Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان میں وائی فائی 7 کی منظوری، 6 گیگا ہرٹز بینڈ کا اجرا

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے جدید وائی فائی 7 ٹیکنالوجی کے لیے 6 گیگا ہرٹز بینڈ کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔

    پی ٹی اے کے اعلامیہ کے مطابق آئندہ آنے والی تمام وائی فائی جنریشنز کے لیے بھی 6 گیگا ہرٹز بینڈ میں استعمال کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد پاکستان ایشیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنارہے ہیں۔اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وائی فائی 7 تیز ترین ڈیٹا ریٹس، نہایت کم لیٹنسی اور شاندار کارکردگی فراہم کرتا ہے، جو جدید انٹرنیٹ ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    پی ٹی اے کے مطابق یہ ٹیکنالوجی گھروں، چھوٹے کاروباروں، تعلیمی اداروں، صحت عامہ کے مراکز اور اسمارٹ سٹی منصوبوں میں تیز تر اور قابلِ اعتماد کنیکٹیوٹی کو یقینی بنائے گی۔ماہرین کے مطابق وائی فائی 7 کا اجرا ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی جانب ایک بڑا قدم ہے جو ملک میں جدید آئی ٹی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ترقی کو مزید تقویت دے گا۔

    پاکستان میں سیلاب سے تباہی، چین کا بھرپور امداد کا اعلان

    غزہ کے انتظامی امور کی قیادت ٹونی بلیئر کو ملنے کا امکان

    امریکی بحری جہاز یو ایس ایس وین ای میئر کا کراچی کا دورہ مکمل

    غزہ میں نیتن یاہو کا خطاب زبردستی سنانے پر اسرائیلی فوج اور اہل خانہ برہم

  • واٹس ایپ نے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرادیا

    واٹس ایپ نے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرادیا

    معروف میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نیا ٹرانسلیشن فیچر متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے صارفین ایپ سے نکلے بغیر ہی چیٹس کا فوری ترجمہ کر سکیں گے۔

    اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز کے لیے یہ فیچر دنیا کے 180 ممالک میں دستیاب ہوگا۔ اینڈرائیڈ فون صارفین انگلش، ہندی، پرتگیز، روسی اور عربی زبانوں میں ترجمہ کر سکیں گے، جبکہ آئی فون صارفین کو 19 زبانوں کی سپورٹ ایپل ٹرانسلیشن کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔واٹس ایپ کے مطابق صارفین اب مختلف زبانوں کے میسجز کا ترجمہ چند سیکنڈ میں دیکھ کر جواب دے سکیں گے۔

    اینڈرائیڈ صارفین: مطلوبہ میسج کو دبائیں، اوپر دائیں جانب تھری ڈاٹ مینیو پر جائیں، Translate پر کلک کریں اور زبان کا انتخاب کریں۔ مستقبل میں آٹومیٹک ٹرانسلیشن بھی آن کی جا سکتی ہے۔آئی فون صارفین: میسج کو دبائیں، ترجمہ کے لیے آپشن منتخب کریں، لیکن آٹومیٹک ٹرانسلیشن دستیاب نہیں ہوگی۔

    یہ فیچر ون آن ون چیٹس، گروپ چیٹس اور چینل اپڈیٹس پر کام کرے گا، تاہم واٹس ایپ ویب اور ونڈوز ورژن میں ابھی دستیاب نہیں ہے۔واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر مرحلہ وار تمام صارفین کے لیے جاری کیا جا رہا ہے اور بہت جلد ہر صارف تک پہنچ جائے گا۔

    ایشیا کپ: بنگلادیشی کپتان کا بھارتی کپتان سے ہاتھ ملانے سے انکار

    مسلم رہنماؤں اور ٹرمپ کی ملاقات: غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے پر زور

    جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز، ممکنہ اسکواڈ پر مشاورت مکمل

    ٹرمپ سے مسلم سربراہان کی ملاقات شاندار ، نتائج چند دن میں آئیں گے: خواجہ آصف

  • ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود یورپی یونین کا گوگل پر  جرمانہ

    ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود یورپی یونین کا گوگل پر جرمانہ

    یورپی یونین نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتباہ کے باوجود گوگل پر 2.95 ارب یورو (3.47 ارب ڈالر) جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    یورپی کمیشن کے مطابق گوگل کا رویہ پبلشرز، مشتہرین اور صارفین کے مفادات کے خلاف تھا اور یہ یورپی اینٹی ٹرسٹ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔گوگل پر الزام ہے کہ اس نے اپنی اشتہاری خدمات میں مسابقت کو نقصان پہنچاتے ہوئے غالب پوزیشن کا غلط استعمال کیا۔گوگل نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر یورپ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو نشانہ بنایا تو وہ بھی ڈیجیٹل مارکیٹ اور پالیسیوں پر اپنے قوانین کے ذریعے جوابی کارروائی کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق اینٹی ٹرسٹ کمشنر ٹریسا ریبیرا نے پہلے امریکی ردعمل کے خدشات کے باعث جرمانے پر توقف کیا تھا، تاہم بعد میں برسلز نے فیصلہ سناتے ہوئے گوگل کو حکم دیا کہ وہ اپنے ’خود پسندی کے طرز عمل‘ اور مفادات کے موروثی تنازعات کو ختم کرے۔یورپی یونین اب بھی اس انتظار میں ہے کہ امریکا جولائی میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت کاروں پر ٹیرف کم کرنے کے وعدے کو پورا کرے۔

    یوٹیوبر رجب بٹ کو جوئے کی ایپس کی تشہیر پر 9 ستمبر کو طلبی

    اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    بھارتی فوج سرحدی علاقوں میں، پاک فوج نے ڈرون مار گرایا، سیلاب سے مارنے کی تیاری

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش، اسپائس جیٹ کو مسلسل نقصان

    حماس نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کی تازہ ویڈیو جاری کردی

  • گوگل پر صارفین کی پرائیویسی خلاف ورزی پر 425 ملین ڈالر جرمانہ

    گوگل پر صارفین کی پرائیویسی خلاف ورزی پر 425 ملین ڈالر جرمانہ

    امریکا کی فیڈرل جیوری نے فیصلہ سنایا ہے کہ گوگل نے صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی ہے، جس پر کمپنی کو 425 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

    مقدمے میں الزام تھا کہ گوگل نے گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران ایسے صارفین کا ڈیٹا جمع، محفوظ اور استعمال کیا جنہوں نے اپنے ویب اینڈ ایپ ایکٹیویٹی سیٹنگز میں ٹریکنگ بند کر رکھی تھی۔ یہ مقدمہ جولائی 2020 میں دائر ہوا تھا، جس میں صارفین نے 31 ارب ڈالر سے زائد کے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔جیوری نے گوگل کو صارفین کی پرائیویسی کی دو خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا، تاہم قرار دیا کہ کمپنی نے بدنیتی سے کام نہیں کیا، اس لیے سزا میں اضافی ہرجانہ شامل نہیں کیا گیا۔

    گوگل کے ترجمان خوسے کاسٹانیڈا نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ فیصلہ ہماری مصنوعات کے کام کرنے کے طریقے کو درست طور پر نہیں سمجھتا۔ ہمارے پرائیویسی ٹولز صارفین کو اپنے ڈیٹا پر کنٹرول دیتے ہیں اور جب وہ پرسنلائزیشن بند کرتے ہیں تو ہم اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔‘‘

  • ٹک ٹاک کا اے آئی ماڈریٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ،  ملازمین کی ہڑتالیں شروع

    ٹک ٹاک کا اے آئی ماڈریٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ، ملازمین کی ہڑتالیں شروع

    شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک کی جانب سے انسانی ماڈریٹرز کو ہٹا کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈریٹرز تعینات کرنے کے اعلان کے بعد جرمنی میں ملازمین نے ہڑتالیں شروع کر دی ہیں۔

    برطانوی اخبار کے مطابق ابتدائی طور پر جرمنی میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کو اے آئی اور کنٹریکٹ ورکرز سے بدلنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 150 ملازمین برطرف ہوں گے۔کمپنی کے اعلان کے بعد ملازمین کی نمائندگی کرنے والی ٹریڈ یونین نے مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ٹک ٹاک نے فوری طور پر مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔برلن میں ٹک ٹاک کے سب سے بڑے دفتر میں تقریباً 400 ملازمین کام کرتے ہیں، جن میں سے 40 فیصد افرادی قوت ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کا حصہ ہے۔ برطرفی کے بعد یہاں عملے میں نمایاں کمی ہو جائے گی۔

    جرمنی کے ماڈریٹرز روزانہ ایک ہزار تک ویڈیوز کا جائزہ لیتے ہیں اور نقصان دہ مواد جیسے تشدد، فحاشی، غلط معلومات اور نفرت انگیز تقاریر کو ہٹانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں ٹک ٹاک نے دنیا بھر میں ٹرسٹ اینڈ سیفٹی کے عملے میں کمی کی ہے اور اس نظام کو زیادہ تر اے آئی کے حوالے کر دیا ہے۔

    ٹرمپ استقبال، پیوٹن کے اوپر بی-2 اسٹیلتھ طیاروں کی پرواز

    آسٹریلیا میں بھارتی طالب علموں کا گروہ چوری میں گرفتار

    یاسین ملک کی بیٹی کی عالمی رہنماؤں سے والد کی جان بچانے کی اپیل

    شرح پیدائش، چین کا بچوں کے والدین کو سالانہ 500 ڈالر معاوضہ

  • انسٹاگرام پر لائیو اسٹریمنگ کیلئے فالوورز کی شرط عائد

    انسٹاگرام پر لائیو اسٹریمنگ کیلئے فالوورز کی شرط عائد

    انسٹاگرام صارفین کے لیے ایک نئی پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کے تحت اب صرف وہی افراد لائیو اسٹریمنگ کر سکیں گے جن کے فالوورز کی تعداد کم از کم ایک ہزار ہوگی۔

    کیلیفورنیا میں قائم فوٹو شیئرنگ ایپ نے تصدیق کی ہے کہ یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ کمپنی کی جانب سے جان بوجھ کر کی گئی تبدیلی ہے۔ انسٹاگرام کے مطابق اس اقدام کا مقصد لائیو اسٹریمنگ کا تجربہ بہتر بنانا ہے۔اس سے قبل انسٹاگرام پر ہر صارف کو لائیو جانے کی اجازت حاصل تھی، چاہے اس کے فالوورز کی تعداد کچھ بھی ہو۔ اب کم فالوورز والے صارفین کو ایک نوٹیفکیشن موصول ہو رہا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ لائیو اسٹریمنگ کا اہل نہیں، کیونکہ ہم نے اس فیچر کی اہلیت کو اپڈیٹ کیا ہے۔ اب صرف ایک ہزار یا اس سے زائد فالوورز رکھنے والے پبلک اکاؤنٹس ہی لائیو جا سکتے ہیں۔”

    انسٹاگرام کی اس نئی پالیسی پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے، تاہم کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ تبدیلی پلیٹ فارم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کی گئی ہے۔

    سڈنی ہاربر برج پر فلسطین کے حق میں تاریخی مارچ، شدید بارش میں ہزاروں افراد شریک

    سڈنی ہاربر برج پر فلسطین کے حق میں تاریخی مارچ، شدید بارش میں ہزاروں افراد شریک

    بالی ووڈ فلم ساز پاک بھارت جنگ سے منافع بخش حب الوطنی کمانے کے درپے

    امرناتھ یاترا سکیورٹی اور موسمی خدشات کے باعث قبل از وقت ختم

  • ٹک ٹاک نے سابق اسرائیلی فوجی  کو ہیٹ اسپیچ مینیجر تعینات کر دیا، تنقید کا سامنا

    ٹک ٹاک نے سابق اسرائیلی فوجی کو ہیٹ اسپیچ مینیجر تعینات کر دیا، تنقید کا سامنا

    چینی شارٹ ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے ایریکا منڈیل نامی امریکی یہودی خاتون کو ہیٹ اسپیچ (نفرت انگیز مواد) مینیجر کے طور پر تعینات کر دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تنقید سامنے آ رہی ہے۔

    ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق ایریکا منڈیل ماضی میں اسرائیلی فوج کی ٹریننگ سے منسلک رہ چکی ہیں اور کئی یہودی تنظیموں میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہی ہیں۔ وہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں یہود مخالف نفرت انگیز مواد کی نگرانی پر بھی کام کر چکی ہیں۔رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک میں ان کی نئی تعیناتی کا مقصد عمومی طور پر ہیٹ اسپیچ کی نگرانی ہے، تاہم میڈیا ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ خاص طور پر یہود مخالف مواد کو ہٹانے یا اس کی نگرانی پر مامور ہوں گی۔

    تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور نسل کشی کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیے جانے کے بعد ٹک ٹاک پر اسرائیل مخالف مواد کو دبانے کے لیے ایریکا منڈیل کی تعیناتی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ماضی میں بھی فلسطین سے متعلق اسرائیلی مظالم کی ویڈیوز کو محدود یا ہٹانے پر تنقید کا سامنا رہا ہے، جس کے بعد اب اس نئی تعیناتی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اظہار رائے کی آزادی پر اثر پڑے گا، اور یہ اقدام سیاسی اور مذہبی جانبداری کا عکاس ہے۔

    ایشیا کپ ٹی20 2025: وینیو اور شیڈول کا اعلان

    9 مئی کیس، عمر ایوب اور زرتاج گل کی ضمانت میں توسیع، احمد چٹھہ کی درخواست خارج

    آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے: حماس

    برطانیہ کو ہجرت کے بحران کا سامنا، ایک سال میں 7 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ

  • اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    اندر کے غدار، باہر کے دشمن اور ہمارے ہاتھوں میں موبائل،تحریر :فیضان شیخ

    ایران میں اس بار سائنسدانوں کی شہادت

    دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے حساس شخصیت -ایرانی آرمی چیف کی شہادت، پھر دیگر کمانڈرز…
    کیا یہ سب اتفاق ہے؟
    نہیں! دشمن کو کہیں نہ کہیں سے اندر کی مدد مل رہی ہے
    اور جب دشمن کو اندر سے مدد ملے، وہ ناقابلِ شکست ہو جاتا ہے

    اسرائیل اور امریکہ کی نظریں صرف ایران پر نہیں…
    بلکہ پورے عالم اسلام پر ہیں!
    اور اس بار جنگ ہتھیاروں سے نہیں، ٹیکنالوجی سے ہو رہی ہے

    آپ کے ہاتھ میں جو فون ہے
    وہی دشمن کی سب سے بڑی آنکھ ہے
    GPS… لوکیشن… کال ڈیٹا… سب کچھ شیئر ہو رہا ہے
    گوگل، ایپل اور AI سسٹمز دشمن کے ہتھیار بن چکے ہیں

    آپ کا فون آپ کا دشمن بھی ہو سکتا ہے
    خاص طور پر جب آپ دشمنوں کے نشانے پر ہوں
    آپ کی حرکتیں، نشست و برخاست، حتیٰ کہ سانسوں کی گنتی تک محفوظ کی جا رہی ہے

    لیکن صرف خطرہ صرف موبائل نہیں…
    اصل خطرہ ارد گرد کے غدار بھی ہیں
    جو اپنوں کے روپ میں دشمنوں کے سہولت کار بنے بیٹھے ہیں ،یہی لوگ اتنے حساس لوگوں کی شہادتوں کے راستے کھولتے ہیں…

    وقت آ گیا ہے کہ ایران سمیت ہماری اسلامی حکومتوں کو بھی آنکھیں کھولنی ہوں گی!اپنے موبائلز پر بھی شک کرنا ہو گااور اپنے اردگرد کے "میٹھے دشمنوں” کو پہچاننا سب سے ضروری ہے

    اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو غداروں، ٹیکنالوجی کے جال،اور دشمنوں کے منصوبوں سے محفوظ رکھے — آمین

  • "گوگل میپس اور ہماری بھٹکی ہوئی منزلیں”.تحریر:شازیہ عالم شازی

    "گوگل میپس اور ہماری بھٹکی ہوئی منزلیں”.تحریر:شازیہ عالم شازی

    کبھی آپ نے گوگل میپس کی ہدایت پر چلتے ہوئے خود کو کسی کھیت میں پایا ہے؟ یا پھر ایسی سڑک پر جہاں صرف بکریاں اور خچر چل سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو یقیناً آپ بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں گوگل نے "شارٹ کٹ” دکھا کر لمبا گھما دیا۔
    گوگل میپس، بظاہر ایک نہایت دانشمند ایپ ہے۔ اس کا انداز، اس کی آواز اور اس کا اعتماد دیکھ کر لگتا ہے جیسے ابھی اڑ کر منزل پر پہنچا دے گی۔ "Turn left in 100 meters”، وہ نرمی سے کہتا ہے، اور ہم بھی بلا چون و چرا اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہیں جیسے بچپن میں ٹیچر کی بات مانتے تھے، حالانکہ دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ "میڈم غلط بول رہی ہیں”
    ایک بار میرے ایک دوست نے گوگل میپس کے کہنے پر پہاڑ کے بیچوں بیچ ایک تنگ سی پگڈنڈی پکڑ لی گوگل فرما رہا تھا "یہ سب سے تیز راستہ ہے”، اور وہ بیچارہ اسی بھروسے پر چل پڑا۔ آدھے راستے میں نیٹ بند، بیٹری ختم، اور سامنے صرف ایک بھینس کھڑی تھی جو غالباً وہی سوچ رہی تھی جو میرا دوست سوچ رہا تھا یعنی: "یہ یہاں کیا لینے آ گیا ہے؟” گوگل میپس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ انتہائی اعتماد سے غلطی کرتا ہے۔ مثلاً وہ آپ کو ایسی گلی میں لے جائے گا جو دراصل ایک نالہ ہو، اور پھر بھی اگلے موڑ پر کہے گا:
    "In 200 meters, turn right”
    حالانکہ اگلے 200 میٹر میں صرف پانی، کچرا اور مچھروں کی بادشاہی ہے،شہری علاقوں میں تو چلیں کسی حد تک گوگل بچ بچا کر لے جاتا ہے، مگر جیسے ہی آپ کسی دیہی علاقے میں قدم رکھتے ہیں، گوگل بھی خود کو گمشدہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ ایسی سڑکیں دکھاتا ہے جو صرف نقشوں میں موجود ہوتی ہیں۔ گاؤں کے بزرگوں سے پوچھیں تو وہ حیرت سے پوچھتے ہیں:”یہ راستہ؟ ارے پتر وہ تو دس سال پہلے بند ہو گیا تھا!” اس ضمن میں گوگل ہمارے چاچا رحمت کا مقابلہ نہیں کرسکتا یعنی آپ اگر کسی علاقے کے چاچا رحمت سے راستہ پوچھیں تو وہ پانچ منٹ میں آپ کو نہ صرف منزل سمجھا دیں گے بلکہ راستے میں کون سا نلکا میٹھا پانی دیتا ہے، کون سے درخت کے نیچے سایہ اچھا ملتا ہے، سب بتا دیں گے۔ اس کے برعکس گوگل میپس تو بس یہی کہے گا:
    "ری روٹنگ…”اور آپ سوچتے رہیں گے کہ کیا زندگی بھی "ری روٹنگ” ہو سکتی ہے؟
    آج کے ڈیجیٹل دور میں گوگل میپس جیسی ایپس ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ چاہے کسی نئے شہر کی سیر ہو یا روزمرہ کے سفر کی منصوبہ بندی، ہم میں سے اکثر لوگ ان ایپس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے محسوس کیا ہے کہ گوگل میپس اکثر ایسا راستہ دکھاتا ہے جو یا تو زیادہ طویل ہوتا ہے، یا پھر ناقابلِ عبور، یا کبھی کبھار مکمل طور پر غلط بھی نکلتا ہے؟ ہم بہت بار اس کا شکار ہوئے ہیں رمضان میں ہی نیٹ ورک پرابلم سے ہماری افطاری راستے میں اور ہم منزل مقصود پر افطار پر نہ پہنچ سکے

    پسِ پردہ حقیقت میں گوگل میپس کا انحصار مختلف ذرائع پر ہوتا ہے جیسےGPS ڈیٹا،صارفین کی رپورٹنگ،
    ٹریفک سینسرز،اور سٹلائٹ تصاویر لیکن یہ سب ڈیٹا ہر وقت مکمل درست نہیں ہوتا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نیٹ ورک کوریج کمزور ہو
    سڑکوں کی اپڈیٹڈ معلومات دستیاب نہ ہوں
    یا جہاں سڑکوں کی مقامی صورتحال بدلتی رہتی ہو (جیسے گاؤں یا پہاڑی علاقے) اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک مقامی فرد جس راستے سے 15 منٹ میں پہنچ جاتا ہے، گوگل میپس اس کے بجائے ایسا راستہ تجویز کرتا ہے جو 30 منٹ کا ہو، صرف اس لیے کہ وہ سڑک ایپ کے ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ نہیں یا اس پر اپڈیٹ کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں، نئی تعمیر شدہ سڑکوں یا وقتی تبدیلیوں (جیسے روڈ بلاک، مرمت وغیرہ) میں گوگل میپس کی رہنمائی ناقص ثابت ہوتی ہے۔
    گوگل میپس واقعی ایک کارآمد ٹول ہے، لیکن ہر سہولت کے ساتھ کچھ حدود بھی ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے مشاہدے اور مقامی علم کو بھی استعمال میں لائیں تاکہ سفر واقعی آسان اور پُر سکون بن سکے۔

  • گروک کا مودی پر حملہ، گالیوں اور حقائق سے بھرپور جوابات،بھارت میں بھونچال

    گروک کا مودی پر حملہ، گالیوں اور حقائق سے بھرپور جوابات،بھارت میں بھونچال

    امریکی ارب پتی ایلون مسک کے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل ’گروک 3‘ نے بھارتی سیاست میں بھونچال برپا کر دیا ہے۔ ’گروک‘ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نہ صرف ’سب سے متعصب سیاست دان‘ قرار دیا بلکہ بھارت کو ’کرپٹ ترین ممالک‘ میں شمار کیا۔

    ’گروک‘ کی بے باکی نے اس وقت سب کو حیران کر دیا جب اس نے صارفین کے سوالات کے جوابات میں بازاری ہندی زبان اور گالیوں کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی گفتگو میں ’گروک‘ نے مودی پر مسلمانوں کے خلاف گجرات فسادات سمیت دیگر تاریخی حوالوں سے تنقید کی اور بھارت میں کرپشن کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔

    ایک صارف کے سوال پر کہ ’اتنی ایمانداری کے ساتھ انڈیا میں کیسے چلے گا گروک؟‘ ’گروک‘ نے طنزیہ جواب دیا، ’ایمانداری اور وہ بھی بھارت میں؟ جبکہ مودی کی زیرِقیادت بھارت خود کرپٹ ترین ممالک میں شامل ہے۔‘

    جب ’گروک‘ سے مودی اور راہول گاندھی میں سے پسندیدہ سیاست دان چننے کا سوال کیا گیا تو اس نے راہول گاندھی کو ترجیح دی اور ان کی خوبیاں بھی بیان کیں۔

    ’گروک‘ کی اس گفتگو نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کچھ صارفین نے ’گروک‘ کے بے باک جوابات پر شک کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ واقعی ایک اے آئی ماڈل ہے یا اس کے پیچھے کوئی انسان موجود ہے؟

    ایلون مسک نے ’گروک 3‘ کو اب تک کا ذہین ترین اے آئی ماڈل قرار دیا ہے، لیکن اس کے متنازع جوابات نے اس کی صلاحیتوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔