Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں (کارٹ وہیل گلیکسی) اور اس کے مرکزی بلیک ہول کی نئی رنگین تصویر کھینچی ہے۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے لی گئی کائنات کی پہلی رنگین تصاویر جاری کی گئی تھیں اور اب اس نے ایک ایسی نئی رنگین تصویر کھینچی ہے جو زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود پہیے نما کہکشاں کی ہے۔


    رپورٹس کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری کردہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی نئی تصویر سے ستارے کی تشکیل اور کہکشاں کے مرکزی بلیک ہول کے بارے میں نئی ​​تفصیلات سامنے آئیں۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے Near-Infrared Camera (NIRCam) کیمرے کے ذریعے لی گئی تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 50 کروڑ نوری سال کے فاصلےپرواقع کہکشاں کی ظاہری شکل ویگن کےپہیے کی طرح ہے جبکہ اس کے قریب ہی 2 چھوٹی کہکشائیں بھی موجود ہیں۔


    کہاجاتا ہے کہ جب کہکشائیں آپس میں ٹکراتی ہیں تو ان کی شکل اور ساخت بدل سکتی ہیں،کارٹ وہیل گلیکسی بھی بڑی اور ایک چھوٹی کہکشاں کے ٹکرانے کی وجہ سے وجود میں آئی۔

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کارٹ وہیل گلیکسی اندرونی اور بیرونی 2 رنگین رِنگز(گول شکل) پر مشتمل ہے ۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل ہبل ٹیلی اسکوپ بھی کارٹ وہیل گلیکسی کی تصویر لے چکی ہے لیکن دھول کی وجہ سے اس نے کہکشاں کے منظر کو دھندلا دیا تھا۔چونکہ جیمز ویب ایک انفراریڈ ٹیلی اسکوپ ہے، جو انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والی روشنی کو دیکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ نئی تصویر حاصل کرنے کیلئے اس کا استعمال کیا گیا۔

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    دوسری جانب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے-

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے اور کینیڈین اسپیس ایجنسی (سی ایس اے) کا 10 ارب ڈالرز کی لاگت کا مشترکہ منصوبہ ہے جیمز ویب کا مقصد کائنات کےابتدائی دنوں (تقریباً ساڑھے 13 ارب سال) پہلے روشن ہونے والے ستارے کی کھوج لگانا ہے-

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو 2021 کے آخر میں خلا میں بھیجا گیا تھاخلائی دوربین جیمز ویب کا منصوبہ 30 سال کے عرصے میں پایہ تکمیل تک پہنچا اور اسے رواں صدی کے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔

    جیمز ویب کی نمایاں خصوصیات میں اس کا سب اہم حصہ 6.5 میٹر کے حجم کا آلہ انعکاس (Mirror) ہے جو کہ31 سال قبل بھیجی گئی ٹیلی اسکوپ ’ہبل‘ کے آلہ انعکاس سے 3 گنا بڑا ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

  • برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی:سوئیڈن کی اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے دنیا بھر میں موجود برساتی پانی پر لیبارٹری تجربات اور فیلڈ ورک کی تحقیق کی گئی جسے انوائرمینٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نامی تحقیقی جریدے میں شائع کیا گیا-

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ زمین پر موجود برساتی پانی انسانی ساختہ خطرناک کیمیکلز کے باعث کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن رہا ہےکبھی زائل نہ ہونے والے انسانی ساختہ کیمیکلز (Forever Chemicals) برساتی پانی کو گدلا کر دیتے ہیں اور یہ کیمیکلز انسانی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف انڈسٹریل علاقے ہی نہیں بلکہ یہ کیمیکلز انٹارکٹیکا اور تبت جیسے دور دراز اور ویران علاقوں میں بھی بارش کے پانی اور برف میں پائے گئے ہیں یہ انسانی ساختہ کیمیکل پر فلورواکائیل اور پولی فلورواکائیل سبسٹینسز (Perfluoroalkyl and polyfluoroalkyl substances (PFAS)) فائر فائٹنگ فوم، کھانا بنانے کے برتنوں کی نان اسٹک کوٹنگ، اور ٹیکسٹائل میں استعمال ہوتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایف اے ایس کیمیکلز کو خودکار طریقے سے زائل ہونے میں ہزار سال لگ سکتے ہیں اور ان کیمیکلز پر ہونے والی سالوں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے انسانی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ماحولیات میں موجود مضر صحت پی ایف اے ایس کیمکلز زائل نہیں ہو رہے، اس کا سبب ان کیمیکلز کے زائل ہونے کی طویل مدت اور وہ قدرتی سائیکل ہے جو انہیں بارشوں کے ذریعے واپس ماحولیات میں لے آتا ہے۔

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    ماہرین کے مطابق برسات کا پانی دنیا کے کافی حصوں میں پینے کے لائق صاف پانی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ پانی انسانی ساختہ کیمیکلز کی وجہ سے آلودہ ہو کر مضر صحت بن جاتا ہے اور انسانوں میں کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن جاتا ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ہم دھرتی کے فطری ماحولیات کی حدود کو کراس کر چکے ہیں اور دھرتی پر کوئی ایک ایسا مقام موجود نہیں جہاں ایک انسان ان کیمیکلز کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہ سکے۔

    اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، تبدیلیوں کا مطلب ہے کہ بارش کے پانی میں ان کیمیکلز کی سطح "اب ہر جگہ گائیڈ لائن کی سطح سے اوپر ہے”۔

    "پچھلے 20 سالوں میں پینے کے پانی میں پی ایف اے ایس کے رہنما اصولوں میں حیران کن کمی آئی ہے،” ایان کزنز، مطالعہ کے سرکردہ مصنف اور اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر نے کہا مثال کے طور پر، پی ایف اے ایس کلاس میں ایک معروف مادے کے لیے پینے کے پانی کی گائیڈ لائن ویلیو، یعنی کینسر کا باعث بننے والا پرفلووروکٹانوک ایسڈ (PFOA)، امریکہ میں 37.5 ملین گنا کم ہوا ہے۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ پینے کے پانی میں PFOA کے لئے تازہ ترین امریکی رہنما خطوط کی بنیاد پر، ہر جگہ بارش کے پانی کو پینے کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جائے گا۔

    تجرباتی دوا سے کینسر کے تمام مریض شفایاب ،ماہرین نے تحقیق کو معجزہ قرار دیدیا

  • جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی  نشاندہی

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی کی ہے-

    باغی ٹی وی : جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ زمین سے تین ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود ایک انتہائی چمکیلی روشنی کی نشاندہی کی ہے۔ اس روشنی کے متعلق خیال ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ کا کسی ختم ہوتے ستارے کے دھماکے کا پہلا مشاہدہ ہے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    یہ خلائی دھماکا SDSS.J141930.11+5251593 نامی کہکشاں میں ہوا جہاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس شے کی روشنی کی تصاویر عکس بند کیں جو پانچ دن کے عرصے میں مدھم ہوتی گئی تھی۔ یہ ایک اشارہ ہے جو سُپر نووا کے نظریے کو اجاگر کرتا ہے۔

    اس عمل کو "سُپر نووا” کہتے ہیں ناسا ماہرین کے مطابق "سُپر نووا” کے نام سے جانا جانے والا یہ عمل وہ موقع ہوتا ہے جب کسی ستارے میں ایندھن ختم ہوجاتا ہے اس کے سبب دباؤ کم ہوجاتا ہےجس کی وجہ سے اجرامِ فلکی ہمارے سورج کی نسبت پانچ گُنا زیادہ پھیل جاتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہےاس کے نتیجے میں ہزاروں لاکھوں ٹن ملبہ اور ذرّات کا اخراج ہوتا ہے۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    اس ممکنہ سُپر نووا کو ٹیلی اسکوپ کے نیئر انفرا ریڈ کیمرا سے عکس بند کیا گیا اس آلے کوکائنات کے ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی کی نشاندہی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    اسپیس ٹیلی اسکوپ سائنس انسٹیٹیوٹ کے مائیک انگیسر کا کہنا تھا کہ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نئے ختم ہوتے ستاروں کو ڈھونڈنے یا ان کی نشاندہی کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

  • دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    دنیا کا اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ

    اس سال 29 جون کو، زمین نے ایک غیر معمولی ریکارڈ قائم کیا، دن کے دورانیے کی پیمائش کا ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا سب سے مختصر ترین دن ریکارڈ کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : 29 جون کو زمین کا 24 گھنٹے کا ایک عمومی چکر 1.59 ملی سیکنڈ پہلے مکمل ہواجس کے بعد گھڑیوں اور زمین کے چکر کے درمیان مطابقت رکھنے کے لیے ’لِیپ سیکنڈ‘ کا خیال تقویت پا رہا ہےلیپ سیکنڈ کے تحت بین الاقوامی ایٹمی وقت اور شمسی وقت کے درمیان تفریق کو ایک سیکنڈ کی آہنگی سے ختم کیا جاتا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوگا جب عالمی سطح پر گھڑیوں کو تیز کیا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    یہ بات سائنس دانوں کےعلم میں ہےکہ زمین کی گردش کی رفتار میں کمی آئی ہے پچھلے کچھ سالوں میں ریکارڈز میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے، جس میں چھوٹے دنوں کو زیادہ کثرت سے نوٹ کیا جا رہا ہے 1970 کی دہائی سے اب تک ایٹمی وقت کو درست رکھنے کے لیے 27 بار لیپ سیکنڈز کے استعمال کی ضرورت پیش آئی ہے۔ آخری بار 2016 میں سال کے آخری دن لیپ سیکنڈ کا سہارہ لیا گیا تھا جب ایک سیکنڈ کے لیے گھڑیاں روکی گئیں تھیں تاکہ زمین کے وقت کے ساتھ ہم آہنگی کی جاسکے۔

    لیکن 2020 سے یہ عمل الٹا ہوگیا ہے 29 جون سے قبل مختصر ترین دن 2020 میں 19 جولائی کا تھا جب زمین نے ایک چکر 1.47 ملی سیکنڈز پہلے مکمل کرلیا گیا تھا انسان اس فرق کو محسوس نہیں کر پاتے لیکن یہ سیٹلائٹ اور سمت شناسی کے نظاموں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا زمین کے محور کے گرد چکر میں تبدیلی سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دن کے دورانیے میں تبدیلی کی ایک وجہ موسم سرما میں شمالی ہیمسفیئر کی پہاڑیوں پر جمع ہونے والی برف بھی ہوسکتی ہے جو گرمیوں پگھل جاتی ہے۔

    سپین اور یونان میں سال 2022 کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    تو کیا دنیا تیز ہو رہی ہے؟ طویل مدت کے دوران – ارضیاتی ٹائم اسکیلز جو ڈائنوسار کے عروج اور زوال کو پلک جھپکتے میں دباتے ہیں – زمین درحقیقت پہلے سے کہیں زیادہ آہستہ گھوم رہی ہے۔ گھڑی کو 1.4 بلین سال پیچھے کریں اور ایک دن 19 گھنٹے سے بھی کم وقت میں گزر جائے گا۔ اوسطاً، پھر، زمین کے دن چھوٹے ہونے کی بجائے لمبے ہوتے جا رہے ہیں، ہر سال ایک سیکنڈ کے تقریباً 74,000ویں حصے سے۔ چاند زیادہ تر اثر کے لئے ذمہ دار ہے: کشش ثقل کی ٹگ سیارے کو تھوڑا سا مسخ کرتی ہے، جو سمندری رگڑ پیدا کرتی ہے جو زمین کی گردش کو مسلسل سست کرتی ہے۔

    گھڑیوں کو سیارے کے چکر کے مطابق رکھنے کے لیے، اقوام متحدہ کی ایک باڈی انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین نے جون یا دسمبر میں کبھی کبھار لیپ سیکنڈز کا اضافہ کیا ہے پہلا لیپ سیکنڈ 1972 میں شامل کیا گیا تھا۔ اگلا موقع دسمبر 2022 میں ہے، حالانکہ زمین اتنی تیزی سے گھوم رہی ہے، اس کی ضرورت کا امکان نہیں ہے۔

    اگرچہ زمین طویل مدت میں سست ہو رہی ہے، لیکن مختصر اوقات میں صورتحال مزید خراب ہے۔ زمین کے اندر ایک پگھلا ہوا کور ہے۔ اس کی سطح بدلتے ہوئے براعظموں، پھولتے ہوئے سمندروں اور معدوم ہونے والے گلیشیئرز کا ایک مجموعہ ہے۔ پورا سیارہ گیسوں کے ایک موٹے کمبل میں لپٹا ہوا ہے اور یہ اپنے محور پر گھومتے ہی لرزتا ہے۔ یہ تمام چیزیں زمین کی گردش کو متاثر کرتی ہیں، اسے تیز کرتی ہیں یا اسے سست کرتی ہیں، حالانکہ تبدیلیاں بنیادی طور پر ناقابل تصور ہیں۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    ناسا کے مطابق، ال نینو سالوں میں تیز ہوائیں سیارے کی گردش کو کم کر سکتی ہیں، جس سے دن کو ملی سیکنڈ کے ایک حصے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف، زلزلوں کا اثر الٹا ہو سکتا ہے۔ 2004 کے زلزلے نے جس نے بحر ہند میں سونامی کو جنم دیا تھا اس نے اتنی چٹان کو منتقل کر دیا کہ دن کی لمبائی تقریباً تین مائیکرو سیکنڈ تک کم ہو گئی۔

    کوئی بھی چیز جو زمین کے مرکز کی طرف بڑے پیمانے پر حرکت کرتی ہے وہ سیارے کی گردش کو تیز کرے گی، جیسا کہ ایک گھومنے والا آئس سکیٹر جب اپنے بازوؤں میں کھینچتا ہے تو اس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔ ارضیاتی سرگرمی جو بڑے پیمانے پر مرکز سے باہر کی طرف دھکیلتی ہے اس کا الٹا اثر پڑے گا اور اس کا گھماؤ سست ہو جائے گا-

    یہ تمام مختلف عمل ایک دن کی طوالت کو متاثر کرنے کے لیے کیسے اکٹھے ہوتے ہیں، یہ ایک سوال ہے جس کا جواب سائنسدان ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر چھوٹے دنوں کا رجحان طویل عرصے تک جاری رہتا ہے، تو یہ پہلی "منفی لیپ سیکنڈ” کے لیے کالز کا باعث بن سکتا ہے۔ گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کرنے کے بجائے، شہری وقت تیزی سے گھومنے والے سیارے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک سیکنڈ چھوڑ دے گا۔ اس کے نتیجے میں اس کے اپنے نتائج ہو سکتے ہیں، کم از کم اس بحث کو دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہیے کہ آیا، 5000 سال سے زیادہ کے بعد، سیارے کی حرکت کے ذریعے وقت کی وضاحت ایک ایسا خیال ہے جس کا وقت گزر چکا ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی۔

    باغی ٹی وی :میساچوسیٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی اور اسمتھسونین سینٹر آف آسٹروفزکس کے محققین نے GLASS-z11نامی ایک اور کہکشاں دریافت کی –

    GLASS-z13 نامی ستاروں کا یہ مجموعہ بِگ بینگ کے 30 کروڑ سال بعد وجود میں آیا اس سے قبل قدیم ترین کہکشاں کے طور پر جانی جانے والی کہکشاں GN-Z11 اس سے 10 کروڑ سال بعد وجود میں آئی تھی اس کہکشاں کو ہبل ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیا تھا ان دونوں کہکشاؤں کا وزن ایک ارب سورج کے برابر ہے-

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    یہ کہکشائیں ہماری ملکی وے کہکشاں سے نسبتاً چھوٹی ہیں۔ ملکی وے کہکشاں کا قطر ایک لاکھ نوری سال ہے جبکہ GLASS-z13 کا قطر اندازاً 1600 نوری سال جبکہ GLASS-z11 کا قطر 2300 نوری سال ہے۔

    یونیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے ایک گریجویٹ طالب علم روحان نائیڈو کا کہنا تھا کہ محققین نے دو انتہائی فاصلے پر موجود کہکشائیں دریافت کی ہیں اگر ان کہکشاؤں کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ماہرین سمجھ رہے ہیں تو کائنات اس موقع سے چند کروڑ سال ہی پرانی ہوگی۔

    ایسا ممکن ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ وقت میں مزید پیچھے دیکھے اور صرف 20 کروڑ سال پُرانی کہکشائیں دریافت کرے اور یہ کائنات کی ابتداء جاننے کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مشن کو پورا کرنے میں اہم قدم ہوگا۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    قبل ازیں خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا تھا جیمز ویب کو دسمبر میں ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کی کامیابی کے لیے لانچ کیا گیا تھا امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کے بڑے آئینوں میں سے ایک کی ٹکر ایک چھوٹے شہابی پتھر کے ساتھ ہوئی جو توقع اور زمین کی آزمائش میں انجینیئرز کی جانب سے رکھے جانے والے نمونے سے زیادہ بڑا تھا دوربین بنانے والے انجینئرز خلا کی سختیوں سے بہت زیادہ واقف ہیں، اور ویب کو احتیاط سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ناسا کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا معائنہ جاری ہے اور بظاہر ایسا دِکھ ہا ہے کہ ٹیلی اسکوپ مکمل طور فعال ہے لیکن تصادم کا ڈیٹا پر معمولی سا اثر واضح ہو رہا ہے بڑے آئینے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ شہابی پتھر کا تصادم 23 سے 25 مئی کے درمیان ہوا۔ یہ آئینہ ٹیلی اسکوپ کے فعال رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

  • سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب نے یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق ویڈیو شیئرنگ سائٹ ’یوٹیوب‘ پرغیراخلاقی نوعیت کے اشتہارات کے بارے میں بہت سی شکایات سامنے آنے کے بعد سعودی عرب میں آڈیو ویژول میڈیا اتھارٹی اور کمیونیکیشن کمیشن نے یوٹیوب پلیٹ فارم سے ان اشتہارات کو ہٹانے اور ضوابط کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوب پلیٹ فارم نے ملک کے اندر اپنے صارفین کو ہدایت کردہ اشتہارات دکھائے، جن کی نشریات میں اسلامی اور معاشرتی اقدار اور اصولوں سے متصادم اور میڈیا مواد کی خلاف ورزی پر مبنی مواد شامل تھا۔

    آڈیو ویژول میڈیا کمیشن اور کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن نے پلیٹ فارم سے درخواست کی کہ وہ ان متنازعہ اشتہارات ہٹائے اور ضوابط کی پابندی کرے۔

    تیس سال کویت کی سفارتی خدمات انجام دینے والے سفیر کیلئے برطانیہ کا بڑا اعزاز

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ادارے یوٹیوب پر چلائے جانے والے اشتہارات کو مانیٹر کریں گے توقع ہے کہ یوٹیوب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے غیراخلاقی اور ذوق عام کے خلاف اشتہارات کے مواد کو ہٹانے میں تاخیر نہیں کرے گا۔

    بھارتی، بھارت سے اکتانے لگے،4 لاکھ باشندوں نے شہریت چھوڑ دی

  • چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر پہلا قدم رکھنے والے امریکی خلاء باز نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرِن کے چاند پر قدموں کے نشان کی زبردست ویڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : ناسا میں جاری کی گئی ویڈیو میں دونوں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی چاند پر حیران کن طور پر واضح ہے۔


    ناسا نےبدھ کے روز چاند کے عالمی دن پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا آج اپولو کے چاند پر اترنے کی سالگرہ ہے جب انسانوں نے پہلی بار کسی دوسری سطح پر قدم رکھا تھا لُونر ریکونائسینس آربِٹر سے بنائی جانے والی ویڈیو میں خلاء بازوں کے قدموں کے نشان دِکھائی دیتے ہیں جو ابھی تک وہاں موجود ہیں ۔


    ناسا نے لکھا کہ اپولو 11 سب سے زیادہ جانا جانے والا مشن ہے لیکن اس سے قبل بھیجے جانے والے مشنز نے اس مشن کےلیے راہ ہموار کی جن میں روور اور سرویئر جیسے روبوٹِک مشنز سمیت اپولو 8، 9 اور10 کے عملے کے ساتھ بھیجے جانےوالے مشنز شامل ہیں،جن میں چاند کے مدار میں داخلے ہونے اور اس سے خارج ہونے کی آزمائش کی گئی تھی۔


    یہ آربِٹر2009 سےچاند کامطالعہ کر رہا ہے اور ایجنسی کے دیگر مشنز کی نسبت بہت زیادہ،1.4 پِیٹا بائیٹ حجم کا، ڈیٹا زمین پر بھیج چکا ہے کچھ اندازوں کے مطابق ایک پِیٹا بائیٹ 500 ارب معیاری پرنٹڈ صفحات کے برابر ہوتا ہے۔

  • ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن  روانہ کیلئے تیار

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :"اسپیس ڈاٹ کام” کی رپورٹ کے مطابق اس نئے مشن کی پہلی آزامائشی پرواز 29 اگست کو لانچ ہو گی آر ٹیمس-1 چاند کی تسخیر کےاس نئے خلائی مشن کی پہلی پرواز ہو گی، ناسا چاند پر مکمل تحقیق کے بعد اس پر بسیرا کا خواہش مند ہے۔

    ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کے مطابق دیوہیکل خلائی لانچ سسٹم اور اورین کریو کیپسول کے لیے ممکنہ لانچ کی تاریخوں کی پہلی ونڈو 29 اگست، 2 ستمبر اور 5 ستمبرہے۔

    آرٹیمس-1 چار سے چھے ہفتوں تک جاری رہنے والے مشن میں چاند پر سفر کرنے کوتیارہے۔ یہ خلابازوں کے لیے کسی بھی جہاز سے زیادہ طویل سفرہوگا اوربغیررکے کیا جائے گا۔یہ مشن خلا میں تجربات کے لیے کیوب سیٹس نامی متعدد چھوٹے سیارچے بھی نصب کرے گا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا پہلا اور بنیادی مقصد قمری خلائی صورت حال میں اورین کی حرارتی ڈھال کی صلاحیت کا مظاہرہ دیکھنا ہے۔

    اس مشن کا دوسرامقصد راکٹ اورعملہ کے کیپسول کی پروازکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے، آرٹیمس-2 عملہ کے ساتھ پہلا تجربہ ہوگا، یہ مشن چاند کے گرد پرواز کرے گا لیکن اس پر اترے گا نہیں جبکہ آرٹیمس-3 مشن میں پہلی خاتون اور پہلا رنگ دار شخص چاند کے جنوبی قطب کو چھوئیں گے۔

    ناسا کے ایکسپلوریشن سسٹمز کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر جم فری نے عبوری لانچ کی تاریخوں کے بارے میں کہا کہ "یہ ایجنسی کا عہد نہیں ہے۔” NASA لانچ سے تقریباً ایک ہفتہ قبل مزید پختہ عزم کا اعلان کرے گا، انہوں نے کہا، جب ایجنسی آرٹیمیس 1 اسٹیک، بشمول SLS اور راکٹ کے اوپر سوار اورین کیپسول کی اپنی معیاری پرواز کی تیاری کا جائزہ مکمل کر لے گی۔

    تاہم، اگست کے آخر اور ستمبر کے اوائل میں عبوری تاریخیں وہی ہیں جو "ٹیم کام کر رہی ہے، اور اس کے لیے ایک منصوبہ ہے،” فری نے مزید کہا۔ "لیکن ہمارے پاس بہت سارے کام باقی ہیں جو ہمیں کرنا ہوں گے، اور شاید اس سے سیکھیں گے-

  • نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ تاحال بند ،انتظامیہ ٹیکنیکل فالٹ تلاش کرنے میں ناکام

    نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ تاحال بند ،انتظامیہ ٹیکنیکل فالٹ تلاش کرنے میں ناکام

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پلانٹ کی جلدازجلد بحالی کی ہدایت کردی۔

    با غی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق 969 میگاواٹ کا نیلم جہلم ہائیڈرو پروجیکٹ ٹیکنیکل فالٹ کی وجہ سے 6 جولائی سے بند پڑا ہے بندش کی وجہ سے مہنگے فیول پر چلنے والے پلانٹس سے بجلی کی فراہمی کے باعث صارفین پر یومیہ 35کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا۔

    نیپرا کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیپرا حکام نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کی انتظامیہ کو 6 جولائی سے ٹینیکل فالٹ کی وجہ سے بند پلانٹ پر بریفنگ کے طلب کیا تھا پروجیکٹ کی انتظامیہ نے کہا کہ ماہرین فالٹ تلاش کررہے ہیں جس کی نشان دہی ہوتے ہی اسے دور کردیا جائے گا۔

    چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی اور ممبر نیپرا انجنیئر مقصود انور خان نے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پروجیکٹ کے سی ای او کو ہدایت کی کہ پلانٹ کی بحالی اور اسے نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ نیپرا حکام نے پاور پلانٹ کی بحالی کے آپریشن میں ناکامی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

    بتایا گیا ہے کہ پاور پلانٹ کی بندش کی وجہ سے بجلی کے صارفین پر یومیہ 35کروڑ روپے کا بوجھ پڑ رہا ہے، کیوں کہ پلانٹ کی بندش کی وجہ سے انھیں مہنگے فیول سے بنائی گئی بجلی فراہم کی جارہی ہے جس کی قیمت ان سے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کی مد میں وصول کی جائے گی۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے اس خرابی کا نوٹس لیتے ہوئے پراجیکٹ کو جلد از جلد بحال کرنے کی ہدایت کی تھی سیکرٹری آبی وسائل ڈویژن کاظم نیاز کا کہنا تھا کہ اس خرابی کا پتا چلانے میں کم از کم ایک ماہ لگ جائے گا۔

    کاظم نیاز نے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ”نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی دو سرنگیں ہیں جن میں سے ایک بلاک ہو چکی ہے۔یہ سرنگ ساڑھے 3کلومیٹر لمبی ہے۔ جب تک اس پوری سرنگ کو کلیئر نہیں کیا جاتا، تکنیکی خرابی کا پتا نہیں لگایا جا سکتا اور اس پوری سرنگ کو کلیئر کرنے میں کم از کم ایک ماہ کا وقت لگے گا۔

    کاظم نیاز نے مزید بتایا تھا کہ ”کئی ماہ کے بعد جولائی میں پاکستان میں بارشیں شروع ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود آبی ذخائر میں پانی کی سطح 70فیصد سے کم سطح پر ہے۔ اگر پاکستان کو موسم ربیع میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خریف کے سیزن میں صورتحال انتہائی سنگین ہو جائے گی۔ تاہم امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید بارشیں ہوں گی اور آبی ذخائر بھر جائیں گے۔

  • گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا

    گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرا دیا

    دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں زلزلے کی خبر دینے والا الرٹ سسٹم متعارف کرادیا ۔

    باغی ٹی وی : اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک نامی یہ الرٹ سسٹم بلاقیمت ہے اوراینڈرائیڈ پلیٹ فارم کا ایک مددگار فیچر ہے جو دنیا بھر میں زلزلوں کا پتا لگاتا ہے اور لوگوں کو آگاہ کرتا ہےیہ سسٹم زلزلےکی سرگرمیوں کا پتا لگانے کے لیےفعال اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز میں موجود ایکسلرو میٹر (accelerometers)استعمال کرتا ہے اور سرچ اور ڈیوائس کے ذریعے براہ راست لوگوں کوزلزلے کے بارے آگاہ کرتا ہے۔

    فِچ ریٹنگز نے پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا

    یہ سسٹم گوگل سرچ کو تقریباً فوری طور پر (near-instant)معلومات فراہم کرتا ہے جب لوگ ’زلزلہ‘ یا ’میرے نزدیک زلزلہ‘دیکھتے ہیں تو انہیں متعلقہ نتائج ملتے ہیں اور ساتھ ہی اس بارے میں مددگار وسائل کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں کہ زلزلے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔

    تیل کی پیداوار ایک کروڑ 30 لاکھ بیرل سے نہیں بڑھا سکتے،محمد بن سلمان

    ایسے صارفین جو یہ الرٹس وصول نہیں کرنا چاہتے وہ ڈیوائس کی سیٹنگ میں جا کر اسے بند بھی کر سکتے ہیں موبائل آلات پر اینڈرائیڈ ارتھ کوئیک الرٹس سسٹم 2 اقسام کے الرٹس دکھاتا ہے جن کا انحصار زلزلے کی شدت پر ہوتا ہے۔

    یہ اطلاع زلزلے کے مرکز سے فاصلے کی معلومات کے ہمراہ بھیجی جاتی ہے، الرٹ فون کے موجودہ والیوم، وائبریشن، اور ڈسٹرب نہ کریں کی سیٹنگ استعمال کرتا ہے۔

    ٹک ٹاک گوگل سرچ انجن کیلئے بھی خطرہ بن گیا