر سطح تک تو نہیں پہنچتا مگر اس میں ایسے منرلز موجود ہیں جو اس خطے کو بہت زیادہ دلدلی بناتے ہیں اس سے فرانس کے 19 ویں صدی کے معروف ناول نگار Jules Verne کے پیش کردہ خیال کو تقویت ملتی ہے کہ زمین کے اندر بھی ایک سمندر چھپا ہوا ہے۔

    محققین اس سمندر کو دیکھنے یا محسوس کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوئے مگر انہوں نے ایسے شواہد پیش کیے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمین کی گہرائی میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق میں ہم نےثابت کیا کہ زمین کی گہرائی میں وہ حصہ خشک نہیں بلکہ وہاں بہت زیادہ مقدار میں پانی موجود ہےتو اس جگہ پانی کی کتنی مقدارہوسکتی ہے؟مصدقہ طور پر کچھ کہنا تو ممکن نہیں مگرمحققین کےخیال میں اس حصےمیں زمین کے سمندروں میں موجود پانی سے 6 گنا زیادہ پانی جذب ہوسکتا ہے۔

    انہوں نےکہا کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی اوپری اور نچلی تہہ کےدرمیان پانی ذخیرہ کرنے کی بہت زیادہ گنجائش ہے مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ واقعی ایسا ہے یا نہیں۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

  • مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مفہوم از 2^E=mc!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آئن سٹائن کی یہ ایکوئیشن دراصل یہ بتاتی ہے کہ مادہ اور توانائی ایک ہی شے کے دو نام ہیں اور مادے میں کتنی توانائی ہوتی یے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس ایکویشن کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مادی وجود روشنی کی رفتار سے سفر کرے تو وہ توانائی میں تبدیل ہو جائے گا۔ مگر ایسا ہر گز نہیں۔ اول تو کوئی مادی شے روشنی کی رفتار سے سفر کر نہیں سکتی اور دوم یہ کہ یہ کسی شے کی رفتار میں اضافہ تبھی ہوتا ہے جب اُس میں مزید حرکتی توانائی ڈالی جائے۔ روشنی کی رفتار کے قریب دراصل آپکا اصل ماس نہیں بڑھتا بلکہ وہ اضافی توانائی جو آپ نے اسکی حرکت میں ڈالی ہے وہ اس سسٹم میں داخل ہوتی ہے۔

    E=mc^2 دراصل E=γmc^2

    ہے جس میں اضافی ٹرم γ یہ بتاتی ہے کہ کوئی شے اگر کسی رفتار سے حرکت کرے کی تو اُسکی مکمل توانائی میں کیا فرق پڑے گا۔

    γ =1/sqrt(1-(v/c)^2)

    مگر رکیے γ دراصل تناسب ہے کسی مادہ کے حرکت میں توانائی کے /اُسکی بغیر حرکت کی توانائی کے۔

    خیر آپ پیچیدہ ایکویشنز سے مت گھبرائیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ E=mc^2 دراصل اُس مادے پر لاگو ہوتی ہے جو حرکت میں نہ ہو یعنی اسکی رفتار صفر ہو جس سے γ کی ویلیو 1 ہو جائی گی تو ایکویشن وہی ہو گی جو آپ بچپن سے دیکھتے سنتے آئے ہیں۔ مکمل تصویر کچھ پیچیدہ ہے جس میں E= (pc) ^2 +(mc)^2 ہے جو اُن مادی اجسام اور فوٹانز دونوں کے لیے ہے جو روشنی کی رفتار یا اس سے کم پر سفر کرتے ہیں کہ اس میں اشیا کے ماس کے بغیر اشیا جیسے کہ فوٹانز کا مومنٹم شامل ہوتا ہے۔

    مگر فی الحال اسے رہنے دیں۔ اس کنفیوژن سے نکلیں کہ روشنی کی رفتار پر ماس لامحدود ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔

    کاسمک ریز جو کہ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے آئنز ہوتے ہیں یا پھر نیوٹرینوز جو بے حد کم ماس کے حامل ہوتے ہیں روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہی سفر کرتے ہیں اور آئے روز خلا سے زمین پر آتے ہیں۔ اگر انکا ماس لامحدود ہوتا تو ایک ہی ہائیڈروجن آئن زمین تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ لہذا اُمید ہے آئندہ آپ یہ نہیں کہیں گے کہ روشنی کی رفتار سے حرکت پر کوئی شے توانائی میں تبدیل ہو جاتی ہے یا یہ کہ روشنی کی رفتار پر سفر سے کسی شے کا ماس لامحدود ہو جاتا۔

  • کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کراچی-لاہور کی اربن فلڈنگ تو زبردست اپرچونٹی ہے بھائی — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر، سب سے بڑی اور پرانی بندرگاہ ، سارے ملک کے تمام شہروں کے اجتماعی ریونیو سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے والے اکیلے شہر کراچی کی “ایڈمنسٹریشن سے شہر کے برساتی نالے صاف نہیں ہوسکے” (جیو نیوز رپورٹ) ۔ شہری اربن فلڈنگ کے لئے تیار رہیں۔ کراچی والو فیر آیا جے غوری۔

    کراچی کے 41 بڑے اور 514 چھوٹے برساتی اور گندے پانی کی نکاسی کے نالے اس وقت گجر نالے اور اورنگی نالے کی قیادت میں ، شہر پر یلغار کرنے کو تیار ہیں۔ محکمہ موسمیات ،صوبائی محکمہ برائے انتظام آفات اور کراچی کی شہری حکومت وارننگ جاری کرکے اپنے تئیں بری الذمہ ہو چکے ہیں۔ تاہم مجاہد کرینیں اور ان کے غازی مزدور نالوں سے کچرہ نکالنے کی نیم مردہ کوششیں ابھی تک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر لاہور کے لکشمی چوک میں بھی بارشی پانی کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی ہے۔پنڈی کا نالہ لئی بھی خاموشی سے وار کرنے کے انتظار میں ہے۔

    اس سال کراچی ، لاہور اور پنڈی میں پھر وہی کہانی دہرائے جانے کے لئے تیار ہے ۔ہرسال کی طرح زور کی بارشیں،غضب کا مون سون ،تالاب منظر سڑکیں، گرتے مکانات ، مرنے والے عام شہری اور اربن فلڈنگ میں برباد ہوتی عوام کی عمر بھر کی جمع پونجی۔

    اقتداریہ کے اجلاس پہ اجلاس، پانی نکالنے کی ہدایات، رپوٹوں کی طلبی، امداد کے اعلانات اور فوٹو سیشن، دو چار افسران کی سرزنش اور پھر آئندہ مون سون تک لمبی تان کر سونا۔ مجال ہے کہ اربن فلڈنگ کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کیلئے بر وقت اقدامات کا سوچا جائے اور اسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا جائے۔

    پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔جس کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو ہر سال تقریباً 1.80 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوجاتا ہے۔ جبکہ ہم سخت شرائط کے بعد 1ارب ڈالر کا قرض لینے کے لئے آج کل آئی ایم ایف کی منتیں ترلے کر رہے ہیں۔ہم اربن فلڈنگ کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرکے ہر سال کئی ملین ڈالر کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔

    ملائیشیا کے شہر کوالالمپور کا ڈرینیج ماسٹر پلان 1978 میں بن چکا تھا جس وقت بقول شخصے ملائیشیا کا وزیراعظم پاکستان سے گندم ادھار لینے کے لئے خود چل کر پاکستان آتا تھا ۔میں خود سنہ 2000 کی دھائی میں دو تین سال کوالالمپور کے اسٹریجک سٹارم واٹر مینیجمنٹ پلان پر کام کرنے والی ٹیم کا حصہ رہا تو معلوم ہوا کہ کوالالمپور کی شہری حکومت کی ہدایت ہے کہ ایسا منصوبہ بنا کر دیں کہ شہر کے کسی بھی علاقے میں آدھے گھنٹے سے کم وقت کی اربن فلڈنگ بھی نہ ہو حالانکہ وہاں روزانہ اتنے بڑے حجم کی بارش (80 ملی میٹر) ہوتی ہے جتنے کی آج محکمہ موسمیات نے کراچی میں ہونے پیشن گوئی کی ہوئی ہے اور کراچی شہر کی ایڈمنسٹریشن نے ہاتھ کھڑے کردئے ہیں۔

    یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس وقت کوالالمپور میں بارش ہونے اور اربن فلڈنگ کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا ریسپانس ٹائم ملتا تھا۔ اس پر بھی شہری حکومت نے ہمیں یہ وژن دیا کہ آپ بارش کو بھول کر ایسی ٹیکنالوجی استعمال کریں کہ بادلوں کے بننے کے پیٹرن سے اربن فلڈنگ کی پیشن گوئی ہوسکے جس سے ریسپانس ٹائم بڑھ جائے گا۔ ہمارے ہاں تو محکمہ موسمیات پچھلے ایک مہینے سے چیخ رہا ہے لیکن ہم اپنے سب سے بڑے کمرشل ہب کراچی کے برساتی نالے نہ صاف کرسکے۔

    کراچی میں تو بارشی پانی کی نکاسی کوئی مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہئے جہاں سمندر کی شکل میں اتنا بڑا نکاسی کا ڈرین موجود ہے۔ وفاقی حکومت اربن فلڈنگ کو اپر چیونٹی سمجھتے ہوئے فوری طور پر شہر کے اربن سٹارم واٹر منیجمنٹ پلان پر کام شروع کردے۔ کسی ایک بڑی سڑک کے نیچے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے سگنل فری سٹارم وے واٹر ٹنل بنائی جائے ۔ یہ ایک بڑے قطر کی (40فٹ تک) سرنگ ہو جس کے اندر دوتین منزلیں ہوں۔ سب سے نچلی منزل سارا سال گندے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہو جب کہ اوپر والا پہلا فلُور آنے والی ٹریفک اور دوسرا فلور جانے والی ٹریفک کے لئے استعمال ہو۔جس کا باقاعدہ ٹول ہو۔

    اس ٹنل پر 7/24 موٹروے پولیس پٹرول ، ایمرجنسی فون سروس، سائن بورڈ، بچاو کے راستے اور ایمرجنسی مینار ہوں گے۔ انہی میناروں سے تازہ ہوا کی فراہمی اور ٹریفک چلنے کی صورت میں ہوا کی کوالٹی ٹھیک رکھنے کے لئے وینٹی لیشن اور ایگزاسٹ کا بندوبست ہوگا۔

    اربن فلڈنگ کی وارننگ کی صورت میں ایک دن پہلے ہی ٹنل کے دونوں اوپر والے فلور ٹریفک کے لئے بند کر دئے جائیں اور مون سون کے دنوں میں ٹنل کے تینوں فلور بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے استعمال ہوں۔ بارش کے دنوں میں شہری حکومت ٹنل کمپنی سے اسٹارم واٹر وےکرائے پر لے کر نکاسی آب کے لئےاستعمال کرے۔ بارش کا پانی گزر جانے کے بعد ٹنل کمپنی اس کی صفائی کرکے دوبارہ ٹریفک چلا دے۔

    عام دنوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کا انتظام کرنے والی کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اربن سٹارم واٹر وے استعمال کریں۔ شہر میں ٹریفک جام کم ہوں اور صاحب استطاعت شہریوں کا وقت بھی بچے۔

    یہ راستہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ والے بھی استعمال کریں ۔ اقتداریہ بھی یہ راستہ استعمال کرکے عام آدمیوں کو پروٹوکول لگنے کی صورت میں ہونے والی تکلیف سے بچا سکتی ہے۔یہ ٹنل قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا سائیکلون کی صورت میں بطور پناہ گاہ بھی استعمال ہوسکتی ہیں اور خدانخواستہ کسی جنگی صورت حال میں بطور بنکر بھی۔

    لاہور کے پانی کا قدرتی ڈرینیج دریائے راوی ہے جہاں تک بارشی پانی کو شہر کے بقیہ حصوں سے پہنچنے میں اوسطا 10 کلومیٹر تک فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت شہر میں ایک گندے نالے کو چھت ڈال کر سڑک کے لئے استعمال کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے جس سے نالہ کچرہ پھینکنے سے بھی بچا ہوا ہے۔ تین چار جگہوں پر انڈر گراونڈ ٹینک بنا کر بھی بارش کا پانی جمع کرنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

    لاہور میں بھی کسی ایک بڑی سڑک جیسے مال روڈ، جیل روڈ، فیروز پور روڈ کے نیچے دریائے راوی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے سگنل فری اسٹارم واٹر وے ٹنل بنائی جا سکتی ہے۔ ایک اور بہترین راستہ لاہور کینال کے نیچے ٹنل بنانے کا ہے۔ٹنل کی مالک کمپنی سے LDA مون سون کے تین مہینوں کے لئے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے ٹنل کرائے پر لے لے اور بقیہ 9 مہینوں میں ٹریفک کے رش سے بچنے والے شہری ٹنل کمپنی کو ٹول دے کر سگنل فری اسٹارم وے استعمال کر لیں۔یہی کام نالہ لئی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ پراجیکٹ بھی PPP پر بنایا جا سکتا ہے۔

    اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ ٹنل والا تو بہت ہائی ٹیک اور مشکل کام ہے تو پھر کم ازکم لاہور شہر کی مثال سامنے رکھتے ہوئے برساتی گندے نالے کو چھت ڈالیں اور اوپر سڑک بنادیں جو ارد گرد کی سڑکوں سے نیچی ہو اور اس کی سائیڈ پر دیواریں ہوں ( سیمی انڈر پاس )۔ چھت کے نیچے والے پرانے نالے میں عام دنوں میں پانی چلے اور اوپر سیمی انڈر پاس پر ٹریفک چلے۔

    بارش کی صورت میں اوپر والی سیمی انڈر پاس سڑک پر بھی بارشی پانی ڈال دیں جو سگنل فری اسٹارم وے سے جلد ہی سمندر برد ہوجائے گا یا جاکر بوڑھے دریائے راوی کی پیاس بجھائے گا ۔ بارش ختم ہونے کے بعد پھر اس پر ٹریفک چلا دیں۔ہاں اس منصوبے کو کمرشل بنیادوں ہونا چاہئے۔

    سگنل فری سٹارم واٹر وے ٹنل ان اقدامات کے علاوہ ہوگی جو وقتا فوقتا بارشی پانی کی کھپت کے لئے عرض کرتا رہتا ہوں جیسے پارک، میدان اور کھلی جگہوں پر ڈونگی گروانڈ اور تالاب وغیرہ بنا کر پانی چوس کنوؤں (ری چارج ویل) کے ذریعے بارش کے پانی سے زیرزمین پانی تی چارج کرنا یا نشیبی جگہوں پر زیرزمین پانی ذخیرہ کرنے کے اسٹوریج ٹینک بنانا۔ واٹر بینک بنانا( میری گزشتہ کل کی پوسٹ ملاحظہ فرمائیں)۔ وغیرہ وغیرہ۔

    تو پھر کیا سوچ رہے ہیں آپ۔ دیر کس بات کی۔ اس دفعہ کراچی لاہور اور پنڈی کے شہری اپنے نمائندوں سے ضرور اس بارے مطالبہ کریں۔

  • مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    یونیورسٹی آف کیمبرج کی رہنمائی میں کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ایسے شواہد سامنے آئے جن کےمطابق مریخ کے جنوبی قطب میں برف کے نیچے مائع پانی موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : 2018 میں، یورپی مریخ ایکسپریس کے مدار نے پایا کہ مریخ کے جنوبی قطب کو ڈھکنے والی برف کی سطح ڈوبتی اور بڑھتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کےنیچےمائع پانی چھپا ہوا ہےلیکن اس وقت تمام سائنسدان اس بات کے قائل نہیں تھےمریخ انتہائی ٹھنڈا ہے، اورذیلی برفانی پانی سیارے پر مائع شکل میں موجود ہونے کے لیے،حرارت کا ایک ذریعہ ہونا پڑےگا،جیسا کہ جیوتھرمل توانائی،مارس ایکسپریس کی دریافت کے وقت، کچھ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ خلائی جہاز کےذریعے ناپے جانے والے عجیب ریڈار سگنل کی وضاحت کسی اور چیز سے ہوسکتی ہے –

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    لیکن حال ہی میں، یونیورسٹی آف کیمبرج کےمحققین کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نےبرف سےڈھکےہوئے علاقے، جسے الٹیمس اسکوپیلی کہا جاتا ہے، ایک مختلف تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے تحقیقات کیں اوریہ نتیجہ اخذ کیا کہ مائع پانی کی موجودگی، درحقیقت، ممکنہ وضاحت ہے-

    یونیورسٹی آف شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر فرانسس بُچر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تحقیق مریخ پر مائع پانی کی موجودگی کے حوالے سے بہترین اشارہ دیتی ہے کیوںکہ زمین پر گلیشیئر کے نیچے موجود جھیلوں کو ڈھونڈنے کے لیے جن دو اہم اشاروں کو دیکھا جاتا ہے، وہ مریخ پر پائے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اتنے ٹھنڈے درجہ حرارت میں مائع حالت میں رہنے کے لیے جنوبی قطب کے نیچے موجود پانی کو انتہائی نمکین ہونے کی ضرورت ہوگی، جس کے سبب اس میں کسی مائیکروبائل کی زندگی مشکل ہوگی۔تاہم، یہ چیزسائنس دانوں کو پُر امیدکرتی ہے کہ ماضی میں جب یہاں کا موسم کم مشکل ہوگا تو یہاں زندگی کے قابل زیادہ ماحول ہوتے ہوں گے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    کیمبرج یونیورسٹی میں جغرافیہ کے پروفیسر نیل آرنلڈ نے کہا کہ "نئے ٹوپوگرافک شواہد، ہمارے کمپیوٹر ماڈل کے نتائج، اور ریڈار ڈیٹا کا امتزاج اس بات کا بہت زیادہ امکان بناتا ہے کہ آج مریخ پر ذیلی برفانی مائع پانی کا کم از کم ایک علاقہ موجود ہے۔

    بین الاقوامی تحقیقی ٹیم، جس میں فرانس کی یونیورسٹی آف نونٹ اور آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج ڈبلن کے محققین بھی شامل تھے، نے آئس کیپ کے اوپر کی سطح کی اسپیس کرافٹ لیزر ایلٹی میٹر پیمائشوں کا استعمال کیا۔

    جس کے بعد محققین نے بتایا کہ یہ اشکال کمپیوٹر ماڈل کی ان پیش گوئیوں سے مشابہت رکھتی ہیں جن میں بتایا گیا کہ آئس کیپ کے نیچے موجود پانی کس طرح سطح کو متاثر کرتا ہے۔

    مریخ کے قطبین پر زمین کی طرح پانی کے برف کی موٹی تہہ ہیں۔ جن کا کُل حجم اندازاً گرین لینڈ کی برف کی چادر کے برابر ہے۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

  • ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ

    سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے پہلا ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پوسٹ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا کمپنی نے گزشتہ روز ایک ٹوئٹ کیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیچر کے متعارف کرائے جانے کے بعد پوسٹ کس طرح دِکھائی دے گی ٹوئٹ میں ’لاسٹ ایڈٹڈ‘ یعنی آخری بار ایڈٹ کیے جانے کا وقت اور تاریخ پوسٹ کے نیچے موجود تھا صارفین اس لنک کو کلک کرتے ہوئے ٹوئٹ کے ایڈٹ کیے جانے کا پورا ماضی دیکھ سکتے ہیں-

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

    https://twitter.com/TwitterBlue/status/1575590534529556480?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ
    ایڈٹ بٹن متعارف کرائے جانے کے بعد سب سے پہلے یہ سہولت ٹوئٹر بلیو کے صارفین کو دستیاب ہوگی۔ یہ کمپنی کا 4.99 ڈالر پریمیئم پلیٹ فارم ہے جہاں ٹوئٹس کا واپس لیا جانا، اشتہارات کے بغیر آرٹیکل جیسے دیگر تازہ ترین فیچر تک رسائی ہوتی ہے۔

    پہلی ترمیم شدہ ٹویٹ ٹویٹر کی پریمیم سروس ٹویٹر بلیو کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی ہے، جو نیا فیچر حاصل کرنے والا بھی پہلا اکاؤنٹ ہے اگرچہ ابھی تک اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ ترمیم کا بٹن کب آ رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ٹویٹر عوامی طور پر اس کی جانچ کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ جلد ہی ہو گا۔

    کمپنی کی جانب سے رواں سال کے ابتداء میں اعلان کیا گیا تھا کہ ایڈٹ بٹن اس سال ستمبر میں جاری کردیا جائے گا۔

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    https://twitter.com/Twitter/status/1565318587736285184?s=20&t=tO8fDgm2IY2pA0R-hFpQTQ

    کمپنی کے مطابق اس فیچر کی مدد سے کوئی ٹوئٹ کرنے کے 30 منٹ کے اندر اس ٹوئٹ کو ایڈٹ کیا جاسکے گا اور ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پر وقت لکھا ہوگا اور یہ درج ہوگا کہ اصلی پوسٹ میں تبدیلی کی گئی ہے اور وہ اس میں صرف "چند بار” تبدیلیاں کر سکیں گے۔ تمام صارفین ٹویٹ کے ماضی کے ورژنز کو دیکھ سکیں گے، اس لیے یہ فیچر ٹائپ کی غلطیوں کے لیے زیادہ ہے نہ کہ ایسی چیزوں کو چھپانے کے لیے جو آپ کو پہلے پوسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

    ٹوئٹر کا کہنا ہے کہ یہ لیبل اس لیے ضروری ہے کیوں کہ پوسٹ کی تاریخ گفتگو کی دیانتداری کے تحفظ میں مدد دے گا اور لوگوں کو اس ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوگی جس سے معلوم ہو سکے گا کہ ٹوئٹ میں کیا کہا گیا تھا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا