Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    مراکش : سائنسدانوں نے دیو ہیکل سمندری موساسارچھپکلی کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : "جنرل کریٹیسیس ریسرچ ” میں شائع کئے گئے مقالے میں سمندری چھپکلی تھیلاسوٹائٹن ایٹروکس کے متعلق بتایا گیا کہ ان چھپکلیوں کی لمبائی 9 میٹر (30 فٹ) تک تھی –

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    آج کی دور کی اِگوانا اور گوہ اس کی دور کی رشتہ دار ہیں یہ چھپکلی 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل اپنے بڑے جبڑوں کی مدد سے دوسرے سمندری حیوانات کا شکار کرتی تھی۔

    برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے محققین سمیت دیگر سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ کچھ موساسار مچھلیوں اور اسکوئیڈز جیسے چھوٹے شکار کھاتی تھیں اور دیگر ایمونائٹس اور کلیمس کھاتی تھیں جبکہ نو دریافت شدہ چھپکلی دیگر تمام سمندری ریپٹائلز کا شکار کرتی تھی۔

    تحقیق کے مطابق تھیلا سوٹائٹن اپنے دور کی زبردست شکاری تھی جو خوراک کی زنجیر میں سب سے اوپر ہوتی تھی اس خوراک کی زنجیرمیں سب سے نیچے پلینکٹن ہوتےتھےجن کی غذا سمندر کی گہرائی میں موجود اجزاء سے بھرپور پانی ہوتا تھا۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    چھوٹی مچھلیاں ان پلینکٹن کو کھاتی تھیں اور پھر بڑی مچھلیاں ان چھوٹی مچھلیوں کو کھاتی تھیں۔ یہ بڑی مچھلیاں پھر موساسارس اور پلیسیو سارس کی غذا بن جاتی تھیں۔

    قبل ازیں سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت ہوئی تھیں بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی اور سعودی جیولوجیکل کی شراکت سےکیےگئےسروے کے دوران یہ باقیات ملی تھیں اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں-

    دریں اثنا امریکی سائنسدانوں نے تسمانین ٹائیگر کو معدوم ہونے کے تقریباً 100 سال بعد دوبارہ وجود میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کیا تھا تسمانین ٹائیگرکا سائنسی نام تھائلاسائن ہےاس کی نسل 1930ء کی دہائی میں معدوم ہونے سے قبل لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود تھی اس کی نسل کو تقریباً ایک صدی قبل معدوم ہونے کے بعد بہت نقصان پہنچا تھا-

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    سائنسدانوں کے مطابق تھائلاسائن ماضی میں آسٹریلیا اور نیو گنی کی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن 3000 سال قبل یہ اس علاقےسے معدوم ہوگئے۔ باقی ماندہ تعداد تسمانیہ کے جزیرے تک محدود رہ گئی جنہیں شکار کر کے 20 ویں صدی کی ابتدا میں ختم کردیا گیا۔

    طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ان کے معدوم ہونے میں انسانوں اور کتوں کا بڑا حصہ ہے اس نسل کا آخری جانور ہوبرٹ کے چڑیا گھر میں 1936ء میں مرا تھا تاہم اب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کولوسل بائیو سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس جانور کو دوبارہ وجود میں لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

  • ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    ایلون مسک کا ٹیسلا کار کو اسٹار لنک سیٹلائٹ سے منسلک کرنے کا اعلان

    کیلیفورنیا: ٹیسلا کی گاڑیاں اسپیس ایکس کے اسٹار لنک کے ساتھ ضم ہو جائیں گی تاکہ مستقبل میں ڈیڈ زونز کو ختم کیا جا سکے۔

    باغی ٹی وی : ٹیسلا کمپنی کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ نہ صرف اب ٹیسلا کار کو اپنے اسٹارلنک سیٹلائٹ سےمنسلک کررہےہیں بلکہ دوسری نسل کے اسٹارلنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس میں سیل فون روابط کےاینٹینا لگارہے ہیں جو پہلے امریکا میں ٹی موبائل اور پھر دیگر فون نیٹ ورک کمپنیوں کو اس جگہ انٹرنیٹ فراہم کریں گی جہاں سگنل نہیں پہنچتے۔

    ایلون مسک کے اس اعلان کے بعد جب ان سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں ٹیسلا کاروں کو اسٹارلنک سیٹلائٹ سے جوڑنے کا کہا گیا تو انہوں نے اس کا جواب اثبات میں دیا تاہم اس وقت ٹیسلا کارامریکی نیٹ ورک اے ٹی اینڈ ٹی کے نیٹ ورک سے منسلک ہوسکتی ہیں۔


    ایلون مسک نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی تاہم اتنا ضرور کہا ہے کہ سیٹلائٹ سے سیلولر نیٹ ورک ممکن ہے ان کا اسٹارلنک نظام اس کا اہل ہوگا کہ وہ دو سے چار میگا بائٹ فی سیکنڈ کا رابطہ فراہم کرسکےاوراسے دائرہ کار میں آنے والے ہر شخص کو فراہم کیا جاسکتا ہے۔

    ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    تاہم یہ سروس اتنی مؤثر نہ ہوگی کہ وہ کار سے لائیو اسٹریم ویڈیو انٹرنیٹ پر دکھاسکے لیکن ایلون مسک نے کہا کہ دوردراز علاقوں میں معمولی انٹرنیٹ بھی نہ ہونے سے بہتر ہے۔


    دوسری جانب خود ٹیسلا نے امریکی سیلولر کمپنی کے اشتراک سے اپنی گاڑیوں میں معیاری کنیکٹویٹی فراہم کی ہے جو لائف ٹائم ہے۔ اس کے ساتھ نیوی گیشن اور نقشہ جات یعنی گوگل میپس بھی شامل ہیں۔


    واضح رہے کہ ٹیسلا نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ وہ اپنی کاروں کو اسٹارلنک سے منسلک کب کرے گی؟

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

  • چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    چاند کیلئےناسا کا 5 دہائیوں بعد پہلا خلائی مشن اڑان بھرنے کیلئے تیار

    امریکی خلائی ادارے ناسا کا طاقتور ترین خلائی راکٹ چاند کیلئے 29 اگست کو فلوریڈا کے لانچ پیڈ سے اڑان بھر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اسپیس لانچ سسٹم نامی میگا راکٹ 98 میٹر لمبا، 26 سو ٹن وزنی ہے اور اس مشن کو آرٹیمس 1 کا نام دیا گیا ہے اور یہ لگ بھگ 5 دہائیوں بعد انسانوں کی چاند پر واپسی کے لیے اہم ترین ٹیسٹ ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار


    یہ راکٹ پاکستانی وقت کے مطابق 29 اگست کی شام 5 بج 33 منٹ پر چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا جس میں اورین اسپیس کرافٹ بھی ہوگا راکٹ کو اسی لانچ پیڈ سے روانہ کیا جائے گا جہاں سے نصف صدی قبل چاند پر بھیجے جانے والے اپولو مشنز بھیجے جاتے تھے۔

    ایسا خیال کیا جارہا ہے کہ اس راکٹ سے اتنی آگ خارج ہوگی جو فلوریڈا کے ساحل پر لاکھوں افراد دیکھ سکیں گے اور ناسا کو امید ہے کہ مشن کی کامیابی سے چاند پر انسانوں کی واپسی کا راستہ کھل جائے گا۔


    یہ راکٹ 8 منٹ میں زمین کے نچلے مدار میں پہنچ جائے گا آرٹیمس 1 مشن کا دورانیہ 42 دن یعنی 6 ہفتے ہے اور یہ اس دوران چاند کے دور دراز کے حصے کے اوپر رہے گا۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    اورین اسپیس کرافٹ میں کوئی انسان تو سفر نہیں کرے گا مگر کچھ کھلونے ضرور ہوں گے جن سے ناسا کو جدید اسپیس سوٹ اور ریڈی ایشن لیولز کی جانچ پڑتال کا موقع مل سکے گا اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو ناسا کی جانب سے 2025 میں انسانوں کو چاند پر اتارا جائے گا جن میں پہلی بار ایک خاتون بھی شامل ہوگی۔

    ویسے 2025 کے انسانی مشن سے قبل بھی مئی 2024 میں آرٹیمس 2 کو بھیجا جائے گا اور وہ بھی انسانی عملے پر مشتمل ہوگا، مگر وہ چاند پر اتریں گے نہیں۔


    آرٹیمس 2 دسمبر 1972 کے اپولو 17 مشن کے بعد پہلا مشن ہوگا جب انسانوں کو زمین کے مدار سے دور بھیجا جائے گا اپولو 17 آخری مشن تھا جب انسانوں کو چاند پر بھیجا گیا تھا اور اب تک مجموعی طور پر 12 انسان وہاں جاچکے ہیں-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ اکتوبر کے وسط میں زمین پر لوٹے گا زمین میں داخل ہوتے وقت اس کی رفتار 25 ہزار میل فی گھنٹہ ہوگی اور 2800 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا مقابلہ کرکے یہ ریاست کیلیفورنیا کے قریب سمندر میں اترے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔

  • زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر ڈریکو کونسٹیلیشن(جھرمٹ) میں گہرے سمندر کا حامل ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے محقق ڈاکٹر چارلس کیڈیکس کی رہنمائی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی جو آسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئی۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    TOI-1452b نامی یہ ایگزو پلانیٹ ہے یعنی یہ نظامِ شمسی سےماورا ایک سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے تھوڑا بڑا ہے یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ سیارہ ’گولڈی لاک زون‘ میں واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مائع پانی کے وجود کے لیے درجہ حرارت نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے نہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    لہٰذا، ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ یہ سیارہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے واضح رہے کہ گولڈی لاک اصطلاح ایک کہانی سے لی گئی ہے اور یہ خلا میں ایسے مقام کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں نہ سیارہ اپنے سورج سے مناسب فاصلے پر ہوتا ہے، اس کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سرد ہوتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق یہ ایگزو پلانیٹ ایک قریبی بائینری ایم ڈوارف( بونے) ستارے کے گرد گھومتا ہے۔

    یونیورسٹی آف مونٹریال کے فلکی طبیعیات کے پی ایچ ڈی کے طالب علم چارلس کیڈیکس کے مطابق TOI-1452b اب تک کے دریافت ہونے والے سیاروں میں سمندر کے سب سے زیادہ آثار والا سیارہ ہے۔ اس کا ریڈیس اور وزن اس کی کثافت دھات اور چٹانوں سے بنے سیاروں کی نسبت بہت کم ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ زمین-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    TOI-1452 b پہلی بار ماہرین فلکیات کی توجہ خلاء میں 2018 سے فعال ناسا کی TESS ٹیلی اسکوپ نے سائنس دانوں کو اس ایگزو پلینٹ کے وجود کے متعلق آگاہ کیااسپیس کرافٹ کے ذریعے حاصل ہوا-

    ستارہ TOI-1452 b مدار ایک بائنری ستارے کے نظام کا حصہ ہے، اور ٹیس کے پاس اس نظام میں انفرادی ستاروں کو حل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کی آبزرویٹری ڈو مونٹ میگنٹک (OMM) رصد گاہ، تاہم، نئے تجزیاتی طریقوں کے ساتھ، اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ TOI-1452 b موجود ہے۔

    او ایم ایم نے اس سگنل کی نوعیت کی تصدیق کرنے اور سیارے کے رداس کا اندازہ لگانے میں اہم کردار ادا کیا،” مسٹر سیڈیکس نے کہا یہ کوئی معمول کی جانچ نہیں تھی۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ TESS کے ذریعے پتہ چلا سگنل واقعی TOI-1452 کے گرد چکر لگانے والے ایک سیارہ کی وجہ سے ہوا تھا، جو اس بائنری سسٹم کے دو ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ہوائی میں کینیڈا-فرانس-ہوائی ٹیلی سکوپ پر نصب ایک آلے نے پھر سیارے کی کمیت کی پیمائش کی۔

    زمین کے برعکس، جو زیادہ تر پتھریلا اور دھاتی سیارہ ہے جس کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر محیط ہےایسا لگتا ہے کہ TOI-1452 b بڑے پیمانے پر، لیکن مکمل طور پر نہیں، پانی سے بنا ہوا ہےجس کا تقریباً 30% حصہ مائع سے آتا ہےیہ ایک طرح کا گہرا عالمی سمندر ہے جو زمین کے سمندروں کےمقابلے میں زحل کے چاند اینسیلاڈس کی برفیلی پرت کےنیچےموجود گہرے پانیوں سے مشابہت رکھتا ہے پانی ہمارے سیارے کی کمیت کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ بناتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سیارے کے متعلق مزید معلومات تب حاصل ہوگی جب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس کے اطراف کے ماحول کا جائزہ لے گی ایگزو پلینٹ ایسے سیارے ہوتے ہیں جو نظامِ شمسی سے باہر وجود رکھتے ہیں۔

    یہ ابھی تک یقین نہیں ہے کہ TOI-1452 b ایک سمندری دنیا ہے، اور اس کے پانیوں میں اجنبی زندگی کی دریافت کے امکانات کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن محققین نے نوٹ کیا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کو جلد ہی اسرار کو عبور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عجیب نئی آبی دنیا کی-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    سان فرانسسكو: ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کےنتیجےمیں بینائی سے محروم ہوجانے والے مریضوں کے لیے کم لاگت والا اور مؤثر نیا لیزر علاج دریافت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کے نتیجے میں بینائی سے محروم مریضوں کے علاج پر تحقیق کرنے والے ایک نئے کلینیکل ٹرائل نے لیزر علاج کی ایک قسم کو متعارف کرایا ہے، جو مریضوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے بہترین آپشن پیش کرتا ہے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تاہم فی الحال ڈائیبیٹک میکیولر اوئیڈِما(ڈی ایم او) میں مبتلا افراد کو متعدد علاج میسر ہیں جن میں دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کےانجیکشنز شامل ہیں۔

    اس وقت ذیابیطس میکیولر اوئیڈِما (DMO) والے لوگوں کو علاج کے کئی اختیارات پیش کیے جاتے ہیں، بشمول دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کے انجیکشن۔ ڈی ایم او ذیا بیطس کےمریضوں کی بینائی کو پیش آنے والا سب سے عام مسئلہ ہے جس میں 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد مبتلا ہیں۔

    ڈی ایم او تب ہوتا ہے جب ریٹینا میں موجود خون کی رگیں رسنے لگتی ہیں اور بالکل سامنے کا منظر دکھانے والے حصے ’میکیولا‘ پر مواد جمع ہوجاتا ہے۔رگوں کا رسنا تب شروع ہوتا ہےجب بلند بلڈ شوگر خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    ڈی ایم او کی شدت کا تعین اکثر میکولا کی موٹائی کی پیمائش کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو بدلے میں پیش کردہ علاج کا تعین کرے گا۔ زیادہ شدید DMO والے مریضوں (400 مائیکرون یا اس سے زیادہ موٹائی کے ساتھ) کا علاج آنکھوں میں انجیکشن لگا کر کیا جاتا ہے، جسے asanti-VEGFs کہا جاتا ہے۔

    ہلکے DMO والے مریضوں (400 مائیکرون سے کم موٹائی کے ساتھ) کا علاج میکولر لیز سے کیا جا سکتا ہے، جو معیاری تھریشولڈ لیزر یا سب تھریشولڈ مائکرو پلس لیزر ہو سکتا ہے۔ سابقہ ​​ریٹنا پر جلن یا داغ پیدا کرتا ہے۔ مؤخر الذکر، جو کہ ایک جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، ریٹینا پر جلنے یا داغ یا کسی بھی قسم کی نظر آنے والی تبدیلی یا نشان چھوڑے بغیر کام کرتی ہے۔

    اوپھتھیمولوجی نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ سب تھریش ہولڈ مائیکرو پلس لیزر مریض کی بینائی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر تھی۔ اس لیزر سے ریٹینا پر جلن بھی نہیں ہوتی ہے۔

    اس لیزرعلاج کےلیے متواتر کلینک جانے کی بھی ضرورت نہیں ہےاور اس کی قیمت آنکھوں میں لگائےجانے والے انجیکشنز کی نسبت بہت کم ہے۔ ان انجیکشنز کی قیمت لیزر علاج سے دس گُنا زیادہ ہے۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

  • نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    واشنگٹن: ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود ایک سیارے کے ماحول میں پہلی بار کاربن ڈائی آکسائیڈ کی دریافت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 700 نوری سال کے فاصلے پر سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والے ایک گیسی سیارے کی اس مشاہدے سے سیارے کی ساخت اور تشکیل کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں ٹیلی اسکوپ کی جانب سے کی جانے والی اس دریافت سے یہ بات سامنے آتی ہے خلاء میں موجود یہ مشاہدہ گاہ ممکنہ طور پر زندگی کے متحمل چھوٹے اور چٹیل سیاروں کے باریک ماحول میں موجود گیس کی نشان دہی اور پیمائش کرسکتی ہے۔

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار


    ماہرین کے مطابق WASP-39 bایک گرم گیس کا گولا ہے جو زمین سے 700 نوری سال کے فاصلے پر موجود سورج جیسے ایک ستارے کے گرد گھوم رہا ہے اس سیارے کا وزن مشتری کے ایک چوتھائی وزن (تقریباً زحل کے برابر) کے برابر ہے جبکہ اس کا قطر مشتری سے 1.3 گُنا بڑا ہے۔

    اس سیارے کے یوں پھولے ہوئے ہونے کی وجہ اس کا شدید درجہ حرارت ہے، جو سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق تقریبا 1,600 ڈگری فارن ہائیٹ یا 900 ڈگری سیلسیس تک ہے۔


    ہمارے نظامِ شمسی کے دیگر گیس کے گولوں کے برعکس WASP-39 b اپنے مرکزی ستارے کے بہت قریب گردش کرتا ہے۔ اس سیارے اور اس کے ستارے کے درمیان فاصلہ، سورج اور عطارد کے درمیان فاصلے کا آٹھواں حصہ ہے۔ یہ سیارہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر چار زمینی دنوں میں مکمل کر لیتا ہے۔


    اس سیارے کی دریافت 2011 میں زمین پر نصب ٹیلی اسکوپ سے ہوئی تھی ناسا کی ہبل اور سپٹزر خلائی دوربینوں سمیت دیگر دوربینوں کے پچھلے مشاہدات نے سیارے کی فضا میں پانی کے بخارات، سوڈیم اور پوٹاشیم کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا تاہم، اپنی مثال آپ انفراریڈ سینسٹیویٹی کی حامل جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اب اس سیارے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔

    نا سا ماہرین کے مطابق منتقل کرنے والے سیارے جیسے WASP-39 b، جن کے مدار کا اوپر سے بجائے کنارے پر مشاہدہ کرتے ہیں، محققین کو سیاروں کے ماحول کی تحقیقات کے لیے مثالی مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

    ٹرانزٹ کے دوران، کچھ ستاروں کی روشنی سیارے سے مکمل طور پر گرہن ہوتی ہے (مجموعی طور پر مدھم ہونے کی وجہ سے) اور کچھ سیارے کے ماحول سے منتقل ہوتی ہے۔

    چونکہ مختلف گیسیں رنگوں کے مختلف امتزاج کو جذب کرتی ہیں، محققین طول موج کے طول موج میں منتقل ہونے والی روشنی کی چمک میں چھوٹے فرق کا تجزیہ کر سکتے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ماحول کس چیز سے بنا ہے۔ فلایا ہوا ماحول اور بار بار آمدورفت کے امتزاج کے ساتھ، WASP-39 b ٹرانسمیشن سپیکٹروسکوپی کے لیے ایک مثالی ہدف ہے۔

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    ترک سائنسدان کی دماغی کینسر کے علاج میں پیشرفت

    انعام یافتہ ترک کیمیا دان کے مطابق، حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک منفرد مالیکیول استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : عزیز سنجار کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ کے کینسر کے علاج کے لیے ایک منفرد ای ڈی یو (EdU) نامی مالیکیول کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والے تحقیقاتی مقالے میں انہوں نے بتایا ہے کہ 2008ء سے مالیکیولر حیاتیات میں استعمال ہونے والے ای ڈی یو (EdU) مالیکیول کا شمار مقبول ترین مالیکیولز میں کیا جاتا ہے۔

    نوبل انعام یافتہ سائنسدان سنجار نے کہا کہ میں نے 10 سال تک ڈی این اے میکانزم پر کام کیا، جس کی وجہ سے مجھے یہ انعام ملا۔

    انہوں نے تحقیق کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں سال جنوری میں اس تحقیق پر کام شروع کیا، صرف 1 ماہ کے بعد فروری میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ای ڈی یو مالیکیول دماغ میں موجود کینسر کے خلیات کو تباہ کرتا ہے۔

    ترک سائنسداں عزیز سنجار نے تمام ضروری معائنے کے بعد اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے دماغ کے کینسر کے خلاف پیش قدمی کر لی ہے تحقیق سے یہ دریافت ہوا ہے کہ ای ڈی یو دماغ کی رسولیوں کے علاج کے لیے ایک مؤثر انتخاب ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ای ڈی یو کینسر کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باوجود خون کو دماغ تک رسائی دے سکتا ہے جو کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی موجودہ بیشتر ادویات سے بھی ممکن نہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    تحقیق نے دریافت کیا کہ خون دماغی رکاوٹ کو عبور کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ای ڈی یو "دماغ کے رسولیوں کے علاج کے لیے ایک امید افزا آپشن” ہے۔

    زیادہ تر ادویات خون سے دماغ تک نہیں جا سکتیں۔ مثال کے طور پر، کیمیکل سسپلٹین، جو کینسر کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہے۔ نتیجے کے طور پر، یہ دماغ کی خرابیوں کے علاج کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ یہ ای ڈی یو بغیر کسی مشکل کے دماغ میں داخل ہوتا ہے۔

    دریافتوں کو انسانوں پر آزمانے سے پہلے چوہوں کو استعمال کیا جائے گا۔

    سنجار کے مطابق، چوہوں پر تحقیق میں دو سال لگیں گے۔ سنجار نے کینسر کے مریضوں کو بتایا کہ وہ فی الحال یقین رکھتے ہیں کہ انسانی ادویات میں صرف 3 فیصد دریافتیں ہی کارگر ثابت ہوں گی۔

    انہوں نے کہا کہ امید رکھیں اور اس وقت دستیاب مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں،” میرا پیغام ہے۔

    واضح رہے کہ ترکیہ سے تعلق رکھنے والے کیمیائی سائنسداں عزیز سنجار ترکیہ ہی میں پیدا ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکا میں گزارا ہے انہوں نے ڈی این اے میکانزم پر 10 سال تک کام کیا ہے، ڈی این اے میکانزم کے شعبے میں ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2015ء میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

  • تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کلائمٹ چینج سے خود امراض کی شدت اور انسانوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : موسمیاتی تبدیلی نے 200 سے زیادہ متعدی امراض اور درجنوں غیر منتقلی حالات، جیسے زہریلے سانپ کے کاٹنے کو بڑھا دیا ہے۔ آب و ہوا کے خطرات لوگوں اور بیماری پیدا کرنے والے جانداروں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، جس سے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ گلوبل وارمنگ کچھ حالات کو مزید سنگین بھی بنا سکتی ہے اور متاثر کر سکتی ہے کہ لوگ انفیکشن سے کتنی اچھی طرح لڑتے ہیں۔

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    جامعہ ہوائی کے ڈیٹا سائنٹسٹ کیمیلو مورا نے بتایا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے نہ صرف دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں بلکہ ہم انسان ان سے لڑنے کی صلاحیت بھی کھوتے جا رہے ہیں کئی ایک موسمیاتی شدتوں سے جراثیم کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے اور ان کا انسانی حملہ شدید ہوسکتا ہے بلکہ ہو بھی رہا ہے۔

    اس تحقیق میں کل 77 ہزار تحقیقی مقالوں، رپورٹ اور کتابوں کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں موسم اور انفیکشن امراض کے درمیان تعلق موجود تھا گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کی وجہ سے مرض کی شدت بڑھ رہی ہے ان تبدیلیوں سے نصف سے زائد امراض انسانوں کو قدرے شدت سے بیمار کرسکتے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلی اور بیماری کے درمیان تعلق کے بارے میں سے پیدا ہونے والے دس خطرات بڑی موسمیاتی تبدیلیوں میں تپش، ہوا میں نمی، سیلاب، خشک سالی، طوفان، جنگلات کی آگ، گرمی کی لہر اور دیگر محرکات شامل کئے ہیں ان میں بیکٹیریا، وائرس، جانوروں، فنگس اور پودوں کے ذریعے پھیلنے والے یا متحرک ہونے والے انفیکشن شامل ہیں خلاصہ یہ ہے کہ تمام کیفیات جراثیم اور انسان کے درمیان رابطہ بڑھا رہی ہیں اور انسان بیمار ہو رہا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    کیمیلو مورا، یونیورسٹی آف ہوائی کے مانووا میں ڈیٹا سائنسدان، اور ان کے ساتھیوں نے اس بات کے ثبوت کے لیے لٹریچر کا جائزہ لیا کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلی ڑھتے ہوئے درجہ حرارت، سطح سمندر میں اضافہ اور خشک سالی نے تمام دستاویزی متعدی بیماریوں کو متاثر کیا ہے

    ماہرین نے کہا ہے کہ خود انسان کے پاس بھی اس فوری تبدیلی سے نمٹنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں۔ گہرائی میں دیکھنے پر ایک تو موسم جراثیم یعنی بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ کے لیے طویل عرصے کے لیے موافق ہوتا جا رہا ہے جبکہ ان کی افزائش کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ وائرس اور جراثیم کا وار سخت و شدید ہوتا جا رہا ہے۔

    گرمی بڑھنے سے مچھروں کی آبادی بڑھ رہی ہے اور نتیجے میں ڈینگی، ملیریا اور دیگر امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پھر بارش اور طوفان کا پانی ہفتوں ایک جگہ موجود رہتا ہے جو جراثیم کے لیے ایک موزوں جگہ بن جاتا ہے اور اس طرح کئی طرح کے بخار، ویسٹ نائل فیور اور لیشمینیا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

    رپورٹ کے مطابق فصل اور اجناس میں غذائیت کم ہونے سے خود انسان کا امنیاتی نظام بھی کمزور ہورہا ہے جس سے ہم طرح طرح کی بیماریوں کا ترنوالہ بن سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج کے تناظر میں انسانی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

    شارلٹس وِل میں یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کے ایک وبائی امراض کے ماہر جوش کولسٹن کا کہنا ہے کہ "بنیادی طور پر تمام آب و ہوا کے اثرات اور تمام متعدی پیتھوجینز کو ایک کاغذ میں دیکھنا انتہائی پرجوش ہے وہ بہت اچھی طرح سے معلومات کی ایک بہت بڑی مقدار کی ترکیب کرتے ہیں۔

    مورا کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ ان بہت سے طریقوں کی پیمائش کرتا ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی انسانی بیماریوں کو متاثر کرتی ہے۔ "ہم اپنی باقی زندگی کے لیے اس سنگین خطرے کے سائے میں رہیں گے-

    محققین کا کروڑوں اموات کا باعث بننے والے مرض کی ابتدا کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ

  • سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    یورپی خلائی ایجنسی سرخ سیارے مریخ پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا ایک تفصیلی نقشہ بنایا ہے جو مستقبل کے مشن کے لیے خلانوردوں کی آبی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس اہم کام سے ہم نہ صرف پانی سے لبالب بھرے مریخی ماضی کو سمجھ سکیں گے بلکہ انسانی مشن بھیجنےکےموزوں مقامات کا اندازہ لگانےمیں بھی مدد مل سکےگی پانی کا یہ تفصیلی نقشہ یورپی خلائی ایجنسی کےمارس ایکس ایکسپریس، ناسا کے مارس ریکونیسنس آربیٹر اور دیگر مشنز کی تحقیقات سے بنایا گیا ہے-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    بنیادی طور پر یہ ایک ایسا نقشہ ہے جن میں ایسی معدنیات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پانی کسی بھی حالت میں موجود ہوسکتا ہے۔ یہاں کے خدوخال ماضی میں بہنے والے پانی نے تراشے ہیں اور گارے کے علاوہ نمکیات بھی موجود ہوسکتے ہیں۔

    جب پانی پتھروں اور چٹانوں پر بہتا ہے تو مختلف قسم کی چکنی مٹی یا گارے وجود میں آتے ہیں۔ اگر پانی کی مقدار کم ہو تو اسمیکٹائٹ اور ورمی کیولائٹ بنتا ہےاور پتھر اپنےخواص برقرار رکھتا ہے جب پانی زیادہ ہو تو وہ چٹانوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات المونیئم سے بھرپور معدن مثلاًکاؤلن وجود میں آتی ہے۔

    ماہرین نے دس سال میں مریخ پر لگ بھگ ایک ہزار ایسے مقامت دریافت کیے ہیں جبکہ لاکھوں مقامات ایسے ہیں جہاں ہم سیارے کا قدیم ماضی دیکھ سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پانی نے سیارہ مریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن آیا مریخ پر پانی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اب بھی معلوم کرنا باقی ہے اور نیا مریخی نقشہ اس میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

    پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مختلف اقسام کی چکنی مٹی، گارے اور ان پر موجود نمکیات ہماری توقعات سے زائد ہیں۔ اس سے خود مریخ کی معدن کا نقشہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس تحقیق میں موجود سینئیر محقق جان کارٹر کے مطابق "اس کام نے اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب آپ قدیم خطوں کا تفصیل سے مطالعہ کر رہے ہیں، تو ان معدنیات کو نہ دیکھنا دراصل ایک عجیب بات ہے،-

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    سرخ سیارے کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کے لیے یہ ایک مثالی تبدیلی ہے۔ آبی معدنیات کی چھوٹی تعداد سے جو ہم پہلے جانتے تھے کہ موجود ہیں، یہ ممکن تھا کہ پانی اپنی حد اور مدت میں محدود ہو۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی نے کرہ ارض کے چاروں طرف ارضیات کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

    اب، بڑا سوال یہ ہے کہ آیا پانی مستقل تھا یا مختصر، زیادہ شدید اقساط تک محدود تھا۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی جواب فراہم نہیں کیا گیا ہے، نئے نتائج یقینی طور پر محققین کو جواب حاصل کرنے کا ایک بہتر ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

    جان کارٹر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ہم نے اجتماعی طور پر مریخ کو زیادہ آسان بنا دیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ سیاروں کے سائنس دانوں نے یہ سوچنے کا رجحان رکھا ہے کہ مریخ پر صرف چند قسم کے مٹی کے معدنیات اس کے گیلے دور میں پیدا ہوئے تھے، پھر جیسے جیسے پانی آہستہ آہستہ خشک ہوتا گیا، پورے سیارے میں نمکیات پیدا ہوتے گئے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    یہ نیا نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پہلے کی سوچ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ مریخ کے بہت سے نمکیات شاید مٹی کے مقابلے میں بعد میں بنتے ہیں، نقشہ بہت سی مستثنیات کو ظاہر کرتا ہے جہاں نمکیات اور مٹی کا گہرا اختلاط ہوتا ہے، اور کچھ نمکیات جو کچھ مٹی سے پرانے تصور کیے جاتے ہیں۔

    ماہرین نے اس دریافت پر کئی تحقیقی مقالات لکھے ہیں جس کی تیاری میں یورپی خلائی ایجنسی، جاپانی خلائی ایجنسی، اور انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ ایئروناٹیکل سائنس کے ماہرین شامل ہیں اس تحقیق سے مستقبل کے مریخی منصوبوں اور مریخ نوردوں کو مناسب جگہ اتارنے میں بہت آسانی حاصل ہوسکے گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ بہت سارے پانی سے بغیر پانی تک ارتقاء اتنا واضح نہیں ہے جتنا ہم نے سوچا تھا، پانی صرف راتوں رات نہیں رکا۔ ہم ارضیاتی سیاق و سباق کا ایک بہت بڑا تنوع دیکھتے ہیں، تاکہ کوئی بھی عمل یا سادہ ٹائم لائن مریخ کی معدنیات کے ارتقاء کی وضاحت نہ کر سکے۔ یہ ہمارے مطالعے کا پہلا نتیجہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر آپ زمین پر زندگی کے عمل کو خارج کرتے ہیں تو، مریخ ارضیاتی ترتیبات میں معدنیات کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ زمین کرتی ہے۔

    جان کارٹر نے مزید کہا کہ دوسرے الفاظ میں، ہم جتنا قریب سے دیکھتے ہیں، مریخ کا ماضی اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

  • سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    امریکی سائنسدانوں نے تسمانین ٹائیگر کو معدوم ہونے کے تقریباً 100 سال بعد دوبارہ وجود میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تسمانین ٹائیگرکا سائنسی نام تھائلاسائن ہے، اس کی نسل 1930ء کی دہائی میں معدوم ہونے سے قبل لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود تھی اس کی نسل کو تقریباً ایک صدی قبل معدوم ہونے کے بعد بہت نقصان پہنچا تھا۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    سائنسدانوں کے مطابق تھائلاسائن ماضی میں آسٹریلیا اور نیو گنی کی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن 3000 سال قبل یہ اس علاقےسے معدوم ہوگئے۔ باقی ماندہ تعداد تسمانیہ کے جزیرے تک محدود رہ گئی جنہیں شکار کر کے 20 ویں صدی کی ابتدا میں ختم کردیا گیا۔

    طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ان کے معدوم ہونے میں انسانوں اور کتوں کا بڑا حصہ ہے اس نسل کا آخری جانور ہوبرٹ کے چڑیا گھر میں 1936ء میں مرا تھا تاہم اب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کولوسل بائیو سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس جانور کو دوبارہ وجود میں لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    کولوسل بائیوسائنسز نے دعویٰ کیا ہے کہ تھائلاسائن کے واپس آنے سے نہ صرف دنیا کو ایک مشہور جانور واپس ملے گا بلکہ اس میں تسمانیہ اور آسٹریلیا کی ماحولیات میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت بھی ہوگی-

    کولوسل بائیو سائنسزنے میلبورن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر معدوم ہونے والی نسلوں کو واپس لانے کے ایک پرجوش منصوبے پر کام کیا ہے۔

    یونیورسٹی کی تھائلاسائن انٹیگریٹڈ جینیاتی بحالی ریسرچ لیب کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو پاسک نے کہا کہ ‘یہ مرسوپیئل ریسرچ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے اور ہمیں اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیےکولوسل کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر محسوس ہوتا ہےاس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی اور اہم سیکھنے سے مرسوپیل کے تحفظ کی کوششوں کی اگلی نسل پر بھی اثر پڑے گا۔

    مزید برآں، تسمانیہ کے زمین کی تزئین میں تھائلاسائن کو دوبارہ پھیلانا حملہ آورجانوروں کی وجہ سے اس قدرتی رہائش گاہ کی تباہی کو نمایاں طور پر روک سکتا ہے۔

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت