Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    سیکیورٹی نقص :واٹس ایپ صارفین کو ایپلیکیشن فوری اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت

    دنیا بھر میں مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ نے سیکیورٹی نقص کی خود نشاندہی کرتے ہوئے نئی اپ ڈیٹ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی ایپلیکیشن میں سیکیورٹی نقص سامنے آیا تھا جس کو دور کر کے نئی اپ ڈیٹ جاری کردی گئی ہے۔

    واٹس ایپ شادی شدہ جوڑوں کا رشتہ بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے،تحقیق

    کمپنی کا کہنا ہے کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے گوگل پلے اسٹور یا آئی او ایس اسٹور سے نئی اپ ڈیٹ حاصل کرلیں تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    واٹس ایپ ترجمان کے مطابق نئی اپ ڈیٹ جاری کرنے کے بعد صارفین کے موبائل میں انسٹال سافٹ ویئر (ایپلی کیشن) خود بہ خود اپ ڈیٹ ہوجائے گی تاہم اگر ایسا نہ ہو تو نئی اپ ڈیٹ کو آفیشل اسٹورز سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اس سے قبل بتایا تھا کہ واٹس ایپ کے سیکیورٹی سسٹم میں ایک کوڈ کے نقص کی وجہ سے ہیکرز میل ویئر، اسپائی ویئر یا اس طرح کے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سافٹ ویئرز کسی بھی صارف کے اسمارٹ فون میں انسٹال کر کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ہیکرز ایک کال یا ویڈیو کی مدد سے کسی بھی صارف کا اکاؤنٹ ہیکر کرسکتے ہیں جو بڑے خطرے کی بات ہے۔

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    یا د رہے کہ آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ استعمال نہیں کر سکیں گے واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نطر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بِیٹا انفو (WABetaInfo) کا کہنا تھا کہ آئی فون کے آئی او ایس 10 اور 11 استعمال کرنے والے صارفین 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔

    آئی فون کے ماڈل 5 اور 5سی کے صارفین اگر اپنے فون پر واٹس ایپ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے فون کو اپ گریڈ کرنا پڑے گا کیونکہ 24 اکتوبر کے بعد صرف آئی او ایس 12 پر ہی واٹس ایپ میسر ہوگا۔

    دوسری جانب اس حوالے سے جاری بیان میں ایپل کا کہنا تھا کہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے بیشتر صارفین کو اس اپ گریڈیشن سے کوئی مسئلہ نہیں گا-

    ان کا کہنا تھا کہ اس کے 89 فیصد صارفین آئی او ایس 15 استعمال کر رہے ہیں یا اپنے فون کو آئی او ایس 15 پر اپ گریڈ کرلیا ہے اب صرف 4 فیصد آئی فون صارفین ہی آئی او ایس 13 یا اس سے پہلے کا ورژن استعمال کررہے ہیں۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،گوگل سرچ میں بھی دلچسپ فیچر کے ذریعےجشن منایا گیا

    ناسا کے ڈبل ایسٹیرائیڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (ڈارٹ) اسپیس کرافٹ نے 22530 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین سے 96 لاکھ کلومیٹر دور سیارچے سے ٹکرا کر اپنی پہلی سیاروی دفاع کی آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل کرلی ہے یہ زمین کو سیارچوں سے بچانے کے دفاعی نظام کا پہلا تجربہ تھا-

    باغی ٹی وی: جہاں آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا،گوگل سرچ میں بھی ایک دلچسپ فیچر کے ذریعے اس کا جشن منایا گیا۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا


    اس مشن کو ڈارٹ کا نام دیا گیا تھا اور گوگل پر dart، dart probe یا double asteroid redirection test سرچ کرنے پر رزلٹس میں اسپیس کرافٹ بائیں سے دائیں جانب آتا ہے وہاں پہنچ کر وہ غائب ہوجاتا ہے اور سرچ پیج ہلکا سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور یہی ناسا کے اس مشن کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

    نومبر 2021 میں روانہ کیے گئے مشن کا مقصد ٹکرانے کے بعد اس سیارچے کے مدار کے راستے میں معمولی تبدیلی لانا ہے یہ تجربہ کس حد تک کامیاب ہوگا اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ہوگا مگر ناسا کی جانب سے ٹکراؤ کو کامیاب قرار دیا گیا ہے۔


    ان میں سے کوئی بھی سیارچہ، جو تقریباً 7 ملین میل دور واقع ہے، زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ٹیسٹ کا اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا مستقبل میں، اگر کوئی سیارچہ زمین کے لیے خطرہ بن جاتا ہے تو اس کو دور کرنا ممکن ہے۔

    امریکی کوہ پیما دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی سرکرکے واپس آنے کے دوران گہری کھائی میں گرگئیں

    ناسا کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ یہ بتانے میں تقریباً دو ماہ لگیں گے کہ آیا خلائی جہاز سیارچے کو معنی خیز جھٹکا دینے کے قابل تھا۔

    گوگل اکثر خاص گرافکس یا اینیمیشنز کی نقاب کشائی کرتا ہے، جن میں چوتھے جولائی کو آتش بازی بھی شامل ہے، لیکن ایک اینیمیشن جو تلاش کے نتائج کا زاویہ بدل دیتی ہےGoogle.com پر کمپنی کے Google Doodles میں اکثر تاریخی شخصیات یا سالگرہ کے موقع پر واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

  • ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ناسا کے ناقدین!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹچ والا موبائل” ہاتھ میں لیے ایک صاحب فیسبک پر چاند پر انسان کے جانے کو شبہہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ گزشتہ رات زمین سے کروڑوں میل دور ایک سیارچے پر ناسا کے سپیس کرافٹ ٹکرانے کی ویڈیو کو فیک کہتے ہیں۔ سائنس کو دو چار موٹی گالیاں دیتے ہیں اور ناسا کی "غلطیاں” پکڑتے ہیں۔ انہیں یہ زعم ہے کہ ایک پسماندہ ملک میں محض ایک موبائل ہاتھ میں لئے اور سکول میں سائنس اور ریاضی کے مضامین میں مشکل سے شاید پاس ہو کر اُنہوں نے اربوں ڈالرز کی تحقیق کرنے والے ادارے اور اُس میں ہزاروں کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجنیئرز، جو ایک کڑے امتحان سے ہو کر ناسا میں گئے ہیں، اُنکی غلطیاں "ترنت” چند سیکنڈ میں ڈھوند نکالی ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی؟

    چاند پر ہوا نہیں تو جھنڈا کیسے ہل رہا تھا؟
    انکو کس نے بتایا کہ چاند پر ہوا نہیں ہے؟ اُنہی لوگوں نے جو چاند پر جھنڈا لیکر گئے۔ تو وہ جو یہ بتا رہے ہیں کہ چاند پر ہوا نہیں ہوتی، کیا یہ نہیں جانتے تھے کہ جھنڈا بغیر ہوا کے کیسے لہرانا ہے؟ یا وہ ان صاحب کا پچاس سال بعد انتظار کر رہے تھے کہ وہ صاحب آئیں گے اور آ کر غلطی ڈھونڈیں گے۔

    چاند پر ستارے نظر کیوں نہیں آ رہے تھے؟
    یہ سوال وہ پوچھتے ہیں جنہیں یہ بھی علم نہیں ہو گا کہ سورج بھی ایک ستارا ہے یا جو یہ سمجھتے ہیں کہ سورج میں کسی نے ماچس جلا کر آگ لگائی ہوئی ہے۔ انکو یہ پتہ بھی نہیں ہو گا کہ انکے موبائلز میں موجود کیمرے کس ٹیکنالوجی سے کام کرتے ہیں اور کم اور زیادہ روشنی میں تصاویر لیتے ہوئے کیا فرق پڑتا ہے۔

    چاند پر ویڈیو کس نے بنائی تھی؟
    یہ سوال پوچھنے والوں کو لگتا ہے کہ ناسا جو اس زمانے سے خلا میں سٹلائٹ اور دیگر سپیس کرافٹ بھیج رہا ہے جب ان میں سے بہت سے دنیا میں تشریف بھی نہیں لائے ہونگے اور یہ ناسا سے پوچھ رہے ہیں کہ بغیر انسان کے اُنہوں نے کیمرے کیسے چلا دئے۔

    اسی طرح کی اور کئی "غلطیاں” یہ نکال کر خود کو تھپکی دیتے ہیں کہ دیکھا ہم تو کچھ نہ کر سکے کیونکہ یہ کام کرنے کے قابل ہی نہیں تھا سو جنہوں نے کیا وہ بھی سب فیک تھا۔ دوسرا دفاع کا مورچہ انکا قدرت کے کاموں میں مداخلت پر آ کر رکتا ہے۔

    ان میں سے اکثر کو تو ناسا کس شے کا مخفف ہے وہ بھی معلوم نہیں ہو گا۔۔

    جاگ جائیں صاحبو!! دنیا کے سامنے کب تک اپنی جہالت کو اپنے گلے کا ہار بنا کر چومتے رہیں گے۔

    اُنیسویں صدی کے مفکر مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا:
    "کسی کو بے وقوف بنانا آسان ہے بنسبت اسکے کہ اُسے باور کرایا جائے کہ اُسے بے وقوف بنایا گیا یے”

  • سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی  خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا زمین کو سیارچوں کی ٹکر سے محفوظ رکھنے کے تاریخی مشن کیلئے زمین سے بھیجا گیا تجرباتی ڈارٹ اسپیس کرافٹ سیارچے ڈیمورفس سے ٹکرا گیا ۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا، اس مشن کا مقصد زمین کو کسی خطرناک خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے محفوظ رکھنے کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا


    خلا میں موجود ایک بڑے پتھر سے خلائی جہاز ٹکرانے کا یہ تجربہ زمین سے تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ کلومیٹر دور کیا گیا ہےاس سارے مشن کو خلائی جہاز پر موجود کیمرے سے عکس بندی بھی کی گیا ہے جس سیارچے کو خلائی جہاز نے ہدف بنایا اس کو ڈیمورفوس کا نام دیا گیا ہے جبکہ اس مشن کو ڈارٹ مشن کہا جاتا ہے۔

    آج صبح 4 بج کر 14 منٹ پر اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان ہونے والے تصادم کی تصدیق چند سیکنڈوں بعد ہو گئی جس کا جشن جان ہوپکنز یونیورسٹی اپلائیڈ سائنس لیبارٹری میں مشن کی ٹیم نے منایا –


    تصادم کے نتیجے میں سیارچے میں گڑھے کا پڑنا، خلاء میں چٹانوں کے ٹکڑے اور مٹی کا اڑنااور سب سے اہم چیز سیارچے کا مدار بدلنا متوقع تھا۔

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    تاہم، ناسا کو زمین پر لگی ٹیلی اسکوپ سے ڈائمورفس اور اس کے جڑواں سیارچے ڈائیڈِموس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد تصادم کے سبب سامنے آنے والے نتائج کو معلوم کرنے میں کم از کم دو ماہ تک کا عرصہ لگے گا اگر مشن کامیاب ہوا یعنی سیارچے کے مدار کا راستہ بدل گیا تو یہ طریقہ زمین کی جانب بڑھنے والے سیارچوں کی روک تھام کے لیے اہم دفاعی ہتھیار ثابت ہوسکے گا۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ جس خلائی پتھر کو نشانہ بنایا گیا وہ زمین سے ٹکرانے کے راستے یا مدار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہ تجربہ اس پتھر کو حادثاتی طور پر یا غلطی سے زمین کی طرف بھیجے گا۔

    خلا میں موجود سب سے بڑی ٹیلی سکوپ جیمز ویب سمیت دیگر خلائی دور بینوں کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا گیا ہے، سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے میں خلائی جہاز، سیارچے کے مرکز سے صرف 17 میٹر ہٹ کے ٹکرایا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    ڈائمورفس سے اسپیس کرافٹ ٹکرانے کے بعد ناسا پُرامید ہے کہ اس سیارچے کا مدار چھوٹا ہوگا، یعنی اس کا ڈائڈِموس کے گرد چکر لگانے کا دورانیہ 10 منٹ کم ہوا گا جو ابھی 11 گھنٹے اور 55 منٹ ہے۔

    سائنسدان پہلے ہی ایسے بیشتر سیارچوں کو شناخت کرچکے ہیں جو زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی ہمارے سیارے کے لیے خطرہ نہیں مگر سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ ہزاروں چھوٹے سیارچوں میں کوئی ایک کسی دن زمین کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کا ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

    ڈارٹ اسپیس کرافٹ کو امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے تیار کیا اور اسے ڈیمورفس کی جانب نومبر 2021 میں روانہ کیا گیا تھا یہ 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ 32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنایا گیا تھا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

  • برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    برطانیہ میں ٹک ٹاک کو بھاری جرمانے کا سامنا

    لندن: برطانیہ میں بچوں کے پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی نہ بنانے پر ٹک ٹاک کو 27 ملین پاؤنڈزجرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانوی میڈیا کے مطابق انفارمیشن کمشنر آفس (آئی سی او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ٹک ٹاک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے جو ممکنہ جرمانے کی سزا سنائے جانے کی کارروائی کا آغاز بھی ہے۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ…

    آئی سی او کی تحقیقات میں دریافت کیا گیا کہ ٹک ٹاک کی جانب سے 13 سال سے کم عمر بچوں کے ڈیٹا کو والدین کی اجازت کے بغیر پراسیس کیا جاتا ہے ٹک ٹاک شفاف طریقے سے اپنے صارفین کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

    آئی سی او کے مطابق ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کا قانونی فرض ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائیں، ہماری عبوری تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ٹک ٹاک کمپنی ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    صارفین جو 24 اکتوبر سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے

    تحقیقات سے عندیہ ملا ہے کہ ٹک ٹاک نے مئی 2018 سے جولائی 2020 کے دوران یوکے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی خلاف ورزی کی۔

    انفارمیشن کمشنر جان ایڈورڈز نے کہا کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ بچے ڈیجیٹل دنیا کو سیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے کے قابل ہوں، لیکن ڈیٹا پرائیویسی کے مناسب تحفظات کے ساتھ۔

    اگر سوشل میڈیا کمپنی اس حوالے سے اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہی تو اس پر 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ہم برطانیہ میں پرائیویسی کے تحفظ کے لیے آئی سی او کے کردار کا احترام کرتے ہیں، مگر ہم ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے اتفاق نہیں کرتے اور اس حوالے سے آئی سی او کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ایپل نے آئی فون 14متعارف کرا دیا, جسمیں سیٹلائٹ کنکٹیویٹی اور کار کریش ڈٹیکشن…

  • رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا

    رواں سال کا دوسرا اور آخری سورج گرہن 25 اکتوبر کو ہوگا –

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق 25اکتوبر کو سورج کو گرہن لگے گا،جس کا مشاہدہ جذوی طورپرپاکستان میں بھی کیا جاسکے گا،جزوی سورج گرہن کا آغازپاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر58 منٹ پرہوگا،4 بجے سورج گرہن عروج پرہوگا،جس کا اختتام 6 بج کر2 منٹ پرہوگا۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے علاوہ سال کا آخری سورج گرہن یورپ کے بیشترحصوں،ایشیاء کے مغربی حصوں،شمالی افریقہ سمیت مشرق وسطیٰ میں بھی دیکھا جاسکے گا۔

    زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دورانِ گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں چاند کا سایہ زمین پر پڑتا ہے۔ چونکہ زمین سے سورج کا فاصلہ زمین کے چاند سے فاصلے سے 400 گنا زیادہ ہے اور سورج کا محیط بھی چاند کے محیط سے 400 گنا زیادہ ہے، اس لیے گرہن کے موقع پر چاند سورج کو مکمل یا کافی حد تک زمین والوں کی نظروں سے چھپا لیتا ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع

    سورج گرہن ہر وقت ہر علاقے میں نہیں دیکھا جا سکتا، اس لیےسائنسدانوں سمیت بعض لوگ سورج گرہن کامشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کرکے گرہن زدہ خطے میں جاتے ہیں۔ مکمل سورج گرہن ایک علاقے میں تقریباً 370 سال بعد دوبارہ آ سکتا ہےاور زیادہ سے زیادہ سات منٹ چالیس سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔ البتہ جزوی سورج گرہن کو سال میں کئی دفعہ دیکھا جا سکتا ہے۔

    سورج گرہن کئی قسم کا ہو سکتا ہے: مکمل سورج گرہن، حلقی سورج گرہن، مخلوط سورج گرہن، جزوی سورج گرہن

    جب بھی زمین کے کسی خطے میں مکمل سورج گرہن لگتا ہے تو اس کے گردونواح میں چاروں طرف جزوی گرہن ہوتا ہے،یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

  • ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ،26 ستمبر کو خلائی چٹان سے ٹکرائے گا

    واشنگٹن: ناسا کا پہلا سیاروی دفاعی اسپیس کرافٹ، 26 ستمبر کی شام خلائی چٹان سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی : ڈبل ایسٹیرائڈ ری ڈائریکشن ٹیسٹ (DART) کو گزشتہ برس نومبر میں زمین سے 1 کروڑ 9 لاکھ کلو میٹر دور سیارچے کا رخ بدلنے کیلئے خلا میں بھیجا گیاجو تقریباً ایک سال کے سفر کے بعد اب ڈائمورفس نامی ایک چھوٹے سیارچے سے 24 ہزار 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا کر ٹکرائے گا یہ سیارچہ ڈائڈِموس نامی بڑے سیارچے کے گرد گھومتا ہے۔

    نظام شمسی کا سب سے برا سیارہ 70 سال بعد زمین کے سب سے قریب

    روم میں نصب ورچوئل ٹیلی اسکوپ پروجیکٹ نے جنوبی افریقا کی متعدد مشاہدہ گاہوں کے ساتھ ایک مل کر ہدف سیارچے کو تصادم کے وقت دِکھائیں گے۔


    اس سے قبل دو طاقتورترین ٹیلی اسکوپ نے چھ راتوں کے مشاہدے کے بعد اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ڈائڈِموس کا مدار امریکی خلائی ایجنسی کے ڈارٹ کرافٹ کی سیدھ میں آ چکا ہے۔ان مشاہدات نے 2021 میں کی جانے والی مدار کی پیمائشوں کی تصدیق کی تھی۔

    یہ مشاہدے جولائی کے مہینے میں ایریزونا کی لویل ڈِسکوری ٹیلی اسکوپ اور چلی کی میگیلن ٹیلی اسکوپ سے کیے گئے۔

    جان ہوپکنز یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈارٹ اِنویسٹی گیشن ٹیم کے شریک سربراہ اینڈی رِوکِن کا کہنا تھا کہ ٹیم نے جو پیمائشیں 2021 کے ابتداء میں حاصل کیں تھیں وہ ڈارٹ کو صحیح مقام تک پہنچانے کے لیے اور ڈائمورفس کے ساتھ صحیح وقت پر تصادم کے لیے اہم تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ اُن پیمائشوں کی نئے مشاہدات سے تصدیق یہ بتاتی ہے کہ ہمیں کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں اور ہم ہدف کے تعاقب کے لیے درست سمت میں گامزن ہیں ڈائڈِموس اور ڈائمورفس اس سال ستمبر کے آخر میں زمین کے قریب سے یعنی 1 کروڑ 8 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزریں گے۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

    32 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی لاگت سے بنائے گئے اس 548.8 کلوگرام وزنی اسپیس کرافٹ کا مقصد اس کو ڈائمورفس سے ٹکرا کر سیارچے کی رفتار کا عشرِعشیر حصہ بدلنا ہے۔

    ڈارٹ کا ہدف ڈائمورفس تقریباً 560 فٹ (170 میٹر) چوڑا ہے اور ہر 11 گھنٹے اور 55 منٹ میں ایک بار اپنےڈائڈِموس کا چکر لگاتا ہے۔ ناسا نے کہا ہے کہ ڈارٹ زمین سے تقریباً 7 ملین میل (9.6 ملین کلومیٹر) کے فاصلے پر ہے اور ہمارے سیارے کو متاثر کرنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ناسا کے مطابق ڈارٹ کو تقریباً 14,760 میل فی گھنٹہ (23,760 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ڈائمورفس سے ٹکرانا چاہیے۔ یہ ہے ڈارٹ کا آخری دن کیسا ہوگا۔

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    25 ستمبر کو حتمی مشق کے بعد، اثر سے تقریباً 24 گھنٹے پہلے، نیوی گیشن ٹیم کو 2 کلومیٹر [1.2 میل] کے اندر ہدف ڈائمورفس کی پوزیشن معلوم ہو جائے گی،” ناسا کے حکام نے ایک بیان میں لکھا وہاں سے، ڈارٹ خود مختار طور پر خود کو خلائی چٹان کے چاند کے ساتھ ٹکرانے کے لیے رہنمائی کرے گا۔

    اسپیس کرافٹ اور سیارچے کے درمیان یہ تصادم پاکستانی وقت کے مطابق 27 ستمبر کو صبح 4 بج کر 14 منٹ پر ٹکرائے گا۔

  • ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :چیونٹیاں تقریباً ہر گھر میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہیں، یہ سڑکوں پر یا دیواروں کے کناروں پر بھی نظر آتی ہیں۔ مگر کبھی آپ نے ان کی تعداد جاننے کی کوشش کی ہے؟ تاہم اس کرہ ارض پر کتنی تعداد میں چیونٹیاں موجود ہیں،سائنس دانوں نے اس کا کسی حد تک اندازہ لگا لیاہے-

    ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے چونٹیوں کی اب تک کی عالمی آبادی کا ایک جائزہ پیش کیا ہے جس میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دو لاکھ کھرب چیونٹیاں ہیں-

    جرمنی کے شہر وزبرگ میں قائم جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں،چیونٹیوں کی اس تعداد کو اگر انسانوں کی تعداد سے دیکھا جائے تو ہر انسان کے مقابلے میں تقریباً 25 لاکھ چیونٹیاں ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ سبین نُوٹین کا کہنا تھا کہ محققین کے اندازے کے مطابق چیونٹیوں کی تعداد20 کواڈرِلین ہے۔ یعنی 20 کے آگے پندرہ صفر لگائے جائیں۔

    تحقیق میں محققین نے لکھا کہ چیونٹیوں کی تقسیم اور بہتات ماحولیات اور دیگر حیاتیات کے لیے ان کے کردار کی اہمیت سمجھانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اگرچہ چیونٹیوں جیسے کیڑے جو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور ماحولیاتی اعتبار سے ان کی اہمیت ہوتی ہے،لیکن ان کی موجودہ حقیقی کُل تعداد یا ان کی کسی مخصوص خطے میں موجودگی کا اندازہ نہیں ہے۔

    اس تخمینے تک پہنچنے کے لیے محققین کی ٹیم نے چیونٹیوں پر کیے جانے والے گزشتہ 489 مطالعات کا جائزہ لیا جو تمام برِاعظموں، بڑی آماجگاہوں اور مختلف ماحولوں پر مبنی تھے تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ زمین پر 20 کواڈرِلین چیونٹیاں موجود ہیں جن کا وزن 12 میگا ٹن یعنی 12 ارب کلو گرام خشک کاربن کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے شریک مصنف ور کیڑوں کے ماہر ماحولیات سبین نوٹین کے مطابق یہ وزن دنیا میں موجود جنگلی پرندوں اور مملیوں کے مجموعی وزن سے زیادہ ہے جبکہ انسانوں کے مجموعی وزن کا 20 فی صد ہے، اس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اثرات کا پیمانہ کیا ہے۔

    اس تحقیق کے شریک مصنف اور ماہر حیاتیات پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ”چیونٹیاں تقریباً ہر زمینی ماحولیاتی نظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ غذائی اجزا کی سائیکلنگ، گلنے کے عمل، مٹی کے ذرات کو اِدھر اُدھر کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ چیونٹیاں بھی کیڑوں کا انتہائی متنوع گروہ ہیں، جس کی مختلف اقسام ہیں جو وسیع پیمانے پر کام کرتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا اتنی بڑی تعداد میں ہونا انہیں اہم ماحولیاتی کھلاڑی بناتی ہے۔

    پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیٹا سیٹ ہزاروں سائنس دانوں کی بڑے پیمانے پر کی گئی کوششوں کو ظاہر کرتا ہےہم اس کی بنیاد پر ہی دنیا کے مختلف خطوں کے لیے چیونٹیوں کی تعداد کو معلوم کرنے اور ان کی مجموعی عالمی تعداد اور بایوماس کا تخمینہ لگانے کے قابل ہوئے ہیں۔

    چیونٹیوں کی 12 ہزار سے زائد معلوم اقسام ہیں اور یہ عموماً سیاہ، بھوری اور سرخ رنگ کی ہوتی ہیں جب کہ ان کے جسم کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کا سائز ایک ملی میٹر سے تین سینٹی میٹر تک ہوتا ہے چیونٹیاں عام طور پر مٹی، پتوں کی گندگی یا سڑنے والے پودے اور کچنز میں رہتی ہیں۔

    دنیا بھرمیں موجود چیونٹیوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے کی جانے والی تحقیق PNAS نامی جرنل میں شائع ہوئی-

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

  • مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    مریخ پر ہیلی کاپٹر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آسمانوں میں اُڑنے کی خواہش انسانوں میں ہمیشہ سے رہی۔ انسان جب اپنے ارگرد پرندوں کو اُڑتے دیکھتے تو اُن میں ایک تجسس سا جاگتا کہ اگر وہ ہوا میں اُڑیں گے تو کتنی خوشی، کتنی آزادی محسوس کریں گے۔ انسان ارتقائی طور پر دو ٹانگوں پر چلنے والا جانور بنا۔ قدرت نے انسان کا جسم ایسا نہیں بنایا کہ وہ اُڑ سکے بلکہ چل سکے یا دوڑ سکے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کی یہ صلاحیت دیگر جانوروں میں بھی کسی نہ کسی درجے تک پائی جاتی ہے مگر انسانوں کی یہ خاصیت ہے۔ دو ٹانگوں پر چلنے کے ارتقاء میں ابتدائی فوائد انسان کو یہ حاصل ہوئے کہ وہ اونچا ہو کر درختوں سے پھل توڑ لیتا، اسکے ہاتھ اب چلنے سے آزاد ہو گئے تو یہ اوزار بناسکتا تھا، ہاتھوں سے اشارے کر کے بات سمجھا سکتا تھا۔

    مگر دو ٹانگوں پر چلنے کے نقصانات بھی تھے۔ آج کتنے ہی لوگ عمر کے ساتھ ساتھ گھٹنوں اور کمر کے درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ انسان کے پورے وجود کا وزن گھٹنوں اور ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے۔چار ٹانگوں پر چلنے والے جانوردوں کی ریڑھ کی ہڈی پر زیادہ زور نہیں آتا۔ مگر خیر بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔

    اُڑنے کی صلاحیت نہ ہونے مگر اُڑنے کی خواہش ہونے نے انسان کے اُڑنے کے خواب کو صدیوں زندہ رکھا۔ماضی میں کئی افراد نے پرندوں کی طرح مصنوعی پر لگا کر اُڑنے کی کوشش کی مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ بالآخر اٹھارویں صدی میں انجن کی ایجاد اور اُڑنے کی سائنس کو سمجھ کر انسانوں نے جہاز بنانے کی کوشش کی۔

    بیسویں صدی کے آغاز میں امریکہ کے دو بھائیوں ولبر رائٹ اور اورویل رائٹ نے پہلے انجن والے جہاز کی اُڑان بھری اور انسانوں کے صدیوں کے اُڑ نے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ اس اُڑان نے انسانوں کو بُلندیوں پر جانے کا حوصلہ دیا۔

    اتنا کہ وہ زمین کی قید سے نکل کر خلاؤں میں جانے کا سوچنے لگا۔ یہ خواب بھی حضرتِ انساں نے اپنی جرات اور عقل سے پورا کیا۔ بڑے بڑے راکٹ بنا کہ خلاؤں کا رخ کیا۔ دوسری دنیاؤں پر جھنڈے گاڑے اور وہاں رہنے کے خواب دیکھنے لگا۔

    آج انسان عظمتوں کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے۔ کائنات کے راز کھولنا چاہتا ہے اور زمین کے علاوہ دوسرے سیاروں پر بسنا چاہتا ہے۔اسی کوشش میں وہ مریخ تک اپنے بیسیوں روبوٹ بھیج چکا ہے۔ مگر کامیابیوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں اور اسی تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ایک دن اس سرپھرے انسان نے سوچا کہ کیا مریخ پر بھی اُڑا جا سکتا ہے؟؟؟کیونکہ مریخ پر زمین کیطرح کی کثیف فضا نہیں۔ مریخ کی فضا بےحد باریک ہے اور اس میں محض کاربن ڈائی آکسائڈ ہے ۔ یہ زمین کی سطح سمندر کی فضا کے 1 فیصد جتنی باریک ہے ۔اور وہ جانتا تھا کہ ہوا میں اُڑنے کے لیے ہوا کا ہونا شرط ہے۔

    مگر سائنس نے اسے بتایا کہ گو ہوا کم ہے پر ہے تو صحیح۔ سو حضرتِ انساں کی نسل کے کچھ ذہن لوگ اس کام میں جُت گئے۔ عقل استعمال کی گئی اور بالآخر ایک ایسا چھوٹا سا ہیلی کاپٹر بنایا گیا جسکا وزن محض 1.8 کلو گرام تھا۔ یہ سولر پینلز سے چلتا تھا اور اسکے پر اتنے بڑے اور اتنے تیزی سے گھومتے کہ یہ باریک فضا میں بھی اُڑ سکتا۔ اسے زمین پر مریخ کی فضا کے سے حالات پیدا کر کے ٹیسٹ کیا گیا۔ اسے نام دیا گیا Ingenuity. بالآخر اسے 30 جولائی 2020کو ناسا کی بھیجی جانی والی ربوٹک روور Preservernce کے "پیٹ” سے باندھ کر سفرِ مریخ پر بھیج دیا گیا۔

    تقریباً 6 ماہ کی مسافت طے کرتا یہ ہیلی کاپٹر Ingenuity جب روور کیساتھ مریخ کی سطح پر اُترا تو اسکے بنانے والوں کو بے تابی سے انتظار تھا کہ یہ کب اُڑے گا۔

    پھر ایک دن ہیلی کاپٹر کو روور سے الگ کیا گیا اور اسکی زمین پر بیٹھی ناسا کی ٹیم نے مکمل جانچ پڑتا کی۔ اسکا سافٹ وئیر چیک کیا۔ اسکی بیٹری کا لیول دیکھا اور پھر طے ہوا کہ 19 اپریل کو اسے مریخ پر اُڑایا جائے گا۔

    19 اپریل کا دن، اس ہیلی کاپٹر کو زمین سے اُڑنے کی کمانڈ بھیجی جا چکی تھی۔رووور میں لگے کیمرے اور ہیلی کاپٹر کے اندر موجود کیمرے اس منظر کو محفوظ کرنے کو مکمل تیار تھے۔
    1,2,3..

    ہیلی کاپٹر کے اسکی ننھی جسامت کے مقابلے کئی گنا بڑے پر تیزی سے ہلتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مریخ کی فضا کو چیرتا ہوا اوپر اُٹھنے لگتا ہے۔تقریباً 10 فٹ کی بلندی تک پہنچ کر یہ مڑتا ہے اور واپس مریخ کی سطح پر اُتر جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں ٹھیک 39.1 سیکنڈ لگتے ہیں۔

    یہچھوٹی فلائٹ ایک حضرتِ انساں کا ایک بڑا قدم تھی جس نے ایک نئے انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ دواری دنیاؤں پر اُڑ ے کا باب۔ آج انسان پہلی مرتبہ زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر اُڑنے کے قابل ہوا!!.

    وہ جو اس لمحے کی اہمیت سے واقف تھے، اُنکی آنکھیں خوشی سے نم تھیں۔انسان نے آج اُڑنے کے خواب سے بھی بڑھ کر حقیقت کو پا لیا تھا۔

    عقل اپنی رفعتوں کو پہنچ چکی تھی۔

    کائنات حیران تھی!!

  • ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” توجہ دیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    معدے کی تیزابیت، جلن، یا ایسڈیٹی ہاضمہ کے سب سے عام مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا زیادہ تر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری سننے میں تو ایک معمولی مسئلہ لگتی ہے مگر جس شخص کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کیلئے یہ انتہائی بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کی سب سے عام وجوہات میں ذہنی دباؤ، بے وقت کھانے کی عادت، مخصوص دوائیں، بہت زیادہ مسالے دار کھانوں کا استعمال، اور معدے کی مختلف بیماریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی بھی معدے کی تیزابیت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

    اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کیلئے عام طور پر گھریلو علاج کو مفید سمجھا جاتا ہے، تاہم ان گھریلو علاج کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزوں سے بھی پرہیز کا مشورہ دیا جاتا ہے جو معدے کی تیزابیت کا باعث بنتی ہیں۔

    اگر معدے کی جلن کا شکار ہیں تو سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں کیوں کہ یہ معدے میں مخصوص گیسوں کو جمع کر کے تکلیف میں اضافہ کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ترش پھلوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے کہ ان پھلوں میں بھی تیزابیت پائی جاتی ہے۔

    معدے کی تیزابیت کا علاج:

    زیرہ
    دلیہ
    ادرک
    دہی
    سونف
    ہرے پتوں والی سبزیاں
    ناریل کا پانی
    کیلا
    گُڑ

    مندرجہ ذیل گھریلو علاج معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

    زیرہ:

    معدے کی تیزابیت کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے تیزابیت کو کنٹرول کرنے کے لیے زیرہ ایک مددگار مصالحہ ہے جو ہاضمہ کے نظام کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ درد کی شدت کو بھی کم کرتا ہے جس کی وجہ سے سانس کی بو کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس مسئلے سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک چائے کے چمچ زیرہ کو ایک کپ پانی میں ابال کر قہوہ بنا لیں اور اس قہوے کو ہر کھانے کے بعد باقاعدگی سے استعمال کریں، کچھ دنوں تک اس گھریلو ٹوٹکے پر عمل کرنے سے معدے کی جلن میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

    دلیہ:

    دلیہ کو بچوں کی غذا بھی کہا جاتا ہے، کیوں کہ یہ بہت نرم غذا ہے جو آسانی کے ساتھ ہضم ہو جاتی ہے۔ اس لیے اکثر طبی ماہرین تیزابیت لاحق ہونے کی صورت میں اسے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔دلیے میں موجود فائبر پیٹ کے اپھار اور واٹر ریٹینشن کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے میں بننے والے ضرورت سے زائد ایسڈ کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ فائبر کے بھرپور دیگر غذائیں بھی معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔

    ادرک:

    تیزابیت کی بیماری میں یہ جڑ نما سبزی بہت مفید ہے، کیوں کہ ادرک بہت سے طبی فوائد کی حامل ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو معدے کی ایسڈیٹی، بد ہضمی، سینے کی جلن، اور پیٹ کے دیگر مسائل کے لیے بھی مفید ہے۔اگر آپ معدے کی تیزابیت کا شکار ہیں تو ادرک کا قہوہ استعمال کرنا شروع کر دیں، ادرک کا ایک ٹکڑا لے کر اسے ایک کپ پانی میں ابال لیں اور ٹھنڈا ہونے پر پی لیں۔ اس کے علاوہ ادرک کے تازہ ٹکڑے کو کھانے کے ساتھ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دہی:

    دہی کو اگر معدے کی تیزابیت کا بہترین علاج کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دہی میں ایسے مفید غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو معدے کی جلن کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ کو اکثر معدے کی جلن کا سامنا رہتا ہے تو نہار منہ دہی کو استعمال کرنا شروع کر دیں، کچھ دنوں تک اسے استعمال کرنے سے معدے کی تیزابیت میں واضح کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ دہی کی افادیت میں اضافہ کرنے کے لیے آپ اس میں کیلا اور خربوز بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ایسڈیٹی کم ہو گی بلکہ آپ کو بھرپور غذائیت بھی میسر ہوگی، جس سے آپ کو تھکاوٹ اور کمزوری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

    سونف کے کچھ دانے چبانا تیزابیت کی شدت میں واضح کمی کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سونف سے بنی چائے غذائی نالی کی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سونف سے بنا ہوا مشروب بد ہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی نہایت مفید ہے۔

    ہرے پتوں والی سبزیاں:

    معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا پانے کے لیے ہرے پتوں والی سبزیاں بھی بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ آپ اس مسئلہ سے چھٹکارا پانے کے لیے دھنیا، پودینا، میتھی، اور بند گوبھی وغیرہ کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔معدے کی تیزابیت کا سامنا زیادہ تر مضرِ صحت غذاؤں کے استعمال کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کی جگہ ہرے پتوں والی صحت مند غذائیں استعمال کرنی چاہیئے

    ناریل کا پانی:

    معدے کی جلن لاحق ہونے کی صورت میں جب ناریل کا پانی استعمال کیا جاتا ہے تو تیزابی سطح الکلائن میں بدل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی استعمال کرنے سے معدے میں ایسے اجزاء ی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے جو تیزابیت کے مضرِ صحت اثرات سے بچاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ناریل کا پانی فائبر سے بھی بھرپور ہوتا ہے جو تیزابیت کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    کیلا:

    ایسڈیٹی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کیلے کو نہایت مفید سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس میں اکلائن کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو ایسڈیٹی کے خلاف مؤثر کام کرتا ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کیلئے آپ ہر روز ایک سے دو کیلے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کیلے کو دہی میں شامل کر کے بھی کھا سکتے ہیں، اس سے بنا ہوا خوش ذائقہ ملک شیک بھی استعمال کیا جاتا سکتا ہے۔ کیلے کو دودھ اور دہی کے ساتھ استعمال کرنے سے نہ صرف معدے کی تیزابیت میں کمی آئے گی بلکہ آپ کی طاقت میں بھی اضافہ ہو گا۔

    گُڑ:

    گُڑ کو بھی معدے کی جلن کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے، اس میں میگنیشیم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے جو ہاضمہ کے نظام کو طاقت فراہم کرتی ہے اور تیزابیت کو کم کرتی ہے۔معدے کی جلن سے چھٹکارا پانے کے لیے کھانے کے بعد گُڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں رکھ کر چوستے رہیں، اس سے نہ صرف ایسڈیٹی میں کمی آئی گی بلکہ آپ کے جسم کا درجہ حرارت بھی معتدل رہے گا۔معدے کی تیزابیت کے لیے یہ علاج نہایت مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ اگر ان علاج کی مدد سے آپ کے معدے کی تیزابیت میں کمی نہ آئے تو آپ کو پھر کسی ماہرِ امراضِ معدہ سے رابطہ کرنا ہو گا۔